حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ رضی ﷲ عنہا (۳)


۱۰ھ: حجۃ الوداع کے موقع پررسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو پیغام بھیجا،۹ ذی الحجہ (یوم نحر) کی رات فجر سے پہلے رمئ جمار کر لینا۔ چنانچہ وہ شیطانوں کو کنکر مار کر منیٰ واپس چلی گئیں۔ازواج مطہرات میں سے اس دن ان کی باری تھی (ابو داؤد، رقم ۱۹۴۲۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۴۹۲)۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں:حج کے دوران میں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کی شکایت کی۔آپ نے ارشاد فرمایا : سواری پر بیٹھ کر لوگوں سے پرے رہ کر طواف کر لو۔میں طواف کرر ہی تھی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بیت اﷲ کے پہلو میں نماز پڑھتے ہوئے سورۂ طور تلاوت فرما رہے تھے (بخاری، رقم ۱۶۱۹۔ مسلم، رقم ۳۰۵۴۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۴۸۵)۔ یوم نحر کی اگلی شب حضرت ام سلمہ کے نواسے وہب بن زمعہ اوران کا ایک عزیز احرام کھول کر قمیصیں پہنے ہوئے ام سلمہ سے ملنے آئے۔ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا:کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا ہے؟ کہا : نہیں۔فرمایا: قمیصیں اتارو۔رمئ جمار کرنے کے بعد اگر تم نے شام سے پہلے طواف زیارت نہ کیا تو تمھارا احرام برقرار رہے گا (ابو داؤد، رقم ۱۹۹۹۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۳۰)۔

سفینہ حضرت ام سلمہ کا غلام تھا۔انھوں نے اسے اس شرط پر آزاد کیاکہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہے گا ۔سفینہ نے کہا:آپ شرط نہ لگاتیں تو بھی میں مرتے دم تک آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑتا (ابوداؤد، رقم ۳۹۳۲۔ ابن ماجہ، رقم ۲۵۲۶۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۷۱۱)۔

آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ام المومنین حضرت ام سلمہ ،ام المومنین حضرت میمونہ اور ام المومنین حضرت عائشہ نے آپ کی تیمارداری کی۔آپ ہوش میں نہ تھے جب آپ کے چچا حضرت عباس نے نمونیا (ذات الجنب) کی دوا پلائی جو حبشہ سے لائی گئی تھی۔ہوش میں آنے پر آپ نے اسے نا پسند کیااور سزا کے طور پریہ دوا حضرت عباس کے علاوہ سب کو پلوا دی۔ اگرچہ ''السیرۃ النبوےۃ'' میں اس کی صراحت نہیں ،لیکن سلسلۂ کلام سے لگتا ہے کہ اس دوا کوحضرت ام سلمہ حبشہ سے لائی تھیں (موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۴۸۷۰)۔ آپ سیدہ میمونہ کے گھرمیں تھے جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی۔تب تمام ازواج مطہرات کو بلا کر آپ نے اجازت لی کہ ایام علالت سیدہ عائشہ کے حجرے میں گزا ریں گے(بخاری،رقم۳۰۹۹)۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے دن میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سینے پر رکھا۔کئی جمعے گزر گئے ،میں کھاتی پیتی اور وضو کے لیے ہاتھ دھوتی ہوں، لیکن مشک کی خوشبو میرے ہاتھ سے نہیں گئی(دلائل النبوۃ، بیہقی، رقم۷/ ۲۱۹)۔

۳۶ھ:معاویہ و علی کشمکش میں ام المومنین حضرت ام سلمہ نے سیدنا علی کا ساتھ دیا۔ انھوں نے کہا: اگر اﷲ کی نافرمانی کا مسئلہ نہ ہوتاتو میں آپ کے ساتھ چلتی۔ پھر اپنا بیٹا عمر ان کے حوالے کیا اور کہا: امیر المومنین، یہ مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے، لیکن تمام جنگوں میں آپ کے ساتھ رہے گا۔عمر بن ابوسلمہ نے آخری دم تک سیدنا علی کا ساتھ دیا ،سیدناعلی نے انھیں کچھ وقت کے لیے بحرین کا عامل بھی مقرر کیا۔

جنگ صفین ختم ہونے کے بعدحضرت ام سلمہ نے حضرت ابوایوب انصاری کو سیدنا علی کے پاس بھیجا ۔راویوں کو شک ہے کہ وہ اس وقت گئے کہ نہیں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ اس وقت گئے جب سیدناعلی جنگ نہروان میں مشغول تھے۔

۴۰ھ میں حضرت معاویہ نے بسربن ابوارطاۃ کو فوج دے کر مدینہ روانہ کیا۔ سیدناعلی کے مقرر کردہ گورنر حضرت ابوایوب انصاری مدینہ چھوڑ کر بصرہ چلے گئے تو بسر کوشہر پر قبضہ کرنے کے لیے قتال کی حاجت نہ رہی۔سب سے بیعت لینے کے بعد اس نے بنوسلمہ کو پیغام بھیجا کہ جابر بن عبداﷲ کو پیش کیے بغیر تمھیں امان نہ ملے گی۔ جابرام المومنین حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا: مجھے اپنی جان جانے کا اندیشہ ہے تو کیا میں یہ بیعت ضلالت کر لوں؟انھوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا: میں نے اپنے بیٹے عمر بن ابوسلمہ اور دامادعبداﷲ بن زمعہ کو بھی بیعت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ بنت ابو امیہ نے سب سے آخر میں نوے(یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال(یا رمضان) ۵۹ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ وہ ۶۱ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا حسین کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ ) کے پاس تھی۔ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہو گئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔ فرماتی تھیں :میں نے جِنّ (jinnee) عورتوں کو حسین کا مرثیہ کہتے سناہے۔ ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔حضرت ام سلمہ کے بیٹیحضرت سلمہ ،حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ قبر میں اترے ۔ حضرت ام سلمہ ایک بار بیمار ہوئیں تو وصیت کی کہ سعید بن زید ان کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ ابن حجر کہتے ہیں:ایسا ہو نہ سکا، کیونکہ حضرت ام سلمہ تو صحت یاب ہو گئیں، لیکن سعید ان سے پہلے وفات پا گئے۔ذہبی کا کہنا ہے کہ حضرت ابوہریرہ بھی حضرت ام سلمہ کی زندگی ہی میں وفات پا چکے تھے۔ابن کثیر کہتے ہیں:یہی بات درست ہے۔

حضرت ام سلمہ ذی عقل خاتون تھیں، لکھنا پڑھنا جانتی تھیں، شعر بھی کہتی تھیں۔ ان کا شمار فقیہہ صحابیات میں ہوتا ہے۔ مکتب نبوی میں ان کی علمی صلاحیتیں خوب پروان چڑھیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم سے مسلسل استفسارات کرتے رہنے کی وجہ سے علم الانساب ،علم تفسیر،علم فقہ، حتیٰ کہ علم معاشرت میں انھوں نے بلند مقام پا لیا تھا۔ طبرانی کی روایت ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:یا رسول اﷲ! مجھے 'وَحُوْرٌ عِیْنٌ کَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُوْنِ' ۳؂ کا مطلب سمجھائیے۔ حضرت ام سلمہ نے کئی ارشادات نبوی کی تشریح کی اور فقہی مسائل میں فتوے دیے۔حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن اورحضرت عبداﷲ بن عباس کے درمیان اس عورت کی عدت کے بارے میں بحث ہوئی جس نے خاوند کی وفات کے چند روز بعد بچے کو جنم دیا۔ ابن عباس کہتے تھے کہ زیادہ مدت کو عدت سمجھا جائے گا، جبکہ ابوسلمہ کہتے تھے کہ بچے کی پیدایش کے بعد عدت پوری ہو گئی،حضرت ابوہریرہ نے ان کی تائید کی۔ تینوں نے حضرت ام سلمہ سے فیصلہ کرنے کو کہا تو انھوں نے جواب بھیجا،سبیعہ اسلمیہ کا یہی معاملہ تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بچہ پیدا ہونے کے فوراً بعد ان کو نکاح کی اجازت دے دی تھی (مسلم،رقم ۳۷۱۶۔ ترمذی،رقم ۱۱۹۳۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۷۴۱)۔

ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملنے آئے ۔حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا(بخاری،رقم۳۶۳۴۔مسلم،رقم۶۳۹۷)۔

حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو بتایا کہ ایک شب میں نے مسیح دجال کا ذکر کیاتو رات بھر نیند نہ آئی۔ آپ نے فرمایا: جب تک میں موجود ہوں ،اﷲ میرے ذریعے سے تمھیں دجال سے محفوظ رکھے گا۔میرے بعد اﷲ نیکوکاروں کے ہاتھوں اہل ایمان کا دفاع کرے گا۔

ایک بارحضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ نے آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی موجودگی میں ماریہ نامی کنیسا کا ذکر کیا جو انھوں نے حبشہ میں دیکھ رکھا تھا۔انھوں نے اس کی خوب صورتی کا نقشہ کھینچا اوراس میں نصب تصویروں کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایاکہ جب ان کا کوئی نیک آدمی فوت ہوتا ہے تو اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے ہیں اور اس طرح کی تصویریں لگا دیتے ہیں۔یہ روزقیامت اﷲ کے ہاں بدترین مخلوق شمار ہوں گے (بخاری، رقم۴۳۴۔ مسلم، رقم۱۱۱۸)۔

حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کے پاس رہتے تھے،بیان کرتے ہیں: جب اﷲ کایہ فرمان: 'اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا'، ۴؂ (اے اہل بیت، اﷲ چاہتا ہے کہ تم سے آلودگی کو دور کر دے اور تمھیں اچھی طرح پاک کر دے)۔ حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہواتو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ،حضرت علی،حضرت حسن اورحضرت حسین کو بلاکران پر چادر اوڑھائی ۔حضرت علی پیچھے کھڑے تھے ، ان پر بھی چادر ڈالی۔پھر فرمایا:اے اﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔اے اﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔حضرت ام سلمہ نے کہا:اﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ جواب فرمایا:تو اپنی جگہ ہے اور مجھے بھلی لگتی ہے (ترمذی،رقم ۳۷۸۷۔ مسلم، رقم ۶۲۶۱۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۰۸)۔ مسند احمد کی روایت ۲۶۵۵۰ میں ہے کہ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا، جبکہ روایت ۲۶۷۴۶ کے مطابق ان کے اوپرسے چادر کھینچ لی۔

اس روایت کے باوصف کہا جا سکتا ہے کہ اہل بیت سے اصلاً ازواج مطہرات ہی مراد ہیں، کیونکہ سورۂ احزاب کی ان آیات(۳۲تا ۳۴) میں روے سخن محض انھی کی طرف ہے ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس کا یہ فرمان اس راے کی تائیدکرتا ہے، یہ آیات امہات المومنین کے بارے میں نازل ہوئیں۔ارشادربانی ہے:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا.

''اے نبی کی بیویو،تم عام عورتوں کی مانند نہیں اگر تقویٰ پر گام زن رہو۔ لہٰذا نرم لہجے میں بات نہ کرنا مبادا کہ جس کے دل میں ہوس ہو طمع کرنے لگے، تاہم صاف سیدھی گفتگوکیا کرو۔ اپنے گھروں سے چپکی رہنا، گزری ہوئی جاہلیت کے بناؤ سنگھار نہ کرنا۔نماز پر قائم رہنا،زکوٰۃ دیتی رہنااور اﷲ و رسول کی اطاعت کو اپنا شعار بنائے رکھنا۔ اے اہل بیت، اﷲ چاہتا ہے کہ تم سے آلودگی کو دور کر دے اور تمھیں اچھی طرح پاک کر دے۔ تمھارے گھروں میں اﷲ کی جو آیات اور حکمت کی باتیں تلاوت کی جاتی ہیں، انھیں ذہن نشین کر لو۔ اﷲ باریک بین اور خوب خبر رکھنے والا ہے۔''

قرآن مجید کا یہ واحد مقام ہے جس میں اہل بیت نبی کا تذکرہ ہوا۔کوئی بھی انصاف پسند آسانی سے فیصلہ کرسکتا ہے کہ اہل بیت اطہار کون ہیں؟

اہل ایمان عام طور پر اپنے تحائف رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کی خدمت میں اس روز پیش کرتے جب آپ سیدہ عائشہ کے ہاں ہوتے۔باقی ازواج حضرت ام سلمہ کے پاس جمع ہوئیں اور آپ کی خدمت میں درخواست کرنے کو کہا کہ لوگوں کو ہدایت کریں، آپ جہاں بھی ہوں ،ہدیے دے دیا کریں۔حضرت ام سلمہ نے یہ بات عرض کی تو آپ نے جواب نہ دیا۔دوسری بار کہا تو بھی آپ خاموش رہے ۔تیسری دفعہ یہی بات کہی توفرمایا:مجھے عائشہ کے باب میں ایذا نہ پہنچاؤ، واﷲ! اس کے علاوہ کسی زوجہ کے بستر میں ہوتے ہوئے مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔حضرت ام سلمہ نے اسی وقت توبہ و استغفار کی۔ازواج مطہرات نے سیدہ فاطمہ کو اسی عرض داشت کے ساتھ بھیجا تو نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:میں جو عمل پسند کرتا ہوں، تم بھی اسی کو اختیار کرو۔ تیسری بار انھوں نے زینب بنت جحش کوبھیجا۔وہ سخت لہجے میں بولیں تو سیدہ عائشہ نے ان کو برا بھلا کہا (بخاری، رقم ۲۵۸۱۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۱۲)۔

حضرت عمر کا اپنی اہلیہ سے جھگڑا ہواتو ان کی سخت کلامی پر کہا:اپنے مقام پر رہو۔اہلیہ نے کہا:آپ مجھے منع کرتے ہیں، حالاں کہ آپ کی بیٹی حفصہ اﷲ کے رسول کو ایذا پہنچاتی ہے۔حضرت عمر فوراًحضرت حفصہ کے پاس گئے اور انھیں اﷲ و رسول کی نافرمانی سے خبردار کیا۔وہ یہی بات کہنے حضرت حفصہ کا ساتھ دینے والی حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: عمر، تعجب ہے کہ آپ ہمارے ہر کام میں دخل دیتے رہے ہیں اور اب آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان کی بیویوں کے معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے؟تب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی کچھ ازواج کے پاس ایک ماہ نہ جانے کی قسم کھا رکھی تھی۔سیدنا عمرآپ کے پاس بھی گئے اورحضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ سے ہونے والی بات سے آگاہ کیا۔آپ مسکرا دیے۔انتیس دن (شرعی ماہ)کے بعد آپ نے ازواج مطہرات سے رجوع فرما لیا (بخاری، رقم ۵۸۴۳۔ مسلم، رقم ۳۶۸۵۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۶۸۳)۔

حضرت ام سلمہ نے رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کے چند بال سنبھال رکھے تھے۔ ابن موہب (عثمان بن عبد اﷲ بن موہب) کہتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت ام سلمہ کے ہاں گیا تو انھوں نے مجھے وہ بال دکھائے۔ مہندی اور کتم (سیاہ رنگ دینے والا پودا) لگنے سے ان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا (بخاری، رقم ۵۷۹۸۔ ابن ماجہ، رقم ۳۶۲۳۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۳۵)۔

ام المومنین حضرت ام حبیبہ نے رسول اﷲ صلی علیہ وسلم سے پوچھا:کیا آپ درہ بنت ابوسلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟پوچھا:اس کی والدہ ام سلمہ کے ہوتے ہوئے؟اگر میں نے ام سلمہ سے بیاہ نہ کیا ہوتا تب بھی درہ میرے لیے حرام ہوتی ،کیونکہ اس کے والد ابوسلمہ میرے رضاعی بھائی تھے (بخاری، رقم ۵۱۲۳۔ ابوداؤد، رقم ۲۰۵۶۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۶۳۲)۔ دوسری روایت میں یہی سوال آپ کے چچا حمزہ کی بیٹی کے بارے میں کیا گیا۔حمزہ آپ کے چچا ہونے کے ساتھ رضاعی بھائی بھی تھے (مسلم، رقم ۳۵۷۵)۔

حضرت ابو عمران حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور پوچھا: ام المومنین، میں نے پہلے حج نہیں کیا،عمرہ پہلے کروں یا حج؟ انھوں نے جواب دیا،جو چاہے ،پہلے کر لو۔پھر وہ ام المومنین حضرت صفیہ کے پاس گئے اور یہی سوال کیا۔ انھوں نے بھی وہی جواب دیا۔ ابو عمران دوبارہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور مکرر استفسار کیا۔ انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ارشادفرماتے سنا ہے:''اے آل محمد،تم میں سے جو حج کرے ،حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ کہہ لے'' یعنی حج تمتع کرے (موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۴۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۹۲۰، ۳۹۲۲)۔ اس فرمان میں حج قران و تمتع، دونوں شامل ہو سکتے ہیں، تلبیہ کہتے ہوئے عمرے کا نام لیا تو حج تمتع اور اگر عمرہ و حج، دونوں کے لیے لبیک کہا تو حج قران ہو گا۔ متمتع طواف و سعی کرنے کے بعد احرام اتار دیتا ہے، جبکہ قارن کے لیے طواف افاضہ سے پہلے احرام کھولنا منع ہے۔

ایک بار حضرت ام سلمہ نے آپ سے دریافت کیا:کیا میں اپنا مال ابوسلمہ کے بچوں پر خرچ کروں تو مجھے اس کا اجر ملے گا؟میں انھیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی، کیونکہ وہ میرے بچے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں ! تمھیں اس کا اجر ملے گا (بخاری، رقم ۵۳۶۹۔ مسلم، رقم ۲۲۸۳۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۰۹)۔ ام الحسین کہتی ہیں: کچھ گداگر عورتیں اور مرد میرے پاس آئے،جم کر بیٹھ گئے اور پیچھے پڑ کر مانگنے لگے۔میں نے انھیں نکل جانے کو کہا۔ام المومنین ام سلمہ میرے پاس تھیں، فرمایا:او لڑکی، ہمیں ایسا کرنے کا حکم نہیں۔پھر ہر فقیر کو الگ الگ کچھ نہ کچھ دیا، حتیٰ کہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی کھجوریں بھی تھما دیں۔

حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے پچھنا لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو کہا جوابھی بچہ تھا اور ام سلمہ کا رضاعی بھائی تھا (ابو داؤد، رقم ۴۱۰۵۔ ابن ماجہ، رقم ۳۴۸۰)۔

حضرت ام سلمہ بتاتی ہیں کہ ایک بار رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم میرے ہاں آئے تو ایک مخنث موجود تھا ۔آپ ناراض ہوئے اور فرمایا:یہ ہرگز تمھارے پاس نہ آئیں۔ (بخاری، رقم ۴۳۲۴۔ مسلم، رقم ۵۷۴۱۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۴۹۰)۔

ایک دفعہ نبی صلی اﷲعلیہ وسلم تشریف لائے توحضرت ام سلمہ نے اوڑھنی اوڑھ رکھی تھی۔ آپ نے فرمایا: ایک بار لپیٹو، مردوں کے عمامے کی طرح دو دو بل نہ دو (ابو داؤد، رقم ۴۱۱۵۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۲۲)۔

شاہ قطر (مطر:مسند احمد) آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے آیا تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے کہا: دروازے کا دھیان رکھو تاکہ کوئی اندر نہ آئے۔ اسی اثنا میں سیدنا حسین چھلانگ مار کر آئے اور حضرت ام سلمہ کے منع کرنے کے باوجود چھلانگ مار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر چڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین کو چومنے لگے تو بادشاہ نے پوچھا: آپ اس بچے سے بہت محبت کرتے ہیں؟ فرمایا: ہاں (موسوعہ مسند احمد، رقم ۱۳۵۳۹۔ صحیح ابن حبان، رقم ۶۷۴۲)۔

ایک بار آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک سوالی آیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسے ایک کھجور دی تو اس نے برا منہ بنا لیا اور چلا گیا۔ بعد ازاں دوسرا سائل آیا، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسے بھی کھجور دینے کو کہا: اس نے خوش ہو کر لی اور کہا: سبحان اﷲ، اﷲ کے رسول نے کھجور عطا کی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے باندی سے کہا: ام سلمہ کے پاس جاؤ اور کہو، جو چالیس درہم آپ کے پاس پڑے ہیں، اسے دے دیں (موسوعہ مسند احمد، رقم ۱۲۵۷۴۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم ۹۱۳۴)۔

بنومخزوم کی فاطمہ نامی عورت نے چوری کی ۔ام المومنین حضرت ام سلمہ بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔اس لیے ان سے سفارش کرائی گئی۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر محمدکی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹا جاتا (نسائی، رقم ۴۸۹۵) ۔

حضرت ابو حذیفہ کی بیوی سہلہ بنت سہیل نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا: (ہمارا آزاد کردہ)سالم عاقل و بالغ ہو گیا ہے ۔وہ میرے پاس آتا جاتا ہے، میرا خیال ہے کہ ابوحذیفہ اسے برا سمجھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دودھ پلادو تو وہ تمھارے لیے محرم بن جائے گا(مسلم،رقم۳۵۹۱)۔ حضرت سہلہ نے کہا: وہ تو (ڈاڑھی مونچھ والا) بڑا آدمی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ بڑا شخص ہے (مسلم عن عائشۃ، رقم ۳۵۹۰)۔ دودھ پلائی کے بعد حضرت سہلہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور بتایا: میں اب ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگوار تاثرات نہیں دیکھتی (نسائی، رقم ۳۳۲۲)۔ سیدہ عائشہ نے اپنی بھتیجیوں، بھانجیوں حتیٰ کہ حضرت ام سلمہ کوبھی گھرمیں آنے جانے والے ملازموں کے باب میں اسی طریقے پرعمل کرنے کا مشورہ دیا (موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۵۴۱۵)۔ تاہم سیدہ ام سلمہ اور باقی ازواج النبی نے پسند نہ کیا کہ گود میں بٹھائے بغیر اس طرح کی دودھ پلائی کے ذریعے وہ کسی شخص کو اپنے گھر میں داخل کر لیں۔ وہ عائشہ سے کہتی تھیں: ہمیں نہیں معلوم، شاید یہ ایک رخصت ہو جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے محض سالم کے لیے جائز قرار دی ہو (مسلم، رقم ۳۵۹۵۔ ابوداؤد، رقم ۲۰۶۱۔ نسائی، رقم ۳۳۲۷)۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں: بچے کی عمر دو سال سے زیادہ ہو جائے تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی (ترمذی، رقم۱۱۵۲) ۔

حضرت ام سلمہ کی مرویات کی تعداد ۳۷۸ ہے ۔ان میں تیرہ متفق علیہ اور مفردات بخاری تین ہیں۔ انھوں نے زیادہ تر براہ راست نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے ،اپنے میاں ابوسلمہ اور فاطمۃ الزہراء بنت رسول اﷲ سے حدیث روایت کی ۔ان سے روایت کرنے والوں میں شامل ہیں:ان کے بیٹے حضرت عمربن ابو سلمہ ،بیٹی حضرت زینب بن ابوسلمہ ، بھائی حضرت عامربن ابوامیہ، بھتیجے حضرت مصعب بن عبداﷲ، حضرت مکاتب نبہان،آزادکردہ غلام حضرت عبداﷲ بن رافع ،حضرت نافع ،حضرت سفینہ ،حضرت ابو کثیر،حضرت حسن کی والدہ حضرت خیرہ، صحابہ میں سے ام المومنین حضرت عائشہ،حضرت عبداﷲبن عباس،حضرت ابوسعید خدری،حضرت صفیہ بنت شیبہ،حضرت ہند بنت حارث، حضرت قبیصہ بن ذؤیب،حضرت عبدالرحمن بن حارث، حضرت عبد اﷲ بن زمعہ، حضرت اسامہ بن زید، تابعین میں سے حضرت ابوعثمان نہدی، حضرت ابووائل،حضرت سعید بن مسیب،حضرت شقیق بن سلمہ ،حضرت اسود بن یزید، حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت حمید بن عبد الرحمن، حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن، حضرت عروہ بن زبیر،حضرت شعبی، حضرت ابو صالح سمان، حضرت مجاہد، حضرت نافع بن جبیر، حضرت عطا بن ابورباح، حضرت شہر بن حوشب، حضرت ابن ابی ملیکہ، حضرت حبیب بن ابو ثابت، حضرت عبد اﷲ بن بریدہ، حضرت عبداﷲ بن وہب، حضرت عبدالرحمن بن شیبہ، حضرت عبیداﷲ بن عبد اﷲبن عتبہ، حضرت عطاء بن یسار، حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت حکیمہ بنت امیہ، حضرت صفیہ بنت ابو عبید، حضرت کریب مولیٰ ابن عباس اور حضرت سلیمان بن یسار۔

اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں گورنر مدینہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ازواج مطہرات کے نو حجروں کو مسجد نبوی میں شامل کیا۔ حضرت ام سلمہ کے کمرے کے علاوہ سب گھر کھجور کی ٹہنیوں اور گارے سے تعمیر ہوئے تھے۔ حضرت ام سلمہ کا گھر کچی اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔ ان کے پوتے نے بتایا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جب غزوۂ دومۃ الجندل پر تشریف لے گئے تو حضرت ام سلمہ نے اینٹوں کی تعمیر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ حضرت ام سلمہ نے کہا: یا رسول اﷲ، میں لوگوں کی نگاہیں متحیر کرنا چاہتی تھی۔ فرمایا: ام سلمہ! مال مسلم کا بدترین استعمال عمارتیں بنانا ہے۔

حضرت حسن بصری کی ولادت عہد فاروقی میں ہوئی۔ ان کے والد جنگ بیسان میں قید ہو کر مدینہ آئے تھے، ان کی والدہ ام المومنین حضرت ام سلمہ کی خادمہ مقرر ہوئیں۔ وہ کام کاج میں مشغول ہوتیں تو حضرت ام سلمہ ننھے حسن کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی سے لگا لیتیں۔ دودھ وہ اپنی ماں ہی کا پیتے تھے۔

اہل تشیع امہات المومنین میں سیدہ خدیجہ کے بعد سیدہ ام سلمہ کو دوسرا درجہ دیتے ہیں۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویہ(ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ(ابن سعد)،تاریخ الامم والملوک(طبری)، الجامع المسند الصحیح (بخاری،شرکۃ دارالارقم)، المسند الصحیح المختصر من السنن(مسلم،شرکۃ دار الارقم)،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)،دلائل النبوۃ (بیہقی)، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، البدایہ و النہایہ(ابن کثیر)، سیر اعلام النبلا (ذہبی)، الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ( مقالہ:ام سلمہ ،سید نذیر نیازی)۔

________

۳؂ الواقعہ ۵۶: ۲۲۔ ۲۳۔

۴؂ الاحزاب ۳۳: ۳۳۔

____________