حدیث و سنت کی حجیت: مدرسۂ فراہی کے موقف کا تقابلی جائزہ (۱) (2/2)


مولانا امین احسن اصلاحی

مولاناامین احسن اصلاحی نے بیان کیا ہے کہ رسول زمین پر قانون الٰہی کی حاکمیت کا مظہر ہوتاہے ۔ وہ اس ذمہ داری پر مامور ہوتا ہے کہ اللہ کے احکام کو انسانوں تک پہنچائے ۔لہٰذا اس کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت کے مترادف ہوتی ہے۔ ''تدبر قرآن'' میں لکھتے ہیں:

'' اصل حاکمیت اللہ ہی کی ہے لیکن وہ اپنے اذن سے اپنے رسول کو یہ منصب بخشتا ہے کہ وہ لوگوں کو اس کے امرو نہی سے آگاہ فرمائے اور اس مقصد کے لیے وہ اس کو غلطی اور خطا سے محفوظ فرماتا ہے اس وجہ سے رسول، خدا کی قانونی و تشریعی حاکمیت کا مظہر ہوتا ہے اور اس پر ایمان اور ساتھ ہی اس کی بے چون و چرا اطاعت، خدا پر ایمان اور خدا کی اطاعت کے ہم معنی بن جاتی ہے۔'' ۲۳؂

اسی استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول چونکہ خدا کی قانونی و تشریعی حاکمیت کا مظہر ہوتا ہے، اس لیے اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر نزاعی مسئلے میں اُسی کو حکم بنائیں۔ اُن کے نزدیک رسول کی عدالت کو چھوڑ کر کسی اور کی عدالت سے رجوع کرنا کفر اور شرک کے مترادف ہے:

''جب رسول، خدا کی حاکمیت قانونی و تشریعی کا مظہر ہے تو اس امر کی کوئی گنجایش کسی صاحب ایمان کے لیے باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ رسول کی عدالت کو چھوڑ کر اپنے کسی معاملے کو فیصلہ کے لیے طاغوت کی عدالت میں لے جائے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے، وہ اپنی جان پر بہت بڑا ظلم ڈھاتا ہے۔ اس لیے کہ فی الحقیقت یہ چیز خدا کی حاکمیت کا انکار اور بالواسطہ شرک اور کفر کا ارتکاب ہے۔ ''۲۴؂

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اُنھوں نے واضح کیا ہے کہ بحیثیت رسول آپ کی اطاعت کا یہ تقاضا فقط زبان کے اقرار اور عملی اظہار سے پورا نہیں ہوتا، اس کے لیے دل کی اطاعت بھی لازم ہے۔ سورۂ نساء کی آیت ۶۵ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

''...اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ لوگ اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے درمیان پیدا ہونے والی تمام نزاعات میں تمھی کو حکم نہ مانیں اور پھر ساتھ ہی اُن کے اندر یہ ذہنی تبدیلی نہ واقع ہو جائے کہ وہ تمھارے فیصلے کو بے چون و چرا پورے اطمینان قلب کے ساتھ مانیں اور اپنے آپ کو بلا کسی استثنا و تحفظ کے تمھارے حوالے کر دیں۔ رسول کی اطاعت خود خدا کی اطاعت کے ہم معنی ہے، اِس وجہ سے اُس کا حق صرف ظاہری اطاعت سے ادا نہیں ہوتا، بلکہ اِس کے لیے دل کی اطاعت بھی شرط ہے۔'' ۲۵؂

مولانا اصلاحی اس اطاعت کے لازمی نتیجے کے طور پر اس امر کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امت کے علم و عمل میں سنت کی روایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ 'فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ' کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

''(پس اس کو اللہ و رسول کی طرف لوٹاؤ) ظاہر ہے کہ یہ ہدایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک تک ہی کے لیے محدود نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس اختلاف کے پیدا ہونے کا غالب امکان تو حضور کی وفات کے بعدہی تھا اور آیت خود شہادت دے رہی ہے کہ اس کا تعلق مستقبل ہی سے ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور کی وفات کے بعد آپ کی سنت ہی ہے جو آپ کے قائم مقام ہو سکتی ہے۔''۲۶؂

مولانا اصلاحی نے سورۂ جمعہ کی تفسیر میں نماز جمعہ کے احکام کو سنت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس نماز کے قیام سے متعلق تمام امور اگرچہ من جانب اللہ ہیں ،مگر قرآن ان کے ذکر سے خالی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان احکام میں سے ہیں جو قرآن کے علاوہ ہیں اور جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے براہ راست امت میں جاری فرمایا ہے۔ اس مثال سے اُن کے نزدیک، مقام نبوت کی یہ شان واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ کے احکام درحقیقت اللہ ہی کے احکام قرار پاتے ہیں، خو اہ ان کا حوالہ قرآن میں مذکور ہو یا نہ ہو۔ لکھتے ہیں:

''جمعہ کی نماز، اس کی اذان اور اس کے خطبہ سے متعلق یہاں مسلمانوں کو جو ہدایات دی گئی ہیں اور ان کی ایک غلطی پر جس طرح تنبیہ فرمائی گئی ہے، اس کا انداز شاہد ہے کہ جمعہ کے قیام سے متعلق ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ہیں، حالانکہ قرآن میں کہیں بھی جمعہ کا کوئی ذکر نہ اس سے پہلے آیا ہے نہ اس کے بعد ہے، بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ اس کے قیام کا اہتمام ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور لوگوں کو آپ ہی نے اس کے احکام و آداب کی تعلیم دی۔ پھر جب لوگوں سے اس کے آداب ملحوظ رکھنے میں کچھ کوتاہی ہوئی تو اس پر قرآن نے اس طرح گرفت فرمائی گویا براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کے بتائے ہوئے احکام و آداب کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کے دیے ہوئے احکام بعینہٖ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں، ان کا ذکر قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ رسول کی طرف ان کی نسبت کی تحقیق تو ضروری ہے، لیکن نسبت ثابت ہے تو ان کا انکار خود اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار ہے۔

گفتۂ او گفتۂ اللہ بود

''۲۷؂

چنانچہ انھوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ثبوت اور حجیت، دونوں اعتبارات سے سنت کو وہی حیثیت حاصل ہے جو قرآن مجید کو حاصل ہے۔دین میں ان دونوں کا مقام مساوی ہے، کیونکہ ان دونوں کے اجتماع ہی سے دین کی تشکیل ہوتی ہے:

''...سنت مثل قرآن ہے۔ سنت اپنے ثبوت میں بھی ہم پایۂ قرآن ہے۔ اس لیے کہ قرآن امت کے قولی تواتر سے ثابت ہے اور سنت عملی تواتر سے۔ ہم ان دونوں کو مقدم و موخر نہیں کر سکتے اور کسی کو ادنیٰ و اعلیٰ نہیں قرار دے سکتے۔ دونوں دین کے قیام کے لیے یکساں ضروری ہیں۔''۲۸؂

سنت کی تشریحی حیثیت کے حوالے سے مولانا اصلاحی نے علماے سلف ہی کے طریقے پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ دین و شریعت کے باب میں قرآن مجید کے ارشادات کی نوعیت اصول کی ہے۔جہاں تک فروع اور توضیحات و تفصیلات کا تعلق ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں محصور ہیں۔چنانچہ دین اپنی کامل صورت میں اسی وقت سامنے آتا ہے جب سنت نبوی کو قرآن مجید کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ قرآن کی شرح و تفسیر کا حق سب سے بڑھ کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے، لہٰذا آپ کی تفسیر کے مقابلے میں کسی اور کی تفسیر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لکھتے ہیں:

''...سنت رسول اﷲ درحقیقت کتاب الٰہی کی تشریح و تفسیر ہے۔ جو باتیں قرآن مجید کے اجمالات و اشارات کے اندر چھپی ہوئی ہیں ، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھی باتوں کو واضح فرما دیا ہے۔ اس وجہ سے کتاب اﷲ کے بعد سنت رسول اﷲ کی طرف رجوع کرنے کی جو ہدایت کی گئی ہے، تو یہ کتاب اﷲ ہی کی اس توضیح و تشریح کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صحیح طریقہ سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ماثور و منقول ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی توضیح و تشریح کرنے کا حق نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے زیادہ نہ کسی کو ہو سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی توضیح و تشریح نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی توضیح و تشریح کے مقابل میں لائق قبول ہو سکتی ہے۔''۲۹؂

ایک اور مقام پر خاص احادیث کے بارے میں اُنھوں نے لکھا ہے کہ اِن میں جو کچھ بھی نقل ہوا ہے، وہ سرتاسر تعلیم کتاب ہی کا بیان ہے:

'' آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس حیثیت میں جو کچھ کہا اور کیا ہے، اس کو آپ کے فرائض نبوت کے دائرے سے الگ کس طرح کیا جا سکتا ہے اور اس کی اہمیت کو گھٹایا کس طرح جا سکتا ہے؟ اور پھر اس بات پر غور کیجئے کہ احادیث میں ان چیزوں کے سوا اور کیا ہے جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت معلم کتاب و حکمت ہونے کے بتائی ہیں یا ان پر عمل کرکے دکھایا ہے۔''۳۰؂

اصلاحی صاحب اِس بارے میں بھی پوری طرح واضح ہیں کہ دین و شریعت کی اصطلاحات کے مفہوم و مصداق کی تعیین کا حق فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ یہ فریضہ آپ کے فرائض نبوت میں شامل ہے۔ لکھتے ہیں:

''قرآن مجید اور شریعت کی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنے کا حق صرف صاحب وحی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کوحاصل ہے۔ آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے، اسی طرح اس کے معلم اور مبین بھی تھے اور یہ تعلیم و تبیین آپ کے فریضۂ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی''۔۳۱؂

مولانا اصلاحی نے سورۂ بقرہ کی آیت ۱۲۹ کی تفسیر میں''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی'' کا عنوان قائم کیا ہے اور اس کے تحت یہ واضح کیا ہے کہ اللہ کے رسول کی حیثیت سے آپ کا منصبی فریضہ فقط یہ نہیں تھا کہ آپ کتاب اللہ کو لوگو ں تک پہنچا دیں۔ اس کے ساتھ آپ کے فرائض میں یہ بھی شامل تھا کہ آپ قرآن مجید کی تعلیم دیں اور اس کی شرح و وضاحت فرمائیں۔ قرآن مجید کی اس تعلیم اور اس شرح و وضاحت کے اخبار و روایات، یعنی احادیث کو دین کی حیثیت حاصل ہے اور ان کا انکار قرآن مجید کے انکار کے مترادف ہے۔ لکھتے ہیں:

'' یہ خیال بڑا مغالطہ انگیز ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضۂ منصبی بحیثیت رسول کے صرف یہ تھا کہ آپ لوگوں کو قرآن پہنچادیں۔ قرآن کا پہنچا دینا آپ کے فرائض منصبی کا صرف ایک جزو تھا۔ اس کے علاوہ آپ کی یہ ذمہ داری بھی تھی کہ آپ ایک معلم کی طرح لوگوں کو اس قرآن کی تعلیم دیں ، اس کے مضمرات و تضمنات ، اس کے اجمالات و اشارات اور اس کے اسرار و حقائق لوگوں پر واضح کر دیں، اس کے عجائب حکمت کے خزانوں تک لوگوں کی رہبری فرمائیں۔ اسی طرح آپ کی یہ ذمہ داری بھی تھی کہ آپ قرآنی حکمت کی روشنی میں افراد اور معاشرہ کی تربیت کے اصول و فروع بھی متعین فرمائیں اور ان اصولوں کے مطابق لوگوں کا تزکیہ بھی کریں۔...یہ سارے کام آپ کے فرائض نبوت میں شامل تھے۔ اس وجہ سے ان مقاصد کے تحت آپ نے جو کچھ بتایا یا جو کچھ کیا، اس سب کو امت نے اسی طرح حسب تعمیل سمجھا، جس طرح قرآن کو سمجھا اور اسی اہمیت کے ساتھ اس کی حفاظت اور اس کے نقل و روایت کا اہتمام کیا۔ اس کے کسی جزو کے متعلق یہ سوال تو اٹھایا جا سکتا ہے کہ اس کا انتساب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پوری صحت کے ساتھ ثابت ہے یا نہیں، لیکن اس کو دین و شریعت سمجھنے سے انکار کرنا خود قرآن مجید کے انکار کے ہم معنی ہے۔''۳۲؂

جناب جاوید احمد غامدی

جناب جاوید احمد غامدی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی اطاعت اور دین میں آپ کے مقام و مرتبے کے حوالے سے اُسی موقف پرقائم ہیں جس پرتمام علماے سلف اور اُن کے پیش رو فراہی و اصلاحی کھڑے ہیں۔ چنانچہ وہ آپ کے وجود کو کمال انسانیت کا مظہر اتم اور زمین پر خدا کی عدالت کہتے، آپ کی ہستی کو عقیدت اور اطاعت ،دونوں کا مرکز مانتے اور آپ کے احکام کی بے چون و چرا تعمیل کو لازم قرار دیتے ہیں۔وہ دین کو آپ کی ذات میں منحصر سمجھتے اور اِس بنا پر آپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو قیامت تک کے لیے حجت تسلیم کرتے ہیں۔ ماخذ دین کی بحث میں اُنھوں نے ''دین کا تنہا ماخذ'' کی جو منفرد تعبیر اختیار کی ہے،اُس سے حصول دین کا سارا رخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی طرف منتقل ہو گیا ہے اور آپ کے وجود پر دین کا انحصار رائج تعبیرات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور زیادہ مرتکز ہو کر سامنے آیا ہے۔۳۳؂ دین اسلام پر اپنی کتاب ''میزان'' کا آغاز کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

''دین اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جو اُس نے پہلے انسان کی فطرت میں الہام فرمائی اور اِس کے بعد اُس کی تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ اپنے پیغمبروں کی وساطت سے انسان کو دی ہے۔ اِس سلسلہ کے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ دین کا تنہا ماخذ اِس زمین پر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات والا صفات ہے۔ '' ۳۴؂

نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دین کا تنہا ماخذتسلیم کرنے کے لازمی نتیجے کے طور پر وہ تمام تر دین کو آپ کے قول و فعل اور تقریر وتصویب پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ درج بالا مقدمے کو آگے بڑھاتے ہوئے اُنھوں نے لکھا ہے:

''یہ صرف اُنھی (یعنی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی ہستی ہے کہ جس سے قیامت تک بنی آدم کو اُن کے پروردگار کی ہدایت میسر ہو سکتی اور یہ صرف اُنھی کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقریر و تصویب سے وہ جس چیز کو دین قرار دیں، وہی اب رہتی دنیا تک دین حق قرار پائے۔''۳۵؂

یہی وجہ ہے کہ اُن کے نزدیک اخذ دین کی ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مقدم اور قرآن و سنت کا موخر ہے اور آپ کی حیثیت ماخذ و مصدر کی اور قرآن وسنت کی نوعیت اس سے پھوٹنے والی دو الگ الگ صورتوں کی ہے:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے : ۱۔ قرآن مجید ۲ ۔سنت ۔''۳۶؂

غامدی صاحب کے تمام تر دینی فکر کا مدار اسی اصولی مقدمے پر قائم ہے۔ حدیث و سنت کی حجیت کی بحث بھی اسی مرکز ی نکتے کے گرد گھومتی ہے۔ اس بحث کے بنیادی نکات کو اگر ہم اُن کی تحریروں سے اخذ کرنا چاہیں تو وہ درج ذیل ہیں:

۱۔غامدی صاحب کے نزدیک ایمان بالرسالت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے رسول کی مکمل اطاعت کی جائے، کیونکہ رسول صرف عقیدت کا مرکز نہیں،بلکہ اس کے ساتھ اطاعت کا مرکز بھی ہوتاہے۔ اُس کے منصب کا تقاضا ہے کہ اُسے فقط منذر اور مذکر کے طور پر نہیں ، بلکہ واجب الاطاعت ہادی کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور زندگی کے ہر معاملے میں اُس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ لکھتے ہیں:

''...نبی صرف عقیدت ہی کا مرکز نہیں، بلکہ اطاعت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ وہ اِس لیے نہیں آتا کہ لوگ اُس کو نبی اور رسول مان کر فارغ ہو جائیں۔ اُس کی حیثیت صرف ایک واعظ و ناصح کی نہیں، بلکہ ایک واجب الاطاعت ہادی کی ہوتی ہے۔ اُس کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں جو ہدایت وہ دے، اُس کی بے چون و چرا تعمیل کی جائے۔''۳۷؂

وہ اطاعت رسول کو محض رسمی اور قانونی ضرورت کے طور پر بیان نہیں کرتے، بلکہ خلوص و محبت اور عقیدت و احترام کے جذبات کو بھی اس کا لازمی حصہ قرار دیتے ہیں:

''...یہ اطاعت کوئی رسمی چیز نہیں ہے۔ قرآن کامطالبہ ہے کہ یہ اتباع کے جذبے سے اور پورے اخلاص، پوری محبت اورا نتہائی عقیدت و احترام سے ہونی چاہیے۔ انسان کو خداکی محبت اِسی اطاعت اور اِسی اتباع سے حاصل ہوتی ہے۔... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت خود بھی مختلف طریقوں سے واضح فرمائی ہے۔ ایک روایت میں آپ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ کسی شخص کا ایمان اُس وقت تک متحقق نہیں ہو سکتا، جب تک وہ مجھے اپنے باپ بیٹوں اور دوسرے تمام لوگوں سے عزیز تر نہ رکھے۔''۳۸؂

وہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت اور اس بنا پر آپ کے قول و فعل کی حجیت کو آپ کے زمانے تک محدود نہیں سمجھتے، بلکہ اُسے ابدی مانتے ہیں اور اسے کسی کی راے کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن کے فیصلے کے طور پر قبول کرتے ہیں:

''...قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ہدایات قیامت تک کے لیے اُسی طرح واجب الاطاعت ہیں ، جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے ۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے بعد آپ کا کام ختم ہو گیا ۔ رسول کی حیثیت سے آپ کا ہر قول و فعل بجاے خود قانونی سند و حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کو یہ مرتبہ کسی امام و فقیہ نے نہیں دیا ہے ، خود قرآن نے آپ کا یہی مقام بیان کیا ہے ۔''۳۹؂

آپ کے قول و فعل کی قانونی سند و حجت کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں شریعت دینے کا حق صرف رسول اﷲ کو حاصل ہے اور آپ کی دی ہوئی شریعت میں کسی انسان کو، خواہ وہ ابوبکر و عمر جیسا بلند پایہ ہی کیوں نہ ہو، تغیر و تبدل کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ لکھتے ہیں:

''اِس زمین پر قیامت تک کے لیے یہ حق صرف محمد رسول اللہ کو حاصل ہے کہ وہ کسی چیز کو شریعت قرار دیں ، اور جب اُن کی طرف سے کوئی چیز شریعت قرار پا جائے تو پھر صدیق و فاروق بھی اُس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کر سکتے۔'' ۴۰؂

۲۔ غامدی صاحب کا موقف ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وجوب قیامت تک کے لیے ہے۔اپنی حیات مبارکہ میں آپ بنفس نفیس مرجع اطاعت تھے اور اب یہ مقام و مرتبہ قرآن وسنت کو حاصل ہے۔ حکومت و ریاست کی اطاعت انھی کی اطاعت کے ماتحت ہے۔ لہٰذا حکمرانوں سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، مگر قرآن و سنت سے اختلاف کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ حکمرانوں سے اختلاف کی صورت میں بھی فیصلے کے لیے قرآن وسنت ہی کو حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک مسلمان اپنی ریاست میں قرآن وسنت کے خلاف یا اِن کی رہنمائی کو نظر انداز کر کے کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے:

''...اللہ و رسول کی یہ حیثیت ابدی ہے ، لہٰذا جن معاملات میں بھی کوئی حکم اُنھوں نے ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے، اُن میں مسلمانوں کے اولی الامر کو، خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان ، اب قیامت تک اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ اولی الامر کے احکام اِس اطاعت کے بعد اور اِس کے تحت ہی مانے جا سکتے ہیں ۔اِس اطاعت سے پہلے یا اِس سے آزاد ہو کر اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ چنانچہ مسلمان اپنی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتے جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں اُن کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو ۔اہل ایمان اپنے اولی الامر سے اختلاف کا حق بے شک، رکھتے ہیں، لیکن اللہ اور رسول سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا،بلکہ اِس طرح کا کوئی معاملہ اگر اولی الامر سے بھی پیش آ جائے اور اُس میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت موجود ہو تو اُس کا فیصلہ لازماً اُس ہدایت کی روشنی ہی میں کیا جائے گا ۔ ''۴۱؂

۳۔ غامدی صاحب حدیث و سنت کے ایک حصے کو دین کے ایسے مستقل بالذات جز کے طور پر قبول کرتے ہیں جس کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی ۴۲؂اور جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے اہتمام،پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ امت کو منتقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

'' سنت کی حیثیت دین میں مستقل بالذات ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسے پورے اہتمام،پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ انسانوں تک پہنچانے کے مکلف تھے۔''۴۳؂

چنانچہ اُنھوں نے اپنی کتاب میں اُن تمام اجزاے دین کی سنن ہی کی حیثیت سے فہرست بندی کی ہے جو امت کی علمی و عملی روایت میں عبادت، معاشرت، خورو نوش اور رسوم و آداب کے د ائرے میں مراسم دین کے طور پر مسلم رہے ہیں۔ یہ فہرست درج ذیل ہے:

'' اِس (سنت کے ) ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے ،وہ یہ ہے :۴۴؂

عبادات

۱۔ نماز ۔۲۔ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر ۔۳۔ روزہ و اعتکاف ۔۴۔ حج و عمرہ ۔۵۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں ۔

معاشرت

۱۔ نکاح و طلاق اور اُن کے متعلقات ۔ ۲۔حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔

خورونوش

۱۔ سؤر ، خون ، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت ۔ ۲۔ اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ ۔

رسوم و آداب

۱۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ۔ ۲۔ ملاقات کے موقع پر 'السلام علیکم 'اور اُس کا جواب۔۳۔ چھینک آنے پر 'الحمدللہ 'اور اُس کے جواب میں 'یرحمک اللہ ' ۔ ۴ ۔مونچھیں پست رکھنا۔ ۵۔ زیر ناف کے بال کاٹنا۔ ۶۔بغل کے بال صاف کرنا۔ ۷۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔ ۸۔لڑکوں کا ختنہ کرنا ۔۹۔ ناک ،منہ اور دانتوں کی صفائی۔ ۱۰۔استنجا۔ ۱۱۔ حیض و نفاس کے بعد غسل۔ ۱۲۔غسل جنابت۔ ۱۳۔میت کا غسل۔ ۱۴ ۔تجہیز و تکفین ۔۱۵۔تدفین۔ ۱۶ ۔عید الفطر ۔ ۱۷۔عید الاضحی ۔ ''۴۵؂

گویا ان کے نزدیک ان تمام اجزاے دین کا ماخذ قرآن نہیں، بلکہ سنت ہے۔

۴۔ غامدی صاحب قرآن مجید کی تبیین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منصبی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اس اعتبار سے آپ کے مقام کو مامور من اللہ مبین کتاب کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔سورۂ نحل کی آیت تبیین کے حوالے سے لکھتے ہیں:

''آیت کا مدعا یہ ہے کہ خالق کائنات نے اپنا یہ فرمان محض اِس لیے پیغمبر کی وساطت سے نازل کیا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے اُس کی تبیین کرے ۔ گویا 'تبیین' یا 'بیان' پیغمبر کی منصبی ذمہ داری بھی ہے اور اُس کے لازمی نتیجے کے طور پر اُس کا حق بھی جو اُسے خود پروردگار عالم نے دیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر مامور من اللہ 'مبین کتاب' ہے ۔''۴۶؂

اسی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم تھے اور اس اعتبار سے آپ کو یہ امتیازی حیثیت حاصل تھی کہ وحی الٰہی کی تائید وتصویب کی بدولت آپ کا علم ہر خطا سے پاک تھا۔ لکھتے ہیں:

''حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر تھے، اِس لیے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم، بلکہ سب عالموں کے امام بھی آپ ہی تھے۔ دین کے دوسرے عالموں سے الگ آپ کے علم کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپ کا علم بے خطا تھا، اِس لیے کہ اُس کو وحی کی تائید و تصویب حاصل تھی۔''۴۷؂

۵۔ غامدی صاحب کے نزدیک روایات میں منقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ارشادات تفہیم و تبیین کی حیثیت رکھتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی نسبت کی تحقیق کے بعد ان کی پیروی ایمان کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے معمولی اختلاف بھی ایمان کے منافی ہے۔ لکھتے ہیں:

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات بھی دین کی حیثیت سے روایتوں میں نقل ہوئے ہیں، اُن میں سے بعض کو میں نے ''تفہیم و تبیین' ' اور بعض کو ''اسوۂ حسنہ'' کے ذیل میں رکھا ہے۔ یہی معاملہ عقائد کی تعبیر کا ہے۔ اِس سلسلہ کی جو چیزیں روایتوں میں آئی ہیں، وہ سب میری کتاب ''میزان'' کے باب ''ایمانیات'' میں دیکھ لی جاسکتی ہیں۔ یہ بھی ''تفہیم و تبیین'' ہے۔ علمی نوعیت کی جو چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نقل ہوئی ہیں، اُن کے لیے صحیح لفظ میرے نزدیک یہی ہے۔ آپ سے نسبت متحقق ہو تو اس نوعیت کے ہر حکم، ہر فیصلے اور ہر تعبیر کو میں حجت سمجھتا ہوں۔ اِس سے ادنیٰ اختلاف بھی میرے نزدیک ایمان کے منافی ہے۔''۴۸؂

اس تفصیل سے واضح ہے کہ مدرسۂ فراہی حدیث وسنت کو من جملۂ دین قرار دیتا اور اِن کی حجیت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے ۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دین میں مطاع کی حیثیت کو تسلیم کرنے اوراس بناپرآپ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کو واجب الاطاعت ماننے ، حدیث و سنت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام سمجھنے اور ان کی تشریعی اور تشریحی حیثیتوں کو تسلیم کرنے اور ان کے انکار کو دین و ایمان کے منافی تصور کرنے کے حوالے سے یہ اُسی موقف کا علم بردار ہے جس پر امت گذشتہ چودہ سو سال سے کاربند ہے۔ اس کا علمی و فکری اثاثہ اِس موقف پر واقعاتی شہادت کی حیثیت رکھتا ہے جس کی تردید علم و استدلال کے دائرے میں ناممکن ہے۔ دین اسلام پر اس کی نمایندہ کتاب ''میزان'' اِس امر کا واضح ثبوت ہے جس میں نماز، زکوٰۃ، روزہ، اعتکاف، حج ، عمرہ،عید،نکاح، طلاق،تذکیہ، غسل ، تجہیز و تکفین اور اِس نوعیت کے دیگرمجمع علیہ مراسم دین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ سنن ہی کے طور پر مشروع قرار دیا گیاہے۔اِس کے ساتھ ساتھ دین کی شرح و فرع کے ضمن میں کم و بیش بارہ سو احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔ بطور مثال اِن میں سے چند حوالے درج ذیل ہیں:

۱۔''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بلیغ اسلوب میں اِس کی وضاحت اِس طرح فرمائی ہے: ''احسان''یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اِس طرح کرو گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ اِس لیے کہ اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمھیں دیکھ رہا ہے ۔'' (مسلم ، رقم۹۳) ۴۹؂

۲۔''قرآن کی اِس تعلیم کا سب سے موثر بیان وہ ہے جسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: قیامت کے دن سب سے پہلے اُن لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا جوقرآن کے عالم تھے یا جہاد میں مارے گئے یا جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا تھا۔'' ۵۰؂

۳۔''یہی تصویریں ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دیا ہے۔ ''۵۱؂

۴۔''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی مقصد سے عورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے ، مردوں کے پاس تنہا بیٹھنے، یا اُن کے ساتھ تنہا سفر کرنے سے منع فرمایا۔'' ( ابوداؤد،رقم۴۱۷۳)۵۲؂

۵۔''قرآن کا یہ منشا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر واضح فرمایا ہے :سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا : ایک دو گھونٹ اتفاقاً پی لیے جائیں تو اِس سے کوئی رشتہ حرام نہیں ہوجاتا۔ '' (مسلم ، رقم ۳۵۹۰) ۵۳؂

۶۔''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اولیا پر واضح کر دیا ہے کہ اُس کے بارے میں وہ کوئی فیصلہ اُس کی اجازت کے بغیر نہ کریں ، ورنہ عورت چاہے گی تو اُن کا یہ فیصلہ رد کر دیا جائے گا ۔ ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیوہ کا نکاح اُس سے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کی اجازت ضروری ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : اُس کی اجازت کیسے ہو ؟ آپ نے فرمایا: وہ خاموش رہے تو یہی اجازت ہے۔'' (بخاری، رقم ۶۹۶۸)۵۴؂

۷۔''عورت کو جسمانی سزا دی جائے ۔ یہ سزا، ظاہر ہے کہ اتنی ہی ہو سکتی ہے جتنی کوئی معلم اپنے زیرتربیت شاگردوں کو یا کوئی باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی حد 'غیر مبرح' کے الفاظ سے متعین فرمائی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سزا نہ دی جائے جو کوئی پاے دار اثر چھوڑے ۔'' (مسلم ، رقم ۲۹۵۰)۵۵؂

۸۔ ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی بنا پر ماں کا حق باپ کے مقابل میں تین درجے زیادہ قرار دیا ہے۔'' (بخاری، رقم ۵۹۷۱۔ مسلم، رقم ۶۵۰۰)۵۶؂

۹۔''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی جو صورتیں ،اپنے زمانے میں ممنوع قرار دیں، وہ یہ ہیں :چیزیں بیچنا ،اِس سے پہلے کہ وہ قبضے میں آئیں ۔( بخاری،رقم۲۱۳۲)اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچنا جس میں عیب ہو ،الاّیہ کہ اُسے واضح کر دیا جائے۔'' ( ابن ماجہ ،رقم ۲۲۴۶)۵۷؂

۱۰۔''چنانچہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے : ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے، دونوں پر لعنت کی ہے ۔''(بخاری، رقم ۵۳۴۷ ) ۵۸؂

[باقی]

_____

۲۳؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج ۲، ص ۳۲۸۔

۲۴؂ ایضاً،ص ۳۲۹۔

۲۵؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج ۲،ص۳۲۹۔

۲۶؂ ایضاً، ص ۳۲۵۔

۲۷؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج ۸، ص ۳۸۸۔

۲۸؂ اصلاحی، امین احسن، مبادی تدبر حدیث، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ص ۳۵۔

۲۹؂ اصلاحی، امین احسن، مولانا، اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ص۲۰۔

۳۰؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور:فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۵ء،ج ۱ ،ص ۳۵۴۔

۳۱؂ ایضاً، ص ۳۴۰۔

۳۲؂ اصلاحی، امین احسن، تدبر قرآن، لاہور: فاران فاؤنڈیشن، ۲۰۰۸ء،ج۱، ص۳۵۴۔

۳۳؂ اصول اور احکام کی کتابوں میں دین و شریعت کے بالعموم چار ماخذ بیان کیے گئے ہیں: قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔

۳۴؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص۱۳۔

۳۵؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص۱۳۔

۳۶؂ ایضاً۔

۳۷؂ ایضاً،ص۱۴۴۔

۳۸؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ایضاً،ص۱۴۵۔

۳۹؂ غامدی، جاوید احمد،برہان، لاہور: المورد،۲۰۰۸ء، ص۳۸۔

۴۰؂ ایضاً، ص۱۳۸۔

۴۱؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء،ص۴۸۴۔

۴۲؂ یہاں یہ واضح رہے کہ غامدی صاحب قرآن مجید اور حدیث و سنت میں مذکور احکام کو اُن کی اصل اور شرح و فرع کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک حصہ اُن احکام پر مشتمل ہے جو اصلاً اور ابتداءً قرآن میں مذکور ہیں اور حدیث و سنت میں اُن کی شرح و فرع اور تاکید بیان ہوئی ہے۔دوسرے حصے میں وہ احکام شامل ہیں جو اصلاً اور ابتداءً سنت میں بیان ہوئے ہیں اور قرآن میں اُن کا ذکر تاکید اً یا کسی اور ضرورت کے تحت آیا ہے۔ اس کی وضاحت اُنھوں نے ''میزان'' میں ''مبادی تدبر سنت'' کے زیر عنوان اِن الفاظ میں کی ہے: '' عملی نوعیت کی وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہو سکتیں جن کی ابتدا پیغمبر کے بجاے قرآن سے ہوئی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ نے چوروں کے ہاتھ کاٹے ہیں، زانیوں کو کوڑے مارے ہیں، اوباشوں کو سنگ سار کیا ہے ،منکرین حق کے خلاف تلوار اٹھائی ہے ، لیکن اِن میں سے کسی چیز کو بھی سنت نہیں کہا جاتا۔یہ قرآن کے احکام ہیں جو ابتداءً اُسی میں وارد ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی تعمیل کی ہے۔ نماز ،روزہ، حج، زکوٰۃ اور قربانی کا حکم بھی اگرچہ جگہ جگہ قرآن میں آیا ہے اور اُس نے اِن میں بعض اصلاحات بھی کی ہیں، لیکن یہ بات خود قرآن ہی سے واضح ہو جاتی ہے کہ اِن کی ابتدا پیغمبر کی طرف سے دین ابراہیمی کی تجدید کے بعد اُس کی تصویب سے ہوئی ہے۔ اِس لیے یہ لازماً سنن ہیں جنھیں قرآن نے موکد کر دیا ہے ۔ کسی چیز کا حکم اگر اصلاً قرآن پر مبنی ہے اور پیغمبر نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے یا اُس پر طابق النعل بالنعل عمل کیا ہے تو پیغمبر کے اِس قول و فعل کو ہم سنت نہیں ،بلکہ قرآن کی تفہیم وتبیین اور اسوۂ حسنہ سے تعبیر کریں گے۔ سنت صرف اُنھی چیزوں کو کہا جائے گا جو اصلاً پیغمبر کے قول و فعل اور تقریر و تصویب پر مبنی ہیں اور اُنھیں قرآن کے کسی حکم پر عمل یا اُس کی تفہیم و تبیین قرار نہیں دیا جا سکتا ۔''(میزان، ص۵۸)

۴۳؂ غامدی، جاوید احمد،مقامات، لاہور: المورد،۲۰۱۴ء، ص۱۶۳۔

۴۴؂ واضح رہے کہ ان میں سے بعض سنن، مثلاً نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج و عمرہ وغیرہ کو بیش تر علماے امت آیات قرآنی کی تبیین پر محمول کرتے ہیں ۔ یعنی یہ احکام اصلاً قرآن میں وارد ہوئے ہیں اور سنت نے ان کی تشریح و تفصیل کی ہے۔ غامدی صاحب کا موقف اس کے برعکس ہے۔ اُن کے نزدیک ان کی حیثیت مستقل بالذات سنن کی ہے جن کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی۔ قرآن میں ان کا ذکر اصل حکم کے طور پر نہیں، بلکہ تاکید کے لیے یا کسی اور ضرورت کے تحت آیاہے۔بالبداہت واضح ہے کہ علما اور غامدی صاحب کے اس اختلاف کا تعلق بات کی پیشکش اور استدلا ل کی ترتیب سے ہے، نتیجے سے ہر گز نہیں ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب انھیں دیگر علماے امت ہی کی طرح واجب العمل سنن کی حیثیت سے دین کا لازمی حصہ مانتے ہیں ۔اس ضمن میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ سنت کا مرتبہ اُن کے نزدیک اُس مرتبے سے بھی زیادہ ہے جو دیگر علماے امت اُسے دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر علماے امت مذکورہ سنن کو قرآن کے تابع اور اُس کی شرح و فرع کے مقام پر رکھتے ہیں،جبکہ غامدی صاحب انھیں اُس کے مساوی سمجھتے ہیں اور اُس سے منفرد حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔

۴۵؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۱۴۔

۴۶؂ غامدی، جاوید احمد،برہان، لاہور: المورد،۲۰۰۸ء، ص۴۰۔

۴۷؂ غامدی، جاوید احمد،مقامات، لاہور: المورد،۲۰۱۴ء، ص۱۶۳۔

۴۸؂ غامدی، جاوید احمد،مقامات، لاہور: المورد،۲۰۱۴ء، ص۱۵۱۔

۴۹؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۷۸۔

۵۰؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۲۰۱۔

۵۱؂ ایضاً، ص ۲۰۸۔

۵۲؂ ایضاً، ص۲۲۷۔

۵۳؂ ایضاً، ص ۴۱۳۔

۵۴؂ ایضاً، ص ۴۱۸۔

۵۵؂ ایضاً، ص ۴۲۱۔

۵۶؂ ایضاً، ص ۴۲۱۔

۵۷؂ غامدی، جاوید احمد،میزان، لاہور: المورد،۲۰۱۵ء، ص ۵۰۲۔

۵۸؂ ایضاً، ص ۵۰۷۔

____________