حضرت سلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ


حضرت سلیط بن عمرو کے داداکا نام عبدشمس بن عبدود تھا۔عامر بن لؤی ان کے ساتویں اور غالب بن فہر نویں جد تھے۔ لؤی بن غالب پر ان کاسلسلۂ نسب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرہ سے ملتا ہے۔عامر کے بھائی کعب آپ کے آٹھویں اور لؤی نویں جد تھے۔حضرت سلیط کی والدہ خولہ بنت عمرو یمن سے تعلق رکھتی تھیں۔

حضرت سلیط بن عمرو 'اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ'* میں شامل تھے۔ ابن اسحاق کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق دین اسلام کی طرف سبقت کرنے والوں میں ان کا نمبر پچیسواں تھا۔ ۵ ؍ نبوی میں دور اسلامی کی پہلی درس گاہ دار ارقم میں رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے سے پہلے وہ ایمان لا چکے تھے۔

حضرت سلیط بن عمرو کو حبشہ و مدینہ، دونوں ہجرتوں کا شرف حاصل ہوا۔ کمزور نو مسلموں اور دعوت ایمان قبول کرنے والے غلاموں پر قریش کا تشدد اور ایذائیں حد سے بڑھ گئیں تو رجب ۵ ؍ نبوی (۶۱۵ء) میں رسو ل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ دیا ۔آپ نے فرمایا: وہاں ایسا بادشاہ حکمران ہے جس کی سلطنت میں ظلم نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت عثمان بن مظعون کی قیادت میں سولہ اصحاب رسول حبشہ روانہ ہوئے۔ حضرت سلیط بن عمرو سڑسٹھ اہل ایمان کے اس دوسرے گروپ میں شامل تھے جو چند ماہ کے بعد حضرت جعفر بن ابو طالب کی قیادت میں دو کشتیوں پر سوارہو کرسوے حبشہ روانہ ہوا۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق حضرت سلیط کی اہلیہ حضرت فاطمہ بنت علقمہ نے سفر ہجرت میں ان کا ساتھ دیا۔دونوں گروپوں کے مہاجرین کی مجموعی تعداد تراسی(ایک سو نو : ابن جوزی) بنتی ہے ۔ حضرت سلیط بن عمرو کے بھائی حضرت حاطب بن عمرو، حضرت سکران بن عمرو،ان کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ ، بنوعامر کے حضرت مالک بن زمعہ، ان کی اہلیہ حضرت عمرہ بنت سعدی ،حضرت ابو سبرہ بن ابورہم،ان کی اہلیہ ام کلثوم بنت سہیل، حضرت عبداﷲ بن مخرمہ، حضرت عبداﷲ بن سہیل اور بنوعامر کے حلیف حضرت سعد بن خولہ، دوسری ہجرت حبشہ میں ان کے ساتھ تھے ۔ حضرت سلیط بن عمرو ان اصحاب میں شامل نہ تھے جو شوال ۵؍ نبوی میں قریش کے ایمان لانے کی افواہ سن کر مکہ لوٹ آئے ۔

موسیٰ بن عقبہ نے حضرت سلیط بن عمرو کو بدری صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابن سعد کہتے ہیں کہ انھوں نے جنگ احد اور تمام غزوات میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی، تاہم جنگ بدر اور باقی معرکوں میں حضرت سلیط کی شمولیت پرباقی اصحاب سیران سے متفق نہیں۔

طبری کی روایت کے برعکس ابن اسحاق ،واقدی ، ابن سعد اور بلاذری کہتے ہیں کہ حضرت سکران بن عمرو اپنی اہلیہ حضر ت سودہ بنت زمعہ کے ساتھ حبشہ سے مکہ واپس آئے اور یہیں انتقال کیا۔سیدہ سودہ کی عدت ختم ہوئی تو رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے انھیں پیام نکاح بھیجا۔ انھوں نے جواب دیا کہ میرا معاملہ آپ کی صواب دید پر منحصر ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنی شادی کے لیے اپنی قوم کے کسی شخص کو کہو۔ابن ہشام کہتے ہیں کہ حضرت سلیط بن عمرو ان کی طرف سے ولی مقرر ہوئے اور انھوں نے چار سو درہم کے عوض حضرت سودہ کا نکاح آپ سے کیا۔ مرجوح روایت کے طور پروہ حضرت حاطب بن عمرو کا ذکربھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابن اسحاق نے اس روایت کو رد کیا اور کہا ہے کہ حضرت سلیط اور حضرت حاطب دونوں بھائی ا س وقت سرزمین حبشہ میں تھے ۔ طبری اور مسند احمد میں سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ حضرت خولہ بنت حکیم نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام لے کرحضرت سودہ کے گھر گئیں اور ان کے والد زمعہ بن قیس نے یہ رشتہ طے کیا (مسند احمد، رقم ۲۵۷۶۹)۔

ابن ہشام نے ''السیرۃ النبویۃ'' میں چونتیس مہاجرین کی فہرست دی ہے جو جنگ بدر سے پہلے حبشہ سے واپس نہ آئے۔ وہ حضرت عمرو بن امیہ ضمری اور حضرت جعفر بن ابو طالب کے ساتھ دو کشتیوں میں سوار ہوکر مدینہ ہجرت کرنے والے قافلے میں بھی شامل نہ تھے۔ ان میں سے چھ افراد نے حبشہ ہی میں وفات پائی، جب کہ حسب ذیل اٹھائیس اصحاب غزوۂ بدر کے بعد مدینہ لوٹے:

حضرت قیس بن عبداﷲ،ان کی اہلیہ حضرت برکہ بنت یسار، حضرت یزید بن زمعہ، حضرت ابو الروم بن عمیر، حضرت فراس بن نصر، حضرت عمرو بن عثمان، حضرت ہبار بن سفیان، ان کے بھائی حضرت عبداﷲ بن سفیان، حضرت ہشام بن ابوحذیفہ،حضرت سفیان بن معمر،حضرت جنادہ بن سفیان ،حضرت جابر بن سفیان،حضرت شرحبیل بن حسنہ، ان کی والدہ حسنہ ،حضرت قیس بن حذافہ، حضرت ابوقیس بن حارث،حضرت عبداﷲ بن حذافہ،حضرت حارث بن حارث، حضرت معمر بن حارث،حضرت بشر بن حارث،حضرت سعید بن عمرو،حضرت سعید بن حارث، حضرت سائب بن حراث، حضرت عمیر بن رئاب، حضرت سلیط بن عمر،حضرت عثمان بن عبد،حضرت سعد بن عبد اور حضرت عیاض بن زہیر۔

ذی الحجہ۷ھ (یا ۶ھ) میں نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے آٹھ صحابہ کو اپنے خطوط دے کر عرب و عجم کے سرداروں کی طرف بھیجا اور انھیں دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔آپ نے حضرت دحیہ بن خلیفہ کلبی کو قیصر روم کی طرف، حضرت عبداﷲ بن حذا فہ کو شاہ فارس(ایران) کسریٰ کی جانب، حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو شاہ حبشہ نجاشی کی جانب، حضرت حاطب بن ابو بلتعہ کو شاہ اسکندریہ( مصر) مقوقس کی طرف ، حضرت عمرو بن عاص کو عمان کے سرداروں جیفر اور عیاذ کی جانب، حضرت سلیط بن عمرو کویمامہ کے سرداروں ہوذہ بن علی اور ثمامہ بن اثال کی طرف، حضرت علاء بن حضرمی کو منذر بن ساوی شاہ بحرین کی طرف اور حضرت شجاع بن وہب کو شام کی سرحد پر واقع ملک غسان کے بادشاہ حارث کی طرف بھیجا۔ حضرت سلیط آپ کا مکتوب لے کر ہوذہ بن علی حنفی کے پاس پہنچے تو وہ بہت عزت سے پیش آیااور عطیات سے نوازا۔انھوں نے آپ کا خط پیش کیا تو اس نے پڑھ کریہ جواب لکھوایا: ''آپ جو دعوت دے رہے ہیں ،بہت اچھی اور بھلی ہے۔ میں اپنی قوم کا شاعر اور خطیب ہوں۔عرب میرے مرتبے سے مرعوب ہیں۔ آپ کار نبوت میں میرا کچھ حصہ رکھ لیں تو میں آپ کی پیروی کر لوں گا۔'' ہوذہ نے حضرت سلیط کو نقد عطیات کے علاوہ یمن کے مشہورشہر ہجر کے بنے ہوئے بیش قیمت کپڑے دیے۔حضرت سلیط نے مدینہ لوٹ کر آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو تمام واقعات بتائے اور ہوذہ حنفی کا خط پڑھ کر سنایا۔ آپ نے فرمایا: اگر وہ ہماری سرزمین کی ایک کچی کھجور مانگ لیتا تو بھی میں نہ دیتا۔پھر فرمایا: وہ خود بھی فناہوا اور اس کا زیر تسلط ملک بھی تباہ ہوا۔ چنانچہ فتح مکہ کے روز حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو خبر دی کہ ہوذہ ہلاک ہو گیا ہے۔

حضرت سلیط بن عمرو کی اہلیہ کا نام حضرت فاطمہ (:ابن اسحاق۔ قہطم : ابن سعد۔ ام یقظہ :ابن حجر) بنت علقمہ تھا۔ ان کی ایک ہی اولاد سلیط بن سلیط کا ذکر ''طبقات ابن سعد'' اور کتب صحابہ میں جگہ پا سکا ہے۔

حضرت سلیط بن عمرو۱۴ھ (یا ۱۳ھ) میں جنگ یمامہ میں داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت سلیط کے بیٹے حضرت سلیط بن سلیط بھی جنگ یمامہ میں شہید ہوئے، لیکن ابن اثیر نے اسے ان کا مغالطہ قرار دیاہے ۔

مطالعۂ مزید:السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک والامم (ابن جو زی)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، البدایۃ و النہایۃ (ابن کثیر)، الاصابہ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)۔

_____

* التوبہ ۹: ۱۰۰۔

____________