حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی ﷲ عنہا


حضرت فاطمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سگی بہن تھیں۔ان کے والد کا نام خطاب اور دادا کا نام نفیل بن عبدالعزیٰ تھا۔اپنے قبیلے میں ایک ممتاز مقام رکھنے کے باوجود خطاب مال و دولت والے نہ تھے،ایک زمانے میں وہ لکڑیاں ڈھوتے تھے۔ عدی بن کعب حضرت فاطمہ بنت خطاب کے آٹھویں اور کعب بن لؤی نویں جد تھے۔عدی کے بھائی مرہ بن کعب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے آٹھویں جد تھے۔ اس طرح کعب بن لؤی پر ان کا شجرہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جا ملتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت کے موحد زید بن عمروبن نفیل بھی بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت فاطمہ کے والد خطاب بن نفیل، زید بن عمرو بن نفیل کے چچا ہونے کے ساتھ ماں جائے بھائی بھی تھے، اس لیے کہ ان دونوں کی ماں جیداء پہلے نفیل اور پھر ان کے بیٹے عمرو کے نکاح میں رہی۔ جاہلیت میں ایسی شادیاں عام تھیں، قرآن مجید نے اسے بے حیائی اور گناہ والا نکاح قرار دے کر حرام کر دیا:

وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ، اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا.(النساء ۴: ۲۲)

''ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے آبا نکاح کر چکے، مگر جوپہلے ہو چکا،سو ہو چکا۔ یقیناًیہ کھلی بے حیائی،قابل نفرت کام اور برا چلن ہے۔''

جب زید نے بتوں کی پوجا اور ان کے چڑھاوے چھوڑے اور لوگوں کو بھی ان کی عبادت سے منع کرنے لگے تو خطاب نے ان کی شدید مخالفت کی اورقبیلے کے لوگوں کے ساتھ مل کرانھیں مکہ سے نکال باہر کیا۔ خطاب نے عربوں کی مشہور جنگ حرب فجار میں بھی شرکت کی ۔

خطاب نے کثرت اولاد کی خاطر کئی شادیاں کیں ، ان کی ایک زوجہ حنتمہ بنت ہاشم بنو مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان سے حضرت فاطمہ اور حضرت عمر کی ولادت ہوئی۔ حضرت فاطمہ ،حضرت عمر اور حضرت زید بن خطاب سے چھوٹی تھیں۔

حضرت فاطمہ بنت خطاب کی شاد ی اپنے چچا کے پوتے حضرت سعید بن زید سے ہوئی۔ میاں بیوی، دونوں کا شمار قرآن مجید کے بیان کردہ 'اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ * ' میں ہوتا ہے۔ انھوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے اسلام قبول کیا، تاہم اپنا اسلام چھپائے رکھا۔ حضرت سعید کے والدزید بن عمرو بن نفیل نے دعا کی تھی کہ اے ﷲ، اگر تو نے مجھے نعمت اسلام پانے کی مہلت نہ دی تو میرے بیٹے سعیدکواس سے محروم نہ رکھنا۔ ان کی تربیت اور دعا ہی کا نتیجہ تھا کہ جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تووہ فوراً(۶۱۱ء ،۲؍ نبوی) مسلمان ہو گئے۔بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ بنت خطاب ان سے بھی پہلے ایمان لا چکی تھیں۔ابن اسحق کی ترتیب کردہ پہلے پچاس مسلمانوں کی فہرست میں حضرت سعید بن زید کا سترھواں اورحضرت فاطمہ بنت خطاب کا اٹھارواں نمبر ہے۔

ابن سعد نے '' النسب'' نامی کتاب کے حوالے سے حضرت سعید کی اہلیہ کا نام حضرت فاطمہ بنت خطاب کے بجاے حضرت رملہ بنت خطاب نقل کیااور کہا کہ یہی ام جمیل ہیں۔ کسی دوسرے حوالے سے ان کی بات کی تائید نہیں ہوتی۔ دارقطنی نے ان کا نام حضرت امیمہ بتایا۔ ابن حجر نے ان مختلف روایات میں اس طرح توافق کیا کہ نام: فاطمہ، لقب: امیمہ اور کنیت: ام جمیل ہے۔ Wikipedia کے مضمون نگار نے حضرت فاطمہ ،حضرت رملہ ، حضرت ام جمیل کو ایک ہی شخصیت قرار دیا ہے۔

حضرت فاطمہ بنت خطاب اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید مکہ ہی میں مقیم رہے اور حبشہ ہجرت نہ کی۔

حضرت عمر بن خطاب میں شدیدقومی عصبیت پائی جاتی تھی ۔وہ دین جاہلی پر اسلام کی آمد سے پڑنے والی مصیبت کو رفع کرنا چاہتے تھے۔ ۵ ؍ نبوی میں ہونے والی ہجرت حبشہ نے ان میں قریش کے تتر بتر ہونے کاشدید احساس پیدا کر دیاتھا۔انھیں اس کا حل یہی سوجھا کہ اسلامی دعوت کے منبع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں تاکہ قوم پھر متحد ہو جائے۔ ابو جہل نے انھیں سو اونٹ اورایک ہزار اوقیہ چاندی انعام دینے کا وعدہ کیا۔۶ ؍ نبوی میں وہ اپنی تلوار لہراتے ہوئے دار ارقم کو روانہ ہوئے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور چالیس کے قریب مسلمان مجتمع تھے۔ راستے میں حضرت نعیم بن عبدﷲ ملے، انھوں نے سمجھایا کہ کیوں دیوانہ ہو رہے ہو، اگر تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا تو بنو عبد مناف تمھیں جیتا نہ چھوڑیں گے۔ اپنے گھر کے معاملات کیوں نہیں سدھار لیتے ، تمھاری بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید مسلمان ہو چکے ہیں۔ حضرت عمر فوراً واپس پلٹے،بہن کے گھر میں حضرت خباب بن ارت سورۂ طٰہٰ کی تعلیم دے رہے تھے،ان کی آہٹ سن کر چھپ گئے۔ حضرت عمر اپنے بہنوئی سے گتھم گتھا ہوئے، بہن نے چھڑانا چاہاتو ان کا سر پھاڑ دیا۔آخر کار دونوں نے اقرار کر لیا کہ وہ ﷲ و رسول پر ایمان لے آئے ہیں،جو آپ کے جی میں آتا ہے کر لیں۔ اب حضرت عمر شرمندہ ہوگئے اور قرآن کا وہ صفحہ مانگا جو وہ پڑھ رہے تھے۔بہن اور بہنوئی کے اصرار پر ا نھوں نے غسل کیا، ورق ہاتھ میں لے کر آیات قرآنی تلاوت کرنے کی دیر تھی کہ ان کی کیفیت بدل گئی، وہ رونے لگے۔ حضرت خباب نے موقعے کا فائدہ اٹھایا،حضرت عمر کے سامنے آ گئے اور انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا سناکر دعوت اسلام دے ڈالی جو آپ نے حال ہی میں فرمائی تھی: ''اے ﷲ، اسلام کوابوالحکم بن ہشام (ابوجہل) یا عمر بن خطاب کی تائید عطا کر۔'' انھوں نے مزید کہا کہ ﷲ نے ابوجہل کے بجاے آپ کو دعوت نبوی کی تائید کے لیے چن لیا ہے۔ حضرت عمر نے علی الفور خدمت نبوی میں پیش ہونے کی خواہش کی،حضرت خباب انھیں کوہ صفا کے قریب دار ارقم میں لے آئے جہاں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور کچھ صحابہ جمع تھے، ان سب کے سامنے حضرت عمر ایمان لے آئے۔آپ نے ﷲ اکبر کا نعرہ بلند کر کے ان کے قبول اسلام کا خیرمقدم کیا۔

حضرت فاطمہ بنت خطاب کے علاوہ حضرت سعید بن زید کی زوجیت میں سات مزید بیویاں اور بارہ ا مہات اولاد آئیں۔ ان کی کل اولاد کا شمارچودہ لڑکے اورانیس لڑکیاں کیا گیا ہے۔حضرت رملہ بنت خطاب(یا حضرت فاطمہ بنت خطاب)سے عبداالرحمن (اکبر) نامی ایک ہی بیٹا پیدا ہوا۔

ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت خطاب نے اپنے شوہر حضرت سعید بن زید کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔ مدینہ میں ان کی زندگی کیسے گزری اور ان کی وفات کب ہوئی؟افسوس ہے کہ ہمیں اس کی کہیں سے اطلاع نہ ہو سکی۔ حضرت سعید بن زیدکو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے شام بھیج رکھا تھا، اس لیے وہ جنگ بدر میں حصہ نہ لے سکے، البتہ انھوں نے غزوۂ احد اور باقی غزوات میں حصہ لیا اور ۵۱ھ (۶۷۱ء) میں عہد اموی میں فوت ہوئے۔ ان کی مدنی زندگی کے تمام حالات کتب سیر صحابہ میں پائے جاتے ہیں، جب کہ حضرت فاطمہ بنت خطاب کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

ابن حجر نے واقدی کے حوالہ سے حضرت فاطمہ بنت خطاب سے مروی ایک روایت نقل کی ہے۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت برابر خیر میں رہے گی، جب تک (اس کے )فاسق علما،جاہل قرااور جابر حکمرانوں میں دنیا کی محبت ظاہر نہ ہو گی۔ جب ایسا ہوا تو مجھے اندیشہ ہے کہ ﷲ ان پر عمومی عذاب نازل کر دے گا۔اس سماعی روایت کے مضمون سے محسوس ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا آخری دور بھی دیکھا ہو گا۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ(ابن سعد)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، البدایۃ والنہایۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، Wikipedia۔

_____

* التوبہ ۹: ۱۰۰۔

____________