حضرت علی رضی اللہ عنہ (۸)


مسند خلافت پر فائز ہونا

۳۵ھ :حضرت عثمان کو شہیدکرنے کے بعدبلوائی نیا امیر منتخب کیے بغیر واپس نہ جانا چاہتے تھے۔ مصری حضرت علی کو ڈھونڈتے رہے، لیکن وہ مدینہ کے باغوں میں چھپتے رہے۔ بصری حضرت طلحہ بن عبیداللہ، جب کہ کوفی حضرت زبیر بن عوام کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتے تھے۔ دونوں کے انکار کے بعد انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص اورحضرت عبداللہ بن عمر کو خلیفہ بننے کے لیے کہا تو انھوں نے کہا: ہمیں خلافت کی خواہش نہیں۔ حضرت عثمان کی شہادت کے پانچویں دن انھوں نے اہل مدینہ کو اکٹھا کر کے کہا: ایک دن کے اندر خلیفہ کا انتخاب کر لو، ورنہ ہم علی، طلحہ، زبیر اوردیگر کئی افراد کو قتل کر دیں گے۔ چنانچہ سرکردہ مہاجرین و انصار حضرت علی کے پاس آئے اور کہا: ملت کا ایک مقتدیٰ و رہنما ہونا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا: مجھے اقتدار کی کوئی خواہش نہیں، جسے تم چن لو گے، میں بھی مان لوں گا۔ صحابہ بولے: ہم آپ کے علاوہ کسی کو منتخب نہ کریں گے، کیونکہ آپ سے بڑھ کر اس منصب کا کوئی حق دار نہیں۔ آپ اسلام کی طرف سبقت کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت رکھنے میں سب سے آگے ہیں۔ حضرت علی نے کہا: میں امیر کے بجاے وزیر بننا چاہوں گا۔ لوگوں نے کہا:ہم آپ ہی کی بیعت کریں گے، آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اسلام پر کیسی مصیبت نازل ہوئی ہے اور ہمیں کیسی آزمایش سے گزرنا پڑا ہے۔ حضرت علی نے جواب دیا: تمھارے انتخاب سے کیا ہوتا ہے جب تک اہل بدر اور اہل شوریٰ مجھے خلیفہ تسلیم نہ کر لیں۔ وہ جسے چاہیں خلافت سونپ دیں، میں سب سے آگے بڑھ کر سمع و طاعت کروں گا۔ طلحہ و زبیر کی نیت بھی معلوم ہونی چاہیے۔ اصحاب بدر کوجمع کیاگیا اور ان کے اصرار پروہ بیعت لینے پر راضی ہوئے۔ پھر کہا:میں تمھیں اپنی مرضی پر چلاؤں گا اورکسی کے عتاب کی پروا نہ کروں گا۔ یہ بیعت خفیہ نہیں، بلکہ کھلے عام مسجد میں ، مسلمانوں کی رضامندی سے ہونی چاہیے (کنز العمال، رقم ۱۴۲۷۸)۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے لوگوں کو مسجد میں جمع کرنے سے روکا، لیکن حضرت علی اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ مصر کے فسادی حضرت علی کے انتخاب پر خوش تھے، جب کہ کوفہ و بصرہ کے خارحیوں کوحضرت طلحہ و حضرت زبیر کے آگے نہ آنے پر سخت غصہ تھا۔

بیعت

۲۵ ؍ذی الحجہ ۳۵ھ:جمعہ کا دن تھا، حضرت علی نے ریشمی عمامہ باندھ رکھا تھا، ایک کمان سے ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور کہا:کل ہم ایک فیصلہ کر کے جدا ہوئے تھے جس پرمیں راضی نہ تھا۔ تم اگر اب بھی اس فیصلے پر عمل کرنا چاہتے ہوتو ٹھیک، ورنہ مجھے کسی سے کوئی گلہ نہ ہو گا۔ سب نے کہا:ہم اسی پرقائم ہیں۔ پھر انھوں نے حضرت طلحہ و حضرت زبیر سے کہا:اگر تم چاہو تو میں تمھا ری بیعت کر لوں۔ دونوں نے کہا : ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت طلحہ بن عبیداللہ نے اپنے مفلوج ہاتھ کے ساتھ یہ کہتے ہوئے بیعت کی کہ مجھے اس پر مجبور کیا گیا ہے۔ پھرحضرت زبیر بن عوام نے یہی الفاظ کہتے ہوئے دست بیعت بڑھایا۔ حبیب بن ذؤیب نے طنز کیا، جس بیعت کی ابتدا لنجے ہاتھ سے کی گئی ہو، مکمل نہ ہوگی۔ اصل میں بلوائیوں نے ان سے بیعت لینا ضروری سمجھا تھا، حضرت زبیر کو بصرہ کے باغیوں نے تلوار سے کچوکے لگائے، جب کہ اشتر اور اہل کوفہ حضرت طلحہ کو گھسیٹتے ہوئے بیعت کے لیے لائے۔ زیادہ تراہل ایمان نے اسی روز حضرت علی کی بیعت کر لی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اورحضرت عبداللہ بن عمر نے کہا:تمام لوگ بیعت کر لیں گے توہم بھی کرلیں گے۔ حضرت علی نے حضرت سعد کو کچھ نہ کہا۔ اشتر نے حضرت عبداللہ بن عمر کی گردن اڑانا چاہی توحضرت علی نے کہا:ان کی ضمانت میں دیتا ہوں۔ انصار کی اکثریت بیعت کرنے والوں میں شامل تھی۔ حضرت حسان بن ثابت، حضرت کعب بن مالک، حضرت مسلمہ بن مخلد، حضرت ابوسعید خدری، حضرت محمد بن مسلمہ، حضرت نعمان بن بشیر، حضرت زید بن ثابت، حضرت رافع بن خدیج، حضرت فضالہ بن عبید اورحضرت کعب بن عجرہ نے بیعت نہ کی۔ حضرت عبداللہ بن سلام، حضرت صہیب رومی، حضرت سلمہ بن سلامہ، حضرت اسامہ بن زید، حضرت قدامہ بن مظعون اورحضرت مغیرہ بن شعبہ اسی زمرہ میں شامل تھے۔ ایک روایت کے مطابق بیعت بنوعمرو بن مبذول (محصن:تاریخ بغداد)کے باغ میں ہفتے کے دن ہوئی۔ اہل کوفہ کہتے ہیں :اشتر نے ایک دن پہلے ۲۴ ؍ذی الحجہ کوبیعت کی۔ بیعت کے بعد حضرت علی نے مروان، حضرت ولید بن عقبہ اور بنوامیہ کے دیگر افراد کے بارے میں پوچھا تو انھیں بتایا گیا کہ وہ مدینہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ قاتلین عثمان نے حضرت علی کی بیعت کر کے سیاسی پناہ حاصل کر لی۔ ان مضطربانہ حالات میں حضرت علی کے لیے ان سے گریز کرنا دشوار تھا۔ شاہ ولی اللہ کہتے ہیں :و قاتلان بجز آنکہ پناہی بحضرت مرتضیٰ برندد با او بیعت کنند علاجے نیافستند(قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین ۱۴۳)۔

افتتاحی خطبہ

بار خلافت اٹھانے کے بعد حضرت علی نے افتتاحی خطبہ دیا۔ حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا: اللہ کی اطاعت کرو، اس کی نافرمانی سے بچو۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت نازل کی جس میں خیر وشر کو خوب واضح کردیا ہے۔ خیر پاؤ تو اسے اپنا لو، برائی دیکھو تو چھوڑ دو۔ نمازپڑھو، زکوٰۃ دواور اپنے امام کی نصیحت مانو۔ فرائض تم کو اللہ تک پہنچا دیں گے اور اللہ جنت میں لے جائے گا۔ اللہ نے مسلمان کی حرمت کو سب حرام اشیا پر مقدم رکھا ہے۔ مسلمانوں کے حقوق کو توحید و اخلاص سے منسلک کر دیا ہے۔ جس نے اللہ کی خاطر اپنے رشتہ دار سے نیکی کی، اللہ اسے دنیامیں اس کا اجر اور آخرت میں دگنا ثواب دے گا۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ کسی مسلمان کا خون واجب قصاص اسباب کے سوا حلال نہیں ہوتا۔ لوگ آگے آگے ہیں اور پیچھے قیامت دوڑی آ رہی ہے۔ آہستہ چلو گے تو یہ تمھیں آن لے گی۔ اللہ کے بندو ،اللہ کی زمین اور اس کے بندوں کے باب میں اللہ سے ڈرو۔ تم سے جایدادوں اور چوپایوں کے بارے میں بھی بازپرس ہو گی۔ آخرمیں انھوں نے یہ آیت تلاوت کی: 'وَاذْكُرُوْ٘ا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ'، ''اس وقت کو یاد کرو جب تم کم تعداد اور زمین میں کم زور تھے، تمھیں خوف ہی رہتا تھا کہ لوگ تمھیں ملیا میٹ نہ کردیں۔ تب اللہ نے تمھیں جائے پناہ دی اور اپنی نصرت سے تم کو مضبوط کیا اور تمھیں پاکیزہ رزق دیا، شاید کہ تم شکر گزار بنو '' (الانفال ۸: ۲۶)۔

حضرت علی خطبہ دے کرمنبر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ مصرسے آنے والے فسادیوں نے یہ شعرپڑھا:

خذھا إلیک واحذرًا یا أبا حسن

إنا نمرّ الأمر إمرار الرسن

''اے ابوالحسن ،یہ بات یاد رکھیے اور متنبہ رہیے کہ ہم اپنا کام اس طرح پایۂ تکمیل تک پہنچا تے ہیں، جس طرح اونٹ کے گلے میں رسی ڈال کربل دے دیے جاتے ہیں۔''

حضرت علی نے یہ کہہ کر جواب دیا:

إني عجزت عجزة ما أعتذر

سوف أکیس بعدها وأستمر

''میں اتنا مجبور ہو گیا ہوں کہ عذر بھی پیش نہیں کر سکتاشاید اس کے بعد میں اس کام کو سمجھ جاؤں اور اسے کر گزروں۔ ''

قصاص عثمان کا مطالبہ

حضرت علی گھر پہنچے توحضرت طلحہ، حضرت زبیر اور کچھ اورصحابہ ان کے پاس آئے اور کہا:ہم نے(بیعت کے وقت) حدود قائم کر نے کی شرط عائد کی تھی۔ یہ بلوائی عثمان کے قتل میں شامل رہے ہیں، اس لیے انھوں نے قصاص کے لیے اپنی جانوں کوحلال کر دیا ہے۔ حضرت علی نے جواب دیا: جو تم جانتے ہو، میں بھی اس سے بے خبر نہیں، پر ان لوگوں کا کیا کروں جو ہم پر حاوی ہیں اور ہمیں ان پر اقتدار حاصل نہیں۔ تمھارے کچھ غلام اور بدوبھی عثمان کے قتل میں شریک رہے ہیں۔ اس صورت حال میں کیا تم اپنا ارادہ نافذ کرنے کی قدرت پاتے ہو؟ جواب ملا: نہیں۔ حضرت علی نے کہا: جب تک لوگ ایک راے پر جمع نہ ہو جائیں قصاص لینا ممکن نہیں۔ میری طرف سے مطمئن رہو، حالات بہتر ہو جائیں تو مجھ سے رجوع کرنا۔

اس اثنا میں حضرت علی حضرت عثمان کی بیوہ نائلہ کے پاس گئے اور پوچھا:عثمان کوکس نے قتل کیا؟انھوں نے دو افراد کا حلیہ بتایااور کہا: مجھے کسی کا نام نہیں معلوم، البتہ میں حملہ آوروں کو چہروں سے شناخت کر سکتی ہوں۔ محمد بن ابوبکر ان کے ساتھ تھا۔ حضرت علی نے محمد کو بلایاتو اس نے بتایا:میں عثمان کے پاس آیا تھا، لیکن جب انھوں نے میرے والد کا ذکر کیا تو میں پیچھے ہٹ گیا۔ ان پر ہاتھ ڈالا نہ قتل میں حصہ لیا۔ نائلہ نے کہا: یہ سچ ہے، لیکن یہی قاتلوں کوگھر میں لے کر آیا۔

بنوامیہ کے لوگ مدینہ سے جا چکے تھے۔ حضرت علی کے جواب کے بعد قصاص کے مسئلے پر قریش منقسم ہو گئے۔ کچھ افراد نے ان کا ساتھ دینا بہتر سمجھا، باقیوں نے کہا:ہمیں اپنی ذمہ داری خود نبھانی چاہیے اور اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ علی اپنی راے دے چکے ہیں، آنے والے حالات میں وہ باقی قبائل کے بجاے قریش ہی کے لیے زیادہ سخت گیر ثابت ہوں گے۔ حضرت علی نے یہ بات سنی تو ان سے خطاب کیا۔ قریش کی اہمیت اوران کے فضائل بیان کرنے کے بعد حکم دیا: کوفہ، بصرہ، مصر اور دوسرے شہروں سے آئے افراد مدینہ خالی کر دیں۔ بدو اپنے چشموں پر واپس چلے جائیں۔ بدوؤں نے ان کا حکم مان لیا، لیکن فرقۂ سبائیہ(سبیئہ) نے اطاعت نہ کی۔

حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور دیگر صحابہ کی حضرت علی سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا: اب تم عثمان کے قاتلوں کو پکڑ کر اپنا قصاص لے سکتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا: بدوؤں کے جانے کے بعد بھی اشرار کی قوت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ حضرت طلحہ نے تجویز دی کہ انھیں بصرہ اور زبیر کو کوفہ کی گورنری دے دی جائے تو وہ وہاں سے فوج اکٹھی کر لائیں گے جو مدینہ کو خوارج اور قاتلین عثمان سے خالی کرادے گی۔ حضرت علی نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔

حضرت مغیرہ اور حضرت ابن عباس کا مشورہ

حضرت مغیرہ بن شعبہ کو حضرت طلحہ و حضرت زبیر کی حضرت علی سے ملاقات کا علم ہوا تووہ حضرت علی کے پاس آئے اور کہا:میں حق اطاعت اور حق نصیحت ادا کرتے ہوئے آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ عثمان کے مقررہ گورنر شام معاویہ، گورنر بصرہ عبداللہ بن عامراوردیگر گورنر وں کو ان کے عہدوں پر برقراررکھا جائے۔ یہ آپ کی بیعت کر لیں اور لوگ پر سکون ہو جائیں تو جسے چاہیں معزو ل کر دیں۔ حضرت علی نے کہا:میں ان لوگوں کوایک لمحہ کے لیے والی رکھنے پر تیار نہیں۔ اگلے دن وہ پھر آئے اور کہا:میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کی راے صائب ہے، آپ کا جس پر اطمینان ہو، اسے عامل بنائیے۔ حضرت مغیرہ نکلے تو حضرت عبداللہ بن عباس جنھیں حضرت عثمان نے امیر حج بنا کر بھیجا تھا، مکہ سے لوٹ کر حضرت علی کے پاس پہنچے۔ انھوں نے پوچھا: مغیرہ نے کیا کہا؟حضرت علی نے کہا: کل انھوں نے یہ مشورہ دیا تھا اور آج یہ کہہ دیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا:کل انھوں نے حق نصیحت اداکیا تھا اور آج خیر خواہی نہیں کی۔ حضرت علی نے پوچھا: تم کیا کہتے ہو؟حضرت عبداللہ بن عباس نے جواب دیا:بہتر تھا کہ عثمان کی شہادت کے وقت آپ مدینہ میں ہوتے، تب لوگ آپ کی خلافت پر متفق ہوتے۔ آپ جسے مرضی ہٹا دیں، لیکن معاویہ کو رہنے دیں۔ وہ صاحب جرأت انسان ہیں اور اہل شام ان کی بات مانتے ہیں، اپنے عہدے پر قائم رہیں گے تو انھیں اس کی کوئی پروا نہ ہو گی کہ خلیفۂ وقت کون ہے۔ آپ انھیں معزول کر دیں گے تو وہ کہیں گے :خلافت بغیر مشورے کے قائم ہوئی ہے اور اسی خلیفہ نے عثمان کو قتل کیا ہے۔ وہ قصاص کا مطالبہ کریں گے اور شام و عراق کے لوگ بھی باغی ہو جائیں گے۔ حضرت علی نے جواب دیا: میں معاویہ کو دو دن کے لیے بھی گورنر نہ رہنے دوں گا۔ تلوار ہی سے ان کا فیصلہ کروں گا۔ میں نے کہا: امیرالمومنین ،آپ دلیر ہیں، لیکن تدابیر جنگ سے نا واقف ہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جنگ چال بازی سے ہوتی ہے۔ حضرت علی نے کہا:تم مجھے مشورہ دیتے ہو تومیں اپنی راے بیان کرتا ہوں۔ میں تمھاری بات نہیں مانتا تو تم میری ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہو۔ حضرت ابن عباس نے کہا: میں ہر حال میں آپ کی اطاعت کروں گا۔ حضرت علی نے انھیں شام کا گورنر بنانے کی پیش کش کی، لیکن وہ نہ مانے اور کہا:معاویہ میری گردن اڑادیں گے یا کم ازکم جیل ہی میں ڈال دیں گے۔ اس کے بجاے آپ معاویہ کوخط تحریر کیجیے، ان کے ساتھ کچھ وعدے کیجیے اور ان پر احسانات کیجیے۔ حضرت علی نے کہا:ایسا ہر گز نہ ہو گا۔

گورنروں کی تقرری

۳۶ھ میں خلیفۂ چہارم حضرت علی نے گورنروں کا تقرر کیا۔ حضرت عثمان بن حنیف بصرہ کے، حضرت عمارہ بن شہاب کوفہ کے، حضرت عبیداللہ بن عباس یمن کے، حضرت قیس بن سعدمصر کے اورحضرت سہل بن حنیف شام کے گورنر مقرر ہوئے۔ حضرت سہل تبوک تک پہنچے تھے کہ گھڑ سواروں کے ایک دستے نے انھیں روک لیااور پوچھا:کون؟بتایا: گورنر شام۔ انھوں نے کہا: اگر تمھیں عثمان نے بھیجا ہے تو خوش آمدید! اور اگر کسی اور نے بھیجا ہے تو لوٹ جاؤ۔ چنانچہ وہ حضرت علی کے پاس لوٹ گئے۔ حضرت قیس بن سعد حیلہ کر کے مصر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، ایلہ کے مقام پر انھیں روکا گیا تو انھوں نے اپنے آپ کوحضرت عثمان کانمایندہ بتایا۔ ایک گروہ نے ان کی اطاعت قبول کر لی، دوسرا گروہ خرنبا(یاخربتا ) میں اکٹھا ہو گیااور اعلان کیا: اگر قاتلین عثمان مارے گئے تو ہم تمھارا ساتھ دیں گے۔ تیسرے دھڑے کا موقف تھا، ہم علی کے ساتھ شامل ہیں، مگر اس شرط پر کہ وہ ہمارے بھائیوں سے قصاص نہ لیں۔ حضرت عثمان بن حنیف کو عہد عثمانی کے گورنر عبداللہ بن عامر کی طرف سے کوئی رکاوٹ پیش نہ آئی۔ انھوں نے بآسانی بصرہ پہنچ کر امارت سنبھال لی، تاہم وہاں حضرت علی کے مؤیدین و مخالفین کے علاوہ بھی ایک گروہ تھا جو یہ کہتا تھا کہ اہل مدینہ جو طرز عمل اختیار کریں گے، ہم بھی اسی پر چلیں گے۔ حضرت عمارہ بن شہاب کو طلیحہ بن خویلد نے ڈرا دھمکا کر واپس بھیج دیا کہ لوگ اپنا گورنر بدلنا نہیں چاہتے۔ وہ بھی حضرت علی کے پاس واپس پہنچ گئے۔ حضرت عبیداللہ نے یمن جاکر عہدہ سنبھال لیا، لیکن سابق گورنر یعلیٰ بن امیہ(منیہ، والدہ کا نام:ابن اثیر) تمام سرکاری خزانہ سمیٹ کر مکہ پہنچ چکے تھے۔

[باقی]

____________