حضرت ہاجرہ اور آب زم زم كی روایات كا تنقیدی جائزه (2/2)


ب۔ متن پر تنقید

اس روایت پر بنیادی تنقید یہ ہے كہ یہ تین پہلوؤں سے قرآن كے خلاف ہے:

اول یہ كہ قرآن سے یہ بات ناقابل تردید حد تک معلوم ہوتی ہے كہ جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسمٰعیلكو مكہ میں بسایا تو وہ نوجوانی كی عمر كو پہنچ چكے تھے، نہ كہ ایک طفل شیر خوار تھے۔ یہ استنباط قرآن میں درج مسلم تاریخ كی روشنی میں یوں كیا جا سكتا ہے:

۱۔جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسمٰعیل كو مكہ میں جا بسایا تو ان كےبرادر خورداسحٰقپیدا ہو چكے تھے۔

۲۔حضرتاسحٰقكی پیدایش حضرت اسمٰعیل كے قربانی كے واقعہ كے بعد اس عظیم كارنامے كے صلہ میں ہوئی۔

۳۔ قربانی كے واقعہ كے وقت حضرت اسمٰعیل ایك نوجوان لڑكے تھے ۔

چنانچہ شق۱، ۲اور ۳ سے استنباط كیا جا سكتا ہے كہ دونوں بھائیوں كی عمر میں دس باره سال كا فرق ضرور ہو گا۔ مزید یہ بات واضح ہوتی ہے كہ اسمٰعیل مكہ میں آمد كے موقع پر طفل شیرخوار نہیں، بلكہ نوجوان تھے۔

شق۱،۲اور ۳ میں بیان كردہ مسلمہ تاریخی حقائق درج ذیل آیات میں بیان ہوئے ہیں:

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَاٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ.رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِﵐ فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّيْﵐ وَمَنْ عَصَانِيْفَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ. رَبَّنَا٘ اِنِّيْ٘ اَسْكَنْتُمِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِﶈ رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْـِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْ٘ اِلَيْهِمْوَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ.رَبَّنَا٘ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُﵧ وَمَايَخْفٰي عَلَي اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِوَلَا فِي السَّمَآءِ.اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَلِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَﵧ اِنَّرَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَآءِ. رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِوَمِنْ ذُرِّيَّتِيْﵲ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ.(ابراہیم ۱۴: ۳۵- ۴۰)

''اِنھیں وہ واقعہ سناؤ، جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ میرے پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو اِس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کو پوجنے لگیں۔ پروردگار، اِن بتوں نے بہت لوگوں کو گم راہی میں ڈال دیا ہے۔ (یہ میری اولاد کو بھی گم راہ کر سکتے ہیں)، اِس لیے جو (اُن میں سے) میری پیروی کرے، وہ میرا ہے اور جس نے میری بات نہیں مانی، (اُس کا معاملہ تیرے حوالے ہے)، پھر تو بخشنے والا ہے، تیری شفقت ابدی ہے۔ اے ہمارے پروردگار، میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ایک بن کھیتی کی وادی میں لا بسایا ہے۔ پروردگار، اِس لیے کہ وہ (اِس گھر میں) نماز کا اہتمام کریں۔ سو تولوگوں کے دل اُن کی طرف مائل کر دے اور اُنھیں پھلوں کی روزی عطا فرما، اِس لیے کہ وہ (تیرا) شکر ادا کریں۔ پروردگار، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں۔ خدا کا شکر ہے جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسمٰعیل اوراسحٰقعطا فرمائے ہیں۔اِس میں کچھ شک نہیںکہ میرا پروردگار دعا کا سننے والا ہے۔ پروردگار، مجھے نماز کا اہتمام کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (جنھیں میں یہاں بسا رہا ہوں)۔ ہمارے پروردگار، اور میری یہ دعا قبول فرما۔''[17]

یہ دعا حضرت ابراہیم نے اس موقع پر كی جب وہ اسمٰعیل كو مكہ میں بسا رہے تھے۔ اس دعا كا جملہ"خدا کا شکر ہے جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسمٰعیل اوراسحٰقعطا فرمائے ہیں"واضح طور پر بتا رہا ہے كہ اس وقت حضرت اسمٰعیل كے علاوہ حضرتاسحٰقبھی پیدا ہو چكے تھے۔

اب درج ذیل آیات ملاحظہ كیجیے:

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّيْ٘ اَرٰي فِي الْمَنَامِ اَنِّيْ٘ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَاتَرٰيﵧ قَالَ يٰ٘اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُﵟ سَتَجِدُنِيْ٘اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ. فَلَمَّا٘ اَسْلَمَاوَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ. وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّٰ٘اِبْرٰهِيْمُ. قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَاﵐ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ. اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِيْنُ. وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ. وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ. سَلٰمٌ عَلٰ٘ي اِبْرٰهِيْمَ. كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ. اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ. وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ.(الصافات۳۷: ۱۰۲-۱۱۲)

''(وہ لڑکا جوان ہوا)، پھر جب وہ اُس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے (ایک دن) اُس سے کہا: میرے بیٹے، میں (کچھ دنوں سے) خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ تو غور کرو، تمھاری کیا راے ہے؟ اُس نے کہا: ابا جان، آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے ، اُس کی تعمیل کیجیے۔ خدا نے چاہا تو آپ مجھے ثابت قدموں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے سرتسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرا دیا۔ اور ہم نے اُس سے پکار کرکہا: ابراہیم، تم نے خواب کو سچا کر دکھایا ہے تو تصور کرو کہ دریاے رحمت نے کیسا جوش مارا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خوبی سے عمل کرنے والوں کو ہم ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناً یہ کھلی آزمایش تھی۔ (ابراہیم اِس میں کامیاب ہو گیا تو) ہم نے ایک عظیم قربانی کے عوض اسمٰعیل کو چھڑا لیا۔ اور (ابراہیم کو ایسی مقبولیت عطا فرمائی کہ) پچھلوں میں ایک گروہ کو ہم نے اُس کی ملت پر چھوڑا۔ سلامتی ہو ابراہیم پر۔ ہم خوبی سے عمل کرنے والوں کو اِسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ (یہی موقع تھا کہ)ہم نے اُس کواسحٰقکی بشارت دی، صالحین کے زمرے میں سے ایکنبی۔''

خط كشیدہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے كہ قربانی كے واقعہ كے بعد ابراہیم كواسحٰقكی پیدایش كی خوش خبری سنائی گئی۔ دوسرے الفاظ میں حضرتاسحٰقحضرت اسمٰعیل كی قربانی كے موقع پر پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ نیز یہ كہ ابتدائی آیات سے بھی معلوم ہوتا ہے كہ اسمٰعیل قربانی كے لیے پیش كیے جانے كے موقع پر ایك دوڑ دھوپ كرنے والے نوجوان تھے۔

دوسرے الفاظ میں حضرت اسمٰعیل ایک نوجوان تھے جو حضرتاسحٰقسے كافی بڑے تھے اور یہ بات مستنبط كی جا سكتی ہے كہ دونوں بھائیوں میں دس سے بارہ سال كا فرق لازماً ہو گا۔ چونكہ ان دونوں بیٹوں كی پیدایش مكہ آمد كے موقع پر ہو چكی تھی، اس كا مطلب یہ ہو گاكہ اسمٰعیل نوجوانی كی سرحد میں داخل ہو چكے تھے نہ كہ ایك طفل شیرخوار جیسا كہ اس روایت میں بیان ہوا ہے۔

یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے كہ دونوں بھائیوں كی عمر میں اس فرق كی طرف قرآن كے اس اشارے كی تائید تورات سے بھی ہوتی ہے۔ تورات كے مطابق حضرت اسمٰعیل حضرتاسحٰقسے چودہ برس بڑے ہیں۔[18]مزید برآں، تورات كے ایك اور مقام سے بھی معلوم ہوتا ہے كہ مكہ آمد كے موقع پر حضرت اسمٰعیل طفل شیرخوارنہیں تھے۔ چنانچہ كتاب پیدایش (۲۰: ۸- ۱۴) میں بیان ہوا ہے كہ حضرت اسمٰعیل كو مكہ بھیجتے وقت حضرتاسحٰقكی دودھ چھٹائی كی رسم منعقد كی جا چكی تھی۔نتیجتاًاسمٰعیل کی عمر اس وقت تك سولہ یا سترہ سال ہو چكی ہو گی، كیونكہ دودھ چھٹائیاسحٰقكی پیدیش كے دو یا تین سال بعد ہی ہو ئی ہو گی۔

خلاصۃ ً یہ بات تاریخی طور پر پایۂ ثبوت تك پہنچ جاتی ہے كہ حضرت اسمٰعیل مكہ آمد كے موقع پر نوجوانی كی دہلیز پر قدم ركھ چكے تھے۔ وہ ہرگز ایک طفل شیر خوار نہیں تھے۔[19]

دوم ، اس روایت سے حضرت ابراہیم كی جو شخصیت سامنے آتی ہے، وہ اس سے یكسر مختلف ہے جو قرآن میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت ابراہیم ایک سنگ دل باپ اور پتھردل شوہر تھے جنھوں نے اپنی بیوی اور ننھے بچے كو ایک دور دراز مقام پر بالكل بے یارومددگار اور بے آسرا چھوڑا۔ سفر كے دوران نہ سامان سفر كا بوجھ بانٹا اور جیسا كہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہاجرہ كے بار بار دریافت كرنے پر كہ وہ ان كو اور حضرت اسمٰعیل كو كیوں اكیلا چھوڑ كر جا رہے ہیں ، كوئی جواب تك نہ دیا،[20]یہاں تك كہ حضرت ہاجرہ كو خود ہی اس كی ایک توجیہ سوجھ گئی اور وہ الله كی بندی مطمئن ہو گئی۔ تاہم روایات كی رو سے حضرت ابراہیم نے اس معقول سوال كا كوئی جواب از خود نہیں دیا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم نے بعد میں ایک لمبی مدت تك اپنی بیگم اور بیٹے كی كوئی خبر ہی نہ لی۔ زیر بحث روایات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت اسمٰعیل كی شادی كے بعد ان كو اپنے اہل و عیال سے ملنے كا خیال آیا۔ كیا كسی عام باپ سے بهی كوئی اس طرح كی سنگ دلی كی توقع كر سكتا ہے ، چہ جائكہ ایك عظیم پیغمبر سے۔

ملاحظہ فرمائیے كہ قرآن اس عظیم ہستی كو كن الفاظ سے یاد كرتا ہے:

وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا.(النساء۱۲۵:۴)

''اور (یہی سبب ہے کہ)ابراہیم کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا۔''

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ.(ہود۷۵:۱۱)

''حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑا بردبار، بڑا دردمنداور اپنے پروردگار کی طرف بڑا دھیان رکھنے والا تھا۔''

اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًاﵧوَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ.شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖﵧاِجْتَبٰىهُ وَهَدٰىهُ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ.وَاٰتَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةًﵧ وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِلَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ.(النحل۱۶: ۱۲۰-۱۲۲)

''حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم (اپنی جگہ) ایک الگ امت تھا، اللہ کا فرماں بردار اور یک سو اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔وہ اُس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا۔ اللہ نے اُس کو برگزیدہ کیا اور اُس کی رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی تھی۔ہم نے اُس کو دنیا میں بھی بھلائی عطا کی اور آخرت میں بھی وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا۔''

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ.(الصافات۳۷: ۸۴)

''یاد کرو، جب وہ قلب سلیم کے ساتھ اپنے پروردگار کے حضور میں آیا۔ ''

وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰ٘ي.(النجم۵۳: ۳۷)

''اور ابراہیم کے صحیفوں میں بھی، جس نے وفا کا حق ادا کر دیا؟''

كیا ان ارفع صفات سے متصف كسی پیغمبر سے اس روایت میں بیان كردہ غیر انسانی رویہ كی کوئی توقع كر سكتا ہے؟

سوم یہ كہ روایات كے بعض طرق[21]میں یہ بات بیان ہوئی ہے كہ حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ كو حضرت اسمٰعیل كے ساتھ اس لیے روانہ كر دیا تھا كہ حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ كے درمیان تعلقات خوش گوار نہ تھے (لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيْمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ خَرَجَ بِإِسْمَاعِيْلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيْلَ)۔ دوسری طرف قرآن اس ہجرت كی وجہ یہ بتاتا ہے كہ پروردگار عالم نے مكہ كی سرزمین كا انتخاب از خود اس لیے كیا تھا كہ پیش نظر وہاں ایک نئی امت كی تاسیس تھی۔

اس روایت كی معقولیت پر كچھ ضمنی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً:

۱۔ایك عجیب سى بات یہ سامنے آتی ہے كہ جب حضرت ابراہیم واپسی كے سفر پر روانہ ہوئے توحضرت ہاجرہ نے آپ كا پیچھا كیا۔ اس دوران میں ایك لمبے عرصے تك نہ حضرت ابراہیم نے ان كو یہ بتانا گوارا كیا كہ وہ اس طرح سے ان کو كیوں چھوڑ كر جا رہے ہیں اور نہ ہی حضرت ہاجره نے ان سے اس كے بارے میں كوئی استفسار كیا، یہاں تك كہ وہ كدا كے مقام پر پہنچ گئے۔

۲۔پانی كی تلاش میں حضرت ہاجرہ نے اپنے ننھے منے بچہ كو زمین پر بلكتا اور سسكتا چھوڑ دیا، يہاں تك كہ روايت میں يہ بھی بيان ہو گيا ہے كہ حضرت ہاجرہ نے ايك موقع پر ننھے اسمٰعيل كو مرنے كے قريب پايا۔ تاہم آپ پانی كی تلاش میں دوبارہ نكل كھڑی ہوئیں۔ كیا یہ بات تسلیم كی جا سكتی ہے كہ ایک ماں اس طرح اپنے بچے كو چلچلاتی دھوپ میں چھوڑ كر اس طرح كی تلاش میں نكل كھڑی ہو سكتی ہے؟ آخر اس میں كیا ركاوٹ تھی كہ وہ مشقت اٹھا كر اس بچے كو اپنے ساتھ ركھتیں؟

۳۔ایک اچنبھے كی بات یہ ہے کہ ابراہیم نے دو مرتبہ مكہ كا سفر كیا اور دونوں مرتبہ اپنے فرزند سے ملنے كا انتظار تك نہیں كیا جو ان دونوں مواقع پر مبینہ طور پر شكار پر گئے ہوئے تهے۔ كیا یہ بات پدرانہ شفقت سے میل كھاتی ہے؟ كیا یہ بات قابل فہم ہے كہ كوئی باپ اتنے لمبے سفر كے بعد مقصد پورا كیے بغیر ہی واپس چلا جائے اور وہ بھی دونوں مواقع پر؟ بلكہ دونوں مواقع پر انھوں نے ایک بعید از فہم پیغام اپنے فرزند ارجمند كے نام چھوڑا۔ اگرچہ دعوىٰ ضرور كیا گیا ہے كہ وہ ہر ماہ ان سے ملنے جاتے ، تاہم اس كا كوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔[22]

روایت كا ایك ممكنہ ماخذ

اگر ہم غیر جانب داری سے اس واقعہ كی روداد بائیبل اور تالمود میں پڑھیں تو زیر بحث روایت اور ان دونوں مآخذ كا تعلق دریافت كر سكتے ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے كہ یہ روایت بائیبل اور تالمود كی روایات كا مجموعہ ہے ، بالخصوص تالمود كا۔

ملاحظہ ہو كتابِ پیدایش كا سولہواں باب:

''سارا ئی اَبرام کی بیوی تھی۔ اُس کی کو ئی اولاد نہ تھی۔ سارائی کی ایک مصری خادمہ تھی۔ اُس کا نام ہاجرہ تھا۔سارائی نے اَبرام سے کہا : ''خداوند نے مجھے اولاد ہو نے کا موقع ہی نہ دیا۔ اس لیے میری لونڈی ہاجرہ کے پاس جا۔ اور اُس سے جو بچہ پیدا ہو گا، میں اسے اپنے ہی بچے کی مانند قبول کر لوں گی۔'' تب اَبرام نے اپنی بیوی سارائی کا شکریہ ادا کیا۔اَبرام کے کنعان میں دس برس رہنے کے بعد یہ وا قعہ پیش آیا تھا۔ اَبرام کی بیوی سارا ئی نے ہا جرہ کو ، اَبرام کو اس کی بیوی بننے کے لیے دیا۔( ہا جرہ مصر کی لونڈی تھی)۔اَبرام نے ہاجرہ سے جسمانی تعلقات قائم کیا اور وہ حاملہ ہو ئی۔ اس کے بعد ہا جرہ اپنی مالکہ کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگی۔تب سارا ئی نے اَبرا م سے کہا کہ اس کے نتیجہ میں جو بھی ناساز گار حالات پیدا ہو ئے ہیں۔ اُس کی تمام تر ذمہ داری تیرے سر ہے۔ میں نے اُس کو تیرے حوا لے کر دیا ہے۔ اور وہ اب حاملہ ہے۔ اور مجھے حقیر جان کر دُھتکار دیتی ہے۔ اور سوچتی ہے کہ وہ مجھ سے بہتر ہے۔ اب خداوند ہی فیصلہ کر ے گا کہ ہم میں سے کون صحیح ہے۔اِس بات پر اَبرام نے سارائی سے کہا ، تُو تو ہاجرہ کی مالکہ ہے۔ تو جو چاہے اُس کے ساتھ کر سکتی ہے۔ اِس لیے سارائی نے ہاجرہ کو ذلیل کیا۔ اور وہ بھاگ گئی۔خداوند کے فرشتہ نے ہاجرہ کو ریگستان میں چشمہ کے پاس دیکھا۔ اور وہ چشمہ شور کی طرف جانے وا لے راستے کے کنا رے تھا۔فرشتے نے اُس سے کہا کہ اے ہاجرہ تو سارائی کی لونڈی ہو نے کے باوجود یہاں کیوں ہے ؟ اور پو چھا کہ تُو کہاں جا رہی ہے ؟ ہاجرہ نے کہا کہ میں مالکہ سارائی کے پاس سے بھاگ رہی ہوں۔خداوند کے فرشتہ نے ہاجرہ سے کہا کہ سارائی تو تیری مالکہ ہے۔ تُو اُس کے پاس لوٹ کر جا اور اُس کی بات مان۔اِس کے علاوہ خداوند کے فرشتہ نےہاجرہ سے کہا : میں تیری نسل کے سلسلہ کو بہت بڑھاؤں گا۔ وہ اتنی ہوں گی کہ گنی نہیں جا ئیں گی۔مزید فرشتے نے اُس سے کہا : اے ہاجرہ، اب تو حاملہ ہو گئی ہے۔اور تجھے ایک بیٹا پیدا ہو گا۔ تو اس کا نام اسمٰعیل رکھنا۔اِس لیے کہ خداوندنے تیری تکا لیف کو سُنا ہے۔ اور وہ تیری مدد کرے گا۔اِسمٰعیل جنگلی گدھے کی طرحمضبوط اور آ زا د ہو گا۔اور وہ ہر ایک کا مخا لف ہو گااور ہر ایک اُس کا مخالف ہو گا۔وہ اپنے بھا ئیوں کے قریب خیمہ زن ہو گا۔

خداوند نے خود ہاجرہ کے ساتھ باتیں کیں۔ اس وجہ سے ہاجرہ نے کہا : اِس جگہ بھی خدا مجھے دیکھ کر میرے بارے میں فکرمند ہو تا ہے۔ اس لیے اس نے اس کا ایک نیا نام دیا ، ''خدا مجھے دیکھتا ہے '' ہاجرہ نے کہا : میں نے خدا کو یہاں دیکھا ہے، لیکن میں اب تک زندہ ہوں! اس لیے انھوں نے خدا کا نیا نام دیا،"خدا جو مجھے دیکھتا ہے۔"اِس وجہ سے اُس کنواں کا نام بیر لحی روئیہوگیا۔ وہ کنواں قادس اور برد کے درمیان ہے۔ہا جرہ نے اَبرام کے بیٹے کو جنم دیا۔ اور اَبرام نے اُس بیٹے کا نام اِسمٰعیل رکھا۔اَبرام جب چھیا سی برس کے ہو ئے تو ہاجرہ سے اِسمٰعیل پیدا ہو ئے۔''

باب۲۰میں ہے:

''خداوند نے سارہ سے جو وعدہ کیا تھا اُس کو با قاعدہ پورا کیا۔سارہ عمررسیدہ ابراہیم سے حاملہ ہو ئی اور ایک بیٹے کو جنم دیا۔ یہ سب کچھ ٹھیک اسی وقت ہوا جس کے بارے میں خدا نے کہا تھا کہ ہو گا۔سارہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ابراہیم نے اس کا نام اسحٰق رکھا۔جب اسحٰق کو پیدا ہو ئے آٹھ دن ہو ئے تھے، خدا کے حکم کے مطابق ابراہیم نے اس کا ختنہ کر وایا۔جب ان کا بیٹا اسحٰق پیدا ہوا تو ابرا ہیم کی عمر سو سال تھی۔سارہ نے کہا : خدا نے مجھے خوشی بخشی ہے اور ہر کو ئی جو اس کے با رے میں سنیں گے، وہ مجھ سے خوش ہوں گے۔کو ئی بھی سوچ نہیں سکتا تھا کہ ابراہیم کا سارہ سے کو ئی بیٹا ہو گا۔ اور اُس نے کہا کہ ابرا ہیم کے ضعیف ہو نے کے با وجود اب میں اُس کو ایک بیٹا دیتی ہوں۔جب اسحٰق بڑا ہو کر کھا نا کھانے کی عمر کو پہنچا۔ تب ابراہیم نے ایک بڑی ضیافت کروائی۔پہلے پہل مصر کی لونڈی ہا جرہ کے یہاں ایک لڑ کاپیدا ہوا تھا۔ اور ابرا ہیم اُس کا باپ تھا۔ سارہ دیکھتی کہ ہاجرہ کا بیٹا کھیل رہا ہے۔سارہ نے ابراہیم سے کہا کہ اُس لونڈی کو اور اُس کے بچے کو کہیں دُور بھیج دے۔ تا کہ جب ہم دونوں مر جا ئیں تو ہما ری تمام تر جائیداد کا وارث صرف اسحٰق ہی ہو گا۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتی ہوں کہ لونڈی کا بیٹا اسحٰق کے ساتھ وراثت میں حصے دار ہو۔ابرا ہیم کو بہت دُکھ ہو ا۔ اور اپنے بیٹے کے بارے میں فکرمند ہوئے۔لیکن خدا نے ابرا ہیم سے کہا : تو اس بچے یا اُس لونڈی کے بارے میں پریشان نہ ہو اور سارہ کی مرضی کے مطابق ہی کر۔ اسحٰق ہی تیرے خاندانی سلسلہ کو جا ری رکھے گا۔لیکن میں تیری لونڈی کے بیٹے کے خاندان سے ایک بڑی قوم بنا ؤں گا۔ کیونکہ وہ تمھا را بیٹا ہے۔دوسرے دن صبح ابراہیم نے تھو ڑا سا اناج اور تھوڑا سا پانی لیا اور ہاجرہ کو دے دیا۔ اور اُسے دور بھیج دیا۔ ہاجرہ نے اُس جگہ کو چھو ڑدیا اور بیرسبع کے ریگستان میں بھٹکنے لگی۔تھوڑی دیر بعد پانی بھی ختم ہو گیا اور پینے کے لیے کچھ با قی نہ رہا۔اِس وجہ سے ہاجرہ نے اپنے بیٹے کو جھا ڑی میں سُلا دیا۔ہاجرہ تھوڑی سی دُور، لگ بھگ ایک تیر کی دُور ی، یعنی جتنی دُور جا کر وہ گرتی ہے گئی اور بیٹھ گئی اور رونا شروع کر دیا۔ اُس نے کہا : میں اپنے بیٹے کو مرا ہوا دیکھنا نہیں چاہتی ہوں۔لڑکے کی آواز خدا کو سُنا ئی دی۔ تب جنت کے فرشتہ نے اُسے بُلا یا۔ اور کہا کہ اے ہاجرہ، تجھے کیا ہوا ہے ؟ تو گھبرا مت اس لیے کہ لڑکے کی آوا ز کو خداوند نے سُن لیا ہے۔اٹھو، لڑکے کو لو اور اُس کے ہا تھ کو کس کر پکڑو۔ میں اُس کو وہ کروں گا جس سے ایک بڑی قوم کا سلسلہ جا ری ہو گا۔اُس کے بعدخدا نے ہاجرہ کو پانی کے ایک کنواں کی طرف رہنما ئی کی۔ تو ہاجرہ پانی کے اُس کنواں پر گئی اور مشکیزہ کو پانی سے بھر دیا اور اُس نے اُس لڑکے کو پانی دیا۔خدا اُس بچے کے ساتھ تھا اور وہ بچہ بڑا ہوا۔ بیابان میں زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ بہترین تیر انداز ہو گیا تھا۔اُس کی ماں اُس کے لیے مصر سے ایک لڑکی لا ئی اور اُس سے شادی کر وا ئی۔ اور اُس نے فاران کے ریگستان میں اپنی سکونت کو جا ری رکھا۔''

تالمود كا بیان ہے:[23]

''اور خداوند نے سارہ كو یاد كیا اور اُس سے ابراہیم كے لیے اُس كے بڑهاپے میں ایك بیٹا پیدا ہوا۔ جب اسحٰق پیدا ہوا تو ابراہیم نےایك بڑی دعوت كااہتمام كیا اور سب سرداروں اور اپنے ہمسایوں كو دعوت دی جس میں ابی ملك اور اس كی فوجوں كے كپتان بهی شامل تهے۔ ابراہیم كا باپ تارح اور اس كا بهائی ناحُور حاران سے سفر كركے اس دعوت میں شامل ہونے كے لیے آئے اور سام بهی اپنے بیٹے ایبر كے ساتھ اس دعوت میں شریك ہوا۔ انھوں نے پورے دل سے انھیں مبارك باد دی اور ابراہیم كا دل خوشی سے بهرا ہوا تها۔ ابراہیم اور ہاجرہ كا بیٹا اسمٰعیل جنگلوں میں شكار كرنے كا بہت شوقین تها۔ وہ ہر وقت اپنے ساتھ اپنی كمان اٹهائے ركهتا اور ایك موقع پر جب اسحٰق پانچ سال كا تها، اسمٰعیل نے بچے كی طرف اپنے تیر كا نشانہ بنایا اور چلایا اب میں تجھ پر تیر چلا رہا ہوں سارہ نے اس واقعہ كی گواہی دی اور اپنے بیٹے كی زندگی كے لیے خوف زدہ ہو گئی اور اپنی لونڈی كے بچے كو ناپسند كیا۔ اُس نے اُس لڑكےكے كاموں كی ابراہیم سے كئی بار شكایت كی اور اُسے مجبور كیا كہ اُن دونوں ہاجرہ اور اسمٰعیل كو اپنے خیمے سے نكال دے اور انھیں كسی دوسری جگہ رہنے كے لیے بھیجے ۔ كچھ عرصہ تك اسمٰعیل اپنی ماں كے ساتھ فاران كے بیابان میں رہا، لیكن ہمیشہ اپنے بڑے شوق میں، یعنی شكار كرنے كے لیے ، اُس نے مصر كا سفر كیا، وہاں اسمٰعیل نے شادی كی اور وہاں اُس كے چار بیٹے اور ایك بیٹی پیدا ہوئی، لیكن جلد ہی وہ بیابان میں اپنے پسندیدہ گهر كو واپس گیا اور وہاں اُس نے خود ہی خیمے لگائے۔ اپنے لوگوں اور اپنے خاندان كے لیے، كیونكہ خدا نے اسے بركت دی اور وہ بهیڑ بكریوں كے ریوڑوں كا مالك تها۔ اور وقت گزرتا گیا، كئی سالوں كے بعد ابراہیم نے اپنے بیٹے كو ملنے كا فیصلہ كیا، كیونكہ وہ ہمیشہ اُس سے ملنے كی خواہش ركهتا تها اور اُس نے اپنا ارادہ سارہ كو بتایا اور ایك اُونٹ پر اكیلے ہی سفر شروع كیا۔ ابراہیم دوپہر كواسمٰعیل كے رہنے كی جگہ پر پہنچا اور اُسے معلوم ہوا كہ اُس كا بیٹا شكار كرنے گهر سے دور گیا ہوا ہے۔ اسمٰعیل كی بیوی ابراہیم سے غیر مہذب طریقے سے پیش آئی، وہ اُسے نہیں جانتی تهی اور اُس نے اُسے كهانا اور پانی دینے سے انكار كیا جو كہ ابراہیم نے اُس سے مانگا تها۔اِس لیے اُس نے اس سے كہا: جب تیرا شوہر واپس آئے تو اُسے میرے متعلق بیان كرتے ہوئے یہ كہنا كہ ایك بوڑها آدمی فلسطین كی زمین سے تیری غیر حاضری میں ہمارے دروازے پر آیا اور اُس نے مجهے كہا كہ جب تیرا شوہر واپس آئے تو اسے بتانا كہ وہ میخ كودور كرے جو اس نے اپنے خیمے میں ركهی ہے اور اُس كی جگہ كوئی اور لے جو قابل احترام ہو۔ یہ الفاظ كہتے ہوئے ابراہیم واپس چلا گیا۔ جب اسمٰعیل گهر واپس آیا تو اُس كی بیوی نے اِس واقعہ كے متعلق اُسے بتایا۔ آدمی كے بارے میں بیان كیا اور اُس كے الفاظ كو دہرایا اور اسمٰعیل جان گیا كہ اس كا باپ اُسے ملنے كو آیا تها اور اُس كی بیوی اُس کے ساتھ بے عزتی سے پیش آئی۔ اِس وجہ سے اسمٰعیل نے اپنی بیوی كوطلاق دے دی اور كنعان كی زمین سے ایك كنواری سے شادی كی۔ تین سالوں كے بعد ابراہیم دوبارہ اپنے بیٹے كو ملنے اُس كے خیمے میں گیا اور اُس كا بیٹا پهر گهر سے دور گیا ہوا تها، لیكن اس كی بیوی خوش طبع اور مہمان نواز تهی اور اُس نے مسافر سے درخواست كی جسے وہ نہیں جانتی تهی كہ وہ اپنے اونٹ سے نیچے اترے اور اُس نے اُس كے سامنے روٹی اور گوشت ركها۔ اِس لیے اُس نے اُس سے كہا كہ ''جب تیرا شوہر واپس آئے تو میرے متعلق اُس سے بیان كرنا اور كہنا كہ یہ بوڑها آدمی فلسطین كی زمین سے تیرے پاس آیا اور یہ پیغام اُس نے تیرے لیے چهوڑا ہے كہ: میخ جو تو نے اپنے خیمے میں ركهی ہے اچهی اور بلند اخلاق ہے اور عزت كے لائق ہے اور ابراہیم نے اسمٰعیل اور اُس كے خاندان كو بركت دی اوراپنے گهر واپس چلا گیا۔ جب اسمٰعیل واپس آیاتو وہ اپنے باپ كا پیغام سن كر بہت خوش ہوا اور اُس نے ایك اچهی اور بلند اخلاق بیوی كے لیے خدا كا شكر ادا كیا اور كچھ عرصہ بعد وہ اور اُس كا خاندان ابراہیم كو ملنے گیا اور كئی دنوں تك فلسطین كی زمین میں اُس كے ساتھ رہا۔''

اگرچہ ان روایات میں اور زیرنظر روایت كے مابین كچھ تضادات بھی پائے جاتے ہیں، مگر ایک فہیم شخص اندازہ كر سكتا ہے كہ بائیبل اور تالمود كے بیانات اس روایت كا ایک ممكنہ ماخذ قرار دیے جا سكتے ہیں۔

خاتمۂ بحث

اس تجزیاتی مطالعہ سے یہ بات بطور نتیجہ اخذ كی جا سكتی ہے كہ زیربحث روایت نہ صرف قرآن اور عقل عام كے خلاف ہے ، بلكہ اس كی نسبت بھی اس كے اصل راوی، یعنی عبدالله بن عباس سے مشكوك ہے ۔

مزید برآں، یہ بھی معلوم ہوتا ہے كہ اس روایت كا ماخذ تالمود اور بائیبل میں واقعہ كی روداديں ہیں اور بنابریں، جیسا كہ حافظ ابن كثیر نے بیان كیا ہے، اس كو اسرائیلیات میں شمار كیا جا سكتا ہے ۔[24]

________

[1]۔ ایک روایت میں اس كے برعكس یہ بیان ہوا ہے كہ اسمٰعیل كے ایڑی رگڑنے كی وجہ سے زمین سے پانی جاری ہوا۔ تاہم یہ روایت زیر بحث روایت كے كثرت طرق كے مقابلے میں بہت قلیل الطرق ہے۔ دیكھیے:أبو جعفر محمد بن جریر الطبري،جامع البیان عن تأویل آي القرآن، طبع اول ، ج13(بیروت:دار إحياء التراث العربي،2001ء) ،230۔

[2]۔ابو عبدالله محمد بن اسمٰعیل البخاری ، الجامع الصحیح ، طبع ثالث ، ج3(بیروت: دار ابن كثیر ،1987ء) ،1230، (رقم،3185)۔

[3]۔البخاری ،الجامع الصحیح، ج3(بیروت: دار ابن كثیر ،1987ء)،1230،(رقم:3185)۔ ایضا ً، ج3،1227-1229،(رقم:3184) ۔ ایضاً ، ج3،834، (رقم:2239) ۔ایضاً ، ج3،1226، (رقم:3183) ۔ابو عبدالله احمد بن حنبل الشیبانی ، مسند ، ج1( قاہرة:مؤسسة القرطبة، تاریخ غیر مذكور) ،347، (رقم:3250) ۔ایضاً ، ج1،360، (رقم:3390) ۔ ابو عبد الله محمد بناسحٰقبن العباس الفاكہی،أخبار مكة في قدیم الدهرو حدیثه، طبع ثانی ، ج2(بیروت: دار الخضر ،1414ھ ) ،5، (رقم:1049)۔ایضاً ، ج2،6، (رقم:1051) ۔ ابو الولید محمد بن عبدالله بن احمد الازرقی ،أخبار مكة و ما جاء فیها من الآثار، ج2(بیروت: دار الاندلس للنشر ،1996ء) ،39-41۔ایضاً ، ج1،57-60۔ابو القاسم علی بن الحسین بنعساكر،تاریخ مدینة دمشق، ج7(بيروت: دار الفكر،1995ء)،145۔ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائی، السنن الكبرٰى،طبع اول،ج5(بیروت: دار الكتب العلمية،1991ء)،99،(رقم8378)۔ایضاً ، ج5،100، (رقم:8379) ۔ ایضاً ، ج5،101، (رقم:8380)۔ ابو بكر احمد بن الحسین البیہقی ،السنن الكبرٰى، ج5(مكة: مكتبة دار الباز ،1994ء) ،98، (رقم:9153)۔عبدالرزاق بن ہمامالصنعانی ،مصنف، ج5(بیروت: المكتب الإسلامی ،1403ھ ) ،105 - 111، (رقم:9107) ۔ ابو بكر احمد بن الحسین البیہقی، شعب الإیمان ، طبع اول ، ج3(بيروت: دار الكتب العلمية،1410ھ)،458-459،(رقم:4064)۔ ابو بكر احمد بن الحسین البیہقی ،دلائل النبوة، طبع دوم ، ج2(بیروت:دار الكتب العلمیة،2002ء) ،46 ۔ 49۔ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب النسائي، فضائل الصحابة، طبع اول(بيروت:دارالكتب العلمية،1405ھ)،82-83،(رقم:273)۔ ایضاً ،83 - 84، (رقم:274) ۔الطبري،جامع البيان، طبع اول ، ج1،154-156)۔ایضاً ، ج13،229 – 232۔ ابو الفرج عبدالرحمن علی بن محمد بن الجوزی ،المنتظم فيتاریخ الملوك و الأمم،طبع اول ، ج1(بیروت: دار صادر ،1358ھ ) ،266 - 268۔ابو الفداء اسماعيل بن عمر بن كثير،البداية و النهاية،ج1(بيروت: مكتبة المعارف،تاريخ غير مذكور)،154-156۔ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی،تغليق التعليق،طبع اول، ج4(بيروت: دار عمار،1405ھ)،16،(رقم:3362)۔ ایضاً ، ج4،16، (رقم: 3363)۔ ایضاً ، ج4،16،(رقم:3364)۔

[4]۔ابو حاتم محمد بن حبان البستی ،صحیح، طبع ثانی ، ج9(بیروت:مؤسسة الرسالة،1993ء) ،216، (رقم:33)۔ علیبن ابی بكر الہیثمی ، موارد الظمأن الى زوائد ابن حبان (بیروت: دار الكتب العلمیة ، تاریخ غیر مذكور) ،254، (رقم:1028)۔ اسلم بن سہل واسطی ، تاریخ واسط ، طبع اول (بیروت: عالم الكتاب ،1406ھ) ،149۔احمد بن ابراہیم بن اسمٰعیل الاسماعیلی،المعجم فيأسامي شيوخ،طبع اول ، ج3(مدینة: مكتبة علوم و الحكم ،1410ھ)،773،(رقم:385)۔ عبدالقادر بن عمر البغدادي ، تاریخ بغداد ، ج13(بيروت: دار الكتب العلمية، تاريخ غير مذكور)،55،(رقم:7027)۔ابن عساكر ، تاريخ مدینة دمشق ، ج70، 145۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،6، (رقم:1050)۔ابو احمد بن عمر بن ضحاك الشيباني،الآحاد و المثاني ، طبع اول، ج3(رياض: دار الرايہ،1991ء)، 266-267۔النسائي، السنن الكبرٰى،ج5،99،(رقم:8376)۔ ایضاً ، ج5،99، (رقم:8377) ۔ابو عبد الله محمد بن عبد الواحد بن احمدالمقدسى، الأحاديث المختارة ، طبع اول ، ج3( مكة: النهده الحديثة ،1410ھ)،413،(رقم:1210)۔ ایضاً ، ج3،413 - 415، (رقم:1211)۔ ابوالقاسم عبد الله بن محمد بن عبد العزيز بن مرزبانبن سابور بن شاہشاہ البغوي ، معجم الصحابة، طبع اول، ج1(كويت: دار البيان،2000ء)،10 ۔ 11،(رقم:7) ۔

[5]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،8، (رقم:1053)۔ ابن عساكر ، تاریخ مدینة دمشق ، ج70،145۔

[6]۔الأزرقی ،أخبار مكة، ج1،60- 61۔ الفاكہی،أخبار مكة، ج2،7، (رقم:1052)۔

[7]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،8-9، (رقم:1054)۔

[8]۔انس بن مالك كی روایت كے تمام طرق ان سے سعید بن میسرہ سے مروی ہیں ، جو انتہائی ضعیف راوی ہیں۔ امام حاكم كی راے میں وہ انس بن مالك كی نسبت سے روایات وضع كرتے ہیں۔ تفصیلات كے لیے دیكھیے: عبد الرحمٰن بن محمد بنادریسبن ابی حاتم،الجرح و التعدیل، طبع اول ، ج4(بیروت:دار احياء التراث العربي،1952ء)،63۔ابوعبداللهشمس الدین محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز بن عبدالله الذهبی ،میزان الإعتدال فينقد الرجال، طبع اول ، ج3، (بیروت: دارالكتب العلمیة ،1995ء) ،233۔

علی بن ابی طالب كی روایت كے تمام طرق میں عثمان بن عمرو بن ساج اور محمد بن ابان بن صالح موجود ہیں۔ دونوں ہی راوی بہت ہی ضعیف ہیں۔ مقدم الذكر كے لیے ملاحظہ كریں :ابو الحجاج یوسف بن الزكی المزی،تهذیب الكمال فياسماء الرجال، طبع اول ، ج19(بیروت:مؤسسة الرسالة،1980ء) ،468۔مؤخر الذكر كے لیے ملاحظہ كریں :الذهبی ،میزان الإعتدال، ج6 ، 41۔

عمر بن الخطاب كی روایت نہ صرف یہ كہ منقطع ہے ، بلكہ اس كی سند میں عثمان بن عمرو بن ساج موجود ہے۔

[9]۔یہ بات قابل لحاظ ہے كہ بخاری میں موجود اس ضمن كی تمام روایات ابن عباس سے مروی ہیں۔ تاہم ان روایات میں ایک تناقض پایا جاتا ہے۔ تفصیلات كے لیے دیكھیے: ابو علی الغسانی الجیانی ،كتاب التنبیہ على الأوھام الواقعة فی مسند الصحیح للبخاری، طبع اول (الدار البیداء: مكتبة النجاح الجدیدة ،1998ء) ،125-144۔ نیز یہ كہ بحث ونظر كے بعد غسانی ( م498ھ ) نے اس تناقض كو ناقابل لحاظ قرار دے دیا ہے۔ بخاری كے شارحین،جیسے ابن حجر (م852ھ ) اور عینی نے بھی اس معاملہ میں ان كی پیروی كی ہے۔ دیكھیے :ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی ،فتح الباری، ج6(بیروت: دار المعرفة ،1379ھ)،400۔بدر الدین محمود بن احمد بن موسى بن احمد العینی ،عمدةالقاری شرح صحیح البخاری، ج15(بیروت: دار إحیاء التراث العربی ، تاریخ غیر مذكور) ،252۔

[10]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،5، (رقم:1048)۔

[11]۔البیہقی،دلائل النبوة، ج2،46 ۔ 52۔

[12]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،10-11 ، (رقم: 1058)۔الازرقی ،أخبار مكة، ج1،54۔ایضاً ، ج1،60۔

[13]۔الفاكہی،أخبار مكة، ج2،9 ، (رقم: 1055)۔

[14]۔الأزرقی ،أخبار مكة، ج1،56۔

[15]۔شبیر احمد اظہر میرٹھی ، صحیح بخاری كا مطالعہ ، طبع اول ، ج۱(لاہور: دار التذكیر،2005ء) ،20-21۔

[16]۔اس میں استثنا صرف ایک روایت كا ہے جسے الازرقی نے اپنی تاریخ میں دو مرتبہ درج كیا ہے (ج1،58-59۔ج2،39)۔ تا ہم اس غیر معنعن روایت كو ایک اور روایت كی موجودگی مشكوک بنا دیتی ہے جس كیبعینہیہی سند ہے اور جو معنعن ہے (ج1،57)۔

[17]۔یہ اور دیگر قرآنی آیات كے تراجم استاذ گرامی كی ''البیان'' سے لیے گئے ہیں۔

[18]۔یہ بات بائیبل كے درج ذیل بیانات سے واضح ہوتی ہے:

''اَبرام جب چھیا سی برس کے ہو ئے تو ہاجرہ سے اِسمٰعیل پیدا ہو ئے۔''(كتاب پیدایش16: 16)

''جب ان کا بیٹا اسحٰق پیدا ہو ا تو ابرا ہیم کی عمر سو سال تھی۔''(كتاب پیدایش21: 5)

[19]۔ابن كثیر كہتے ہیں كہ بائیبل كے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل كا ختنہ ایک ہی دن ہوا تھا۔ اس موقع پرحضرت اسمٰعیل13سال كے تھے، كیونكہ بائیبل كے مطابق حضرت ابراہیم كی عمر ختنہ كے وقت99سال تھی (كتاب پیدایش 17:24) اور حضرت اسمٰعیل كی پیدایش كے وقت وہ86برس كے تھے (كتاب پیدایش 16:16)۔ ختنہ كے بعد ہی وہ اپنی والدہ كے ہمراہ مکہ بھیج دیے گئے تھے۔ اس صورت میں وہ كیونكر ایک طفل شیر خوار ہو سكتے ہیں۔ دیكھیے:ابوالفداء اسمٰعیل بن عمر بن كثیر ،البدایة و النہایة، ج1( بیروت: مكتبة المعارف ، تاریخ غیر مذكور) ،156۔

[20]۔دیكھیے مثال كے طور پر:البخاری ، الجامع الصحیح ، ج3،1227، (رقم:3184)۔النسائی ، السنن الكبرىٰ ، ج5،100، (رقم:8379)۔

[21]۔دیكھیے مثال كے طور پر:البخاری ،الجامع الصحیح، ج3،1230، (رقم:3185)۔

[22]۔دیكھیے مثال كے طور پر:الفاكہی، أخبار مكة، ج5،121 ،(رقم:4)۔

[23]۔تالمود،ایچ پولانو ، اردو ترجمہ: اسٹیفن بشیر ، طبع ثالث(گوجرانوالہ: مكتبہ عناویم،2010)،44- 45۔

[24]۔ابن كثیر ،البداية و النهاية،ج 1، 156۔

ـــــــــــــــــــــــــ