حیا اور حجاب


جاوید احمد غامدی / وقار ملک

[مدیر ''اشراق'' سے روزنامہ ''پاکستان'' کے لیے ایک انٹرویو]

سوال : آج کل بعض حلقوں بالخصوص مذہبی حلقوں کی طرف سے ہمارے ذرائع ابلاغ خصوصاً ٹیلی وژن کا قبلہ درست کرنے کی بات بڑی شدت سے سننے میں آ رہی ہے ۔ آپ کی نظر میں ٹیلی وژن کا کردار کیا ہونا چاہیے ؟

جواب :اس ضمن میں سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ریاست کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ریاست کو ٹیلی وژن اور ریڈیو دونوں میں نیوز اور ویوز تک محدود رہنا چاہیے ۔ تفریح کے لیے ان ذرائع کا استعمال پرائیویٹ سیکٹر کو منتقل کر دینا چاہیے ۔ ریاست پورے معاشرے کی نمائندہ ہوتی ہے ۔ اسے اپنے تمام ذرائع معاشرے کی تعمیر کرنے ، اسے تعلیم یافتہ بنانے اور اس کے شعور کو بہتر کرنے کے لیے استعمال کرنے چاہیے ۔ پرائیویٹ سیکٹر کو جب آپ ریڈیو، ٹیلی وژن کے چینلز قائم کرنے کی اجازت دیں گے تو اپنی تہذیبی اور معاشرتی روایات اور اخلاقی کردار کے لحاظ سے انھیں بعض حدود کا پابند بھی کریں گے ۔ میرے خیال میں یہ حدود اسی قدر نافذ ہوں گے ، جس قدر بحیثیت مجموعی معاشرے کا شعور بہتر ہوگا ۔ قانون کی طاقت سے آپ صرف چند مجرمانہ سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں ، اخلاقی اقدار کی ترویج نہیں کر سکتے ۔ اس کے لیے ریاست کو بھی تعلیم ، ترغیب اور تلقین کے طریقے اپنانے چاہییں ۔

ہمارے معاشرے میں اس وقت تہذیبی روایات دم توڑ رہی ہیں ، اخلاقی اقدار کا شعور دھندلاتا جا رہا ہے ۔ سوسائٹی بحیثیت مجموعی ان چیزوں کی قدروقیمت سے ناواقف ہو گئی ہے ۔ اس میں اگر کوئی چیز قانون کی قوت سے نافذ کی جائے تو بتدریج اپنا اثر کھو بیٹھے گی ۔

سوال : جب ریاست ٹیلی وژن پر نیوز اور ویوز کو اپنے کنٹرول میں رکھے گی تو پھر عوام تک اصل خبر کیسے پہنچے گی ؟

جواب : کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ ریاست کو نیوز اور ویوز اپنے کنٹرول میں رکھنے چاہییں، بلکہ اس کا دائرہ یہاں تک ہی ہونا چاہیے ۔البتہ پرائیویٹ سیکٹر جس طرح چاہے نیوز اور ویوز کے لیے چینلز قائم کرے جیسے سی این این اور بی بی سی ہیں۔ میرے نزدیک جس قدر جلد ممکن ہو ، یہ پرائیویٹ چینلز قائم کرنے کے حالات پیدا کیے جائیں ۔

سوال : ڈش اور کیبل کے ذریعے سے جو فحاشی گھر گھر داخل ہو چکی ہے ، کیا اسے قانون کی طاقت سے روکنا درست قدم ہوگا؟

جواب : پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طریقے سے یہ سلسلہ رکے گا نہیں اور اگر کسی طرح روک تھام ممکن بھی ہو تب بھی اس طرح کی چیزوں کو قانون کی طاقت سے نہیں روکنا چاہیے ۔

سوال : مگر ہمارا مذہبی طبقہ اس ضمن میں سوسائٹی کی اصلاح کے لیے صرف ایک ہی طریقے پر زور دیتا ہے کہ حکومت قانون کی طاقت سے صورت حال کو کنٹرول کرے ؟

جواب: میرے خیال میں اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی پوری سوسائٹی کو تعلیم یافتہ بنائیں تاکہ وہ خود اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکے ۔ وہ زمانہ گزر گیا ہے جب آپ پابندیاں لگا کر معاشرے کو درست کر سکتے تھے ۔ جس طرح آپ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں رہنمائی کرتے ہیں ۔ اور پھر جب بہت تھوڑے لوگ اس کا ارتکاب کرنے والے رہ جاتے ہیں توپابندی لگاتے ہیں۔ یہ پابندی بھی آپ پبلک مقامات تک لگا سکتے ہیں۔ گھروں میں اگر لوگوں کا شعور بہتر نہیں کیا گیا،ان کی اخلاقی حس بیدار نہیں کی گئی تو وہ ہزار چور دروازے نکال لیں گے ۔ معاشرے کی تعمیر کا بہترین طریقہ تین نکات پر مشتمل ہے :

اول ، معاشرے کا تعلیمی معیار بہتر کیا جائے ۔

دوم ، تعلیم کی رو شنی میں تربیت کا اہتمام کیا جائے ۔

سوم ، سوسائٹی کے بڑے لوگ ضبط نفس کا مظاہرہ کریں اور اخلاقی اقدار کا نمونہ پیش کریں۔

سوسائٹی کی تعمیراسی طرح ہو سکے گی نہ کہ قانون کی پابندیوں سے۔ ڈش اور کیبل خود کوئی پروگرام نشر نہیں کرتے ، آدمی ہی اسے استعمال میں لاتا ہے ۔ ا س لیے آدمی کو آدمی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ ہمارا مذہبی طبقہ سوسائٹی کی اصلاح کے صرف ایک ہی طریقہ پر زو ر دیتا ہے کہ حکومت قانون نافذ کرے۔ جب کہ سوسائٹی کا علم رکھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ قانون کے نفاذ سے اسی صورت میں فائدہ ہوتا ہے جب سوسائٹی کی بڑی تعداد تعلیم و تربیت کے ذریعے سے درست کر دی جائے ۔

سوال : پورنو گرافی اور بلیو فلمیں جس طرح سے ناپختہ ذہنوں کو ناکارہ بنا رہی ہیں ، کیا ان پر پابندی کے علاوہ کوئی اور طریقۂ کار موثر ہو سکتا ہے ؟

جواب : بات یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیت اور قوت کا ۹۰فی صد حصہ تعلیم ، تربیت اور اچھا نمونہ پیش کر کے لوگوں میں اخلاقی شعور بیدار کرنے میں خرچ کریں ۔ اس کے بعد جہاں کہیں واضح اور مجرمانہ انحراف سامنے آئے ، وہاں پابندی بھی لگا دیں۔ پابندی اگر اتنی ہی حدود میں لگائی جائے تو موثر ہوتی ہے ۔ اب کسی کو بلیو فلم بازار سے لا کر چلانے کی ضرورت نہیں، انٹرنیٹ پر سب کچھ میسر ہے ، آپ کہاں کہاں پابندی لگائیں گے ۔ میرے نزدیک قانون کا استعمال انتہائی محدود اور پبلک مقامات پر ہونا چاہیے ۔ انفرادی زندگی کی اصلاح کا واحد راستہ تعلیم و تربیت اور بڑے لوگوں کی طرف سے ضبط نفس کا مظاہرہ ہے ۔ بڑے لوگوں سے مراد سوسائٹی کے وہ لوگ ہیں جن کو کوئی حیثیت حاصل ہوتی ہے ، خواہ وہ سیاسی لحاظ سے ہو ، خواہ معاشرتی ہو ، خواہ علمی لحاظ سے ہو ۔ ان کا نمونہ سامنے رہنا چاہیے اور ان کو مسلمان سوسائٹی کی تربیت کرنی چاہیے ۔ خلفاے راشدین نے تو شاید ہی کسی چیز پر قانونی پابندی لگائی ہو، تعلیم و تربیت اور سیاسی رہنماؤں کے انتخاب میں غیرمعمولی احتیاط سے معاشرہ کو درست کیا ۔ میرے نزدیک پابندی سے کہیں کوئی مسئلہ آج تک نہ حل ہوا ہے اور نہ حل ہونے کا کوئی امکان ہے۔

سوال : ہمارے ہاں طوائف جس طرح کوٹھے سے نکل کر سڑک پر آ گئی ہے ۔ ایک تاثر یہ ہے کہ اگر اسے سختی سے نہ روکا گیا تو یہ ہر گھر کے دروازے پر کھڑی ہو گی ۔ آپ کے خیال میں ایک عورت کیوں کر طوائف بنتی ہے اور اسے کیسے اس غلاظت سے نکالا جا سکتا ہے ؟

جواب : اس کا بھی سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں ہے کہ پہلے ان عوامل کو دور کیا جائے جو طوائف بننے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس کے بعد بہت معمولی انحراف رہ جائے گا۔ اس کے عوامل سیاسی ، سماجی اور معاشی ہیں ۔طوائف کے کلچر پر جو کچھ لکھا گیا ہے۔ اگر آپ اس کامطالعہ کریں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اپنی آزادانہ مرضی سے یہ راستہ اختیار کرنے والی عورتیں ایک فی کروڑ بھی نہ ہوں گی ۔ سوسائٹی کے ظلم طوائف کو جنم دیتے ہیں ۔

سوال : کیا آپ طوائف بننے کے سیاسی عوامل کی کچھ وضاحت کرنا پسند فرمائیں گے ؟

جواب : سیاسی عوامل اصل میں سماجی عوامل کے بل پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ برصغیر کی سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ نوے فی صد جاگیردارانہ سماج سے پیدا ہوتی ہے ۔ اقتدار اس کو جاگیرداری دیتی ہے ۔ پھر اس اقتدار کو سیاسی عمل سے قوت حاصل ہوتی ہے ۔ یہ چیز سوسائٹی کے پسے ہوئے طبقات پر ظلم کی قوت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے ۔ جب کسی اچھی شکل و صورت کی لڑکی کی عزت کسی گاؤں میں محفوظ نہ رہے ۔ بے شمار خواتین بے ہودہ رسوم کی بھینٹ چڑھا دی جائیں ۔ عزت اور غیرت کے تصورات مصنوعی اور حقائق سے ماورا ہوں تو طوائف جنم لیتی رہتی ہے ۔ ان عوامل کو دور کیے بغیر اس کی اصلاح ممکن نہیں ۔

سوال : مگر طوائف کے سڑک پر آنے سے جو خرابیاں جنم لے رہی ہیں ، کیا اس صورت حال کا فوری ازالہ ضروری نہیں ؟

جواب : اصل چیز اس کے سٹرک پر آنے کو روکنا نہیں ، بلکہ اس کے پیچھے اس آنے دو کے عمل کو روکنا ہے ۔ جب آپ اسے روک دیں گے تو پھر اس کو قانون کی طاقت سے روکا جا سکتا ہے ۔ ایسے کبھی نہیں ہوتا کہ بند باندھ دینے سے سیلاب رک جائے ، جب تک آپ پانی کے منبع کو کنٹرول نہیں کریں گے ، سیلاب آتا رہے گا ۔

میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے ہاں اتنی زیادہ مذہبی تنظیمیں ہیں کیا کبھی کسی تنظیم نے کوئی ایسا سیل بنایا کہ جو مطالعہ کرے کہ طوائف کیوں جنم لے رہی ہے ؟کوئی عورت آسانی کے ساتھ اپنا گھر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتی ۔ ہر طوائف کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عمر دس سال سے زیادہ نہیں ۔ اس کے بعد اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا ۔ اگر ہم ان عوامل کو درست کریں اور اس کے بعد قانون کا استعمال کریں تو اس سے بہتری پیدا ہو گی ۔

سوال : غامدی صاحب ! اسلام میں پردے کا کیا تصور ہے ؟ کیا خواتین کے لیے چہرہ ڈھانپنا ضروری ہے ؟

جواب : میں پردے کا لفظ مناسب نہیں سمجھتا ۔ میری تحقیق کے مطابق اسلام میں مردو عورت کے ملنے کے آداب بتائے گئے ہیں اور یہی تعبیر میں ان احکام کے لیے موزوں سمجھتا ہوں جو اس سلسلے میں قرآن میں بیان ہوئے ہیں ۔ یہ بنیادی طور پر تین باتیں ہیں :

اول ، یہ کہ مرد اور عورت اپنی نگاہوں میں حیا رکھیں۔

دوم ، ان اعضا کو نمایاں نہ کریں جو صنفی کشش کا باعث بنتے ہیں ۔ قرآن کے الفاظ میں اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے۔

اور سوم ، یہ کہ عورتیں اپنی زیب و زینت کی نمایش نہ کریں اور اپنے سینے ڈھانپ کر رکھیں۔

سوال : کیا یہ مستند حدیث آپ کی نظر سے نہیں گزری جب ام سلمہ اور حضرت میمونہ نے نابینا صحابی ابن المکتوم سے پردہ نہ کیا تو حضور اکرم نے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ ابن المکتوم نابینا ہے ۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ نابینا ہے تو کیا ہوا تم تو اسے دیکھ رہی ہو ۔ اس حدیث سے عورت کے پردے کے حوالے سے کیا تاثر ملتا ہے ؟

جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین نے ایسی فضا پیدا کر رکھی تھی کہ کسی نہ کسی اسکینڈل کا راستہ تلاش کیا جائے ۔ چنانچہ قرآن مجید نے بعض خاص ہدایات انھی کے بارے میں دی ہیں تاکہ اس طرح کے اسکینڈل بنانے کی خواہش رکھنے والوں کا سدباب کیا جائے ۔ ان میں سے ایک ہدایت یہ بھی تھی کہ قریبی عزیزوں کے علاوہ باقی لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جانے سے روک دیا گیا اور ازواج مطہرات کو بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس معاملے میں غیر معمولی احتیاط روا رکھیں ۔ چنانچہ قرآن مجید نے ان کو مسلمانوں کی مائیں قرار دیا اور ان کے ساتھ نکاح ممنوع قرار دیا ان کو ہدایت کی گئی کہ وہ سماجی زندگی میں سرگرم ہونے کے بجائے اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہیں ۔ چنانچہ گھر کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھنے والوں کو پابندکر دیا گیا کہ وہ براہ راست گھر میں داخل نہ ہوں۔ لوگ اس خاص صورت حال کا فرق نہیں سمجھتے ، اس وجہ سے بہت سے واقعات سے غلط استدلال کرتے ہیں ۔

سوال : ایک روایت یہ بھی سننے میں آتی ہے کہ اگر مرد کی کسی عورت پر نظر پڑ جائے تو پہلی نظر قابل معافی ہے ۔ بعض من چلے اس روایت کو بنیاد بنا کر پہلی نظر کو ہی طویل کر لیتے ہیں ۔ عورت پر پہلی نظر کس حد تک قابل معافی ہے ؟

جواب : اصل میں کہا گیا ہے کہ ایک نظر وہ ہے جو ضرورتاً پڑتی ہے اور ایک نظر وہ ہے جو حسن و جمال کا جائزہ لینے کے لیے پڑتی ہے تو یہ مسلمانوں کو اس دوسری نظر کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے ۔ یہ احتیاط اس کے دل کی پاکیزگی کا باعث بنتی ہے ۔

سوال : ہمارے ہاں بعض مذہبی شخصیات جو پردے کی سختی سے قائل ہیں ، ان کے گھر میں چوکی دار ، خانساماں، ڈرائیور وغیرہ جو مرد ملازم ہوتے ہیں ، ان سے پردہ نہیں کیا جاتا ، جبکہ دوسرے مردوں سے سختی سے پردہ کیا جاتا ہے ،کیا یہ لوگ ''مرد'' شمار نہیں ہوتے ؟

جواب : جب آپ کوئی خلاف فطرت اور انتہا پسندانہ طریقہ اختیار کرتے ہیں تو آدمی کو اس پر عمل میں ایسی ہی شکست ہوتی ہے ، پھر وہ اپنا بھرم بھی قائم رکھتا ہے اور چور دروازے بھی تلاش کر لیتا ہے ۔

سوال : ہمارے ہاں بعض خواتین سر پر دوپٹے کا بڑی سختی سے خیال رکھتی ہیں ،جبکہ بعض خواتین بالکل خیال نہیں رکھتی ۔ دوپٹے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟

جواب : اصل میں ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ ان کی تہذیب اور ثقافت کیا ہے اور انھیں کن حدود کا پٖابند رہ کر زندگی بسر کرنی چاہیے ۔ دوپٹا ہمارے ہاں مسلمانوں کی تہذیبی روایت ہے ، اس بارے میں کوئی شرعی حکم نہیں ہے ۔ دوپٹے کو اس لحاظ سے پیش کرنا کہ یہ شرعی حکم ہے ، اس کا کوئی جواز نہیں ۔ البتہ اسے ایک تہذیبی شعار کے طور پر ضرور پیش کرنا چاہیے۔ اصل چیز سینہ ڈھانپا اور زیب و زینت کی نمایش نہ کرنا ہے ۔ یہ مقصد کسی اور ذریعے سے حاصل ہو جائے تو کافی ہے ۔ اس کے لیے دوپٹا ہی ضروری نہیں ہے ۔

____________