ہمارے غوری صاحب


عبدالستار غوری کم و بیش بیس سال سے ''المورد'' کے فیلو کی حیثیت سے ہمارے ادارے کے ساتھ وابستہ تھے۔ چند سال کے لیے وہ ماڈل ٹاؤن میں میرے ہم سایے میں بھی مقیم رہے۔ اُن کے ساتھ کئی بار علمی مباحث پر تبادلۂ خیالات کا موقع بھی ملا۔ میں جب صدر ادارہ کی حیثیت سے ''المورد'' کے معاملات براہ راست دیکھ رہا تھا تو وہ اپنے کام سے متعلق امور کے لیے بھی رجوع کرتے تھے۔ وہ ہمارے امام بھی تھے۔ چنانچہ ادارے میں موجود ہوں تو نماز کی امامت بالعموم وہی کراتے تھے۔ اُن کا ایک خاص طریقہ یہ تھا کہ وقتاً فوقتاً ادارے میں کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتے اور ادارے کے تمام کارکنوں کو اُس میں شرکت کی دعوت دیتے تھے۔ لہٰذا بارہا اُن کے دستر خوان پر کھانا بھی کھایا ہے۔ اِس لحاظ سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اُنھیں قریب سے دیکھا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دین و اخلاق جس پاکیزگی نفس کا تقاضا کرتے ہیں، وہ اُس کا ایک اچھا نمونہ تھے۔ اِس سارے عرصے میں کوئی ایک موقع بھی نہیں ہے، جب اُن کے کسی رویے یا طرزعمل سے مجھے یا ادارے کی انتظامیہ کو کوئی شکایت ہوئی ہو۔ خدا کی سچی معرفت، آخرت کی سچی طلب اور خدا کے بندوں کی سچی خیرخواہی اُن کے امتیازی اوصاف تھے جو اُن کے ہر کام، ہر فیصلے اور ہر رویے سے نمایاں تھے۔ اُنھوں نے اپنی زندگی قدیم الہامی صحائف میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی تلاش کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اِس کام میں اُن کی لگن اُن کا انہماک، اُن کی محنت اور اُن کا ذوق تحقیق اُ ن تحریروں سے ظاہر ہے جو شائع ہو کر اہل علم سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ ۲۲ ؍ اپریل ۲۰۱۴ء کی صبح وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ خدا کے ہاں اُن کا کیا مقام و مرتبہ ہے، اِس کا فیصلہ تو ہم عاجز بندے نہیں کر سکتے، لیکن برسوں کے تعلق کی بنا پر اتنی بات، البتہ کہہ سکتے ہیں کہ اُن کے نہاں خانۂ وجود میں خدا اور اُس کے رسول کی محبت کا کوئی ایسا سرچشمۂ نور ضرور تھا جس کی روشنی اُن کے ظاہر میں بھی دیکھی جا سکتی تھی:

لطیفہ ایست نہانی کہ عشق ازو خیزد

کہ نام آن نہ لب لعل و خط زنگاریست

____________