حروف مقطعات اور نظریۂ فراہی کے اطلاقات (۱)


عدنان اعجاز

قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں کچھ ایسے حروف وارد ہوئے ہیں جوحروف تہجی کی طرح علیحدہ علیحدہ پڑھے جاتے ہیں؛ جیسے 'الم' (الف لام میم)، 'حٰم' (حا میم) وغیرہ۔ انھیں اصطلاح میں حروف مقطعات (جدا جدا حروف) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ معروف ہے کہ ان حروف کا قطعی مطلب و مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے صراحتاً اس امت کو منتقل نہیں ہوا۔ اِن کے معنی و مفہوم کے بارے میں اگر قدیم مفسرین کی آر ا کا استقصا کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی مضبوط علمی بنیاد پر مبنی نہیں ہیں ۔ البتہ، جدید مفسرین میں مولانا حمید الدین فراہی کا نقطۂ نظر قابل غور علمی استدلال پر مبنی ہے۔ اگر اسے اختیار کیا جائے تو اِن حروف کے مفہوم تک رسائی کا مستند اور مضبوط علمی راستہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ مولانا فراہی کا موقف یہ ہے کہ عربی اورعبرانی زبانوں کے حروف ایک مشترک اساس رکھتے ہیں۔ یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ یہ حروف انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرح صرف آواز ہی نہیں بتاتے تھے، بلکہ چینی زبان کے حروف کی طرح معانی اور اشیا پر بھی دلیل ہوتے تھے اورجن معانی یا اشیا پر دلیل ہوتے تھے، عموماً انھی کی صورت و ہیئت پر لکھے جاتے تھے۔ ۱؂ مولانا فراہی کی اس راے کو اُن کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ''تدبر قرآن'' میں اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:

''جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لیے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امامؒ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرح صرف آوازہی نہیں بتاتے تھے، بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرح معانی اور اشیا پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیا پر وہ دلیل ہوتے تھے، عموماً انھی کی صورت و ہیئت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا ؒ کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کیے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔

ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے، تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً ''الف '' کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا تھا ۔ ''ب'' کو عبرانی میں بیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی ''بیت'' (گھر) کے ہیں۔ ''ج'' کا عبرانی تلفظ جیمل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ ''ط'' سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ ''م'' پانی کی لہر پر دلیل ہوتا تھا اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔

مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورۂ ''ن'' کو پیش کرتے ہیں۔ حرف ''نون'' اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے، اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر 'صاحب الحوت' (مچھلی والے) کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کرکے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام ''نون'' (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں 'صاحب الحوت' (یونس علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں، وہ بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔

قرآن مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً حرف ''ط'' کے معنی، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہیئت بھی سانپ کی ہیئت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورۂ طٰہٰ کو دیکھیے جو ''ط'' سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح 'طسم'، 'طس' وغیرہ بھی ''ط'' سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔

... میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لیے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی تک ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معنی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہو جائے، اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہو گا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدر دانوں کے لیے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں، وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔''(۱/ ۸۳۔۸۵)

زیر نظر تحقیق اِسی زاویۂ نظر سے تحقیق و جستجو کی ایک کاوش ہے جس کے لیے جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو تشویق و تحریک کا باعث بنی ہے۔

عربی و عبرانی حروف ۲؂

عبرانی حروف جن مادی اشکال کی تمثیل سے بنے ہیں، وہ اشکال بالاجمال معلوم اور عبرانی لغات میں مذکورہیں۔ ان حروف کی تاریخ ایک اندازے کے مطابق تقریباً چار ہزار (۴۰۰۰) سال پرانی ہے ۔ حروف کی منشا شکلوں سے پتا چلتا ہے کہ یہ اس دور کے انسان کے ماحول میں موجود اشیا تھیں۔ آثار قدیمہ سے ملنے والے کتبات سے اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ آغاز میں حروف لکھے بھی انھی شکلوں کی ساخت کی طرح جاتے تھے۔ مگر تاریخ کے مختلف ادوار میں رسم الخط کے تغیر سے عبرانی حروف کی ساخت بدلتی رہی؛ جیسے مثال کے طور پر رسم عبری (Hebrew Script) اور رسم آشوری (Assyrian Script) وغیرہ۔ چنانچہ آج کے رسم الخط میں ان اشکال سے اگر کچھ بُعد محسوس ہو تو اُس کی یہی وجہ ہے۔

ذرا سی تحقیق سے یہ بات بھی آشکار ہو جاتی ہے کہ عربی حروف اب بھی عبرانی حروف کی قدیم ساخت سے بہت مماثلت رکھتے ہیں، بلکہ عبرانی ماہرین لغات عبرانی حروف و الفاظ کی اکثر پیچیدگیوں کو عربی سے تقابل کے ذریعے سے ہی حل کرتے ہیں ۔ ۳؂ بایں ہمہ، ان کی آوازیں تو بالکل ایک ہی ہیں اور ہمیشہ ایک ہی رہی ہیں۔ رہے اِن حروف کے پورے نام (جیسے ''ا'' کا ''الف'') تو وہ بھی تقریباً ایک ہی ہیں۔ بلکہ اگر کچھ ایسی مناسب حال تبدیلیاں کر لی جائیں جو عبرانی اور عربی زبان دانوں نے تجویز کی ہیں تو ''تقریباً'' کا لفظ اس باب میں بھی حذف ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پہ، ''ا'' عربی کی طرح عبرانی میں بھی ''الف''ہی ہے اور آواز بھی ایک ہی ہے۔ ''ب''، عربی میں ''با'' اور عبرانی میں ''بیت'' (bet) ہے، مگر آواز ایک ہی ہے۔''ص''، عربی اور عبرانی میں ''صاد'' ہی ہے اور ایک ہی آواز دیتا ہے وغیرہ۔

چنانچہ یہ بلا تامل ماننا پڑتا ہے کہ عربی حروف تہجی لازماً عبرانی حروف تہجی ہی ہیں یا کسی ایک ہی مشترک مصدر سے پھوٹی ہیں، اور جو شکلیں یا 'pictograms' عبرانی حروف کی منشا ہیں، وہی لا ریب عربی کی بھی منشا ہیں۔

اب آئیں ذرا یہ جانتے ہیں کہ حروف اور ان کی نشاء تی شکلوں کا آپس میں کیا تعلق ہے ، یہ شکلیں کتنے معانی پر دلالت کرتی ہیں اور مختلف شکلیں مل کر کیسے ایک خیال کے لیے بنیاد بنتی اور کیسے ان کا مجموعہ ایک پورے مربوط مفہوم کو اداکرتا ہے۔ یہ جاننااس لیے ضروری ہے تا کہ حروف مقطعات میں ان کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔

حروف، شکلوں اور معانی کا باہمی تعلق

جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے کہ ہر حرف کسی مادی چیز کی علامت ہے جو اس چیز کی شکل کی نمایندگی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر عبرانی و عربی حروف تہجی کا پہلا حرف ''ا''۔ اس کی نمایندہ شکل۴؂ ہے جو کہ ایک بیل کے سر کا خاکہ ہے۔ بیل کو ہی عبرانی میں ''الف'' کہتے ہیں۔ اسی لیے ''ا'' کو بھی الف ہی پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ''ب''ہے۔ اس کی نشاء تی شکل ہے جو ایک گھر کی تصویر ہے۔ گھر کو عبرانی و عربی میں ''بیت'' کہتے ہیں، اسی لیے عبرانی میں ''ب' 'کو بیت پڑھتے بھی ہیں ۔

اب یہ سمجھ لیجیے کہ یہ حروف جن قدیم عرب اشیا کی ساخت پر بنے ہیں، قدیم زبان میں یہ اشیا اپنے مادی مصداق کے ہمراہ اس شے کی خصوصیات کے لیے معنوی اعتبار سے بھی استعمال ہونے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ یہ ایک بہت ضروری نکتہ ہے ۔۵؂ مثلاً بیل چونکہ طاقت اور قوت کا حامل ہوتا ہے، اور قدیم عرب، بلکہ موجودہ دور کے دیہاتی علاقوں میں آج بھی بیل طاقت و ہیبت کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے الف کا مصداق معنوی اعتبار سے طاقت اور طاقت ور،یعنی اسم اور فعل، دونوں کے اظہار کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔ اسی طرح ''ب'' یعنی گھر رہنے کی جگہ کے ساتھ ساتھ خاندان کے معنی بھی دے سکتا تھا اور کسی چیز کے اندر ہونے کے بھی۔ اسی طرح مختلف حروف مل کر ایک حتمی خیال کی نشان دہی بھی کر سکتے تھے۔

یہ حروف کے امتزاج سے حاصل ''خیال'' اصل میں شکلوں اور ان کے مراد معانی کے امتزاج ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کو اہرام مصر کی تمثالی زبان (Egyptian Hieroglyphs) سے بڑے اچھے طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قدیم مصری اقوام نے انفرادی شکلوں ہی کے امتزاج سے الفاظ اور جملے بنائے اور پھر ہر شکل کو اس کی صوتی، صورتی یا معنوی (phonograms, logograms or semagrams) حیثیت میں استعمال کیا۔ شکلوں کو صوتی اعتبار سے پڑھنا ہو یا معنوی اعتبار سے، اس کے لیے انھوں نے تعینات۶؂ (determinatives) کا استعمال ایجاد کیا۔ جن لوگوں کو اس مصری تمثالی زبان میں کچھ دل چسپی ہو، وہ اس کا مطالعہ کریں۔ اس سے ان کو حروف اور ان کی شکلوں سے استدلال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

تاہم، قدیم عبرانی حروف تہجی کی ایجاد کے نتیجے میں ان منشا اشیا اور ان کے معنوی اطلاقات اپنا اثر کھو بیٹھے اور اشکال کے نمایندہ حروف فقط صوتی تاثیر کے حامل ہوئے۔ یعنی الف کو بس ''اَ'' کی آواز کے لیے، بیت کو ''ب'' کی آواز وغیرہ ہی کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ باوجود اس کے، حروف کی تحریری ساخت اور پورا نام اپنے ماخذ اشیا کی نمایندگی ہمیشہ کرتے رہے۔ اگرچہ رسم الخط کے تغیر کے زیر اثر تحریری ساخت کچھ بدلتی رہی، مگر حروف کا پورا نام ہمیشہ ایک ہی رہا۔

حروف مقطعات پر قدیم حروف سے استنباط

قرآن مجید کی جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے، یہ ثابت ہے کہ اولین قاری ـــــ یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ـــــ سے آج تک یہ حروف وہاں علیحدہ علیحدہ اور اپنے پورے نام سے ہی پڑھے جاتے ہیں۔ اسی طرح اولین قرآنی نسخوں سے آج تک یہ لکھے بھی اسی طرح جاتے ہیں۔ پھر عموماً یہ جہاں کہیں بھی وارد ہوئے ہیں، پوری آیت ہی شمار کیے گئے ہیں۔ پھر یہ بھی لازمی ہے کہ یہ آیت کوئی نہ کوئی معنی تو رکھتی ہو گی۔وقوع کی یہ ندرتیں لامحالہ اس بات کی ضامن ہیں کہ ان حروف کا ہر ہر حرف اپنے وجود سے مستنبط معنی ہیکو بنیاد بناتا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ فراہی صاحب نے ان حروف کے اپنے مصداق ومعانی کی طرف توجہ دلائی۔

چنانچہ میری اس تحقیق کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حروف کو اپنے قدیم انفرادی مطالب میں ہی استعمال کیا ہے۔ اوراس استعمال سے صرف حروف کے مادی مصداق ہی کو مراد نہیں لیا، بلکہ قدیم زبانوں کی طرح ان مصداقوں کے واضح خصائص کو بطور مجازی معانی بھی مراد لیا ہے۔

چنانچہ ان حروف کے مصداق کی تخریج اور ان کے معانی کی کھوج کے لیے میں نے معروف عبرانی وکلدانی اشتقاقی لغات کو اپنی تحقیق کی بنیاد بنایا ہے۔ پھر ان پر مزید تدبر کے لیے مستند انسائیکلوپیڈیا کو بھی زیر مطالعہرکھا ہے۔ ان مصادر کی ایک مختصر فہرست ذیل میں پیش ہے۔

عبرانی حروف کی تحقیق کے لیے چنے گئے مصادر

عبرانی حروف، ان کی تاریخ، رسم الخط، ان کی اساسی شکلیں، ان کے معانی اور عربی حروف سے ان کے تعلق کی تحقیق کے لیے مندرجہ ذیل ماخذوں کی مراجعت کی گئی ہے:

۱۔ مستند عبرانی لغات۔ جیسے:

ا ۔عہد نامۂ قدیم کی عبرانی و کلدانی لغت بمع مختصر تاریخ عبرانی فرہنگ نویسی، تیسرا ایڈیشن، ۱۸۶۷ء۔ مصنف: جُولیَس فوء رسٹ (Julius Frst)۔

ب۔عبرانی زبان کی جامع اشتقاقی لغت، ۱۹۸۷ء۔ مصنف: ارنسٹ کلائین (Ernest Klein)۔

ج۔ ولہیلم جسینیَس(Wilhelm Gesenius) کی صحائف عہد نامۂ قدیم کی عبرانی و کلدانی فرہنگ، ۱۸۵۷ء۔ مؤلف و مترجم: سیموئل پریداو تریجیلس (Samuel Prideaux Tregelles)۔

د۔ عہد نامۂ قدیم کی عبرانی و کلدانی لغت تلامذہ کے لیے، ۱۹۱۴ء۔ تالیف: الیگسینڈرہرکاوی Alexander) (Harkavy۔

۲۔ یہودی انسائیکلوپیڈیا۷؂ (Jewish Encyclopedia)، ۱۹۰۶ء۔

۳۔ انسائیکلوپیڈیا یہودیا (Encyclopedia Judaica)، ۲۲جلدیں، ۲۰۰۷ء۔

۴۔ ویکیپیڈیا (Wikipedia.org)۔

۵۔ متفرق ویب سائٹیں، جن کو گوگل کے ذریعے تلاش کیا گیا۔ اگرچہ اس نوعیت کے غیر مستند ذرائع کو کہیں بھی بناے استدلال نہیں بنایا گیا، تاہم ان سے ایک عمومی فہم حاصل کرنے میں مدد لی گئی۔

عبرانی حروف کی چند الجھنیں

اس سے پہلے کہ ہم اس نظریے کا اطلاق فرداًفرداً قرآن کے ہر مقام پر کریں، ان شکلوں کے علم کی چند الجھنوں کا جاننا ضروری ہے:

۱۔ اکثر عبرانی حروف کی منشاء ومبداء اشکال اور ان کے مصداق من جملہ معلوم ہیں۔ عموماً یہ شکلیں بڑی واضح ہیں اور جن اشیا کے وہ خاکے ہیں، ان خاکوں سے اصل اشیا کا ادراک بڑی آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔ حرف کا پورا نام بھی اس کی تصدیق کر دیتا ہے۔ مگر کچھ حروف اور ان کی محولہ شکلوں میں یہ ہوا ہے کہ اس کا ماخذ موضوع بحث اور محل اختلاف ہے۔

۲۔ ایک تو ہیں حروف کی ماخذ شکلوں کے مادی مصداق۔ ایک ہیں وہ غیر مرئی (abstract) خیالات و معانی جن کی وہ شکلیں عکاسی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ''بیل'' سے ''طاقت'' مراد لینا۔ یہ دوسری قسم کے انکشافات مستند مصادر میں شاذ ملتے ہیں۔ چنانچہ ان کے اخذ و فہم کے لیے میں نے غیر مستند ذرائع کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ مگر یہ کوئی خاص باعث نزاع نہیں ہوتا، کیونکہ جو شے یہ طے کرتی ہے کہ اس سے کون سے معنی مراد ہو سکتے ہیں، اصلاً اس پہ منحصر ہوتا ہے کہ جس شے کی وہ تصویر ہے، یہ براہ راست کس معنی کی عکاس ہے اور کیا اس سے یہ مفہوم بلا تامل و تردد مراد لیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ تاہم واقعہ ہے کہ حروف مقطعات میں یہ نزاع کم ہی کہیں دامن گیر ہوئی ہے۔

۳۔یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ وہ عبرانی حروف جو کسی قدر قریب المخارج اور کسی قدر ہم آواز ہیں اور منہ یا حلق میں قریبی مقامات سے ادا کیے جاتے ہیں، ان کے متعلق عبرانی اور عربی کے مابین تعین میں کچھ اشکال لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم عبرانی میں عربی کی طرح ''ع اور ا ''، ''ح اور ھ''، ''ب اور و''، ''ث اور س''اور ''ط اور ت'' وغیرہ اگرچہ علیحدہ حروف ہی تھے، اور ہیں، مگر ان کے تلفط میں فرق کرنا قدیم ناطقین کے لیے ہی غالباً کچھ گراں ہو گیا تھا۔ نتیجۃً بولنے میں اب ان کے درمیان کوئی خاص فرق باقی نہیں رہا۔ تاریخ سے معلوم پڑتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہ آپس میں اسی سبب سے کچھ گڈ مڈ ہوئے ہیں اور فرہنگ نویسوں کو بھی ان میں کچھ اشتباہ لاحق ہوا ہے۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ عربی میں یہ اب بھی بالکل اپنی صحیح آواز پر باقی ہیں۔ چنانچہ عبرانی میں وہ حرف جس کے بارے میں اشکال ہو جائے، اس کے استعمالات دیکھ کر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ عربی میں کون سا حرف ہے اور اسی طرح بہ صورت معکوس بھی۔ خود ماہرین فن بھی اس مقصد کے لیے لغات میں جا بجا عربی زبان کے تقابل ہی سے استفادہ کرتے ہیں ۔۸؂

۴۔اسی طرح وہ حروف کے جوڑے جن میں ایک نقطوں والا اور ایک نقطوں کے بغیر ہوتا ہے، وہ جوڑے بھی بعض اوقات کچھ الجھن کا شکار کر سکتے ہیں۔ جیسے ''س ش''یا ''ح خ''یا ''ع غ''یا ''ص ض''یا ''ط ظ''۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے جوڑے جس زبان میں بھی ہیں، ان کی آواز میں فرق تو اگرچہ ہمیشہ سے روا رکھا گیا، مگر تحریر میں ان کے مابین فرق بہت بعد میں اختیار کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ حاملین زبان کے لیے ان کے استعمالات میں فرق کرنا اس قدر سہل اور واضح تھا کہ نقطوں کے بغیر بھی انھیں کبھی کوئی اشکال نہیں ہوتا تھا۔ خود ہماری زبان اُردو کی تاریخ بھی ایسی ہی ہے۔ چنانچہ ہوا یہ کہ بعد میں آنے والی نسلوں کی مہارت جب زبان میں کم ہوئی یا فتوحات و ہجرت کے باعث ایک زبان جب دوسری جگہ پہنچی تو لوگوں نے پہلے سے موجود تحریروں کے حروف کے تعین میں کوتاہیاں کیں جس کے نتیجے میں نقطے یا ''داغش''ایجاد ہوئے۔اس کو بھی مثال سے سمجھیں۔ عبرانی حروف تہجی میں مثلاً ش اور س دونوں کے لیے ایک ہی حرف ہے جسے ''شِن یا شین''کہتے ہیں، مگر سب ماہرین مانتے ہیں کہ اسی کو ''س'' اور ''ش''دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور اس کی علامت کے لیے محققین اب ش اور س کی آواز مراد لینے کے لیے ایک نقطہ پہلے یا آخری شوشے پر لگا دیتے ہیں ۔ تاہم، اس الجھن سے بھی اس موجودہ تحقیق پر کوئی اثر اس لیے نہیں پڑا، کیونکہ حروف مقطعات میں ایسے جڑواں حروف جن کا ایک ساتھی بغیر نقطوں کے اور ایک بمع نقطوں کے ہے، ان میں سے بغیر نقطوں والے ہی کو استعمال کیا گیا ہے تا کہ کوئی اشکال واقع ہی نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے نظریۂ فراہی کو ایک اعتبار سے مزید تقویت بھی آپ سے آپ مل جاتی ہے۔

تحقیق کے رہنما اصول

ان مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے جن اصولوں کی بنیاد پر عبرانی حروف کی اساسی شکلوں سے حروف مقطعات کا استنباط کیا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ حروف مقطعات کے کسی حرف کے معنی جاننے کے لیے سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا گیا ہے کہ یہ عبرانی میں کون سا حرف ہے۔ اکثر حروف میں یہ چونکہ آواز اور نام کے اعتبار سے بالکل ایک ہیں، اس لیے اس میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ چند حروف جیسے ''س''، ''ط''، ''ح''وغیرہ جہاں ان کے عبرانی مثنیٰ کی تعیین میں یہ اشتباہ ممکن تھا کہ مثال کے طور پر عبرانی میں بالترتیب سامخ ہے یا شین (Samekh or Shin)، تیت ہے یا تاو (Tet or Tav)، خیت ہے یا ہیہ (Chet or Hey)، ان کے استعمالات دیکھ کر اور معروف عبرانی لغات کی مراجعت کر کے ان کی تعیین یقین سے کر لی گئی ہے۔

۲۔ کوئی عبرانی حرف کس شے کی علامت ہے، اس کے لیے حرف کا پورا عبرانی نام (جیسے ''ا''کا ''الف'') اور حرف کی بنیاد بننے والی چیز (جیسے ''ا''کا ''بیل'')، دونوں کو شامل عوامل رکھا گیا ہے۔ بعض فرہنگ نویس جب ایک ہی حرف کے مصداق میں اختلاف کر بیٹھتے ہیں تو گیند لا محالہ محقق ہی کے کورٹ میں آ جاتی ہے ۔ ۹؂ چنانچہ میں نے اپنی راے کسی ایک کے حق میں اور ایک کے خلاف دینے کے لیے یہ اصول اختیار کیا ہے کہ حرف کی وہ منشا شے زیادہ قابل اعتبار سمجھی جائے کہ حرف کا پورا نام بھی جس کی تائید کر دے۔

۳۔مصداق کے چناؤ کے بعد اس کے مجازی معنی/معانی کا معاملہ آتا ہے۔ یہ پہلو چونکہ ابھی تک کوئی قطعی سائنس نہیں بنا اور موضوع تحقیق ہے، اس لیے بہر حال اس معاملے میں قیاس اور گمان کا سہارا لینا پڑا ہے۔ مگر اسے قیاس کے مقابل میں اگر وراثی ادراج (extrapolation) کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ تاہم، میں نے معانی کے اخذ کے لیے خود کو مصداق شے کی واضح ترین خصوصیات تک محدود رکھا ہے ۔۱۰؂

۴۔ حروف کے انفرادی مفاہیم اخذ کرنے کے بعد اگر کسی مقام پر یہ مرکب کی صورت میں وارد ہوئے ہوں تو ان مفاہیم کا ایک دوسرے سے ربط تلاش کیا گیا ہے۔ یعنی یہ دیکھا گیا ہے کہ دو یا تین یا زیادہ حروف مل کر کسی ایک حقیقت کی طرف اشارہ تو نہیں کر رہے۔ اگر کر رہے ہوں تو اُس کو بھی بیان کر دیا گیا ہے۔

۵۔ اس سب کے بعد ان مفاہیم کی مناسبت ان سورتوں میں بھی تلاش کی گئی ہے جن میں یہ وارد ہوئے ہیں۔ اگر حروف کے مرکب ایک سے زیادہ سورتوں میں جوں کے توں آئے ہیں تو ان کے بارے میں ایک مجموعی راے بھی قائم کر لی گئی ہے۔

ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب آئیے ترتیب مصحف کے اعتبار سے حروف مقطعات کے مصداق و معانی معلوم کرتے ہیں۔

حروف مقطعات کے مصداق و معانی

ا ل م

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ا الف بیل طاقت، طاقت ور، قوی

ل لامد چرواہے کی لاٹھی چرواہا، سکھانا، ہدایت دینا

م میم پانی کی لہریں پانی

مطلب: طاقت ور، چرواہا، پانی۔ یعنی اللہ کا نازل کردہ پانی۔ یعنی قرآن۔

بیان

الف: الف عبرانی میں بیل (Ox)کو کہتے ہیں۔ قدیم عبرانی حرف لکھا بھی بیل کے سر کی طرح جاتا تھا۔ بیل چونکہ عظیم طاقت و ہیبت کی علامت ہوتا ہے، اس لیے اس سے طاقت مراد لینا بالکل واضح ہے ۔ ۱۱؂ یہاں یہ طاقت ور کے مفہوم میں آیا ہے۔

لام: ''ل'' کا پورا نام عبرانی میں ''لامد'' ہے، جس کے معنی چرواہے کی لاٹھی (Shephard's Staff/Ox goad) کے ہیں۔ لغات کے استقصا سے پتا چلتا ہے کہ یہ عربی کے ''ل'' کی طرح ہمیشہ اپنی ساخت سے چرواہے کی لاٹھی کی ہی طرح لکھا بھی جاتا رہا ہے۔ چنانچہ اس سے یہاں مراد چرواہا ہے۔ زمانۂ قدیم کی دیہاتی زندگی سے واقف لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ چرواہے کی ذات مراد لینے کے لیے یہ کس قدر مناسب اور بین اشارہ ہے۔

الف لام: حروف مقطعات میں الف اور لام جہاں کہیں بھی آئے ہیں، اکٹھے ہی آئے ہیں۔ یہ اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔ مگر میری راے میں یہ اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک الف لام کا ہر جگہ اکٹھا استعمال اس لیے کیا گیا ہے، کیونکہ یہ مل کر ایک ہی شخصیت کی طرف اشارے کے لیے آئے ہیں۔ طاقت ور چرواہے سے دراصل مراد اللہ ہے۔ بائیبل سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اس میں چرواہے کی تعبیر جا بجا اللہ کے لیے استعمال ہوئی ہے۔۱۲؂ بلکہ ''ال'' بائیبل میں اور یہودیوں کے ہاں آج تک اللہ کی طرف اشارے کے لیے مختلف ناموں میں مضاف الیہ کی حیثیت سے لاحقے (suffix) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جیسے اسرائیل، جبرائیل، سموئل وغیرہ۔ عبرانی میں یہ نام دراصل اسرَاِل، جبرَاِل، سمواِل ہیں، یعنی ان کا اختتام ''ئیل'' پر نہیں ''اِل'' پر ہوتا ہے۔ چنانچہ ''ال'' حروف مقطعات میں جہاں کہیں بھی آئے ہیں، طاقت ور چرواہا، یعنی اللہ مراد لینے کے لیے ہی آئے ہیں۔

میم: ''م'' کا پورا نام عبرانی میں بھی میم ہی ہے اور اس کا مطلب پانی ہے اور یہی اس کا مادی مصداق بھی ہے۔ حروف مقطعات میں سے سب سے زیادہ مرکب اسی حرف پر اختتام پذیر ہوئے ہیں۔ لغات میں درج اس کی مختلف رسم الخط میں ساخت ہمیشہ پانی کی لہر جیسی ہی رہی ہے۔ بلکہ اگر غور کریں تو آج بھی عربی میں ''م'' کسی قدر لہر کے مشابہ ہے۔ چنانچہ اس سے مراد پانی کی ایک لہر بھی ہو سکتا ہے اور تھوڑا یا زیادہ پانی بھی۔ چنانچہ یہ یہاں پانی ہی کے لیے آیا ہے، پاک کرنے والی چیز کے لیے استعارے کے طور پر۔ پاکیزہ کرنے والی چیز کے طور سے ابراہیمی ادیان میں پانی کی حیثیت مسلم ہے۔

الف لام میم: ان سب حروف کا ملا کر تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان سے مراد اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام ہے جو لوگوں کی ہدایت و پاکیزگی کے لیے اتارا جا رہا ہے۔ چنانچہ یہ قرآن کا صفاتی نام ہوا۔ اس پر قرائن کی شہادت بھی دال ہے۔ جن سورتوں کے شروع میں یہ وارد ہوئے ہیں، ان میں سے متعدد میں متصلاً بعد ''یہ کتاب'' ۱۳؂ کہہ کر اور ساتھ ہی ''ہدایت'' ۱۴؂ کا باعث بتا کر اس کی طرف جلی اشارہ بھی کر دیا گیا ہے۔کہیں ''م'' سے پوری کتاب مراد لے لی گئی ہے،۱۵؂ اور کہیں ''م''سے آیات مراد لے لی گئی ہے۔۱۶؂ یعنی کہیں کل کی طرف براہ راست اشارہ ہے اور کہیں اجزا کی طرف اشارے سے بالواسطہ کل کی طرف۔ پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ حروف جن دو حقائق سے مرکب ہیں، یعنی اللہ اور ہدایت، اگر ایک سورہ کے شروع ہوتے ہی اس کے ہدایت ہونے کے پہلو پہ زور ہے (مثلاً سورۂ بقرہ)، تو دوسری میں اس کے من جانب اللہ ہونے پہ (مثلاً سورۂ السجدہ)۔ الغرض اس طرح کے قرائن بھی اس تاویل میں صریح معاون ہیں۔

سورتوں سے مناسبت: یہ حروف ان سورتوں کے شروع میں آئے ہیں جن میں اللہ نے ماننے والوں کی پاکیزگی کے لیے ہدایات دی ہیں۔ جو بالترتیب یہ ہیں: البقرہ، آل عمران، العنکبوت، الروم، لقمان اور السجدہ۔ ان میں پہلی دو اصل میں ترتیب نزولی کے اعتبار سے آخر ی ہیں۔ چنانچہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ وہ سورتیں ہیں جو باقی مضامین کے ہمراہ ماننے والوں ،یعنی مسلمان یہود اور نصاریٰ ، کے تذکرے سے شروع ہوتی ہیں اور پھر ان کی تعریف کے لیے نشانیاں بتاتی ہیں یا ان کی اصلاح و تعلیم کے لیے ہدایات دیتی یا انھیں ایمان لانے کے لیے اکساتی ہیں۔ ان میں پہلی دو مدنی اور باقی مکی ہیں۔ مگر سب باعتبار مضمون ہم آہنگ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو بات آغاز میں اجمال سے کی جاتی تھی بعد میں تفصیل سے کر دی گئی ہے۔ ممکن ہے کسی کو مکی حصے میں یہ اشتباہ ہو کہ یہ مدنی حصے جیسا نہیں ہے تو یہ نزول قرآن کے مراحل سے نا واقفیت کی وجہ سے ہو گا، کیونکہ جو ان سے آگاہ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ مکی قرآن اصل میں کفار قریش سے بحث کرتا ہے۔ اسی دوران میں نازل ہونے والی جو سورتیں ماننے والوں کو علیحدہ شناخت دیتی اور ان کی تطہیر کرتی ہیں، وہ اسی 'الم' کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ چنانچہ یہ ایک ہی جنس کی سورتیں ہیں جو ہجرت کے باعث مضمون میں اچانک ارتقا کر گئی ہیں۔

[باقی]

________

۱؂ تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی، ۱/ ۸۳۔

۲؂ عبرانی حروف کی تاریخ و تعارف کے لیے میں نے ان مقامات کو مددگار پایا ہے:

۱۔ انسائیکلوپیڈیا یہودیاہ: عبرانی حروف تہجی، جلد ۱ صفحات ۶۸۹۔۷۲۸، جلد۸ صفحہ ۵۵۴ وغیرہ

۲۔ یہودی انسائیکلوپیڈیا: http://www.jewishencyclopedia.com/articles/1308-alphabet-the-hebrew۔

۳۔ ویکیپیڈیا: https://en.wikipedia.org/wiki/Hebrew_alphabet۔

۴۔ How the Alphabet Was Born from Hieroglyphs

http://members.bib-arch.org/publication.asp?PubID=BSBA&Volume=36&Issue=02&ArticleID=06

۵۔ مستند لغات کے دیباچے۔

۳؂ اس کی تصدیق کے لیے کسی مستند عبرانی لغت کی مراجعت کی جا سکتی ہے۔

۴؂ مستند مصادر میں یہ شکلیں اکثر صرف بیان کر دی جاتی ہیں، ان کی نمایندہ تصاویر چند حروف کے علاوہ صراحتاً موجود نہیں ہوتیں۔ مگر انھی مستند مصادر میں موجود حروف کی ارتقائی شکلوں کے موازنے سے اور بیان کردہ عبارت سے شکل تک پہنچنا بہت سہل ہو جاتا ہے۔ پھر جو کتبات آثار قدیمہ کی تلاش سے دست یاب ہوئے ہیں، وہ بھی اِن شکلوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

۵؂ یہ حقیقت ہے کہ حروف کی شکلیں اور منشا اشیا تو مستند مصادر میں مذکور ہیں۔ مگر یہ شکلیں / اشیا کن معانی پر دلالت کرتی ہیں، اگرچہ ان کے بیان سے غیر مستند مصادر بھرے پڑے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ مستند مصادر ـــــ اکا دکا حروف کے علاوہ ـــــ ان کو موضوع نہیں بناتے۔ تاہم، جیسا کہ آپ آگے دیکھیں گے ان معانی کا استنباط فہم عامہ کے استعمال سے براہ راست حروف کی مصداق اشیا سے ہو جاتا ہے۔

۶؂ https://en.wikipedia.org/wiki/Egyptian_hieroglyphs#Determinatives۔

۷؂ یہ اب آن لائن بھی پڑھا جا سکتا ہےhttp://www.jewishencyclopedia.com/۔

۸؂ اس راے کی تصدیق کے لیے کسی بھی مستند لغت کی مراجعت کی جا سکتی ہے۔

۹؂ مثال کے طور پر ''ط''۔ فؤرسٹ اور کچھ اور لغت نویس سانپ کے مقابل میں ٹوکری یا بل کھانے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ جسینیَس سانپ اور ٹوکری دونوں کو بیان کر دیتا ہے۔ چنانچہ میں نے ''ط'' کے پورے نام ''طیط'' یعنی بڑا سانپ کو ترجیح دی ہے۔

۱۰؂ جیسے بیل سے طاقت یا طاقت ور مراد لینا۔

۱۱؂ جن لوگوں نے اس سے گائے مر ادلی ہے، انھوں نے غلطی کی ہے۔

۱۲؂ بیسیوں مقامات پر کہیں براہ راست اللہ کو چرواہا کہا گیا ہے اور کہیں اللہ کی مخلوق کو بھیڑوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: http://bible.knowing-jesus.com/topics/God,-As-Shepherd۔

۱۳؂ اس سے 'ذالک' اور 'تلک' کے استعمال میں جو الجھنیں مفسرین کو پیش آئی ہیں، وہ بھی حل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ 'ذالک' اور 'تلک' اہل نحو کے یہاں گفتگو میں پہلے سے موجود کسی شے کی طرف اشارے کے لیے آتے ہیں۔

۱۴؂ مثلاً سورۂ بقرہ، آل عمران، لقمان اور السجدہ میں۔

۱۵؂ مثلاً سورۂ بقرہ، آل عمران، السجدہ میں۔

۱۶؂ مثلاً سورۂ لقمان میں۔

____________