حضرت فکیہہ بنت یسار رضی اﷲ عنہا


حضرت فکیہہ بنو ازد سے تعلق رکھتی تھیں۔ یسار(یا افلح بن یسار)ان کے والد تھے ، شوہر کا نام حطاب (خطاب: ابن سعد) بن حارث تھاجوقریش کی شاخ بنو جمح سے تعلق رکھتے تھے۔حطاب کے دادا معمربن حبیب زمانۂ جاہلیت میں اپنے قبیلے میں اہم مرتبہ رکھتے تھے۔عام الفیل کے بیس برس بعد، ۵۹۰ء میں چوتھی جنگ فجار(یا فجار اکبر) ہوئی تو انھوں نے بنوجمح کی نمایندگی کی۔ اس جنگ میں قریش اور اس کے حامی قبائل کو فتح حاصل ہوئی۔معمر بن حبیب نے لڑتے ہوئے جان دے دی۔ ابو تجراۃ حضرت فکیہہ کے بھائی تھے۔ حضرت فکیہہ کا شمار 'السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ'* میں ہوتا ہے۔ حضرت حطاب بن حارث، ان کے بھائی حضرت حاطب بن حارث، حضرت معمر بن حارث اور حضرت حطاب کی اہلیہ حضرت فکیہہ بنت یسار ایک ساتھ نعمت ایمان سے سرفراز ہوئے۔ تب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم دار ارقم میں تشریف نہ لائے تھے۔ ابن ہشام کی بیان کردہ ترتیب کے مطابق یہ چاروں سابقین الی الاسلام پینتیسویں، چھتیسویں، سینتیسویں اور اڑتیسویں نمبر پر ایمان لائے۔

حضرت فکیہہ بنت یسار نے حبشہ اور مدینہ، دونوں شہروں کی طرف ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ بعثت نبوی کے تیسرے سال اﷲ نے اپنے نبی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم دیا:

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ.(الحجر۱۵: ۹۴)

''(اے نبی)، آپ کو جو حکم نبوت ملا ہے، اسے ہانکے پکارے کہہ دیجیے۔''

وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ.(الشعراء ۲۶: ۲۱۴)

''اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کیجیے۔''

جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی، مکہ میں دین اسلام کاچرچاہونے لگا اور مشرکوں کو اپنے بتوں کی خدائی خطرے میں نظر آنے لگی تو انھوں نے نو مسلم کمزوروں اور غلاموں پر ظلم و ستم ڈھانے شروع کر دیے۔ نبوت کے پانچویں سال یہ سلسلہ عروج کو پہنچ گیا تونبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مشورہ ارشادکیا: ''تم اﷲکی سرزمین میں بکھر جاؤ۔'' پوچھا: ''یارسول اﷲ، ہم کہاں جائیں؟'' آپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ''وہاں ایسا بادشاہ (King of Axum) حکمران ہے جس کی سلطنت میں ظلم نہیں کیا جاتا۔ وہ امن اور سچائی کی سرزمین ہے، (وہاں اس وقت تک قیام کرنا) جب تک اﷲ تمھاری سختیوں سے چھٹکارے کی راہ نہیں نکال دیتا۔'' چنانچہ رجب ۵ ؍ نبوی(۶۱۵ء) میں سب سے پہلے سولہ اہل ایمان نصف دینار کرایہ پر کشتی لے کر حبشہ روانہ ہوئے۔قریش نے مہاجرین کا پیچھا کیا، لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے وہ اپنا سفر شروع کر چکے تھے۔

شوال ۵ ؍ نبوی میں قریش کے قبول اسلام کی افواہ حبشہ میں موجود مسلمانوں تک پہنچی توان میں سے کچھ یہ کہہ کر مکہ کی طرف واپس روانہ ہو گئے کہ ہمارے کنبے ہی ہمیں زیادہ محبوب ہیں۔مکہ پہنچنے سے پہلے ہی ان کومعلوم ہو گیا کہ یہ اطلاع غلط تھی تو ان میں سے اکثرحبشہ لوٹ گئے۔ حضرت ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ مکہ لوٹنے والوں پر جب ان کی قوم اور خاندان کی طرف سے اذیت رسانی کا سلسلہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہواتو رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں بار دگر حبشہ جانے کی اجازت دے دی۔ان کے ساتھ کئی دیگر مسلمان بھی جانے کو تیار ہو گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اﷲ، آپ تو ہمارے ساتھ نہیں چل رہے؟ فرمایا: تمھاری دونوں ہجرتیں اﷲ کی طرف اور میری خاطر ہیں۔اس ہجرت ثانیہ میں اڑتیس مرد ، گیارہ عورتیں اور سات غیر قریشی افراد شامل ہوئے۔ حضرت فکیہہ بنت یساران میں سے ایک تھیں۔ حضرت فکیہہ کے شوہر حضرت حطاب نے بھی حبشہ کو ہجرت کی۔ایک روایت کے مطابق وہ راستے ہی میں وفات پا گئے، تاہم حضرت ابن سعد کا کہنا ہے کہ ان کا ا نتقال ارض حبشہ میں ہوا۔ حضرت حطاب کے بھائی حضرت حاطب بن حارث، ان کے بھتیجوں حضرت محمد بن حاطب، حضرت حارث بن حاطب، ان کے چچا حضرت سفیان بن معمر، ان کے چچا زاد حضرت جابر بن سفیان، حضرت جنادہ بن سفیان، حضرت حاطب کی اہلیہ حضرت فاطمہ بنت مجلل (یا محلل) نے بھی سفر ہجرت میں شرکت کی۔ ابن جوزی کے مطابق حضرت محمدبن حاطب اس سفر میں موجود نہ تھے ، ان کی ولادت حبشہ میں ہوئی۔

ابن اسحاق اوران کے تتبع میں ابن ہشام اور ابن کثیرنے ان دونوں ہجرتوں کے مابین ایک تراسی رکنی قافلے کی روانگی کی خبر دی ہے جو حضرت جعفربن ابوطالب کی قیادت میں حبشہ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت فکیہہ بنت یسار، ان کے شوہر حضرت حاطب بن حارث، حضرت حاطب کے بھائی حضرت حطاب، حضرت حطاب کی اہلیہ حضرت فاطمہ بنت مجلل، ان کے بیٹے حضرت محمدبن حاطب، حضرت حارث بن حاطب، حضرت حاطب کے چچا حضرت سفیان بن معمر، ان کی اہلیہ حضرت حسنہ اور بیٹے حضرت جابر اور حضرت جنادہ بھی اسی قافلے میں شامل تھے۔ یہ خبر اس روایت سے مؤید ہو جاتی ہے جو حضرت محمد بن حاطب نے خو د اس طرح بیان کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے (قریش کا ظلم و ستم سہنے والے صحابہ سے) ارشاد فرمایا: ''میں نے کھجوروں بھری ایک سرزمین (حبشہ یا مدینہ) دیکھ رکھی ہے ،تم اس کی طرف ہجرت کرجاؤ۔'' چنانچہ (میرے والد) حضرت حاطب اور حضرت جعفربن ابوطالب ایک کشتی میں سوار ہو کر نجاشی کی جانب نکل گئے۔ حضرت محمدبن حاطب کہتے ہیں: ''میں اسی کشتی میں پیدا ہوا'' (احمد، رقم ۱۸۱۹۴)۔ مزی نے حضرت محمدبن حاطب کا ترجمہ بیان کرتے ہوئے کشتی میں ان کی پیدایش کا ذکر کرنے کے بجاے لکھا کہ حضرت محمد سرزمین حبشہ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اپنی والدہ کے علاوہ حضرت جعفربن ابوطالب کی اہلیہ حضرت اسماء بنت عمیس کا دودھ بھی پی رکھا تھا۔

حضرت فکیہہ بنت یساران اکتالیس افراد میں شامل نہ تھیں جنھوں نے آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے کی خبر سن کرمکہ کی طرف رجوع کیا۔

۶۲۶ء میں ہجرت مدینہ کو سات برس بیت گئے تو حضرت جعفربن ابوطالب اور باقی مہاجرین نے یہ کہہ کر مدینہ جانے کی خواہش ظاہر کی کہ ہمارے نبی کو غلبہ حاصل ہو گیا ہے اور ان کے جانی دشمن مارے جا چکے ہیں۔تب نجاشی نے زاد راہ اور سواریاں دے کر ان کو رخصت کیا (المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۴۷۸)۔ ابن سعد کے بیان کے مطابق رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ازخود حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو حبشہ بھیجا تاکہ وہ نجاشی کو اسلام کی دعوت دیں، حضرت ام حبیبہ (رملہ) بنت ابوسفیان سے آپ کا نکاح کروائیں اور سرزمین حبشہ میں رہ جانے والے مہاجرین کو واپس لے آئیں۔ چنانچہ حضرت عمروبن امیہ مہاجرین کو دو کشتیوں میں سوار کر کے مدینہ لائے۔ حضرت فکیہہ بنت یسار، حضرت حاطب بن حارث کی بیوہ حضرت فاطمہ، حضرت حاطب کے بیٹے حضرت محمد اور حضرت حارث بھی ان کشتیوں میں بولا (حجاز) کے ساحل پر پہنچے۔یہاں سے وہ باقی مہاجرین کے ساتھ اونٹوں پر سوار ہو کر مدینہ پہنچے۔

مدینہ میں حضرت فکیہہ بنت یسار کی زندگی کے بارے میں ہمیں کوئی روایت نہیں ملتی۔یہ بھی معلوم نہیں کہ شوہر کی وفات کے بعد کیاوہ کسی اور کی زوجیت میں آئیں؟ اور ان کا انتقال کب ہوا؟

گمان غالب ہے کہ حضرت فکیہہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں وفات پا گئیں ۔ ان سے کوئی روایت مروی نہیں ،ان کی بھتیجیوں برۃ بن ابوتجراۃ اور حبیبہ بنت ابوتجراۃ سے حدیث روایت کی گئی ہے۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)، البدایۃ والنہایۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)۔

________

* التوبہ ۹: ۱۰۰۔

____________