حضرت نوح کی عمر


سوال: قرآن میں نوح علیہ السلام کی عمرساڑھے نوسوسال بیان ہوئی ہے،اس بیان کوکیا ہم مبالغے کاایک اسلوب قراردے سکتے ہیں ؟ یعنی اس مدت کوحقیقت میں مرادلینے کے بجاے ہم کہیں کہ یہ محض ان کی طویل عمری کابیان ہے اوریہ ویساہی اسلوب ہے جو 'كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ'[1] اور 'لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ' [2]کی آیات میں قوم عادکی قامت کے بارے میں استعمال کیا گیا ہے؟

جواب:اول تویہ بات سامنے رہنی چاہیے کہ حضرت نوح کی عمرساڑھے نو سو سال ہونے کابیان تورات میں آیاہے،وگرنہ قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ یہ مدت اصل میں اُن کی بعثت کی عمرہے اوراس لحاظ سے اُن کی کل عمراس سے بھی کچھ زیادہ ہی بنتی ہے۔ دوسری یہ بات کہ اوپرسوال میں قوم عادکے متعلق جن دوآیات کاذکرکیاگیاہے ،ان میں سے 'كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ' کی آیت مبارکہ میں اُن کے قدوقامت کاکوئی بیان سرے سے موجودنہیں ہے۔بلکہ اس میں آنے والے عذاب کی شدت،اس کے مقابلے میں اُن کی بے بسی اوراس کے بعداُن کی لاشوں کی بے توقیری کابیان ہواہے۔گویاہواکی شدت اس قدرزیادہ ہے کہ اس نے انھیں جڑپیڑسے اکھاڑڈالا ہے اوروہ اس کے زورسے اب کھوکھلے تنوں کی طرح ادھرسے ادھرلڑھکتے پھرتے ہیں ۔البتہ،جہاں تک 'لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ' کے الفاظ کاتعلق ہے تویہ اپنے اندرپوری گنجایش رکھتے ہیں کہ انھیں کسی درجے میں اُس قوم کے قدوقامت کا بیان بھی ماناجاسکے۔لیکن ایک فرق یہاں بھی واضح رہنا چاہیے کہ ان الفاظ میں غیرمتعین طورپراُن کی قامت کا بیان ہواہے ،اس لیے یہ تومبالغے کاایک اسلوب ہوسکتے ہیں ،مگراس کے مقابلے میں 'فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا ' کے الفاظ کا معاملہ اس سے یک سرمختلف ہے۔ ان میں یہ نہیں کہاگیا کہ'' حضرت نوح کوبہت بڑی عمردی گئی'' یا''وہ سال ہا سال اور مدت مدید جیتے رہے'' کہ اس صورت میں ممکن تھاکہ ہم انھیں محض اُن کی طویل عمری کاایک عمومی بیان مان لیں ۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں متعین طورپراوراعدادمیں گن کر،حتیٰ کہ 'اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا ' کے تاکیدی اسلوب[3] میں بتایاگیاہے کہ وہ اپنی قوم میں ساڑھے نوسوسال مبعوث رہے۔چنانچہ یہ مبالغے کاکوئی اسلوب نہیں ہیں ،بلکہ حقیقت میں اُن کی عمرکابیان ہیں ۔نیز،یہ بیان اوربھی زیادہ موکد ہو جاتا ہے جب یہ بات بھی سامنے رکھی جائے کہ تورات میں چھ سو[4] اورساڑھے تین سوبرس[5] کوباقاعدہ جمع کرکے بتایاگیاہے کہ نوح کی کل عمر ساڑھے نوسوبرس تھی[6] اور قرآن مجید، ظاہرہے کہ اسی پس منظرمیں اوراسی معنی میں یہاں 'ساڑھے نو سو برس' کے الفاظ لے کرآیاہے۔

______

۱۔ الحاقہ ۶۹: ۷۔''پھر تم ان کودیکھتے کہ اس طرح اس میں پچھڑے پڑے ہیں ،جیسے وہ کھجورکے کھوکھلے تنے ہوں۔''۔

۲۔ الفجر۸۹: ۸۔ ''جن کے برابردنیاکے ملکوں میں کوئی قوم پیدانہیں کی گئی۔''۔

۳۔ اوریہ اسی طرح کاتاکیدی اسلوب ہے ،جیسے ہم اپنی زبان میں کسی شے کے بارے میں کہیں کہ'' ایک کم پورے سوکی تومیری اپنی خریدہے۔''

۴۔ کتاب پیدایش۷: ۶۔

۵۔ کتاب پیدایش۹: ۲۶۔

۶۔ کتاب پیدایش۹: ۲۷۔

____________