حضرت ہاجرہ اور آب زم زم كی روایات كا تنقیدی جائزه (1/2)


۱۔ تعارف

بعض روایات میں بیان ہوا ہے كہ حضرت ابراہیم كی دونوں ازواج حضرت سارہ اور حضرت ہاجره كے مابینتناؤ كی مستقل فضا رہتی تھی۔ اس بنا پر حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور اپنے شیر خوار فرزند اسمٰعیل علیہ السلامكو حضرت سارہ سے جدا كر كے دونوں كو مكہ كی بے آب و گیاہ وادی میں جا بسایا۔ اسمٰعیل علیہ السلام یہاں پروان چڑهے اور ان كی شادی بنو جرہم میں كر دی گئی۔ ان روایات پر عقل اور نقل، دونوں كی رو سے كچھ سوالات اور اشكالات پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس مضمون میں ان روایات كا تنقیدی جائزه لیا جائے گا۔

۲۔ ایك نماینده متن

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَاإِبْرَاهِيْمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيْرِ بْنِ كَثِيْرٍ، عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ـ قَالَ: لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيْمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ، خَرَجَ بِإِسْمَاعِيْلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيْلَ، وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيْهَا مَاءٌ، فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيْلَ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلٰى صَبِيِّهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيْمُ إِلٰى أَهْلِهِ، فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيْلَ، حَتَّى لَمَّا بَلَغُوْا كَدَاءً نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ: يَا إِبْرَاهِيْمُ، إِلٰى مَنْ تَتْرُكُنَا؟ قَالَ: إِلَى اللہِ، قَالَتْ: رَضِيْتُ بِاللہِ‏، قَالَ: فَرَجَعَتْ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى لَمَّا فَنِيَ الْمَاءُ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا‏.‏ قَالَ: فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ هَلْ تُحِسُّ أَحَدًا فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، فَلَمَّا بَلَغَتِ الْوَادِيَ سَعَتْ وَأَتَتِ الْمَرْوَةَ فَفَعَلَتْ ذٰلِكَ أَشْوَاطًا، ثُمَّ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ ـ تَعْنِي الصَّبِيَّ ـ فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَإِذَا هُوَ عَلٰى حَالِهِ كَأَنَّهُ يَنْشَغُ لِلْمَوْتِ، فَلَمْ تُقِرَّهَا نَفْسُهَا، فَقَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا، فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، حَتَّى أَتَمَّتْ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَتْ: لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ فَقَالَتْ: أَغِثْ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ خَيْرٌ‏.‏ فَإِذَا جِبْرِيْلُ، قَالَ: فَقَالَ: بِعَقِبِهِ هٰكَذَا، وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَى الْأَرْضِ، قَالَ: فَانْبَثَقَ الْمَاءُ، فَدَهَشَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيْلَ فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ‏.‏ قَالَ: فَقَالَ: أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ‏''لَوْ تَرَكَتْهُ كَانَ الْمَاءُ ظَاهِرًا''‏‏.‏ قَالَ: فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الْمَاءِ، وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا ـ قَالَ ـ فَمَرَّ نَاسٌ مِنْ جُرْهُمَ بِبَطْنِ الْوَادِيْ، فَإِذَا هُمْ بِطَيْرٍ، كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوْا ذَاكَ، وَقَالُوْا: مَا يَكُوْنُ الطَّيْرُ إِلاَّ عَلَى مَاءٍ‏.‏ فَبَعَثُوا رَسُوْلَهُمْ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ، فَأَتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ فَأَتَوْا إِلَيْهَا، فَقَالُوْا: يَا أُمَّ إِسْمَاعِيْلَ، أَتَأْذَنِيْنَ لَنَا أَنْ نَكُوْنَ مَعَكِ أَوْ نَسْكُنَ مَعَكِ فَبَلَغَ ابْنُهَا فَنَكَحَ فِيْهِمُ امْرَأَةً، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيْمَ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِيْ،‏ قَالَ: فَجَاءَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ إِسْمَاعِيْلُ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: ذَهَبَ يَصِيْدُ‏.‏ قَالَ: قُوْلِيْ لَهُ إِذَا جَاءَ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ‏.‏ فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَ: أَنْتِ ذَاكِ فَاذْهَبِيْ إِلٰى أَهْلِكِ‏.‏ قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيْمَ فَقَالَ لأَهْلِهِ: إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِيْ‏.‏ قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ إِسْمَاعِيْلُ؟ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: ذَهَبَ يَصِيْدُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَنْزِلُ فَتَطْعَمَ وَتَشْرَبَ؟ فَقَالَ: وَمَا طَعَامُكُمْ وَمَا شَرَابُكُمْ؟ قَالَتْ: طَعَامُنَا اللَّحْمُ، وَشَرَابُنَا الْمَاءُ، قَالَ: اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيْ طَعَامِهِمْ وَشَرَابِهِمْ‏.‏ قَالَ: فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ''بَرَكَةٌ بِدَعْوَةِ إِبْرَاهِيْمَ''‏‏.‏ قَالَ: ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لِإِبْرَاهِيْمَ فَقَالَ لِأَهْلِهِ: إِنِّيْ مُطَّلِعٌ تَرِكَتِيْ‏.‏ فَجَاءَ فَوَافَقَ إِسْمَاعِيْلَ مِنْ وَرَاءِ زَمْزَمَ، يُصْلِحُ نَبْلًا لَهُ، فَقَالَ: يَا إِسْمَاعِيْلُ، إِنَّ رَبَّكَ أَمَرَنِيْ أَنْ أَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا، ‏قَالَ: أَطِعْ رَبَّكَ‏.‏ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَمَرَنِيْ أَنْ تُعِيْنَنِيْ عَلَيْهِ‏،‏ قَالَ: إِذًا أَفْعَلَ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ‏.‏ قَالَ: فَقَامَا فَجَعَلَ إِبْرَاهِيْمُ يَبْنِيْ، وَإِسْمَاعِيْلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ، وَيَقُوْلاَنِ:™‏‏[1]]ابن عباس نے اس كا مظاہره كیا[۔چنانچہ پانی باہر بہ پڑا۔ اسمٰعیل كی والدہ دہشت زدہ ہو گئیں اور زمین كھودنے لگیں۔ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے كہا: اگر انھوں نے پانی كو اسی طرح رہنے دیا ہوتا تو وه زمین پر بہ پڑتا۔ اسمٰعیل كی والده اس پانی سے پیاس بجھاتی رہیں اور ان كا دودھ ان كے بیٹے كی ضرورت پوری كرتا رہا۔ بعد ازاں جرہم قبیلے كے كچھ افراد وادی كے درمیان سے گزرے اور یكایك انھوں نے وہاں پرندوں كو اڑتے دیكھا، تو گویا ان كو اپنی آنكھوں پر یقین نہیں آیا۔ انھوں نے كہا: پرندے تو صرف وہیں اڑ سكتے ہیں جہاں پانی موجود ہو۔ چنانچہ انھوں نے اپنا ایلچی دوڑایا اور اس نے اچانك پانی دیكھا۔ تو وہ آیا اور اس نے ان كو اس سے باخبر كیا۔ اس پر وہ سب ادھر آ گئے اور اسمٰعیل كی والده سے عرض كیا: كیا آپ ہمیں ا س بات كی اجازت دیتی ہیں كہ ہم آپ كے ساتھ ہو رہیں یا آپ كے ساتھ رہیں۔]اسمٰعیل كی والده نے ان كو اجازت دے دی اور وه وہاں رہنے لگے۔[چنانچہ]كئی سال بیت گئے اور[ان كا فرزند بالغ ہو گیا۔ اس نے ان كی ایك خاتون سے شادی كر لی۔ اس كے بعد یوں ہوا كہ ابراہیم كو ایك خیال آیا، تو انھوں نے اپنی اہلیہ]سارہ[سے كہا: میں مكہ جانا چاہتا ہوں تاكہ میں جان سكوں كہ میرے خاندان والے]جن كو میں مكہ میں چھوڑ آیا تھا[كس حال میں ہیں۔ چنانچہ ابراہیم وہاں گئے اور جا كر اسمٰعیل كی بیوی كو سلام كیا]اور اسمٰعیل كے بارے میں استفسار كیا۔[اس پر ان كی اہلیہ نے جواب دیا كہ وہ شكار پر گئے ہوئے ہیں۔ ابراہیم نے ان سے كہا: جب وہ آئے تو اپنے گھر كی چوكھٹ تبدیل كر دیں۔ چنانچہ جب اسمٰعیل آئے تو ان كی اہلیہ نے ان كو ابراہیم كے پیغام سے مطلع كیا۔ اسمٰعیل نے اپنی اہلیہ سے كہا: تم وہ چوكھٹ ہو ، سو جاؤ اپنے گھر والوں كے پاس ۔ چنانچہ وہ چلی گئیں ۔ اس كے بعد دوبارہ یوں ہوا كہ ابراہیم كو ایك خیال آیا، تو انھوں نے اپنی اہلیہ]سارہ[سے كہا: میں مكہ جانا چاہتا ہوں تا كہ میں جان سكوں كہ میرے خاندان والے]جن كو میں مكہ میں چھوڑ آیا تھا[كس حال میں ہیں۔ چنانچہ ابراہیم وہاں گئے اور جا كر اسمٰعیل كی بیوی كو سلام كیا]اور اسمٰعیل كے بارے میں استفسار كیا[۔ اس پر ان كی اہلیہ نے جواب دیا كہ وہ شكار پر گئے ہوئے ہیں اور ابراہیم سے كہا: كیا آپ سواری سے اتریں گے نہیں تا كہ كچھ كھا پی لیں؟ ابراہیم نے پوچها: آپ كیا كھاتے پیتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: ہم گوشت كھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ ابراہیم نے دعا كی: پروردگار، ان كے كھانے پینے میں بركت دے۔ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے كہا: مكہ كی بركات ابراہیم كی دعا كی وجہ سے ہیں۔ اس كے بعد سہ بارہ یوں ہوا كہ ابراہیم كو ایك خیال آیا، تو انھوں نے اپنی اہلیہ]سارہ[سے كہا: میں مكہ جانا چاہتا ہوں تا كہ میں جان سكوں كہ میرے خاندان والے]جن كو میں مكہ میں چھوڑ آیا تھا[كس حال میں ہیں۔ چنانچہ ابراہیم وہاں گئے اور انھوں نے دیكھا كہ ابراہیم زم زم كے پیچھے تیر سیدھے كر رہے تھے۔ تو انھوں نے اسمٰعیل سے كہا: میرے رب نے مجھے ان كے لیے ایك گھر بنانے كا حكم دیا ہے، تو انھوں نے کہا کہ حكم كی تعمیل كریں۔ حضرت ابراہیم نے کہا: رب نے مجھے یہ حكم بھی دیا ہے كہ اس معاملہ میں تمهاری مدد حاصل كروں۔ اسمٰعیل نے جواب دیا: تو پھر میں یہ كر گزروں گا یا جو بھی انھوں نے كہا۔ پھر ابراہیم اور اسمٰعیل، دونوں اٹھے اور ابراہیم گھر بنانے میں لگ گئے اور اسمٰعیل ان كو پتھر پكڑانے لگ گئے اور دونوں نے یہ آیت پڑھی:'‏رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ'‏(اے ہمارے رب، ہماری جانب سے یہ قبول فرما۔ بے شك، تو سننے اور جاننے والا ہے)۔ جب عمارت كی تعمیر ہو گئی اور عمر رسیدہ ابراہیم میں پتھر منتقل كرنے كی صلاحیت نہ رہی تووہ المقام پر ایك پتھر پر كھڑے ہو گئے اور اسمٰعیل بدستور ان كو پتھر پكڑاتے رہے اور دونوں یہ دعا پڑھتے رہے: 'رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ'۔[2]''

۳۔ تنقیدی جائزه

آینده صفحات میں ہم اس روایت كی سند اور متن پر پیدا ہونے والے سوالات كی روشنی میں اس كا تنقیدی جائزه لیں گے۔

ا۔ سند كا تنقیدی جائزه

قبل اس كے كہ یہ جائزه لیا جائے ، اس روایت كے مختلف طرق كا خلاصہ پیش كیا جاتا ہے:

نبی صلی الله علیہوآلہٖوسلم سے پانچ صحابہ یہ طرق اپنی جامع یا مختصر شكل میں روایت كرتے ہیں۔ تعدد روایتكے لحاظ سے ان كے نام درج ذیل ہیں:

۱۔ عبدالله بن عباس[3](م۶۸ھ)

۲ ۔ابی بن كعب[4](م۱۸ھ)

۳۔ انس بن مالك[5](م۹۳ھ)

۴ ۔علی بن ابی طالب[6](م۴۰ھ)

۵ ۔عمر بن الخطاب[7](م۲۳ھ)

ان میں سے انس بن مالك ، علی بن ابی طالب اور عمر بن الخطاب رضی الله تعالیٰ عنہم كی روایات نہات كم زور اور ناقابل اعتماد ہیں۔[8]

اہل علم نے عبد الله عباس[9]اور ابی بن كعب كی روایات كو كچھ تحفظات كے ساتھ قبول كر لیا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے كہ بعض روایات كو عبد الله عباس براه راست نبی سے روایت كرتے ہیں اور بعض ابی بن كعب كی وساطت سے۔ مزید برآں،موخر الذكر نوعیت كی روایات مواد كے لحاظ سے مختصر ہیں، جب كہ مقدم الذكر نوعیتكی روایات اس لحاظ سے مختصر بھی ہیں اور جامع بهی۔

اس ضمن كی بعض مرسل روایات بھی كچھ تابعین سے مروی ہیں:

۱۔سعید بن المسیب[10](م۹۴ھ)

۲۔ سعید بن جبیر[11](م۹۵ھ)

۳۔مجاہد بن جبر[12](م۱۰۵ھ)

۴۔وہب بن منبہ[13](م۱۱۴ھ)

۵۔محمد بناسحٰق[14](م۱۵۱ھ)

اس روایت كی سند پر بنیادی تنقید یہ ہے كہ اس بات كو پوری طرح سے متحقق نہیں كیا جا سكتا كہ سعید بن جبیر نے واقعی اس روایت كو عبدالله بن عباس سے سنا تھا یا كسی اور سے۔ فاضل محقق شبیر احمد اظہر میرٹھی[15]احادیث لٹریچر كا استقصا كرتے ہوئے یہ بیان كرتے ہیں كہ بہت سی روایات وہ ہیں جن كو سعید بن جبیر نے بلاواسطہ عبدالله بن عباس سے سنا ہے اور دوسری وه ہیں جن كو انھوں نے ان سے بالواسطہ سنا ہے۔ جب بھی سعید عبدالله بن عباس سے بلاواسطہ روایت كرتے ہیں تو وہ اس كی تصریح كرتے ہیں۔ چنانچہ وہ اس طرح كے مواقع پر یا كہتے ہیں: 'حدثنيابن عباس'(ابن عباس نے مجھے روایت كیا)یا 'سمعت ابن عباس'(میں نے ابن عباس سے سنا) یا 'أخبرني ابن عباس'(ابن عباس نے مجھے خبر دی)۔تاہم جب سعید عبدالله بن عباس سے بالواسطہروایت كرتے ہیں تو اس طرح كے مواقع پر كہتے ہیں:'حدثني مجاهد عن ابن عباس'(مجاہد نے مجھے ابن عباس سے روایت كی)یا'حدثني عكرمة عن ابن عباس'(عکرمہ نے مجھے ابن عباس سے روایت كی)یا كسی راوی كی تصریح نہیں كرتے اور محض كہتے ہیں:'عن ابن عباس'(ابن عباس سے)۔

اب اگر ہم زیر بحث روایت كے تمام طرق كا اس پس منظر میں جائزہ لیں تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے كہ تمام طرقمیں'عن ابن عباس'(ابن عباس سے)كے الفاظ سند میں مذكور ہیں۔[16]دوسرے الفاظ میں یہ كہا جا سكتا ہے كہ سعید بن جبیر نے یہ روایت عبدالله بن عباس سے بالواسطہ سنی ہے، مگر اس واسطہ كو بیان نہیں كیا۔

اس روایت كی سند پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے كہ صحاح میں صرف اور صرف امام بخاری نے اس كا انتخاب كیا ہے۔

________

[1]۔ ایک روایت میں اس كے برعكس یہ بیان ہوا ہے كہ اسمٰعیل كے ایڑی رگڑنے كی وجہ سے زمین سے پانی جاری ہوا۔ تاہم یہ روایت زیر بحث روایت كے كثرت طرق كے مقابلے میں بہت قلیل الطرق ہے۔ دیكھیے:أبو جعفر محمد بن جریر الطبري،جامع البیان عن تأویل آي القرآن، طبع اول ، ج13(بیروت:دار إحياء التراث العربي،2001ء) ،230۔

[2]۔ابو عبدالله محمد بن اسمٰعیل البخاری ، الجامع الصحیح ، طبع ثالث ، ج3(بیروت: دار ابن كثیر ،1987ء) ،1230، (رقم،3185)۔

[3]۔البخاری ،الجامع الصحیح، ج3(بیروت: دار ابن كثیر ،1987ء)،1230،(رقم:3185)۔ ایضا ً، ج3،1227-1229،(رقم:3184) ۔ ایضاً ، ج3،834، (رقم:2239) ۔ایضاً ، ج3،1226، (رقم:3183) ۔ابو عبدالله احمد بن حنبل الشیبانی ، مسند ، ج1( قاہرة:مؤسسة القرطبة، تاریخ غیر مذكور) ،347، (رقم:3250) ۔ایضاً ، ج1،360، (رقم:3390) ۔ ابو عبد الله محمد بناسحٰقبن العباس الفاكہی،أخبار مكة في قدیم الدهرو حدیثه، طبع ثانی ، ج2(بیروت: دار الخضر ،1414ھ ) ،5، (رقم:1049)۔ایضاً ، ج2،6، (رقم:1051) ۔ ابو الولید محمد بن عبدالله بن احمد الازرقی ،أخبار مكة و ما جاء فیها من الآثار، ج2(بیروت: دار الاندلس للنشر ،1996ء) ،39-41۔ایضاً ، ج1،57-60۔ابو القاسم علی بن الحسین بنعساكر،تاریخ مدینة دمشق، ج7(بيروت: دار الفكر،1995ء)،145۔ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی، السنن الكبرٰى،طبع اول،ج5(بیروت: دار الكتب العلمية،1991ء)،99،(رقم8378)۔ایضاً ، ج5،100، (رقم:8379) ۔ ایضاً ، ج5،101، (رقم:8380)۔ ابو بكر احمد بن الحسین البیہقی ،السنن الكبرٰى، ج5(مكة: مكتبة دار الباز ،1994ء) ،98، (رقم:9153)۔عبدالرزاق بن ہمامالصنعانی ،مصنف، ج5(بیروت: المكتب الإسلامی ،1403ھ ) ،105 - 111، (رقم:9107) ۔ ابو بكر احمد بن الحسین البیہقی، شعب الإیمان ، طبع اول ، ج3(بيروت: دار الكتب العلمية،1410ھ)،458-459،(رقم:4064)۔ ابو بكر احمد بن الحسین البیہقی ،دلائل النبوة، طبع دوم ، ج2(بیروت:دار الكتب العلمیة،2002ء) ،46 ۔ 49۔ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائي، فضائل الصحابة، طبع اول(بيروت:دارالكتب العلمية،1405ھ)،82-83،(رقم:273)۔ ایضاً ،83 - 84، (رقم:274) ۔الطبري،جامع البيان، طبع اول ، ج1،154-156)۔ایضاً ، ج13،229 – 232۔ ابو الفرج عبدالرحمن علی بن محمد بن الجوزی ،المنتظم فيتاریخ الملوك و الأمم،طبع اول ، ج1(بیروت: دار صادر ،1358ھ ) ،266 - 268۔ابو الفداء اسماعيل بن عمر بن كثير،البداية و النهاية،ج1(بيروت: مكتبة المعارف،تاريخ غير مذكور)،154-156۔ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی،تغليق التعليق،طبع اول، ج4(بيروت: دار عمار،1405ھ)،16،(رقم:3362)۔ ایضاً ، ج4،16، (رقم: 3363)۔ ایضاً ، ج4،16،(رقم:3364)۔

[4]۔ابو حاتم محمد بن حبان البستی ،صحیح، طبع ثانی ، ج9(بیروت:مؤسسة الرسالة،1993ء) ،216، (رقم:33)۔ علیبن ابی بكر الہیثمی ، موارد الظمأن الى زوائد ابن حبان (بیروت: دار الكتب العلمیة ، تاریخ غیر مذكور) ،254، (رقم:1028)۔ اسلم بن سہل واسطی ، تاریخ واسط ، طبع اول (بیروت: عالم الكتاب ،1406ھ) ،149۔احمد بن ابراہیم بن اسمٰعیل الاسماعیلی،المعجم فيأسامي شيوخ،طبع اول ، ج3(مدینة: مكتبة علوم و الحكم ،1410ھ)،773،(رقم:385)۔ عبدالقادر بن عمر البغدادي ، تاریخ بغداد ، ج13(بيروت: دار الكتب العلمية، تاريخ غير مذكور)،55،(رقم:7027)۔ابن عساكر ، تاريخ مدینة دمشق ، ج70، 145۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،6، (رقم:1050)۔ابو احمد بن عمر بن ضحاك الشيباني،الآحاد و المثاني ، طبع اول، ج3(رياض: دار الرايہ،1991ء)، 266-267۔النسائي، السنن الكبرٰى،ج5،99،(رقم:8376)۔ ایضاً ، ج5،99، (رقم:8377) ۔ابو عبد الله محمد بن عبد الواحد بن احمدالمقدسى، الأحاديث المختارة ، طبع اول ، ج3( مكة: النهده الحديثة ،1410ھ)،413،(رقم:1210)۔ ایضاً ، ج3،413 - 415، (رقم:1211)۔ ابوالقاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز بن مرزبانبن سابور بن شاہشاہ البغوي ، معجم الصحابة، طبع اول، ج1(كويت: دار البيان،2000ء)،10 ۔ 11،(رقم:7) ۔

[5]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،8، (رقم:1053)۔ ابن عساكر ، تاریخ مدینة دمشق ، ج70،145۔

[6]۔الأزرقی ،أخبار مكة، ج1،60- 61۔ الفاكہی،أخبار مكة، ج2،7، (رقم:1052)۔

[7]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،8-9، (رقم:1054)۔

[8]۔انس بن مالك كی روایت كے تمام طرق ان سے سعید بن میسرہ سے مروی ہیں ، جو انتہائی ضعیف راوی ہیں۔ امام حاكم كی راے میں وہ انس بن مالك كی نسبت سے روایات وضع كرتے ہیں۔ تفصیلات كے لیے دیكھیے: عبد الرحمٰن بن محمد بنادریسبن ابی حاتم،الجرح و التعدیل، طبع اول ، ج4(بیروت:دار احياء التراث العربي،1952ء)،63۔ابوعبداللهشمس الدین محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز بن عبدالله الذهبی ،میزان الإعتدال فينقد الرجال، طبع اول ، ج3، (بیروت: دارالكتب العلمیة ،1995ء) ،233۔

علی بن ابی طالب كی روایت كے تمام طرق میں عثمان بن عمرو بن ساج اور محمد بن ابان بن صالح موجود ہیں۔ دونوں ہی راوی بہت ہی ضعیف ہیں۔ مقدم الذكر كے لیے ملاحظہ كریں :ابو الحجاج یوسف بن الزكی المزی،تهذیب الكمال فياسماء الرجال، طبع اول ، ج19(بیروت:مؤسسة الرسالة،1980ء) ،468۔مؤخر الذكر كے لیے ملاحظہ كریں :الذهبی ،میزان الإعتدال، ج6 ، 41۔

عمر بن الخطاب كی روایت نہ صرف یہ كہ منقطع ہے ، بلكہ اس كی سند میں عثمان بن عمرو بن ساج موجود ہے۔

[9]۔یہ بات قابل لحاظ ہے كہ بخاری میں موجود اس ضمن كی تمام روایات ابن عباس سے مروی ہیں۔ تاہم ان روایات میں ایک تناقض پایا جاتا ہے۔ تفصیلات كے لیے دیكھیے: ابو علی الغسانی الجیانی ،كتاب التنبیہ على الأوھام الواقعة فی مسند الصحیح للبخاری، طبع اول (الدار البیداء: مكتبة النجاح الجدیدة ،1998ء) ،125-144۔ نیز یہ كہ بحث ونظر كے بعد غسانی ( م498ھ ) نے اس تناقض كو ناقابل لحاظ قرار دے دیا ہے۔ بخاری كے شارحین،جیسے ابن حجر (م852ھ ) اور عینی نے بھی اس معاملہ میں ان كی پیروی كی ہے۔ دیكھیے :ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی ،فتح الباری، ج6(بیروت: دار المعرفة ،1379ھ)،400۔بدر الدین محمود بن احمد بن موسى بن احمد العینی ،عمدةالقاری شرح صحیح البخاری، ج15(بیروت: دار إحیاء التراث العربی ، تاریخ غیر مذكور) ،252۔

[10]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،5، (رقم:1048)۔

[11]۔البیہقی،دلائل النبوة، ج2،46 ۔ 52۔

[12]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،10-11 ، (رقم: 1058)۔الازرقی ،أخبار مكة، ج1،54۔ایضاً ، ج1،60۔

[13]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،9 ، (رقم: 1055)۔

[14]۔الأزرقی ،أخبار مكة، ج1،56۔

[15]۔شبیر احمد اظہر میرٹھی ، صحیح بخاری كا مطالعہ ، طبع اول ، ج۱(لاہور: دار التذكیر،2005ء) ،20-21۔

[16]۔اس میں استثنا صرف ایک روایت كا ہے جسے الازرقی نے اپنی تاریخ میں دو مرتبہ درج كیا ہے (ج1،58-59۔ج2،39)۔ تا ہم اس غیر معنعن روایت كو ایک اور روایت كی موجودگی مشكوک بنا دیتی ہے جس كیبعینہیہی سند ہے اور جو معنعن ہے (ج1،57)۔