حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ رضی ﷲ عنہا (۲)


حضرت ابو سلمہ سے شادی کرنے کے بعد حضرت ام سلمہ کے ہاں دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی ولادت ہوئی۔ بڑے بیٹے سلمہ حبشہ میں،چھوٹے بیٹے عمر اوردونوں بیٹیاں درہ (رقیہ:ابن ہشام) اور زینب مدینہ ہجرت کرنے کے بعد پیدا ہوئیں۔ ایک روایت کے مطابق عمرکا جنم بھی حبشہ میں ہوا ۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے عقد کے وقت زینب حضرت ام سلمہ کی گود میں دودھ پیتی تھیں اور آپ انھیں دودھ پلاتے دیکھ کر لوٹ جاتے تھے۔یہ صورت حال دیکھ کرام سلمہ کے ماں جایے حضرت عمار بن یاسر نے زینب کی دودھ پلائی کا انتظام کیا(مسند احمد، رقم ۲۶۶۶۹)۔ اس روایت کے برعکس جو خودحضرت ام سلمہ سے مروی ہے،ابن ہشام کا کہناہے کہ زینب حبشہ میں متولد ہوئیں،ابن سعد نے صراحت کی ہے کہ زینب حبشہ میں پیدا ہوئیں، جبکہ سلمہ ،عمر اور درہ کی پیدایش بعد میں ہوئی۔ان دونوں اصحاب سیر نے مسند احمد کی مذکورہ روایت کے ہم معنی، اپنی راے سے متضاد روایات بھی نقل کی ہیں۔

حضرت ابو سلمہ نے اپنے آخری وقت یہ دعا مانگی :اے اﷲ! میرے اہل خانہ میں مجھ سے بہتر قائم مقام لے آ۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ حضرت ام سلمہ نے آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تلقین کے مطابق یہ دعا کی: 'إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون' (ہم اﷲ کے ہیں اور اسی کے پاس لوٹنے والے ہیں)۔ میں اﷲ ہی سے اپنا صدمہ برداشت کرنے کا اجر چاہتی ہوں۔مجھے اس کا ثواب (بدل) عطا کر ۔خود کہتی ہیں: پھر میرے دل میں آیا ، میرے لیے ابوسلمہ سے بہتر کون ہو گا؟ہر گز نہیں ،کوئی نہیں ہو سکتا (ابوداؤد، رقم۳۱۱۹۔ ترمذی ،رقم۳۵۱۱۔ مسند احمد، رقم ۲۶۶۶۹)۔ جب ان کی عدت ختم ہوئی تو حضرت ابوبکر نے پیغام عقد بھیجا،انھوں نے انکار کر دیا، حضرت عمر نے شادی کی درخواست کی تو وہ نہ مانیں۔ آخرکار رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابوبلتعہ(یا حضرت عمر بن خطاب) کے ہاتھ نکاح کا پیغام بھیجاتو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ انھوں نے کہا: مرحبا یا رسول اﷲ، مسند احمد کی روایت کے مطابق، جو خود حضرت ام سلمہ سے مروی ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بنفس نفیس تشریف لے گئے۔ حضرت ام سلمہ اس وقت کھال صاف کر رہی تھیں، انھوں نے ہاتھ دھو کر قرظ کے پتے صاف کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواندر بلا کر چمڑے کے گدے پر تشریف رکھنے کو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کی تجویز دی تو انھوں نے تین عذر پیش کیے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کثیر الازواج ہیں اور میں سوتنوں کو برداشت نہیں کر سکتی،میں عمر رسیدہ اور بال بچوں والی ہوں اوراس وقت میرے پاس میرا کوئی ولی موجود نہیں۔ آپ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا:میں اﷲ سے دعا کرتا ہوں، وہ تمھاری رقابت یا غیرت کو ختم کر دے گا۔میں عمر میں تم سے بھی بڑا ہوں ، تمھارے بچے میرے بچے ہوں گے ،وہ اﷲ و رسول کی کفالت میں ہوں گے۔تمھارے اولیامیں سے جو موجود ہیں اور جو اس وقت موجود نہیں، سب مجھ سے عقد پر راضی ہو ں گے۔ تب حضرت ام سلمہ نے ہاں کر دی اور اپنے بیٹے سلمہ کو والئ نکاح بنادیا(مسلم، رقم ۲۰۸۲۔ نسائی، رقم۳۲۵۶۔ مسند احمد، رقم۱۶۳۴۴)۔ عمر بن ابوسلمہ اس وقت نا بالغ تھے۔

حضرت ام سلمہ کا آپ سے نکاح شوال ۴ ھ کے آخری دنوں میں ہوا، اسی لیے وہ کہا کرتی تھیں: شوال کے مہینے میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا: میں تمھاری فلاں بہن (یعنی ایک ام المومنین جن کا نام بیان نہیں ہوا) کو دیے گئے مہر سے کم نہ دوں گا۔ چنانچہ ان کو دو چکیاں، دو گھڑے اور ایک کھجور کی چھال بھر اچمڑے کا تکیہ (دوسری روایت: کھجور کی چھال بھرا چمڑے کا ایک گدا، ایک پیالہ، ایک رکابی (یا پرات) اورہاتھ سے چلانے والی ایک چھوٹی چکی) مہر کے طو ر پر دیے (موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۶۶۹)۔ نکاح کے بعد آپ نے حضرت ام سلمہ کو ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ کے حجرے میں ٹھہرایا جو آپ کے عقد میں آٹھ ماہ رہنے کے بعد وفات پا گئی تھیں۔ آپ نے فرمایا:میں نے شاہ نجاشی کو مشک اورایک خلعت تحفے کے طور پر بھیجی تھی ۔نجاشی کا انتقال ہو چکا ہے ،اس لیے ممکن ہے کہ وہ تحائف واپس آ جائیں۔اگر ایسا ہوا تو میں تمھارے حوالے کردوں گا۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ یہی ہوا ۔تحائف ملے تو آپ نے ہر زوجہ کو ایک ایک اوقیہ(اونس)مشک دی اور بقیہ مشک اور شاہی جوڑا مجھے عطا کر دیا (موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۷۲۷۶)۔

چھوٹی بچی زینب بنت ابوسلمہ کی دودھ پلائی کے لیے اس کے ماموں عمارنے قبا میں دائی مقرر کر دی تو آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ کے ہاں تشریف لائے۔حضرت ام سلمہ نے چکی کے نیچے غلہ جمع کرنے والا کپڑا بچھایا، زینب بنت خزیمہ کے چھوڑے ہوئے گھڑے میں سے جو کے دانے نکال کر پیسے،جو میں گھی ملا کرپتھر کی ہنڈیا میں آپ کے لیے دلیا پکایا۔آپ آئے ، دلیا نوش فرمایا اور پیار سے پوچھا: زینب کہاں ہے؟ اس وقت حضرت ام سلمہ کی بہن قریبہ بنت ابوامیہ موجود تھیں،انھوں نے بتایا کہ اسے عمار لے گئے ہیں۔ تین دن کے قیام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت ہونے لگے توحضرت ام سلمہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا۔آپ نے فرمایا:اگر تم چاہو تو میں ایک ہفتہ تمھارے پاس گزاروں پھر مجھے ہر بیوی کے پاس سات دن رہنا پڑے گایاتین تین دن کی باری رکھوں۔ حضرت ام سلمہ نے تین دن کی تجویز سے اتفاق کیا (مسلم،رقم۳۶۱۲، ۳۶۱۳۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۶۱۹)۔ حضرت ابو سلمہ کے بڑے بچے عمر،سلمہ اوردرہ آپ کی پرورش میں رہے۔سلمہ کا نکاح آپ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کی بیٹی سے کیا۔ حضرت زینب کی شادی حضرت عبد اﷲ بن زمعہ سے ہوئی۔ اگرچہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ام سلمہ سے نکاح کرنے سے پہلے سیدہ فاطمۃ الزہرہ کی شادی ہو چکی تھی، تاہم ۴ھ میں جب سیدنا علی کی والدہ فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہوا تو حضرت ام سلمہ نے ان کی جگہ سیدہ فاطمہ کی دیکھ بھال کی۔

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ سے بیاہ کیا تومجھے شدید غم لاحق ہو گیا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ حضرت ام سلمہ بہت خوب صورت ہیں۔جب میں نے ان کو دیکھا تو وہ مجھے کہیں زیادہ خوب صورت لگیں۔ میں نے حضرت حفصہ سے ذکر کیا تو انھوں نے میرے خیال کی تصدیق کرنے کے بجاے کہا: ام سلمہ شکل و صورت کی اچھی ہیں، تاہم تمھیں رقابت کی وجہ سے غیر معمولی حسین نظر آتی ہیں ۔تب مجھے سمجھ آیا کہ حفصہ کی بات درست ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا:عائشہ کا میرے ہاں ایک مقام ہے جس پر آج تک کوئی فائز نہیں ہو سکا۔جب آپ نے حضرت ام سلمہ سے شادی کی تو کسی نے سوال کیا ، اس مقام کا کیابنا ؟ تب معلوم ہوا کہ حضرت ام سلمہ اس مقام کو پا چکی ہیں۔حضرت ام سلمہ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے آرام کا بہت خیال رکھتی تھیں۔

نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اس ترتیب سے آپ کے عقد میں آئیں۔حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت عائشہ بنت ابوبکر،حضرت حفصہ بنت عمر، حضرت زینب بنت خزیمہ،حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان، حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ،حضرت زینب بنت حجش،حضرت جویریہ بنت حارث،حضرت صفیہ بنت حیی، حضرت میمونہ بنت حارث۔ابن کثیر کہتے ہیں: یہ ترتیب زہری کی بیان کردہ ترتیب سے بہتر اور اقرب الی الصواب ہے۔

۵ھ میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے خلاف کارروائی کی، کیونکہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ مریسیع نامی چشمے کے قریب ہونے والا یہ غزوہ غزوۂ مریسیع کہلاتا ہے۔ روانہ ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو ساتھ لے جانے کے لیے قرعہ ڈالا تو سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ کے نام نکلے۔

۵ھ: جنگ خندق کے موقع پر یہود بنو قریظہ نے مسلمانوں سے کیا ہوا معاہدہ توڑ کر قریش مکہ کا ساتھ دیا تھا، اس لیے اختتام غزوہ پر جبریل علیہ السلام ان کی سرکوبی کا حکم لے کر آئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسلحہ پھر سے زیب تن کیا اور بنوقریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کر لیا جو اکیس یا پچیس دن جاری رہا۔اس عرصے میں اﷲ کی طرف سے یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا اور ان کی ہمتیں پست ہو گئیں۔انھوں نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے حلیفوں میں سے ابولبابہ(بشیر یا رفاعہ بن عبدالمنذر) کو بھیج دیجییتاکہ ہم ان سے مشورہ کر لیں۔ آپ کے ارشاد پرابولبابہ وہاں پہنچے تو بڑے، بچے اور عورتیں ان کے گرد جمع ہو گئے اور بلک بلک کر رونے لگے۔جب انھوں نے مشورہ لیا کہ کیا ہم اپنے آپ کو محمد صلی علیہ وسلم کے حوالے کر دیں؟انھوں نے کہا : ہاں اور ہاتھ سے گردن کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ ان کا ارادہ تمھیں قتل کرنے کا ہے۔یہ کہہ کر انھیں فوراًہی احساس ہو ا کہ میں نے یہ راز افشا کر کے اﷲ و رسول کے ساتھ خیانت کی ہے۔وہ چپکے سے لوٹے اور آں حضرتصلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے بغیر خود کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ لیا اور عہد کیا کہ میں مرتے دم تک یہاں سے نہ ہٹوں گا جب تک اﷲ میرا جرم معاف نہ کر دے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلاتو فرمایا:بہتر تھا کہ وہ میرے پاس آ کراستغفار کرنے کو کہتے۔ چھ دن اسی طرح گزرے،ابولبابہ کی اہلیہ نماز کے وقت آ کران کو کھولتیں اور پھر باندھ دیتیں۔ ابولبابہ کی قبولیت توبہ کا حکم نازل ہواتونبی صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ کے ہاں تھے۔انھوں نے سحری کے وقت آپ کے ہنسنے کی آواز سنی تو پوچھا:یا رسول اﷲ، کس بات پر ہنس رہے ہیں،اﷲ آپ کے دانتوں پر مسکراہٹ برقرار رکھے؟ جواب ارشاد فرمایا:ابولبابہ کی توبہ قبول ہو گئی ہے۔ حضرت ام سلمہ نے اجازت چاہی ، یا رسول اﷲ، میں یہ خوش خبری انھیں سنا نہ دوں؟ فرمایا: ہاں ،اگر تم چاہتی ہو۔ وہ اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر پکاریں: ابولبابہ، مبارک ہو ،اﷲ نے آپ کی توبہ قبول کر لی ہے۔سحرخیزاہل ایمان انھیں کھولنے کے لیے لپکے تو منع کر دیا کہ مجھے رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم اپنے دست مبارک سے کھولیں گے۔ چنانچہ آپ فجرکی نماز پڑھانے آئے تو ابولبابہ کی رسیاں کھولیں۔

۶ھ: سفر حدیبیہ میں حضرت ام سلمہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے شریک سفر تھیں۔ صلح حدیبیہ کے روز ان کی ذہانت اور بلند راے ہونے کا خوب اظہار ہوا۔معاہد ۂ صلح طے ہونے کے بعد صحابہ اتنے دل گرفتہ تھے کہ جب نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ اٹھ کر عمرہ کے لیے لائے ہوئے جانور قربان کر لو اور حلق کروا لو تو کوئی بھی نہ اٹھا۔ آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمایا: تو بھی کوئی نہ ہلا۔ آپ رنجیدہ ہو کرحضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور کہا: ام سلمہ، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ حضرت ام سلمہ نے کہا: یارسول اﷲ، آپ نے دیکھ لیا ہے کہ وہ صدمے میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے بات کیے بغیر اپنی قربانی کر ڈالیں اور حجام کو بلا کرحلق کروا لیں۔آپ باہر گئے اور ایسا ہی کیا۔ صحابہ نے آپ کو نحر و حلق کرتے دیکھا تو لپکے اور اپنی قربانیاں ذبح کیں اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔اگرچہ شدت غم کی وجہ سے ان کے لیے بال اتارنا مشکل ہو رہا تھا (بخاری، رقم ۲۷۳۲۔ مسند احمد، رقم ۱۸۹۱۰)۔ مسلمانوں پر صلح حدیبیہ کا 'فَتْحًا مُّبِیْنًا' ۱؂ ہونا بعد میں واضح ہوا۔ اس صلح کے بعدامن ہو جانے کی وجہ سے لوگوں نے بلا خوف و خطر اسلام قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ سے قبل کے دو سال کے عرصے میں مسلمانوں کا شمار دوگناسے بھی زیادہ ہو گیا۔

صلح حدیبیہ کے بعد کٹے مشرک عقبہ بن ابو معیط کی بیٹی ام کلثوم نے مسلمان ہوکر مدینہ ہجرت کی۔وہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور خدشہ ظاہر کیا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم معاہدے کی رو سے انھیں بھی مکہ لوٹا دیں گے جس طرح ابوجندل اور ابوبصیر کو واپس فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: اﷲ نے عورتوں کے ضمن میں چھوٹ دے دی ہے۔ جب حضرت ام کلثوم کے بھائی ولید اور عمارہ لینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں واپس نہ بھیجا۔

۷ھ: آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم غزوۂ خیبر کے لیے روانہ ہوئے توبھی حضرت ام سلمہ کو ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ فرماتی ہیں: میں نے مرحب کی زرہ پر تلوار کے وار پڑنے کی آواز سنی۔مال غنیمت تقسیم ہوا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو اسّی وسق (اسّی لدے ہوئے اونٹ)کھجوریں اور بیس وسق گندم(یا جو) عنایت کی۔ یہودیوں کے سردار حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ (اصلی نام: زینب) جنگی قیدیوں میں شامل تھیں۔ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے انھیں دحیہ کلبی کے سپرد کیا۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لائق ہیں تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سات قیدیوں کے بدلے میں خرید کر انھیں آزاد کر دیا۔ صفیہ بن حیی نے اسلام قبول کیا، اپنی عدت پوری ہونے تک وہ حضرت ام سلمہ (دوسری روایت: حضرت انس کی والدہ حضرت ام سلیم) کے پاس رہیں، پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زوجیت میں آ گئیں۔

۷ھ میں حضرت ام سلمہ کے چچا زاد ولید بن مغیرہ کی وفات ہوئی تو حضرت ام سلمہ نے ان کا مرثیہ کہا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے اشعار نہ کہو، بلکہ کہو: 'وَجَآءَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ' ۲؂ ''اور موت کی غشی حق لے کر آن پہنچی''۔

۸ھ: غزوۂ موتہ میں آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقرر کردہ تینوں امیر حضرت زید بن حارثہ،حضرت جعفربن ابوطالب اورحضرت عبداﷲ بن رواحہ جاں فشانی سے لڑتے ہوئے اسی ترتیب سے شہید ہو گئے تو حضرت خالد بن ولید نے علم تھام لیا۔ایک دن مزید جنگ کرنے کے بعد وہ لشکر کو بحفاظت مدینہ واپس لے آئے۔ اسلامی فوج مدینہ پہنچی تو کچھ لوگوں نے اس پر دھول اڑائی اور میدان جنگ سے فرار ہونے کا طعنہ دیا۔فوجیوں میں سے کچھ دل برداشتہ ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے، حتیٰ کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے حضرت سلمہ بن ہشام کی بیوی سے پوچھا: کیا بات ہے ،سلمہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے ساتھ نمازوں میں حاضر کیوں نہیں ہوتے؟ انھوں نے جواب دیا: ان کے لیے گھر سے نکلنا نا ممکن ہو گیا ہے ۔لوگ انھیں دیکھتے ہی بھگوڑا ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ تب آپ نے فرمایا، یہ لوگ میدان جنگ سے بھاگ کر نہیں آئے۔ ان شاء اﷲ بار دگر حملہ آور ہوں گے۔

۸ھ: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم غزوۂ فتح کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تو ام المومنین حضرت ام سلمہ اور ام المومنین حضرت میمونہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھیں۔ مکہ و مدینہ کے مابین، جحفہ کے قریب واقع نیق عقاب کے مقام پرآپ کااپنے چچا زاد ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اور حضرت ام سلمہ کے بھائی عبداﷲ بن ابوامیہ سے جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے، سامنا ہوا۔ دونوں نے آپ سے ملاقات کی خواہش کی،اس موقع پر ام المومنین حضرت ام سلمہ نے بھی سفارش کی: یا رسول اﷲ، یہ آپ کے چچیرے ،پھپھیرے اور سسرال والے ہیں۔فرمایا: مجھے ان دونوں کی چنداں حاجت نہیں۔ جو میرا چچا زاد ہے،اس نے میری عزت کو پامال کیا اور جو پھوپھی زاداور سسرالی ہے ،اس نے مکہ میں میرے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا۔ ابوسفیان نے کہا: میں اپنے اس چھوٹے بچے جعفر کو لے کر صحرا میں نکل جاؤں گا چاہے بھوک پیاس سے مر جاؤں۔تب آپ کو ترس آ گیا اور انھیں اپنے پاس آنے کی اجازت دے دی۔یہ دونوں مسلمان ہو گئے۔

فتح مکہ کے موقع پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مشرکوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا، تاہم گیارہ مردوں اور چار عورتوں کا استثنا کر کے ان کے قتل کا حکم صادر کیا۔ حضرت ام سلمہ کے بھائی زہیر بن ابوامیہ مخزومی بھی ان میں شامل تھے، کیونکہ انھوں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں بہت گستاخیاں کر رکھی تھیں۔ زہیر اپنے ساتھی حارث بن ہشام کے ساتھ مل کر سیدنا علی کی ہمشیر حضرت ام ہانی بنت ابوطالب کے گھر چھپ گئے اور ان کی پناہ لے لی۔وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئیں تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے معافی عطا کی۔

۸ھ: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا جو بیس سے زیادہ دن جاری رہا۔ام المومنین حضرت ا م سلمہ اورام المومنین حضرت زینب بنت جحش آپ کے ہم راہ تھیں۔دونوں کے لیے الگ الگ خیمے لگائے گئے۔آپ نے دونوں خیموں کے درمیان نماز ادا فرمائی۔بعد میں بنوثقیف کے حضرت ابو امیہ بن عمرو نے اسی جگہ مسجد تعمیر کر دی۔ حضرت ام سلمہ کے بھائی حضرت عبد اﷲ بن ابوامیہ جو فتح مکہ سے کچھ دن پہلے ایمان لائے تھے، اسی محاصرے کے دوران میں تیر لگنے سے شہید ہوئے۔

۸ھ میں آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب کی وفات ہوئی تو حضرت ام ایمن، حضرت سودہ اور حضرت ام سلمہ نے ان کو غسل دیا۔

کسی سفر میں آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہم راہ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی اور حضرت ام سلمہ تھیں۔ قیام کا وقت آیا تو آپ حضرت ام سلمہ کا ہودہ سمجھ کر حضرت صفیہ کی عماری کی طرف بڑھے اور بات چیت کرنے لگے۔اس روز حضرت ام سلمہ کی باری تھی،وہ طیش میں آگئیں اور کہا:آپ رسول اﷲ ہو کر میری باری کے دن یہودی کی بیٹی سے باتیں کر رہے ہیں؟ پھر انھیں ندامت ہوئی اور استغفار کرنے لگیں۔آپ سے درخواست کی: یا رسول اﷲ! جلاپے کی وجہ سے میں نے ایسا کہہ دیا،آپ بھی میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔

قبول اسلام کے بعد حضرت عکرمہ بن ابوجہل مدینہ آئے تو لوگ پکارنے لگے: ابوجہل کا بیٹا آیا، ابوجہل کا بیٹا آیا۔ وہ پناہ لینے کے لیے اپنی پھوپھی حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور بتایا کہ وہ جہاں جاتے ہیں، لوگ آوازے کستے ہیں۔ اسی اثنا میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ مردوں کو گالی دے کر زندوں کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ گزرے ہوئے کو گالی دینے سے اس کو تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی، البتہ جیتے ہوئے کو آزار پہنچتا ہے۔

۹ھ:ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے ملاقات کے لیے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں موخر کر دیں او ر انھیں عصر کے بعد ادا فرمایا (بخاری، رقم ۱۲۳۳)۔ دوسری روایت حضرت ام سلمہ ہی سے یوں مروی ہے: ظہر کے فوراً بعد نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اسے تقسیم کرنے میں مشغول ہو گئے۔ اسی اثنا میں عصر کی اذان ہو گئی۔ عصر پڑھانے کے بعدآپ صلی اﷲ علیہ وسلم میرے گھر آئے اور رہ جانے والی دو رکعتیں ادا فرمائیں (موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۶۵۶۰)۔ حضرت عائشہ نے ان رکعتوں کو معمول بنا لیا تو حضرت عبداﷲ بن عباس،حضرت عبدالرحمٰن بن ازہر اورحضرت مسور بن مخرمہ نے اعتراض کیا۔ انھوں نے معترضین کوحضرت ام سلمہ کے پاس بھیج دیا۔حضرت ام سلمہ نے بتایا کہ آپ نے وضاحت فرمائی تھی کہ یہ ظہرکی رہ جانے والی رکعتیں تھیں (بخاری،رقم ۴۳۷۰۔ مسلم،رقم ۱۸۸۵۔ ابوداؤد،رقم۱۲۷۳) ۔

۹ھ:غزوۂ تبوک میں حضرت کعب بن مالک،حضرت ضرارہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ تین مخلص صحابہ تھے جومحض کسل مندی کی وجہ سے تبوک نہ پہنچ سکے۔نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے بائیکاٹ کا حکم ا رشاد کیا جو پچاس دن جاری رہا۔اس دوران میں یہ توبہ و استغفار کرتے رہے۔پچاسویں رات کا تہائی حصہ رہتا تھا جب ان کی توبہ قبول ہونے کا حکم نازل ہوا۔آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ کے ہاں تھے۔ام سلمہ نے پوچھا:میں انھیں مبارک باد نہ کہلا بھیجوں؟آپ نے فرمایا: لوگوں کا ہجوم ہو جائے گا اور تم رات بھر سو نہ سکوگی۔چنانچہ آپ نے فجر کے وقت ان اصحاب کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا(بخاری، رقم ۴۶۷۷۔ موسوعہ مسند احمد، رقم ۲۷۱۷۵)۔ حضرت ام سلمہ کے سگے بھائی حضرت مہاجر بن ابوامیہ غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہو سکے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے۔ حضرت ام سلمہ نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو رہی تھیں، کہا: میری کیا زندگی ہو گی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھائی پر غصہ کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا نرم ہوئے تو انھوں نے خادمہ کو اشارہ کیا کہ بھائی کو بلا لائے۔ حضرت مہاجر نے خود بھی معافی مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوئے۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کندہ کا عامل مقرر فرمایا۔

[باقی]

________

۱؂ الفتح ۴۸ :۱۔

۲؂ ق ۵۰: ۱۹۔

____________