حضرت ابوسبرہ بن ابورہم رضی ﷲ عنہ


حضرت ابوسبرہ بن ابورہم کا شمار 'السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ'* میں ہوتا ہے۔ان کا تعلق قریش کی گوت بنوعامر بن لؤی سے تھا۔ عبد العزیٰ بن ابو قیس ان کے دادا اور قبیلہ کے سربراہ عامر بن لؤی آٹھویں جد تھے۔نویں جد لؤی بن غالب پر حضرت ابوسبرہ کاسلسلۂ نسب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرۂ مبارکہ سے جا ملتا ہے۔ لؤی آپ کے بھی نویں جد تھے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب حضرت ابوسبرہ کی والدہ تھیں۔ برہ ابوسلمہ بن عبدالاسدکی والدہ بھی تھیں، اس طرح ابو سلمہ حضرت ابوسبرہ کے ماں شریک بھائی ہوئے۔

بعثت کے بعد تین سال تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مخفی رہ کر اسلام کی دعوت دی۔جب اﷲ کی طرف سے اذن ہوا: 'فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ'، ''(اے رسول)، آپ کودعوت دین کا جو حکم ہوا ہے، اسے کھلم کھلا کہہ دیجیے۔'' (الحجر ۱۵: ۹۴) تو آپ نے اہل مکہ کو قرآن حکیم سناناشروع کیا اورانھیں معبودان باطلہ کو چھوڑ کر اﷲ واحد پر ایمان لانے کی دعوت دینے لگے۔غربا و مساکین کو اسلام کی طرف لپکتے دیکھ کر مکہ کے سرداروں کو اپنی پیشوائی اور اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کی خدائی خطرے میں نظر آنے لگی۔ انھوں نے ایمان لانے والے کمزوروں اور غلاموں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے۔ ۵ ؍ نبو ی میںیہ سلسلہ عروج کو پہنچا تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ سے ارشادکیا: ''اﷲکی سرزمین میں بکھر جاؤ۔'' پھر حبشہ کی طرف اشارہ فرمایا: '' وہاں ایسا بادشاہ حکمران ہے جس کی سلطنت میں ظلم رائج نہیں۔ تم وہاں رہنا جب تک اﷲ تمھارے لیے کشادگی کی راہ نکال نہیں دیتا۔'' چنانچہ نبوت کے پانچویں سال ماہ رجب میں یہ پندرہ اہل ایمان کشتی کے ذریعہ حبشہ روانہ ہوئے، حضرت عثمان بن عفان، ان کی اہلیہ حضرت رقیہ بنت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم، حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ، ان کی زوجہ حضرت سہلہ بنت سہیل، حضرت زبیر بن عوام، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد، ان کی اہلیہ حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ، حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عامر بن ربیعہ ،ان کی زوجہ حضرت لیلیٰ بنت ابوحثمہ (یا ابو خیثمہ)، حضرت ابوسبرہ بن ابو رہم، حضرت ابو حاطب بن عمرو اور حضرت سہیل بن بیضا۔ یہ تاریخ اسلامی کی پہلی ہجرت تھی۔ حضرت ابوسبرہ بن ابورہم کو مہاجرین کے اس قافلۂ اولیں میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان کے قبیلہ بنو عامر بن لؤی کے حضرت ابوحاطب بن عمرو بھی ان کے ہم سفر تھے ۔طبری نے حضرت عبداﷲ بن مسعود اور ابن جوزی نے ان کے علاوہ حضرت عبداﷲ بن بیضا کے نام کا اضافہ کیا ہے۔

شوال ۵ ؍ نبوی میں قریش کے قبول اسلام کی افواہ حبشہ میں موجود مسلمانوں تک پہنچی توان میں سے کچھ یہ کہہ کر مکہ کی طرف روانہ ہو گئے کہ ہمارے کنبے ہی ہمیں زیادہ محبوب ہیں۔ابن جوزی کے بیان کے مطابق مکہ کے قریب پہنچ کر انھیں اس اطلاع کا غلط ہونا معلوم ہوا تو حضرت عبداﷲ بن مسعود کے سوا سب حبشہ واپس ہو لیے، جبکہ حضرت ابن سعدکا کہنا ہے کہ یہ مکہ میں داخل ہوئے اورجب قوم کی طرف سے اذیت رسانی کا سلسلہ زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہواتو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں بار دگر حبشہ جانے کی اجازت دے دی۔ان کے ساتھ کئی دیگر مسلمان بھی جانے کو تیار ہو گئے۔اس ہجرت ثانیہ میں اڑتیس مرد ، گیارہ عورتیں اور سات غیر قریشی اہل ایمان شریک ہوئے۔اس بار حضرت ابو سبرہ کی اہلیہ حضرت ام کلثوم بنت سہیل بھی ان کے ساتھ حبشہ روانہ ہوئیں۔

قبیلہ بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والے جن دیگر اہل ایمان نے ہجرت ثانیہ میں شرکت کی،ان کے نام یہ ہیں: حضرت عبداﷲ بن مخرمہ، حضرت عبداﷲ بن سہیل، حضرت سلیط بن عمرو، ان کے بھائی حضرت سکران بن عمرو، ان کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت مالک بن زمعہ، ان کی اہلیہ حضرت عمرہ بنت سعدی اور حضرت ابو حاطب بن عمرو۔ بنو عامر کے حلیف حضرت سعدبن خولہ نے بھی ہجرت میں اپنے اہل قبیلہ کا ساتھ دیا۔ کچھ اہل تاریخ نے حضرت ابوسبرہ کو مہاجرین حبشہ کی فہرس میں شامل نہیں کیا۔

حضرت ابوسبرہ بن ابورہم ان تینتیس صحابہ میں شامل تھے جو آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے مکہ لوٹ آئے۔ ۱۲؍ نبوی میں حج کے موقع پراوس و خزرج کے انصار نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت نصرت کر لی تواہل ایمان کو اﷲ کی طرف سے مدینہ ہجرت کرنے کا اذن عام مل گیا۔ سب سے پہلے حضرت ابوسلمہ مخزومی شہر ہجرت پہنچے۔ پھر بیسیوں مسلمانوں نے مدینہ کا رخ کیا،ان میں حضرت عبداﷲ بن حجش، حضرت طلحہ بن عبیداﷲ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت زبیر بن عوام شامل تھے، حضرت ابوسبرہ بن ابو رہم بھی حبشہ کی طرف دوبار ہجرت کرنے کے بعد تیسری ہجرت کے لیے مدینہ رواں دواں ہوئے۔ اس طرح انھیں تمام ہجرتیں کرنے کا شرف حاصل ہوا۔مدینہ میں وہ قبا کے قریبی مقام عصبہ میں واقع انصاری قبیلہ،اوس کی شاخ بنو جحجبی (جحجبا) کی حویلی میں منذر بن محمد کے مہمان ہوئے، حضرت زبیر بن عوام بھی ان کے ساتھ ٹھہرے۔ جب انصار مدینہ سے مواخات کا موقع آیا تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقش کو حضرت ابوسبرہ کا انصاری بھائی قرار فرمایا۔

حضرت ابوسبرہ بن ابورہم تین سو تیرہ بدری صحابیوں میں شامل تھے۔ جنگ بدر میں حضرت ابوسبرہ کے علاوہ ان کی قوم کے حضرت عبداﷲ بن مخرمہ، حضرت عبداﷲ بن سہیل، حضرت عمیر بن عوف اور ان کے حلیف حضرت سعد بن خولہ نے بھی حصہ لیا۔ حضرت ابوسبرہ کو جنگ احد، جنگ خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔

عہد فاروقی: خلیفۂ ثانی سیدنا عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو چار ہزار کی فوج دے کر عراق کی مہم پر بھیجا۔ تب حضرت عمرو بن معدی کرب اور حضرت ابوسبرہ بن ابورہم کے پاس بنومذحج کی کمان تھی۔سعد اپنی پہلی منزل سیراف پہنچے ، قادسیہ کا معرکہ اس کے بعد پیش آیا۔

۱۷ ھ: فتح اہواز کے بعد خلیفۂ ثانی سیدنا عمراکثر تمنا کرتے، کاش! ہمارے اور ایران کے مابین آگ کا ایک پہاڑ حائل ہو جائے۔ ہم ان تک پہنچ پائیں نہ وہ ہم سے چھیڑ خانی کر سکیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے قادسیہ میں فتح عظیم پائی تو بحرین کے گورنر علاء بن حضرمی بھی عجمیوں کے خلاف کوئی کامیابی حاصل کرنے کی پلاننگ کرنے لگے۔ وہ حضرت ابوبکر کے زمانۂ خلافت سے بحرین کے گورنر چلے آ رہے تھے،حضرت عمر نے انھیں معزول کرنے کے بعد یہ منصب دوبارہ سونپ دیا تھا۔ انھوں نے ان کو کسی بھی سمندری مہم سے روک رکھا تھا، لیکن علاء نے اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارود بن معلی، سوار بن ہمام اور خلید بن منذر کی قیادت میں تین دستے ترتیب دیے۔ خلید جوچیف کمانڈر بھی تھے، ان دستوں کوکشتیوں میں سوار کر کے اصطخر پہنچے۔ یہ فارس کا علاقہ تھا جہاں ہربزکی حکومت تھی۔ اسلامی فوج کشتیوں سے اتری تو اہل فارس نے ساحل پر قبضہ کر کے ان کی واپسی کا راستہ مسدود کر دیا۔ خلید نے فوج کو دلاسا دیا کہ صبر اور نماز سے مدد لو، یہ سر زمین اور کشتیاں اسی کو ملیں گی جس نے غلبہ پایا۔ طاؤس کے مقام پر گھمسان کی جنگ ہوئی، فارسیوں کے کشتوں کے پشتے لگ گئے۔جیش خلید کو فتح حاصل ہوئی، تاہم سوار اور جارود جنگ میں کام آ گئے۔مسلمانوں کی کشتیاں ڈوب چکی تھیں،انھوں نے بصرہ لوٹنا چاہا، لیکن وہ فارسی فوجیں ان کے راستے میں رکاوٹ بن گئیں جو ان کے جرنیل شہرک(سہرک:ابن اثیر) نے خشکی کے راستوں پراکٹھی کر رکھی تھیں۔ حضرت عمر کو اطلاع ملی کہ جیش اسلامی خطرے میں ہے تو علاء بن حضرمی پر سخت ناراض ہوئے۔ انھیں معزول کرنے کے ساتھ حضرت عتبہ بن غزوان کو فوراً ایک بڑا لشکراصطخر بھیجنے کا حکم دیا۔ عتبہ نے اہل ایمان کو شمولیت کی عام دعوت دی۔ حضرت ہاشم بن ابو وقاص، حضرت عاصم بن عمرو، حضرت عرفجہ بن ہرثمہ، حضرت حذیفہ بن محصن اور حضرت احنف بن قیس جیسے بہادرشامل ہوئے تو بارہ ہزارکالشکر تیار ہو گیا۔ اسے انھوں نے حضرت ابوسبرہ بن ابورہم کی سربراہی میں روانہ کر دیا۔ حضرت علاء بن حضرمی کو حضرت عمر نے سرزنش کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص کی کمان میں بھیج دیا۔

حضرت ابوسبرہ نے فوج کو خچروں پر سوار کیااور سمندرکے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے طاؤس میں خلید کی محصورفوج سے جا ملے۔ فارس کی دشمن فوج نے جسے تمام اطراف سے تازہ دم فوجوں کی مدد آ چکی تھی،اسے ہر طرف سے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ جیش ابوسبرہ کے پہنچنے کے بعد دوبدو لڑائی ہوئی۔ حضرت ابوسبرہ نے فارسی فوج پر کاری ضر ب لگائی، فارسیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے اور شکست فاش کو ان کا مقدر بنا دیا۔انھوں نے بھاری مال غنیمت حاصل کرنے کے ساتھ خلید اور ان کی فوج کو حصار سے چھڑا لیا۔فتح کے بعد حضرت ابوسبرہ فوج لے کر بصرہ میں عتبہ بن غزوان کے پاس واپس پہنچ گئے ۔

گورنر بصرہ حضرت عتبہ بن غزوان نے جنگ سے فراغت پائی تو خلیفۂ دوم سے اجازت لے کر حج پر روانہ ہو گئے۔ حج کے بعد بصرہ کی طرف لوٹتے ہوئے وہ بطن نخلہ کے مقام پر گھوڑے سے گر کر جاں بحق ہوئے تو سیدنا عمر نے حضرت ابوسبرہ کوبصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ سال کا بقیہ حصہ وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔ پھر سیدنا عمر نے مغیرہ بن شعبہ کوگورنر بنایا اورجب ان کے خلاف شکایت آئی تو انھیں معزول کرکے ابو موسیٰ اشعری کو گورنرمقرر کیا۔

عراق اور اہواز فتح ہونے کے بعدشاہ ایران یزدگرد عوام کو ملامت کرتا رہا کہ تم نے عربوں کا غلبہ قبول کر لیا ہے۔اس کے بار بار اکسانے پرفارس اور اہواز کے لوگوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج تیار کر لی۔بصرہ ان کا ٹارگٹ تھا۔ مسلم کمانڈروں جزء، سلمیٰ اور حرملہ نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق کومطلع کیا تو انھوں نے ایک طرف کوفہ میں موجود حضرت سعد بن ابی وقاص کو حضرت نعمان بن مقرن کی سربراہی میں ایک بڑا لشکر ہرمزان کا مقابلہ کرنے کے لیے اہواز بھیجنے کی ہدایت کی۔ دوسری طرف بصرہ میں متعین حضرت ابوموسیٰ اشعری کو خط لکھا کہ حضرت سہل (سہیل) بن عدی کی کمان میں ایک بڑی فوج روانہ کرو۔ انھوں نے کوفہ و بصرہ کی اس مشترکہ فوج کا سپہ سالار حضرت ابوسبرہ بن ابورہم کومقرر کیا۔ نعمان کی قیادت میں اہل کوفہ نے سبقت کی، وہ رامہرمز پہنچے تھے کہ ہرمزان مسلمانوں سے صلح کا معاہدہ توڑتے ہوئے مقابلے کے لیے نکل آیا ۔ ا ہل فارس کی حمایت میں اس نے بصرہ سے ابوموسیٰ کی فوج کے آنے سے پہلے ہی جیش نعمان سے جنگ چھیڑ دی۔ دونوں فوجیں اربل (:ابن کثیر،اربک :طبری)کے مقا م پربھڑیں،شدید قتال کے بعد ہرمزان نے شکست کھائی اور شوستر(تستر)کی طرف فرار ہو گیا۔ نعمان بن مقرن نے رامہرمز پر قبضہ کرنے کے ساتھ شہر کے غلہ و خوراک کے ذخائر ،اسلحہ اور جنگی آلات اپنے ہاتھ میں لے لیے ۔

یہ اطلاع پا کر کہ ہرمزان شوستر (تستر)جا پہنچا ہے ، بصرہ کی فوج نے شوستر کا رخ کیا اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ نعمان بھی اپنی فوج لے کرپہنچے اور محاصرے میں شامل ہو گئے۔کمان حضرت ابوسبرہ کے ہاتھ تھی، انھوں نے امیر المومنین سیدنا عمر سے درخواست کی کہ ہرمزان نے بہت تیاری کے ساتھ ایک بڑی فوج اکٹھی کر رکھی ہے، اس لیے انھیں کمک بھیجی جائے۔ حضرت عمر نے گورنر بصرہ حضرت ابوموسیٰ اشعری کو خودوہاں پہنچنے کی ہدایت کی۔ شوستر کا محاصرہ کئی ماہ جاری رہا ۔کافروں نے خندقیں کھود رکھی تھیں جن کی آڑ میں وہ اسلامی فوج پر حملے کرتے اور پھر واپس چلے جاتے۔ ایسی اسی (۸۰) جھڑپیں ہوئیں جس میں طرفین کا کافی جانی نقصان ہوا۔ حضرت براء بن مالک، حضرت مجزاہ بن ثور اور حضرت کعب بن سورنے سو سو کافر جہنم واصل کیے۔ مشہور صحابی حضرت براء بن مالک مستجاب الدعوات مشہور تھے۔ وہ بھی لشکر میں شامل تھے، سپاہیوں نے ان سے دعا کی درخواست کی ۔انھوں نے رب سے التجا کی: اے اﷲ ! ان کافروں کوہمارے ہاتھوں شکست دے اور مجھے شہادت سے سرفراز کر۔اس دعا کے ساتھ ہی مسلمانوں نے ایسی یور ش کی کہ کافر خندقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے اور جب خندقوں پر بھی چڑھائی ہوئی تو وہ شہر میں گھس گئے اور دروازے مقفل کر لیے۔چند دن گزر ے تھے کہ محاصرہ ان پر دشوار ہوگیا، ایک شہری نے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے امان مانگی کہ وہ مسلمانوں کو شہر میں داخل ہونے کا راستہ بتائے گا۔اس نے انھیں وہ نالہ دکھایا تھا جس کے ذریعے شہر کو پانی سپلائی ہوتاتھا۔کچھ دلیررضاکارسامنے آئے ،رات کے اندھیرے میں وہ بطخوں کی طرح تیرتے ہوئے شہر شوستر (تستر) میں داخل ہوئے، حضرت عبداﷲ بن مغفل ان میں پیش پیش تھے۔انھوں نے دربانوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور دروازے کھول دیے ۔ فجر کے وقت مسلم فوج شوستر میں داخل ہو چکی تھی،اس دن فجر کی نماز طلوع آفتاب کے بعد پڑھی گئی ۔

شہر فتح ہونے کے بعد ہرمزان قلعہ بندہو گیا،کچھ نڈر مسلمانوں نے پیچھاکر کے اسے جا لیا ۔اس نے یکا یک تیر اندازی شروع کر دی، حضرت براء بن مالک اور حضرت مجزاہ بن ثور کو شہید کرنے کے بعد چلایا: میرے ترکش میں سو تیر ہیں، جو بھی آگے بڑھے گا، اسے مارڈالوں گا۔سو آدمی مروانے کے بعد تم نے مجھے پکڑا تو کیا فائدہ؟تو تم کیا چاہتے ہو؟ پوچھا گیا۔میری جان بخشی کر دو ، میں اسلام قبول کرتا ہوں ،مجھے عمر کے پاس لے چلو ۔وہ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر دیں۔پھر تیر کمان پھینک کر خود کو حوالے کر دیا۔ حضرت ابوسبرہ بن ابورہم نے حضرت انس بن مالک اور حضرت احنف بن قیس کی نگرانی میں ہرمزان کو سیدنا عمرکے پاس مدینہ روانہ کیااور خود فوج لے کر شکست خوردگان فارس کا پیچھا کرتے ہوئے سوس پہنچے۔ حضرت نعمان بن مقرن اور حضرت ابوموسیٰ ان کے ساتھ تھے، تاہم سیدنا عمر کے حکم پر حضرت ابوموسیٰ بصرہ لوٹ آئے۔

سوس پہنچ کر حضرت ابوسبرہ نے شہر کا محاصرہ کر لیا، ہرمزان کا بھائی شہریار یہاں کا حکمران تھا۔قلعہ بند وقفوں سے مسلمانوں پر حملہ کرتے اور فوجیوں کو زخمی کر کے چلے جاتے۔ ایک دن شہرکے راہب اورقسیس نمودار ہوئے اور کہا:عرب کے رہنے والو، ہمارے بزرگوں نے پیش گوئی کر رکھی ہے کہ سوس صرف دجال کے ہاتھوں فتح ہو گا۔اگر تم میں کوئی دجال نہیں تو محاصرے کی مشقت نہ اٹھاؤ۔نعمان کو نہاوند جانے کا حکم ہوا تو جانے سے پہلے ایک بار پھر قلعہ بندوں کو جنگ کی دعوت دی۔ را ہبوں نے قلعے کی فصیل سے جھانک کر اپناپہلا جواب دہرایا۔جیش نعمان میں شامل فوجیوں نے کہا: ہم جانے سے پہلے لڑائی ضرور کریں گے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری کی سپاہ کے ایک سپاہی صاف بن صیاد بھی اس روز نعمان کے ساتھ تھے۔ انھیں غصہ آیاتو قلعۂ سوس کے دروازے کو ٹھوکر مارکر بلند آواز میں پکارے : کھل جا۔اہل سوس سمجھے کہ دجال آ گیا،یکا یک زنجیریں شکستہ ہوئیں ، تالے ٹوٹے اور دروازے کھل گئے اور اسلامی فوج شہر میں داخل ہو گئی۔ شہر کے باسیوں نے صلح!صلح!پکار کر ہتھیار ڈال دیے۔ حضرت ابوسبرہ بن ابورہم نے مقترب بن ربیعہ کو سابور کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے زر بن عبداﷲکے پاس بھیج دیا۔

فتح کے بعد شہر والوں نے حضرت ابوسبرہ کو ایک میت دکھائی اور بتایا کہ یہ اﷲ کے نبی دانیال علیہ السلام کا جسد ہے۔ابوسبرہ نے میت ان کے پاس رہنے دی، جب وہ سابور کی فوجوں کا مقابلہ کرنے گئے تو حضرت ابوموسیٰ اشعری سوس لوٹ آئے اور اس باب میں امیر المومنین سیدنا عمر سے مکاتبت کی۔ حضرت عمر نے میت کی تدفین کا حکم دیا۔ چنانچہ دانیال علیہ السلام کے جسد کی تجہیز و تکفین کر دی گئی۔

فتح سوس کے بعد نعمان بن مقرن نے نہاوند کا رخ کیا، جبکہ مقترب بن ربیعہ اور زر بن عبداﷲ سابور کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ حضرت ابوسبرہ بھی وہاں روانہ ہو گئے۔ صبح و شام جنگ کی تیاری تھی، دو ماہ گزر گئے تھے کہ اچانک شہر والے دروازے کھول کر باہر نکل آئے،مویشی بھی ان کے ساتھ تھے ۔مسلمان حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟اہل سوس نے بتایا کہ انھیں جزیہ ادا کرنے کی شرط پر امان کی پیش کش ہوئی تو انھوں نے قبول کر لی۔ہم نے تو ایسی کوئی پیش کش نہیں کی ،انھیں بتایا گیا۔تب معلوم ہوا کہ اسلامی فوج میں شامل ایک غلام مکنف نے صلح نامہ لکھ دیا تھا۔سب نے کہا : یہ تو ایک غلام ہے۔سوسیوں نے کہا: ہم غلام، آزاد کو نہیں جانتے ، ہم تو صلح پر قائم ہیں۔تم چاہو تو عہد شکنی کر ڈالو۔ اب امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب سے ہدایت لی گئی۔انھوں نے جواب لکھا: اﷲ تعالیٰ نے ایفاے عہد کی بڑی عظمت بیان کی ہے۔تم ایفا کیے بغیر اس عظمت کو حاصل نہیں کر سکتے۔ عہد نبھاؤ اور وہاں سے چلے آؤ۔

نبی آخر الزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوسبرہ بن ابورہم نے مکہ میں سکونت اختیار کر لی۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعدبدری صحابہ میں سے حضرت ابوسبرہ کے سوا کوئی مکہ منتقل نہ ہوا۔اس لیے عام مسلمانوں نے یہ بات پسند نہ کی۔ حضرت ابوسبرہ کے بیٹوں نے اسے خلاف حقیقت قرار دیا ہے ۔

حضرت ابوسبرہ بن ابورہم کی وفات عہد عثمانی میں ہوئی۔

حضرت ام کلثوم بنت سہیل سے حضرت ابو سبرہ کے بیٹے محمد، عبداﷲ اور سعدپیدا ہوئے۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبوےۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم و الملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جوزی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، البداےۃ و النہاےۃ (ابن کثیر)، کتاب العبرودیوان المبتداء والخبر (ابن خلدون)، الاصابہ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)۔

_____

* التوبہ۹: ۱۰۰۔

____________