حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ (۳)


(گذشتہ سے پیوستہ)

[یہ مضمون راقم کے ایم فل علوم اسلامیہ کے تحقیقی مقالے سے ماخوذ ہے۔''حدیث و سنت کی حجیت پر مکتب فراہی کے افکار کا تنقیدی جائزہ''

کے زیر عنوان یہ مقالہ جی سی یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ عربی و علوم اسلامیہ کے تحت ۲۰۱۲ء۔ ۲۰۱۴ء کے تعلیمی سیشن میں مکمل ہوا۔]

ذیل میں مذکورہ بالا تینوں نکات کے حوالے سے مدرسۂ فراہی کے علما اور نمایندہ علما ے امت کی آرا کا ایک تقابلی تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مذکورہ نکات کی بنا پر انکار حدیث و سنت کا تاثر قائم کرنا سراسر باطل اور امت کی علمی روایت سے انحراف کے مترادف ہے۔

اجماع و تواتر اور اخبار آحاد

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے ذریعے سے جو دین قرآن مجید کے علاوہ امت کو ملا ہے، اُس کے لیے حدیث و سنت کی اصطلاحات رائج ہیں۔ یہ اپنے ثبوت اور استدلال و احتجاج کے اعتبار سے دو قسموں میں منقسم ہے۔ ایک قسم اُن اجزا پر مشتمل ہے جو اجماع و تواترسے ملے ہیں اور دوسری قسم اخبار آحادسے ملنے والے اجزا کو شامل ہے۔ پہلی قسم کو قطعی الثبوت اور دوسری کو ظنی الثبوت قرار دیا جاتا ہے اورثبوت کے اِس فرق کی بنا پر اِن سے استدلال و احتجاج میں واضح فرق قائم کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ پہلی قسم کی حیثیت نص الٰہی کی ہے ، یہ ایمان و اسلام کا جزو لازم ہے، لہٰذا یہ حجت کو قطعی طور پر قائم کرتی ہے اور اِس کے کسی جز کا انکار دین کی نص صریح کے انکار کے مترادف ہے۔ یہ علم کو بھی واجب کرتی ہے اور عمل کو بھی۔ ۶۸؂ دوسری قسم کا معاملہ یہ نہیں ہے۔نہ اسے قطعی نص کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اورنہ اِس کے انکار کو نص الٰہی کے انکار کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔ یہ علم کو واجب نہیں کرتی، تاہم اِس کے بارے میں بالعموم ،یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ عمل کو واجب کرتی ہے۔ امام ابن عبدالبر اِس معاملے میں علماے امت کے موقف کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

تنقسم السنۃ قسمین: أحدہما: تنقلہ الکافۃ عن الکافۃ، فہذا من الحجج القاطعۃ للأعذار إذا لم یوجد ہنالک خلاف، ومن رد إجماعہم فقد رد نصًا من نصوص اللّٰہ، یجب إستتابتہ علیہ وإراقۃ دمہ إن لم یتب، لخروجہ عما أجمع علیہ المسلمون العدول، وسلوکہ غیر سبیل جمیعہم. والضرب الثاني من السنۃ: أخبار الآحاد الثقات الأثبات العدول والخبر الصحیح الإسناد المتصل منھا. یوجب العمل عند جماعۃ الأئمۃ الذین ہم الحجۃ القدوۃ، ومنھم من یقول یوجب العلم والعمل جمیعاً.۶۹؂

''سنت کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جسے تمام لوگ نسل در نسل آگے منتقل کرتے ہیں ۔ اِس طریقے سے منتقل ہونے والی چیز کی حیثیت جس میں کوئی اختلاف نہ ہو، قاطع عذر حجت کی ہے۔ چنانچہ جو شخص اِن (ناقلین) کے اجماع کو تسلیم نہیں کرتا، وہ اللہ کے نصوص میں سے ایک نص کا انکار کرتا ہے۔ ایسے شخص پر توبہ کرنا لازم ہے اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اُس کا خون جائز ہے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُس نے عادل مسلمانوں کے اجماعی موقف سے انحراف کیا ہے اور اُن کے اجماعی طریقے سے الگ راہ اختیار کی ہے۔ سنت کی دوسری قسم وہ ہے جسے ''آحاد راویوں'' میں سے ثابت، ثقہ اور عادل لوگ منتقل کرتے ہیں اورجس کی روایت میں اتصال پایا جاتا ہے۔ جلیل القدر ائمۂ امت کی جماعت کے نزدیک یہ عمل کو واجب کرتی ہے، جبکہ اُن میں سے بعض کے نزدیک یہ علم اور عمل، دونوں کو واجب کرتی ہے۔''

اجماع و تواتر اور اخبار آحاد کا یہ فرق سلف و خلف کے علماے امت میں پوری طرح مسلم ہے۔ امام شافعی نے اِس فرق کو واضح کرنے کے لیے''اخبار العامہ'' اور ''اخبار الخاصہ '' کی تعبیرات اختیار کی ہیں۔ ''اخبار العامہ'' سے اُن کی مراد علم دین کا وہ حصہ ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عامۃ المسلمین نے نسل در نسل منتقل کیا ہے ۔ ہر شخص اِس سے واقف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کی نسبت کے بارے میں تمام مسلمان متفق ہیں۔ یہ قطعی ہے اور درجۂ یقین کو پہنچا ہوا ہے ۔نہ اِس کے نقل کرنے میں غلطی کا کوئی امکان ہو سکتا ہے اور نہ اِس کی تاویل و تفسیر میں کوئی غلط چیز داخل کی جا سکتی ہے۔ یہی دین ہے جس کی اتباع کا ہر شخص مکلف ہے۔''اخبار الخاصہ'' سے مرادعلم دین کا وہ حصہ ہے جواخبار آحاد کے طریقے پر امت کو منتقل ہوا ہے اور جس کا تعلق فرائض کے فروعات سے ہے ۔ ہر شخص اِسے جاننے اور اِس پر عمل کرنے کا مکلف نہیں ہے۔ ''الرسالہ'' میں لکھتے ہیں:

العلم علمان: علم عامۃ لا یسع بالغًا غیر مغلوبٍ علی عقلہ جہلہ. ... مثل الصلوات الخمس، وأن للّٰہ علی الناس صوم شہر رمضان، وحج البیت إذا استطاعوہ، وزکاۃً في أموالہم، وأنہ حرم علیہم الزنا والقتل والسرقۃ والخمر، ... وھذا الصنف کلہ من العلم موجود نصًا في کتاب اللّٰہ، وموجودًا عامًا عند أہل الإسلام، ینقلہ عوامہم عن من مضی من عوامہم، یحکونہ عن رسول اللّٰہ، ولا یتنازعون في حکایتہ ولا وجوبہ علیہم. وھذا العلم العام الذي لا یمکن فیہ الغلط من الخبر، ولا التأویل، ولا یجوز فیہ التنازع. ... ما ینوب العباد من فروع الفرائض، وما یخص بہ من الأحکام وغیرہا، مما لیس فیہ نص کتاب، ولا في أکثرہ نص سنۃ، وإن کانت في شأ منہ سنۃ فإنما ہي من أخبار الخاصۃ، لا أخبار العامۃ، وما کان منہ یحتمل التأویل ویستدرک قیاسًا.... ہذہ درجۃ من العلم لیس تبلغہا العامۃ، ولم یکلفہا کل الخاصۃ، ومن احتمل بلوغہا من الخاصۃ فلا یسعہم کلہم کافۃ أن یعطلوہا، وإذا قام بہا من خاصتہم من فیہ الکفایۃ لم یخرج غیرہ ممن ترکہا.۷۰؂

'' علم (دین)کی دو قسمیں ہیں:پہلی قسم علم عام ہے۔ اِس علم سے کوئی عاقل،کوئی بالغ بے خبر نہیں رہ سکتا۔... اِس علم کی مثال پنج وقتہ نماز ہے۔ اِسی طرح اِس کی مثا ل رمضان کے روزے، اصحاب استطاعت پر بیت اللہ کے حج کی فرضیت اور اپنے اموال میں سے زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔ زنا، قتل، چوری اور نشے کی حرمت بھی اِسی کی مثال ہے۔... اِس نوعیت کی چیزوں کا علم کتاب اللہ میں منصوص ہے اور مسلمانوں کے عوام میں شائع وذائع ہے۔ علم کی یہ وہ قسم ہے جسے ایک نسل کے لوگ گذشتہ نسل کے لوگوں سے حاصل کرتے اور اگلی نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ مسلمان امت اِس سارے عمل کی نسبت (بالاتفاق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتی ہے۔ اِس کی روایت میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کی نسبت میں اور اِس کے لزوم میں مسلمانوں کے مابین کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا۔ یہ علم تمام مسلمانوں کی مشترک میراث ہے۔ نہ اِس کے نقل میں غلطی کا کوئی امکان ہوتا ہے اور نہ اِس کی تاویل اور تفسیر میں غلط بات داخل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اِس میں اختلاف کرنے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی ۔

... (دوسری قسم) اُس علم پر مشتمل ہے جو اُن چیزوں سے متعلق ہے جو مسلمانوں کو فرائض کے فروعات میں پیش آتی ہیں یا وہ چیزیں جو احکام اور دیگر دینی چیزوں کی تخصیص کرتی ہیں۔ یہ ایسے امور ہوتے ہیں جن میں قرآن کی کوئی نص موجود نہیں ہوتی اور اس کے اکثر حصہ کے بارے میں کوئی منصوص سنت بھی نہیں ہوتی، اگر کوئی ایسی سنت ہو بھی تو وہ اخبار خاصہ کی قبیل کی ہوتی ہے نہ کہ اخبار عامہ کی طرح کی۔ جو چیز اس طرح کی ہوتی ہے، وہ تاویل بھی قبول کرتی ہے اور قیاساًبھی معلوم کی جا سکتی ہے۔...یہ علم کی وہ قسم ہے جس تک عامۃ الناس رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ تمام خواص بھی اس کے مکلف نہیں ہیں، تاہم جب خاصہ میں سے کچھ لوگ اس کا اہتمام کرلیں (تو کافی ہے، البتہ) خاصہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تمام کے تمام اس سے الگ ہو جائیں۔ چنانچہ جب خواص میں سے بقدر کفایت لوگ اس کا التزام کرلیں تو باقی پر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس کا التزام نہ کریں۔''

چنانچہ اجماع و قیاس کے زیر عنوان اُن کے درج ذیل اقتباس سے واضح ہے کہ اُن کے نزدیک سنت کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو مجمع علیہ ہے اور دوسری وہ جو اخبار آحاد کے طریقے پر منتقل ہوئی ہے۔ مزید برآں انھوں نے اِن دونوں میں استدلال کی قوت اور حجت کی نوعیت کے اعتبار سے بھی فرق کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

یحکم بالکتاب والسنۃ المجتمع علیھا الذی لھذا حکمنا بالحق في الظاھر والباطن. ویحکم بالسنۃ قد رویت من طریق الإنفراد لا یجتمع الناس علیھا. فنقول حکمنا بالحق في الظاھر لأنہ قد یمکن الغلط فیمن روی الحدیث.۷۱؂

''(اجماع وقیاس کے معاملے میں )کتاب اللہ اور اُس مجمع علیہ سنت سے استدلال کیا جائے گا جس میں اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس اجماع و قیاس کو یہ کہیں گے کہ ہم نے اُس حق سے استدلال کیا ہے، جو ظاہر و باطن میں حق ہے۔ اور اُس سنت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے، جو خبر آحاد کے طور پر آئی ہے اور وہ مجمع علیہ نہیں ہے۔ اُس کو ہم یہ کہیں گے کہ ہم نے ظاہر ی طور پر حق ہی سے حجت پکڑی ہے۔ کیونکہ جس نے روایت کی ہے اُس میں نقص ہو سکتا ہے۔''

امام ابو زہرہ نے امام شافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ وہ مشمولات حدیث و سنت کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:وہ حصہ جو متواتر ہے، اُسے وہ سنت ثابتہ قرار دیتے اور حجت کے اعتبار سے قرآن مجید کے مساوی سمجھتے ہیں اور وہ حصہ جو اخبار آحاد پر مبنی ہے، اُسے قرآن کے مساوی قرار نہیں دیتے۔ وہ اُس کے منکر کو دائرۂ اسلام سے خارج بھی نہیں سمجھتے۔ ابوزہرہ لکھتے ہیں:

أن الشافعي یجعل العلم بالسنۃ فی مجموعھا في مرتبۃ القرآن لا أن کل مروي عن الرسول مھما تکن طرقہ في مرتبۃ الآي المتواترۃ القاطعۃ في صدقھا، فإن أحادیث الآحاد لیست فی مرتبۃ الأحادیث المتواترۃ أو المستفیضۃ المشھورۃ، فضلا عن الآیات القرآنیۃ القاطعۃ في ثبوتھا، وإن الشافعی قد نبہ إلی ذلک، إذ قید السنۃ التي في مرتبۃ القرآن بالسنۃ الثابتۃ. فقد قال: المرتبۃ الأولی الکتاب والسنۃ إذا ثبتت. ولئن حکم الشافعي بأن القرآن والسنۃ الثابتۃ مرتبۃ من العلم واحدۃ.۷۲؂

''امام شافعی قرآن کے مرتبہ میں جس سنت کو رکھتے ہیں وہ مجموعۂ سنت ہے، ہر وہ حدیث جو رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم سے مروی ہو، خواہ کسی طریق سے ہو، قطعی الثبوت آیات متواترہ کے مقابلہ میں نہیں رکھی جا سکتی۔ اگر احادیث آحاد اپنے اپنے مرتبے میں احادیث متواترہ اور مستفیضہ مشہورہ کے برابر نہیں ہیں تو وہ قطعی الثبوت آیات قرآنی کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ امام شافعی نے اس بات پر متنبہ کیا ہے اور مرتبۂ قرآنی میں جس سنت کو رکھا ہے، وہ سنت ثابتہ ہے، جیسا کہ اُنھوں نے کہا ہے کہ ادلۂ احکام میں پہلا درجہ کتاب اللہ کا اور اُس سنت کا ہے جو ثابت شدہ ہے، گویا شافعی نے جو حکم لگایا ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن اور سنت ثابتہ کا ازروے حکم درجہ ایک ہے۔''

تواتر اور آحاد کے اسی فرق کی بنا پر امام ابن حزم بھی سنت کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: ایک قسم 'نقل الکافہ عن الکافہ' پر اور دوسری اخبار آحاد پر مبنی ہے۔ ''الاحکام فی اصول الاحکام'' میں لکھتے ہیں:

فوجدنا الأخبار تنقسم قسمین: خبر تواتر، وھو ما نقلتہ کافۃ بعد کافۃ حتی تبلغ بہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھذا خبر لم یختلف مسلمان في وجوب الأخذ بہ، وفي أنہ حق مقطوع علی غیبہ؛ لأن بمثلہ عرفنا أن القرآن ھو الذي أتی بہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبہ علمنا صحۃ مبعث النبيصلی اللّٰہ علیہ وسلم وبہ علمنا عدد رکوع کل صلٰوۃ وعدد الصلوات، وأشیاء کثیرۃ من أحکام الزکٰوۃ و غیر ذلک مما لم یبین في القرآن تفسیرہ، ... القسم الثاني من الأخبار ما نقلہ الواحد عن الواحد.۷۳؂

'' اخبار کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم خبرمتواترہے جسے تمام لوگ تمام لوگوں سے اس طرح منتقل کرتے ہیں کہ ان کا سلسلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسی خبرکے قابل احتجاج ہونے اور قطعی طور پر حق ہونے کے حوالے سے مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اخبار متواترہ ہی سے ہمیں معلوم ہوا کہ قرآن وہ کتاب ہے جسے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم لائے۔ انھی سے آپ کی رسالت کا اثبات ہوا۔ انھی سے نمازوں کے رکوع اور کل نمازوں کی تعداد اوربہت سے احکام زکوٰۃ معلوم ہوئے۔ اور ایسے بہت سے احکام معلوم ہوئے جو تفصیلاً قرآن میں مذکور نہیں۔... دوسری قسم اُن اخبار پر مشتمل ہے جنھیں (تمام لوگ بحیثیت جماعت نہیں، بلکہ) ایک فرددوسرے فرد کو منتقل کرتا ہے۔''

اخبار متواترہ اور اخبار آحاد کا یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر علماے امت کی اکثریت اِس بات کی قائل ہے کہ خبر واحد سے ملنے والا علم قرآن مجید اور سنت متواترہ کے مرتبے کا حامل نہیں ہے۔ چنانچہ نہ وہ علم و عقیدہ کو واجب کرتا ہے اور نہ مستقل بالذات احکام کا ماخذ ہے ۔ امام ابن حزم نے احناف، شوافع اور جمہور مالکیہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اِن مکاتب فکر کا خبر واحد کو واجب العلم نہ ماننے پر اتفاق ہے۔ لکھتے ہیں:

وقال الحنفیون والشافعیون وجمھور المالکیون وجمیع المعتزلۃ والخوارج: إن خبر الواحد لا یوجب العلم واتفقوا کلھم فی ھذا.۷۴؂

''حنفیوں، شافعیوں اور جمہور مالکیوں اور تمام معتزلہ اور خوارج کی راے یہ ہے کہ خبر واحد علم کو واجب نہیں کرتی اور اِس بات پر اِن سب کا اتفاق ہے۔''

ابو زہرہ نے بیان کیا ہے کہ امام شافعی اخبار آحاد کے منکر کو اِسی وجہ سے د ائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتے، کیونکہ اِن سے حاصل ہونے والا علم قطعی نہ ہونے کی وجہ سے عقیدے کو ثابت نہیں کرتا، جبکہ عقائد کو قطعی الثبوت بھی ہونا چاہیے اور قطعی الدلالۃ بھی۔ لکھتے ہیں:

أن جعل العلم بالسنۃ في مرتبۃ الکتاب عند إستنباط الأحکام في الفروع لیس معناہ أنھا کلھا في منزلتہ في إثبات العقائد، فإن منکر شيء مما جاء ت بہ السنن لیس کمنکر شيء جاء بہ صریح القرآن الکریم الذي لا تأویل فیہ، أولیس للتأویل فیہ مجال قط، فإن من ینکر شیئاً مما جاء بہ القرآن علی ذلک النحویکون مرتداً عن الإسلام، أما منکر ما جاء في أحادیث الآحاد من السنۃ فلا یخرج عن الإسلام، لأن العقائد یجب أن یکون ثبوتھا بطریق قطعي السند والدلالۃ، ولیست أخبار الآحاد قطعیۃ السند، فلا یخرج عن الإسلام منکر ما جاء فیھا.۷۵؂

''امام شافعی نے علم سنت کو مرتبۂ کتاب میں استنباط احکام فروعی کے سلسلہ میں رکھا ہے نہ کہ اثبات عقائد میں اسے وہی حیثیت دی ہے، کیونکہ جو شخص سنت کی کسی چیز کا انکار کرتا ہے، وہ ویسا منکر نہیں ہے جو صریح احکام قرآنی کا انکار کرتا ہو جو تاویل سے ماورا ہیں۔ کیونکہ جو قرآن کی لائی ہوئی کسی چیز کا انکاری ہے، وہ مرتد ہے، خارج از اسلام ہے، لیکن جو سنت کی احادیث آحاد کی کسی چیز سے منکر ہے، وہ خارج از اسلام نہیں ہے، کیونکہ عقائد کو اپنے ثبوت میں قطعی الثبوت والدلالت ہونا چاہیے اور اخبار آحاد قطعی السند نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کا منکر خارج از اسلام نہیں قرار دیا جا سکتا۔''

سمرقندی نے ''میزان الاصول'' میں بیان کیا ہے کہ اُس خبر واحد کو قبول ہی نہیں کیا جائے گا جو کسی عقیدے کو ثابت کر رہی ہو:

''خبر واحدکسی اسلامی عقیدہ کو ثابت نہیں کر سکتی ہے، کیونکہ یہ خبر موجب عمل تو ہے مگر موجب علم نہیں۔ اور اِس سے علم قطعی حاصل نہیں ہوتا۔ اِس لیے اگر اِس خبر سے کوئی عقیدہ ثابت ہورہا ہو تو اس خبر کو رد کر دیا جائے گا''۔ ۷۶؂

یہ علماے امت کا عمومی موقف ہے۔ چنانچہ سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ ظاہری علما کے علاوہ کسی نے اِس نقطۂ نظر کو اختیار نہیں کیا کہ اخبار آحاد کو عقائد کا ماخذ و مبنیٰ بنایا جا سکتا ہے:

''اسلام کے ایک چھوٹے سے فرقے کے سوا ، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ غالی ظاہر یہ کے سوا کوئی اِس کا قائل نہیں کہ عقائد کا ثبوت قرآن کے علاوہ کسی اور طور سے ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ عقیدہ نام ہے یقین کا، اور یقین کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ وحی اور اس وحی کاتواتر ہے۔ اس لیے عقائد کا مبنیٰ صرف قرآن پاک یا احادیثِ متواترہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ حدیث متواترہ کا مطلق وجود نہیں ، یاایک دو سے زیادہ نہیں ۔ ایسی حالت میں عام احادیث عقائد کا مبنیٰ نہیں قرار پا سکتی ہیں۔ عموماً احادیث روایت آحاد ہیں اور اِن کا ایک حصہ مستفیض ہے، یعنی صحابہ کے بعد اِن کے راویوں کی کثرت ہوئی ہے۔ اِس لیے یہ روایتیں صرف قرآن پاک کی آیات کی تائید میں کام آسکتی ہیں، مستقلاً اِن سے عقائد کا ثبوت حاصل نہیں کیا جا سکتا۔''۷۷؂

یہی موقف ہے جسے دور حاضر کے بعض جلیل القدر اہل علم سید ابوالاعلیٰ مودودی ، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا سرفراز خان صفدرنے سلف کے موقف کے طور پر اختیار کیا ہے۔۷۸؂ مولانا مودودی نے امام سرخسی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ تواتر ہی وہ ذریعہ ہے جس سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے ، لہٰذا کفر و ایمان کا مدار اِسی ذریعے سے حاصل ہونے والے علم پر کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اخبار آحاد کا تعلق ہے تو اِنھیں ایمانیات کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔لکھتے ہیں:

''...مدارِ کفر وایمان اگرہو سکتے ہیں تو صرف وہ امور ہو سکتے ہیں جو کسی یقینی ذریعۂ علم سے ہم کو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہنچے ہوں۔ اور وہ ذریعہ یا تو قرآن ہے یا پھر نقل متواتر، جس کی شرائط امام سرخسی نے واضح طور پر بیان کر دی ہیں۔ ۷۹؂ باقی جو چیزیں اخبار آحاد یا روایات مشہورہ سے نقل ہوتی ہیں ، وہ اپنی اپنی دلیل کی قوت کے مطابق اہمیت رکھتی ہیں۔ مگر ان میں سے کسی کو بھی یہ اہمیت نہیں ہے کہ اسے ایمانیات میں داخل کر دیا جائے۔ اور اس کے نہ ماننے والے کو کافر ٹھہرایا جائے۔''۸۰؂

مولانا ظفر احمد عثمانی نے بیان کیا ہے کہ اخبار آحاد پر مبنی احادیث کو ضروریات دین میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ لکھتے ہیں:

'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تمام احادیث جنہیں صرف ایک راوی کے علاوہ کوئی دوسرانہ جانتا ہو تو وہ ضروریات دین میں سے نہیں ہیں، کیونکہ ضروریات کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطریق عموم تبلیغ فرمایا ہے نہ کہ مخصوص طریقہ پر۔'' ۸۱؂

مولانا سرفراز خان صفدر امام تفتازانی کی ''شرح عقائد'' کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ عقائد کے معاملے میں خبر واحد پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا:

''...اصولی طورپر حدیث کی دو قسمیں ہیں خبر متواتر اور خبرواحد۔ خبر واحد اگرچہ ظن کا فائدہ دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عقائد میں اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عقیدہ کی بنیاد قطعی ادلہ پر ہے جو قرآن کریم اور خبر متواتر اور اجماع ہیں۔ چنانچہ علامہ مسعود بن عمر الملقب بسعد الدین تفتازانی ؒ لکھتے ہیں کہ خبر واحد ان تمام شرائط پر مشتمل ہونے کے باوجود بھی جو اصول فقہ میں بیان کی گئی ہیں ظن کا فائدہ دیتی ہے اور اعتقادیات کے باب میں ظن کا کوئی اعتبار نہیں ہے''۔ ۸۲؂

اجماع و تواتر اور اخبار آحاد کے بارے میں مدرسۂ فراہی کے علما بھی اسی نقطۂ نظر کے قائل ہیں۔چنانچہ وہ اجماع و تواتر سے ملنے والے مشمولات حدیث و سنت کو قطعی الثبوت قرار دیتے اور دین کے مستقل بالذات اجزا کے طور پر قبول کرتے ہیں، جبکہ اخبار آحاد سے ملنے والے مشمولات کوظنی الثبوت تصور کرتے اور انھیں مستقل بالذات اجزا کے طور پر قبول نہیں کرتے۔اسی بنا پر وہ اِن دو مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے دین کی نوعیت اور مقام و مرتبے میں فرق قائم کرتے ہیں۔۸۳؂ چنانچہ مولانا فراہی حدیث کو دین اور تفسیر کے خبری ماخذوں میں شمار کرتے اور اصل کے بجاے فرع کے طور پر قبول کرتے ہیں۔'' مجموعۂ تفاسیر فراہی'' میں ان کے درج ذیل الفاظ سے یہی بات مفہوم ہوتی ہے:

''...اگر احادیث ، تاریخ اور قدیم صحیفوں میں ظن اور شبہ کو دخل نہ ہوتا تو ہم ان کو فرع کے درجہ میں نہ رکھتے، بلکہ سب کی حیثیت اصل کی قرار پاتی اور سب بلا اختلاف ایک دوسرے کی تائید کرتے ۔''۸۴؂

بعینہٖ یہی موقف مولانا اصلاحی کا ہے۔ اُن کے نزدیک سنت نہ خبر واحد سے ثابت ہوتی ہے اور نہ قولی تواتر سے، بلکہ یہ عملی تواتر سے ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ سنت کی بنیاد احادیث پر نہیں ہے، کیونکہ وہ ظنی ہیں ۔سنت اِن کے مقابلے میں قطعی ہے۔ ''مبادیِ تدبر حدیث '' میں لکھتے ہیں:

''سنت کی بنیاد احادیث پر نہیں ہے ، جن میں صدق وکذب ، دونوں کا احتمال ہوتاہے، جیسا کہ اوپر معلوم ہوا، بلکہ امت کے عملی تواتر پر ہے۔

جس طرح قرآن قولی تواتر سے ثابت ہے اسی طرح سنت امت کے عملی تواتر سے ثابت ہے۔ مثلاً ہم نے نماز اور حج وغیرہ کی تمام تفصیلات اس وجہ سے نہیں اختیار کیں کہ ان کو چند راویوں نے بیان کیا، بلکہ یہ چیزیں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اختیار فرمائیں۔ آپ سے صحابہ کرامؓ نے، ان سے تابعینؒ پھر تبع تابعینؒ نے سیکھا۔ اسی طرح بعد والے اپنے اگلوں سے سیکھتے چلے آئے۔ اگر روایات کے ریکارڈ میں ان کی تائید موجود ہے تو یہ اس کی مزید شہادت ہے۔ اگر وہ عملی تواتر کے مطابق ہے تو فبہا اور اگر دونوں میں فرق ہے تو ترجیح بہر حال امت کے عملی تواتر کو حاصل ہو گی۔ اگر کسی معاملے میں اخبارِ آحاد ایسی ہیں کہ عملی تواتر کے ساتھ ان کی مطابقت نہیں ہو رہی ہے تو ان کی توجیہ تلاش کی جائے گی۔ اگر توجیہ نہیں ہو سکے گی تو بہرحال انہیں مجبوراً چھوڑا جائے گا، اس لیے کہ وہ ظنی ہیں اور سنت ، ان کے بالمقابل قطعی ہے۔''۸۵؂

غامدی صاحب کا موقف بھی اجماع و تواتر اور اخبار آحاد سے ملنے والے اجزاے دین میں واضح امتیاز کا عکاس ہے۔چنانچہ وہ اسی بنا پر قرآن و سنت اور احادیث میں یہ فرق قائم کرتے ہیں کہ اول الذکر اصل اور مستقل بالذات دین کا ماخذ ہیں، جبکہ ثانی الذکر شرح و فرع اور تفہیم و تبیین تک محدود ہیں:

''جس طرح قرآن خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتا ،اِسی طرح سنت بھی اِس سے ثابت نہیں ہوتی۔ سنت کی حیثیت دین میں مستقل بالذات ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسے پورے اہتمام،پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ انسانوں تک پہنچانے کے مکلف تھے ۔ اخبار آحاد کی طرح اِسے لوگوں کے فیصلے پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا کہ وہ چاہیں تو اِسے آگے منتقل کریں اور چاہیں تو نہ کریں۔ لہٰذا قرآن ہی کی طرح سنت کا ماخذ بھی امت کا اجماع ہے اور وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے امت کو ملا ہے ، اِسی طرح یہ اُن کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے، اِس سے کم تر کسی ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور آپ کی تفہیم و تبیین کی روایت تو بے شک، قبول کی جا سکتی ہے ،لیکن قرآن و سنت کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتے۔'' ۸۶؂

اجماع و تواتر اور اخبار آحاد کے اسی فرق کی بنا پر مدرسۂ فراہی کے علما سمجھتے ہیں کہ اخبار آحاد پر مبنی احادیث سے دین میں کسی عقیدے کا اضافہ نہیں ہوتا۔ ۸۷؂ مولانا فراہی نے بیان کیا ہے:

والتفسیر بحدیث یناسب المقام، إذا لم یقرر عقیدۃ و مذھباً مامون، ولکن مع ذلک ظني.۸۸؂

''موقع و محل کے لحاظ سے حدیث کے ذریعہ تفسیر میں اس وقت کوئی حرج نہیں جب کہ عقیدہ و مذہب کا اثبات مقصود نہ ہو گو کہ اس کے باوجود وہ ظنی ہی ہو گی۔''

مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

''... عقائد کی بنیاد لازماً قرآن پر ہونی چاہیے۔ کوئی عقیدہ خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتا۔''۸۹؂

غامدی صاحب نے اس ضمن میں عقیدے کے ساتھ عمل کو بھی شامل کیا ہے ۹۰؂ اور اِس کے ساتھ اِس بات کو امر واقعہ کے طور پربیان کیا ہے کہ احادیث میں جو چیزیں بھی بیان ہوئی ہیں، وہ قرآن اور سنت کی تفہیم و تبیین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے بیان پر مشتمل ہیں۔ اُن کے الفاظ ہیں:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبارآحادجنھیں بالعموم ''حدیث'' کہا جاتا ہے ، اِن کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اِن سے جو علم حاصل ہوتا ہے ، وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا ، اِس لیے دین میں اِن سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں اِن میں آتی ہیں ،وہ درحقیقت، قرآن و سنت میں محصور اِسی دین کی تفہیم و تبیین اور اِس پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کابیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اِس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اُسے قبو ل کیا جا سکتا ہے۹۱؂ ۔'' ۹۲؂

[باقی]

________

۶۸؂ ''اصول بزدوی'' میں اس قسم کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ 'ھذا القسم یوجب علم الیقین بمنزلۃ العیان علماً ضروریاً'، یعنی یہ قسم یقینی علم کو واجب کرتی ہے، جیسے انسان خود مشاہدہ کر رہا ہو ، گویا اس سے علم ضروری حاصل ہوتا ہے۔ تواتر سے علم یقینی یا علم ضروری کیوں حاصل ہوتا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر باقر خان خاکوانی نے اپنی کتاب ''فقہا کے اصول حدیث '' میں شوکانی، شیرازی، باجی، ابن الہمام اور بدخشی وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے:

'' خبر متواتر سے علم ضروری اس لیے حاصل ہوتا ہے کہ سامع اس خبر کو سن کر یقین کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ جیسے ائمہ اربعہ کے وجود کی خبر یا دمشق اور بغداد کے موجود ہونے کی خبر۔ ان اشیاء کو سامع نے قطعاً نہیں دیکھا ہوتا، لیکن اس کے باوجود اس کو اس قدر پختہ یقین ہوتا کہ وہ ان اشخاص یا شہروں کے وجود سے انکار نہیں کر سکتا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ خبر متواتر سے ترتیب مقدمات کے بغیر علم حاصل ہوتا ہے۔ یعنی اس علم کو ہر عام وخاص عادتاً اس طرح حاصل کر لیتا ہے کہ اسے ترتیب مقدمات کی حاجت ہی نہیں ہوتی ، حتیٰ کہ اس خبر سے عورتیں ، بچے عوام اور کم علم لوگ بھی علم حاصل کر لیتے ہیں۔جیسے ہر مسلمان کو چاہے وہ عورت ہو بچہ ہو یا عوام سے ہو اس بات کا یقینی علم ہے کہ مکہ ایک شہر ہے جس میں اﷲ تعالیٰ کا گھر ہے حالانکہ اس نے اس شہر کو دیکھا ہوتا ہے اور نہ بیت اﷲ کو۔ اور اگر کوئی اسے یہ بات بتائے کہ دنیا کے نقشہ پر نہ یہ شہر موجود ہے اور نہ بیت اﷲ ، تو سامع اپنے علم میں قطعاً شک نہیں کرے گا، بلکہ مخبر کو خبطی یا مجنون تصور کرے گا۔'' (۱۲۱)

۶۹؂ ابن عبدالبر، ابو عمر یوسف،جامع بیان العلم ، دمام:دار ابن الجوزیۃ،۱۴۲۷ھ، ج۱، ص۶۲۵۔

۷۰؂ الشافعی، محمد بن ادریس، الرسالۃ، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۵ء، ص ۳۵۷۔ ۳۶۰۔

۷۱؂ الشافعی، محمد بن ادریس، الرسالۃ، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۵ء، ص۳۷۳۔

۷۲؂ محمد ابو زہرہ، امام شافعی عہد اور حیات،لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز، ص۳۴۹۔

۷۳؂ ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد،الاحکام فی اصول الاحکام، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۴ء، ص۱۲۳،۱۲۷۔

۷۴؂ ایضاً،ج۱، ص۱۳۸۔

۷۵؂ ابو زہرہ، محمد، الإمام الشافعی حیاتہ و عصرہ،بیروت: ص۱۶۹۔

۷۶؂ سمرقندی ، میزان الاصول فی نتائج المعقول، ص۴۳۴۔

۷۷؂ ندوی، سید سلیمان،ماہنامہ اشراق،دسمبر ۱۹۹۶ء، ص ۳۲۔

۷۸؂ واضح رہے کہ جب ہمارے علما احادیث آحاد سے عقیدے کو ثابت تسلیم نہیں کرتے تو اس کا سبب یہ قطعاً نہیں ہے کہ معاذ اللہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مقام نہیں دیتے، اس کا سبب فقط یہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نسبت کو یقینی نہیں سمجھتے۔

۷۹؂ اپنے اس مضمون میں مولانا نے فقہ حنفی کے نامور عالم سرخسی رحمۃ اﷲ علیہ کی کتاب ''اصول السرخسی'' کے حوالے سے خبر واحد اور خبر متواتر کے بارے میں ، ان کی راے درج کی ہے، جو ان کے درج بالا موقف کی تائید کرتی ہے۔

۸۰؂ مودودی، سید ابوالاعلیٰ،رسائل ومسائل،لاہور: اسلامک پبلیکیشنز، ج۳، ص۹۷۔

۸۱؂ عثمانی، ظفر احمد، قواعد فی علوم الحدیث ، ص۴۵۴۔

۸۲؂ صفدر،محمد سرفراز خان، مولانا،شوق حدیث،گوجرانوالہ: مکتبہ صفدریہ، ۲۰۱۲ء ،۱۴۳۔

۸۳؂ چنانچہ وہ 'سنت' اور 'حدیث' کی اصطلاحات کو مترادف معنوں میں استعمال کرنے کے بجاے مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ سنت کی اصطلاح ان کے نزدیک اس حصے کے لیے زیادہ موزوں ہے جو اجماع اور عملی تواتر سے ملاہے ، اورحدیث کا انطباق اخبار آحاد کے حسب حال ہے۔ لہٰذا سنت قرآن ہی کی طرح قطعی الثبوت ہے اورکذب کے احتمال سے پاک ہے، جبکہ حدیث ظنی الثبوت ہے اور صدق و کذب، دونوں کی محتمل ہے۔

۸۴؂ فراہی، حمید الدین ،مجموعۂ تفاسیر فراہی، (مترجم: اصلاحی،امین احسن)، لاہور: فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء، ص۷ ۳۔

۸۵؂ اصلاحی، امین احسن، مبادیِ تدبر حدیث، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء، ص۱۹۔۲۴۔

۸۶؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۰۹ء، ص۶۰۔

۸۷؂ بعض ناقدین نے یہ خلط مبحث پیدا کیا ہے کہ غامدی صاحب جب خبر واحدپر مبنی احادیث کو عقیدہ و عمل میں اضافے کے لیے ممتنع قرار دیتے ہیں تو وہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدہ و عمل میں اضافے کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ہرگز ہرگز نہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا تنہا ماخذ سمجھتے ہیں اور دین کے تمام عقائد و اعمال کو آپ ہی کے قول و فعل اور تقریر و تصویب پر منحصر قرار دیتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ کون سی چیز آپ سے ثابت ہے اور کون سی ثابت نہیں ہے۔ قرآن و سنت کے جملہ مشمولات کی نسبت آپ سے قطعی ہے، اس لیے وہ عقائد کا مبنیٰ بھی ہیں اور اعمال کا بھی۔احادیث آحاد کے مندرجات کی نسبت آپ سے قطعی نہیں ہے، اس لیے وہ قرآن وسنت کے بیان کردہ عقائد و اعمال کی شرح و وضاحت تو یقیناً کر سکتے ہیں، مگر اِن میں کسی اضافے کا باعث نہیں بن سکتے۔ اُن کا یہ موقف فرضیے کا نہیں، بلکہ واقعے کا بیان ہے جس کا ملاحظہ اُن کی تصنیف '' میزان'' میں برملا کیا جا سکتا ہے۔ اس میں ذخیرۂ حدیث کی تمام نمایندہ روایات کو قرآن و سنت میں مذکور عقائد و اعمال کی شرح و فرع کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔

۸۸؂ الفراہی، عبدالحمید، التکمیل فی اصول التاویل، اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۰ء، ص۶۹۔

۸۹؂ رسالہ ''تدبر'' عدد۳۷، ص۱۸، اشاعت نومبر ۱۹۹۱ء۔

۹۰؂ یعنی اُن کے نزدیک دین کے عقائد و اعمال، دونوں اجماع و تواتر کے قطعی الثبوت ذرائع پر منحصر ہیں یہ راے بعض سابق اہل علم کی بھی ہے جو اس کے واجب العلم نہ ہونے ہی کی بنا پر اس کے واجب العمل ہونے کے بھی قائل نہیں ہیں۔ ''کشف الاسرار'' میں ہے:

وقال بعض الناس: لایوجب العمل لأنہ لا یوجب العلم ولا عمل إلا عن علم، قال اللّٰہ تعالٰی: (ولا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ) ۔... فاستقام أن یثبت غیر موجب عِلم الیقین.

''بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ (خبر واحد) عمل کو بھی واجب نہیں کرتی، کیونکہ علم کے بغیر نہ علم واجب ہوتا ہے اور نہ عمل۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 'ولا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ' (جس چیز کا تمھیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑو)۔ ... چنانچہ انھوں نے اس راے پر ثابت قدمی اختیار کی ہے کہ اس سے علم یقین کے عدم وجوب کا اثبات ہوتا ہے۔''

۹۱؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد، ۲۰۰۹ء، ص۱۴۔

۹۲؂ یہاں واضح رہے کہ خبر واحد کو واجب ا لعلم اور واجب العقیدہ تسلیم نہ کرنے کے باوجود اس سے عمل کے وجوب کو بالعموم تسلیم کیا گیا ہے۔ امام بزدوی کا قول ہے:

وھذا یوجب العمل ولا یوجب العلم یقیناً عندنا.(البخاری، عبدالعزیزبن احمد،کشف الاسرار شرح اصول البزدوی، کراچی: قدیمی کتب خانہ، ج۱، ص ۶۷۸)

یہی علماے امت کی اکثریت کی راے ہے ۔ بعض جلیل القدر اہل علم، البتہ اس بات کے قائل ہیں کہ خبر واحد عمل کے ساتھ ساتھ علم کوبھی واجب کرتی ہے۔ علامہ ابن قیم نے اپنی کتاب ''اعلام الموقعین عن رب العالمین'' میں اپنے استاذ امام ابن تیمیہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ان کے نزدیک حدیث علم یقین کا فائدہ دیتی ہے اور بخاری و مسلم کی تمام حدیثیں اس سطح کی ہیں کہ ان سے علم یقین کا فائدہ حاصل کیا جائے۔ لکھتے ہیں:

''شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امت محمدیہ میں سے اولین و آخرین جمہور امت کے نزدیک علم یقینی کا فائدہ پہنچاتی ہے، ... اور یہ تو متعین ہے کہ پوری امت روایت کرنے اور رائے قائم کرنے میں خطا سے محفوظ اور معصوم ہے۔ ایک ایک انفرادی بات تو اپنی شرائط کے اعتبار سے کبھی ظن کے درجے میں ہوتی ہے، لیکن اگر قوت آ گئی تو علم بن جاتی ہے اور اگر ضعف آ گیا تو وہ وہم اور فاسد خیال بن جاتی ہے۔ لہٰذا خوب جان لو کہ بخاری اور مسلم کی تمام احادیث اسی قبیل سے ہیں۔ پھر جس حد یث کو محدثین اور علما نے قبول کیا اور اس کی تصدیق کی اس سے علم یقینی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔''( ابن قیم، شمس الدین ابو عبداللہ، الجوزیۃ،اعلام الموقعین عن رب العالمین، لاہور:مکتبہ قدوسیہ، ۲۰۰۷ء، ج ۲، ص۱۱۵)

امام ابن قیم خود بھی امام ابن تیمیہ ہی کے نقطۂ نظر کے موید ہیں۔ ''اعلام الموقعین'' میں لکھتے ہیں:

''یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ''بلاغ'' اسی کا نام ہے جس سے مخاطب پر حجت قائم ہو اور اس سے علم حاصل ہو، لہٰذا اگر خبر واحد سے علم حاصل نہ ہوتا تو اس سے تبلیغ کا وہ فریضہ بھی ادا نہ ہوتا جس سے بندہ پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے اور حجت تو اسی بات سے قائم ہوتی ہے کہ جس سے علم حاصل ہوتا ہو۔''(ابن قیم، شمس الدین ابو عبداللہ، الجوزیۃ،اعلام الموقعین عن رب العالمین، لاہور:مکتبہ قدوسیہ، ۲۰۰۷ء، ج ۲، ص۱۱۵)

امام ابن حزم بھی اسی راے کے قائل ہیں کہ خبر واحد علم اور عمل، دونوں کو واجب کرتی ہے۔ لکھتے ہیں:

إن خبر الواحد العدل عن مثلہ إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یوجب العلم والعمل معًا.

''عادل راوی کی دوسرے عادل راوی سے خبر واحد علم اور عمل کو ایک ساتھ واجب کرتی ہے۔''( ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد، الإحکام فی اصول الأحکام،بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۴ء،ج۱، ص۱۳۸)

دور حاضر کے علما میں سے علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اسی راے کو اختیار کیا ہے۔ اپنے رسالے ''حجیت حدیث'' میں لکھتے ہیں:

''... مسلمان پر واجب ہے کہ ہر اس حدیث پر ایمان رکھے جو محدثین کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، خواہ وہ عقائد کے باب کی ہو یا احکام کے باب کی، متواتر ہو یا آحاد، آحاد سے خواہ قطعیت اور یقین کا فائدہ پہنچتا ہو یا ظن غالب کا۔''(البانی، ناصر الدین، حجیت حدیث، ص۱۴۱)

____________