​حضرت سائب بن عثمان رضی ﷲ عنہ


حضرت سائب بن عثمان کے دادا کا نام مظعون اورپڑدادا کاحبیب تھا۔قریش سے تعلق تھا ، اپنے چھٹے جد جمح بن عمرو کی نسبت سے جمحی کہلاتے ہیں۔ کعب بن لؤی پر ان کا شجرۂ نسب نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کے نسب مبارک سے جا ملتا ہے۔ آپ مرہ بن کعب، جب کہ حضرت سائب ہصیص بن کعب کی اولاد میں سے تھے۔ہصیص جمح کے دادا اور حضرت سائب بن عثمان کے آٹھویں جد تھے۔حضرت سائب کی والدہ کا نام خولہ بنت حکیم تھا جو بنو سلیم سے تعلق رکھتی تھیں۔ ضعیفہ بنت عاص ان کی نانی تھیں۔

بعثت سے کچھ عرصہ قبل نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم مکہ کے قریب واقع جبل حراکی غار میں مراقبہ و عبادت میں مشغول رہنے لگے۔ آپ کے دیرینہ دوست حضرت ابوبکر نے آپ کا یہ معمول دیکھ کر پوچھا: کیا بات ہے کہ آپ قوم کی مجالس میں شریک نہیں ہوتے، فرمایا: ﷲ نے مجھے منصب رسالت پر فائزکیا ہے، آپ کو بھی ﷲ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں۔ حضرت ابوبکر بلاتردد تصدیق و ایمان کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔ دوسرے ہی دن وہ حضرت عثمان بن عفان، حضرت طلحہ بن عبیدﷲ،حضرت زبیر بن عوام اور حضرت سعد بن ابی وقاص کو آپ کی خدمت میں لے آئے۔ یہ اصحاب مسلمان ہوگئے تو حضرت ابوبکر ہی کی دعوت پرحضرت عثمان بن مظعون ،حضرت عبیدہ بن حارث، حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت عبدالرحمن بن عوف اورحضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا،ابھی آپ نے دارارقم میں دعوت وتبلیغ کا سلسلہ شروع نہ کیا تھا۔حضرت سائب بن عثمان اپنے والد کے بعد مسلمان ہوئے۔ دعوت اسلامی کی طرف لپکنے والے اصحاب رسول کی فہرست میں جنھیں ﷲ تعالیٰ نے 'اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ'* کا نام دیا ہے، ان کا نمبرانتالیسواں (یا بیالیسواں) ہے۔

حضرت سائب بن عثمان کو ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ، دونوں ہجرتوں کا شرف حاصل ہوا۔قریش کا سردار امیہ بن خلف ان کا چچا تھا،وہ انھیں اور ان کے اہل خانہ کو ایذائیں دینے میں پیش پیش تھا، اس لیے رجب ۵؍ نبوی (۶۱۵ء) میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے مشورہ پروہ حبشہ روانہ ہوئے۔ عربوں کے اہل حبشہ کے ساتھ پہلے سے تجارتی روابط تھے۔ آپ نے فرمایا: وہاں ایسا بادشاہ حکمران ہے جس کی سلطنت ظلم سے پاک ہے۔سب سے پہلے حضرت عثمان بن عفان، حضرت زبیر بن عوام،حضرت مصعب بن عمیر،حضرت عبدالرحمن بن عوف اورحضرت عثمان بن مظعون سمیت پندرہ (یا سولہ) مسلمان نصف دینار کرایہ پر ایک کشتی لے کر حبشہ روانہ ہوئے،حضرت عثمان بن مظعون مہاجرین کے اس پہلے قافلہ کے امیر تھے ۔ چند ماہ کے بعدحضرت جعفر بن ابوطالب کی قیادت میں سڑسٹھ اہل ایمان کا دوسرا گروہ وہاں پہنچا ۔حضرت سائب بن عثمان اس دوسرے قافلے کا حصہ تھے۔

شوال ۵؍ نبوی میں قریش کے قبول اسلام کی افواہ حبشہ میں موجود مسلمانوں تک پہنچی تو انھوں نے سوچاکہ اگر ولید بن مغیرہ اور ابو احیحہ نے بھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کر لیا تو پھر دشمن دین تو کوئی نہ رہا۔ ہمارے کنبے ہمیں محبوب تر ہیں، اس لیے ہم اپنے وطن واپس چلتے ہیں۔وہ کشتیوں پر سوار ہو کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک گھڑی کا سفر باقی تھا کہ کنانہ کا ایک قافلہ ملا۔قافلے والوں نے بتایا کہ محمد قریش کے خداؤں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اور قریش مسلمانوں پر بدستور ستم کر رہے ہیں۔ یہ سن کر ان اصحاب نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ اتنے قریب آ کر مکہ سے لوٹنا مناسب نہیں ۔ حضرت عثمان بن عفان،حضرت زبیر بن عوام ،حضرت مصعب بن عمیر، حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت عبدﷲ بن مسعود،حضرت سائب بن عثمان ،ان کے والد حضرت عثمان بن مظعون،ان کے چچا حضرت قدامہ بن مظعون اورحضرت عبدﷲ بن مظعون ان تینتیس اصحاب میں شامل تھے جو مکہ میں داخل ہو گئے۔ جب واپس آنے والے صحابہ پر مشرکین مکہ نے پہلے سے بڑھ کر ظلم و ستم ڈھانے شروع کیے تورسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انھیں دوسری بار حبشہ جانے کی اجازت دے دی۔ ابن سعد کے بیان کے مطابق اس بار تراسی صحابہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔اس طرح مہاجرین کی کل تعداد ایک سو نو ہو گئی۔ابن سعد مزید بتاتے ہیں کہ جب مہاجرین حبشہ کو اہل ایمان کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی خبر ملی تو تینتیس مردوں اور آٹھ عورتوں نے مکہ واپسی کی راہ لی۔ ان میں سے دو نے مکہ میں وفات پائی اور سات کو اہل شرک نے اپنی حراست میں لے لیا۔

۱۲؍ نبوی: مشرکین کی زیادتیاں برداشت کرتے مزیدسات برس گزرگئے ، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی کٹھن ہو گئی تو ﷲ کے حکم سے آپ نے صحابہ کو یثرب(مدینہ) کی طرف ہجرت کرنے کا اذن دے دیا۔ صحابہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں مکہ سے نکلنے لگے۔ سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر اورحضرت عمرو بن ام مکتوم مدینہ پہنچے، پھر حضرت عمار بن یاسر ، حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت عبدﷲ بن مسعود اور حضرت بلال نے ہجرت کی (بخاری، رقم ۳۹۲۵)۔ ان کے بعدحضرت ابوسلمہ ،حضرت عامر بن ربیعہ، ان کی اہلیہ حضرت ام عبدﷲ ،حضرت عثمان بن مظعون، حضرت سائب بن عثمان ، حضرت قدامہ بن مظعون،حضرت عبدﷲ بن مظعون ،حضرت ابوحذیفہ اور حضرت عبدﷲ بن جحش نے شہر ہجرت کا رخ کیا۔ حضرت عمر بیس افراد کے قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر کی آمد ہوئی۔حضرت سائب نے مکہ کے گھر کو تالا لگا کر پورے کنبے سمیت ہجرت کی۔حضرت سائب بن عثمان ،حضرت عثمان بن مظعون،حضرت قدامہ بن مظعون ،حضرت عبدﷲ بن مظعون اورحضرت معمر بن حارث مدینہ میں حضرت عبدﷲ بن سلمہ عجلانی کے مہمان ہوئے۔

مدینہ تشریف آوری کے پانچ ماہ بعد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت انس بن مالک کے گھر تشریف لائے اور مہاجرین و انصار میں مواخات قائم فرمائی۔ آپ نے کل پینتالیس مہاجر ین کو اتنے ہی انصار کا بھائی بند قرار دیا۔یہ بھائی چارہ محدود نہ تھا، مدنی زندگی کے ابتدائی دو سال میں مہاجر و انصار بھائی ایک دوسرے کی وراثت بھی پاتے رہے۔ اس موقع پر آپ نے حضرت سائب بن عثمان کوحضرت حارثہ بن سراقہ انصاری کا بھائی قراردیا۔ حضرت حارثہ نے غزوۂ بدر میں شہادت پائی۔

آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسم کو مدینہ ہجرت کیے دوسرا سال تھا کہ فرمان خداوندی نازل ہوا:

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا، وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ.(الحج ۲۲: ۳۹)

''(قتال کی )اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، ﷲ یقیناان کی مدد پر قادر ہے۔''

اس اذن ربانی کے بعد غزوات و سرایا کا سلسلہ شروع ہوا۔

ربیع الاول ۲ ھ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ سو آدمیوں اور اڑھائی ہزار اونٹوں پر مشتمل قریش کا ایک قافلہ امیہ بن خلف کی قیادت میں مدینہ کے پاس سے گزرنے والا ہے ۔ ابن ہشام کا کہنا ہے کہ آپ حضرت سائب بن عثمان کو مدینہ کانائب عامل مقرر فرما کر، دو سو اصحاب کے جلو میں قافلے کا راستہ روکنے کے لیے مدینہ سے نکلے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے آپ کا علم تھام رکھا تھا۔مدینہ سے مکہ جانے والے راستے پر سات دن کے پیدل سفریا چار برید (اڑتالیس میل) کی مسافت پر واقع جبل رضوی اورذی خشب کے نواح میں ،جہینہ کے پہاڑ ی علاقے بواط تک آپ گئے اور چند روز قیام کیا تاہم قافلے کا سامنا کرنے کی نوبت نہ آئی۔ واقدی اور طبری کی روایت ہے کہ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذکو قائم مقام حاکم مقررفرمایا۔

رجب (۶۲۳ء) میں سرےۂ عبدﷲ بن جحش ہواجس میں کشمش ،کھالیں اور دیگر سامان تجارت لے کر شام سے آنے والے قافلے کا سردار عمرو بن حضرمی مارا گیااور مال تجارت عہد اسلامی کی پہلی غنیمت بن گیا۔شام کا تجارتی راستہ غیر محفوظ ہو جانے سے قریش کی معیشت کو سخت دھچکا لگا۔ حبشہ اور یمن سے تجارت پر وہ انحصار نہ کر سکتے تھے، کیونکہ اس کا حجم بہت کم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان ۲ھ میں انھوں نے ابن حضرمی کا بدلہ لینے کے لیے اور شام سے آنے والے ابوسفیان کے نئے تجارتی قافلے کی حفاظت کے لیے طبل جنگ بجا دیا۔ چنانچہ ۱۷؍رمضان ۲ ھ (۱۳؍ مارچ ۶۲۴ء) کو مدینہ سے ایک سو ساٹھ میل دور میدان بدر میں وہ عظیم الشان معرکہ برپا ہوا جسے ﷲ تعالیٰ نے یوم فرقان قرار دیا۔ حضرت سائب بن عثمان اپنے والد حضرت عثمان بن مظعون اور چچاؤں حضرت عبدﷲ بن مظعون اور حضرت قدامہ بن مظعون کے ساتھ اس غزوہ میں رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے شانہ بہ شانہ شریک رہے۔ حضرت سائب کا شمار ان اصحاب رسول میں ہوتا ہے جو تیر اندازی میں ماہر تھے۔کچھ اہل تاریخ کہتے ہیں کہ جنگ بدر میں حضرت سائب بن عثمان نے نہیں، بلکہ ان کے ہم نام چچا حضرت سائب بن مظعون نے شرکت کی۔ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ ہشام بن محمدکلبی کا وہم ہے ،ان کے سوا تمام اہل سیر کا حضرت سائب بن عثمان کے نام پر اتفاق ہے۔

ہجرت کو دو سال گزرے تھے کہ حضرت سائب کے والد حضرت عثمان بن مظعون نے مختصر علالت کے بعد وفات پائی۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔وہ پہلے صحابی تھے جنھیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ حضرت عبدﷲ بن مظعون،حضرت قدامہ بن مظعون ،حضرت سائب بن عثمان اورحضرت معمر بن حارث قبر میں اترے، جب کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر کھڑے رہے۔

حضرت سائب بن عثمان جنگ احد ، جنگ خندق اور تمام غزوات میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے۔

روایات میں حضرت سائب بن عثمان کے ایک بھائی اور ایک بہن کا ذکر ملتا ہے۔ بہن کا نام بتایا نہیں گیا، جب کہ بھائی کانام ابن سعد نے عبدالرحمن، اور ابن عبدالبر اور ابن اثیرنے عبدﷲ لکھا ہے۔

۱۲ھ: حضرت سائب بن عثمان نے عہد صدیقی میں ہونے والی جنگ یمامہ میں شرکت کی۔اسی معرکے میں وہ تیر کا نشانہ بننے سے شہید ہوئے۔ان کی عمر تیس برس سے کچھ اوپر تھی۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویہ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جوزی)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، سیراعلام النبلا (ذہبی)، الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر)۔

_____

* التوبہ ۹: ۱۰۰۔

____________