حضرت علی رضی اللہ عنہ (۱۱)


[''سیر و سوانح '' کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین

کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

فوجوں کی ترتیب

اگلی صبح حضرت علی نے اپنی ڈیڑھ لاکھ پر مشتمل فوج ترتیب دی۔انھوں نے کوفہ کے گھڑ سوار دستے پر اشتر،بصرہ کے سواروں پرحضرت سہل بن حنیف، کوفہ کی پیادہ پلٹن پرحضرت عمار بن یاسر اوربصرہ کی پیدل فوج پرحضرت قیس بن سعدکا تقرر کیا۔ پرچم حضرت ہاشم بن عتبہ کے ہاتھ دیا۔حضرت علی نے فوج کو جہاد اور صبر کی ترغیب دی۔

ایک لاکھ تیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل جیش معاویہ پانچ صفوں میں منقسم تھا، میمنہ پرحضرت ذوالکلاع حمیری اور میسرہ پر حضرت حبیب بن مسلمہ (یا اوس) متعین تھے،مقدمہ حضرت ابو اعور سلمی کے پاس، گھڑسوار دستہ حضرت عمرو بن العاص اور تمام پیادے ضحاک بن قیس کی کمان میں تھے۔ سپاہیوں نے عمامے باندھ کر موت تک لڑنے کی بیعت کی۔حضرت معاویہ نے خطاب کیا: تم شام کو بچانے اورعراق حاصل کرنے نکلے ہو۔تمھارے پاس مہارت اور بصیرت ہے۔ اپنے حلم سے ان پر غلبہ پا لو۔

جنگ کا پہلا روز

بدھ یکم صفر ۳۷ھ (دوسری روایت :ربیع الثانی ۳۷ھ )کو جنگ کا دوبارہ آغاز ہوا،اہل کوفہ کی جانب سے اشترنخعی میدان میں آیا۔اہل شام کی طرف سے حضرت حبیب بن مسلمہ اپنے میسرہ کو لے کر نکلے۔دوپہرتک سخت مقابلہ ہوا۔کسی کو غلبہ حاصل نہ ہو سکا۔

دوسرا دن

دوسرے دن حضرت علی کی جانب سے حضرت ہاشم بن عتبہ سواراو رپیدل فوج کا ایک بڑا دستہ لے کرنکلے۔ شامیوں کی طرف سے حضرت ابواعورسلمی نے مقابلہ کیا۔انتہائی سخت جنگ ہوئی، دونوں فوجوں کے کچھ آدمی کام آئے۔اس طرح دن تمام ہوا۔

تیسرا دن

جمعہ کے روز حضرت عمار بن یاسر نے علوی فوج کی قیادت کی۔ان کا مقابلہ حضرت عمرو بن العاص سے ہوا۔گھمسان کی جنگ ہوئی، حضرت عمار کی ہدایت پر سواردستہ کے سالار زیاد بن نضر نے زبردست حملہ کیا۔ان کی دعوت مبارزت پر ان کا ماں جایا نکل آیا تووہ پلٹ آئے۔ دن کے اختتام تک حضرت عمار نے حضرت عمرو کی فوج کو پرے دھکیل دیا۔

چوتھا روز

ہفتہ کے دن محمد بن علی (ابن حنفیہ)ایک زبردست لشکر لے کر نکلے۔حضرت معاویہ نے حضرت عبیداللہ بن عمر کی سالاری میں اپنی سپاہ بھیجی۔ حضرت عبیداللہ نے آتے ہی محمد بن حنفیہ کو دوبدومقابلے کے لیے للکارا۔ محمد سامنے آئے تو حضرت علی نے دیکھ لیا، اونٹنی لے کر آگے بڑھے اور حضرت عبیداللہ کو محمد کے بجاے اپنے ساتھ مقابلے کو کہا۔حضرت عبیداللہ نے کہا:میں آپ سے مبارزت نہیں کرنا چاہتا۔محمد نے کہا: آپ نے مجھے مبارزت سے کیوں روکا؟ مجھے امید تھی کہ عبیداللہ کو قتل کر دیتا۔حضرت علی نے کہا: مجھے یقین تھا کہ تو قتل ہو جاتا۔محمد بولے :اگر عبیداللہ کا باپ بھی مجھے للکارتا تو ضرور مقابلہ کرتا۔حضرت علی نے کہا: عمر کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہ کہو۔یہ دن بھی اختتام پذیر ہوا۔

پانچواں دن

پانچویں دن حضرت عبداللہ بن عباس عراقی لشکر لے کر نکلے۔ان کے مقابلے پر حضرت ولید بن عقبہ آئے۔حضرت عبداللہ لڑتے لڑتے حضرت ولید کے پاس پہنچ گئے۔حضر ت ولید نے بنو عبدالمطلب کو برا بھلا کہا اور حضر ت عبداللہ پر حضرت عثمان کے قتل کا الزام لگایاتو حضرت عبداللہ نے انھیں مبارزت کی دعوت دے دی، لیکن انھوں نے انکارکر دیا۔اس روز حضرت ابن عباس چھائے رہے۔

چھٹا روز

چھٹا دن پیرتھا،اس روز حضرت قیس بن سعد اورحضرت ذوالکلاع نے سخت معرکہ آرائی کی۔ظہر تک کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تو دونوں لشکر اپنی اپنی جگہ لوٹ گئے۔

ساتواں دن

ساتویں دن اشتر اورحضرت حبیب بن مسلمہ پھر مد مقابل ہوئے۔دوپہر تک سخت لڑائی میں کوئی نتیجہ نہ نکلاتو حضرت علی نے کہا: جب تک سب مل کر حملہ نہ کریں گے، کامیابی دشوار ہے۔شام کے وقت انھوں نے خطبہ دیا۔ حمد وثنا کے بعد فرمایا،اللہ چاہتا تو اس کی مخلوق میں سے دو افرادبھی باہم اختلاف کرتے، نہ امت خلافت کے معاملے میں کوئی جھگڑا کرتی۔ جن کو فضیلت نہیں دی گئی، صاحب فضیلت کا انکار نہ کرتے، سب اپنی اپنی تقدیر پر گام زن رہتے۔وہ چاہتا تو غلط کام کی سزا جلد نافذ کردیتا، لیکن اس نے دنیا کو دارالعمل اور آخرت کو دارلقرار بنایا 'لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰي '، ''تاکہ برا کام کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیکوکاروں کو نیکی کا انعام دے''(النجم۵۳: ۳۱)۔ آگاہ رہو!کل تمھیں مقابلہ کرنا ہے، آج رات طویل قیام کرو، قرآن کی خوب تلاوت کرو اور اللہ سے نصرت اور صبر کی دعا کرو۔ رات بھرحضرت علی نے فوج کو اسلحہ سے لیس کیا۔انھوں نے شامی فوج میں شامل قبائل کے بارے میں دریافت کیا،ان کی پوزیشنیں دیکھ کر حکم دیا کہ ہر قبیلے والا اپنے ہم قبیلہ کا مقابلہ کرے،ازد والے اہل ازدکا مقابلہ کریں اور خثعمی مقابل فوج میں شامل خثعمیوں کا سامنا کریں گے۔ شامی فوج میں بجیلہ قبیلہ کے افراد بہت ہی کم تھے، اس لیے انھوں نے اسے لخم کا مقابلہ کرنے کے لیے مامور کیا۔

آٹھواں دن

آٹھویں دن جیش علی کے میمنہ و میسرہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، تاہم جنگ سخت ہونے کے باوجود بے نتیجہ رہی۔

نواں دن

نویں دن (۲۶ ؍جولائی ۶۵۷ء)جمعرات تھی،حضرت علی نے خلاف معمول منہ اندھیرے فجر کی نماز پڑھائی، پھر فوج لے کر شامیوں پر حملہ آور ہوئے۔ فوج کے میمنہ میں حضرت عبداللہ بن بدیل کی سربراہی میں اہل کوفہ اور میسرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی کمان میں اہل بصرہ تھے۔حضرت علی قلب میں اہل مدینہ کی نگرانی کررہے تھے،کنانہ اورخزاعہ کے قبائل ان کے ساتھ تھے۔حضرت معاویہ ایک بڑے قبے میں مقیم تھے جس پرپردے لٹک رہے تھے، شامی گھڑ سوارگھیرے میں لیے اس کی حفاظت کر رہے تھے۔

حضرت علی نے اس روز جنگ کے آغاز میں دعا کی:اے اللہ،تو آسمانوں، فرشتوں، چوپایوں، کشتیوں، بادلوں اورہر غیر مرئی مخلوق کا رب ہے۔آج تونے ہمیں غالب کیا تو سرکشی و فساد سے بچانا اور اگر مغلوب کیا تو مجھے شہادت سے سرفراز کرنا اور میرے اصحاب کوفتنہ سے بچانا۔پھر اپنے لشکر سے مخاطب ہوئے:اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور جنات عدن میں عمدہ مکانات عطا ہوتے ہے۔ اللہ ان لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اس کی راہ میں صفیں بنا کر لڑتے ہیں گویا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوارہوں۔ نیزے سیدھے کر کے دانتوں کو دبا لو۔نگاہیں نیچی رکھو، اس سے دل مضبوط اورپرسکون رہتا ہے۔وقار کے ساتھ کھڑے رہنا،اپنے علم دلیروں کو تھما نا اور انھیں جھکنے نہ دینا۔ زرہ پوشوں کو آگے کرو اور بغیر زرہ والے کو پیچھے کردو۔صدق و صبر سے کام لینا، فتح تمھاری ہی ہو گی۔

حضرت عبداللہ بن بدیل نے صبر وجہادکی تلقین کی اور حضرت یزید بن قیس نے لوگوں کو جنگ پر ابھارا: اللہ کے بندو، ان ظالموں سے جنگ کرو جو احکام الہٰی کو چھوڑ کر اپنی راے سے فیصلہ کرتے ہیں۔

جیش علی کی پسپائی

جنگ شروع ہوئی توحضرت عبداللہ بن بدیل کو پیش قدمی کا حکم ملا۔انھوں نے اپنے سپاہیوں کو یہ کہہ کرانگیخت کیاکہ معاویہ نے وہ دعویٰ کیا جس کے حق دار نہ تھے،انھوں نے باطل کا سہارالے کر حق کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، ان سے جنگ کرو، اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا۔انھوں نے اپنے میمنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے میسرہ کی طرف حرکت(movement)کی، ظہر کے وقت تک وہ اسے دھکیلتے ہوئے حضرت معاویہ کے قبے تک پہنچ گئے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت معاویہ نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ابن بدیل کے میمنہ کو چھید ڈالو،انھوں نے میسرہ کے کمان دارحضرت حبیب بن مسلمہ کو جیش علی کے میمنہ پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا۔اچانک حملے سے میمنہ بکھر گیا،سپاہی پوزیشنیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، حتیٰ کہ لشکر میں شامل دوسو سے زائدقاری ہی حضرت ابن بدیل کے ساتھ رہ گئے۔ اس موقع پرحضرت علی نے حضرت سہل بن حنیف کوحملہ کرنے کا حکم دیا۔وہ اہل مدینہ کا دستہ لے کر آگے بڑھے، لیکن شامی فوج نے انھیں گھیرے میں لے لیا اور سخت یلغار کر کے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ اس طرح قلب دباؤمیں آگیا، جہاں حضرت علی موجود تھے۔وہ فوراً میسرہ کی طرف منتقل ہوئے جہاں ان کے تینوں بیٹے حسن، حسین اور محمدمتعین تھے۔ تیر ان کے کندھوں پر سے گزر رہے تھے،ان کے بیٹے ان کا دفاع کررہے تھے۔اس موقع پر قبیلہ مضر بھی بھاگ کھڑا ہوا، صرف قبیلہ ربیعہ ثابت قدم رہا۔

جنگ کے دوران میں حضرت علی نے حضرت ابوسفیان کے غلام احمر کو دیکھا۔انھوں نے اس کے قتل کا ارادہ کیا تھا کہ ان کا اپنا غلام کیسان پہلے پہنچ گیا۔ دونوں کی تلواریں ٹکرائیں اور احمر نے کیسان کو شہید کر دیا۔اس پر حضرت علی نے اسے للکارا، زرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال کراس کو اٹھایااور سر سے اوپر کر کے زمین پر پٹخ دیا۔اس کے کندھے اور بازو ٹوٹ گئے۔پھر ان کے صاحب زادوں حضرت حسین اور محمد نے تلوار کے وار کرکے اسے ختم کیا۔ اس دوران میں حضرت حسن جنگ سے گریزاں رہے۔انھوں نے حضرت علی کومشورہ دیا: اکیلے لڑنے کے بجاے جنگ میں مصروف سپاہ کے پاس پہنچ جائیں۔حضرت علی نے کہا: آج تیرے باپ کا دن ہے۔اسے ہرگز پروا نہیں کہ وہ موت پر جا پڑتا ہے یا موت اس پر آن پڑتی ہے۔

حضرت علی ربیعہ قبیلے کی بٹالین میں پہنچے اور کہا:اللہ نے ربیعہ کوصبر دیا اور ان کے قدم جمائے رکھے۔وہ بھی پکاراٹھے:اہل ربیعہ، اگر تمھارے درمیان رہتے ہوئے امیرالمومنین کا بال بیکا ہوا اور تم میں سے ایک شخص بھی زندہ بچ گیاتو تمام عرب میں رسوا ہو جاؤ گے۔اس پر جنگ کا بازار گرم ہو گیا۔ اسی اثنا میں اشتر وہاں سے گھبراتا ہواگزرا۔حضرت علی نے اسے بلا کر کہا: اے مالک،ان بھگوڑوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہہ دو،کیا تم موت سے بچ کراس زندگی کی طرف جا رہے ہو جو ہمیشہ نہیں رہے گی۔اشتر نے ان کے پاس جا کرحضرت علی کے کلمات دہرائے اور پکارا: میری طرف آؤ،میں مالک بن حارث،اشتر ہوں۔بھگوڑوں کی ایک جماعت تو آگئی،دوسری آگے گزر گئی۔وہ پھر بولا: تم نے تو اپنے آباو اجدادکو رسوا کر دیا ہے۔بنو مذحج میرے پاس آجائیں۔ وہ اکٹھے ہوئے تواس نے تقریر کی:تمھیں جنگوں اور غارت گری کا خوب تجربہ ہے، معرکوں کے شہ سوارہو اور صبح کے سفر تمھیں بہت پسند ہیں۔آج تم نے اپنے پروردگار کو راضی نہیں کیا۔میرے سامنے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرو، اللہ راست بازوں کے ساتھ ہے۔انھوں نے جواب دیا:جہاں تمھارا دل چاہتا ہے، ہمیں لے چلو۔ اشتر انھیں لے کر میمنہ کی طرف بڑھا۔

بنوہمدان کے آٹھ سو افراد صفین پہنچے تھے،ان میں سے ایک سو اسّی جوانوں اور گیارہ سرداروں نے اس جنگ میں شہادت پائی،ایک سردا ر قتل ہوتا تو دوسرا جھنڈا سنبھال لیتا۔اتنی قربانیاں دینے کے بعد انھوں نے پھر اشترکے ساتھ مل کر حلف اٹھایا کہ ہم ہرگز چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کامیاب یا ہلاک نہ ہو جائیں۔اشتر میمنہ کی طرف حرکت(move)کرتا ہوا بصرہ کے تمام دستوں کو جمع کر کے مربوط کرتا گیا۔اس نے خوب جم کر جنگ کی، حتیٰ کہ عصر تک شامی فوج کو پیچھے دھکیل دیااورحضرت معاویہ کے قبے تک جا پہنچا، جہاں حضرت عبداللہ بن بدیل پھنسے ہوئے تھے۔ اشتر کو دیکھ کر انھوں نے پوچھا: امیر المومنین کا کیا حال ہے؟صحیح سلامت، میسرہ میں موجود ہیں،اس نے بتایا۔ اب دونوں کمانڈرآگے بڑھنے لگے۔حضرت ابن بدیل سات آدمیوں کو قتل کر کے حضرت معاویہ کے قریب پہنچ گئے۔یہ دیکھ کر شامی سپاہی ہر طرف سے بڑھے اوران پر پل پڑے، انھوں نے جنگ جاری رکھی، لیکن شہید ہو گئے۔ حضرت عبداللہ بن بدیل کے کچھ ساتھی بھی شہید اور زخمی ہوئے۔حضرت معاویہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا:حملہ آوروں کے امیر کو ڈھونڈو۔سپاہی ان کو پہچان نہ پائے توحضرت معاویہ خود دیکھنے آئے۔حضرت عبداللہ بن بدیل کو دیکھ کران کی جرأت سے حیران ہوئے اور کہا: بنوخزاعہ کی عورتیں بھی ہم سے جنگ کرنے کی استطاعت رکھتی ہیں۔ پھر حاتم طائی کے اشعار پڑھے،ان میں سے ایک یہ تھا:

أخوالحرب إن عضت به الحرب عضھا و إن شمرت یومًا به الحرب شمرا ''وہ جنگوں کا خوگر ہے،جنگ اسے بھنبھوڑے تو یہ اس کوبھنبھوڑتا ہے اور اگر کسی روزجنگ شدت سے بھڑک اٹھے تو یہ بھی اسی شدت سے بھڑک اٹھتا ہے۔''

اب زیاد بن نضر نے اہل مدینہ کا علم سنبھالا،وہ بھی شہید ہوئے توحضرت یزید بن قیس نے پرچم تھام لیا۔ان کی شہادت پر اشتر بولا: صبر جمیل کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔اس اثنا میں حارث بن جمہان نے اشتر کو سر سے پیر تک لوہے میں چھپا دیکھاتوکہا: جب تک میں مرنہ جاؤں، تمھارے ساتھ رہوں گا۔ اشتر نے ابن جمہان ہی کو آگے بھیجا،انھوں نے حملہ کر کے حضرت ابن بدیل کے باقی ماندہ دستے کو شامیوں کے نرغے سے نکالا۔

جیش معاویہ کی پسپائی

اب اشتر حضرت معاویہ کی جانب بڑھا۔انھوں نے عک اور اشعر قبائل کے دستوں کے ساتھ اس کا سامنا کیا۔اشتر نے بنو مذحج کو بنو عک کا اور بنو ہمدان کو اشعریوں کا مقابلہ کرنے کو کہا۔شام تک گھمسان کی جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں شامی فوج پسپا ہو کر حضرت معاویہ کے حفاظتی حصار تک سمٹ آئی جو پانچ صفوں پر مشتمل تھا،سپاہیوں نے خود کوعماموں سے باندھ رکھا تھا۔ اشتر نے حملہ کر کے اگلی چار صفوں کو الٹ پلٹ دیا۔وہ پانچویں صف پر حملہ آور ہوا ہی تھا کہ حضرت معاویہ نے گھوڑاطلب کر کے فرار کی ٹھانی، لیکن وہ خودبتاتے تھے کہ زمانۂ جاہلیت کے شاعرابن اطنابہ کے یہ اشعارمیرے ذہن میں آئے تو بھاگنے کا خیال دل سے نکال دیا:

أبت لي شیمتي وأبی بلائي وأخذی الحمد بالثمن الربیح ''میری طبیعت نے پسند کیانہ میری شجاعت نے اور نہ میرے قابل مدح افعال کو بھاری قیمت دے کرحاصل کرنے نے ۔''وأقدامي علی المکروه نفسي وضربي ہامة البطل المشیح ''اور میرے خود آگے بڑھ کر سخت جنگ کرنے اوردلیر دشمن کی کھوپڑی پاش پاش کرنے نے۔''وقولي کلما جشأت وجاشت مکانک تحمدي أوتستریحي ''اور میری اس پکار نے جب جنگ شروع ہو ئی اور بھڑکی اور تو اپنی جگہ پر جم کر رہا توتو قابل ستایش ہو جائے گا یا مصیبتوں سے چھٹکارا پا لے گا ۔''

اس پر حضرت عمرو بن العاص حضرت معاویہ کی طرف دیکھ کربولے: آج صبر کر لو تو کل فخر کر سکو گے۔ حضرت معاویہ نے جواب دیا:میں نے دنیا کی بھلائی حاصل کر لی اور آخرت کی بھلائی پانے کی امید رکھتا ہوں۔

حضرت عمار بن یاسر کی شہادت

سورج ڈوبنے کو تھا، دونوں فوجوں کے دستہ ہاے راست و چپ برسر پیکار تھے، جب کہ قلب ہنگامۂ کارزار سے محفوظ تھے۔اس موقع پرحضرت عمار بن یاسر آگے بڑھے اور خطاب کیا: اے اللہ ، ان فاسقوں سے جہاد کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل آج مجھے پسند نہ ہو گا۔جو شخص اللہ کی خوشنودی چاہتا ہے اور اس کو مال واولاد کی طرف لوٹنے کی خواہش نہیں،میرے ساتھ آجائے۔ایک جماعت ان کے پاس جمع ہو گئی تو اپنے لشکر کے علم بردار حضرت ہاشم بن عتبہ کو بھی ساتھ چلنے کو کہا۔جانے سے پہلے دودھ کاپیالہ مانگا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: دنیا سے جانے سے پہلے آخری شے جو تم نوش کرو گے، دودھ کا گھونٹ ہو گا (احمد، رقم ۱۸۷۸۲)۔ پانی ملا دودھ پی کر کہا: الحمد ﷲ، جنت نیزوں کے سائے میں ہے۔پھر بلند آواز میں پکارے: ہمارے ساتھ ان لوگوں پر ٹوٹ پڑو جو مطالبہ توعثما ن کے قصاص کاکر رہے ہیں، لیکن دنیا کے پجاری ہیں اور دلوں میں باطل ارادے چھپائے ہوئے ہیں۔ قصاص کا فریب دے کر انھوں نے ایک جمعیت اکٹھی کر لی ہے، ورنہ دولوگ بھی ان کا ساتھ نہ دیتے۔اگر یہ ہمیں مار مار کر ہجر کے کھجوروں کے باغات تک لے جائیں تب بھی ہم حق پر اور یہ ضلالت پر ہوں گے۔یہ شعر پڑھتے پڑھتے :

الیوم ألقي الأحبة محمداً وحزبه''آج میں دوستوں سے ملوں گا، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی جماعت سے۔''

جیش معاویہ کے کمانڈرحضرت عمرو بن العاص کے پاس پہنچے اوربولے:عمرو ،تو برباد ہو،تونے مصر میں اپنا دین بیچ ڈالا۔حضرت عبیداللہ بن عمر سے مخاطب ہوئے :تو نے اپنا دین اس شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے جو دشمن اسلام کا بیٹا ہے اور خو د بھی دشمن اسلام ہے۔حضرت عبیداللہ نے جواب دیا: میں نے اپنا دین ہرگز فروخت نہیں کیا،میں تو عثمان کے خون کا بدلہ چاہتا ہوں۔رات ہو چکی تھی، مدمقابل قلب کے کمان دار حضرت ذوالکلاع نے مشکل سے حضرت عمار کا حملہ روکا۔خوب تلوار چلی،حضرت ذو الکلاع قتل ہوئے۔ حضرت عمار نے مبارزت میں دو آدمیوں کو قتل کیا، پھر خودبھی زخمی ہو گئے اور اسی ہلے میں جام شہادت نوش کیا۔ ابوالغاویہ نے نیزہ مارا،حضرت عمار گر پڑے تو ابن حوی سکسکی نے جھک کر ان کا سر کاٹ لیا۔

حضرت عمرو بن العاص کے بیٹے حضرت عبداللہ نے حضرت یاسر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایاتوحضرت معاویہ نے کہا: ہم نے عمار کو قتل نہیں کیا۔ان کی جان ان لوگوں نے لی ہے جو انھیں لے کرآئے تھے۔ابن حوی نے حضرت عمرو کوآکر بتایا کہ میں نے عما رکو قتل کیا ہے توبولے: تیرے ہاتھ کامیابی نہیں لگی،تو نے تو اپنے رب کو ناراض کر لیا ہے۔

پامردی کی داستانیں

جیش علی میں شامل بجیلہ قبیلے کا پرچم ابوشدادقیس بن ہبیرہ(مکشوح) کو دیا گیاتو انھوں نے کہا:واللہ،میں اس وقت تک دم نہ لوں گاجب تک اس سونے کی چھتری والے شخص (عبدالرحمٰن بن خالد مخزومی)تک نہ پہنچ جاؤں۔وہ سخت جنگ کرتے ہوئے، صفوں کو چیرتے ہوئے چھتری بردار تک پہنچ گئے اور اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔حضرت معاویہ کارومی غلام آگے بڑھا اور تلوارکا وار کر کے ابو شداد کا پاؤں کاٹ ڈالا۔انھوں نے پھر بھی ایک کاری وار کر کے رومی کو قتل کر دیا۔ لیکن پھر لا تعداد نیزوں کی انیاں ان کی طرف بڑھیں اور وہ چھلنی ہو کر گر پڑے۔ان کے بعد عبداللہ بن قلع احمسی نے جھنڈا پکڑا اور شجاعت کے خوب جوہر دکھانے کے بعد شہید ہوئے۔ عقبہ بن حدید نمیری نعرہ لگاتے ہوئے بڑھے:دنیا کی کھیتی خشک ہوگئی ہے اورجیون کی مٹھاس جاتی رہی ہے ۔میں اسے بیچ کر آخرت کی زندگی خرید رہا ہوں۔انھوں نے شہادت پائی تو ان کے بھائیوں عبیداللہ،عوف اورمالک نے بھی لڑتے لڑتے جانیں دے دیں۔

حضرت علی نے دیکھا کہ ان کا میمنہ اپنی پوزیشن پر واپس آ گیا ہے توان کی صفوں میں پہنچے اور خطاب کیا: بھاگنے والے کی عمر میں اضافہ نہیں ہوتا،الٹا اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ اگر تم پلٹ کر واپس نہ آتے تو تم پر میدان جنگ میں پیٹھ پھیرنے والوں کے احکام لاگو ہو جاتے۔تم نے دشمن کو گھیر کر اس کے مورچوں سے ہٹا دیا ہے۔اس لیے میری پریشانی کم ہو گئی ہے اور غم ہلکا ہو گیا ہے۔

جنگ صفین میں نخع اور ربیعہ قبائل نے خوب داد شجاعت دی۔ حضرت علی کی فوج کا میسرہ ربیعہ قبیلے پر مشتمل تھا، انھوں نے حضرت معاویہ کی فوج میں شامل حضرت عبیداللہ بن عمر کے حملے کا دفاع کیا۔ جب ربیعہ کے کچھ لوگ فرار ہوئے تو خالد بن معمر نے انھیں ثابت قدمی کی تلقین کی۔ حضرت عبیداللہ بعد میں ربیعہ(کی شاخ بکر بن وائل) کی پلٹن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ان کی دونوں بیویوں نے جو میدان جنگ میں موجود تھیں،چیخ و پکار کر کے ان کی میت کو چھڑایا۔ عراقیوں نے ان کی ٹانگ سے خیمے کی رسی باندھ رکھی تھی۔ حضرت ذو الکلاع نے بھی اسی وقت جام شہادت نوش کیا۔ جیش علی میں شامل جندب بن زہیر، شمر بن ذوالجوشن، عبدالرحمٰن بن محززکندی، قیس بن فہدان اورمشہور فقیہ علقمہ بن قبس نے جنگ صفین میں بہادری کی داستانیں رقم کیں۔ اس روزعلقمہ کا ایک پاؤں کٹ گیا۔

حضرت علی کی شجاعت

ابو عبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں :ہم میں سے دو پاسبان حضرت علی کے گھوڑے کے آس پاس رہتے تاکہ وہ خود قتال کرنے نہ لگ جائیں۔لیکن جب ہم غافل ہوتے تووہ فوراً معرکے میں شامل ہو جاتے۔ایک روایت کے مطابق انھوں نے پانسو آدمیوں کوقتل کیا۔کریب بن صباح نے چار عراقیوں کو قتل کرکے قدموں تلے رکھا اور للکارا:کوئی ہے مقابلہ کرنے والا؟حضرت علی نکلے اورتلوار کا وار کر کے اس کو ٹھکانے لگایا۔ پھر انھوں نے حارث بن وداعہ،راود بن حارث اور مطاع بن مطلب کو اوپر تلے قتل کیا۔حضرت علی کی تلوار اکثر اوقات خون آلود ہوتی،ایک بار انھوں نے حملہ کیا اور نہ پلٹے۔جب تلوار مڑ کر دہری ہو گئی تو واپس آئے اورتلوارپھینک کر کہا:اگر یہ نہ مڑتی تو میں نہ لوٹتا۔ایک بار حضرت علی نے حضرت عمرو بن العاص پر حملہ کر کے زمین پر لٹا دیا تو ان کی شرم گاہ کھل گئی۔ تب وہ فوراً پیچھے ہٹ گئے۔

حضرت عمار کی شہادت کے بعدحضرت علی نے ربیعہ و ہمدان قبائل کے بارہ رضاکا ر لیے اورخود خچر پر سوار ہو کر ان کی سربراہی کی۔ان کا حملہ ایسا یکا یک او ر تند تھا کہ شامی لشکر کی صفیں بکھر گئیں۔وہ یہ شعر پڑھتے ہوئے حضرت معاویہ تک پہنچ گئے:

أقتلهم ولا أری معاویه الجاحظ العین العظیم الحاویه ''میں ان کو قتل کرتا جا رہا تھا اور دیکھتا نہ تھا کہ بڑے بڑے ڈھیلوں والی آنکھوں اور بڑے پیٹ والا معاویہ روبرو ہے ۔''

اور انھیں پکار کر کہا: ہماری لڑائی میں کس بنا پر لوگ مارے جا رہے ہیں؟ہم اللہ کو حاکم کیوں نہیں بنا لیتے؟ دوبدو مقابلہ(duel)کر لیتے ہیں،جو مقابل کو مار دے، وہی تمام امور کا مالک ہو۔حضرت عمرو بن العاص نے کہا: یہ انصاف کی بات کر رہے ہیں۔آپ مقابلہ کیوں نہیں کر لیتے۔ حضرت معاویہ نے کہا:توجانتا ہے کہ جو علی سے مبارزت کرتا ہے،اسے وہ قتل کر دیتے ہیں۔تم مجھے مروا کر خلیفہ بننا چاہتے ہو؟حضرت عمرو نے کہا: دعوت مبارزت رد کرنا اچھی بات نہیں ہوتی۔

اسی شام حضرت ہاشم بن عتبہ(لقب:مرقال،تیزرفتار) نے کئی حملے کیے، انھوں نے سخت لڑائی کی، شامیوں نے بھی ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا۔نو دس افراد کو قتل کرنے کے بعد خود بھی شہید ہوئے۔حارث بن منذر نے نیزہ مار کر ان کا پیٹ شق کر دیاتھا۔

حضرت علی کا گزر شامی فوج میں شامل غسانی دستے پر ہوا جو ڈٹا ہوا تھا۔انھیں دیکھ کر کہا:یہ ہرگز اپنے مقام سے نہ ہٹیں گے جب تک ایسی نیزہ زنی نہ کی جائے جو ان کی آنتیں نکال لے،ایسی تلواریں نہ چلائی جائیں جو ان کی گردنیں اڑا دیں،لوہے کی مٹھوں سے ان کی کھوپڑیاں پاش پاش نہ کر دی جائیں۔پھر وہ پکارے:کہاں ہیں ثابت قدم رہنے والے؟ان کی پکار پر ایک جماعت اکٹھی ہو گئی تو اپنے بیٹے محمد کو بلاکرکمان سونپی اور کہا: ان کی طرف پیش قدمی کر کے تیروں کی بوچھاڑ کر دو۔اسی اثنا میں انھوں نے محمد کی طرف ایک دستہ اور بھیجا، چنانچہ غسانیوں میں سے کچھ مارے گئے اور باقی پسپا ہو گئے۔

حضرت علی کی فوج میں شامل حضرت عبداللہ بن کعب مرادی جنگ صفین میں شہید ہوئے۔انھوں نے شہادت پانے سے پہلے وصیت کی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کیا جائے اور امیر المومنین کے ساتھ مل کر قتال کیا جائے۔ حضرت علی کو معلوم ہوا تو فرمایا: اللہ ان پر رحم کرے،زندہ تھے تو ہماری خاطر عدوسے جہاد کیا اورمرتے وقت بھی ہماری خیر خواہی کی۔

مطالعۂ مزید: تاریخ الامم والملوک(طبری)،الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، البدایہ و النہایہ(ابن کثیر)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ نجیب آبادی)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ:Fr. Buhl)،سیرت علی المرتضیٰ(محمد نافع)،Wikipedia۔

[باقی]

____________