حضرت علی رضی اللہ عنہ (۹)


[''سیر و سوانح '' کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

گورنروں کی واپسی اور حضرت معاویہ کوخط

حضرت سہل بن حنیف مدینہ لوٹ آئے تو حضرت علی کو حالات معلوم ہوئے۔ اس اثنا میں دوسرے گورنر بھی پلٹ آئے تھے۔ انھوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کوطلب کیا اور کہا:میں تجھے جس چیز سے با خبر کرتا تھا، رونما ہوچکی ہے۔ گویا ایک آگ لگی ہے جو بڑھتی اور بھڑکتی جارہی ہے۔ دونوں نے عرض کیا: ہمیں مدینہ سے نکلنے دیجیے تاکہ ہم کوئی تدبیر کریں۔ حضرت علی نے کہا: میں خودمعاملات سنبھالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ انھوں نے حضرت معاویہ اورحضرت ابومو سیٰ اشعری کو خطوط لکھے۔ حضرت ابوموسیٰ نے جواب بھیجا کہ اہل کوفہ نے اطاعت قبول کر لی ہے۔ انھوں نے خوش دلی سے بیعت کرنے والوں اوربہ اکراہ اطاعت کرنے والوں کی فہرست بھیجی۔ حضرت سبرہ بن معبد جہنی حضرت علی کا مکتوب لے کر حضرت معاویہ کے پاس گئے تھے۔ حضرت معاویہ نے انھیں کئی دن روکے رکھا۔ وہ جواب لکھوانے کو کہتے تو حضرت معاویہ رزمیہ اشعار سنانا شروع کر دیتے۔ سیدنا عثمان کی شہادت کو تیسرا مہینا لگا تو انھوں نے قبیصہ عبسی کو بلایا اور ایک سر بمہردستہ دے کر مدینہ روانہ کیاجس پر تحریر تھا: ''معاویہ کی طرف سے علی کو جواب''۔ حضرت سبرہ جہنی بھی ساتھ چلے۔ مدینہ پہنچنے پر قبیصہ نے حضرت معاویہ کی ہدایت کے مطابق بنڈل اٹھایا اور حاضرین مجلس کو دکھانا شروع کر دیا۔ لوگوں کو علم ہوگیا کہ حضرت معاویہ حضرت علی کی خلافت ماننے سے انکاری ہیں، اس لیے اٹھ کر جانا شروع ہو گئے۔ اب قبیصہ نے کاغذوں کا بنڈل حضرت علی کے حوالے کیا۔ انھوں نے مہر کھولی تو کوئی خط نہ نکلا۔ پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ قبیصہ نے پوچھا: مجھے امان ملے گی؟حضرت علی نے کہا:قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا۔ اس نے کہا: میں ایسی قوم کو چھوڑ کر آیا ہوں جو قصاص کے علاوہ کسی شے پر راضی نہیں ۔ پوچھا: کس سے قصاص چاہتے ہیں ؟ بتایا: آپ کے رشتۂ گردن سے۔ میں ساٹھ ہزار بزرگوں کو جامع دمشق کے منبر پررکھی ہوئی عثمان کے قمیص کے نیچے روتا چھوڑ کر آیا ہوں۔ حضرت علی نے کہا:مجھ سے عثمان کے خون بہا کا مطالبہ کر رہے ہو؟ کیا میں خود مظلوم نہیں جس کا بھائی عثمان شہید کر دیا گیا؟ اے اللہ، میں تیرے حضور عثمان کی شہادت سے براءت پیش کرتا ہوں۔

قتال کی تیاری اور اہل مدینہ کا طرز عمل

حضرت معاویہ کے بیعت نہ کرنے کی صورت میں حضرت علی کیا اقدام کریں گے، کیا وہ ہم قبلہ مسلمانوں سے قتال کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے؟یہ دیکھنے کے لیے اہل مدینہ نے حضرت زیاد بن حنظلہ تمیمی کو بھیجا۔ وہ کچھ دیرہی بیٹھے تھے کہ حضرت علی نے کہہ دیا: شام کے جہاد کی تیاری کرو۔ حضرت زیاد نے نرمی اور احسان کا مشورہ دیاتوحضرت علی نے کہا: تلوار اور سمجھ دار مددگار ساتھ ہوں توہی ظالم کوروکا جا سکتا ہے۔ حضرت زیاد باہر آئے تو لوگوں نے بے تابی سے پوچھا: کیا فیصلہ ہوا؟ تلوار، انھوں نے جواب دیا۔ حضرت علی کے صاحب زادے حضرت حسن پہلے ہی خاموش رہنے اور لوگوں کوان کے حال پر چھوڑنے کا مشورہ دے چکے تھے۔

حضرت علی نے فوج تیار کرنا شروع کی۔ محمد بن حنفیہ کو علم سونپا، حضرت عبداللہ بن عباس کو میمنہ پر، حضرت عمر بن ابو سلمہ (یا حضرت عمرو بن سفیان ) کو میسرہ پر اورحضرت ابوعبیدہ کے بھتیجے ابو لیلیٰ بن عمر بن جراح کوہراول دستے پر مامور کیا۔ حضرت عثمان کے خلاف خروج کرنے والے کسی شخص کو کوئی عہدہ نہ دیا۔ انھوں نے اپنے گور نروں حضرت قیس بن سعد، حضرت عثمان بن حنیف اور عہد عثمانی سے چلے آنے والے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو خط لکھے کہ لشکر تیار کر کے شام کی طرف روانہ کریں۔ پھر اہل مدینہ سے خطاب کیا:اللہ نے اپنے رسول کو قرآن مجید دے کر ہدایت دینے کے لیے بھیجا۔ بلا شبہ، بدعات و شبہات ہی ہلاک کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں۔ شاید اللہ تمھارے ذریعے سے ان فسادات کودورکر دے جو دنیا والوں نے برپا کر رکھے ہیں۔ جیش علی ابھی کوچ نہ کرپایا تھاکہ مکہ سے خبر آئی کہ سب لوگ مقابلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ حضرت علی بولے:طلحہ و زبیر اور ام المومنین میری امارت کے درپے ہو کر لوگوں کو اصلاح کی طرف بلا رہے ہیں۔ میں صبر کروں گاجب تک تمھاری جماعت کی طرف سے کوئی اندیشہ نہ ہوا۔ اگر انھوں نے جنگ نہ کی تو میں بھی گریز کروں گااور ان کی باتیں سن کر صبر کروں گا۔ پھر خبر آئی کہ اہل مکہ بصرہ کی طرف چل پڑے ہیں۔ حضرت علی نے بھی بصرہ کا رخ کرنے کا حکم دیا۔

یہ اعلان مدینہ والوں پرشاق گزرا۔ حضرت علی نے حضرت عبداللہ بن عمر کو بلایا اور ساتھ چلنے کو کہا۔ انھوں نے کہا: اگر اہل مدینہ آپ کے ساتھ نکلے تو میں بھی چل پڑوں گا۔ حضرت علی نے کہا:مجھے ضمانت دو کہ مدینہ سے باہر نہیں جاؤ گے۔ انھوں نے کہا: میں کوئی ضامن نہیں دے سکتا۔ حضرت علی نے کہا: تم بچپن ہی سے بداخلاق ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر اپنی سوتیلی والدہ ام کلثوم بنت علی کو یہ بتا کر کہ اہل مدینہ کا اس قتال پر اطمینان نہیں ہے، اسی رات مدینہ سے نکل گئے۔ انھوں نے بتایا کہ عمرہ کی نیت سے جا رہے ہیں اور بیعت علی پر قائم ہیں۔ صبح اٹھتے ہی حضرت علی کوبتایا گیا کہ معاویہ، طلحہ، زبیر اورام المومنین کے حادثے سے بھی بڑا سانحہ پیش آ گیا ہے۔ عبداللہ بن عمر شام کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ حضرت علی فوراً بازار پہنچے اور حضرت عبداللہ کی تلاش میں سواریاں دوڑانے کا حکم دیا۔ ام کلثوم بنت علی کو علم ہوا تو فی الفور خچر منگوا کر حضرت علی کے پاس پہنچیں اور انھیں اصل واقعے سے مطلع کیا، تب یہ معاملہ ٹلا۔

اہل مدینہ کا رویہ دیکھ کر حضرت علی نے مدینہ کے سرکردہ افرادکو پھربلاکر خطاب کیا: امر خلافت کی اب اصلاح اسی طرح ممکن ہے، جیسے ابتدا میں کی گئی تھی۔ ان کی نصرت خلافت کی دعوت پرمحض دو انصاری صحابہ حضرت ابوہیثم بن تیہان اورحضرت خزیمہ بن ثابت نے لبیک کہا۔ حضرت زیاد بن حنظلہ نے دیکھا کہ مدینہ کے لوگوں نے جنگ کے معاملہ میں حضرت علی کاساتھ چھوڑ دیا ہے توانھوں نے ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ حضرت ابوقتادہ انصاری نے کہا: امیر المومنین ، یہ تلوار مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمائل کی تھی۔ ایک عرصہ نیام میں رہنے کے بعد اسے ان ظالموں کے خلاف برہنہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے کہا:میرانکلنا معصیت ہے، اس لیے میرا بیٹا عمر بن ابوسلمہ جو مجھے بہت عزیز ہے آپ کے ساتھ جائے گا اور تمام معرکوں میں حصہ لے گا۔ شعبی کہتے ہیں : صرف چار (یا چھ) بدری صحابہ نے اس فتنہ میں حضرت علی کا ساتھ دیا (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۳۸)۔

حضرت عائشہ کی بصرہ روانگی

حضرت طلحہ وحضرت زبیر حضرت علی سے عمر ہ پر جانے کی اجازت لے کر مکہ پہنچ چکے تھے۔ سیدہ عائشہ حج کے بعد مدینہ لوٹ رہی تھیں، سرف کے مقام پر ان کی ننھیال بنولیث کا شخص عبیدبن ابو سلمہ ملا۔ انھوں نے مدینہ کے حالات دریافت کیے تو اس نے بتایا: عثمان شہید کر دیے گئے ہیں ، لوگوں نے علی کی بیعت کر لی ہے اور چاروں طرف ایک ہنگامہ برپا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا: مجھے تو یہ بیعت مکمل ہوئی نظر نہیں آتی۔ مجھے مکہ واپس لے چلو۔ عبید نے کہا : آپ ہی ان کے قتل کے فتوے دیا کرتی تھیں۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا: بلوائیوں نے توبہ کرواکران کو شہید کیا ہے۔ مسجد حرام کے دروازے پر اتر کر وہ حطیم میں داخل ہوئیں۔ لوگوں کا ٹھٹھ لگ گیا۔ حضرت عائشہ نے خطاب کیا:باغیوں نے وہ خون بہایا جس کا بہانا حرام تھا۔ حرام مہینے میں ایک محترم شہر کی حرمت پامال کی۔ ان فسادیوں کو سزا دینے کے لیے آپ کی مدد چاہتی ہوں۔ عثمان کو مظلومی کی حالت میں شہید کیاگیا، میں ان کے قصاص کا مطالبہ کرتی ہوں۔ حضرت عائشہ کی آوازپرسب سے پہلے لبیک کہنے والے مکہ کے عثمانی گورنر عبداللہ بن عمرو حضرمی تھے۔ حضرت ولید بن عقبہ، عبداللہ بن عامر اموی، یعلیٰ بن امیہ، حضرت طلحہ ا ورحضرت زبیر بھی اس جماعت میں شامل ہو گئے۔ ان سب سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عائشہ نے بصرہ کو اپنا مرکز بنانے کا پروگرام بنایا، کیونکہ وہاں سے حمایت ملنے کی ا مید تھی۔ ام المومنین حضرت حفصہ بھی حضرت عائشہ کے ساتھ جانا چاہتی تھیں، لیکن ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر نے منع کر دیا، وہ اہل مدینہ کی طرح مسلمانوں کی باہمی جنگ کو برا سمجھتے تھے۔

عہد عثمانی کے گورنریعلیٰ بن امیہ نے چھ سو اونٹ، چھ لاکھ درہم دیے اور ابطح(محصب) کو لشکر کی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ کے لیے دوسودینار میں عسکر نامی اونٹ خریدا۔ بصرہ کے گورنرعبداللہ بن عامر نے بھی زرکثیر فراہم کیا۔ مکہ میں منادی کرا دی گئی کہ ام المومنین، طلحہ اور زبیر بصرہ جا رہے ہیں۔ جو اسلام کی سربلندی چاہتا ہے، عثمان کا خون بہا لینا اور ان کے قتل کو جائزسمجھنے والوں سے جنگ کرنا چاہتا ہے، شامل ہوجائے، اگرچہ اس کے پاس سواری اور سامان سفر نہ ہو۔ اس طرح ایک ہزار (دوسری روایت: تین ہزار) کے لگ بھگ سپاہی فراہم ہو گئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی والدہ حضرت ام فضل نے حضرت علی کو خبر کر دی۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے حضرت عائشہ کو خط لکھا:اللہ نے تم پرپردہ واجب قرار دیا ہے۔ دین کے ستون عورتوں سے قائم نہیں رہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرتمھیں اس اونٹ پر سوار دیکھ لیتے توکیا کہتے۔

حضرت عبداللہ بن زبیر (یا عبدالرحمٰن بن عتاب) کو نماز کا امام مقرر کیا گیا۔ لشکر روانہ ہوا تو امہات المومنین روتی روتی ذات عرق تک ساتھ گئیں۔ اس نسبت سے اس دن کو 'روز گریہ' کہا گیا۔

اہل بصرہ کا رد عمل

بصر ہ کے میدانوں میں عمیر عبداللہ تمیمی حضرت عائشہ سے ملے اور کہا: ام المومنین،آپ ایسی قوم کی طرف جا رہی ہیں جس سے آپ کی کوئی خط و کتابت بھی نہیں ہوئی۔ تب انھوں نے بصرہ کے کچھ لوگوں اور احنف بن قیس کو خط لکھے۔ حضرت عائشہ نے اہل بصرہ سے بات چیت کے لیے ابن عامر کو بھیجا، کیونکہ بصرہ میں ان کی زمینیں اور مکانات تھے۔ جواب میں حضرت علی کے مقررہ گورنر بصرہ حضرت عثمان بن حنیف نے حضرت عمران بن حصین اور ابوالاسود دوئلی کو قاصد بنا کر بھیجا۔ حضرت عائشہ نے ان سے کہا:ہم اصلاح کی خاطر آئے ہیں، قاتلین عثمان کے خلاف ہماری مدد کریں۔ وہ حضرت طلحہ و حضرت زبیر سے ملے تو انھوں نے بھی یہی جواب دیا۔ مثبت صورت حال کے باوجود ابوالاسود نے واپس جا کرحضرت عثمان بن حنیف کو جنگ کی تیاری کا مشورہ دے دیا، جب کہ حضرت عمران نے کہا : یہ جنگ سب کو ایک زبردست عذاب میں مبتلا کر دے گی۔ ہشام بن عامر نے حضرت علی کے آنے تک جنگ سے گریز کا مشورہ دیا۔ حضرت عثمان نے ان کی راے بھی رد کر دی اور جنگ کے لیے تیار ہونے کا اعلان کردیا۔ قیس بن عقدیہ نے شہریوں کو جنگ پر ابھارا، جب کہ اسود بن سریع نے کہا: یہ لوگ ہمارے پاس گھبرائے ہوئے مدد کے طالب بن کر آئے ہیں۔ حضرت عثمان سمجھ گئے کہ اس کش مکش میں بصرہ کے شہری موافق و مخالف گروہوں میں منقسم ہو گئے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو حضرت عائشہ کی مدد کریں گے۔

بصرہ: میدان جنگ

۲۵ ؍ربیع الثانی۳۶ھ :اس اثنا میں حضرت عائشہ کی فوج نے آگے بڑھ کر بصرہ کے محلہ مربد میں ڈیرے ڈال دیے۔ حضرت عثمان بن حنیف بھی مقابلے کے لیے شہر سے نکل آئے۔ بصرہ میں موجودحضرت عائشہ کے مؤیدین ان کے ساتھ آ شامل ہوئے۔ میمنہ و میسرہ کے کمانڈروں حضرت طلحہ وحضرت زبیر نے باری باری حضرت عثمان کے فضائل بیان کیے، ان پر ہونے والے ظلم کا ذکر کیا اور ان کا قصاص لینے کا عزم کیاتو مربد کے دائیں طرف کھڑی ان کی فوج نے تائیدکے نعرے بلند کیے، جب کہ بائیں طرف ایستادہ جیش عثمان بن حنیف میں شور مچ گیا اورانھیں حضرت علی کی بیعت توڑنے کے طعنے دیے گئے۔ حضرت عائشہ نے حمد وثنا کے بعد حضرت عثمان بن عفان کی بے گناہی اور ان کا ناحق خون بہانے کابیان کیا توخود حضرت عثمان بن حنیف کے ساتھیوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ کچھ نے کہا: اماں عائشہ نے سچ کہا اور کچھ نے مخالفانہ نعرے لگائے۔ دھینگا مشتی کے بعد حضرت عثمان بن حنیف کی فوج کا ایک حصہ حضرت عائشہ سے آملا۔ کعب بن سور ازدی نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ جاریہ بن قدامہ بولے: حضرت عثمان کی شہادت سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ آپ اس لعنتی اونٹ پر سوار ہو کر گھر سے باہر نکل آئی ہیں۔ بنو سعد کے ایک نوجوان نے حضرت طلحہ وحضرت زبیر کو طعنہ دیا کہ میں تم دونوں کی ماں کو تو ساتھ دیکھ رہا ہوں ، کیا اپنی بیویوں کو بھی نکال لائے ہو؟

جنگ کی ابتدا ہوئی تو سیدہ عائشہ نے حکم جاری کیا کہ صرف ایسے شخص سے جنگ کی جائے جو ابتدا کرے اور جس کا عثمان کی شہادت سے تعلق ہو۔ حکیم بن جبلہ نے آغاز کیا، حضرت عائشہ نے مدافعت کا حکم دیا۔ حضرت عثمان کے ساتھیوں نے پتھر پھینکنے شروع کیے تو حضرت عائشہ کی فوج داہنی طرف مقبرۂ بنومازن تک سمٹ آئی۔ اس اثنا میں رات ہوگئی اور حضرت عثمان بن حنیف محل میں چلے گئے۔ رات کے وقت بصرہ کے شخص ابوالجربا نے مخبری کی اور وہ جیش عائشہ کو مقبرۂ بنومازن سے مقبرۂ بنو حصن تک لے آیا۔ یہ دار الرزق(بیت المال) کا صحن تھا۔ اگلے روز بیت المال کے سامنے گھمسان کی لڑائی ہوئی جو زوال تک شدت سے جاری رہی۔ حضرت عثمان کی فوج کو بہت جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ فریقین نے اس شرط پر صلح کی کہ یہ معلوم کیا جائے کہ حضرت طلحہ و حضرت زبیر نے کن حالات میں حضرت علی کی بیعت کی۔ قصر، جامع مسجد اور دارالرزق حضرت عثمان بن حنیف کے ہاتھ میں رہنے دیے گئے، جب کہ نماز کی امامت کے لیے حضرت عثمان، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی باریاں مقرر کی گئیں۔ کعب بن سور کومدینہ بھیجا گیا۔ حضرت اسامہ بن زید اورحضرت محمد بن مسلمہ نے بتایا کہ ان اصحاب سے جبراً بیعت لی گئی (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۲۸)۔ حضرت علی نے گورنر عثمان کو خط لکھا کہ واللہ، ان دونوں کو جماعت اور اس کی فضیلت میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا، اگر وہ قلادۂ اطاعت اتارنا چاہتے ہیں تو کوئی مجبوری نہیں۔ حسب پیمان حضرت عثمان کو بصرہ کی گورنری چھوڑنی تھی، انھوں نے عہد شکنی کی تو پھر جنگ چھڑ گئی۔ عشا کے وقت مسجد کے اندر قتال کرنے کے بعد حضرت عثمان بن حنیف کو پکڑ لیا گیااور بیت المال پر قبضہ کر لیا گیا۔ چالیس کوڑے مارنے کے بعد حضرت عثمان کی ڈاڑھی اور بھنووں کے بال اکھاڑے گئے اور پھر حضرت عائشہ کے کہنے پرچھوڑ دیا گیا۔

حکیم بن جبلہ کی صلح شکنی

اب حضرت عثمان بن عفان کے قاتل حکیم بن جبلہ نے حضرت عثمان بن حنیف کے ساتھ ہونے والے سلوک کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے عبدالقیس اور ربیعہ کے حلیف قبائل کو اکٹھا کیا اور اپنی چار کمانڈروں والی فوج کے ساتھ جیش طلحہ وزبیر سے سخت جنگ کی۔ حضرت طلحہ وحضرت زبیر نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے بصرہ کے تمام قاتلین عثمان کوہمارے سامنے جمع کر دیا ہے۔ دوران جنگ میں حکیم کا پاؤں کٹا، پھروہ تیر سے زخمی ہو کر اپنے انجام کو پہنچا۔ اسے یزید بن اسحم نے قتل کیا۔ اس کابیٹا اشرف اور بھائی رعل بن جبلہ بھی مارے گئے۔ ذریح اور اس کے ساتھی اپنے انجام کو پہنچے، البتہ حرقوص بن زہیر بھاگ نکلا۔ حضرت طلحہ و حضرت زبیر نے منادی کرائی کہ جس جس بلوائی نے مدینے پر حملہ کیا، پکڑ کر لایا جائے۔ سب کو قتل کر دیا گیا، اس طرح حرقوص کے علاوہ بصرہ میں موجود تمام قاتلین عثمان اپنے انجام کو پہنچے۔ حضرت طلحہ وحضرت زبیر کی مخالفت ختم ہوگئی اور اہل بصرہ نے ان کی بیعت کر لی۔ جنگ سے فراغت کے بعد سیدہ عائشہ نے اہالیان کوفہ، یمامہ و مدینہ کو خط بھیجے کہ علی کا ساتھ چھوڑ دیں اور قاتلین عثمان کو سزا دینے کا مطالبہ کریں۔ زید بن صوحان نے جواب دیا: ا م المومنین گھر میں بیٹھیں تو ہم ان کی نصرت کرنے کو تیار ہیں۔

حضرت علی کا سفر بصرہ

ربیع الثانی ۳۶ھ کے اواخر میں حضرت علی حضرت تمام بن عباس کو مدینہ کا قائم مقام حاکم مقرر کر کے محض سات سو ساٹھ سواروں کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ ان کا ارادہ تھاکہ بصرہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی حضرت طلحہ وحضرت زبیر کی فوج کو جا لیں ۔ حضرت عقبہ بن عامر نے انصار کی طرف سے گزارش کی کہ مدینہ چھوڑ کر جانا مناسب نہیں۔ حضرت علی نے کہا:عراق مسلمانوں کی بہت بڑی نوآبادی ہے۔ وہاں کے بیت المال مال وزرسے پر ہیں، اس لیے میرا وہاں موجود رہنانہایت ضروری ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے حضرت علی کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر التجا کی: امیر المومنین ، مدینہ سے نہ نکلیں۔ آپ یہاں سے چلے گئے تو مسلمانوں کا کوئی خلیفہ مدینہ میں قیام نہ کر سکے گا۔ سبائی(سبیئی) ان کوگالیاں نکالنے لگے تو حضرت علی نے منع کیا اورکہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین صحابہ میں سے ہیں۔ ذی قار کے مقام پر دس ہزار سے زائد افرادان کی فوج میں شامل ہوئے۔ کنانہ، اسد، تمیم، رباب، مزینہ، قیس، بکر، تغلب، مذحج، اشعر، بجیلہ، انمار، خثعم اور ازد قبائل پر مشتمل لشکر ذی قار پہنچا تو حضرت علی اور حضرت ابن عباس نے اس کا استقبال کیا۔ حضرت علی نے کہا:تم لوگوں نے عجمی بادشاہوں سے جنگ کر کے ان کی جمعیت کو منتشر کر دیا ہے۔ میں نے تمھیں بصرہ والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بلایا ہے۔ اگر وہ سرکشی سے بازنہ آئے تو ہم نرمی سے ان کا علاج کریں گے اور فساد کے بجاے اصلاح کا طریقہ اپنائیں گے۔

ربذہ پہنچ کرمعلوم ہوا کہ حضرت طلحہ وحضرت زبیر کا لشکرآگے بڑھ کر بصرہ میں داخل ہو چکا ہے۔ حضرت علی خوش ہوئے کہ قریبی شہر کوفہ میں عرب آباد ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا: یہی لوگ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹتے اور فتنہ انگیزی کرتے ہیں۔ حضرت علی نے جواب دیا: اگر وہ سیدھے رہیں گے توہم ان کے ساتھ احسان سے پیش آئیں گے۔ حضرت علی ربذہ میں ٹھیر کر آیندہ کا لائحۂ عمل سوچنے لگے۔ اسی اثنا میں ان کے بیٹے حضرت حسن آئے اور ان سے جدال کرنے لگے۔ آپ نے میری بات نہیں مانی، کل کلاں کو ناحق مارے گئے تو کوئی آپ کی مدد بھی نہ کرے گا۔ حضرت علی نے کہا: تم کیا لڑکیوں کی طرح غنغناتے رہتے ہو؟حضرت حسن نے کہا: خلیفۂ سوم کا محاصرہ کیا گیا تو میں نے کہا کہ آپ شہر سے چلے جائیں۔ ان کی شہادت کے بعد میں نے مشورہ دیا کہ جب تک عرب کے تمام شہروں سے وفود نہ پہنچ جائیں ، کسی سے بیعت نہ لیں۔ اس بار بھی میں نے کہا تھا کہ آپ مدینہ سے نہ نکلیں تاکہ جو فساد رونماہو، اس کی ذمہ داری طلحہ و زبیر پر عائد ہو۔ حضرت علی نے ان اعتراضات کے باری باری جواب دیے۔ محاصرہ صرف عثمان کا نہیں، بلکہ ہم سب کا ہوا تھا۔ اگر ہم مدینہ چھوڑ کر جانا چاہتے تو ہمیں بھی اسی طرح گھیر لیا جاتا، جیسے عثمان کو گھیر لیا گیا تھا۔ انتخاب خلیفہ کام ہی اہل مدینہ کا تھا۔ دوسروں کی بیعت انھی کے تابع ہے۔ پہلے تین خلفاکا انتخاب ہوا تو میں نے ان کا ساتھ دیا، حالاں کہ میں اپنے آپ کو خلافت کا حق دار سمجھتا تھا۔ اہل ایمان نے اب خوش دلی سے میری بیعت کی ہے۔ میں ان کے ساتھ مل کر مخالفین سے لڑوں گا، حتیٰ کہ اللہ ہمارے بیچ فیصلہ کر دے۔ یہ ذمہ داری مجھے ہی ادا کرنا ہو گی۔ میں گوہ کی طرح کیسے چھپ کر گھر میں بیٹھ سکتا ہوں، جب کہ عرب کے بہترین جوان طلحہ اور بہترین جنگجو زبیر میرے درپے ہیں اور اہل ایمان کی مطاع ام المومنین ان کا ساتھ دے رہی ہیں ؟ (مستدرک حاکم، رقم ۴۵۹۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۵۲۶)۔

ربذہ کے مقام پر حضرت عثمان بن حنیف حضرت علی سے ملے اور کہا:امیر المومنین ، آپ نے مجھے بھیجا تھا تو میرے ڈاڑھی تھی اوراب میں آپ کے پاس بے ریش لوٹا ہوں ۔ فرمایا:تو نے اجر حاصل کیا اور بھلائی پالی۔ پھر کہا:طلحہ و زبیر نے میری بیعت کی، پھر توڑ ڈالی۔ حیرت ہے کہ وہ ابوبکر، عمر اور عثمان کے مطیع رہے اور علی کے مخالف ہو گئے۔ اے اللہ، ان کی گرہیں کھول دے اور ان کاعمل ان کی نگاہوں میں برا ثابت کر دے۔ انھوں نے محمد بن ابو بکر اورحضرت محمد بن جعفر کو خط دے کر کوفہ روانہ کیا اور وہاں کے شہریوں سے نصرت و حمایت کی درخواست کی، مدینہ سے مزید اسلحہ اور سواریاں بھی منگوائیں۔ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:یہ امت پہلی امتوں کی طرح فرقوں میں بٹ کر رہے گی، آنے والے اس شر سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اپنے دین سے چپکے رہو، قرآن جس عمل کی تصدیق کرے، اس پر پختہ ہو جاؤاور جس کام پر نکیرکرے، اسے ترک کر دو، میری ہدایت پر عمل کرو، کیونکہ یہ تمھارے نبی کی ہدایت ہے۔ رفاعہ بن رافع کا بیٹا اٹھ کر بولا: امیرالمومنین ، آپ ہمیں کہاں اور کس لیے لے جا رہے ہیں ؟ کہا: ہم اصلاح چاہتے ہیں۔ اگرہمارے مقابل نہ مانے؟ابن رفاعہ نے پھر سوال کیا۔ ہم انھیں چھوڑ دیں گے جب تک وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے۔ اور اگر انھوں نے ہم سے تعرض کیا؟ تو ہم دفاع کریں گے۔ اس نے کہا: خوب۔ حجاج بن غزیہ انصاری نے کہا:ہم اپنے عمل سے آپ کوخوش کردیں گے۔

حضرت عدی بن حاتم طائی نے اپنی قوم کو حضرت علی کی اعانت کی ترغیب دی۔ چنانچہ ربذہ میں بنو طے کے تیرہ ہزا ر افراد حضرت علی کی فوج میں شامل ہوئے۔ کچھ طائی سلام کر کے واپس ہونے لگے توحضرت علی نے کہا:''اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں کے مقابلے میں بڑے اجر کی فضیلت سے نوازا ہے'' (النساء ۴: ۹۵)۔ سعید بن عبید طائی نے کہا: میری زبان میرے دلی جذبات کو بیان نہیں کر پا رہی۔ میں ظاہراًاور دل سے آپ سے خیرخواہی کروں گا۔ ہر معرکے میں آپ کے دشمنوں سے قتال کروں گا۔ حضرت علی نے کہا:اللہ تم پر رحم کرے، تمھاری زبان نے تمھارا مافی الضمیرخوب بیان کردیا ہے۔ بنو طے کے ہم سایہ قبیلے بنواسد کی ایک جماعت بھی حضرت علی کے لشکر میں آملی۔

اس اثنا میں حضرت عمار بن یاسر نے حضرت طلحہ وحضرت زبیر کے خلاف عوامی مہم چلائی اور کوفہ کی آبادی کو حضرت علی کی حمایت پر جمع کر دیا۔ ربذہ میں کچھ دیر ٹھیر کرحضرت علی نے محمد بن ابو بکر اورحضرت محمد بن جعفر کے لوٹنے کا انتظار کیا۔ انھیں خبر ملی کہ عبدالقیس اور ربیعہ کے حلیف قبائل حضرت طلحہ وحضرت زبیر کے خلاف ا ٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو کہا: عبدالقیس ربیعہ قبیلے کی بہترین شاخ ہے اور ربیعہ کے ہر قبیلے میں خیر پائی جاتی ہے۔ فید کے مقام پر بنو اسد اور بنو طے کے مزید لوگ آئے تو حضرت علی نے کہا:میرے ساتھ کافی لوگ ہیں۔ راستے میں قبیلۂ عبدالقیس اور بکر بن وائل کے دستے ضم ہوئے توحضرت علی کی فوج کی نفری بیس ہزارہو گئی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں :جنگ جمل میں حضرت علی کی طرف سے آٹھ سو انصاری اور بیعت رضوان میں شریک چار سوصحابہ نے حصہ لیا۔ سدی کا کہنا ہے:جیش علی میں شامل بدری اصحاب کی تعداد ایک سو بیس تھی۔ ذہبی نے شعبی کی بتائی ہوئی تعداد صحابہ (چار یاچھ)کو مبالغہ قرار دیا ہے۔ جیش عائشہ کا عدد تیس ہزار کو پہنچ چکا تھا۔

حضرت ابوموسیٰ اشعری کی معزولی

دونوں محمد واپس لوٹے اوربتایا کہ گورنرابو موسیٰ اشعری کا کہنا ہے: قاتلین عثمان کو ان کے انجام تک پہنچائے بغیر ہم کسی قتال میں حصہ نہ لیں گے۔ ہم نے عثمان کی حفاظت میں کوتاہی کی، اس لیے معاملات یہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ اب حضرت علی نے اشتر سے کہا: تم اورعبد اللہ بن عباس جاؤ اور بگاڑ سلجھانے کی کوشش کرو۔ دونوں نے کوفہ جا کر کچھ لوگوں کوساتھ لیا اور حضرت ا بوموسیٰ سے ملاقات کی۔ حضرت ابوموسیٰ نے حضرت علی کے انتخاب کوجائزتسلیم کیا، تاہم اہل کوفہ کو اس خانہ جنگی میں غیر جانب دار رہنے کی تلقین کی۔ انھوں نے حضرت علی کے قاصدوں کو شہید مظلوم حضرت عثمان کی تائید کرنے کو کہا تاکہ یہ فتنہ فرو ہو۔ اشتر اورحضرت ابن عباس لوٹ آئے تو حضرت علی نے حضرت ہاشم بن عتبہ کے ہاتھ حضرت ابو موسیٰ اشعری کو خط لکھا: تم پر لازم ہے کہ حق میں میری اعانت کرو۔ ان کی طرف سے جنگ میں عدم تعاون کی اطلاع پا کر حضرت علی نے حضرت حسن اورحضرت عمار کو بھیجاتاکہ وہ اہل کوفہ کو ان کی حمایت پر آمادہ کریں۔ انھوں نے حضرت قرظہ بن کعب کو کوفہ کانیاگورنر تعینات کر کے ساتھ بھیجا۔ حضرت عمار کو نصیحت کی کہ فساد ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ حضرت حسن اور حضرت عمار کوفہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسروق بن اجدع ان سے ملے اور سوال کیا:تم لوگوں نے عثمان کو کیوں شہید کیا؟ انھوں نے ہماری عزتوں کو پامال کیا اور ہمارے جسموں کو مشق ستم بنایا تھا، حضرت عمار کا جواب تھا۔ مسروق نے کہا: اگر تم صبر کر لیتے تو بہتر ہوتا۔ پھر حضرت ابوموسیٰ آئے اور حضرت حسن کو گلے لگا لیا۔ حضرت حسن نے ان سے پوچھا: آپ لوگوں کوہم سے کیوں دور کر رہے ہیں ؟واللہ، ہم تو محض اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ اسی مجلس میں جب حضرت عمار اورحضرت حسن کوفہ کی جامع مسجد کے منبرپر کھڑے خطاب کررہے تھے، ایک شخص نے سیدہ عائشہ کو گالی دے ڈالی۔ حضرت عمار نے اسے ڈانٹ کر بٹھا دیااور کہا: خاموش ہو جا، او لاخیرے، نیچ انسان! عائشہ دنیا و آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے یہ معلوم کرنے کے لیے تم کو آزمایش میں ڈالا ہے کہ تم اس کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی؟ (بخاری، رقم ۳۷۷۲۔ ترمذی، رقم۳۸۸۸ - ۳۸۸۹۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۸۹۳۸)۔ حضرت ابوموسیٰ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اصحاب رسول، اللہ اور رسول کے بارے میں بہتر علم رکھتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ''عنقریب ایک بڑا فتنہ رونما ہوگا جس میں سویا ہوا بیدار سے، بیدار بیٹھے ہوئے سے، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے، کھڑا ہوا چلنے والے سے، چلنے والا سوارسے اور سوار دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ''۔ حضرت عمار غصے میں آ کر گالیاں دینے لگے اور کہا: یہ نصیحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم اکیلے ہی کو کی ہو گی۔ بنوتمیم کا ایک شخص اٹھ کر حضرت عمار پرسب و شتم کرنے لگا۔ حضرت ابوموسیٰ پھر کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ نے ہمیں بھائی بھائی بنایا ہے اور ہمارے جان و مال کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا ہے۔ تم بھی تلواروں کو میان میں کر لو، نیزوں کے پھل الگ کر لو، کمانوں کوتوڑ ڈالو اور مظلوم کو پناہ دو، حتیٰ کہ معاملہ سدھر جائے اور یہ فتنہ زائل ہو جائے۔ زیدبن صوحان نے کہا: ابو موسیٰ، امیر المومنین علی کی فوج میں شامل ہوجاؤ۔ حضرت قعقاع بن عمرو کھڑے ہوئے :امیر المومنین اصلاح کی دعوت دے رہے ہیں۔ حضرت عمار اورحضرت ابو موسیٰ میں بہت جھگڑا ہوا، اسی شورو غوغامیں مجمع منتشر ہو گیا۔

آخر کار اشتر نے گورنرحضرت ابوموسیٰ کے بچوں کو مارا پیٹا اور محل سے باہر نکال دیا۔ اس نے حضرت ابوموسیٰ کورات ہونے سے پہلے پہلے محل خالی کرنے کو کہا۔ دوسری روایت کے مطابق حضرت قرظہ کی آمد پر وہ فوراً حکومت سے علیحدہ ہو گئے۔ ان کے جانے کے بعدکوفہ سے بارہ ہزار کا لشکر حضرت علی کی مدد کے لیے روانہ ہوا۔

جنگ سے پہلے مصالحت کی کوشش

قبیلۂ عبدالقیس کے ہزاروں افرادبصرہ کے راستے میں حضرت علی کی آمد کے منتظر تھے۔ ذی قارسے حضرت علی نے حضرت قعقاع کو بصرہ بھیجا تاکہ وہ حضرت طلحہ وحضرت زبیر سے ملیں اور جماعت و الفت کی اہمیت ان پر واضح کریں۔ حضرت قعقاع پہلے حضرت عائشہ سے ملے اور پوچھا: اماں جان،آپ اس شہر میں کیونکر آئی ہیں ؟لوگوں میں صلح و صفائی کرانے کے لیے، انھوں نے جواب دیا۔ حضرت قعقاع نے کہا:طلحہ و زبیر کو پیغام بھیجیں کہ وہ بھی میری بات سن لیں۔ حضرت قعقاع ان دونوں سے ملے تو پوچھا: کیا آپ کا مقصد بھی وہی ہے جو ام المومنین کاہے؟انھوں نے اثبات میں جواب دیا تو پوچھا: یہ اصلاح کس طرح ہو گی؟انھوں نے جواب دیا: قاتلین عثمان کو چھوڑ دینا ترک قرآن ہو گا۔ حضرت قعقاع نے کہا:تم نے بصرہ سے تعلق رکھنے والے قاتلوں کوتومار دیا، لیکن ان سے پہلے چھ سو افراد کوقتل کرنا پڑا۔ اب تم حرقوص بن زہیر کے درپے ہواور چھ ہزار کی فوج اس کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ جیسے تمھارے لیے حرقوص سے قصاص لینا ممکن نہیں رہا، اسی طرح علی معذور ہیں ۔ انھوں نے قصاص کو اس وقت تک موخر کررکھا ہے جب تک ان مفسدین پر قابو نہیں پالیتے۔ حضرت عائشہ نے پوچھا: تمھارا کیا مشورہ ہے؟حضرت قعقاع نے کہا:اس وقت تمام شہروں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ربیعہ و مضر کے بہت سے قبائل آمادہ بہ جنگ ہیں۔ ہمیں جنگ بندی کر کے حالات کو پرسکون بنانا ہو گا۔ آپ قصاص موخر کرکے حضرت علی کی بیعت کر لیں تو خیر ورحمت کا ظہور ہو گا۔ حضرت طلحہ و حضرت زبیر نے اس بات سے اتفاق کر لیا۔ حضرت قعقاع نے واپس جا کرحضرت علی کو خبر دی تو وہ بہت خوش ہوئے۔

قاتلین عثمان کی شر انگیزی

بصرہ روانگی سے پہلے حضرت علی نے خطبہ دیا:اسلام نے دور جاہلیت کی بدبختی ختم کر کے ہم میں الفت و محبت پیداکی۔ ابوبکر و عمر کے عہد میں لوگ متحد تھے۔ پھرکچھ لوگوں کے حرص و حسد کی وجہ سے عثمان کی شہادت کا سانحہ رونما ہوا۔ کل ہم کوچ کریں گے، ہمارے ساتھ ایساکوئی شخص ہر گز نہ چلے جس نے عثمان کے خلاف بغاوت میں کسی طور بھی مدد کی ہو۔ یہ سن کر قاتلین عثمان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ چنانچہ علبا بن ہیثم، عدی بن حاتم، سالم بن ثعلبہ، شریح بن اوفی، اشتر، ابن سودا اور خالد بن ملجم نے میٹنگ کی۔ اشتر نے کہا:اس سے پیشتر کہ علی ہماری جانیں لینے کے مطالبہ پرمخالفین سے متفق ہو جائیں ، ہم انھیں بھی عثمان کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔ عبد اللہ بن سودا نے تسلی دی کہ ہماری تعدادکم نہیں، لیکن عزت اسی میں ہے کہ لوگوں میں مل جل کر رہیں۔ اگرہم عام مسلمانوں سے الگ تھلگ ہو گئے تو وہ ہمیں روند ڈالیں گے۔ آخرکار انھوں نے جیش علی میں شامل رہنے پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا کہ فریقین کو ہرگز اکٹھا نہ ہونے دیا جائے اور موقع ملتے ہی ان میں جنگ کی آگ بھڑکا دی جائے۔ لشکر ربذہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہوا، حضرت علی سرخ اونٹنی پر سوار، سرخ و سیاہ گھوڑے کو ساتھ لیے ہوئے تھے۔ ابو لیلیٰ بن عمرمقدمہ پر مامور تھے، محمد بن حنفیہ نے علم اٹھا رکھا تھا۔ بصرہ پہنچ کر حضرت علی نے زاویہ میں قیام کیا، وہاں سے چل کر قصر عبداللہ بن زیادپہنچے۔ حضرت عائشہ بھی فرضہ سے اپنا لشکر لے کر یہاں آگئیں۔ دونو ں لشکر تین روز تک آمنے سامنے ٹھیرے رہے، لڑائی نہ ہوئی، تاہم پیام رسانی کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی دوران میں احنف بن قیس نے جلحا کے مقام پر اپنے چھ ہزار ساتھیوں سمیت حضرت علی کی جنگ سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔ وہ حضرت علی کی بیعت کر چکے تھے، لیکن ام المومنین سیدہ عائشہ اور حواری رسول اللہ حضرت زبیر کے خلاف لڑنا نہ چاہتے تھے۔ بنو سعد نے ان کا ساتھ دیا۔ کعب بن سورنے مرتے دم تک حضرت عائشہ کا ساتھ دیا، اس لیے یہ بات درست نہیں لگتی کہ انھوں نے بنوازدکے سردار صبرہ بن شیمان کو ان کی حمایت کرنے سے روکا۔

جنگ جمل :ابتدا کیسے ہوئی؟

جمادی الاولیٰ ۳۶ھ (۷ ؍نومبر ۶۵۶ء، دوسری روایت:۱۵ ؍جمادی الثانی ۳۶ھ، ۹ ؍دسمبر ۶۵۶ء ) میں بصرہ کے قصر عبیداللہ بن زیاد کے پاس جنگ جمل ہوئی، جس میں دس ہزارسے زیادہ مسلمان شہید ہوئے۔ اس جنگ میں حضرت علی، حضرت عمار، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عائشہ، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت سہل بن حنیف اور کئی صحابہ نے حصہ لیا۔ اہل بصرہ تین گروہوں میں بٹ چکے تھے، ایک گروہ حضرت طلحہ وحضرت زبیر کا ساتھ دے رہا تھا، ایک حضرت علی کا اور تیسرا جس میں احنف بن قیس اور حضرت عمران بن حصین تھے، جنگ نہ کرنا چاہتا تھا۔ حضرت علی نے حکیم بن سلامہ اور مالک بن حبیب کو یہ پیغام دے کرحضرت طلحہ وحضرت زبیر کے پاس بھیجا، اگر تم قعقاع کے ساتھ کی جانے والی بات پر قائم ہوتو جنگ سے رکے رہو۔ انھوں نے اس سے اتفاق کیا۔ یہی وجہ ہے کہ فوج میں شامل مضر، ربیعہ اوریمنی قبائل کو پورا یقین تھا کہ صلح ہو جائے گی۔ اسی شام انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کو حضرت طلحہ وحضرت زبیر کی طرف بھیجا اور ان کی طرف سے محمد بن ابو طلحہ حضرت علی سے ملنے آئے۔ فریقین نے خوشی اور اطمینان سے رات بسر کی، دوسری طرف خلیفۂ مظلوم کے قاتلوں میں بے حد اضطراب رہا۔ پو پھٹنے سے پہلے ان کے دو ہزار کے قریب آدمیوں نے تلواریں سوتیں اورحضرت طلحہ وحضرت زبیر کی فوج پر ٹوٹ پڑے۔ انھوں نے اسے اہل کوفہ کا حملہ سمجھا۔ چنانچہ حضرت طلحہ وحضرت زبیر نے کہا: ہمیں علم تھا کہ علی خون ریزی کیے بغیر نہ رہیں گے۔ ادھرحضرت علی نے شور وغوغا سنا تو پوچھا: کیا ہوا؟ انھیں بتایا گیاکہ رات کو حملہ ہوا جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا ہے۔ کہا:میں جانتا تھا کہ طلحہ و زبیر خون بہانے سے باز نہ آئیں گے۔ ابن سبا کے ساتھی خوب قتل و غارت کر رہے تھے، حضرت علی پکار رہے تھے: رکو! رکو! لیکن کوئی ان کی سن نہ رہا تھا۔ کعب بن سورحضرت عائشہ کے پاس آئے اور جنگ رکوانے کی استدعا کی۔ وہ کجاوے پر سوارہو کر نکلیں، لیکن تب تک جنگ کا بازار گرم ہو گیا تھا۔ حضرت علی نے لوگوں کے سراڑتے دیکھے تو حضرت حسن کو ساتھ چمٹا لیا۔

حضرت زبیر کا میدان جنگ چھوڑجانا

جنگ میں شریک حضرت عمار بن یاسر حضرت زبیر بن عوام پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جنگ انھی کی وجہ سے شروع ہوئی ہے، لیکن حضرت زبیر اپنے آپ کو بچاتے رہے اور کوئی جوابی حملہ نہ کیا۔ ان کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تھا: ''عمار ، تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا '' (بخاری، رقم۴۴۷)۔ انھوں نے سوچا کہ اگر اس معرکہ میں عمار شہید ہوگئے تو ہماری فوج ہی باغی قرار پائے گی۔ حضرت عمار انھیں نیزہ مارنے لگے تھے کہ حضرت زبیر نے روک کر پوچھا: ابوالیقظان ، کیا آپ مجھے مار ہی ڈالیں گے؟ نہیں، اے ابو عبداللہ تم نکل جاؤ، میں بھی ہٹ جاتا ہوں، انھوں نے کہا۔ آخر کار حضرت زبیر نے جنگ سے نکل جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی اثنا میں حضرت علی خچر پر سوار ہو کر آئے اورپکارے: زبیر کو بلاؤ۔ وہ آئے تو پوچھا: تجھے کس نے کشت و خون پر آمادہ کر دیا؟تو نے، تو ہم سے زیادہ خلافت کا حق دا ر نہیں، حضرت زبیر نے جواب دیا۔ حضرت علی نے کہا: کیا عثمان کے بعد بھی میں خلافت کا اہل نہیں ہوا؟ تمھیں وہ دن یادہے جب انصار کے سقیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے پوچھا تھا، زبیر ، تم علی سے محبت کرتے ہو؟تم نے کہا:ہاں ، بھلا میں اپنے ماموں زاد، چچا زاد اور ہم مذہب سے محبت نہ کروں گا۔ پھر آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا تو میں نے بھی ایسا ہی جواب دیا۔ بنو غنم سے گزرتے ہوئے تم نے کہا تھا : ابو طالب کا بیٹا اپنی اکڑ کو نہیں چھوڑے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تھا:علی میں اکڑ نہیں، لیکن زبیر ، تم علی سے قتال کرو گے، حالاں کہ تم ظالم ہوگے۔ حضرت زبیر نے تصدیق کی اور کہا: میں یہ بات بھول چکا تھا، اگر یاد ہوتا تو اس راہ پر ہرگز نہ چلتا (مستدرک حاکم، رقم۵۵۷۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۸۹۸۲)۔ وہ فوراً حضرت عائشہ کے پاس گئے اور جانے کی اجازت چاہی، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ نے انھیں بزدلی اور موت سے ڈرنے کا طعنہ دیا تو انھوں نے کہا:میں نے قتال نہ کرنے کی قسم کھا لی ہے۔ بیٹے نے قسم کا کفارہ دینے کے لیے اپنا غلام مکحول (یا سرجس )دیا، لیکن وہ اپنے گھوڑے( ذو الخمار) پر سوارپلٹے اور فوج کی صفیں چیرتے ہوئے میدان جنگ چھوڑ گئے (مستدرک حاکم، رقم ۵۵۷۵)۔ حضرت زبیر کے جنگ سے رجوع کرنے کی خبر حضرت علی تک پہنچی تو کہا: ابن صفیہ (زبیر) کواگر اپنا حق پر ہونا یقینی ہوتا تو ہرگز رجوع نہ کرتے(کنز العمال، رقم ۳۱۶۴۸)۔

حضرت زبیر کی شہادت

۱۰ ؍ جمادی اولیٰ ۳۶ ھ (۶۵۶ء ): حضرت زبیر میدان کارزار سے نکلے تو احنف نے کہا:فوجوں کو آمنے سامنے کھڑا کر کے یہ جا رہے ہیں ، کون ان کی اطلاع لائے گا؟ عمرو بن جرموزتمیمی، فضالہ بن حابس اور نفیع(یا نفیل بن حابس) نے ان کا پیچھا شروع کیا۔ بصرہ سے پانچ میل دور وادی سباع کے مقام پرابن جرموز نے حضرت زبیر کو جا لیا۔ انھوں نے نماز شروع کی ہی تھی کہ ابن جرموز نے ان کی زرہ کے گریبان والے حصے میں نیزہ مارا اور شہید کر ڈالا، ان کے غلام عطیہ کو چھوڑدیا، گھوڑے، اسلحہ اور انگوٹھی پر قبضہ کیا اوربصرہ واپس جا پہنچا۔ احنف نے کہا: میں نہیں کہہ سکتا کہ تم نے اچھا کیا کہ برا۔ عمرو حضرت زبیر کا سر اور ان کی تلوار لے کر حضرت علی کے پاس آیا۔ اس کا خیال تھا کہ مجھے شاباشی ملے گی، لیکن حضرت علی نے اسے جہنم کی وعید سنائی(کنزالعمال، رقم ۳۱۶۵۲)۔ حضرت زبیر کی تلوارپہچان کر حضرت علی نے فرمایا:زبیر نے کتنا ہی عرصہ اس تلوار کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ مبارک سے پریشانیاں زائل کیں(کنزالعمال، رقم ۳۱۶۵۰)۔

حضرت طلحہ کوکس نے شہید کیا؟

دوران جنگ میں حضرت علی اور حضرت طلحہ آمنے سامنے آئے تو حضرت علی نے پوچھا: تم دونوں نے اسلحہ اور فوج توخوب تیار کر لی، کیا اللہ کے سامنے پیش کرنے کے لیے عذر بھی سوچ رکھا ہے؟ 'وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۣ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا'، ''اس عورت کے مانند نہ ہو جانا جس نے خوب محنت کے بعد اپنا کاتا ہوا سوت ٹکڑے ٹکڑے کر دیا''(النحل ۱۶: ۹۲)۔ کیامیں تمھارا دینی بھائی نہیں اور تم نے میری بیعت نہیں کر رکھی؟ پھر میرے خون کو حلال سمجھنے لگے ہو؟ حضرت طلحہ نے الزام لگایا کہ آپ نے عثمان کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا تھا۔ جواب میں حضرت علی نے یہ آیت تلاوت کی :'يَوْمَئِذٍ يُّوَفِّيْهِمُ اللّٰهُ دِيْنَهُمُ الْحَقَّ'، ''اس دن اللہ ان کو پورا بدلہ دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے'' (النور ۲۴: ۲۵) اور قاتلین عثمان پر لعنت بھیجی۔ انھوں نے کہا:تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو لڑنے کے لیے لے آئے ہو اور اپنی اہلیہ کو گھر میں چھپا رکھا ہے؟ حضرت طلحہ بولے: ہم نے عثمان کی جان بچانے میں کوتاہی کی، اس لیے ان کا قصاص لینے کے لیے اپنا خون بہانا ہی ہمارا مقصد بن گیا ہے۔ حضرت طلحہ حضرت عائشہ کے ساتھ کھڑے تھے (یا حضرت زبیر کی طرح میدان جنگ چھوڑ کر جارہے تھے) کہ ایک اندھا تیر ان کی پنڈلی پر آلگا اور اس میں سے پار ہو کر گھوڑے کے پہلو میں گھس گیا۔ ان کا موزہ خون سے بھر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مروا ن نے پھینکا تھا۔ حضرت قعقاع نے کہا:آپ زخمی ہیں، اپنی جنگ جاری نہیں رکھ سکتے۔ انھیں بصرہ کے ایک گھر میں لے جایا گیا جہاں ان کے سانس پورے ہوئے۔ حضرت طلحہ کے بیٹے عمران کا حضرت علی سے جومکالمہ ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل حضرت عائشہ نہیں، بلکہ حضرت علی کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا، اگرچہ اس میں حضرت علی کا کوئی دخل نہ تھا (طبقات ابن سعد ۳/ ۱۶۰)۔ ابن کثیر کہتے ہیں :مروان کے علاوہ کسی شخص کا قاتل ہونا اقرب الی الصواب ہے (البدایہ ۷/ ۲۴۷)۔ ایک ضعیف روایت کے مطابق دم آخریں حضرت علی کا ایک ساتھی حضرت طلحہ کے پاس سے گزراتو انھوں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی بیعت کر لی(کنزالعمال، رقم ۳۱۶۴۳)۔

عسکر پر وار، جنگ کا اختتام

دوپہر کے بعدجنگ سیدہ عائشہ کی کمان میں لڑی گئی اور عصر تک جاری رہی۔ حضرت عائشہ کے اونٹ کو مضری قبائل نے گھیرے میں لے لیا تو انھوں نے کعب بن سور کو مصحف دے کر کہا:اونٹ سے آگے چل کرلوگوں کوکتاب اللہ کی طرف بلاؤ۔ وہ آگے بڑھے تو کوفی فوج کے مقدمۃ الجیش نے ان کا سامنا کیا۔ اس میں موجود عبداللہ بن سبا اور اس کے متبعین کواندیشہ ہوا کہ کہیں صلح نہ ہو جائے۔ انھوں نے تیروں کی بوچھاڑ کر کے کعب کو شہید کر ڈالا۔ کئی تیرحضرت عائشہ کے ہودے میں لگے۔ وہ اللہ، اللہ پکارکر بولیں :میرے بیٹو، یوم حساب کو یاد رکھو۔ پھرحضرت عثمان کے قاتلوں پرلعنت بھیجنے اور انھیں بددعا دینے لگیں۔ لوگ بھی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ اس میں شامل ہو گئے۔ حضرت علی نے پوچھا: یہ شور وغل کیسا ہے؟ لوگوں نے بتایا: عائشہ قاتلین عثمان پر لعنت بھیج رہی ہیں۔ حضرت علی بھی لعنت بھیجنے میں ان کے ہم آواز ہو گئے(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۸۹۶۵)۔ حضرت علی کے میمنہ نے حضرت عائشہ کے میسرہ کوپیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، جب کہ حضرت عائشہ کا میمنہ حضرت علی کے میسرہ پر غالب رہا۔ اسی اثنا میں حضرت عائشہ نے مضری دستے کو زوردار حملہ کرنے کا حکم دیا۔ جواب میں حضرت علی نے اپنے بیٹے محمد سے کہا کہ پرچم لے کر آگے بڑھ۔ اس نے ہمت نہ کی تو انھوں نے خود پرچم لے کرپیش قدمی کی اورخوب نیزہ چلایا، واپس آ کر پانی طلب کیا تو انھیں شہد دیا گیا۔ جنگ شدت پکڑ گئی، حضرت علی کے جرنیل زید بن صوحان شہید ہوئے۔ حضرت عائشہ کی فوج غالب ہونے لگی توحضرت علی نے ربیعہ اور یمن کے دستوں کو بلایا۔ ان کے آنے پر جنگ میں پھر تیزی آئی، دونوں اطراف کے فوجی گتھم گتھا ہو گئے، فوجوں کے میمنہ و میسرہ قلب سے جا ملے۔ حضرت عائشہ کے کمانڈر عبدالرحمٰن بن عتاب قتل ہوئے تووہ بنو ازد کے رسالے کومخاطب کر کے پکاریں: آج وہ دلیری دکھاؤ جس کی ہم مثالیں سنا کرتے تھے، بنوناجیہ کو آواز دی: اپنی ابطحی تلواروں کی کاٹ دکھادو، پھر بنو ضبہ اور بنو عدی کو دلیری دلائی۔

بصرہ کے سابق قاضی عمیرہ(یا ان کے بھائی عمرو) بن یثربی سیدہ عائشہ کے اونٹ کے سرپرکھڑے اس کی حفاظت کر رہے تھے۔ حضرت علی بولے: اونٹ پر حملہ کون کرے گا؟ہند بن عمرو جملی نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ عمیرہ نے انھیں روکا اور دو واروں میں قتل کر دیا۔ پھر علبا بن ہیثم بڑھے اور عمیرہ کے ہاتھوں ختم ہوئے۔ عمیرہ نے سیحان بن صوحان کو بھی موت سے ہم کنار کیا، پھر صعصہ کو شدید زخمی کیا اور وہ بھی چل بسے۔ حضرت عمار پکارے: تو نے ایک مضبوط قلعے (سیدہ عائشہ )کی پناہ لے رکھی ہے، تمھارے تک پہنچنے کی راہ نہیں۔ تواپنے دعوے میں اگر سچا ہے تو اس لشکر سے نکل کر میری طرف آ۔ عمیرہ نے اونٹ کی مہار بنوعدی کے ایک شخص کو پکڑائی اور فوجوں کے مابین کھڑے ہو گئے۔ حضرت عمار سامنے آئے تو عمیرہ نے وار کیا جو حضرت عمار نے چمڑے کی ڈھال سے بچایا، پھر انھوں نے تاک کر عمیرہ کے پاؤں کا نشانہ لیا۔ پاؤں کٹ جانے سے وہ پیٹھ کے بل آن گرے۔ انھیں قیدکر کے حضرت علی کے پاس لے جایا گیاتوانھوں نے رحم کی اپیل کی، لیکن حضرت علی نے یہ کہہ کر قتل کر ادیا کہ کیا تین آدمیوں کی جان لینے کے بعد بھی معافی کی گنجایش ہے؟ حضرت علی نے اپنے سپاہیوں کو پھر حکم دیا:سیدہ عائشہ کے اونٹ'عسکر' کو نشانہ بناؤ، کیونکہ اس کے گرے بغیر جنگ ختم نہ ہو گی۔ اب بنوعدی کاعمروبن بحیرہ عسکر کی مہار پکڑے ہوئے تھا۔ ربیعہ عقیلی نے اسے للکارا، لڑتے لڑتے دونوں شدید زخمی اور جاں بحق ہوئے۔ حارث ضبی نے نکیل تھامی اور یہ مشہور رجز پڑھی:

نحن بنو ضبة أصحاب الجمل

نبارز القرن إذا القرن نزل

''ہم قبیلۂ بنو ضبہ کے لوگ جمل والے ہیں، ہم سر کو مقابلے کے لیے للکارتے ہیں جب وہ سامنے اترتا ہے۔''

ننعی ابن عفان بأطراف الأسل

الموت أحلی عندنا من العسل

''ہم نیزوں کے کناروں کے ذریعے عثمان بن عفان کی شہادت کی خبر دیتے ہیں، موت ہمارے لیے شہد سے زیادہ میٹھی ہے ۔''

ردوعلینا شیخنا ثم بجل

'' ہمارے شیخ(عثمان ) ہمیں لوٹا دو، پھر یہی کافی ہے۔''

اس طرح اونٹ کی حفاظت کرتے ہوئے چالیس (یا ستر) افراد شہیدہوئے، حضرت عبدالرحمٰن عتاب، حضرت جندب بن زہیر، ، عمرو بن اشرف، عبداللہ بن حکیم بن حزام، اسود بن ابو البختری اور حضرت محمد بن طلحہ ان میں شامل تھے، اشتر نے حضرت عبداللہ بن زبیر پر حملہ کیا، سر کی شدید چوٹ کے علاوہ انھیں ستر سے زائد زخم آئے۔ حضرت عبداللہ نے بھی وار کیا، لیکن وہ اوچھا پڑا۔ دونوں گتھم گتھا ہو گئے تو حضرت عائشہ کے اصحاب نے انھیں چھڑایا۔ مروان بن حکم بھی زخمی ہوا۔ آخرکار ایک شخص نے تلوارکا وار کرکے اونٹ کا پاؤں کاٹ ڈالا، وہ بلبلا کر سینے کے بل بیٹھ گیا، اس کی نکیل ٹوٹ گئی۔ اہل جمل منتشر ہوئے اور جیش علی نے اونٹ کا محاصرہ کر لیا۔ ابن قتیبہ کہتے ہیں :جنگ جمل سات دن جاری رہی۔

اس جنگ میں کوئی عام ہلہ نہ ہوا۔ عرب کے رواج کے مطابق دو بدو لڑائیوں (duels) کا ایک سلسلہ چلتا رہا۔ اس میں شدت اس وقت آئی جب لڑائی عسکر کے گرد مرتکز ہوئی۔ جنگ جمل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں اتنے ہاتھ پاؤں کٹے کہ جنگ کے اختتام پر لوگ اپنے ہاتھ پاؤں ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئے۔ حضرت علی کے منادی نے اعلان کیا:جنگ سے بھاگنے والے کا تعاقب نہ کیا جائے، کسی زخمی پروار نہ کیا جائے اور گھروں میں نہ گھسا جائے (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۴۴۔ کنزالعمال، رقم ۳۱۶۶۹)۔ میدان جنگ میں بکھرے سامان کو بصرہ کی مسجد میں پہنچا کر اعلان کیا گیا، اپنا اپنا سامان شناخت کر کے لے جائیں۔ البتہ اسلحہ ضبط کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیاگیا۔

حضرت عائشہ کا اکرام

حضرت قعقاع بن عمرو، محمدبن ابوبکر اورحضرت عمار بن یاسر نے سیدہ عائشہ کے کجاوے کے تسمے کاٹے اور اسے اٹھا کر لاشوں سے پرے رکھ دیا۔ اس میں اتنے تیر پیوست ہو چکے تھے، جتنے خار پشت کی پشت پر کانٹے ہوتے ہیں۔ اونٹ کے سرپوش کو زرہ بکتر کی شکل دی گئی تھی، اس لیے حضرت عائشہ کو فقط بازو پر ایک خراش آئی۔ پردے کے لیے چادریں تان دی گئیں، حضرت علی، حضرت عمار بن یاسر اور تمام کمانڈروں نے ام المومنین کو سلام کیا، ان سے عزت و اکرام سے پیش آئے۔ محمد بن ابوبکر نے اپنی بہن کی خیریت دریافت کی، پھر انھیں بصرہ لے گئے۔

شہداے جنگ جمل

جنگ جمل میں طرفین کے دس ہزار اہل ایمان نے زندگی سے ہاتھ دھوئے۔ شہدا کی تعداد اس طرح بیان کی گئی ہے: جیش علی :پانچ ہزار، اصحاب عائشہ :پانچ ہزار، بنوضبہ، ایک ہزار، بنوعدی:ستر۔

بصرہ میں دخول

فتح کے بعد حضرت علی بصرہ میں داخل ہوئے تو تمام شہریوں سے بیعت لی، زخمی اور امان لینے والے بھی بیعت میں شامل ہوئے۔ انھوں نے بصرہ میں تین (پندرہ) دن قیام کیا، اس دوران میں میدان جنگ کا معاینہ کیا، اپنے اور فریق مخالف کے شہدا کی بلا امتیازنماز جنازہ پڑھائی اور ان کی تدفین کے انتظامات کیے۔ کعب بن سور کی میت کو دیکھ کر کہا: یہ بڑا عالم تھا، حضرت عبدالرحمٰن بن عتاب کے جثے کو دیکھا تو فرمایا:یہ قوم کا سردار تھا، حضرت طلحہ بن عبیداللہ کے لاشے پر نظر پڑی تو دکھ کا اظہار کیا اور 'إنا ﷲ وإنا إلیه رٰجعون'پڑھا۔ ان کے چہرے سے گردوغبار صاف کیا اور روتے روتے اپنے بیٹے حضرت حسن سے فرمایا:کاش، میں اس سے پہلے فوت ہوگیا ہوتا(مستدرک حاکم، رقم۵۵۹۷۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۵۱)۔

جنگ کے بعدبنوسعد کے احنف بن قیس حضرت علی سے ملنے آئے تو انھوں نے شکوہ کیا کہ تو ہمارا ساتھ دینے سے ہچکچاتا ہی رہا۔ احنف نے کہا:میرے خیال میں، میں نے اچھا ہی کیا، آپ بھی نرمی اختیار کیجیے۔ حضرت ابوبکرہ کے بیٹے عبدالرحمٰن ملنے آئے توبتایا کہ ان کے والد بیمار ہیں۔ حضرت علی ان کی تیمارداری کرنے گئے اور انھیں بصرہ کا گورنر بننے کی پیش کش کی۔ حضرت ابوبکرہ نے کہا:گورنر آپ کے اہل خانہ میں سے ہونا چاہیے، میں اسے مشورہ دے دیا کروں گا۔ ان کے کہنے پر حضرت علی نے حضرت عبداللہ بن عباس کو بصرہ کا گورنر اور زیاد بن ابیہ کو بیت المال کا ناظم مقرر کیا۔

حضرت عائشہ کو رخصت کرنا

جنگ کے بعد حضرت علی عبداللہ بن خلف کے گھر گئے جہاں سیدہ عائشہ مقیم تھیں۔ عبداللہ جیش عائشہ میں تھے، جنگ جمل میں شہید ہوئے، جب کہ ان کے بھائی عثمان نے حضرت علی کا ساتھ دیا اور شہادت پائی۔ ان کی والدہ صفیہ نے حضرت علی کودیکھ کر بین کیا:اللہ تمھارے بیٹوں کو اسی طرح یتیم کر دے جیسے تو نے عبداللہ کے بیٹوں کو یتیم کیا ہے۔ حضرت علی نے کوئی جواب نہ دیا اورحضرت عائشہ سے ملنے چلے گئے اور کہا:صفیہ نے ہمارے ساتھ مناقشہ کیا ہے، میں نے اسے اس وقت دیکھا تھا جب یہ چھوٹی بچی تھی۔ ایک ازدی نے کہا:یہ عورت ہم پر غالب نہ آسکے گی۔ حضرت علی نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا: کسی عورت کو ہرگز ایذا نہ دینا، چاہے وہ تمھاری عزت پامال کرے۔ ہمیں مشرکہ عورتوں سے اعراض کرنے سے روکا گیاہے، یہ تو مسلمان ہیں۔ یکم رجب ۳۶ھ کو حضرت علی نے سیدہ عائشہ کو سواریاں، سازو سامان اور بارہ ہزار درہم دے کر بڑے اہتمام کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ کیاجہاں وہ حج تک مقیم رہیں۔ بصرہ کی چالیس عورتوں، حضرت عائشہ کے بھائی محمد بن ابوبکر اور اپنے فرزندوں کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔ وہ خودبھی کئی میل تک ان کے ساتھ پیادہ پا چلے۔ بوقت رخصت حضرت عائشہ نے نصیحت کی: بچو،ایک دوسرے سے رنجور نہ ہونا۔ علی سے میری رنجش اتنی ہی تھی جتنی ایک عورت کی سسرال والوں سے ہوتی ہے۔ حضرت علی بولے: آپ نے سچ کہا۔ حضرت عبداللہ بن جعفر نے حضرت عائشہ کو دی جانے والی رقم کو کم سمجھ کر خزانے سے مزید مال دیا اور کہا :امیر المومنین نے اگر اجازت نہ دی تو یہ مال میری طرف سے ادا ہو گا۔ حضرت علی نے حضرت عائشہ کی فوج میں شامل لوگوں کو بصرہ میں رہنے یا اپنے شہروں کو واپس جانے کی چھوٹ دے دی۔

بصرہ موجود گی کے دوران میں حضرت علی کو بتایا گیا کہ دوافرادعجلان اور سعد حضرت عائشہ پر سب و شتم کر رہے ہیں۔ انھوں نے حضرت قعقاع کو حکم دیاکہ ان کوکپڑے اتار کرسو درے لگائے جائیں۔

سپاہیوں کے عطیات :بیت المال سے

تمام اہل بصرہ سے بیعت لینے کے بعدحضرت علی نے بیت المال کی طرف توجہ کی۔ اس میں چھ لاکھ سے کچھ اوپردرہم تھے جو انھوں نے اپنے فوجیوں میں بانٹ دیے۔ ہر سپاہی کے حصہ میں پانسو درہم آئے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ اگر شام میں فتح ہوئی تو اسی طرح عطیات دیے جائیں گے۔ اس باب میں سبائیوں (سبیئیوں ) نے حضرت علی پر بہت طعنہ زنی کی، وہ بیت المال کے بجاے شکست خوردہ فوج کا مال اور خواتین بانٹنا چاہتے تھے۔ حضرت علی نے کہا:جو ہمارے مقابلے سے ہٹ گئے، ہمارے ہی جیسے مسلمان ہیں۔ تم میں سے کون چاہے گا کہ ام المومنین اس کے حصے میں آئیں(کنزالعمال، رقم ۳۱۶۷۳)۔ بصرہ میں قیام پذیر ہو کرحضرت علی اصلاح احوال کرنا چاہتے تھے، لیکن انھیں جلد ہی یہاں سے کوچ کرنا پڑا، کیونکہ سبائی ان کی اجازت کے بغیر ہی آگے چل پڑے تھے۔ حضرت علی نے ان کا پیچھا کرنا شروع کر دیا تاکہ ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے ممکنہ فساد کو بروقت فرو کیا جا سکے۔

جنگ جمل پر حضرت علی کے تاثرات

اے اللہ، میرا ہرگز ارادہ نہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان قتال ہو(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۵۷)۔

کاش، میں بیس برس پہلے گزر گیا ہوتا(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۷۹)۔

مجھے ہرگز خیال نہ تھا کہ معاملہ کی نوبت یہاں تک پہنچے گی(البدایہ والنہایہ ۷/۴۱۸)۔

حضرت علی نے دونوں فریقوں کے شہدا کے لیے دعاے مغفرت کی(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۸۹۸۴)۔

حضرت علی نے حضرت عثمان کے قاتلوں کوبددعا دی(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۶۵۔ التاریخ الکبیر، بخاری ۴/۳۴۳)۔

حضرت علی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے امید ہے، میں، طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن کے بارے میں اللہ کاارشاد ہوا: 'وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ'، ''ان کے سینوں میں جو تھوڑی بہت کپٹ ہو گی ہم نکال دیں گے، یہ حال ہو گا کہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے''(الحجر ۱۵: ۴۷) (ترمذی، رقم۱۷۴۲۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۸۹۵۰)۔ایک بار انھوں نے یہی ارشاد ربانی اپنے اور حضرت عثمان کے تعلقات کی مثال دیتے ہوئے دہرایا۔

حضرت علی کا گزر وادی سباع میں حضرت زبیر کی قبر پر ہوا تو وہاں بیٹھ کر شدت غم سے گریہ زاری کی (طبقات ابن سعد۳/۷۹)۔

حضرت طلحہ کے فرزند محمد بھی جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ ان کی قبر پر جب بھی حضرت علی کا گزر ہواتو فرمایا: بہت عبادت گزاراور نیک نوجوان تھا۔

حضرت عائشہ کی پشیمانی

جنگ جمل میں حصہ لینے کو حضرت عائشہ اپنی اجتہادی غلطی سمجھتی تھیں، عمربھرانھیں اس کا قلق رہا۔ جب وہ 'وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ'، ''اے ازواج نبی ،اپنے گھروں میں ٹک کر رہو '' (الاحزاب ۳۳: ۳۳) کی آیت تلاوت کرتیں تو رونے لگتیں، حتیٰ }}کہ ان کی اوڑھنی بھیگ جاتی۔ فرمایا: اگر مجھے بعد میں پیش آنے والے معاملات کا پہلے سے علم ہوتا تو علی کے خلاف خروج نہ کرتی۔

کوفہ روانگی

بصرہ کے مقامی انتظامات سر انجام دینے کے بعد حضرت علی نے کوفہ کی طرف رخت سفر باندھا۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کو بصرہ کاگورنراور زیاد کو بیت المال کا نگران مقرر کیا۔ ۱۲؍رجب ۳۶ھ میں کوفہ میں داخل ہوئے تو ایک شخص نے عرض کیا کہ آں جناب قصر ابیض میں فرو کش ہوں۔ حضرت علی نے کہا: میں اس میں نہیں رہوں گا، کیونکہ عمر شان دار محلات میں اقامت کو مکروہ جانتے تھے۔ انھوں نے کوفہ کی جامع مسجدمیں دورکعت نفل ادا کیے اور مسجد سے ملحق رحبہ میں قیام پذیر ہوئے۔ حضرت علی نے اس وقت کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مدینہ کے بجاے کوفہ کودار الخلافہ قراردیا۔ جنگ جمل میں فتح کے بعد حضرت علی کی پوزیشن مستحکم ہو گئی اورکئی اطراف کے مسلمانوں نے ان کی بیعت کر لی۔

مطالعۂ مزید:الامامۃ و السیاسۃ(ابن قتیبہ)، تاریخ الامم والملوک(طبری)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، البدایۃ والنہایۃ(ابن کثیر)، سیر الصحابہ (شاہ معین الدین)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ خاں )، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ جات:محمد حمیداللہ، L Veccia Vag Lieri)، سیرت علی المرتضیٰ (محمد نافع)۔

[باقی]

____________