حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ (۱) (1/2)


حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دین میں مطاع کی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان پر آپ کی اطاعت لازم ہے۔ آپ کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں آپ کی ہدایت کی پیروی اور آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ یہ آپ کو رسول ماننے کا لازمی تقاضا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ.۱؂

''اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے، اِسی لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے۔''

یہ اطاعت چونکہ اُس ہستی کی اطاعت ہے جسے اللہ کی نمایندگی کا شرف حاصل ہے، اِس لیے جو شخص رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت کرتا ہے۔ فرمایا ہے:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ. ۲؂

''جو رسول کی اطاعت کرتا ہے، اُس نے درحقیقت خداکی اطاعت کی ہے۔ ''

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اُس کی اطاعت کے ساتھ اس کے رسول کی اطاعت بھی کریں اور فصل نزاعات کے لیے انھی دونوں سے رجوع کریں۔ سورۂ نساء میں ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْل.۳؂

''ایمان والو ،اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر تمھارے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف راے ہو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔''

اللہ تعالیٰ کے اِس حکم کی تعمیل کا مسلم طریقہ قرآن و سنت کی اتباع ہے۔یہی دو چیزیں ہیں جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ آپ کا فرمان ہے:

إني قد خلفت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما: کتاب اﷲ وسنتي.۴؂

'' میں تمھارے لیے اپنے پیچھے دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ (اگر اُن پر عمل پیرا رہے تو )ہر گز گمراہ نہیں ہو گے۔ (وہ دو چیزیں) اللہ کی کتاب اور میری سنت ہیں۔''

چنانچہ علماے امت نے 'اَطِٰٰٰیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ' اور 'فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ' سے کتاب و سنت کی اتباع اور مراجعت ہی کا حکم اخذ کیا ہے۔ ابن عبدالبر عطا بن ابی رباح اور میمون بن مہران کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:

طاعۃ اﷲ ورسولہ: إتباع الکتاب والسنۃ.۵؂

إلی اﷲ: إلی کتاب اﷲ. وإلی الرسول: إلی سنۃ رسول اﷲ.۶؂

سلف و خلف کے تمام جلیل القدر علما اسی موقف کے قائل ہیں۔ ابن جریر طبری، ابن حزم، زمخشری ، شاطبی، رازی، قرطبی ، شوکانی اور آلوسی نے سورۂ نساء کی مذکورہ آیت کی تشریح میں اسی نقطۂ نظر کو اختیار کیا ہے۔۷؂ یہ امت مسلمہ کا اجماعی موقف ہے ۔مسلمان پورے اتفاق اور پوری یکسوئی کے ساتھ اس پر کھڑے ہیں۔ ابن قیم بیان کرتے ہیں:

الناس أجمعوا أن الرد إلی اﷲ سبحانہ ھو الرد إلی کتابہ، والرد إلی الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم ھو الرد إلیہ فی حیاتہ وإلی سنتہ بعد وفاتہ.۸؂

''مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانے سے مراد اُس کی کتاب کی طرف لوٹانا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانے سے مراد آپ کی حیات میں آپ کی ذاتِ اقدس کی طرف اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی سنت کی طرف لوٹانا ہے۔''

لہٰذا قرآن مجید کے ساتھ سنت کو بھی دین میں اساسی حیثیت حاصل ہے اور اس کے احکام قرآن کے احکام ہی کی طرح واجب الاطاعت ہیں۔ امام مالک کا قول ہے:

الحکم الذي یحکم بہ بین الناس حکمان: ما فی کتاب اللّٰہ، أو ما أحکمتہ السنۃ، فذلک الحکم الواجب، وذلک الصواب.۹؂

''جس حکم سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جاتا ہے، اس کی دو ہی نوعیتیں ہیں: وہ جو کتاب اللہ میں ہے اور وہ جس کو سنت نے مستحکم کیا ہے۔ یہی حکم واجب ہے اور یہی درست ہے۔''

چنانچہ یہ مسلمانوں کی علمی روایت کا مسلمہ اور متفقہ اصول ہے کہ اسلامی شریعت میں سنت کو قرآن ہی کی طرح مستقل بالذات حیثیت حاصل ہے اور قانون سازی میں جو مقام و مرتبہ قرآن مجید کا ہے، وہی سنت کا بھی ہے۔ اصول فقہ کی معروف کتاب ''ارشاد الفحول'' میں درج ہے:

قد اتفق من یعتد بہ من أھل العلم علی أن السنۃ المطھرۃ مستقلۃ بتشریع الأحکام وأنھا کالقرآن في تحلیل الحلال وتحریم الحرام.۱۰؂

''اہل علم کا اتفاق ہے کہ سنت مطہرہ شرعی قانون سازی میں مستقل حیثیت رکھتی ہے اور تحلیل و تحریم میں اس کا مقام قرآن ہی کی طرح ہے۔''

یہی وہ مقدمات ہیں جن کی بنا پرعلماے امت سنت کی حجیت پر یقین رکھتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اس سے انحراف دین سے انحراف کے مترادف ہے۔ امام شوکانی لکھتے ہیں:

...والحاصل أن ثبوت حجیۃ السنۃ المطھرۃ وإستقلالھا بتشریع الأحکام ضرورۃ دینیۃ ولا یخالف في ذلک إلا من لا حظ لہ في دین الإسلام.۱۱؂

''...حاصل کلام یہ ہے کہ سنت مطہرہ کی حجیت اور شرعی قانون سازی میں مستقل حیثیت ناگزیر دینی ضرورت ہے، اس کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔''

سنت کی مستقل تشریعی حیثیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے قرآن کے شارح کے طور پر بھی قبول کیا جاتا ہے اور یہ باورکیا جاتا ہے کہ اُس کے بعض اجزا کی نوعیت قرآن مجید کے بعض حصوں کے بیان کی ہے۱۲؂ اور اس لحاظ سے وہ کتاب اللہ کی شرح و تفسیر کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ صاحب ''الموافقات'' امام شاطبی لکھتے ہیں:

فکانت السنۃ بمنزلۃ التفسیر و الشرح لمعاني أحکام الکتاب.۱۳؂

''سنت کتاب اﷲ کے احکام کے معانی کے لیے تفسیر و تشریح کا درجہ رکھتی ہے۔''

اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت میں جو معانی بیان ہوئے ہیں ، وہ کتاب اللہ کی طرف راجع ہیں۔ چنانچہ اس پہلو سے سنت کا وظیفہ کتاب اللہ کے اجمال اور اختصار کی تفصیل اور اس کے مشکل کی وضاحت ہے۔ امام شاطبی نے لکھاہے:

السنۃ راجعۃ في معناھا إلی الکتاب، فھي تفصیل مجملہ، وبیان مشکلہ، وبسط مختصرہ. وذلک لأنہا بیان لہ. فلا تجد فی السنۃ أمرًا إلا والقرآن دل علٰی معناہ دلالۃ إجمالیۃ وتفصیلیۃ.۱۴؂

''سنت اپنے معنوں میں کتاب کی طرف راجع ہوتی ہے اور وہ قرآن کے اجمال کی تفصیل، اس کے مشکل کی وضاحت اور مختصر کی تفصیل ہے۔اس لیے کہ وہ قرآن کا بیان (وضاحت) ہے۔لہٰذا آپ سنت میں کوئی ایسی بات نہیں پائیں گے جس کے معنی پر قرآن دلالت نہ کررہا ہو۔ خواہ یہ دلالت اجمالی ہو یا تفصیلی ہو۔''

سنت کی نوعیت اور اُس کے مقام و مرتبے کے حوالے سے یہ علماے سلف کا اصولی موقف ہے جسے اصطلاح میں 'سنت کی حجیت' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امت کے اس موقف کا اگر خلاصہ کیا جائے تو درج ذیل پانچ نکات متعین ہوتے ہیں:

اولاً، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کودین میں مطاع کی حیثیت حاصل ہے اوراس بناپرآپ کا قول و فعل اور تقریر و تصویب واجب الاطاعت ہے۔

ثانیاً،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آپ کے زمانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ابدی ہے، چنانچہ امت کے علم و عمل میں سنت کی صورت میں موجود روایت کو آپ کے قائم مقام کا مرتبہ حاصل ہے۔

ثالثاً،سنت کے بعض اجزا مستقل بالذات تشریعی حیثیت کے حامل ہیں جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت شارع امت میں جاری فرمایا ہے۔

رابعاً، سنت کے بعض اجزا قرآن مجید کی تفہیم و تبیین پر مبنی ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے معلم اور مبین کی حیثیت سے تعلیم دی ہے۔

خامساً،سنت کے جملہ مشمولات سراسر دین ہیں اور ان کا انکار دین کے انکار کے مترادف اور ایمان کے منافی ہے۔

سنت کی حجیت کے حوالے سے یہ امت کا اجماعی موقف ہے جس پر وہ دور اول سے لے کر آج تک قائم ہے۔ اُس کی تمام تر علمی روایت میں یہ تصور روح کی طرح سرایت کیے ہوئے ہے۔مکتب فراہی کا علم و عمل بھی کسی ادنیٰ تغیر کے بغیر اسی موقف کا ترجمان اور اسی روایت کا امین ہے۔ اس فکر کے نمایندہ علما مولانا حمید الدین فراہی، مولانا امین احسن اصلاحی اور جناب جاوید احمد غامدی کے کام سے واضح ہے کہ وہ سنت کی حجیت کے مذکورہ نکات کے حوالے سے سلف و خلف کے اجماعی موقف ہی پر قائم ہیں ۔ تینوں اہل علم کے درج ذیل اقتباسات سے یہی بات متحقق ہوتی ہے:

مولانا حمید الدین فراہی

مولانا حمید الدین فراہی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم من جانب اللہ ہے اور اپنے اطلاق کے اعتبار سے خاص نہیں، بلکہ عام ہے۔ یعنی آپ کی اطاعت کی نوعیت علی الاطلاق ہے۔ چنانچہ ایسا نہیں ہے کہ آپ کے وہی احکام واجب الاطاعت ہیں جن کی اصل قرآن مجید میں ہے اور جو اُس کی شرح و فرع کی حیثیت رکھتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ آپ کے اُن احکام کی اطاعت بھی لازم ہے جو قرآن سے مجرد طور پر الہام ہوئے ہیں اور جن کا مصدر و منبع اصلاً آپ ہی کی ذات اقدس ہے۔''رسائل فی علوم القرآن'' میں لکھتے ہیں:

فإن اﷲ تعالٰی أمرنا عمومًا بإطاعۃ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم وأمر الرسول بالحکم بما یریہ اﷲ تعالٰی سواء کان بالکتاب أو بالنور والحکمۃ التي ملأ اﷲ بہا قلبہ.۱۵؂

''اللہ تعالیٰ نے ہمیں اطاعت رسول کا حکم عمومی حیثیت میں دیا ہے اور رسول کا حکم یکساں طور پرحکمت پر مبنی ہوتا ہے، خواہ وہ کتاب اﷲ کی بنیاد پر ہو یا اُس نور وحکمت کے مطابق ہو جس سے اﷲ تعالیٰ نے آپ کا سینہ بھر دیا تھا۔''

لہٰذا اُن کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو دین میں مستقل بالذات مقام حاصل ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ قرآن مجید سے مستنبط ہے یا مستنبط نہیں ہے۔ آپ کے قول کی یہ مستقل حیثیت ہر طرح کے شک و شبہے سے بالا ہے۔بیان کرتے ہیں:

فإن قولہ علیہ السلام أصل مستقل سواء أستنبطہ من الکتاب أم لم یستنبطہ. وھذا أمر مسلم لا یشک فیہ مسلم.۱۶؂

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مستقل بالذات ہے، خواہ وہ کتاب اللہ سے مستنبط ہو یا مستنبط نہ ہو۔ یہ مسلمہ امر ہے جس میں شک کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔''

مولانا فراہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے دو چیزیں چھوڑی ہیں ، اُن میں قرآن مجید کے علاوہ دوسری چیز سنت ہے اور سنت اُن کے نزدیک وہ چیز ہے جس سے دین پر عمل کا راستہ پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ ''القائد الیٰ عیون العقائد'' میں انھوں نے لکھا ہے:

أکبر خلق النبي یظھر من فعل التبلیغ، فإن اﷲ تعالٰی جعل التبلیغ أکبر فرائضھم، وأکبر التبلیغ أن یجتبي النبي الحواري والأصحاب لیکونوا شھداء علی الناس، فتکون سنۃ النبي ظاھرۃ، ویتضح سبیل الحق والسعادۃ لکافۃ الناس ویسھل التمییز بین السنۃ والبدعۃ. ...ولذلک قال النبي صلی اﷲ علیہ وسلم: إني تارک فیکم الثقلین کتاب اﷲ وسنتي، وقال: عضوا علیہ بالنواجذ.۱۷؂

''اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کو انبیا کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ بنایا ہے۔تبلیغ کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ نبی اپنے حواریوں اور اصحاب کو منتخب کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے لیے شہادت دیں۔ پھر نبی کی سنت ظاہر ہوتی ہے اور تمام لوگوں کے لیے حق اور سعادت کا راستہ واضح ہو جاتا ہے اور سنت اور بدعت میں تمیز آسان ہو جاتی ہے۔ ... اور یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔ انھیں مضبوطی سے پکڑ کر رکھنا۔''

مولانا فراہی جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واجب الاطاعت شارع کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں، وہاں وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ آپ کوقرآن مجید کے مبین اور مفسر کا مقام حاصل ہے ۔ اس بنا پر وہ شریعت اور عقائد، دونوں معاملات میں قرآن سے استخراج احکام کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیرسے رہنمائی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ ''رسائل فی علوم القرآن'' میں انھوں نے لکھا ہے:

أنہ علیہ السلام لما کان مبینًا للکتاب ومفسرًا لہ علی الإطلاق في الشرائع والعقائد کلتیھما صار العلم بطرق تأویلہ أوثق أصل للمفسر.۱۸؂

''نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کتاب اﷲ کے مبین اورمفسر تھے۔ لہٰذا شرائع ہوںیا عقائد ، دونوں کے حوالے سے آپ کی تاویلات ایک مفسر کے لیے حکم کی مضبوط ترین بنیاد ہیں۔''

چنانچہ اُن کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کا ایک حصہ قرآن مجید کی تبیین اور شرح و فرع پر مبنی ہے اور دوسرا مستقل بالذات سنن کا ماخذ ہے۔ اس اعتبار سے وہ آپ کے ارشادات کو بنیادی طور پر تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ایک قسم اُن احکام پر مشتمل ہے جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صراحت فرمائی ہے کہ وہ کتاب اﷲ سے مستنبط ہیں۔ دوسری قسم اُن احکام پر مبنی ہے جن کے قرآن مجید سے مستنبط ہونے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو صراحت نہیں فرمائی، مگرکلام کی دلالتوں کی بنا پر اُن کا کتاب الٰہی سے مستنبط ہونا واضح ہوتا ہے۔ تیسری قسم اُن احکام کو شامل ہے جن کے قرآن سے مستنبط ہونے کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ تصریح موجود ہے اور نہ کلام کی دلالتیں استنباط کو واضح کرتی ہیں،مگر اس کے باوجود قرآن ان کا تحمل کرتا ہے۔ ان کی نوعیت مستقل بالذات سنن کی ہے۔ لکھتے ہیں:

فالقسم الأول ماصرح فیہ الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم بأنہ حکم بالکتاب، ولم یکن الحکم بظاہر الکتاب ونصہ. فقد علمنا أنہ کان یستنبط منہ وقد أمرہ اﷲ یبین للناس ما نزل إلیھم کما مر. ومعرفۃ وجہ الإستنباط لا تصعب بعد العلم بالأصل والفرع.

والقسم الثاني من الأحکام مالم یصرح فیہ بذلک ولکن وجہ إستنباطہ من الکتاب ظاھر علی العارف بدلالات الکلام. ... فإذا أطلعنا علی وجہ الإستنباط جعلنا الکتاب فیہ أصلاً والسنۃ فرعًا لوجوہ ذکرنا. وقد اتفقت الصحابۃ علی النظر في الکتاب أولاً ، فإذا لم یجدوا فیہ ففي السنۃ، وھذا ھو المعقول، ففي مثل ذلک أیقنا بأن الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم قد حکم بالکتاب مستنبطاً منہ، لعلمہ بإشاراتہ وإن خفي علینا برھۃ من الدھر.

والقسم الثالث مالا نجد في الکتاب ولکن الزیادۃ بہ محتملۃ. فجعلنا السنۃ فیہ أصلاً مستقلاً .۱۹؂

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام میں سے پہلی قسم اُن احکام کی ہے جن کے بارے میںآپ نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ کتاب اﷲ سے مستنبط ہیں، دراں حالیکہ ظاہر کتاب کی نص میں وہ موجود نہیں ہیں۔ گویا وہ حکم مستنبط ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرض تبیین کے مطابق ہیں۔ ان احکام میں اصل و فرع پر غور کرکے ان کے استنباط کا پہلو معلوم کرنا دشوار نہیں ہوتا۔

دوسری قسم ان احکام کی ہے جن کے متعلق آپ نے خود کوئی صراحت نہیں فرمائی، مگر قرآن سے ان کے استنباط کا پہلو کلام کی دلالتوں کو جاننے والے پر واضح ہو جاتا ہے۔ ... پس اگر ہمیں وجہ استنباط معلوم ہو جائے تو اصول یہ ہوگا کہ ہم کتاب اﷲ کو اصل اور سنت کو اس کی فرع قرار دیں گے۔ صحابہ کا اس پر اتفاق تھا کہ وہ سب سے پہلے قرآن پر غور کرتے اور جب اس میں کوئی رہنمائی نہ پاتے تو سنت کی طرف رجوع کرتے۔ اور یہی بات معقول ہے۔ ایسے احکام کے بارے میں ہمارا یقین ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے اشارات سے ان کو مستنبط کیا ،خواہ ان کے وجوہ استنباط ہم پر عرصۂ دراز تک مخفی رہیں۔

تیسری قسم ان احکام کی ہے جن کے متعلق قرآن کی کوئی نص وارد نہیں، البتہ وہ اس اضافے کا متحمل ہے۔ ایسے احکام میں ہم سنت کو مستقل اصل قرار دیں گے۔''

مولانا فراہی کے نزدیک سنت کے حوالے سے صحابہ کا مسلک یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی منقول ہو، اس پر ایمان لایا جائے اور اس بات پر یقین رکھا جائے کہ کتاب و سنت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔بیان کرتے ہیں:

ومسلک الصحابۃ الإیمان بکل ماجاء بہ الرسول، والیقین بأن الکتاب والسنۃ لا یناقض بعضہ بعضًا. ۲۰؂

چنانچہ وہ قرآن و سنت کی یکساں اہمیت کو ائمۂ سلف کا مذہب سمجھتے اور ان کے مقام و مرتبے میں کسی تفریق کو یا ان میں سے کسی ایک کے ترک کرنے کو باطل پسندوں اور ملحدوں کے مذہب سے تعبیر کرتے ہیں۔'' احکام الاصول'' میں لکھتے ہیں:

''سلف اور ائمہ نے اپنے مذہب کی صحت کی بدولت کتاب اور سنت، دونوں کو مضبوطی سے پکڑا۔ یہ نہیں کیا کہ باطل پسندوں اور ملحدوں کی طرح ان میں تفریق کر کے ایک چیز کو ترک کر دیتے۔'' ۲۱؂

اسی بنا پر وہ متنبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اﷲ اور اس کے رسول سے اختلاف سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کی شدید مخالفت اور برا انجام بیان ہوا ہے:

ولقد حذرنا اﷲ تعالٰی ورسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الإختلاف، ودل علی شناعۃ مغبتہ في کثیر من القرآن والحدیث حتی أن المرء یوشک أن یری أنہ أعظم المآثم وجماع السیئات.۲۲؂

_____

۱؂ النساء ۴: ۶۴۔

۲؂ النساء ۴: ۸۰۔

۳؂ ۴: ۵۹۔

۴؂ الالبانی ، ناصر الدین ، صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ ، رقم ۳۲۳۲۔ ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد،الاحکام فی اصول الاحکام، بیروت: دارلکتب العلمیہ، ۲۰۰۴ء، ج۲،ص۲۵۱۔

۵؂ ابن عبدالبر، ابو عمر یوسف،جامع بیان العلم، دمام: دار ابن الجوزیۃ،۱۴۲۷ھ، ج۱، ص۶۱۶۔

۶؂ ایضاً، ج ۲، ص۳۲۰۔

۷؂ الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر، تفسیر الطبری، کوئٹہ: مکتبہ عثمانیہ،۲۰۱۰ء، ج۳، ص ۲۳۹۳۔ ابن حزم، ابو محمد علی بن احمد،الاحکام فی اصول الاحکام، بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۴ء،ج۱،ص۱۱۶۔ الزمخشری، ابو قاسم جار اللہ محمود بن عمر، تفسیرالکشاف، بیروت: دارالمعرفۃ، ۲۰۰۲ء، ص ۲۴۲۔ الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، ۲۰۰۶ء، ج۴، ص ۱۱۔الرازی، فخر الدین محمد بن عمر، التفسیر الکبیر ، بیروت:دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۹ء، ج ۱۰، ص۱۱۷۔القرطبی، ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری،الجامع لاحکام القرآن، کوئٹہ:مکتبہ رشیدیہ، ج۵، ص ۲۵۰۔ الشوکانی، محمد بن علی بن محمد، فتح القدیر، بیروت:دارالکتب العلمیہ،ج ۱، ص۶۰۸۔الآلوسی، سید محمود، روح المعانی، کوئٹہ: مکتبہ رشیدیہ،ج۵، ص ۸۷۔

۸؂ ابن قیم، شمس الدین ابو عبداللہ، الجوزیۃ،اعلام الموقعین عن رب العالمین، لاہور:مکتبہ قدوسیہ، ۲۰۰۷ء، ج ۱، ص۶۸۔

۹؂ ابن عبدالبر، ابو عمر یوسف،جامع بیان العلم ، دمام:دار ابن الجوزیۃ،۱۴۲۷ھ، ج۱، ص ۶۰۷۔

۱۰؂ الشوکانی، محمد بن علی ، ارشاد الفحول الی تحقیق الحق من علم الاصول، بیروت:دارالکتاب العربی، ج ۱،ص۹۶۔

۱۱؂ ایضاً۔

۱۲؂ یعنی علماے امت کے نزدیک سنت پورے قرآن کا بیان نہیں ہے۔یہ اُس کے انھی اجزا کے لیے بمنزلۂ بیان ہے جو از خود واضح نہیں ہیںیا جن کی قرآن نے اپنے بین الدفتین تبیین نہیں فرمائی۔ چنانچہ امام شافعی نے اسی بنا پرآیات قرآنی کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ایک وہ آیات جنھیں خارج کے بیان کی ضرورت نہیں اور دوسری وہ جن کی تبیین سنت سے ہوتی ہے۔ ابو زہرہ امام شافعی کے اسی موقف کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''جب صورت یہ ٹھیری کہ قرآن بیان کلّی ہے اور سنت حسب ضرورت اس کی شارح و مفسر تو شافعی بیان قرآن کی دو قسمیں کرتے ہیں:۱۔وہ بیان قرآن جو نص ہے اور جس کی تشریح و توضیح کے لیے خارج سے کسی امداد کی ضرورت نہیں، وہ خود واضح ہے۔۲۔وہ بیان قرآن جواپنی تشریح و توضیح میں سنت کا محتاج ہے، خواہ اپنے اجمال کی تفصیل میںیامعنی محتمل کی تعیین میں یا عموم کی تخصیص میں۔''

(محمد ابو زہرہ، امام شافعی عہد اور حیات،لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز، ص۸۵)

۱۳؂ الشاطبی، ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ، الموافقات فی اصول الشریعہ، (مترجم: کیلانی، مولانا عبدالرحمن)، لاہور: دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، ۲۰۰۶ء، ج ۴، ص۱۰۔

۱۴؂ ایضاً۔

۱۵؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص ۱۱۴۔

۱۶؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص ۱۰۹۔

۱۷؂ الفراہی، عبدالحمید، القائد الی عیون العقائد، اعظم گڑھ:، الدائرۃ الحمیدیہ،۲۰۱۰ء ، ص۱۶۷۔

۱۸؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص۱۰۹۔

۱۹؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص۱۱۴۔

۲۰؂ الفراہی، عبدالحمید، القائد الیٰ عیون العقائد، اعظم گڑھ: الدائرۃ الحمیدیہ،۲۰۱۰ء،ص۱۲۔

۲۱؂ ایضاً۔

۲۲؂ الفراہی، عبدالحمید، رسائل فی علوم القرآن،اعظم گڑھ:، الدائرۃ الحمیدیہ، ۲۰۱۱ء، ص ۱۱۲۔

____________