حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ رضی ﷲ عنہا (۱)


ََام المومنین حضرت ام سلمہ ہجرت نبوی سے ۲۸سال قبل،۵۹۶ء میں مکہ میں پیدا ہوئیں۔ بنومخزوم سے تعلق رکھتی تھیں جو بنوہاشم اور بنوامیہ کے بعدقریش کی تیسری اہم شاخ تھی۔ ہند ان کا اصل نام تھا ۔ان کے والد کا نام حذیفہ (یا سہیل: ابن سعد)بن مغیرہ تھا،تاہم اپنی کنیت ابوامیہ سے مشہور تھے۔ حذیفہ بہت دریادل تھے ،جب سفر پرنکلتے تو ان کے ہم سفروں کو توشۂ سفر لے جانے کی ضرورت نہ ہوتی ،ان کی خوراک اور دیگر ضروریات سفر حذیفہ کے ذمہ ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسافر کا توشہ دان (زادالراکب) ان کا لقب پڑ گیا۔ ساتویں پشت مرہ بن کعب پر حضرت ام سلمہ کا سلسلۂ نسب نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شجرۂ مبارکہ سے جا ملتا ہے ۔ مرہ آپ کے بھی ساتویں جد تھے۔حضرت ام سلمہ کی والدہ عاتکہ بنت عامر بنوکنانہ کی شاخ بنوفراس سے تعلق رکھتی تھیں۔حضرت خالد بن ولید اور ابو جہل ام سلمہ کے چچا زاد تھے۔

حضرت ام سلمہ کی پہلی شادی بعثت نبوی کے بعدان کے چچا زاد ابو سلمہ عبداللّٰہ بن عبدالاسد سے ہوئی۔مغیرہ بن عبداللّٰہ دونوں کے دادا تھے۔ قبیلہ کے بانی مخزوم بن یقظہ ان کے پانچویں جد تھے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی برہ بن عبدالمطلب حضرت ابوسلمہ کی والدہ تھیں۔ پھوپھی زاد ہونے کے علاوہ وہ آپ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ابولہب کی باندی ثوبیہ نے پہلے حمزہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو، اس کے بعدحضرت ابوسلمہ کو دودھ پلایا۔ حضرت ابوسلمہ ،حضرت ابوعبیدہ بن جراح،حضرت عثمان بن عفان اورحضرت ارقم بن ابوارقم ایک ہی روز ایمان لائے۔ قبولیت اسلام میں حضرت ابوسلمہ کا گیارھواں نمبرتھا،لازماً حضرت ام سلمہ ان کے ساتھ ہی ایمان لائی ہوں گی۔

حضرت ابوسلمہ اور ام سلمہ حبشہ اور مدینہ کو ہجرت کرنے والے اولیں مسلمانوں میں سے تھے۔ان پر بنومخزوم کے تشدد کی تفصیل نہیں ملتی، لیکن لا محالہ اہل قبیلہ خصوصاً ابوجہل کی تعدی ہی ان کی ہجرت حبشہ کی وجہ بنی ہوگی۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے رجب ۵؍ نبوی میں بارہ مرداور چار عورتیں کچھ پیادہ، کچھ سوار شعیبہ کے ساحل سمندر پر پہنچے اور حبشہ جانے کے لیے نصف دینار کرایے پر کشتی حاصل کی ۔ان کے نام یہ ہیں: حضرت عثمان ،ان کی اہلیہحضرت رقیہ، حضرت ابوحذیفہ، ان کی بیوی حضرت سہلہ، حضرت زبیر، حضرت مصعب،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف،حضرت ابوسلمہ ،ان کی زوجہ حضرت ام سلمہ ،حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عامر بن ربیعہ،ان کی بیوی حضرت لیلیٰ، حضرت ابوسبرہ، حضرت حاطب بن عمرو، حضرت سُہیل بن بیضا اورحضرت عبداللّٰہ بن مسعود تھے۔کل سولہ خواتین نے حبشہ کو ہجرت کی۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں،جب ہم حبشہ کی سرزمین پر پہنچے تو شاہ نجاشی نے ہمیں بہت اچھی طرح رکھا۔ہم اپنے دین پر بڑے اطمینان سے عمل کرتے،اللّٰہ کی عبادت کرتے توکوئی ایذا پہنچاتا نہ کوئی نا پسندیدہ بات سننے کو ملتی (موسوعہ مسند احمد، رقم ۱۷۴۰، ۲۲۴۹۸)۔

جب مشرکین قریش کے ا یمان لانے اور مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم بند ہونے کی افواہ حبشہ پہنچی تو وہاں پر مقیم صحابہ نے مکہ واپسی کا قصد کیا، حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد،حضرت ام سلمہ اور عثمان بن مظعون ان میں شامل تھے۔ مکہ پہنچ کر اس خبر کا غلط ہونا ثابت ہو گیا تو اکثر اہل ایمان حبشہ واپس چلے گئے، تاہم تینتیس افراد نے مکہ میں اپنے لیے جاے پناہ ڈھونڈ لی۔ حضرت عثمان نے اپنے چچا ولید بن مغیرہ کی پناہ قبول کی، جبکہ حضرت ابوسلمہ اپنے ماموں ابوطالب کی حفاظت میں آ گئے۔ ان کے قبیلے بنومخزوم کے سرکردہ افراد ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: آپ نے اپنے بھتیجے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے بچائے رکھا ،کیا اب ہمارے قبیلے کے فرد اور ہمارے بھتیجے حضرت ابوسلمہ کو بھی ہم سے بچائیں گے؟انھوں نے جواب دیا ، وہ میرا بھانجا ہے، میری پناہ میں آنا چاہتا تھا۔میں اس کی حفاظت ایسے ہی کروں گا، جیسے بھتیجے کی کی۔ یہ واحد موقع تھا جب ابولہب کے منہ سے کلمۂ خیر نکلا ، اٹھا اور بولا : تم اکثر اس بزرگ کو اپنی قوم کو پناہ دینے پر پوچھتے رہتے ہو۔بخدا! باز آ جاؤ ، ورنہ ہم اس کا ساتھ دینے کھڑے ہو جائیں گے تاکہ یہ اپنے ارادوں کی تکمیل کر لے ۔ اس پر بنومخزوم کے افراد واپس چلے گئے۔

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حج کے زمانہ میں مکہ آنے والے عرب زائرین کو اسلام کی دعوت دیتے ۔ رجب ۱۰؍نبوی میں خزرج کے چھ افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔۱۱؍نبوی میں یثرب کے بارہ اور ۱۲؍نبوی میں بہتر لوگوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔نصرت اسلام کی ان بیعتوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا:اللّٰہ نے تمھارے بھائی بند بنا دیے ہیں اور ایسا شہر دے دیا ہے جہاں تم اطمینان سے رہ سکتے ہو۔ چنانچہ حضرت ابوسلمہ پہلے مہاجر تھے جو مدینہ پہنچے۔ حضرت ابوسلمہ کے بعدحضرت عامر بن ربیعہ، حضرت عبداللّٰہ بن جحش اور ان کے بھائی حضرت ابو احمد عبد دار الہجرت پہنچے۔پھر اکثر اہل ایمان نے ہجرت کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ حضرت ابوسلمہ ،حضرت عامر بن ربیعہ اور ابن جحش قبا میں حضرت مبشر بن عبدالمنذر کے ہاں مقیم ہوئے۔

حضرت ام سلمہ نے اپنی اورحضرت ابوسلمہ کی ہجرت مدینہ کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے، حضرت ابوسلمہ مدینہ ہجرت کرنے نکلے ،اونٹ پر کجا وہ کسا ،مجھے اس میں بٹھایا اور بیٹے سلمہ کو میری گود میں دے دیا۔ اونٹ کی مہار پکڑ کر چند قدم چلے تھے کہ میرے چچاؤں نے دیکھ لیا۔ انھیں روک کر کہا:اپنے اوپر تو تم نے ہماری مر ضی نہیں چلنے دی۔یہ ہماری بیٹی ہے ،ہم تمھیں کیسے اجازت دیں کہ اسے ملکوں ملکوں ساتھ لیے پھرو؟پھر اونٹ کی نکیل حضرت ابوسلمہ کے ہاتھ سے چھینی اور مجھے نیچے اتار لیا۔ اس موقع پر حضرت ابوسلمہ کے چچا بھڑک اٹھے۔ لپک کر سلمہ کو پکڑ لیا اور بولے،تم نیحضرت ام سلمہ کو ہمارے بیٹے سے جدا کر دیا ہے، اب ہم اپنی اولاد کو اس کے پاس نہ رہنے دیں گے۔ اس طرح ہمارا کنبہ تین حصوں میں منقسم ہو گیا، حضرت ابوسلمہ نے سفر جاری رکھا اور مدینہ پہنچ گئے ،مجھے میرے دادا مغیرہ کے کنبے نے روک لیا اور سلمہ کو اس کے چچیرے بنو عبدالاسد لے کر چلتے بنے۔واللّٰہ!اسلام قبول کر نے کے بعد آل ابوسلمہ جیسی مصیبت کسی پر نہ پڑی۔ اب اگلے ایک سال کے لیے میرا یہ معمول بن گیا ،ہرروز سویرے سویرے مکہ کے ریگ زارمیں اس مقام پر جا بیٹھتی جہاں شوہر سے مفارقت ہوئی تھی اور شام تلک روتی رہتی۔آخرکارمیرے ایک چچازاد کا وہاں سے گزر ہوا ، میراغم اور میرا گریہ دیکھ کر اسے ترس آگیا۔ اس نے اہل قبیلہ سے کہا: اس بے چاری کی راہ کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟تم نے اسے شوہر اور بیٹے سے جدا کر رکھا ہے۔اب کسی نے اعتراض نہ کیا ،سب نے اتفاق کیا کہ اگر یہ خاوند کے پاس جانا چاہتی ہے توجانے دیا جائے۔ تب سسرال والوں نے میرا بیٹالوٹا دیا۔ میں نے اونٹ پکڑا ، بیٹے کو گود میں بٹھایااورخاوند کے پاس جانے کے لیے تن تنہا مدینہ روانہ ہوئی۔میرا خیال تھا، پوچھتے پوچھتے اپنے میاں کے پاس جا پہنچوں گی ۔مکہ سے چار میل باہر نکلی تھی کہ تنعیم کے مقام پر عثمان بن طلحہ عبدری ملے۔وہ ابھی ایمان نہ لائے تھے،مجھے دیکھ کر پوچھا: بنت ابوامیہ، کہاں جا رہی ہو؟کہا: یثرب، اپنے خاوند کے پاس، پوچھا: تمھارے ساتھ کون ہے؟بتایا،واللّٰہ!اللّٰہ اور اس بیٹے کے علاوہ میرے ساتھ کوئی نہیں۔ عثمان بولے: واللّٰہ! تمھیں تو اپنی منزل کا بھی پتا نہیں۔پھر اونٹ کی مہار پکڑ لی اور مجھے لے کر چل پڑے۔ واللّٰہ! میں نے ان سے زیادہ شریف عرب نہیں دیکھا۔جب پڑاؤ کرنا ہوتا ،اونٹ بٹھا کر کسی درخت کی اوٹ میں ہو جاتے اور وہیں آرام کرتے اورجب چلنے کا وقت آتا،کجاوہ باندھ کر اونٹ کو آگے کرتے ۔خود پیچھے ہٹ کر مجھے سوار ہونے کو کہتے۔میں سنبھل کر بیٹھ جاتی تو اونٹ کی نکیل ہاتھ میں تھام کرسفر شروع کر دیتے۔اسی طرح وہ مجھے حفاظت سے منزل بہ منزل لے کر چلتے رہے اور مدینہ پہنچا دیا ۔قبا میں بنوعمرو بن عوف کی بستی پرنظر پڑی تو کہا: تمھارا میاں یہاں مقیم ہے۔مجھے پہنچا کر خود مکہ لوٹ گئے۔نیک فطرت عثمان نے صلح حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کیا۔

حضرت ام سلمہ کو مدینہ ہجرت کرنے والی پہلی عورت ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔کہا جاتا ہے کہ حضرت عامربن ربیعہ کی اہلیہ حضرت لیلیٰ بھی اول اول ہجرت کرنے والی خاتون تھیں۔مدینہ کی عورتیں یہ ماننے کے لیے تیا ر نہ تھیں کہ حضرت ام سلمہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں ۔جب کچھ لوگ حج کرنے مکہ گئے تو حضرت ام سلمہ کے کنبے سے تصدیق کی(موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۲۶۱۹)۔

۱ھ میں مسجد نبوی تعمیر ہوئی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود مٹی ڈھوئی۔عمار بن یاسر کے ساتھیوں نے ان پر زیادہ اینٹیں لادی تھیں۔وہ پکارے: یا رسول اللّٰہ،انھوں نے مجھے مار ڈالا، اتنا بوجھ مجھ پر لاد دیا ہے جو خود اٹھا نہیں سکتے۔حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں :میں نے دیکھاکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے گھنگھریالے بالوں کوجھاڑتے ہوئے فرمایا:بے چارے ابن سمیہ، یہ لوگ تجھے مارنہیں سکتے ،تجھے توایک باغی گروہ قتل کرے گا۔(مسلم، رقم۲۹۱۶)

۲ھ: جنگ بدر میں حضرت ام سلمہ کا بھائی مسعود بن ابو امیہ مشرکوں کی طرف سے لڑتا ہوا مارا گیا۔

۳ھ میں غزوۂ احد ہوا جس میں حضرت ام سلمہ کا دوسرا بھائی ہشام بن ابو امیہ کفار کی فوج میں شامل ہوا اور جہنم واصل ہوا۔ حضرت ام سلمہ کے چچا زاد حضرت شماس بن عثمان السابقون الاولون میں سے تھے۔ غزوۂ بدر کے غازی تھے، جنگ احد میں اپنے جسم کو ڈھال بناتے ہوئے چاروں اطراف سے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ شدید زخمی حالت میں انھیں مدینہ منتقل کیا گیا، سیدہ عائشہ نے ان کی تیمارداری کی تو حضرت ام سلمہ نے گلہ کیا کہ میرے چچیرے کی نگہداشت کوئی اور کرے؟ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں ام سلمہ کے پاس لے چلو۔ اگلے روز وہ و فات پا گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انھیں میدان احد میں شہدا کے پاس دفن کیا گیا۔

حضرت ام سلمہ نے ایک بارحضرت ابوسلمہ سے کہا:مجھے معلوم ہوا ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند جنت جانے کا اہل ہو اوروہ عورت اس کی وفات کے بعد کسی سے شادی نہ کرے تو اللّٰہلازماً انھیں جنت میں اکٹھا کر دے گا۔یہی معاملہ ہو گا ، اگر عورت کی وفات کے بعد رنڈوا بیاہ نہ کرے ۔چلو ہم دونوں عہد کرتے ہیں کہ میں تمھارے بعد شادی نہ کروں گی اور تم میرے بعد بیاہ نہ کرنا۔حضرت ابوسلمہ نے الٹ سوال کر دیا: کیا تم میرا کہا مانو گی؟کیوں نہیں؟جواب ملا۔ میں مر گیا تو تم شادی کر لینا۔یہ کہنے کے بعدحضرت ابوسلمہ نے دعا کی:''اے اللّٰہ!میرے بعد ام سلمہ کو مجھ سے بہتر مرد د ینا جو اسے رسوا کرے نہ ایذا پہنچائے۔''حضرت ام سلمہ کہتی ہیں: میں سوچتی ہی رہی ،ایسا مرد کون ہو سکتا ہے؟

حضرت ابو سلمہ شہ سوار تھے ۔بدر میں داد شجاعت دینے کے بعدجنگ احد میں حصہ لیا ۔اس غزوہ میں ان کے بازو میں ابواسامہ (سلمہ :ابن سعد)جشمی کے تیر کی نوک سے گہرا زخم لگا جوایک ماہ کے علاج کے بعدبظاہر مندمل ہوگیا، لیکن اندرونی خرابی برقرار رہی۔ محرم۴ھ کے آخر یا اگلے مہینے صفر کے شروع میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو پچپن صحابہ کے ایک دستے کی امارت سونپ کر قطن کی طرف بھیجا،جہاں طلیحہ اسدی نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے فوج جمع کر رکھی تھی۔اس سریہ، سرےۂ ابوسلمہ سے واپسی کے سترہ دن بعد حضرت ابو سلمہ کا زخم پھر پھوٹ پڑا اور جان لیوا ثابت ہوا۔

۸جمادی الثانی ۴ ھ:حضرت ابوسلمہ کاآخری وقت آیا تورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پردے کے دوسری طرف عورتیں رورہی تھیں۔ آپ نے فرمایا: میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔ جب حضرت ابوسلمہ کا دم نکل گیا تو آپ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔آپ نے عورتوں کو تلقین کی: (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگو، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔ آپ نے حضرت ابوسلمہ کے لیے یوں دعا فرمائی: اے ﷲ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتوں (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے ۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العالمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کردے (مسلم،رقم ۲۰۸۵، ۲۰۸۶۔ ابن ماجہ، رقم ۱۴۴۷)۔ ان کی بیوہ حضرت ام سلمہ نے آپ سے سوال کیا: یا رسول اللّٰہ،میں کیسے دعا کروں؟ فرمایا: کہو، ﷲ! ابوسلمہ کی مغفرت کر دے ، اور ہمیں ان کا بہتر بدل عنایت کر (ابو داؤد، رقم ۳۱۱۵، نسائی، رقم ۱۸۲۶، مسند احمد، رقم ۲۶۶۳۵)۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں:میں نے سوچا، ابوسلمہ پردیسی تھے،پردیس میں فوت ہوئے۔ میں ان کے لیے ایسا گریہ کروں گی جس کا چرچا ہو اور جس کی مثال دی جایا کرے۔میرا ساتھ دینے کے لیے مدینہ کی وادئ صعید سے ایک عورت آئی۔مجھ سے پہلے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اس سے ملے اور فرمایا:کیا تو چاہتی ہے کہ شیطان کو اس گھر میں دوبارہ داخل کر دے جہاں سے اللّٰہ اسے نکال چکا ہے۔ آپ نے یہ ارشاد دو باردہرایا۔چنانچہ میں نے بین کرنے کا ارادہ ترک کر دیا (مسلم،رقم۲۰۸۹،مسند احمد،رقم ۲۶۴۷۲)۔ مسلم کے ایک شارح نے 'صعید'سے بالائی مدینہ، یعنی قبا مرادلیا ہے جو درست نہیں۔بالائی مصر کے لیے تو یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ،عوالئ مدینہ کے لیے نہیں۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں:ابوسلمہ کی وفات کے بعد(ایام عدت میں) رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے۔میں نے آنکھوں پر ایلوا (مصبّر،aloe )لگا رکھا تھا۔فرمایا: یہ کیا ؟میں نے کہا: ایلوا ہے ،اس میں خوشبو نہیں ہوتی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یہ چہرے کو جوان دکھاتا ہے،رات کے وقت لگاؤ اور دن کو صاف کر دو۔ مزید فرمایا: (عدت کے دوران میں)خوشبو اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو،بیری کے پانی ہی سے اپنا سر ڈھانپ لیا کرو (ابوداؤد، رقم ۲۳۰۵، نسائی، رقم۳۵۶۷)۔

[باقی]

____________