حضرت علی رضی اللہ عنہ (۲)


مسجد نبوی کی تعمیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہرہجرت میں مسجد کی تعمیرکا ارادہ فرمایا تواکابرصحابہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔حضرت علی مٹی ،روڑے ڈھونے کے ساتھ یہ رجزپڑھتے جاتے:

لا یستوي من یعمر المساجدا یدأب فیہ قائمًاو قاعدا

ومن عن الغبار حائدا

" وہ ایمان والا جو مسجدیں تعمیر کرتا اورقیام و قعود کرتے ہوئے مسجد میں وقت گزارتا ہے اور وہ مسلمان جو گرد وغبار سے بچ بچ کررہتا ہے،برابر اور ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔"

حضرت عثمان بن عفان(دوسری روایت :حضرت عثمان بن مظعون) نے سمجھ لیا کہ حضرت علی ان پر طنز کر رہے ہیں، حالاں کہ یہ فخریہ اشعار تعمیر کے کام میں چستی اورمسابقت کی فضا پیدا کرنے کے لیے پڑھے گئے۔ ابن ہشام کہتے ہیں:یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ رزمیہ ابیات حضرت علی کے اپنے تھے یا کسی اورکے کہے ہوئے تھے۔حضرت عمار بن یاسر بھی انھیں گنگناتے رہے۔

مواخات

مدینہ تشریف آوری کے پانچ ماہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس بن مالک کے گھر تشریف لے گئے اور انصار و مہاجرین کوجمع کر کے فرمایا:اللہ کی خاطر دو دوکر کے آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ آپ نے کل پینتالیس مہاجر ین کو اتنے ہی انصار کا بھائی بند قرار دیا۔یہ مواخات یابھائی چارہ محدود نہ تھا، مدنی زندگی کے ابتدائی دو سال میں یہ دینی بھائی ایک دوسرے کی وراثت بھی پاتے رہے۔ آپ نے حضرت علی کی مواخات حضرت سہل بن حنیف انصاری سے قائم فرمائی۔یہ روایت کہ اس موقع پر آپ نے حضرت علی کا ہاتھ تھام کر کہا:یہ میرا بھائی ہے،درست نہیں۔ابن کثیر کہتے ہیں:اس مضمون کی تمام روایات ضعیف السند ہیں۔اصل میں مہاجرین کے مابین بھائی چارہ مکہ میں قرارپایا تھا۔تب آپ نے اپنے آپ کواور حضرت علی کو ، حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کو،حضرت ابوبکر و حضرت عمر کو،حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو اور حضرت زبیر بن عوام اور حضرت عبداللہ بن مسعود کوبھائی بھائی قرار دیا تھا ۔کچھ اہل تاریخ کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار میں موافقت پیدا کرنے کے لیے مواخات قائم فرمائی، اس لیے ایک مہاجر کی دوسرے مہاجر سے مواخات کے کوئی معنی نہیں بنتے۔ آپ کا علی کو اپنا بھائی قرار دینے کا مطلب یہ تھا کہ وہ بچپن سے اپنے والد ابوطالب کی زندگی ہی میں آپ کے زیر سایہ اور زیر کفالت رہے۔

اذان کی ابتدا

ہجرت کے پہلے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو نماز کے لیے مسجد میں بلانے کا طریقہ وضع کرنے کے لیے صحابہ سے مشورہ کیا تو حضرت عبداللہ بن زید انصاری اور حضرت عمر بن خطاب نے اپنے اپنے خواب سنائے ۔انھیں اللہ کی طرف سے اذان کے کلمات تلقین کیے گئے تھے۔ اس ضمن میں سہیلی نے حضرت علی سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے معراج کے موقع پر حضرات انبیا کی نماز کی امامت فرمائی تو ایک فرشتے نے پردے سے نکل کر انھی کلمات میں اذان کہی اور آپ کا ہاتھ پکڑ کرآگے کر دیا (السیرۃ النبویۃ، ابن کثیر ۲/ ۳۳۷)۔ ابن کثیر نے اس روایت کو منکر قرار دیا اور اعتراض کیا ہے کہ اگر یہ بات درست ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے مشورہ کرنے کے بجاے سیدھاوہی اذان کہنے کا حکم صادر فرماتے۔

سلسلۂ غزوات و سرایا

'اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ. اِۨلَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّا٘ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ'،"جن کے خلاف جنگ برپا کی گئی ،انھیں لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے بوجہ اس کے ان پر ظلم کیا گیا۔یقیناً اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری طرح قادر ہے جو ناحق ،محض اس قصورپر اپنے گھروں سے نکالے گئے کہ وہ کہتے تھے،اللہ ہی ہمارا رب ہے " (الحج ۲۲: ۳۹- ۴۰)۔ یہ اللہ کاپہلا اصولی حکم تھا جو قتال کے بارے میں رجب یا شعبان ۲ھ میں نازل ہوا۔اس با ب کااگلا حکم صریح تھا: 'وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا'،"اور اللہ کی راہ میں قتال کرو ان لوگوں سے جنھوں نے تم سے جنگ کی مگرتم زیادتی نہ کرنا" (البقرہ ۲: ۱۹۰)۔ چنانچہ غزوات و سرایا کا سلسلہ شروع ہوا۔ حضرت علی غزوۂ تبوک کے علاوہ ہر جنگ میں اور ہر اہم موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔

غزوۂ ذو العشیرہ

جمادی الاولیٰ ۲ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو جانے والے قریش کے ایک قافلے کا تعاقب کرنے کے لیے مکہ کے راستے پر واقع قصبہ ذو العُشیرہ تک گئے۔حضرت حمزہ نے آپ کا علم تھام رکھا تھا،حضرت علی اور حضرت عمار بن یاسر بھی ساتھ تھے۔ایک ماہ کے قیام کے دوران میں آپ نے بنومدلج اور بنوضمرہ سے صلح کے معاہدے کیے۔ ایک قول کے مطابق اسی غزوہ میں آپ نے ان کو ابوتراب کا لقب عنایت کیا۔ اس کی تفصیل یہ ہےکہ حضرت علی اورحضرت عمار بن یاسر نے بنو مدلج کے لوگوں کو کھجوروں کے باغ میں کام کرتے دیکھا توآپ سے اجازت لے کر انھیں دیکھنے گئے۔پھرتے پھراتے انھیں نیند محسوس ہوئی تو ایک کھجور کے نیچے مٹی پر لیٹ گئے۔دونوں سوئے پڑے تھے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر جگایا۔آپ نے حضرت علی کا جسم ہلا کر فرمایا: اٹھو، ابو تراب ، میں تمھیں بدبخت ترین انسان کانام بتاؤں،قوم ثمود کا احیمر جس نے شعیب علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں(السنن الکبریٰ نسائی، رقم ۸۴۸۵۔ مسند احمد، رقم ۱۸۳۲۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۴۶۷۹)۔ دوسری روایت میں اس لقب کی وجہ تسمیہ مختلف بتائی گئی ہے۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی کونہ پایا۔آپ نے پوچھا: تمھارا چچیرا کہاں ہے؟ حضرت فاطمہ نے جواب دیا: میرے اور ان کے بیچ کچھ جھگڑا ہوا تو وہ غصہ کر کے باہر نکل گئے ہیں اور گھر میں نہیں سوئے۔آپ نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: جاؤ،دیکھو،علی کہاں ہیں۔ اس نے آ کر بتایا: یارسول اللہ ،وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ آپ گئے توحضرت علی پہلو کے بل لیٹے تھے ، ایک طرف سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور جسم پر مٹی لگی تھی۔ آپ مٹی پونچھتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے:اٹھو ،ابو تراب ،اٹھو ،ابو تراب ، (اومٹی والے) (بخاری، رقم ۴۴۱۔ مسلم، رقم ۶۳۰۸)۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی منبر پر بیٹھ کرحضرت علی کو ابوتراب کے نام سے پکارتے ، مدینہ کے ایک گورنر نے سمجھا کہ وہ انھیں برا بھلا کہتے ہیں ۔اسے بتایا گیا : یہ لقب تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ ہے۔

کرز بن جابر کا تعاقب

ربیع الاول ۲ھ میں کرز بن جابر مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کر کے کئی مویشیوں کو ہانک کر لے گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ کو مدینہ کا قائم مقام حاکم مقرر فرما کرکے اس کے تعاقب میں نکلے۔ حضرت علی آپ کا علم اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ بدر تک گئے لیکن کرزنہ مل پایا تو لوٹ آئے۔ اسے پہلا غزوۂ بدر کہا جاتا ہے۔

غزوۂ بدر

اواخرجمادی الثانی ۲ھ (جنوری۶۲۴ء ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی سرگرمیوں کی خبر لینے کے لیے حضرت عبداللہ بن جحش کی سربراہی میں نو مہاجرین کا ایک سریہ روانہ کیا۔نخلہ کے مقام پر ان کا سامنا قریش کے چاررکنی قافلے پر ہوا جو کشمش، کھالیں اور دوسرا سامان تجارت شام سے لے کرمکہ لوٹ رہا تھا۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک حرام مہینے میں ان پر حملے کا فیصلہ کیا۔حضرت واقد بن عبداللہ نے تیر مار کر قافلے کے سردار عمرو بن حضرمی کو قتل کر دیااور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو قید کر لیا۔ نوفل بن عبداللہ فرار ہو گیا ۔ا بن حضرمی تاریخ اسلامی کا پہلا قتیل اوراسیر بنائے جانے والے عثمان اور حکم پہلے اسیر تھے۔یہ قریش کے معززین میں شمار ہوتے تھے۔قریش پہلے ہی مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیے ہوئے تھے،اس واقعہ سے اور زیادہ مشتعل ہو گئے۔ ادھر مکہ میں یہ خبر پہنچی کہ مسلمانان مدینہ قریش کے اس کارواں کو لوٹنے آرہے ہیں جو ابوسفیان کی سربراہی میں مدینہ کے پاس سے گزرنے والا ہے۔یہ سب باتیں قریش کی اس جنگی مہم جوئی کا باعث بنیں جس کے نتیجے میں۱۷؍رمضان ۲ھ (۱۳؍مارچ۶۲۴ء ) کو بدر کے میدان میں کفر و اسلام کا فیصلہ کن معرکہ ہوا۔

حضرت علی کی عمر اس وقت پچیس برس تھی۔۳؍رمضان کو تین سوسے زائد مسلمان مدینہ سے چلے تو ان کے پاس محض ستر اونٹ تھے۔حضرت علی فرماتے ہیں: اس روزہم میں مقداد بن اسود کے علاوہ کوئی گھڑ سوارنہ تھا (نسائی، رقم ۸۲۳۔ مسند احمد، رقم ۱۰۲۳۔ مسند ابویعلیٰ۲۸۰)۔ حضرت علی ہی سے مروی دوسری روایت ہے، (قریش کے سو گھوڑوں کے مقابلہ میں ) ہماری فوج میں دو ہی گھوڑے تھے ، زبیر کا اور مقداد بن اسود کا (دلائل النبوہ، بیہقی ۳/ ۳۹)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی اورحضرت ابو لبابہ باری باری ایک اونٹ پر سوار ہوتے رہے، لیکن جب روحا کے مقام پر پہنچ کر آپ نے حضرت ابولبابہ کو مدینہ کا عامل مقرر کرکے واپس بھیج دیا تو حضرت مرثد بن ابو مرثدآپ کے شریک سفر بن گئے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیدعلم حضرت مصعب بن عمیر کے پاس تھا، جب کہ آپ کے دو سیاہ پرچموں میں سے عقاب نامی ایک پرچم حضرت علی نے اور دوسرا انصاری صحابی حضرت سعد بن معاذنے تھام رکھا تھا۔بدر پہنچ کر آپ نے کنووں کے قریب قیام فرمایا، رات ہوئی تو میدان جنگ کا جائزہ لینے کے لیے حضرت علی ،حضرت زبیر بن عوام اورحضرت سعد بن ابی وقاص کو بھیجا۔ انھوں نے قریش کے دو غلاموں اسلم اور عریض کو پانی بھرتے دیکھا تو پکڑ کر آپ کی خدمت میں لے آئے ۔آپ نے ان سے دریافت کیا کہ قریش کہاں ٹھیرے ہیں؟ تو انھوں نے بتایا:ریت کے اس ٹیلے کے پیچھے جو وادی کے دوسرے کنارے پر نظر آ رہاہے۔پھر سوال فرمایا:کل کتنے لوگ ہیں؟ کہا:بہت ہیں اور ان کی جنگی تیاری زبردست ہے۔آپ نے گنتی پوچھی تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔تب آپ نے پوچھا:وہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ جواب ملا: نو یا دس روزانہ ۔ آپ نے فرمایا: اس کا مطلب ہے کہ ان کی تعداد نوسو سے ہزار تک ہے۔

حضرت علی فرماتے ہیں:غزوۂ بدر کی رات پھوارپڑی ۔ہم درختوں اوراپنی ڈھالوں کے سائے میں ہو گئے پھر سب کو نیند نے آن لیا، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مصروف قیام رہے۔ آپ نے نوافل پڑھتے اور دعا کرتے رات بسر کی۔ آپ نے رب کے حضور التجا کی کہ اے اﷲ،اگریہ جمعیت ہلاک ہو گئی تو اس زمین میں تیری بندگی نہ ہوگی(ترمذی، رقم ۳۰۸۱۔ مسند احمد، رقم ۹۴۸۔ السنن الکبریٰ نسائی، رقم ۸۵۷۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۸۴۳۔ مسند بزار، رقم ۷۱۹)۔ قرآن مجید میں اس کا بیان یوں ہے: 'اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ'، "یاد کرو اس وقت کو جب اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان کی کیفیت طاری کر رہا تھااور آسمان سے تم پر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمھیں پاک کرے اور تم سے شیطان کے وسوسے کو دفع کرے ،تمھارے دلوں کوہمت دے اور اس کے ذریعے تمھارے قدم جمائے" (الانفال ۸: ۱۱) ۔

میدان جنگ میں حضرت علی نے مہاجرین کا پرچم اٹھایا، جب کہ حضرت سعد بن عبادہ نے انصار کا پرچم تھاما۔آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا:مشرکوں کی فوج کے قریب کھڑے حمزہ سے پوچھو، کون ہے جو سرخ اونٹ پر پھر رہا ہے؟ انھوں نے بتایا:یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو اپنی فوج کو جنگ سے باز رہنے کی اپیل کر رہا ہے۔ابوجہل نے صلح کی بات کرنے پرطعن وتشنیع کی توعتبہ،اس کا بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید بن عتبہ مبارزت(duel) کے لیے نکلے۔ انصار میں سے حضرت عوف بن عفرا،حضرت معوذ بن عفرا اورحضرت عبداللہ بن رواحہ ان کا سامنا کرنے آئے تو عتبہ نے کہا: ہمیں اپنے چچیروں بنو عبدالمطلب سے مقابلہ کرنا ہے۔ابن سعد نے حضرت ابن رواحہ کےبجاے حضرت معاذ بن عفراکا نام لیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پسند نہ کیا کہ قریش کی پہلی ٹکر انصار سے ہو۔ آپ پکارے: اے بنی ہاشم، اٹھ کر مقابلہ کرو؛ اٹھو،حمزہ ؛ اٹھو،عبیدہ بن حارث؛ اٹھو،علی ،تینوں نکل کر آئے توعتبہ نے ان کے نام پوچھے، کیونکہ جنگی لباس پہننے کی وجہ سے وہ پہچانے نہ جاتے تھے۔حضرت حمزہ نے کہا: میں شیر خدا اور شیر رسول حمزہ بن عبدالمطلب ہوں۔ حضرت علی نے کہا: میں بندۂ خدا اور برادر رسول علی بن ابو طالب ہوں۔حضرت عبیدہ نے کہا: میں حلیف رسول عبیدہ بن حارث ہوں۔ عتبہ بولا:اب برابر کے، صاحب شرف لوگوں سے جوڑ پڑا ہے۔ اولاً اس نے اپنے بیٹے ولید کو بھیجا، حضرت علی اس کے مقابلے پرآئے ۔دونوں نے ایک دوسرے پرتلوار سے وار کیا۔ ولید کا وار خالی گیا، جب کہ حضرت علی نے ایک ہی ضرب میں اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر عتبہ خود آگے بڑھا اورحضرت حمزہ اس کا سامنا کرنے نکلے۔ ان دونوں میں بھی دو ضربوں کا تبادلہ ہوااور عتبہ جہنم رسید ہوا۔اب شیبہ کی باری تھی،حضرت عبیدہ بن حارث سے اس کا دوبدو مقابلہ ہوا، دونوں نے ایک دوسرے پر کاری ضربیں لگائیں۔ حضرت عبیدہ کی پنڈلی پر تلوار لگی اور ان کا پاؤں کٹ گیا۔جنگی روایت کے مطابق حضرت حمزہ اورحضرت علی فاتح ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھی کی مدد کر سکتے تھے۔دونوں پلٹ کر شیبہ پر پل پڑے ،اسے جہنم رسید کیا اور زخمی حضرت عبیدہ کو اس حال میں اٹھا کر لے آئے کہ ان کی ٹانگ کی نلی سے گودا بہ رہا تھا۔ ان کی شہادت اسی زخم سے ہوئی (مسند احمد، رقم ۹۴۸۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۸۳۴۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۶۱۱۷۔ طبری،ابن اثیر)۔

ابن اسحاق ،طبری ،ابن اثیر اور ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت حمزہ کا روبرو مقابلہ شیبہ سے ہوا اور انھوں ہی نے شیبہ کو جہنم رسید کیا۔اس طرح عتبہ اور حضرت عبیدہ میں دوبدو جنگ ہوئی جس میں دونوں زخمی ہوئے ۔پھرحضرت علی اورحضرت حمزہ نے مل کر عتبہ کو انجام تک پہنچایا ۔ ابن سعد کی روایت اس کے برعکس ہے،ان کا کہنا ہے کہ روبرو مقابلے کے بعد حضرت حمزہ نے عتبہ کو قتل کیا، جب کہ شیبہ نے حضرت عبیدہ کا سامنا کیا۔ خلاف اکثریت ہونے کے باوجود اس روایت کو ترجیح دینا پڑتی ہے، کیونکہ یہ حقائق سے زیادہ موافقت رکھتی ہے۔ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ سے بدلہ لینے کی قسم اس لیے کھائی تھی، کہ اس کا باپ انھی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ چنانچہ اگلے برس جنگ احد ہوئی اورحضرت حمزہ حبشی غلام وحشی کا نیزہ لگنے کے بعد شہید ہوئے تواسی انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے ہندنے ان کا پیٹ چاک کر کے کلیجہ چبایااور پھر اگل دیا۔سنن ابوداؤد کی روایت ۲۶۶۵میں ایک تیسری ترتیب مذکور ہوئی ہے۔حضرت علی خود روایت کرتے ہیں:''حمزہ عتبہ کی طرف بڑھے اور میں (علی )نے شیبہ کا سامنا کیا۔عبیدہ اور ولید میں دوضربوں کا تبادلہ ہوا ،دونوں نے ایک دوسرے کو شدید زخمی کر کے گرا دیا ۔پھر حمزہ نے اور میں نے ولید کو قتل کیا اور عبیدہ کو اٹھا لائے۔'' مسند احمد، مسند علی بن ابی طالب (حد یث نمبر۹۴۸) میں حضرت علی کے الفاظ میں جنگ بدر کی تفصیل بیان ہوئی ہے، تاہم مبارزت کے ضمن میں اختصار سے کام لیاگیا ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں:غزوۂ فرقان کے دن میں نے علی کودیکھا کہ وہ مشرکوں کے سروں پر تلوارلہراتے ہوئے یہ رجزپڑھ رہے تھے:

سنحنح اللیل کأٔني جني

"میں (دشمنوں سے نمٹنے کے لیے)راتوں کوبھی بیدار رہتا ہوں گویا میں جن ہوں۔"

چنانچہ اس روز حضرت علی نے حضرت حمزہ اورحضرت زید بن حارثہ کے ساتھ مل کر ابوسفیان کے ایک بیٹے حنظلہ کو قتل کیا اور دوسرے بیٹے عمرو کو قید کر لیا۔ عمرو بن ابوسفیان عقبہ بن ابومعیط کا نواسہ تھا۔طعیمہ بن عدی،عامر بن عبداﷲاور شیطان قریش نوفل بن خویلدبھی حضرت علی کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق زمعہ بن اسود کو حضرت علی اور حضرت حمزہ نے مل کر انجام تک پہنچایا۔دیگرروایات کے مطابق عمیر بن عثمان ، حرملہ بن عمرو ،مسعود بن ابو امیہ، ابو قیس بن فاکہ،عبداللہ بن منذر ، عاص بن منبہ، ابو العاص قیس اورمعاویہ بن عامربھی حضرت علی کا شکار بنے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں بھرپور شرکت فرمائی۔ حضرت علی کہتے ہیں: آپ ہم سے زیادہ دشمن کی صفوں کے قریب تھے، حتیٰ کہ ہم آپ کی اوٹ میں ہو جاتے تھے(مسند احمد، رقم ۶۵۴۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۸۲۱)۔ ایک دفعہ حضرت علی کے ساتھیوں نے کہا:آپ سب سے بڑے بہادر ہیں۔ فرمایا:ابوبکر سب سے بڑھ کر دلیر ہیں ، جنگ بدر میں انھوں نے بڑی دلیری کا مظاہرہ کیا، تن تنہا تلوارسونت کرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے۔ جو آپ کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ،اس پر کود پڑتے۔

حضرت علی نے ایک بار خطبہ دیتے ہوئے بتایا: میں بدر کے کنویں سے پانی نکال رہا تھا کہ تیزہوا چلی ،میں نے ایسی ہوا کبھی نہ دیکھی تھی۔پھر دوبارہ شدید ہوا کی آمد ہوئی۔تیسری بار بھی ایسا ہوا۔پہلی بار حضرت جبرئیل ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ وارد ہوئے۔دوسری دفعہ حضرت میکائیل ایک ہزار فرشتوں کے جلو میں اترے۔ تیسری بار حضرت اسرائیل کی اپنے ایک ہزار ساتھی ملائکہ کے ساتھ آمد ہوئی(مسند ابویعلیٰ، رقم ۴۸۹)۔ حضرت علی ہی سے دوسری روایت ہے، غزوۂ بدر میں حضرت جبرئیل ایک ہزار (دوسری روایت: پانسو) فرشتوں کے جلو میں لشکر کے میمنہ میں اترے، جب کہ حضرت میکائیل نے ایک ہزار(یاپانسو) فرشتوں کی معیت میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف رہ کر جنگ میں حصہ لیا۔ ابوبکر میمنہ میں اور میں میسرہ میں تھا۔ قرآن مجید کی نص سے ثابت ہے کہ فرشتوں کی آمد آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں ہوئی: 'اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّيْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِيْنَ'، "جب آپ اپنے رب سے مدد کی التجا کر رہے تھے تواس نے آپ کی پکار کا جواب دیاکہ میں تمھاری مددکے لیے ایک ہزارفرشتوں کے پرے کے پرے بھیج رہا ہوں" (الانفال ۸: ۹)۔ حضرت علی نے وضاحت کی ، جنگ بدرکے دن فرشتوں کی علامت سفید عمامے تھے جن کے سرے انھوں نے اپنی کمروں پر لٹکا رکھے تھے ، حضرت جبرئیل نے زرد رنگ کا عمامہ لے رکھا تھا۔ فرماتے ہیں: میں نے کچھ دیر قتال کیا، پھر بھاگتا ہوا دیکھنے آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں؟ آپ سجدہ ریز تھے۔ میں کچھ وقت جنگ میں شامل ہو کر پھر آپ کو دیکھنے آیا تو بھی آپ سجدے میں پڑے تھے۔ تیسری دفعہ آیا تب بھی آپ سجدے میں گرے یا حی،یا قیوم کا ورد کر رہے تھے۔ آپ اسی طرح دعا فرماتے رہے، حتیٰ کہ اللہ نے فتح عطا کر دی(مستدرک حاکم، رقم ۸۰۹)۔

سدی کی روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا: مجھے زمین سے کچھ کنکریاں اٹھا کر دو۔حضرت علی نے خاک آلود کنکرآپ کو پکڑائے توآپ نے مشرکوں کو دے مارے۔ہر مشرک کی آنکھوں میں کچھ نہ کچھ خاک جا پڑی۔اس کے بعد مسلمانوں نے زوردار حملہ کیا اور کٹے کافروں کو مارنے اور قید کرنے لگ گئے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اسی طرف اشارہ کر رہی ہے: 'وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰي'،"وہ مٹھی بھر خاک جب آپ نے پھینکی تو اس کا پھینکنا آپ کا نہ تھا، بلکہ اللہ نے اسے پھینکا تھا " (الانفال ۸: ۱۷)۔

میدان بدر سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفرا کے مقام پر پہنچے تو حضرت علی کو حکم دیا کہ نضر بن حارث کو قتل کر دو۔جب آپ عرق ظبیہ تک آئے توآپ کے ارشاد پر حضرت عاصم بن ثابت نے عقبہ بن ابومعیط کو جہنم رسید کیا۔ زہری کہتے ہیں:اسے بھی حضرت علی نے انجام تک پہنچایا۔ غزوۂ فرقان میں قید ہونے والے یہ دونوں مشرک مکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذائیں دیتے رہے تھے۔

جنگ بدر میں ستر مشرک مارے گئے اور اتنے ہی قید ہوئے ۔مکرز بن حفص سُہیل بن عمرو کا فدیہ دینے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر ، حضرت علی اورحضرت عمر سے مشورہ کیا کہ قیدیوں سے کیا سلوک کیا جائے؟حضرت ابوبکر نے کہا:یہ ہمارے اپنے خاندانوں کے ہیں،کچھ بھائی اورکچھ چچیرے ہیں۔میرا خیال ہے کہ فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دیا جائے۔اس طرح ہمیں کچھ قوت حاصل ہو گی اور یہ امید بھی رہے گی کہ اللہ انھیں راہ یاب کرے تو ہمارے دست و بازو بن جائیں۔ حضرت عمر نے کہا : میں ابوبکر والا مشورہ نہ دوں گا۔ میرا خیال ہے کہ فلاں شخص کو میرے سپرد کیاجائے،حمزہ کا بھائی ان کے حوالے کیا جائے اور عقیل علی کو دیا جائے اورہم سب اپنے اپنے ہاتھوں سے ان کی گردنیں اڑا دیں۔اس سے پہلے حضرت علی آپ کے حکم سے نضربن حارث اورعقبہ بن ابومعیط کو قتل کرچکے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر کی راے پسند آئی اور آپ نے اسی پر عمل کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت وعید نازل ہوئی (مسلم، رقم ۴۶۱۰۔ مسند احمد، رقم ۲۰۸۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۷۸۳۹۔ مسند بزار، رقم ۱۹۶)۔

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاعباس بن عبدالمطلب اور حضرت علی کے سگے بھائی عقیل نے مشرکین مکہ کی طرف سے جنگ بدر میں حصہ لیا ،شکست کے بعد دونو ں مسلمانوں کی قید میں آگئے۔عباس نے اپنا اور اپنے بھتیجوں عقیل بن ابو طالب اور نوفل بن حارث کا فدیہ دیا تویہ تینوں رہا ہوئے۔حضرت علی کو اپنے چچا اور سگے بھائی سے حاصل ہونے والی غنیمت میں سے حصہ ملا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح کی 'کتاب العتق'میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ حضرت علی کے چچا اور ان کے سگے بھائی ان کی ملکیت میں آنے کے باوجودآزاد نہ ہوئے۔اسی سے امام شافعی نے یہ فقہی مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والدین اور اولاد تو ملک یمین میں آنے کے بعد آزاد ہو جاتے ہیں، لیکن بھائی نہیں ہوتے ۔ احناف کہتے ہیں: حقیقی بہن بھائیوں اور ماں باپ کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔وہ اپنے اس مسلک کے حق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادکو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ''جس شخص کو اپنے ذو رحم محرم پر(جنگ میں یا کسی اور وجہ سے)حق ملکیت حاصل ہوجائے تووہ محرم (غلامی کی قید سے) آزاد ہو جاتا ہے''(ابوداؤد، رقم ۳۹۴۹۔ ترمذی، رقم ۱۳۶۵۔ ابن ماجہ، رقم ۲۵۲۴۔ مسند احمد، رقم ۲۰۱۶۷)۔ امام بخاری اس روایت کوضعیف قرار دیتے ہیں۔شاید ان کا خیال ہے کہ اگر بھائی اور باپ مشرک ہوں تو انھیں آزادی حاصل نہیں ہوتی۔اصل بات یہ ہے کہ جنگی قیدی ایک فرد کے نہیں، بلکہ پوری قوم کے مملوک ہوتے ہیں۔

ذوالفقار نامی تلوار منبہ بن حجاج یا اس کے بیٹے عاص بن منبہ کی تھی، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے حضرت علی کو عطا کر دی۔ایک روایت کے مطابق یہ خوات بن جبیر کی تھی جو بدر کے میدان میں چوٹ لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔

حضرت علی نے جنگ بدرکے بارے میں کچھ اشعار بھی کہے،ان میں سے دونقل کیے جا رہے ہیں:

ألم تر أن اللہ أبلی رسولہ بلاء عزیز ذي اقتدار و ذي فضل

"کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اپنے رسول کو ایسی آزمایش میں ڈالا جس سے ایک زبردست، صاحب اقتدار و صاحب فضیلت ہی گزر سکتا ہے ۔"

بما أنزل الکفار دار مذلة فلاقوا ہوانًا من إسارٍ و قتل

" ایسے غزوۂ فرقان کے ذریعے سےجس نے کفار کومسکن ذلت میں گرا دیاتو وہ قتل اور قید ہو کر انجام رسوائی کو پہنچے۔"

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)،الجامع المسند الصحیح(بخاری، شرکۃ دارالارقم )، تاریخ الامم والملوک(طبری)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)،الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)،اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ(ابن اثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)،البدایۃ والنہایۃ (ابن کثیر)،الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ(ابن حجر)، سیرت النبی (شبلی نعمانی)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں نجیب آبادی)، رسول رحمت (ابوالکلام آزاد)، قصص النبیین (ابو الحسن علی ندوی)، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ(البانی)،اسمی المطالب فی سیرۃ علی بن ابی طالب (علی محمد صلابی)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ:مرتضیٰ حسین فاضل)،سیرت علی المرتضیٰ (محمد نافع)۔

[باقی]

____________