حضرت علی رضی اللہ عنہ (۱۲)


[''سیر و سوانح '' کے زیر عنوان شائع ہونے والے مضامین ان کے فاضل مصنفین کی اپنی تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں، ان سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

لیلة الهریر

جنگ قادسیہ کی طرح جنگ صفین کی آخری رات کو بھی 'لیلة الهریر' کا نام دیا گیا ہے۔ 'یوم الهریر' زمانۂ جاہلیت کی ایک جنگ بھی ہے جو بکر بن وائل اور بنوتمیم کے قبائل میں ہوئی اوراس میں بنوتمیم کا سردار حارث بن بیبہ مارا گیاتھا۔'هریر ' کے لفظی معنی ہیں:غراہٹ۔ ان تینوں راتوں میں مشترک بات یہ ہے کہ ان میں شدید لڑائی اور بھاری جانی نقصان ہوااور ان سے اگلا دن فیصلہ کن رہا۔

جنگ صفین کی اس ہول ناک رات اوراگلے پچھلے دو دنوں میں مسلسل تیس گھنٹے معرکہ آرائی ہوئی جس میں نیزے ٹوٹ گئے،تیر ختم ہوگئے اور فریقین تلواروں سے کشتم کشتا ہو گئے۔تلواریں ٹوٹیں تو پتھر روڑے مارنے لگے۔حضرت عبداللہ بن بدیل کی شہادت کے بعد اشتر میمنہ کی،حضرت ابن عباس میسرہ اورحضرت علی قلب کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔حضرت علی ہر دستے میں جاتے اور پیش قدمی پر انگیخت کرتے۔جمعہ کا سورج اسی طرح طلوع ہوا،اشتر بار بار سپاہی اکٹھے کر کے حملہ آور ہوتا،انھی یورشوں میں شامی عسکر پسپا ہوا اوران کا علم بردار قتل ہوا۔حضرت علی نے اشتر کو کامیاب ہوتے دیکھا تو مزید دستے اس کی طرف بھیج دیے۔

ناگہانی شکست صلح میں تبدیل

حضرت عمرو بن العاص کو شکست و ہلاکت نظر آنے لگی توحضرت معاویہ سے کہا:میں آپ کو ایسا مشورہ دیتا ہوں جس سے ہماری جمعیت مضبوط ہو جائے گی اور ان کا انتشار بڑھ جائے گا۔ہم قرآن بلند کر کے نعرہ لگائیں کہ قرآن ہمارے ما بین جو فیصلہ کرے گا،ہم قبول کر لیں گے۔ اس پر ان میں اختلاف رونما ہو جائے گااور اگر انھوں نے متفق ہو کر ہماری پیش کش مان لی تو جنگ ٹل جائے گی۔چنانچہ جب جنگ زوروں پر تھی اور اہل شام ایک ٹیلے کی پناہ لیے ہوئے تھے، حضرت معاویہ نے ایک شخص کو مصحف دے کر حضرت علی کے پاس بھیجا۔اس نے یہ آیت تلاوت کی :'اَلَمْ تَرَ اِلَي الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰي كِتٰبِ اللّٰهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلّٰي فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ وَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ '، ''ذرا ان کو تو دیکھوجن کو کتاب الہٰی کا ایک حصہ عطا ہوا، ان کو اللہ کی کتاب ہی کی طرف بلایا جا رہا ہے تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے توان کا ایک فریق منہ موڑتے ہوئے پہلو تہی کرجاتا ہے'' (آل عمران۳: ۲۳) اور کہا: ہمارے درمیان اللہ کی کتاب حکم ہے۔ادھر میدان جنگ میں شامیوں نے نیزوں پر قرآن بلند کیے،ان کی طرف سے حضرت عبداللہ بن عمرو نے جنگ ترک کر کے صلح کی دعوت دی تو کچھ لوگ بول اٹھے:ہم کتاب اللہ کو قبول کرتے ہیں۔حضرت علی نے کہا:بندگان خدا،اپنا حق نہ چھوڑو، سچائی پر قائم رہواور دشمن سے جنگ جاری رکھو۔ معاویہ، عمرو بن العاص،عقبہ بن ابی معیط، حبیب بن مسلمہ،عبداللہ بن ابی سرح اور ضحاک بن قیس کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔انھوں نے قرآن ایک چال کے طورپر، دھوکا دینے کے لیے بلند کیے ہیں۔ حضرت علی کے کچھ ساتھیوں نے کہا:یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کتاب اللہ کی طرف بلائے اور ہم انکار کر دیں۔ صلح حدیبیہ کے روز بھی اہل ایمان نے جنگ کے بجاے صلح کو ترجیح دی تھی۔حضرت علی بولے: میں نے بھی تو کتاب اللہ کاحکم منوانے کے لیے قتال کیا ہے۔اس وقت تو انھوں نے اللہ سے کیے عہد کوبھلا دیا اور اس کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا۔اس پر مسعر بن فدکی،زید بن حصین اور کچھ دوسرے لوگوں نے جو بعد میں خارجی بن گئے،حضرت علی کو دھمکی دی کہ کتاب اللہ کی دعوت کو قبول کر لیں، ورنہ ہم آپ کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو عفان کے بیٹے کے ساتھ کیا تھا۔حضرت علی نے کہا:اگر میری اطاعت کرنا چاہتے ہو توجنگ جاری رکھو۔خارجیوں نے جواب دیا : یہ ہرگز نہیں ہوسکتا،آپ آدمی بھیج کر اشترکو محاذ سے واپس بلا لیں۔تب حضرت علی نے یزید بن ہانی کے ذریعے سے حکم بھیجا : فوراًمیرے پاس آؤ۔اشتر نے جواب دیا کہ یہ وقت مجھے اپنی پوزیشن سے ہٹانے کا نہیں، جب کہ میں اللہ سے فتح کی امید لگائے ہوئے ہوں۔اسی اثنا میں میدان جنگ سے شور وغوغااور غبار بلند ہوا توخارجی حضرت علی کے درپے ہوگئے کہ آپ نے جنگ جاری رکھنے کا فرمان دیا ہے۔حضرت علی نے کہا: میں نے چوری چھپے کوئی بات نہیں کی، تمھارے سامنے ہی جنگ ختم کرنے کا حکم بھیجا ہے، تم سن رہے تھے۔ خارجیوں نے اصرار کیا کہ اشتر کو فوراً واپس بلالیں، ورنہ ہم آپ کو معزول کردیں گے۔حضرت علی نے یزید بن ہانی کو پھر بھیجا :اشتر کو فوراً بلا لاؤ،یہاں فتنہ برپا ہو گیا ہے۔ اشتر بہت جزبز ہوا اور کہا:جب قرآن اٹھائے گئے تھے، میں سمجھ گیا تھا کہ اب نیا اختلاف اور نئی فرقہ بندی جنم لے گی۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ کی مدد سے ہمیں فتح مل رہی ہے اور ان لوگوں کا انجام برا ہونے والا ہے۔ مجھے گھوڑادوڑانے کی مہلت دو،مجھے فتح کی حرص پیدا ہو گئی ہے۔ کیا تم اس صورت میں فتح حاصل کرنا چا ہو گے جب امیرالمومنین دشمن کے نرغے میں آ کر قتل ہو رہے ہوں؟ یزیدبن ہانی نے پوچھا۔اشتر نے سپاہیوں سے کہا: تمھارے ساتھ دھوکا کیا گیا اورتم دھوکا کھا گئے ہو، تو سب بولے: ہم نے اپنے اور ان کے بیچ قرآن کو فیصل مان لیا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس بولے: اب لڑائی ختم ہوئی اور فریب شروع ہوگیا ہے۔ حضرت علی نے خطاب میں کہا: تم لوگوں نے مداہنت اور بزدلی دکھائی ہے،آیندہ کبھی ہدایت حاصل نہ کر سکوگے۔اشتر نے کہا:موت سے تمھارا فرار دنیا کی طرف فرار ہے۔اگر تمھاری پہلی جنگ حق تھی تو اس پر قائم رہو اور اگر وہ باطل تھی تو اپنے مقتولین کے لیے دوزخ کی گواہی دو۔ اشتر نے ان کو برا بھلا کہا اور انھوں نے اشتر کو گالیاں دیں اور اس کے گھوڑے کے منہ پر کوڑے برسائے۔

تحکیم اورحضرت علی کی بے بسی

صلح ہوجانے کے بعد حضرت اشعث بن قیس حضرت علی کے پاس آئے اور کہا: آپ اجازت دیں تو میں معاویہ سے جا کر پوچھوں کہ اب وہ کیا چاہتے ہیں؟ وہ حضرت معاویہ سے ملے تو انھوں نے کہا: کتاب اللہ کے فرمان کے مطابق ایک آدمی آپ مقرر کردیں اور ایک کا تعین ہم کر دیتے ہیں۔یہ دونوں کتاب اللہ کے حکم کے عین مطابق نزاع کا فیصلہ کریں جسے فریقین من و عن قبول کر لیں۔حضرت اشعث ہاں کہہ کرحضرت علی کے پاس آئے تووہ بھی رضا مند ہو گئے۔ اہل شام نے حضرت عمرو بن العاص کا نام تجویز کیا۔ حضرت اشعث اور اس گروہ نے جس نے بعد میں خوارج کا نام پایاحضرت ابوموسیٰ اشعری کا نام پیش کیا۔حضرت علی بولے:تم نے پہلے میری بات نہیں مانی،اب تو نافرمانی نہ کرو۔میں ابوموسیٰ کو یہ ذمہ داری نہیں دینا چاہتا۔حضرت اشعث،زید بن حصین اور مسعر بن فدکی نے کہا:ہم ابوموسیٰ کے علاوہ کسی پرراضی نہ ہوں گے، کیونکہ انھوں نے ہمیں ان جنگوں میں پڑنے سے خبردار کیاتھا۔حضرت علی نے کہا:مجھے ان پر اعتماد نہیں،انھوں نے مجھے چھوڑ دیا اور لوگوں کوبہکا کر بھاگ گئے۔ میں تو یہ ذمہ داری ابن عباس کو دینا چاہتا ہوں۔خارجیوں نے کہا:ابن عباس کا حکم بننا ایسا ہی ہے جیسے آپ خود حکم بن جائیں۔ ہم ایسا آدمی چاہتے ہیں جس کا آپ سے اور معاویہ سے ایک سا تعلق ہو۔حضرت علی نے اشتر کا نام لیا توکہنے لگے: اسی نے تو اس سرزمین میں آگ لگا دی ہے۔ تو تم ابوموسیٰ کے علاوہ کسی کو نہ مانو گے؟ حضرت علی نے پوچھا۔ان کے ہاں کہنے پر فرمایا: جو جی میں آئے کرو۔حضرت ابوموسیٰ جنگ سے الگ تھلگ عرض میں مقیم تھے۔اطلاع ملنے پر لشکر گاہ میں چلے آئے۔

اشتر نے حضرت علی سے کہا: مجھے عمرو بن العاص کی نگرانی پر مامور کر دیں۔اگر انھوں نے کوئی دھوکا دہی کی تو میں قتل کر ڈالوں گا۔ احنف بن قیس آئے اور کہا: آپ مجھے حکم نہیں بنانا چاہتے توحکم کے ماتحت کر دیں، میں سب عقدے وا کر دوں گااور اگر انھوں نے کوئی گرہ لگائی تو میں گرہ پر گرہ لگا دوں گا۔سب حضرت ابوموسیٰ پر اڑے رہے تو احنف نے کہا:تم انھی کو چاہتے ہو تو ان کی پشت کئی مردوں کے ساتھ مضبوط کر دو۔

معاہدۂ تحکیم

بدھ ۱۳ ؍ صفر ۳۷ھ (۳۱؍ جولائی ۶۵۷ء،۲۷ صفر:دینوری)کے روز حضرت عمرو بن العاص حضرت علی کے پاس معاہدہ تحریر کرنے آئے۔بسملہ کے بعد لکھا گیا: یہ وہ عہد ہے جس پر دستخط کرنے کا فیصلہ امیر المومنین نے کیا ہے۔ ابھی پہلی سطر نہ لکھی گئی تھی کہ حضرت عمرو نے اعتراض کر دیا:اپنا اور والد کا نام لکھیے، کیونکہ آپ ہمار ے امیر نہیں۔احنف نے کہا: امیر المومنین کا لفظ ہرگز نہ مٹائیں، ورنہ زندگی بھر آپ کویہ خطاب نہ ملے گا۔حضرت علی نے بھی انکار کیا، تاہم دن بھر بحث کے بعد حضرت اشعث نے کاتب کو یہ لفظ مٹانے کا کہہ دیا۔حضرت علی نے کہا:اللہ اکبر! یہ تو صلح حدیبیہ کی سنت پوری ہو گئی ہے۔میں صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھ رہا تھا تو کفار نے یہی اعتراض کیا تھا۔حضرت عمرو بولے:سبحان اللہ! اس مثال کا اس واقعے سے کیا تعلق؟کیا مومن ہونے کے باوجودہمیں کفارکے مشابہ قرار دیا جائے گا۔حضرت علی بولے:اوابن نابغہ ،تو کب فاسقوں کا دوست اور اہل ایمان کا دشمن نہیں رہا؟معاہدہ دوبارہ لکھنا شروع کیا گیا: اہل کوفہ کی طرف سے علی اور اہل شام کی طرف سے معاویہ باہم معاہدہ کرتے ہیں۔ہم اللہ کے حکم اور اس کی کتاب کو مانیں گے،فاتحہ سے خاتمہ تک۔عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ )اور عمرو بن العاص ، دونوں حکم کتاب اللہ میں جو پائیں گے،اس پر عمل کریں گے اور جو کتاب میں موجود نہ ہوا، سنت عاد لہ سے اس کی رہنمائی لیں گے جو انصاف پر مبنی ہے اور تفرقہ سے بچاتی ہے۔ ان کا فیصلہ امت کو اختلاف اور جنگ سے نکالے گا، ہر مسلمان ا ن سے تعاون کرے گا اوران کے معاہدے پرعمل کرنے کا پابند ہو گا۔سب لوگ ہتھیار اتار دیں گے اور مامون ہوں گے۔اس فیصلہ کی مدت رمضان تک ہو گی۔ حکمین نے فریقین سے اپنی اور اپنے بال بچوں کی جان کی امان بھی طلب کی۔حضرت اشعث بن قیس،حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت سعید بن قیس، وقا بن سمی،عبداللہ بن محل،حضرت حجر بن عدی، عبداللہ بن طفیل،عقبہ بن زید (زیاد)، یزید بن حجیہ، حضرت مالک بن کعب حضرت علی کے اورحضرت ابواعور،حضرت حبیب بن مسلمہ،حضرت عتبہ بن ابو سفیان، مخارق بن حارث، حضرت زمل بن عمرو، وائل بن علقمہ، حضرت علقمہ بن یزید، حمرہ بن مالک، یزید بن حر اور حضرت عبدالرحمٰن بن خالد حضرت معاویہ کے گواہوں میں شامل تھے۔ اشتر نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ شامیوں کے اصرار پر ان کے لیے الگ تحریر لکھی گئی جس میں حضرت معاویہ کا نام حضرت علی سے پہلے درج تھا۔ حضرت اشعث نے اونٹنی پر سوار ہو کر یہ معاہدہ سب لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔یہ طے ہوا کہ ماہ رمضان میں حضرت علی، دونوں ثالثوں سے اذرح یا دومۃ الجندل میں ملیں گے۔ لوگوں نے کہا: اشتر تو اب بھی جنگ کرنے کے حق میں ہے تو علی نے کہا: کاش، تم میں اشتر جیسے دو یا ایک ہی ہوں،وہ میری طرح سوچتے ہیں۔میں نے بھی تم سب کے اصرار پر یہ قدم اٹھایا ہے، خود قطعاً اس کے حق میں نہ تھا۔ صلح سے ہماری قوت جاتی رہی ہے، البتہ اقرار صلح کے بعد اس سے پھرنا ہرگز مناسب نہیں۔

جنگ صفین میں طرفین کے ستر ہزار( پینتالیس ہزار شامی، پچیس ہزارعراقی)مسلمان شہید ہوئے، بیعت رضوان میں شریک تریسٹھ صحابہ بھی ان میں شامل تھے۔ایک ایک قبر میں پچاس پچاس افراد دفن کیے گئے۔ ابن کثیر کہتے ہیں :اس جنگ میں تین بدری صحابہ حضرت خزیمہ بن ثابت، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابو ایوب انصاری شریک تھے۔حضرت علی نے بے شمار قیدی پکڑے، لیکن بعد میں انھیں چھوڑ دیا۔ان کے کئی فوجی بھی حضرت معاویہ کی قید میں آئے۔ حضرت عمرو بن العاص نے ان کے قتل کا مشورہ دیا، لیکن حضرت معاویہ نے حضر ت علی کا عمل دیکھ کر انھیں رہا کر دیا۔

طبری کی اسنادپر کلام

حضرت علی و حضرت معاویہ کے نزاع اور جنگ صفین کے حالات کا بیان زیادہ تر ''تاریخ طبری'' سے لیا گیا ہے۔ طبری کا بنیادی راوی ابومحنف لوط بن یحیی ہے۔یہ کٹر شیعہ اوررافضی تھا۔دارقطنی، یحیی بن معین اور ابن حجر اسے ضعیف اور متروک قرار دیتے ہیں۔دوسرا راوی یحییٰ بن ابو حیہ کلبی ہے۔ابن حبان کہتے ہیں :یہ مدلس تھا، ضعیف راویوں سے سماع کر کے ثقات سے منسوب کر دیتا تھا۔ یحیی بن سعید کہتے ہیں : میں اس سے روایت کرنا درست نہیں سمجھتا۔

میدان جنگ سے روانگی

جنگ صفین سے فارغ ہونے کے بعدحضرت علی دریاے فرات کے کنارے چلتے ہوئے کو فہ کی طرف روانہ ہوئے۔شہر سے باہر انھوں نے سات آٹھ قبریں دیکھیں تو پوچھا: یہ کس کی ہیں؟ بتایاگیا: آپ کے جانے کے بعد خباب بن ارت نے وفات پائی اور وصیت کے مطابق انھیں کوفہ کے باہر دفنایا گیا، حالاں کہ پہلے لوگ گھروں کے صحنوں ہی میں دفن کردیے جاتے تھے۔پہلی قبر ان کی ہے،باقی قبریں بعد میں بنیں۔حضرت علی نے دعا کی: اللہ خباب پر رحم کرے،انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا، خوش دلی سے ہجرت کی، جہاد کرتے ہوئے زندگی بسر کی اور کئی جسمانی تکلیفیں اٹھائیں۔اللہ نیک عمل کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہ کرے گا۔پھر فرمایا: اے دیار خموشاں کے رہنے والواور ویران جگہ بسنے والے اہل ایمان، مسلمان مرد و عورت، السلام علیکم، تم ہم سے پہلے آگے جا چکے ہو،ہم تمھارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں اورجلد تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اللہ، ہماری اور ان کی مغفرت کر، اپنا عفو کر کے ہم سے اور ان سے درگذر کر۔

کوفہ میں

کوفہ میں علی کی ملاقات صالح بن سلیم طائی سے ہوئی جو بیماری کی وجہ سے شریک جنگ نہ ہو سکے۔انھوں نے بتایا کہ آپ کے خیرخواہ ان جنگوں پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں۔حضرت علی کی ملاقات حضرت عبداللہ بن ودیعہ انصاری سے ہوئی تو پوچھا:لوگ ہمارے بارے میں کیا تبصرہ کرتے ہیں؟ جواب دیا: لوگ کہتے ہیں کہ علی کے ساتھ ایک بڑی اکثریت تھی جسے انھوں نے منتشر کر دیا ہے،ان کوایک مضبوط قلعہ ملا تھا جو انھوں نے منہدم کر دیا ہے۔اگر وہ سرکشوں پر کنٹرول حاصل کر لیتے تو اسے سوجھ بوجھ کہا جا سکتا تھا۔حضرت علی بولے:یہ تفرقہ میں نے ڈالا ہے یا انھوں نے؟مجمع اسلامی کی بنیادوں کو میں نے ڈھایا ہے یا انھوں نے؟میں دنیا سے محبت نہیں رکھتا اور موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہوں، تاہم اگر حسن و حسین،عبداللہ بن جعفر اور محمد بن علی مارے جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل دنیا سے ختم ہو جاتی۔

نوحہ و ماتم کی ممانعت

ثوریوں کی گلی پہنچے توحضرت علی نے رونے کی آوازیں سنیں۔پوچھا تو پتا چلا کہ لوگ شہداے صفین کا ماتم کررہے ہیں۔فائشیوں (فاسیوں ) اور شامیوں کے محلوں میں بھی ایسا رونا دھونا برپا تھا۔وہاں رکے توحرب بن شرحبیل نامی شخص باہر نکلا،اس سے کہا:تم اپنی عورتوں کومنع کیوں نہیں کرتے؟جواب دیا:امیر المومنین، ایک دو گھر ہوں تو ہم روک بھی لیں،اس قبیلے کے تو ایک سو اسّی افراد نے شہادت پائی ہے۔پھر بھی ہم مرد شہادتوں پرفخر کرتے ہیں۔ حضرت علی اونٹ پر سوار تھے،حرب ان کے ساتھ پیدل چلنے لگا۔اسے واپس ہونے کو کہا اور فرمایا: اس طرح دوڑنا سوار حاکم کے لیے فتنہ اور پیدل مومن کے لیے ذلت ہے۔ حضرت علی اب کوفہ کے محل میں مقیم ہوئے۔

خراسان کی مہم

۳۷ھ ہی میں حضرت علی نے جعدہ بن ہبیرہ کو خراسان کی مہم پر بھیجا۔وہ نیشاپور پہنچے، لیکن وہاں کے لوگوں نے کفر کو ترجیح دی اور جعدہ کو خراسان میں داخل نہ ہونے دیا۔اب حضرت علی نے خلید بن قرہ کو بھیجا جنھوں نے محاصرہ کر کے اہل خراسان اور اہل مرو سے صلح کا معاہدہ کیا۔ خلید کوبادشاہ کی اولاد میں سے دو لڑکیاں ہاتھ آئیں۔حضرت علی کے پاس پہنچیں تو انھوں نے اسلام قبول کرکے کسی مسلمان سے نکاح کرنے کی دعوت دی۔ لڑکیوں نے جواب دیا:ہم تو آپ کے بیٹوں سے شادی کریں گی۔حضرت علی نے انکار کیا تو ایک دیہاتی نے کہا: اے امیر،یہ مجھے دی جائیں۔لڑکیاں کچھ عرصہ اس کے پاس رہنے کے بعد خراسان فرار ہو گئیں۔

خوارج کی علیحدگی

حضرت علی کے صفین سے آنے کے بعد خوارج نے ان سے علیحدگی اختیار کی۔بارہ ہزارخارجیوں نے کوفہ کے نواح میں واقع حرورا کے صحراکی راہ پکڑی، اس لیے حروریہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ اپنی تنظیم کر کے انھوں نے شبث بن ربعی کو امیر قتال اورعبداللہ بن کوا کو امیر نماز بنا لیا۔فتح کے بعد شوریٰ کا نظام لانے، اللہ کی بیعت کرنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کا اعلان کیا۔ راہ گیروں کو گالی گلوچ کرتے اور یہ کہہ کر کوڑے مارتے کہ تم لوگوں نے امر الہٰی میں مداہنت کر کے جمعیت کوپراگندہ کر دیا ہے۔ اس موقع پر حضرت علی کے ساتھیوں نے دوسری بار یہ کہہ کر بیعت کی کہ ہم آپ کے دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن ہیں۔خارجیوں نے کہا:تم شامیوں سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہو جنھوں نے اسی بات پر معاویہ کی بیعت کی ہے۔حضرت علی نے خوارج سے بات چیت کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس کو بھیجااور کہا: میرے آنے تک ان سے کوئی حتمی بات نہ کرنا۔

حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں: خارجیوں کے ماتھوں پرکثرت سجود سے گٹے پڑے ہوئے تھے۔بوسیدہ قمیصیں پہنے تھے اور چہرے نیند پوری نہ ہونے سے تھکے تھکے تھے۔انھوں نے دلیل پیش کی کہ معاویہ اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ اللہ کے اس صریح فیصلے کی روشنی میں طے کیا جائے گا جو سورۂ توبہ میں نازل ہوا،وہ رجوع کر لیں یا انھیں قتل کر دیا جائے اور قیدیوں کو غلام بنا لیا جائے گا۔مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے ساتھ صلح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب وہ جزیہ دینے کا اقرار کریں۔جہاں تک دو حکم مقرر کرنے کا مسئلہ ہے،اس کا اطلاق صرف ان امور میں ہو گا جن میں فیصلے کا اختیارانسانوں کو دیا گیا ہے۔جیسے زوجین کا اختلاف: 'وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاﵐ اِنْ يُّرِيْدَا٘ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا '، ''اگر تمھیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہوتو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں سے اور ایک حکم عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کر دو۔اگر یہ دونوں اصلاح کے خواہاں ہوں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا'' (النساء ۴: ۳۵) یا حالت احرام میں جان بوجھ کر شکار کرنے والے کی سزا تجویز کرنا: 'وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ '،''اورجو تم میں سے (حالت احرام میں) جان بوجھ کر شکار کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو، اسی کے ہم پلہ ایک مویشی اسے دینا ہو گا،نذر والے مویشی کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے''(المائدہ ۵: ۹۵)۔ آپ کے تجویز کردہ حکم عمرو بن العاص کل تک ہم سے قتال کررہے تھے، آج وہ عادل کیسے ہو گئے؟ حضرت علی نے معاہدہ تحریر کرتے ہوئے اپنا نام کیوں مٹایا؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے ان کے ایک ایک سوال کا جواب دیا تو ان میں سے دو ہزار افرادنے رجوع کر لیا۔

حضرت علی نے کردوس بن ہانی اور سوید بن غفلہ کوجاگیریں بخشیں۔سوید کوعطا کی تحریر بھی دی۔

حضرت علی نے زیاد بن نضر کو بھیجا کہ پتا لگاؤکہ کون سا سردارہے جس کے پاس سب سے ز یادہ لوگ آتے ہیں؟ انھوں نے حضرت یزید بن قیس کا نام بتایا تو وہ ان کے خیمے میں آئے۔ دو رکعت نفل پڑھ کر یزید کو اصفہان اور رے کا حاکم مقرر کیا پھر خوارج کے پاس آئے جوحضرت عبداللہ بن عباس سے جھگڑ رہے تھے۔ حضرت علی نے حضرت ابن عباس کو خاموش رہنے کا حکم دیا اور خوارج سے پوچھا:تمھارا لیڈر کون ہے؟ابن کوا، جواب ملا۔حضرت علی کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ وہ معاویہ کے ساتھ ثالثی قبول کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف ہوئے ہیں۔ حضرت علی نے کہا: جب شامیوں نے قرآن پر حلف اٹھائے تھے، تمھی نے کہا تھا : ہم اللہ کی کتاب کو قبول کرتے ہیں۔خارجیوں نے جواب دیا:ہم نے کفر کیا تھا اور اب توبہ کر لی ہے۔آپ بھی توبہ کریں توہم آپ کی بیعت کر لیتے ہیں، ورنہ ہم مخالف ہیں۔

حکمین کا اجتماع

ماہ رمضان دونوں ثالثوں کی ملاقات کامقررہ وقت تھا۔ حضرت علی نے شریح بن ہانی کی قیادت میں چارسو افراد کا وفد بھیجا،حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ساتھ تھے۔حضرت معاویہ کی طرف سے بھی چار سو کا وفدحضرت عمرو بن العاص کی سربراہی میں شام کے شہر اذرح(دوسری روایت: دومۃ الجندل) پہنچا۔شریح حضرت عمرو بن العاص سے ملے اورحضرت علی کا پیغام پہنچایاکہ حق پر عمل پیرا رہنا ،آپ کو علم ہے کہ حق کیا ہے، اس لیے ظالموں اور خائنوں کا طرف دار نہ بننا ۔حضرت عبداللہ بن عمر،حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر،حضرت عبداللہ بن زبیر،حضرت عبدالرحمٰن بن حارث،حضرت عبدالرحمٰن بن عبدیغوث، حضرت ابوجہم بن حذیفہ اورحضرت مغیرہ بن شعبہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص مدینہ سے باہر بنوسلیم کے چشمے پر اپنے اونٹوں کے باڑے میں تھے۔ ان کے بیٹے عمروہاں گئے اور کہا: اباجان، دونوں اطراف کے ثالث اور قریش کے اہم افراد جمع ہیں۔ آپ بھی چلیں، کیونکہ اس وقت غیرمتنازع صحابی رسول ہونے کی وجہ سے آپ خلافت کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔حضرت سعد نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا:خاموش! اللہ اس بندے کو پسند کرتا ہے جو پرہیزگار،بے غرض ہو اوربچ بچا کررہے (مسلم، رقم ۷۵۴۲۔ احمد ، رقم ۱۴۴۱)۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے حضرت عمرو بن العاص اور حضرت ابوموسیٰ اشعری سے ملنے کے بعد پیشین گوئی کی کہ ثالث کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکیں گے۔

فیصلے میں اختلاف

ثالث مل بیٹھے توحضرت عمرو بن العاص نے حضرت ابوموسیٰ سے پوچھا: کیا اہل شام اپنے وعدے کے مطابق مقام مقررہ پر نہیں پہنچے؟حضرت ابو موسیٰ نے تائید کی تو یہ بات لکھنے کو کہا۔عمرو پھر بولے: کیا عثمان کو مظلومانہ طور پر شہید نہیں کیا گیا؟ابوموسیٰ بولے: ہاں،میں گواہی دیتا ہوں۔کیا معاویہ اور ان کی اولاد عثمان کے وارث نہیں؟ ابوموسیٰ : کیوں نہیں، تو اللہ کا فرمان ہے: 'وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِﵧ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا '،''اور جوشخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو،اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق دیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے،اس کی مدد کی جائے گی'' (بنی اسرائیل۱۷: ۳۳)۔ معاویہ کا شمار اگرچہ 'السابقون الأولون' میں نہیں ہوتا،تاہم وہ سیاست اور کاروبار مملکت کو خوب سمجھتے ہیں، ام المومنین ام حبیبہ کے بھائی ہیں او ر کاتب وحی رہ چکے ہیں۔حضرت ابوموسیٰ نے جواب دیا:جس قسم کی شرافت آپ بیان کر رہے ہیں،اس کے مطابق توابرہہ بن صباح خلافت کا زیادہ حق دار ہے۔یہ خلافت تو اہل دین اور اہل فضل کا حق ہے۔میں یہ نہیں کر سکتاکہ معاویہ کو خلیفہ بنا دوں اور مہاجرین اولین کو چھوڑ دوں۔ شرف و فضل کا مقابلہ کرنا ہو توحضرت علی قریش کے بہترین شخص ہیں۔حضرت عمرو نے کہا:آپ مجھ سے عمر میں بڑے ہیں، اس لیے خود ہی کوئی حل تجویز کر دیں۔حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عمرو نے اپنے بیٹے عبداللہ کا نام تجویز کیا۔دونوں نے ایک دوسرے کے نام رد کردیے تو حضرت ابوموسیٰ بولے: علی اور معاویہ، دونوں خلافت چھوڑ دیں اور مسلمان باہمی مشورے سے نیا خلیفہ چن لیں۔ یہ جواب حضرت عمرو کی خواہش کے عین مطابق تھا، اس لیے فوراًلوگوں کو اکٹھا کر لیا اور حضرت ابوموسیٰ کو آگے کھڑا کر دیا۔حضرت عبداللہ بن عباس بہت جزبز ہوئے اور کہا: پہلے عمرو کو اعلان کرنے دیں۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا: ہمارا فیصلہ متفقہ ہے،یہ کہہ کر اعلان کر دیا کہ ہم بالاتفاق علی و معاویہ، دونوں کو معزول کرتے ہیں، اب آپ خود اہل شخص کو خلیفہ چن لیں۔اب حضرت عمرو بڑھے اور اعلان کیا،میں نے بھی ان کے خلیفہ کو ہٹایا، تاہم اپنے خلیفہ معاویہ کو برقرار رکھتا ہوں، کیونکہ وہ عثمان کے ولی ہیں اور ان کا قصاص طلب کر رہے ہیں۔حضرت ابوموسیٰ نے حضرت عمرو سے شکوہ کیا کہ ہمارا اتفاق علی و معاویہ، دونوں کو معزول کرنے پر ہوا تھا،آپ نے اس کے برعکس اعلان کر کے دھوکا کیا ہے۔حضرت ابن عباس بولے:ابوموسیٰ ، قصور آپ کا نہیں،ان لوگوں کا ہے جنھوں نے آپ کوحکم بنایا۔شریح بن ہانی نے آگے بڑھ کر حضرت عمرو کے کوڑا جڑ دیا، ادھرحضرت عمرو کے بیٹے نے شریح پر کوڑا برسا دیا۔ لوگوں نے بیچ بچاؤ کرایا تو حضرت عمرو شام کو لوٹ گئے اورحضرت ابوموسیٰ نے مکہ کی راہ لی۔اس واقعے کے بعد حضرت علی ہر نماز فجر میں دعاے قنوت پڑھتے جس میں حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر لعنت کی بددعا ہوتی۔حضرت معاویہ کو پتا لگا تو انھوں نے حضرت علی،حضرت ابن عباس،حضرت حسن، حضرت حسین اور اشتر کو گالیاں دینا قنوت نازلہ کا حصہ بنا لیا۔

مخالفین کے بار ے میں حضرت علی کا موقف

امام باقرکہتے ہیں :حضرت علی اپنے محاربین کی شرک ونفاق کی طرف نسبت نہیں کرتے تھے۔کہتے تھے :وہ ہمارے بھائی ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی۔امام جعفرحضرت علی کا قول نقل کرتے ہیں :ہم ان سے قتال کفر کی بنا پرنہیں کر رہے۔ہمیں یقین ہے کہ ہم حق پر ہیں اور وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔حضرت عدی بن حاتم طائی نے اپنے قبیلے کے ایک مقتول کو دیکھ کر کہا:یہ بے چارہ کل مسلمان تھا اور آج کافر مرا پڑا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا:ایسا نہ کہو،یہ کل بھی مومن تھا اور آج بھی مومن ہے۔ایک شخص نے اہل شام کو کافر کہا تو حضرت عمار بن یاسر نے کہا:ہمارے نبی اور ہمارا قبلہ ایک ہے۔

برسر جنگ فریق کے بارے میں حضرت معاویہ کے تاثرات

حضرت معاویہ نے کہا:علی اگر قصاص دلا دیں تو اہل شام میں سے میں سب سے پہلے ان کی بیعت کروں گا۔قتال معاویہ وعلی کے دوران میں شاہ روم نے اسلامی مملکت پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کردی تو حضرت معاویہ نے اس کو خط لکھا:اگر تو اپنے ارادۂ اقدام سے باز نہ آیاتو میں اور میرے چچا زادتمھارے خلاف ایک ہوجائیں گے۔حضرت علی کی شہادت کی خبر سن کرحضرت معاویہ رونے لگے اورکہا: اہل اسلام ایک گراں قدر ہستی سے محروم ہو گئے ہیں۔

فریقین کی نمازوں میں ایک دوسرے کے خلاف بددعا ایک وقتی عمل تھا۔جیش معاویہ کے باغی گروہ قرار پانے کے باوجودان کی تکفیرلازم نہیں آتی۔

مطالعۂ مزید: تاریخ الامم والملوک(طبری)،الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، البدایہ و النہایہ(ابن کثیر)، تاریخ اسلام (اکبر شاہ نجیب آبادی)، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (مقالہ:Fr. Buhl)،سیرت علی المرتضیٰ(محمد نافع)،Wikipedia۔

[باقی]

____________