ہندو مسلم فسادات


جاوید احمد غامدی / وقار ملک

[مدیر ''اشراق'' سے روزنامہ ''پاکستان'' کے لیے ایک انٹرویو]

سوال : جاویدصاحب ! مسلمانوں کا جب بھی کسی قوم سے جھگڑا ہو تو ہمارے اکثر علماے کرام اور دانش ور حقیقت حال کا جائزہ لینے کے بجائے پارٹی بن جاتے ہیں اور معاملے کو مسلمانوں کی عینک سے دیکھتے ہیں اور یہی صورت ہمیں دوسری اقوام کے اکثر دانش وروں اور علماے کرام کے ہاں بھی نظر آتی ہے ۔ آپ کے خیال میں ہندوستان میں ہونے والے حالیہ فسادات کا اگر غیر جانب داری کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو اس میں مسلمان کس حد تک اور ہندو کس حد تک قصور وار ہیں ؟

جو اب: میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ پچھلی دو صدیوں میں ہندووں اور مسلمانوں ، دونوں کی قیادت نے لوگوں کو حقیقت شناس بنانے کے بجائے جذبات کے ذریعے سے سوچنے اور سمجھنے کی تعلیم دی ہے ۔ یہ سب اسی کا نتیجہ ہے ۔ نہ مسلمان قوم کی قیادت اپنی قوم کی کوئی اچھی تربیت کر سکی ہے اور نہ ہندووں کی قیادت ۔ ہندوستان کے دو رجدید میں سب سے بڑے رہنما مہاتما گاندھی خود اسی جنون کا شکار ہوئے اور ان کے مخالف قائدین کی تربیت سے جو لوگ پیدا ہوئے ، انھی میں سے ایک نے انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ ہندوستان میں اگر ابو الکلام اور گاندھی کی سطح کے رہنما پیدا ہوتے رہتے تو توقع تھی کہ صورت حال تبدیل ہو جاتی ، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا ۔ یہی معاملہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا ہے ، ان کی قیادت نے بھی ان کی کوئی اچھی تربیت نہیں کی ۔ جذباتی نعرے ، انتقام اور بے معنی غیرت ان کی تعلیم کے بنیادی اجزا رہے ہیں ۔ خود پاکستان میں جب مسلمان مسلمان کا گلا کاٹتا ہے تو یہ درحقیقت اسی تربیت کا نتیجہ ہے ۔ جب میں بھی اس صورت حال پر غور کرتا ہوں تو مجھے اس میں ہندو اور مسلمانوں کے مجموعی رویے میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔ تقسیم کے موقع پر فسادات میں اگر ہندووں نے ظلم و ستم کیا تومسلمانوں نے بھی اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔

سوال : حالیہ مسلم کش فسادات کی بڑی وجہ جنونی ہندووں کی ٹرین پر مسلمانوں کا حملہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ مگر کیا مسلم اقلیت ہندو اکثریت کو تشدد کا نشانہ بنا سکتی ہے ؟

جواب : جو صورت حال غیر جانب دار ذرائع سے سامنے آئی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ٹرین کے مسافروں نے اشتعال انگیز حرکتیں کیں اور پھر بعض مشتعل مزاج مسلمانوں نے نتائج و عواقب کا اندازہ کیے بغیر اس کا جواب دیا ۔ تمام فسادات کی داستان ، بالعموم اسی طرح کی ہوتی ہے ۔

سوال : ہزا ر سے زائد بے رحمانہ اموات پر عالمی برادری کا برائے نام رد عمل کیوں ہے ؟ او رہندوستان اب بھی مغرب کا پسندیدہ ملک کیسے ٹھہرا ہوا ہے ؟

جواب : دنیا کی اقوام اپنے فیصلے سیاسی مصلحتوں، معاشی مفادات اور اپنے زاویۂ نظر سے حقائق کو دیکھ کر کرتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہم جس طرح سوچتے ہیں ، سب لوگ اسی طرح سوچیں ۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ دنیا کی بڑی اقوام اس میں ہندوستانی حکومت اور انتظامیہ کو قصور وار نہ سمجھتی ہوں ۔ ان کے نزدیک یہ معاملہ ایک حادثہ ہو سکتا ہے ۔ جس طرح کے حوادث خود ہمارے ملک میں مسجدوں ، امام بارگاہوں اور گلیوں اور بازاروں میں پیش آتے رہتے ہیں ۔

سوال : حالیہ صوبائی انتخابات کے نتائج اور فسادات کے تناظر میں آپ کو اٹل بہاری واجپائی مستقبل میں کہاں کھڑے نظر آتے ہیں ؟

جواب : میرا ذاتی خیال ہے کہ واجپائی صاحب کی صحت اور قویٰ جواب نہ دے گئے تو اس وقت کی صورت حال میں انھیں ابھی کوئی خاص خطرہ لاحق نہیں ہے ۔ تاہم آنے والے دنوں میں وہ اگر جسمانی اور نفسیاتی لحاظ سے مضمحل ہو گئے تو ممکن ہے کہ ان کی حکومت ختم ہو جائے ۔ البتہ اتنی بات واضح ہے کہ آنے والے تمام انتخابات میں کانگریس کا مستقبل بہت روشن ہے اور غالباً ہندو ستان کا اقتدار اب کانگریس کو منتقل ہو جائے گا۔

سوال : ایک تاثر یہ ہے کہ بی جے پی کی رام راج کی سرکار ہو یا کانگریس کی سیکولرحکومت ، اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف عناددونوں میں مشترک ہے ۔ آپ کے خیال میں ہندوستان کے مسلمان اپنے حالات میں کیسے بہتری پیدا کر سکتے ہیں؟

جواب : میرا خیال ہے کہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ اصل فرق اس وقت واقع ہو گا جب ہندوستان کے مسلمانوں کی قیادت اقلیت کی حیثیت سے مسلمانوں کو جینے کا بہتر سلیقہ سکھانے میں کامیاب ہو جائے گی ۔ مسلمان جس طرح مغربی ممالک میں جا کر رہتے ہیں ، اگر وہی رویہ ہندوستان میں بھی اختیار کر لیں اور اپنی تمام جدوجہد قومی تعمیر، اخلاقی اصلاح، تعلیم اور معیشت میں برتری حاصل کرنے پر مرکوز کر دیں تو ان کے معاملات بہتر ہو جائیں گے ۔

سوال : کہا جاتا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی صوبائی انتخابات میں کامیابی کے لیے فوجیں سرحدوں پر لائے ہیں ۔ اب تو انتخابات ہو گئے ، نتائج سامنے آ گئے ، مگر فوجیں بدستور سرحدوں پر ہی ہیں ۔ کیا ان کی پرامن واپسی ہو گی یا پھر آپ جنگ کا کوئی امکان دیکھتے ہیں ؟

جواب : میرا ذاتی خیال ہے کہ ہندوستان جو مطالبات منوانا چاہتا ہے ، ان میں کچھ نہ کچھ پیش رفت کے بعد ہی فوجیں سرحدوں سے واپس بلائی جائیں گی ۔ میرا گمان ہے کہ اندرونِ خانہ کچھ نہ کچھ پیش رفت ہو رہی ہے ۔ اس لیے فی الحال کوئی جنگ کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک جنگ کا شروع میں بھی کوئی امکان نہ تھا ، بلکہ کچھ مقاصد حاصل کرنے پیش نظر تھے ۔ ہندوستان نے اس کے لیے فضا ساز گار دیکھی تو پورا دباؤ ڈال دیا ۔ اب یہ اعصاب کی جنگ ہے دیکھیے اس میں کون کتنا کامیاب ہوتا ہے ۔

سوال : آج کل ہندوستان میں ہندومسلم فسادات کی وجہ بابری مسجد، رام مندر تنازع بنا ہوا ہے ۔ آپ کی نظر میں اس کا حل کیا ہے ؟

جواب : ہندوستان میں کئی مقامات پر اس طرح کے تنازعات موجود ہیں ، ان کا بہترین حل یہی ہے کہ دونوں فریق عدالت یا ماہرین تاریخ کی کسی کونسل کا فیصلہ مان کر امن کے ساتھ ان تنازعات کو طے کر لیں ۔

اس طرح کی صورت حال میں مسلمانوں کو تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دینا چاہیے ۔ یہ طرز عمل انھیں اخلاقی لحاظ سے بہتر جگہ پر کھڑا کرے گا ۔ دنیا میں ہر جگہ ان کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوں گے ۔ جوابی تشدد سے وہ نہ صرف یہ کہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے ، بلکہ مزید نقصان اٹھائیں گے ۔ مسلمانوں کو طے کر لینا چاہیے کہ وہ ہر معاملہ کو قانون کے دائرے میں رہ کر قانون کی مدد سے طے کرنے کی کوشش کریں گے ۔ تشدد نہ اس سے پہلے کسی مسئلے کا حل ثابت ہوا ہے اور نہ مستقبل میں ہو گا۔ تشدد کے پیٹ سے صرف تشدد پیدا ہو تا ہے ۔ اس سے کہیں امن اور سلامتی جنم نہیں لیتی ۔

سوال : انتہا پسند ہندو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود طاقت کے بل بوتے پر مندر بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو نجانے کتنی اور مساجد کو مندروں کا روپ دے دیا جائے ۔ اس صورت میں مسلمان کیسے خاموش رہ سکتے ہیں ؟

جواب: اول تو اس کا کوئی امکان نہیں ہے ، لیکن اگر خدانخواستہ ایسا ہوا اور مسلمانوں نے جوابی تشدد سے کام نہ لیا تو بتدریج یہ چیز ہندووں کے سوچنے سمجھنے والے طبقوں کو مسلمانوں کی حمایت پر آمادہ کر دے گی ۔ اس وقت بھی پڑھے لکھے ہندووں کی بہت بڑی اکثریت ان چیزوں کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے ۔ ضرورت صرف اس چیز کی ہے کہ دنیا پر اپنے عمل سے ثابت کر دیا جائے کہ ایک طرف تشدد اور وحشت ہے اور دوسری جانب علم، اخلاق اور قانون کی پابندی ۔

____________