حضرت ام رومان رضی ﷲ عنہا


حضرت ام رومان کااصل نا م زینب یا دعدتھا ۔ان کے والد کا نام عامر(یاعبد دہمان) اور داداکا عویمر بن عبد شمس(یا عمیرہ بن ذہل) تھا۔حضرت ام رومان کے نویں جد غنم بن مالک کی نسبت سے ان کاقبیلہ بنوغنم (یا بنو فراس بن غنم) کہلاتا ہے۔ گیارھویں جد کنانہ بن مدرکہ سے منسوب ہوکروہ کنانیہ بھی کہلاتی ہیں۔ اردو دانوں کے لیے 'رومان 'کا لفظ بولنا بہت آسان ہے، لیکن عربوں کے لیے ضمہ اور فتحہ کے بین بین تلفظ کرنا دشوار ہوتاہے، اس لیے وہ اس نام کورَومان یا رُومان بولتے ہیں۔

حضرت ام رومان کی شادی بنوازد کے حارث بن سخبرہ( عبداﷲ بن حارث بن سخبرہ:مزی) سے ہوئی تھی ،ان کا ایک بیٹا بھی تھا جس کا نام طفیل تھا۔حارث اپنے کنبے کے ساتھ یمن (یا تہامہ) کے پہاڑی علاقے سراۃ سے مکہ آئے اور ابوبکر کے حلیف بن گئے۔حارث کی وفات ہوئی توحضرت ام رومان سیدناا بوبکر کے عقد میں آ گئیں۔ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر اور ام المومنین سیدہ عائشہ انھی کی اولاد تھے۔

حضرت عامر بن فہیرہ سیدہ عائشہ کے سوتیلے بھائی،ام رومان کے بیٹے، طفیل بن حارث کے غلام تھے۔انھوں نے اسلام قبول کیا توسیدنا ابوبکر نے انھیں خرید کر آزاد کر دیااور اپنے اونٹ چرانے پر مامور کر دیا۔

حضرت ام رومان نے ابتداے اسلام میں مکہ ہی میں اسلام قبول کیااورنبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ان کانام اگرچہ 'السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ'* کی فہرست میں نہیں، تاہم لازم ہے کہ وہ سیدناابوبکر کے ساتھ ہی ایمان لائی ہوں گی۔ ان کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دار ارقم منتقل ہونے سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے۔

سیدہ خدیجہ کی وفات کو تین سال گزرے تھے کہحضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ حضرت خولہ بنت حکیم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا :یا رسول ﷲ،کیا آپ شادی نہیں کریں گے؟سوال فرمایا:کس سے؟خولہ نے کہا: آپ چاہیں تو کنواری باکرہ سے اور چاہیں تو بیوہ سے رشتہ ہو سکتا ہے۔پوچھا:کنواری کون ہے؟بتایا، خلق خدا میں آپ کے سب سے پیارے صاحب سیدناابوبکر کی بیٹی سیدہ عائشہ ۔فرمایا : بیوہ کون ؟بتایا: حضرت سودہ بنت زمعہ جوآپ پر ایمان لا چکی ہیں۔آپ کے ہامی بھرنے پر حضرت خولہ سیدناابوبکر کے گھر گئیں تو حضرت ام رومان سے ملاقات ہوئی۔کہا: ام رومان ،اﷲ نے تم پر برکت نازل کر دی ہے۔مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ کا رشتہ مانگنے کے لیے بھیجا ہے۔حضرت ام رومان بولیں:میری خواہش تو ہے، تاہم ابوبکر کے آنے کا انتظار کر لو۔ سیدناابوبکر آئے تو حضرت خولہ نے مانگ دہرائی۔سیدناابوبکر نے پوچھا: کیا عائشہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے موزوں ہے؟حضرت خولہ بنت حکیم پلٹیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا۔آپ نے فرمایا:جاؤ ،ابوبکر سے کہہ دو ،وہ میرے اسلامی بھائی ہیں اوران کی بیٹی کی مجھ سے شادی ہو سکتی ہے۔تب حضرت ام رومان نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے کے لیے عائشہ کا ہاتھ مانگ رکھا ہے۔سیدنا ابوبکر مطعم کے ہاں گئے تو اس کی بیوی ام الفتی نے چھوٹتے ہی کہہ دیا: ہم نے اپنا بیٹا تمھاریبیٹی سے بیاہ دیا تو وہ اسے بھی صابی بنا کر اپنے دین میں داخل کر لے گی۔مطعم نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ان کے ازخود انکارکرنے پر سیدناابوبکر نے سکھ کا سانس لیا ۔اس طرح سیدہ عائشہ کا آپ سے نکاح مکہ ہی میں ہو گیا ،رخصتی البتہ ہجرت کے بعد مدینہ میں ہوئی (موسوعۂ مسند احمد، رقم ۲۵۷۶۹)۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے حکم پرسیدنا ابوبکر کی معیت میں سفر ہجرت پر روانہ ہوئے تب آپ کی ازواج اور بیٹیاں مکہ ہی میں تھیں۔سیدنا ابوبکر کا کنبہ بھی مدینہ کے لیے نہ نکلا تھا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد سفر میں آپ کی راہ نمائی کرنے والا گائیڈ عبداﷲ بن اریقط لوٹنے لگا تو آپ نے اپنے آزاد کردہ غلاموں حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابورافع کو اس کے ساتھ مکہ روانہ فرمایا۔ آپ نے دو اونٹ اورسیدنا ابوبکر سے پانسو درہم لے کر انھیں دیے۔ سیدناابوبکر نے بھی اپنا کنبہ لانے کے لیے دو یا تین اونٹ بھیجے۔حضرت زید بن حارثہ مکہ کے قریبی قصبہ قدید پہنچے تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے دیے ہوئے درہموں سے تین اونٹ مزید خریدے۔ مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت طلحہ بن عبیداﷲ سے سامنا ہواجوسفر ہجرت میںآں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے خرّ ارکے مقام پر مل چکے تھے اور مدینہ ہجرت کا قصد رکھتے تھے۔حضرت طلحہ کی شمولیت کے بعد قافلۂ شوق مدینہ کی طرف چلا ،دختران رسول سیدہ فاطمہ ،حضرت ام کلثوم ، ام المومنین حضرت سودہ ،حضرت ام ایمن اور حضرت اسامہ بن زید، حضرت زید اور حضرت ابورافع کی معیت میں تھے۔ حضرت ابوبکر کی اہلیہ حضرت ام رومان ، ان کی بیٹیاں حضرت عائشہ اور حضرت اسما ء حضرت عبداﷲ بن ابوبکر کے ساتھ سوار ہوئے۔کاروان ہجرت جحفہ کے قریب واقع بیابان ساحلی بیدا پرپہنچاتو حضرت عبداﷲ بن ابوبکر کا اونٹ بھاگ نکلا۔اس وقت حضرت ام رومان اور حضرت عائشہ محمل میں بیٹھی تھیں۔ام ایمن چلائیں :ہائے بٹیا! ہائے (رسول پاک کی )دلہنیا!کسی نے آواز دی: اونٹ کی مہار چھوڑ دوتبھی اونٹ رک گیا اور اسے پکڑ لیا گیاتب تک وہ جبل ہرشی کی گھاٹی میں اتر چکا تھا۔ جب یہ لوگ مدینہ پہنچے، آں حضرتصلی اﷲ علیہ وسلم مسجد نبوی اور ازواج مطہرات کے حجرے بنوانے میں مصروف تھے۔سیدناابوبکر کا خانوادہ ان کے پاس پہنچ گیا ، ام المومنین حضرت سودہ اوردختران نبی آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئیں۔

مدینہ پہنچنے کے بعدحضرت ابوبکر کا کنبہ اول اول محلہ سنح میں حضرت بنوحارث بن خزرج کے ہاں ٹھہرا۔سیدہ عائشہ کواپنے والد سیدنا ابوبکر کی طرح بخار نے آن لیااور ان کے بال جھڑ گئے۔تندرست ہونے کے بعد بال دوبارہ آئے اور شانوں تک لٹکنے لگے۔ایک روز جب سیدہ عائشہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا جھولا جھول رہی تھیں ،ان کی والدہ حضرت ام رومان نے ان کو گھر بلایا، کھیل کود کی وجہ سے سیدہ عائشہ کا سانس پھولا ہوا تھااور بال بکھرے تھے۔والدہ نے ان کا منہ دھویا، گھر میں موجود انصاری عورتوں نے بناؤ سنگھار کیا اور اسی روز سیدہ عائشہ کی نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے گھر رخصتی ہوئی (بخاری،رقم۳۸۹۴۔ابن ماجہ، رقم۱۸۷۶۔موسوؤہ مسند احمد، رقم ۲۵۷۶۹)۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ میں گھروں کے لیے زمین تقسیم فرمائی تو سیدنا ابو بکر کے لیے مسجد نبوی کے پاس جگہ متعین فرمائی، مسجد کے مغرب میں واقع ان کے گھر سے چھوٹا سا ایک دریچہ مسجد میں کھلتا تھا۔دیگر صحابہ کے بھی ایسے دریچے مسجد میں آنے جانے کے لیے استعمال ہوتے تھے ۔کچھ دیر کے بعد آپ نے اﷲ کے حکم سے سارے رستے بند کرائے اور فرمایا: '' اس مسجد میں کوئی دریچہ نہ کھلا رہنے پائے سوائے دریچۂ ابو بکر کے ''(بخاری، رقم ۳۹۰۴)۔ رہا حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا گھر تو اس کا بڑا دروازہ ہی مسجد کے اندر تھا ،اسے بند کرنا ممکن نہ تھا ۔حضرت ابو بکر کے مسجد نبو ی کے پڑوس والے گھر میں حضرت ام رومان ، حضرت عائشہ اور حضرت عبدالرحمان نے قیام کیا۔ حضرت ام رومان کی وفات کے بعد یہ گھر ام المومنین حضرت حفصہ رضی اﷲ عنہا نے چار ہزار درہم میں خرید لیا ۔ حضرت عثمان کے دور خلافت میں اسے سیدہ حفصہ سے خرید کر مسجد کی توسیع میں شامل کر لیاگیا۔اب بھی مسجد نبوی کے جنوب مغربی کونے میں ترکوں کے عہد کی تحریر 'ہذہ خوخۃ أبی بکر' (یہ ابو بکر کے گھر کا دریچہ ہے ) لکھی نظرآتی ہے۔

۶ھ میں افک عائشہ کا واقعہ پیش آیا۔غزوۂ بنومصطلق سے واپسی پررات ہوگئی تو آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ کے قریب پڑاؤ کیا۔لشکر کی روانگی سے پہلے سیدہ عائشہ اپنے ہودے سے رفع حاجت کے لیے نکلیں۔راستے میں ان کا عقیق کاہار گم ہوااوراسے تلاش کرتے کرتے انھیں دیر ہوگئی۔ اسی اثنا میں اہل قافلہ نے لا علمی میں ان کے خالی ہودے کو اونٹ پر رکھا اور چل پڑے۔ واپسی پرسیدہ عائشہ نے جب کسی کو نہ پایا تو وہیں ٹھہر گئیں۔ان کی آنکھ جھپکی تھی کہ صفوان بن معطل کا وہاں سے گزر ہواجو کسی ضرورت سے لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انھوں نے سیدہ عائشہ کو اپنے اونٹ پر بٹھایا اور اس کی مہار تھامے مدینہ کی طرف چل پڑے۔دوپہر تک دونوں لشکر سے جا ملے۔گھر پہنچنے پر سیدہ عائشہ بیمار ہو گئیں۔اسی دوران میں رئیس المنافقین عبداﷲ بن ابی نے ان کے خلاف تہمتوں کا بازار گرم کر دیا۔کچھ سادہ لوح مسلمان بھی اس کے پراپیگنڈے کا شکار ہو گئے ۔آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیماری کی وجہ سے سیدہ عائشہ سے کچھ نہ کہا،لیکن جب انھیں ام مسطح کی زبانی ساری صورت حال معلوم ہوئی تو وہ آپ سے اجازت لے کر والدین کے گھر آ گئیں۔حضرت ام رومان نے ان کو تسلی دی! بیٹی، ایک حسین و جمیل خاتون کسی کے عقد میں ہو اور اس کی سوتنیں بھی ہوں تو اس پر الزام لگا کرتے ہیں۔عائشہ نے جواب دیا: یہ تہمت سوتنوں نے نہیں لگائی۔ سیدناابوبکر نے انھیں واپس گھر بھجوا دیا۔ ایک ماہ تکمنافقین کی زبانیں دراز رہیں، حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ کی برا ء ت میں وحی نازل کی۔ آپ کو وحی کی شدت سے افاقہ ہوا تو مسکرائے اور فرمایا: عائشہ،اﷲ کاشکرادا کرو کہ اس نے تمھیں بری قرار دیاہے ۔اس موقع پرحضرت ام رومان نے ان سے کہا:کھڑے ہو کر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعظیم بجا لاؤ۔ سیدہ عائشہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیااور کہا:میں اﷲ کی حمد کرتی ہوں جس نے مجھے پاک دامن قرار دیا(بخاری ، رقم۴۱۴۱،۴۷۵۷)۔

حضرت ام رومان نیک اور صالحہ خاتون تھیں۔ان کی وفات ذی الحجہ۶ھ میں مدینہ میں ہوئی۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھایا ۔

جب حضرت ام رومان کی میت کو قبر میں اتاراجا رہا تھا ،آپ نے فرمایا:جو جنت کی موٹی آنکھوں والی حوروں میں سے کسی کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتاہے،ام رومان کو دیکھ لے۔ایک روایت کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے اوران الفاظ میں ان کے لیے استغفار فرمایا :''اے اﷲ، تم پر مخفی نہیں ہے کہ ام رومان نے تیری اور تیرے رسول کی راہ میں کیا کیا مصیبتیں جھیلیں ''(طبقات ابن سعد)۔

کچھ مورخین ۴ھ یا ۵ھ کوحضرت ام رومان کا سن وفات قرار دیتے ہیں، جبکہ حضرت ابونعیم اصفہانی کا کہنا ہے کہ ان کا انتقال عہد رسالت کے بعد ہوا۔ ابن حجر کا رجحان ہے کہحضرت ام رومان نے ۹ھ کے بعد نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں وفات پائی۔ان کی دلیل یہ ہے کہ آیات تخییر: 'یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَھَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً. وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا'، ''اے نبی،اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے،اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و آرایش حاصل کرنا چاہتی ہو تو آؤ ،میں تمھیں مال ومتاع دے کر بھلے طریقے سے رخصت کر دیتا ہوں۔ لیکن اگر تم اﷲ،اس کے رسول اور آخرت میں قائم رہنے والے گھر کا قصد رکھتی ہو تواﷲ نے تم نیک بیبیوں کے لیے اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے'' (الاحزاب ۳۳: ۲۸۔۲۹) ۹ھ میں نازل ہوئیں اور تب حضرت ام رومان حیات تھیں، کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تخییر کی ابتدا سیدہ عائشہ سے کرتے ہوئے فرمایا تھا: عائشہ، میں تم سے ایک سوال کرنے لگا ہوں۔تم اس کا جواب اپنے والدین ابوبکر اور ام رومان سے مشورہ کیے بغیر نہ دینا۔سیدہ عائشہ نے کہا: اس باب میں مجھے والدین سے مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔میں اﷲ کے رسول کا انتخاب کرتی ہوں(موسوعۂ مسنداحمد، رقم ۲۵۷۷۰)۔

ام رومان سے مروی احادیث بخاری اور مسند احمد میں موجود ہیں۔

مطالعۂ مزید: الطبقات الکبریٰ(ابن سعد)،تاریخ الامم والملوک(طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جو زی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (مزی)، تاریخ الاسلام (ذہبی)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، الاصابہ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، تہذیب التہذیب (ابن حجر)۔

________

* التوبہ۹: ۱۰۰۔

____________