حروف مقطعات اور نظریۂ فراہی کے اطلاقات (۲)


عدنان اعجاز

ا ل م ص

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ص صاد، ۱۷؂ مچھلی پکڑنے کاکانٹا آلۂ شکار، شکار کرنا، نیک آدمی۔

صادِق کھلا ہوا پھول ۱۸؂ پھول یا پھولوں کی ایک قطار

مطلب: ا ل م کا مطلب پہلے بیان کیا جا چکا ہے، یعنی قرآن۔ ص، واقعۂ اصحاب سبت کی علامت کی حیثیت سے آیا ہے۔

بیان: ا ل م ۱۹؂ یہاں بھی اسی معنی میں ہے جو پہلے بیان ہوا ہے۔ بعد والی آیت میں ''کتاب'' سے اسی طرف اشارہ ہے۔

ص: ''ص'' ان حروف میں سے ہے جن کی شکل تو معلوم ہے، مگر یہ شکل کس چیز کی ہے، اس کے تعین میں اختلاف ہے۔ اور پھر ظاہر ہے، شکل کا اختلاف تصوراتی مفہوم کے تنوع پر منتج ہوتا ہے۔ تاہم جو تعین سب سے مشہور اور قرین قیاس ہے، وہ یہ ہے کہ یہ مچھلی کے شکار کے لیے استعمال ہونے والے کانٹے کا خاکہ ہے۔ ''ص'' کو عبرانی اور عربی دونوں میں ''صاد'' پڑھتے ہیں جس کے معنی شکار کرنے کے ہیں، چنانچہ یہی معنی صائب معلوم پڑتے ہیں۔ پھر مفہوم کے اعتبار سے یہ شکار، شکار کرنے، شکار ہونے وغیرہ کے مفاہیم رکھتا ہے۔ یہاں پراس معنی کا مصداق بھی بڑا واضح ہے۔ اس سورہ میں پانی کے قریب واقع ایک بستی والوں کا ذکر ہے جنھوں نے سبت کے قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ یعنی مچھلی کا شکار سبت کے دن کرنا شروع کر دیا تھا، جبکہ یہ ممنوع تھا۔ اس کی پاداش میں ان پر خدا کے عذاب کا بیان ہے۔۲۰؂ اگرچہ اِن اصحاب سبت کا تذکرہ اور سورتوں میں بھی آیا ہے، مگر اس تفصیل و امتیاز کے ساتھ نہیں جس کے ساتھ یہاں آیا ہے۔چنانچہ ص سے اسی کی طرف واضح اشارہ ہے۔

اس حرف کا ایک اور معروف نام ''صادق'' بھی ہے۔چنانچہ اس اعتبار سے یہ نیک آدمی کے معنی دیتا ہے۔ بعض حضرات اسے عبرانی میں ''صاد'' کے بجاے پڑھتے ہی ''صادق'' ہیں۔ اگرچہ اس کی وجہ زبان دانوں نے گمان کرتے ہوئے عبرانی حروف تہجی کی ترتیب میں اگلے حرف ''ق'' کے ساتھ تیزی سے ملا کے پڑھنا بتائی ہے، مگر میرے نزدیک یہ کوئی قوی استدلال نہیں۔ میری راے میں پہلے مصداق (یعنی شکار) کی رُو سے ہی یہ نیکی اور نیک آدمی کے لیے استعمال ہو ا ہو گا۔ شکار ہونا، قید ہونا، قبضے میں ہونا، گرفتار ہونا وغیرہ ایسی تعبیرات ہیں جن کا ابراہیمی مذاہب میں استعمال کسی کو اپنے لیے مخلص کر لینے کے معنی میں عام ہے۔ خود ''اسرائیل'' اور ''عبداللہ'' وغیرہ کے الفاظ بھی اسی زاویے سے فرماں برداری کے مفہوم پر دال ہیں۔ پھر جس طریقے سے یہ عبرانی اور عربی کے الفاظ میں مستعمل ہے، اس سے بھی اس تاویل کو تقویت ملتی ہے۔ صوم ہو یا صلوٰۃ، صبر ہو یا صدقہ، صالح ہو یا صادق، سب کا اس حرف سے شروع ہونا اس راے کو معقول بنا دیتا ہے۔ اگرچہ یہاں یہ معنی مراد نہیں، تاہم اور مقامات پر یہ اس معنی میں آیا ہے، جو آگے مذکور ہیں، بلکہ اگرچہ میں نے پھول کے معنی کو نظر انداز کر دیا ہے، مگر اس سے بھی اس معنی کی تائید ممکن ہے۔

ا ل ر اور ا ل م ر

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ر ریش انسان کا سر سر، انسان

اور

مطلب: اللہ کی طرف سے (اترنے والی) حکمت، یعنی قرآن۔ اسی طرح ا ل م ر میں ہدایت و حکمت کا مفہوم جمع ہو گیا ہے، چنانچہ مراد پھر بھی قرآن ہی ہے۔

بیان: ''ا'' اور ''ل'' کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

ر: ''ر'' عبرانی میں ''human head'' یعنی ''انسانی سر'' کی علامت ہے۔ یہ عبرانی میں ''ریش'' پڑھا جاتا ہے جو عربی میں ''راس'' کے قائم مقام ہے اور اس کے معنی دونوں زبانوں میں ''سر'' ہی کے ہیں۔ اگرچہ یہی معنی مستند مصادر میں زیادہ بیان ہوئے ہیں، تاہم اس کے دو معانی ممکن نظر آتے ہیں: ایک سر، اور دوسرا انسان۔ مگر میں نے پہلے معنی کو ترجیح اس بنیاد پر دی ہے کہ علامت اور اس کا پورا نام، دونوں مل کر اسی کی تائید کر رہے ہیں، کیونکہ اگر صرف سر کی علامت سے پورا انسان مراد لینا ہوتا تو الف کی طرح اس کا پورا نام پورے مصداق کے معنی رکھتا۔ مجاز کے اعتبار سے سر چونکہ عقل و حکمت کا محل ہے، اس لیے میرے نزدیک یہ یہاں حکمت کے لیے ہی استعارہ ہے۔

ا ل ر: چنانچہ الف لام را سے مراد اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی حکمت ہے۔ یہ بالکل الف لام میم کی طرح قرآن ہی کا ایک اور صفاتی نام ہے۔ وہاں پاکیزگی کے لیے ہدایت کے پہلوپر ارتکاز تھا اور یہاں عقل و حکمت پر۔ جن سورتوں کے آغاز میں یہ وارد ہوئے ہیں، ان میں سے اکثر میں متصلاً بعد کتاب کے تعلق سے حکمت یا عقل کا ذکر بھی اس تاویل کا قرینہ ہے۔ پھر ا ل م کی طرح ان حروف میں بھی دو ہی حقائق ہیں۔ ایک پُر حکمت ہونے کا اور ایک من جانب اللہ ہونے کا۔ چنانچہ کسی سورت میں ایک رخ سے ابتدا ہوئی ہے اور کسی میں دوسرے سے۔

ا ل م ر: سورۃ الرعد کی اس ترکیب میں قرآن کی دونوں صفات جمع کر دی گئی ہیں، یعنی ہدایت و حکمت۔ اسی لیے اللہ کی طرف میم اور را، دونوں کی نسبت اکٹھی ہو گئی ہے۔

سورتوں سے مناسبت: یہ حروف ان سورتو ں کے شروع میں آئے ہیں جن میں پہلے گزری ہوئی امتوں میں ان کے رسولوں کے انذار کی تاریخ بتائی گئی ہے اور پھر جو نتائج ان کے انکار کی صورت میں برآمد ہوئے، ان پر متنبہ کیا گیا ہے۔ یہ اصل میں مضمون حکمت ہے۔ یعنی قریش جو مخاطبین اول تھے جو قرآن کے نور و ہدایت ہونے سے دلیل نہیں پکڑ رہے تھے، انھیں ایام اللہ کے ذکر سے توجہ دلائی گئی ہے کہ عقل سے کام لو... یہ صرف کسی واعظ کا کلام نہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں اسی طرح پوری قوم کا فیصلہ ہونا ہے جس طرح اس سے پہلے ہوتا رہا ہے۔ تم اگر پاکیزگی کو اہمیت نہیں بھی دیتے تو کم از کم میرے عذاب سے ہی عبرت پکڑ لو۔ سورتیں یہ ہیں: یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم اور حجر۔ ان میں سے رعد میں ا ل م ر آیا ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ بھی اصل میں ہے تو ا ل ر ہی کے قبیلے سے، مگر چونکہ اس کا انداز کا فی کچھ ا ل م کی سورتوں جیسا ہو گیا ہے، یعنی اس میں رسولوں کے منکرین کے ساتھ ساتھ رسولوں کے ماننے والوں پر بھی ارتکاز ہے، اس لیے اس میں م اور ر، دونوں آ گئے ہیں۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دوہرے رنگ کی سورہ ہے ۔ الم اور الر کی سورتوں کے تقابل سے ان حروف کا استعمال بالکل واضح ہو جاتا ہے۔

ک ھ ی ع ص

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ک کاف، کف ہاتھ، ہتھیلی ہاتھ، ہتھیلی، پھیلایا ہوا ہاتھ

ھ یا ہ ھے، ھا آدمی ہاتھ اٹھائے ہوئے یا 'کھڑکی' وہ دیکھو، آگاہ ہو جاؤ، خبردار (lo & behold)

ی ید بازو بازو

ع عین آنکھ آنکھ، دیکھنا

مطلب: کیا خوب دعا مانگی مانگنے والے نے اور ذکر مہارت و بصیرت کے حامل نیک بندوں کا۔

بیان

ک: ''ک'' ایک کھلی ہوئی ہتھیلی کی صورت ہے۔ اس کو عبرانی میں ''کاف'' یا ''کف'' پڑھتے ہیں جو ہاتھ اور ہتھیلی ہی کے معنی رکھتا ہے۔ عربی میں بھی اس سے یہی مراد ہے۔ میرے نزدیک یہ یہاں دعا مانگنے والے، یعنی زکریا علیہ السلام کی طرف اشارے کے لیے آیا ہے، کیونکہ پھیلایا ہوا ہاتھ مانگنے کے لیے معروف استعارہ ہے۔ اس سورہ کا آغاز چونکہ اس غیر معمولی دعا سے ہوا ہے جو انھوں نے بیٹے کی پیدایش کے لیے مانگی تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا، اس لیے اسی واقعے کی علامت کے طور پر کھلا ہوا ہاتھ آیا ہے۔

ھ یا ہ: ''ھ یا ہ'' کی شکل بعض لوگوں نے یہ بتائی ہے کہ آدمی ہاتھ اٹھائے ہوئے، جیسے کسی بڑی عمدہ، اعلیٰ یا پر ہیبت چیز کو دیکھ رہا ہو، اور بعض وہ کھڑکی بتاتے ہیں جس میں سے کوئی جھانک رہا ہو، بلکہ یہ دعویٰ بھی روایت ہوا ہے کہ اس کی شکل معلوم ہی نہیں ہے ۔۲۱؂ اس کے مصداق میں اس اشتباہ کو میں اشتباہ نہیں، بلکہ ایک ہی خیال کے دو رخ سمجھتا ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قدیم عبرانی اور عربی میں یہ دونوں طرح لکھا بھی جاتا ہے۔ یعنی ''ھ'' جو ہاتھ اٹھائے ہوئے شخص کی ساخت لیے ہوئے ہے، اور ''ہ'' جو کھڑکی کی طرح ہے۔ مگر سب کے نزدیک عبرانی میں یہ آگاہ ہو جاؤ اور خبردار (lo and behold) کے معنی دیتا ہے۔ یہی معنی اس کے عربی ''ھا'' میں بھی معروف ہیں اور قرآن میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک یہاں یہ اسی معنی میں ما قبل کی قدردانی کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا پر تبصرہ فرما رہے ہیں کہ کیا خوب دعا مانگی۔

ی: ''ی'' کو عبرانی میں ''ید'' پڑھتے ہیں جو دونوں زبانوں میں ''ہاتھ'' کے معنی میں آتا ہے۔ خیال رہے کہ قدیم زبانوں میں ''ہاتھ'' اصل میں ''بازو'' کے لیے بولا جاتا تھا۔ چنانچہ اسی کی عکاسی اس کی شکل بھی کرتی ہے جو ایک پورے بازو کی تصویر ہے۔ یہ کام، کام کرنے اور مضبوطی کے معنی میں استعمال ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ مہارت اور قدرت رکھنے والوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ سورۂ ص میں جو یہ 'اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ'۲۲؂ آیا ہے، اسی معنی میں یہاں یہ علامت کی صورت میں استعمال کر دیا گیا ہے۔ اشارہ ہے اس سورہ میں پے در پے مذکور ان پیغمبروں کی طرف جو خدا کے وفا دار ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے فنون کے اعتبار سے بڑے ماہر اور بڑا اختیار رکھنے والے بھی تھے۔

ع:''ع'' کو عبرانی اور عربی میں ''عین'' پڑھتے ہیں جس کے معنی ''آنکھ'' کے ہیں۔ چنانچہ یہی اس کی شکل بھی ہے۔ یہ آنکھ، دیکھنے، بصارت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں پر یہ محولہ بالا آیت سورۂ ص میں مذکور ''آنکھوں والے'' ہی کے معنی میں ہے۔ یعنی اصحاب بصیرت (visionaries) کے معنی میں۔

ص:''ص'' کی تفصیل پہلے گزر چکی۔ یہ یہاں اپنے دوسرے معنی یعنی ''صدیقین و صالحین'' کے معنی میں ہے۔ چنانچہ ی ع ص مل کر ''وہ نیکو کار جو بڑے سبک دست اور صاحب بصیرت تھے'' کی علامت کے طور پر آئے ہیں۔

ک ھ ی ع ص: چنانچہ ک ھ مرکب میں حضرت زکریا علیہ السلام کی اس دعا کے لیے آئے ہیں جو اس آیت کے متصلاً بعد شروع ہو جاتی ہے، جبکہ ی ع ص ان سب انبیا و رسل کے لیے آئے ہیں جن کا تذکرہ اس سورہ میں یکے بعد دیگرے ہوا ہے۔ ان سب انبیا کی طرف ''صاحب قدرت و بصیرت صادقین'' کے نمایندہ حروف سے اشارہ بڑا مناسب اور سورہ کے مضمون کی نہایت موزوں عکاسی ہے۔

ط ہ

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ط طیط سانپ، ٹوکری بڑا سانپ، ٹوکری، بل کھانا

مطلب: دیکھوپُر ہیبت سانپ، یا کیا کہنے موسیٰ علیہ السلام کے۔

بیان

ط:''ط'' کے معانی ''ٹوکری'' اور ''سانپ'' کے بتائے گئے ہیں۔ اسے عبرانی میں ''طیط'' پڑھتے بھی ہیں جو بڑے سانپ کے لیے آتا ہے، اسی لیے میں نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ پھر عبرانی اور عربی، دونوں میں ہی یہ آج بھی ایسے لکھا جاتا ہے جیسے کوئی سانپ لٹھ مار کر سر سیدھا اٹھا کر بیٹھا ہو ( ، ط)۔۲۳؂ یہاں اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام ہیں جن کا عصا معجزے کے طور پہ سانپ میں تبدیل ہو جایا کرتا تھا۔

ط ہ: چنانچہ ط ہ بالکل اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی علامت کی حیثیت سے آیا ہے، جیسے پچھلی سورہ میں ک ھ زکریا علیہ السلام کی طرف اشارے کے لیے۔ مصداق اس سورہ کا مضمون ہے جو تفصیل سے موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتی ہے۔

ط س م اورط س

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

س شن، شین دانت تیر کمان۲۴؂ دانت، سامنے کے دو دانت، کاٹنا۔ دبانا، تیز کرنا۔ ۲۵؂

اور

مطلب: سانپ، دانت، پانی۔ یعنی سانپ جو اپنے دو دانت نکالے پھنکار رہا ہو کی علامت، اورموسیٰ علیہ السلام کے پانی کو پھاڑنے اور قوم فرعون کے اس میں غرق ہونے کی علامت۔

بیان:''ط'' کا بیان پہلے گزر چکا۔

س: ''س'' کو عبرانی میں ''شن یا شین'' پڑھتے ہیں جو عربی میں ''سن یا سین'' کے مترادف ہے۔ دونوں ہی زبانوں میں سنّ کے معنی ''دانت'' ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس حرف کے مصداق کو ''تیر کمان'' بھی بتایا گیا ہے، تاہم جیسا کہ آغاز میں تصریح موجود ہے، میں نے ان آرا کو ترجیح دی ہے جو حروف کے پورے نام سے بھی ثابت ہوں۔ اس لیے میرے نزدیک دانت ہی راجح مصداق ہے۔ چنانچہ ط اور س کے استعمال سے گویا اللہ نے ان سورتوں کے آغاز میں ایک بڑے سانپ کی تصویر ڈال دی ہے جو اپنے دونوں دانت نکال کے لٹھ مار کر بیٹھا ہے۔ تاہم یہ بھی اصل میں واقعۂ موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارے ہی کے لیے آئے ہیں جن کے اتمام حجت میں اس عصا / سانپ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

م: جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا میم سے مراد پانی ہے۔ البتہ یہاں میرے نزدیک اس کا استعمال ا ل م کے بر خلاف حقیقی معنوں میں پانی ہی کے لیے ہوا ہے۔ اشارہ ہے اس واقعے کی طرف جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا مار کر پانی کو چیر دیا تھا۔ پھر خود اپنی قوم کو لے کر پار ہو گئے تھے اور فرعون غرق ہو گیا تھا۔

ط س م: چنانچہ یہ تینوں حروف واقعۂ موسیٰ علیہ السلام کی علامات ہیں۔ سورۂ نمل میں چونکہ واقعۂ موسیٰ علیہ السلام اختصار سے بیان ہوا ہے اور پانی کے پھٹنے اور فرعون کے اس میں غرق ہونے کا ذکر نہیں ہے، اس لیے م گرا دیا گیا ہے۔

سورتوں سے مناسبت: یہ تین سورتوں کے شروع میں آئے ہیں: شعراء ، نمل اور قصص۔ ان سورتوں میں ابتدا واقعۂ موسیٰ علیہ السلام سے ہوتی ہے اور سواے سورۂ نمل کے باقی دونوں سورتوں میں یہ واقعہ مختلف زاویوں سے تفصیل سے بیان ہوا ہے، اس لیے ابتدا میں علامات نے ہی اس کی نشان دہی کر دی ہے۔ پھر تینوں سورتوں میں متصلاً بعد ''یہ آیات'' کے الفاظ سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے جن کو حروف مقطعات کی اِن علامات سے ذکر کر دیا گیا ہے۔

ی س

مطلب: دانتوں پر مکے کی ضرب۔

بیان: ی اور س کا بیان اگرچہ پہلے گزر چکا ہے، تاہم ی کے بارے میں کچھ مزید معروضات ذیل میں مذکور ہیں۔

ی: جیسا کہ کھیعص کے ذیل میں بیان ہو چکا، ی کو عبرانی میں ''ید'' پڑھتے ہیں جس کے معنی عبرانی اور عربی، دونوں ہی میں ہاتھ کے ہیں۔ مگر یہ ہاتھ اس مفہوم میں ہے جس میں ہم آج کل بازو کہتے ہیں۔اس کی تصدیق حرف کی تصویری علامت اور قدیم رسم الخط سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس قدیم ساخت پر غور کریں تو صاف معلوم پڑتا ہے کہ بازو کی جس تصویر پر یہ حرف بنا ہے اور پھر مختلف رسم الخط میں کچھ تبدیل ہوتا رہا ہے، ان کے استقصا سے پتا چلتا ہے کہ بازو کے آخر میں ہاتھ کی ساخت ایک مکے (fist) جیسی ہے۔ پھر ہاتھ ہی کی صورت پر دو حروف تہجی کی سمجھ نہیں آتی سوائے اس کے کہ یہ دونوں حروف دو مختلف خیالات کی نشان دہی کے لیے بنے تھے۔ ک میں جو ہاتھ ہے، وہ کھلا ہوا ہے اور ایسے ہے، جیسے پھیلایا ہوا ہو۔ اس لیے اس سے مانگنا یا کمزوری کا پہلو بالکل نمایاں ہے، جبکہ ی میں یہی ہاتھ بند ہے جو مضبوطی اور قوت کی علامت ہے۔

ی س: مندرجہ بالا استنباط اگر درست ہے تو ''س'' کی مناسبت سے اس کو یہاں مُکّے کے معنی میں لینا بالکل مبرہن ہے۔ یعنی ی س عام محاورے میں ''مکے سے دانت توڑنے'' کی تمثیل کے لیے آئے ہیں۔ ان سے مقصد مکذبین کو اللہ کے عذاب کی پیشین گوئی اور اس سے ڈرانا ہے۔

سورہ سے مناسبت: اس سورہ سے ان حروف کی مناسبت بیان کرنا کچھ ویسا ہی مشکل ہے، جیسا سورۃ النصر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا استنباط؛ یعنی فہم لطیف مطلوب ہے۔ سورہ دراصل ایک اعلان ہے اس سرکاری مخاصمت کا جس کا انتخاب خود مشرکین قریش نے اپنی تکذیب سے کر دیا تھا، بلکہ وہ اب اقدام کے لیے پر تول رہے تھے جس کو بھانپتے ہوئے اسی سورہ میں اس طرح کے اقدامات کے نتائج سے گویا پہلے ہی آگاہ بھی کر دیا گیا ہے، اگرچہ کنایوں میں ہی۔ بہر حال سورہ کا عمود یہی بتلاتا ہے کہ جیسے خدا اب 'دوسری' طرف جانے کا اعلان کر رہے ہیں، یعنی اس کش مکش کی طرف جو عذاب کے لیے ہمیشہ سے خدا کی سنت رہی ہے۔

ص

مطلب: میرے صالح بندے۔

بیان

سورۂ مریم کی طرح اس سورہ میں بھی اس کا استعمال ''صادقین و صالحین'' کی علامت کے لیے ہی ہوا ہے۔ اس کی تفصیل و تخریج کے لیے اوپر ''ا ل م ص'' میں ص کے بیان پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

سورہ سے مناسبت: اس سورہ میں مخاطبین کے اعتراضات سے گریز کر کے تربیت پر توجہ مبذول کی گئی ہے۔ اور اس تربیت کے لیے کچھ ''صالحین'' کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ اس انتخاب کی وجہ ان کی زندگی کے کچھ ایسے واقعات بنے ہیں جو انسان کی فطری کمزوریوں کے عکاس ہیں۔ ان کی نشان دہی کر کے نفس کی جانب سے بھی ہر وقت پُر اندیش رہنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

ح م

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ح حیط، حاط دیوار جنگلا دیوار، دیوار میں اینٹوں کی ایک قطار، جنگلا، باڑ میں گھیرنا، احاطہ کرنا

مطلب: علیحدہ علیحدہ حصوں میں اترنے والی ہدایت یا رفتہ رفتہ مکمل ہونے والی ہدایت، یعنی قرآن۔

بیان

ح: ''ح'' کی ماخذ صورت ایک ''اینٹوں کی دیوار'' ہے یا ''جنگلا'' ہے، اور ''حاط'' یا ''حیط'' سے دونوں زبانوں میں مراد بھی گھیراؤ اور احاطہ ہی ہے ۔ چنانچہ اس سے وہ تمام معانی مراد لینا معروف و معقول ہے جو اوپر بیان ہوئے اور جو مستند مصادر میں مذکور بھی ہیں۔غالباً اسی مفہوم میں ارتقا کر کے لوگوں نے اس سے کٹہرا اور چار دیواری بھی مراد لی ہے۔ ۲۶؂ مزید برآں اپنے مصداق کے اعتبار سے یہ بالکل اس لفظ کے مساوی ہے جس کو خود اللہ نے قرآن کے اجزا کے لیے اصطلاح بنایا ہے، یعنی سورہ۔ سورہ کے بھی بعینہٖ یہی معنی ہیں۔ چنانچہ دیواریا دیوار میں اینٹوں کی ایک قطار یا باڑ کے الفاظ کا انتخاب اسی مجازی معنی پر دلالت کرتا نظر آتا ہے کہ جس طرح متعدد اینٹوں سے رفتہ رفتہ ایک دیوار مکمل ہوتی ہے یا متعدد دیواروں اور جنگلوں سے ایک عمارت یا احاطہ مکمل ہوتا ہے، اسی طرح یکے بعد دیگرے اترنے والی سورتوں سے رفتہ رفتہ خدا کی ہدایت، یعنی قرآن مکمل ہوتا ہے۔ علیحدہ علیحدہ حصے جو ایک کے بعد ایک کسی کل کو مکمل کرتے ہوں کی تعبیر کے لیے دیوار یا جنگلے کا بطور علامت استعمال نہ صرف یہ کہ سمجھ میں آتا ہے، بلکہ نہایت موزوں ہے۔

ح م: علیحدہ علیحدہ اور رفتہ رفتہ اترنے والے پانی سے قرآن کی صفت تنزیل کی تشبیہ دی گئی ہے، یعنی قرآن کے نزول کے اس طریقۂ کار کو کسی عمارت کی تعمیر کے طریقۂ کار سے تعبیر کر دیا ہے تا کہ لوگوں کے معلوم علم سے ان کو مثال دے دی جائے۔ یہی وجہ ہے جن سورتوں میں یہ وارد ہوئے ہیں ان میں متصلاً بعد قرآن کے نزولی اہتمام ہی کے تذکرے سے آغاز ہوا ہے۔ چنانچہ ا ل م اور ا ل ر کی طرح ح م بھی قرآن کا ایک اور صفاتی نام ہوا۔

سورتوں سے مناسبت: یہ حروف ان سورتوں کے شروع میں آئے ہیں جن میں قرآن کے نزول اور وحی کے انداز کی وضاحت کو مرکزیت حاصل ہے۔ وہ یہ ہیں: غافر، فصلت (یا حٰآ السجدہ)، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ اور احقاف۔ اس میں شوریٰ میں ع س ق اضافی ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔

ع س ق

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ق قف یا قوف سر اور گردن کا پچھلا حصہ، سر اور گردن کا پچھلا حصہ،

یا کلہاڑی / سوئی کے اندر کا سوراخ سوئی کا ناکہ، کلہاڑی کی آنکھ

مطلب: نگاہ نہیں پہنچ سکتی۔

بیان

ع: جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ع آنکھ کی علامت ہے۔ چنانچہ یہاں آنکھ سے بینائی مراد ہے،یعنی نظر، دیکھنا وغیرہ۔

س: یہ بھی پہلے بیان ہو چکا کہ ''سن'' سے عبرانی اور عربی، دونوں میں دانت ہی مراد ہے۔ البتہ یہ مجازی اعتبار سے کن معانی پر دلالت کرتا ہے، یہ مستند مصادر میں کہیں مذکور نہیں۔ ورود کے اِس مقام پہ چونکہ س کا حقیقی مصداق، یعنی دانت کی ظاہری صورت نہ تو سورہ کے مضمون سے کوئی مناسبت رکھتی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے ما قبل و مابعد استعمال ہونے والے حرف سے کوئی مطابقت رکھتی نظر آتی ہے۔ اس لیے مجھے اس کے مجازی معنی پر قیاس آرائی کرنے کے لیے غیر مستند ذرائع کو بھی مطالعہ میں لانا پڑا۔ چنانچہ تحقیق سے اس کے تین مطالب کچھ قرین قیاس معلوم پڑتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے کھا جانا مراد ہے۔ دوسرا یہ کہ اس سے بولنا یا گویائی مراد ہے۔ یہ دونوں بظاہر معقول استنباط ہیں، مگر اس کے قبول میں مجھے یہ تردد ہے کہ عبرانی حرف ''ف'' (فے، فا) منہ کی علامت بھی رکھتا ہے اور عبرانی و عربی میں اس سے مراد بھی منہ ہی کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ دونوں مطالب ''ف'' کے ساتھ زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی ہی مناسبت رکھتے ہیں جتنی دانتوں کے ساتھ۔ تاہم ''سن'' کو بعض غیر مستند مصادر کاٹنے اور روکنے کے معنی میں بھی لیتے ہیں۔ یعنی جس طرح سامنے کے دو دانت کاٹنے اور منقطع کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں یا پھر منہ کے دروازے پر سے چیزوں کے لیے ایک آڑ بن جاتے ہیں، اسی پر قیاس کرتے ہوئے س روکنے اور منقطع کرنے کے معنی رکھتا ہے۔ چنانچہ میں نے اسی کو یہاں اختیار کیا ہے، اگرچہ مجھے اس پر پوری طرح تسلی نہیں ہو سکی۔

ق: ''ق'' کے مصداق کے بارے میں بھی مصادر میں کچھ اشکال ہے۔ بعض اسے سر اور گردن کے پچھلے حصے سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اسے اس سوراخ کی علامت بتلاتے ہیں جو سوئی یا کلہاڑی کے دستے میں ہوتا ہے۔ اسے عبرانی میں ''قُف یا قوُف'' پڑھتے ہیں۔ اگر اسے قوف سے مانا جائے تو سوئی کا ناکہ یا کلہاڑی کا سوراخ زیادہ موزوں لگتے ہیں، کیونکہ قُوف کا معنی یہی ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے اسے قوف سے مانا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے مراد دائرے میں حرکت بھی ہو سکتی ہے۔ پھر اگر اسے قف سے مانا جائے تو سر اور گردن کا پچھلا حصہ زیادہ موزوں معنی ہے۔ فوء رسٹ۲۷؂ نے اس کی تخریج عربی کے ''قف'' سے کی ہے جس کے معنی گردن کے پچھلے حصے کے ہی ہیں اور اسی راے کو صائب کہا ہے۔میں نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ اس لیے بھی، کیونکہ اگر عبرانی حرف کی قدیم اور موجودہ ساخت پر غور کریں تو یہی راے قوی معلوم پڑتی ہے ۔

تو جب اس کے معنی سر اور گردن کا پچھلا حصہ ہوا تو مجازاً یہ قربت کی بھی تعبیر ہوئی اور کسی ایسے شخص کی بھی جو نہایت قریب اور نگران ہو۔چنانچہ یہاں میں نے ماقبل کی مناسبت سے اس کو قریب ہونے کے معنی میں لیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل سورۂ ق میں آتی ہے۔

ع س ق: بر محل ع سے مراد نظر ہوئی، ق سے مراد قریب ہونا، اور س سے مراد رکنا۔ الغرض، اس مرکب سے مراد یہ ہوئی کہ نظر قریب نہیں پہنچ سکتی۔ اگر اس کے یہی مطلب ہیں تو پھر اگلی ہی آیت۲۸؂ بالکل مناسب حال واقع ہوئی ہے۔ یعنی ''اسی طرح (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کی طرف اور آپ سے پہلوں کی طرف اللہ زبردست اور حکمت والے نے وحی کی'' میں اسی طرح سے واضح اشارہ ما قبل مرکب کی طرف ہے اور مراد یہی ہے کہ کوئی بھی اللہ کو دیکھ نہیں سکتا۔ اس لیے جس کو بھی جب بھی وحی ہوئی ہے، خدا کو دیکھے بغیر ہی ہوئی ہے۔ایک اور مقام پر یہ جو 'لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ' ۲۹؂ آیا ہے، یہ حروف علامت کی شکل میں یہی بات کہہ رہے ہیں۔

سورہ سے مناسبت: اس سورہ میں چونکہ آیت ۵۱۔ ۵۲ میں یہ کہہ کر کہ کسی انسان سے اللہ رُو برُو کلام نہیں کرتا، وحی کی تین صورتیں بیان کر دی گئی ہیں، اس لیے اس مضمون کی مناسبت سے ح م کے بعد ایک علیحدہ آیت میں ع س ق کہہ کر اسی امر کی طرف اجمالاً اشارہ بھی کردیا ہے۔ دیکھا جائے تو آیت ۳ کا 'کَذَالِکَ' اسی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اور بعد میں جب اس 'کَذَالِکَ' کی تفصیل کی گئی ہے تو وہاں ۳۰؂یہی 'کَذَالِکَ' پھر سے دوہرا بھی دیا ہے تا کہ ہر قاری اس اشارے کو سمجھ بھی سکے۔

ق

مطلب: نگران۔ یعنی وہ فرشتے جو انسان کے دائیں اور بائیں بیٹھے اس کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں۔

بیان: ق کا بیان اگرچہ اوپر گزر چکا ہے، مگر کچھ مزید معروضات درج ذیل ہیں۔

ق: جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، ق کا مصداق سر اور گردن کا پچھلا حصہ ہے۔ چنانچہ مجاز میں یہ بہت قریب ہونے یا ہونے والے کے لیے استعارہ ہے۔ یہاں، یعنی سورۂ ق میں یہ اُن فرشتوں کے لیے آیا ہے جن کا ذکر آیات ۱۷۔ ۱۸ میں ہوا ہے۔ وہاں یہ جو الفاظ ہیں کہ 'رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ' یعنی ''حاضر باش نگران''، اِن کے لیے ہی ق میں اشارہ ہے، بلکہ رقیب بنا ہی رقب سے ہے جو عربی میں گردن ہی کا مصدر ہے۔ اور سورۂ انفطار میں بھی انھیں نگران ہی کہا گیا ہے۳۱؂ ۔ اس لیے یہ بالکل واضح ہے۔

ن

عربی حرف قدیم عبرانی حرف شکل اور مصداق کا بیان معانی

ن نون مچھلی، سانپ مچھلی، سانپ

مطلب: مچھلی، یعنی مچھلی والے پیغمبر یونس علیہ السلام۔

بیان

ن: ''ن'' کو عبرانی اور عربی میں ''نون'' پڑھتے ہیں اور اس کا مطلب مچھلی ہی ہوتا ہے۔ یہاں مچھلی کی علامت سے دراصل مراد وہ پیغمبر ہیں جنھیں مچھلی نے نگل لیا تھا۔ یعنی یونس علیہ السلام جن کا تذکرہ آیات ۴۸۔۵۰ میں ہوا ہے۔ انھیں دوسرے مقام پر خود قرآن نے ذوالنون کہہ کر اس میں کوئی شک نہیں رہنے دیا کہ ن سے مراد مچھلی ہی ہے۔

تحقیق کے قرین صواب ہونے کے دلائل

اس تحقیق کے صائب ہونے کے حق میں مندرجہ ذیل دلائل دیے جا سکتے ہیں:

۱۔ حروف مقطعات کے ہر حرف کا علیحدہ علیحدہ قراء ت کیا جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان میں سے ہر حرف اپنا علیحدہ مفہوم رکھتا ہے۔ بصورت دیگر، ان کے اس طرح تلاوت ہونے کی اور کوئی معقول وجہ تلاش کرنا مشکل ہے۔ یہ تحقیق اس اعتبار سے مناسبت رکھتی ہے۔

۲۔ یہ حروف اس کلام کا حصہ بنے جس کے مخاطبین عربی بولنے والے تھے۔ اللہ نے اس کلام کے بھی عربی میں ہونے کی یہی وجہ بتائی۔ چنانچہ یہ بالکل معقول توقع ہو گی کہ ان حروف کا تعلق بھی عربی سے ہو۔ موجودہ تحقیق چونکہ حروف کے مصداق ان چیزوں کو بتلاتی ہے جو عربی اور عبرانی کی مشترک اساسی زبان میں علامات کی حیثیت رکھتے تھے، اس سبب بھی یہ تحقیق عین موزوں ہے۔

۳۔ قرآن کا یہ اسلوب کہ وہ معلوم و معروف علوم کو ہی اپنے فہم کے لیے بنیاد بناتا ہے، بالکل واضح ہے۔ چنانچہ ان حروف کے بارے میں بھی یہ توقع کرنا کہ یہ کسی معلوم علم پر ہی اپنی اساس استوار کرتے ہوں گے، ایک بالکل معقول توقع ہے۔یہ تحقیق چونکہ ایسے ہی ایک مسلم علم کو بنیاد بناتی ہے جو عبرانی حروف کے ماخذ کی حیثیت سے آج بھی معلوم و معروف ہے، اس وجہ سے اس تحقیق کو بڑی تقویت مل جاتی ہے۔

۴۔ پھر اس تحقیق کی رُو سے حروف مقطعات میں مستعمل حروف کے معانی بھی اُن کے معروف مصداق تک ہی محدود ہیں، بلکہ ایک آدھ مقام کے علاوہ مستند مصادر میں مذکور مصداق سے دائیں بائیں پھرنے کی حاجت پیش ہی نہیں آئی۔ قرآن چونکہ الفاظ کو اپنے معروف معانی میں ہی استعمال کرتا ہے، اس اعتبار سے بھی یہ تحقیق قرآن کے عمومی اسلوب کے عین مطابق ہے۔

۵۔ عربی حروف تہجی کے وہ حروف جو جوڑا جوڑا واقع ہوئے ہیں: جیسے س ش، ص ض، ط ظ، ع غ، ح خ وغیرہ؛ حروف مقطعات میں ان میں سے صرف ایک، یعنی بغیر نقطوں والے زوج کا استعمال ہونا بھی اس تحقیق کو بہت وقیع کر دیتا ہے، کیونکہ عربی و عبرانی کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ایسے حروف کے جوڑے اپنی اصلی شکل میں بغیر نقطوں ہی کے تھے جو اپنے معنی و مصداق کی وحدانیت پر ہی دلالت کرتے ہیں اور زبان دانوں کا دعویٰ بھی یہی ہے۔

۶۔ پھر اس تحقیق کے مستنبط مصداق و معانی کی تائید اکثر تو حروف مقطعات کے ورود کے متصلاً بعد والی آیات سے ہو جاتی ہے یا پھر ایسے قرینے سے ہو جاتی ہے جو اسی سورہ یا قرآن کے ہی کسی اور مقام میں امتیازی حیثیت سے بیان ہو گیا ہوتا ہے۔

۷۔ پھر حروف مقطعات کے بہت سے مرکب ایک سے زیادہ سورتوں میں جوں کے توں استعمال ہوئے ہیں۔ اور پھر ایسی سورتیں ترتیب مصحف میں رکھی بھی متصل گئی ہیں۔ اور عموماً ان سورتوں کی حروف مقطعات سے متصل بعد والی آیات بھی ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ ان خصائص سے یہ توقع بھی بڑی معقول لگتی ہے کہ ان سب سورتوں میں ایک ہی مرکب کے ایک ہی معنی ہونے چاہییں۔ یہ تحقیق اس مانگ کو بھی پورا کرتی ہے۔

مجموعی نتائج تحقیق

آغاز میں بیان کردہ اصولوں کے فرداً فرداً اطلاقات دیکھنے کے بعد یہاں میں ان مجموعی نتائج کو تحریر کرتا ہوں جو انفرادی اطلاقات کے انضمام و تجزیہ کے نتیجے میں حروف مقطعات کے استعمالات و حکمت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

۱۔ حروف مقطعات کے ورود کے وہ مقامات جہاں اِن کے وقوع کے متصلاً بعد والی آیت ''و'' سے شروع نہیں ہوتی، وہاں یہ آیت اِن حروف کے فہم کے لیے ایک قرینہ ہے۔ اِن میں سے وہ مقامات خاص اہمیت کے حامل اور تحقیق میں مؤید ہیں جہاں ''ذَالِکَ'' یا ''تِلْکَ'' سے باقاعدہ اشارہ بھی کر دیا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ نے اور وجوہات کے ساتھ ساتھ اس لیے بھی کیا ہے تا کہ ان حروف کے مفاہیم پر غور کرنا آسان ہو جائے۔ چنانچہ وہ مقامات جہاں ''و'' نے اگلی آیت کا آغاز کیا ہے، وہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ حرف مقطعہ کا مصداق مضمون سورہ میں کہیں آگے جا کر ہی ملتا ہے۔

۲۔ حروف مقطعات جس سورہ میں بھی استعمال ہوئے ہیں، مضمون کی مناسبت سے استعمال ہوئے ہیں۔ اگر سورتیں بڑی تھیں اور مضامین بہت تو پھر یہ حروف صنف کی مناسبت سے استعمال ہوئے ہیں۔ ایسا اُن حروف میں ہوا ہے جو ایک سے زیادہ سورتوں میں آئے ہیں۔ جیسے ا ل م، ا ل ر، ح م۔ یعنی اِن گروہِ سُوَر کو جس مشترک مضمون نے باندھ رکھا ہے، اسی کی مناسبت سے حروف مقطعات لائے گئے ہیں۔ جیسے پاکی اور ہدایت ایک صنف ہے، حکمت ایک صنف، اور قرآن کے نزول کے لیے اختیار کیا گیا طریقۂ کار ایک صنف۔

۳۔ حروف مقطعات ہمیشہ سورتوں کے شروع میں ہی آئے ہیں، اس لیے انھیں سورتوں کا نام شمار کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کی سورتیں چونکہ زیادہ تر خطاب کی صنف سے مماثلت رکھتی ہیں، اس لیے ان کے لیے نام کوئی ضروری تو تھے نہیں، اسی لیے جو نام ہمیں عموماً ملتے ہیں، وہ بس شناخت کنندہ (identifier) کی حیثیت رکھتے ہیں۔تاہم، کہیں کہیں اللہ تعالی نے ان کا نام خود بھی رکھ دیا ہے۔

۴۔ جو حروف ایک سورہ کے شروع میں آئے ہیں، اُن کو سورہ کا نام کہا جا سکتا ہے۔ جو حروف ایک سے زیادہ سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں، انھیں گروہی نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

۵۔ سوائے ایک مقام کے باقی سب جگہ حروف مقطعات ایک ہی آیت میں اکٹھے وارد ہوئے ہیں۔ صرف حم عسق ۳۲؂ میں یہ دو آیات پر مشتمل ہیں۔ وہاں یہ اس لیے ہوا ہے، کیونکہ عسق دراصل حم پر استدراک ہے، یعنی باقی مقامات کے بر خلاف اس مقام پر اِن دونوں مرکبات کا مضمون ایک ہی درجے پہ نہیں، بلکہ عسق اصل میں حم کے ایک ذیلی مضمون کی تفصیل کر رہا ہے۔

۶۔ اشکال سے مضامین کی نمایندگی کرنا اگرچہ ایک بڑا حسین اور کارآمد طریقہ معلوم پڑتا ہے، مگر اللہ نے ایسا کیوں کیا، کیا اُس دور کے عرب اس استعمال سے واقف تھے، جن سورتوں میں یہ حروف نہیں آئے وہاں کیوں نہیں آئے، اِن سوالات سے یہ تحقیق تعرض نہیں کرتی۔ تاہم ان کے جواب کے لیے تحقیق ہونی چاہیے۔

اختتامیہ

یہ تحقیق اس ضمن کی ایک ابتدائی کاو ش ہے۔ میرے نزدیک نظریۂ فراہی اصول اور اطلاق، دونوں میں صائب ثابت ہوا ہے۔ اگرچہ اطلاقات میں سے کچھ میں بہتری کی گنجایش ابھی باقی ہے۔

میری تحقیق میں اگر کوئی غلطی ہے تو وہ یقیناً میری محنت یا سمجھ کے فقدان یا کوتاہی کی عکاس ہے۔ جولوگ اس تحقیق کو کوتاہیوں سے پاک کرنے میں میرے مددگار بنیں، ان کا میں پیشگی مشکور ہوں۔

________

۱۷؂ ص کی تصویری علامت مستند مصادر میں صرف بیان ہوئی ہے۔ اس کی قدیم علامت (pictograph) ان میں دستیاب نہیں۔ اسی لیے میں نے قدیم فونیشیائی رسم الخط یہاں نقل کر دیا ہے۔ اگرچہ غیر مستند مصادر اس کی تصویری علامت کچھ یوں بتاتے ہیں۔

۱۸؂ انسائیکلوپیڈیا یہودیا: دوسرا ایڈیشن، جلد ۱۷، صفحہ ۶۵۵، دیکھیے صاد (Sade)۔

۱۹؂ یہاں اگرچہ یہ امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ ''م'' سے یہاں مراد وہ بستی ہو جو پانی کے کنارے واقع تھی۔ اس اعتبار سے م اور ص دونوں اصحابِ سبت ہی کی علامت ہو جائیں گے۔ تاہم یہ تاویل کمزور ہے، اس لیے میں نے اسے اختیار نہیں کیا۔

۲۰؂ الاعراف۷: ۱۶۳۔ ۱۶۶۔

۲۱؂ بہت سے نیم مستند مصادر قدیم کتبات سے یہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ یہ حرف اصل میں پورے لفظ ''ھا'' ہی کے قائم مقام ہے۔ اور اس کا مطلب یہی بتاتے ہیں کہ جیسے اچانک کسی اہم یا شان دار چیز کو دیکھ کر انسان اعلان کے لیے ہاتھ اٹھا لیتا ہو۔ مثلاً دیکھیے:

http://members.bib-arch.org/publication.asp?PubID=...

۲۲؂ ۳۸: ۴۵۔ یعنی ہاتھوں اور آنکھوں والے۔ مگر اعلیٰ عربی میں اس کا ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ بہت قدرت اور بصیرت رکھنے والے۔ اصل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی جو تاریخ ہمیں بتلائی ہے، وہ ان درویشانہ افسانوں سے کہیں مختلف ہے جو عام طور پر لوگ نیک لوگوں کے بارے میں گمان کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان نفوس قدسیہ کے بارے میں یہ باور کرایا ہے کہ میرے پیغمبر دنیاوی فنون میں بڑی مہارت رکھنے والے اور بڑے دنیا بیں لوگ تھے۔ یہ تعبیر بھی یہی بتا رہی ہے۔

۲۳؂ رسم آشوری میں یہ یوں لکھا جاتا تھا: ۔

۲۴؂ انسائیکلوپیڈیا یہودیا: (Encyclopedia Judaica)، دوسرا ایڈیشن، جلد ۱۸، صفحہ ۴۸۳۔۴۸۴، دیکھیے ''شن''(Shin)۔

۲۵؂ یہ معانی صرف غیر مستند مصادر میں ہی ملتے ہیں۔ مثلاً دیکھیے:https://en.wikipedia.org/wiki/Shin_(letter)۔

۲۶؂ دیکھیے: https://en.wikipedia.org/wiki/Heth۔

۲۷؂ دیکھیے آغاز میں بیان کیے گئے مصادر میں ''Edward Fuerst''کی فرہنگ۔

۲۸؂ الشورٰی ۴۲: ۳۔

۲۹؂ الانعام ۶: ۱۰۳۔

۳۰؂ آیت ۵۲۔

۳۱؂ ۸۲: ۱۰۔

۳۲؂ الشوریٰ ۴۲۔

____________