حجیت اجماع اور نصوص کی نئی تاویل و تفسیر کی گنجایش


مولانا مفتی عبد الواحد اور محمد عمار خان ناصر کے مابین علمی مراسلت

]راقم الحروف کی تصنیف ''حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث'' کے مندرجات پر دار الافتاء جامعہ مدنیہ لاہور کے جناب مولانا مفتی عبد الواحد مدظلہ نے ''مقام عبرت'' کے عنوان سے اپنی ایک تحریرمیں کچھ اصولی اعتراضات کیے تھے جن پر میری گزارشات ''مولانا مفتی عبد الواحد کی تنقیدات کا جائزہ'' کے نام سے چھپ چکی ہیں۔ اس ضمن میں بعض امور کی توضیح وتنقیح کے حوالے سے مفتی صاحب کے ساتھ مراسلت کا سلسلہ بھی چلتا رہا جو اب بظاہر تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ بحث کی عمومی اہمیت کے پیش نظر یہ سلسلہ مراسلت قارئین 'اشراق' کی خدمت میں یکجا پیش کیا جا رہا ہے۔]

بخدمت جناب محمد عمار خان صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جناب کی کتاب پر مقام عبرت کے نام سے تبصرہ پیش خدمت ہے۔ رسالہ 'الشریعہ' میں شائع کریں یا نہ کریں، یہ آپ کی صواب دید ہے۔ البتہ اتنی درخواست ہے کہ اس کو ملاحظہ فرما کر جلد جواب عنایت فرمائیں کہ آپ کو اس سے اتفاق ہے یا نہیں۔ اتفاق نہ ہونے کی صورت میں اگر کچھ دلائل بھی تحریر فرما دیں تو بہتر ہوگا۔

والسلام علیکم

عبد الواحد غفرلہ

۱۳؍ ذو القعدہ ۱۴۲۹ھ

مکرم ومحترم جناب مولانا مفتی عبد الواحد صاحب زید مجدہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

''حدود وتعزیرات۔ چند اہم مباحث'' کے حوالے سے آپ کی تنقیدی تحریر موصول ہوئی۔ میں ممنون ہوں کہ آپ نے خیر خواہی اور اصلاح کے جذبے سے علمی اسلوب میں میرے نقطہ نظر پر تنقید کی ہے۔ ان شاء اللہ اسے 'الشریعہ' کے آئندہ شمارے میں شائع کر دیا جائے گا۔ اگر ممکن ہو تو ازراہ کرم اس کی سافٹ کاپی مجھے ای میل کروا دیں۔ شکریہ!

جہاں تک آپ کے تبصرے سے اتفاق یا عدم اتفاق کا تعلق ہے تو میرے ناقص فہم کے مطابق آپ کی موجودہ تحریر بحث میں کسی ایسے نکتے کا اضافہ نہیں کرتی جس کی روشنی میں، مجھے اپنے نقطہ نظر پر فوری نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہو۔ ان میں سے دیت کے حوالے سے میرے موقف پر آپ نے ''سنت کی تشریعی حیثیت کو بالکل نظر انداز'' کرنے، ''منکرین حدیث کی سی بات کرنے'' اور ''مقادیر میں عقل وقیاس'' کو دخل دینے کی پھبتیاں کسی ہیں جو میرے موقف کی نہایت ناروا ترجمانی ہے، اس لیے کہ زیر بحث نکتہ سرے سے یہ ہے ہی نہیں۔ زیر بحث نکتہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی جو مقدار مقرر فرمائی، وہ تشریع کے دائرے کی چیز ہے یا قضا اور سیاسہ کے دائرے کی۔ میں نے قرآن مجید کے نصوص کی روشنی میں یہ اخذ کیا ہے کہ شارع دیت سے متعلق قوانین کی عملی صورت کو کوئی مخصوص شکل نہیں دینا چاہتا، بلکہ اس نے اس معاملے کو 'معروف' پر منحصر قرار دیا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اہل عرب کے معروف کو اختیار فرمایا تو وہ اسی اصول کا ایک اطلاق تھا اور جس طرح معروف سے متعلق دیگر تمام معاملات میں تغیر وتبدل کی گنجایش مانی جاتی ہے، اسی طرح اس معاملے میں بھی یہ گنجایش موجود ہے۔ یہی صورت مرد اور عورت کی دیت میں فرق کی ہے۔ اگر قرآن یا سنت میں یہ قرار دیا گیا ہو کہ ایسا کوئی فرق شرعی طور پر لازم ہے تو اس سے سرتابی کی مجال نہیں، لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو صحابہ کی آرا اور فتاویٰ کو بھی اہل عرب کے عرف پر مبنی سمجھنا چاہیے، نہ کہ ایک ابدی شرعی حکم کی حیثیت دے دینی چاہیے۔

اس راے پر تنقید کا درست طریقہ یہ تھا کہ آپ یہ واضح فرماتے کہ قرآن کے نصوص 'دیۃ مسلمۃ' اور 'اتباع بالمعروف' سے اس معاملے کا معروف پر منحصر ہونا ثابت نہیں ہوتا اور یا کم از کم یہ بتاتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے دیت کی مقدار اور عاقلہ وغیرہ کے معاملات میں اہل عرب کے جس معروف کو اختیار کیا، اس کے ابدی شرعی حکم ہونے کے الگ سے یہ اور یہ دلائل ہیں۔ 'دیۃ مسلمۃ' کے تحت جصاص کے استدلال کے دفاع میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے، وہ میر ے لیے ناقابل فہم ہے، اس لیے کہ بالفرض نکرہ یہاں تعظیم کے لیے ہو (جس کا نہ کوئی قرینہ ہے نہ ضرورت)، تب بھی اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ متکلم اس سے دیت کی کسی معہود مقدار کی طرف اشارہ کر کے اس کی پابندی کی ہدایت کر رہا ہے؟ نکرہ تعظیمی سے یہ استدلال آخر عربیت کے کس اصول کے تحت درست ہے؟

زنا کی سزا کے ضمن میں بھی یہی صورت حال ہے۔ آپ کی بیان کردہ توجیہ کی بنیاد نساء کی آیت ۱۵ کو شادی شدہ خواتین سے جبکہ آیت ۱۶ کو غیر شادی شدہ عورت سے متعلق قرار دینے نیز قرآن مجید میں رجم کی آیت کو منسوخ التلاوۃ دون الحکم ماننے پر مبنی ہے۔ میں نے ان دونوں نکتوں کے حوالے سے جو اشکالات اپنی کتاب میں اٹھائے ہیں، ان کا کوئی تشفی بخش جواب آپ کی توجیہ سے نہیں ملتا۔

بہرحال اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر کرتے ہوئے، میں دوبارہ آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے ایک طالب علم کی آرا کو علمی تنقید کا موضوع بنانے کی ضرورت محسوس کی اور اس کے لیے اپنا قیمتی وقت فارغ کیا۔ میں امید رکھتا ہے کہ آپ کی طرف سے خیر خواہانہ تنقید اور راہنمائی کا سلسلہ آئندہ بھی قائم رہے گا۔ واجرکم علی اللہ

محمد عمار خان ناصر

محترم جناب محمد عمار صاحب، مدیر الشریعہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے جو جواب مجھے تحریر کیا تھا، محض اس وجہ سے اس پر کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں ہوا کہ جناب کے جواب سے مایوسی ہوئی تھی، لیکن اب جبکہ آپ نے اسے جنوری کے الشریعہ میں شائع کر دیا ہے تو مجبوراً چند سطریں لکھتا ہوں۔

میرے مضمون کا حاصل دو امور ہیں:

۱۔ یہ دکھانا کہ آپ نے اجماعی تعامل اور علمی مسلمات کے دائرے سے جابجا تجاوز کیا ہے اور خطرناک اصولی غلطیاں کی ہیں۔

۲۔ علمی مسلمات کے دائرے میں رہ کر بھی ذکر کردہ اشکالات کا حل ڈھونڈا جا سکتا ہے جس کی کچھ مثالیں بھی میں نے پیش کی ہیں۔

کوئی بھی فکر صرف اسی وقت صحیح ہو سکتی ہے جب اصولوں کی مکمل پاس داری کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے کہ ''نکرہ تعظیمی سے یہ استدلال آخر عربیت کے کس اصول کے تحت درست ہے؟'' لیکن اپنی فکر کو پیش کرتے ہوئے آپ نے بہت سے اصول توڑے جن کی نشان دہی کرنے کو آپ نے پھبتیاں کسنے سے تعبیر کیا ہے۔ پھر آپ نے اس اہم نکتہ سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ لکھا کہ زیر بحث نکتہ کچھ اور ہے۔ زیر بحث نکتہ کیا ہے، اس سے تو میں نے اختلاف نہیں کیا تھا۔ میں نے تو یہ بتایا تھا کہ آپ کے نکتہ سے بہت سے اصول ٹوٹ رہے ہیں اور علمی مسلمات پامال ہو رہے ہیں، لیکن آپنے اپنے پورے جواب میں ان کو نظر انداز کرنے کی روش کو اختیار کیا۔

آپ چاہیں تو کسی با اعتماد مستند عالم سے محاکمہ کرا لیجیے۔

رہی یہ بات کہ میں بھی اصولوں اور علمی مسلمات کونظر انداز کرکے آپ کے ذکر کردہ نکتوں میں آپ سے یا آپ کے موافقین سے بحث میں الجھ جاؤں تو اس کے لیے میں تیار نہیں ہوں۔

دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو گمراہیوں سے بچائیں اور ہدایت کی راہ پر لگائیں۔ آمین

عبد الواحد غفر لہ

۱۴؍محرم الحرام ۱۴۳۰ھ

مکرم ومحترم مولانا مفتی عبد الواحد زید مجدہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ بے حد شکریہ!

آپ نے میری آرا میں جن 'بے اصولیوں' کی طرف توجہ دلائی ہے، ان سب کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ کسی آیت یا حدیث کی تشریح میں یا کسی علمی وفقہی مسئلے سے متعلق سلف سے منقول آرا سے ہٹ کر کوئی رائے قائم کرنا یا کوئی نئی تعبیر پیش کرنا ایک امر ممنوع ہے اور جو شخص ایسا کرتا ہے، وہ علمی بے اصولی کا مرتکب ہوتا ہے۔ میرے نزدیک چونکہ یہ بات ہی سرے سے درست نہیں، ا س لیے میں اسے کوئی بے اصولی بھی نہیں سمجھتا اور اپنے اس موقف کو کتاب کی تمہید میں، میں نے پوری تفصیل سے واضح کیا ہے۔ اس نکتے کی توضیح وتفصیل کے لیے میں چند مزید گزارشات قلم بند کر رہا ہوں جو امید ہے کہ 'الشریعہ' کے آئندہ شمارے میں شائع ہو سکیں گی۔

اس کے ساتھ ایک عاجزانہ شکوہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ میرے خیال میں کسی بھی راے پر تنقید کرتے ہوئے اہل علم کا منصب بس یہ ہے کہ وہ علمی طریقے سے کسی نقطہ نظر کی غلطی کو واضح کر دیں، اور اپنے مخاطب کو یہ حق دیں کہ وہ اپنے اطمینان ہی کے مطابق اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ یہ توقع کرنا کہ اس تنقید سے ضرور اتفاق بھی کیا جائے گا اور ایسا نہ ہونے پر 'مایوسی' کا اظہار کرنا یا علمی بحثوں کی سنسنی خیز انداز میں تشہیر کر کے اس بات کی کوشش کرنا کہ عوامی یا خاندانی دباؤ کا ہتھیار استعمال کر کے کسی شخص کو اپنے ضمیر کے مطابق راے قائم کرنے اور اسے بیان کرنے سے ''روکا'' جائے، میرے خیال میں علم اور اہل علم کے منصب کے شایان شان نہیں۔

امید ہے کہ آپ اپنی نیک دعاؤں میں مسلسل یاد رکھیں گے۔

محمد عمار خان ناصر

۱۵؍ جنوری ۲۰۰۹

محترم محمد عمار صاحب

السلام علیکم

اپنے تنقیدی مضمون ''مقام عبرت'' پر آپ کا لکھا ہوا جوابی جائزہ پڑھا۔ ساتھ ہی جائزہ کی وصولی کی رسید بھی حاضر ہے۔ اس جائزہ سے متعلق صرف چند باتیں پیش خدمت ہیں۔

۱۔ پہلے تو ہمیں آپ سے یہ شکایت تھی کہ آپ اجماع کے ثبوت کو مشکوک بناتے ہیں۔ اب تو آپ نے امام شافعی ؒ اور امام رازی وغیرہ رحمہا اللہ کے حوالوں سے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ ''یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ علمی وفقہی تعبیرات کے دائرے میں اجماع کا تصور محض ایک علمی افسانہ ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں '' (ص ۱۳) حالانکہ امام شافعیؒ وامام احمد ؒ ہوں یا امام رازیؒ ہوں، سب ہی اس کو فقہی احکام کے اصول اربعہ میں سے شمار کرتے ہیں اور اسے حجت مانتے ہیں۔ امام شافعی ؒ لکھتے ہیں:

<

strong>''قال فقال قد حکمت بالکتاب والسنۃ فکیف حکمت بالاجماع ثم حکمت بالقیاس فاقمتھما مقام کتاب او سنۃ فقلت انی وان حکمت بھما کما احکم بالکتاب والسنۃ فاصل ما احکم بہ منھا مفترق'' (کتاب الام ص ۱۳۷، ج ۱)

(ترجمہ) قائل نے کہا کہ آپ نے کتاب الہٰی اور سنت سے حکم لگایا ہے تو آپ نے اجماع اور پھر قیاس سے کیسے حکم لگایا اور دونوں کو کتاب اور سنت کے قائم مقام کرلیا۔ میں نے جواب دیا کہ اگرچہ میں نے اجماع اور قیاس سے حکم لگایا ہے جیسا کہ میں کتاب و سنت سے حکم لگاتا ہوں۔۔۔

''قال الشافعی والعلم من وجھین اتباع واستنباط۔ والاتباع کتاب فان لم یکن فسنۃ فان لم تکن فقول عامۃ فی سلفنا لا نعلم لہ مخالفا فان لم یکن فقیاس'' (کتاب الام ص ۳۲۲۳ ج ۲)

(ترجمہ) امام شافعیؒ نے کہا کہ علم کے دو طریقے ہیں، اتباع اور استنباط۔اتباع ہے کتاب الٰہی کے حکم کا اتباع۔ اگر کتاب میں حکم نہ ہو تو سنت کا اتباع اور اگر اس میں حکم نہ ہو تو عام اسلاف کا قول جس کا مزاحم ہمیں معلوم نہ ہو۔ اور اگر اس میں بھی نہ ہو تو پھر قیاس ہے۔

مختلف حضرات کے نزدیک اجماع کی ہیئت ترکیبی کیا ہے، اس سے تو ہم نے بحث ہی نہیں کی۔ ہمارے سامنے تو اتنی بات ہے کہ اہل سنت کے نزدیک اجماع بہرحال ایک حجت ہے اور علمی مسلمہ ہے۔اسی کو آپ نے ابن تیمیہ ؒ سے اپنی تنقید میں یوں نقل کیا ہے:

''والذین کانوا یذکرون الاجماع کالشافعی وابی ثور وغیرھما یفسرون مرادھم بانا لا نعلم نزاعا ویقولون ھذا ھو الاجماع الذین ندعیہ '' (ص ۹)

(ترجمہ ) اور جو حضرات اجماع کا ذکر کرتے ہیں جیسے شافعیؒ اور ابو ثور ؒ وغیرہ تو وہ اس کی یوں تفسیر کرتے ہیں کہ ہمیں اس میں اختلاف کا علم نہیں ہے اوروہ کہتے ہیں کہ یہی اجماع ہے جس کے ہم مدعی ہیں۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہماری گفتگو فقہی موضوع سے متعلق تھی اور ہے، اور فقہی دائرے میں اہل سنت کے نزدیک اجماع اصول اربعہ میں سے ہے۔

۲۔ اب آپ ان مثالوں کودیکھیے جن کو آپ نے اپنے حق میں ذکر کیا ہے:

(۱) ''تفسیر کبیر''، ''اصول سرخسی'' اور ''الفوز الکبیر'' سے جو حوالے آپ نے دیے ہیں، وہ تفسیر وتاویل سے متعلق ہیں، کسی حکم شرعی کے اثبات سے متعلق نہیں ہیں۔

(۲) مولانا انور کشمیری ؒ رجم کے حد ہونے کا انکار نہیں کرتے اور ''فیض الباری'' میں اس کے حد ہونے کا اعتراف کرتے ہیں البتہ رجم کا ذکر قرآن میں کیوں نہیں ہے، اس کی حکمت سے وہ بحث کرتے ہیں۔ غرض ان کے کلام سے شادی شدہ زانی کے لیے رجم کے حد ہونے پر اجماع پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ دیکھیے وہ فرماتے ہیں :

'' فاعلم ان نظم القرآن اذا کان یفہم ان تلک الآیۃ نزلت فی قضیۃ کذا ثم لم تکن تلک القضیۃ مذکورۃ فیھا فالذی تحکم بہ شریعۃ الانصاف ان یکون ھذا الحدیث الذی فیہ تلک القصۃ فی حکم القرآن۔ لان القرآن بنی نظمہ الیہ واشار من عبارتہ الیہ فلابد من اعتبارہ وحینئذ لا حاجۃ الی تصریحہ بالرجم اذ کفی عنہ الحدیث فاغنی عن ذکرہ'' (فیض الباری، ص ۲۳۰، ج ۵)

(ترجمہ ) جان لو کہ جب یہ معلوم ہو کہ قرآن کی فلاں آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی پھر وہ معاملہ قرآن میں مذکور نہ ہوتو شریعت انصاف یہ حکم لگاتی ہے کہ وہ حدیث جس میں وہ معاملہ مذکور ہے، قرآن کے حکم میں ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ اس پر مبنی ہیں اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں لہٰذا اس معاملہ کا اعتبار کرنا ضروری ہے اور اس وقت رجم کی تصریح کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ حدیث میں اس کا ذکر کافی ہے۔

''قولہ (عن علیؓ حین رجم المرأۃ یوم الجمعۃ وقال رجمتھا بسنۃ رسول اللہ ﷺ) لم یخرج المصنف الروایۃ بتمامھا واخرجھا الحافظ فی الفتح وفیھا انی جلدتھا بالقرآن ورجمتھا بالسنۃ وحملھا الناس علی النسخ۔ قلت والذی تبین لی ان اصل الحد فیہ ما ذکرہ القرآن وھو الجلد اما الرجم فحد ثانوی وانما لم یأخذہ القرآن فی النظم اخمالا لذکرہ لیندرئ عن الناس ما اندرأ فکان الجلد حدا مقصود ا لا ینفک عنہ بحال، واما الرجم وان کان حدا لکن المقصود درؤہ متی ما امکن۔ فلو اخذہ فی النظم لحصل تنویہ امرہ وتشھیر ذکرہ والمقصود اخمالہ کیف ولو کان فی القرآن لکان وحیا یتلی مدی الدھر فلم یحصل المقصود ۔۔۔ فالأولی ان یکون الرجم باقیا فی العمل وخاملا فی القرآن ۔۔۔ ثم فی حدیث علیؓ ان رجمہ ایاھا کان بالسنۃ وقال الفقہاء انہ بالآیۃ المنسوخۃ التلاوۃ الباقیۃ الحکم۔ قلت وتلک الآیۃ وان نسخت فی حق التلاوۃ الا ان ھذا الرکوع کلہ فی قصۃ الرجم'' (فیض الباری، ص ۳۵۴، ۳۵۳، ج ۶)

ترجمہ: (حضرت علیؓ نے جمعہ کے روز ایک عورت کو رجم کیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق رجم کیا )امام بخاری ؒ نے یہ روایت پوری ذکر نہیں کی۔ حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں اس کو پورا ذکر کیا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کو قرآن کے مطابق کوڑے لگائے اور سنت کے مطابق رجم کیا۔ دیگر حضرات نے اس کو نسخ پر محمو ل کیا ہے [یعنی یہ کہ شادی شدہ زانی کی سو کوڑوں کی سزا رجم سے منسوخ ہوگئی تھی ] میں کہتا ہوں کہ زنا میں اصل سزاسو کوڑے ہے جو قرآن نے ذکر کی ہے۔ رہی رجم تو وہ [کوڑوں کے بعد ثابت شدہ] ثانوی حد ہے اور قرآن نے اس کا ذکر نہیں کیا تا کہ اس کا ذکر مشہور نہ اور جہاں تک ہو سکے، وہ مندری ہو۔ لہٰذا کوڑوں کی سزا مقصودی حد ہے جو ہر حال میں لا گو ہوتی ہے [ یعنی غیر شدہ شدہ کو تو لگتی ہی ہے، شادی شدہ کو بھی لگتی ہے جس میں سنت سے رجم کا بھی ثبوت ہے]۔ رہی رجم تو اگرچہ وہ بھی حد ہے لیکن مقصود یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے، اس کو ٹالا جائے۔ اگر اس کا ذکر قرآن میں کیا جاتاتو اس کی اہمیت بڑھ جاتی اور شہرت ہو جاتی جبکہ اس میں مقصود عدم تشہیر ہے۔ قرآن میں مذکور ہونے سے قیامت تک اس کی تلاوت ہوتی اور اصل مقصود حاصل نہ ہوتا ۔۔۔ تو اولیٰ ہے کہ وہ عمل میں تو باقی رہے لیکن قرآن میں مذکور نہ ہو۔ پھر حضرت علیؓکی حدیث میں ہے کہ انہوں نے سنت کے مطابق عورت کو رجم کیا ۔فقہاکہتے ہیں کہ رجم کی سزا اس آیت سے ہے جس کا حکم باقی ہے اور تلاوت منسوخ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگرچہ وہ آیت تلاوت میں منسوخ ہے، لیکن یہ رکوع پورا کا پورا رجم کے قصہ ہی میں ہے [لہٰذا رجم کا قصہ قرآن ہی کے حکم میں ہے ]۔

۳۔ مولانا تھانوی ؒ کا فتویٰ ان کی اس بنیاد پر ہے کہ اجماع سے جو عورت کی سربراہی ناجائز ہے، وہ اس وقت ہے جب اسے مطلق العنان بادشاہت حاصل ہو اور بات بھی یہ ہے کہ موجو دہ دور سے پہلے بادشاہت ہی ہوتی تھی، اس لیے اس کے مطابق حکم لگایا گیا تھااور اجماع اس پر ہو اتھا۔ مولانارحمہ اللہ نے از سر نو غور وفکر کر کے اجماع و اتفاق سے اختلاف نہیں کیا۔

۳۔ اپنے جائز ے کے آخری حصہ میں آپ نے لکھا ہے :

۱: ''مولانا محترم نے اپنی تنقید ''الشریعہ '' میں اشاعت کے لیے ہمیں بھجوائی''

حقیقت حال یہ ہے کہ ہم نے اپنی تنقید آپ کے (اور آپ کے چند عزیزوں کے) مطالعہ کے لیے بھجوائی تھی، البتہ ہم نے آپ کو لکھا تھا کہ ''الشریعہ ''میں چھاپنا آپ کی صوابدید پر ہے۔

۲۔''اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ علمی اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں سوالات واشکالات کا سامنا کرنے اور اختلافی آرا کے لیے اظہار وابلاغ کا حق تسلیم کرنے کے بجائے جبر اور دباؤکے ذریعے سے انہیں روکنے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں''

اختلاف راے سے ہمیں انکار نہیں، لیکن جب اس کی آڑ میں اہل سنت کے علمی مسلمات کو پامال کیا جا رہا ہو تو یہ معروف نہیں منکر ہے اور نہی عن المنکر کا حکم قرآن وسنت دونوں میں ہے۔ نہی عن المنکر کی ایک صورت قوت بازو سے روکنا بھی ہے۔ تو اگر ہم نے گمراہی کی راہ پر چلنے سے روکنے کی کوشش کی تو شرعاً ناجائز نہیں کیا۔ باقی کوشش کامیاب ہو یا نہ ہو، یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے۔ ہدایت پر لگانا تو اللہ کا کام ہے۔

۳۔ آپ مشورہ دیتے ہیں کہ ''شکوہ، شکایت، بے چینی اور اضطراب میں مبتلانہ ہوں''

اس کا جواب یہ کہ کافروں کے ایمان نہ لانے پر بے چینی اور اضطراب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہوتا تھا۔ قرآن اس پر گواہ ہے ۔ باقی ہم تواتنے درد سے خالی ہیں۔ ہم تو خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں اور تنبیہ کرتے ہیں۔ باقی اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں، کوئی فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔

ہم اس کے قائل نہیں کہ بے فائدہ بحثوں میں الجھیں، اس لیے اگرچہ آپ کے جائزہ کے تمام ہی نکات کمزور ہیں، لیکن ہم نے صرف چند ہی کی نشاندہی کی ہے۔ اگر آپ کو ہم سے اختلاف ہے اور ہماری کوئی بات بھی آپ کو درست نظر نہیں آتی تو ہم آپ کو مزید زحمت نہ دیں گے۔ ہم بحمداللہ جو طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، علیٰ وجہ البصیرت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آپ کے مشوروں کی حاجت نہیں رکھتے۔ فقط

عبدالواحد غفرلہ

۱۲؍مارچ ۲۰۰۹ء

مکرم ومحترم جناب مولانا مفتی عبد الواحد صاحب زید مجدہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

آپ کا گرامی نامہ ملا۔ میں نے آپ کے ارشادات کا بغورمطالعہ کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگرچہ آپ نے اپنے خط کے آخر میں ہمارے مابین جاری بحثوں کو ''بے فائدہ'' قرار دیا ہے، لیکن آپ کے اس خط سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بحث اتنی بھی بے فائدہ نہیں رہی، اس لیے کہ میرے ناقص فہم کے مطابق بعض اہم نکات کے حوالے سے ہمارے مابین اتفاق راے پیدا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس خط کے ذریعے سے میں انھی نکات کی تنقیح کرنا چاہتا ہوں، البتہ بحث کو مزید آگے بڑھانے یا نہ بڑھانے کے سلسلے میں آپ اپنی صواب دید کے مطابق کوئی بھی فیصلہ کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔

۱۔ آپ نے فرمایا ہے کہ اہل سنت فقہی دائرے میں کتاب وسنت کے ساتھ ساتھ اجماع وقیاس کو بھی اپنے اصول میں شمار کرتے ہیں، جبکہ میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں۔ یہ میرے موقف کی درست ترجمانی نہیں۔ فقہ واستنباط کا دائرہ دین وشریعت کی اساسات کی تعیین سے نہیں بلکہ اس کے اجزا کی تفہیم اور تعبیر وتشریح سے متعلق ہے اور اس ضمن میں ہمارا سارا علمی ذخیرہ اصلاً اہل علم ہی کی علمی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ اس دائرے میں تو کسی ایک صاحب علم کی راے کی بھی بڑی اہمیت ہے، چہ جائیکہ فقہا کے ایک بہت بڑے گروہ کے اتفاق کے علمی وزن کی بالکلیہ نفی کر دی جائے۔ میرا اختلاف 'اجماع' کو، جو عملاً کسی مسئلے میں بعض فقہا کی راے نقل ہونے اور دوسرے اہل علم سے کوئی اختلاف منقول نہ ہونے سے عبارت ہے، ایک فقہی اصول کے طورپر تسلیم کرنے اور اسے وزن دینے سے نہیں، بلکہ اس کو کتاب وسنت کے نصوص کے درجے میں ایک ایسی قطعی حجت قرار دینے سے ہے جس سے کسی حال میں اختلاف نہ کیا جا سکتا ہو۔ دوسرے لفظوں میں، میں اصولیین کے اس گروہ کی راے کو زیادہ درست سمجھتا ہوں جو 'اجماع سکوتی' کو حجت قطعیہ نہیں بلکہ حجت ظنیہ قرار دیتا ہے، چنانچہ آمدی نے لکھا ہے: 'فالاجماع السکوتی ظنی والاحتجاج بہ ظاہر لا قطعی' (الاحکام ۱/۲۵۴) 'غایتہ انہ خالف الاجماع السکوتی ونحن نقول بجواز ذلک' (الاحکام ۱/۲۶۰) ظاہر ہے کہ ظنی درجے کی یہ حجت یہ درجہ ہرگز نہیں رکھتی کہ اس کی بنیاد پر قرآن وسنت سے براہ راست استنباط کا دروازہ ہی بند کر دیا جائے اور اگرکوئی صاحب علم نصوص کی روشنی میں کوئی مختلف راے پیش کرے تو اسے اس پر گردن زدنی قرار دے دیا جائے۔ میں نے اسی تناظر میں امام ابن تیمیہ کے اس ارشاد کا حوالہ دیا ہے کہ اگر کوئی صاحب علم کتاب وسنت سے استدلال کی بنیاد پر کوئی راے پیش کرے تو اس کے جواب میں 'اجماع' کا حوالہ دے کر اسے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

۲۔ آپ نے فرمایا ہے کہ ''تفسیر کبیر، اصول سرخسی اور الفوز الکبیر سے جو حوالے آپ نے دیے ہیں، وہ تفسیر وتاویل سے متعلق ہیں، کسی حکم شرعی کے اثبات سے متعلق نہیں ہیں۔''

گویا آپ نصوص کی تفسیر وتاویل کے ضمن میں سلف سے منقول آرا سے مختلف راے قائم کرنے کی گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ موقف بدیہی طور پر آپ کے سابقہ موقف سے مختلف ہے، اس لیے کہ اس سے پہلے ''مقام عبرت'' میں سورۂ نساء کی آیات ۱۵، ۱۶ کی تفسیر کے ضمن میں میری راے پر، جو کسی حکم شرعی کے استنباط سے نہیں بلکہ دونوں آیتوں میں بیان ہونے والی الگ الگ سزا کی توجیہ سے متعلق تھی، تنقید کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا کہ ''اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ محمد عمار صاحب کے نزدیک امت کے اب تک مفسرین کو قرآن کی اس آیت کا مطلب نہیں سوجھا اور وہ ایک عظیم غلطی میں مبتلا رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ امت کے حق میں انتہائی خوفناک ہے، کہ وہ ایک اہم مسئلہ میں گمراہی کا شکار رہی اور ایسے ہی قرآن پاک کے حق میں بھی کہ وہ ایسا چیستان ہے کہ صرف جاوید احمد غامدی اور محمد عمار جیسے صاحب اسلوب لوگ ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں، نہ صحابہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی تابعین۔''

بہرحال اب اگر آپ سرخسی، رازی اور شاہ ولی اللہ کی آرا کی بنیاد پر نصوص کی نئی تاویل وتفسیر کی گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں تو میں اسے آپ کی حق پسندی پر محمول کرتا ہوں، البتہ آپ نے نئی راے کے جواز کو نصوص کی تاویل وتفسیر تک محدود رکھا ہے جبکہ حکم شرعی کے ضمن میں اسے قبول نہیں کیا۔ میرا اشکال یہ ہے کہ حکم شرعی تو بذات خود نصوص کی تاویل وتفسیر کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس سے ہٹ کر احکام شرعیہ کو اخذ کرنے کا کوئی اور طریقہ کم سے کم میرے علم میں نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ نص کی تاویل اگر ایک طریقے سے کی جائے گی تو حکم شرعی اور ہوگا، اور دوسرے طریقے سے کی جائے گی تو حکم شرعی بھی بدل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ نے 'انما الصدقات للفقراء' کی جو نئی تفسیر کی ہے، اس سے مصارف زکوٰۃ کے آٹھ اقسام میں محصور ہونے کا حکم شرعی بھی تبدیل ہوا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ جب آپ نصوص کی تاویل وتفسیر کے ضمن میں نئی راے کی گنجایش تسلیم کرتے ہیں تو کسی حکم شرعی کی تعبیر میں، جو خود تاویل وتفسیر کے اسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، اس گنجایش کے انکار کی کیا وجہ ہے؟

۳۔ جمہوری طرز حکومت میں عورت کے منصب حاکمیت پر فائز ہونے کے جواز سے متعلق مولانا اشرف علی تھانویؒ کی راے کا دفاع کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے کہ ''مولانا تھانوی رحمہ اللہ کا فتویٰ ان کی اس بنیاد پر ہے کہ اجماع سے جو عورت کی سربراہی ناجائز ہے، وہ اس وقت ہے جب اسے مطلق العنان بادشاہت حاصل ہو۔ اور بات بھی یہ ہے کہ موجودہ دور سے پہلے بادشاہت ہی ہوتی تھی، اس لیے اس کے مطابق حکم لگایا گیا تھا اور اجماع اس پر ہوا تھا۔ مولانا رحمہ اللہ نے ازسرنو غور وفکر کرکے اجماع واتفاق سے اختلاف نہیں کیا۔''

جہاں تک مولانا تھانوی کے ازسرنو غور کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ہے تو آپ کی بات اس صورت میں درست ہو سکتی تھی جب فقہا نے عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے یہ تخصیص بیان کی ہو کہ یہ حکم کسی مخصوص نظام حکومت سے متعلق ہے۔ فقہا اسے ایک مطلق ممانعت کے طورپر بیان کرتے ہیں، اس لیے مولانا تھانوی کا جمہوری طرز حکومت میں عورت کے لیے اس کی گنجایش پیدا کرنا اس کے سوا ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ متعلقہ حدیث پر ازسرنو غور کر کے اس کے محل کومتعین کریں اور اس کی روشنی میں یہ طے کریں کہ آیا جمہوری نظام حکومت میں عورت کا حکمرانی کے منصب پر فائز ہونا اس ممانعت کے تحت آتا ہے یا نہیں۔

بہرحال اس ضمنی اشکال سے قطع نظر، آپ کے مذکورہ ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے میری اس گزارش سے بھی اصولی طور پر اتفاق فرما لیا ہے کہ کسی بھی دور میں علما وفقہا کا اجماع واتفاق اصلاً اس عملی صورت حال کے تناظر میں ہوتا ہے جو ان کے سامنے ہوتی ہے اور وہ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے نصوص کی کوئی مطلق اور ابدی نوعیت کی نہیں، بلکہ ایک عملی اور اطلاقی تعبیر پیش کرتے ہیں، اور یہ کہ اگر بعد کے زمانوں میں عملی صورت حال میں تغیر پیدا ہونے یا کوئی نیا امکان سامنے آنے پر کوئی نئی راے قائم کی جائے تو اسے سابقہ 'اجماع'کی مخالفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر میں آپ کی بات کا مفہوم درست سمجھا ہوں تو میری ناقص راے میں ہمارے مابین زیر بحث نکتے کے حوالے سے کوئی اصولی اختلاف باقی نہیں رہ جاتا، اس لیے کہ میں نے ''حدود وتعزیرات'' میں جتنے بھی مسائل، مثلاً دیت کی مقدار، ارتداد کی سزا اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی قانونی حیثیت وغیرہ سے متعلق سابقہ فقہی اجماع سے مختلف راے قائم کی یا ایسی کسی راے کو قابل غور قرار دیا ہے، وہ اسی تناظر میں ہے کہ فقہا کی آرا اپنے دور کے معروضی حالات کے تناظر میں درست تھیں، لیکن اب حالات کی سیاسی، قانونی اور تمدنی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے، اس لیے ان امور میں متعلقہ نصوص پر ازسر نو غور کر کے اجتہادی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔ آپ ان میں سے ہر راے سے اسی طرح علمی اختلاف کر سکتے ہیں جیسے آپ یقیناًمولانا تھانوی کی مذکورہ راے سے کرتے ہوں گے، لیکن اگر مولانا تھانوی کی راے 'اجماع' کے خلاف نہیں تو میری گزارشات پر بھی ''اہل سنت کے علمی مسلمات کو پامال کرنے'' کا الزام رکھ کر 'نہی عن المنکر' کا فریضہ انجام دینے کا کوئی علمی، شرعی اور اخلاقی جواز نہیں۔

میں آپ سے پھر امید رکھتا ہوں کہ آپ اپنی نیک دعاؤں میں مجھے یاد فرماتے رہیں گے۔

محمدعمارخان ناصر

۱۸؍ مارچ ۲۰۰۹

بخدمت جناب حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

حافظ محمد عمار صاحب نے میری ایک دو عبارتوں سے جو نتیجے نکال کر میری طرف منسوب کیے ہیں، ان سے میں اظہار براء ت کرنا چاہتا ہوں۔ علمی تحقیق وتنقید میں محمد عمار صاحب کے طرز عمل سے مایوسی کے بعد اظہار براء ت کا بھی ارادہ نہ تھا، لیکن ''الشریعہ'' کے مئی، جون ۲۰۰۹ء کے شمارے میں چونکہ عمار صاحب نے دوبارہ ان نتائج کو ذکر کیا ہے، اس لیے مجبوراً یہ قدم اٹھانا ضروری سمجھا۔ آپ سے گزارش ہے کہ میرے اس اظہار براء ت کو ''الشریعہ'' کی قریبی اشاعت میں شائع فرما دیں۔

۱۔ عمار صاحب نے میرے مضمون ''مقام عبرت'' کا جو جوابی جائزہ شائع کیا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:

''یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہماری گفتگو فقہی موضوع سے متعلق تھی اور ہے، اور فقہی دائرے میں اہل سنت کے نزدیک اجماع اصول اربعہ میں سے ہے۔

اب آپ ان مثالوں کودیکھیے جن کو آپ نے اپنے حق میں ذکر کیا ہے:

(۱) ''تفسیر کبیر''، ''اصول سرخسی'' اور ''الفوز الکبیر'' سے جو حوالے آپ نے دیے ہیں، وہ تفسیر وتاویل سے متعلق ہیں، کسی حکم شرعی کے اثبات سے متعلق نہیں ہیں۔'' (الشریعہ، اپریل ۲۰۰۹، ص ۴۳)

میری بات کا مطلب واضح تھا کہ عمار صاحب کی ذکر کردہ مثالیں فقہی دائرے سے خارج ہیں اور کسی حکم شرعی کے اثبات سے خالی تفسیر وتاویل سے متعلق ہیں۔ رہی یہ بات کہ تفسیر وتاویل کیا مطلقاً جائز ہوتی ہے یا اس کی کچھ حدود وقیود اور شرائط ہیں، اس موضوع کو میں نے چھیڑا ہی نہیں تھا۔ لیکن عمار صاحب اپنے انوکھے اسلوب کے ذریعے بات کو اپنے مطلب کی طرف لے گئے اور ازخود ہی یہ فیصلہ لکھ دیا:

''گویا آپ نصوص کی تفسیر وتاویل کے ضمن میں سلف سے منقول آرا سے مختلف راے قائم کرنے کی گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ موقف بدیہی طور پر آپ کے سابقہ موقف سے مختلف ہے، اس لیے کہ اس سے پہلے ''مقام عبرت'' میں سورۂ نساء کی آیات ۱۵، ۱۶ کی تفسیر کے ضمن میں میری راے پر، جو کسی حکم شرعی کے استنباط سے نہیں بلکہ دونوں آیتوں میں بیان ہونے والی الگ الگ سزا کی توجیہ سے متعلق تھی، تنقید کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا کہ ''اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ محمد عمار صاحب کے نزدیک امت کے اب تک مفسرین کو قرآن کی اس آیت کا مطلب نہیں سوجھا اور وہ ایک عظیم غلطی میں مبتلا رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ امت کے حق میں انتہائی خوفناک ہے، کہ وہ ایک اہم مسئلہ میں گمراہی کا شکار رہی اور ایسے ہی قرآن پاک کے حق میں بھی کہ وہ ایسا چیستان ہے کہ صرف جاوید احمد غامدی اور محمد عمار جیسے صاحب اسلوب لوگ ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں، نہ صحابہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی تابعین۔'' بہرحال اب اگر آپ سرخسی، رازی اور شاہ ولی اللہ کی آرا کی بنیاد پر نصوص کی نئی تاویل وتفسیر کی گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں تو میں اسے آپ کی حق پسندی پر محمول کرتا ہوں۔''

پھر عمار صاحب کی کاریگری دیکھیے کہ سب سے پہلے لفظ ''گویا'' کے ساتھ ذکر کیا، پھر اس کو میرا موقف بتایا اور آخر میں پھر ''اگر'' کے کلمہ کو لے آئے۔

۲۔ عمار صاحب نے عورت کی سربراہی سے متعلق مولانا تھانویؒ کے فتوے کو اپنے حق میں دلیل بنایا تھا۔ اس پر میں نے لکھا تھا:

'' مولانا تھانوی ؒ کا فتویٰ ان کی اس بنیاد پر ہے کہ اجماع سے جو عورت کی سربراہی ناجائز ہے، وہ اس وقت ہے جب اسے مطلق العنان بادشاہت حاصل ہو اور بات بھی یہ ہے کہ موجو دہ دور سے پہلے بادشاہت ہی ہوتی تھی، اس لیے اس کے مطابق حکم لگایا گیا تھااور اجماع اس پر ہو اتھا۔ مولانارحمہ اللہ نے از سر نو غور وفکر کر کے اجماع و اتفاق سے اختلاف نہیں کیا۔ ''

میری اس بات کا مطلب واضح ہے کہ اگرچہ ہمیں مولانا تھانویؒ کے فتوے سے اختلاف ہے، لیکن پھر بھی ان کی رائے کو ہم احترا م کی نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ مولانا رحمہ اللہ نے مطلق العنان حکومت میں عورت کی سربراہی کے عدم جواز کی نفی نہیں کی۔ اس کی حجیت اور اس کے حکم کی ابدیت کو باقی رکھا۔ البتہ جمہوریت، جس میں حکومت کا ایک نیا انداز ہے جو پہلے نہ تھا، اس میں مولانا رحمہ اللہ کی یہ رائے ہوئی کہ یہ اجماعی حکم میں داخل ہی نہیں۔

عمار صاحب نے یہاں بھی اپنا مطلب نکال لیا اور لکھا:

''آپ کے مذکورہ ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے میری اس گزارش سے بھی اصولی طور پر اتفاق فرما لیا ہے کہ کسی بھی دور میں علما وفقہا کا اجماع واتفاق اصلاً اس عملی صورت حال کے تناظر میں ہوتا ہے جو ان کے سامنے ہوتی ہے اور وہ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے نصوص کی کوئی مطلق اور ابدی نوعیت کی نہیں، بلکہ ایک عملی اور اطلاقی تعبیر پیش کرتے ہیں، اور یہ کہ اگر بعد کے زمانوں میں عملی صورت حال میں تغیر پیدا ہونے یا کوئی نیا امکان سامنے آنے پر کوئی نئی راے قائم کی جائے تو اسے سابقہ 'اجماع'کی مخالفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ '' (الشریعہ، اپریل ۲۰۰۹ء، ص ۴۷)

رونا تو یہ ہے کہ عمار صاحب سب کچھ سمجھنے کے باوجود دوسروں کو چکر دینا چاہتے ہیں۔ آخر دیکھیے کہاں تو میں نے یہ کہا کہ مولانا تھانویؒ کے نزدیک مطلق العنان حکومت میں عورت کی سربراہی کے عدم جواز کا حکم اجماعی اور ابدی ہے اور کہاں محمد عمار صاحب کا یہ کہنا کہ حکم اجماعی وابدی نہیں، بلکہ اطلاقی ہوتا ہے۔ پھر بھی عمار صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان اصولی اختلاف باقی نہیں رہتا۔

یہ دو باتیں جن میں میرے اور عمار صاحب کے درمیان بہت بڑا اصولی اختلاف ہے، ان کے بارے میں ''الشریعہ'' (مئی، جون ۲۰۰۹ء) میں عمار صاحب لکھتے ہیں:

''اور اس مکالمے کے نتیجے میں ہمارے اور مولانا محترم کے مابین اصولی طور پر نصوص کی نئی تاویل وتفسیر کی گنجایش اور نئے حالات کے تناظر میں سابقہ فقہی اجماع سے مختلف راے قائم کرنے کے جواز کے حوالے سے اتفاق راے سامنے آ گیا جو ہمارے خیال میں ایک بے حد قیمتی چیز ہے۔'' (الشریعہ، مئی جون ص ۱۱۸)

عمار صاحب کے اس طرز عمل پر انا للہ پڑھتا ہوں اور ان دونوں ہی باتوں سے جو عمار صاحب نے میری طرف منسوب کی ہیں اور جو میری عبارت کے نہ مفہوم موافق سے نکلتی ہیں اور نہ ہی مفہوم مخالف سے، میں براء ت کا اظہار کرتا ہوں اور اس اظہار براء ت کے جواب میں عمار صاحب جو کچھ اپنے حق میں ثابت کرنے کی کوشش کریں گے، اس سے بھی پیشگی اظہار براء ت کرتا ہوں۔

عبد الواحد غفرلہ

مکرم ومحترم حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب زید مجدہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

'الشریعہ' میں اشاعت کے لیے والد گرامی کے نام آپ کا تحریر کردہ مکتوب موصول ہوا۔ ان شاء اللہ، حسب ارشاد اسے ممکنہ قریبی اشاعت میں شامل کر لیا جائے گا۔

آپ نے اپنے دو اقتباسات سے میرے اخذ کردہ نتائج سے ''اظہار براء ت'' فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ اپنے موقف کی تعیین اور وضاحت کا آپ کو پورا پورا حق حاصل ہے، لیکن افسوس ہے کہ آپ نے میرے اخذ کردہ نتائج کو ''سب کچھ سمجھنے کے بعد دوسروں کو چکر دینے'' سے تعبیر کیا ہے، حالانکہ میں نے آپ کے زیر بحث اقتباسات سے جو مطلب سمجھا تھا، وہ آپ کے نام مکتوب میں باقاعدہ آپ کے اقتباسات کی روشنی میں پیش کیا اور پوری دیانت داری سے آپ کا موقف متعین کرنے کے باوجود اسے ''گویا'' اور ''اگر'' اور ''اگر میں آپ کی بات کا مفہوم درست سمجھا ہوں تو'' ہی کے الفاظ سے بیان کیا تھا۔ اگر میرے اخذ کردہ نتائج درست نہیں تھے تو آپ کی علمی واخلاقی ذمہ داری تھی کہ آپ اس کی تردید کرتے، لیکن آپ نے میرے اس مکتوب کا، جو ۱۸؍مارچ ۲۰۰۹ء کو تحریر کیا گیا، کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد میرے اور آپ کے خطوط 'الشریعہ' کے اپریل ۲۰۰۹ء کے شمارے میں شائع ہوئے، اس پر بھی آپ کی طرف سے کوئی توضیح یا تردید سامنے نہیں آئی۔ پھر جب میں نے مئی/جون ۲۰۰۹ء کے 'الشریعہ' میں انھی اخذ کردہ نتائج کا حوالہ دیا تو اس کے ایک ماہ بعد آپ اپنے تازہ مکتوب میں، جو مجھے ۴؍جون ۲۰۰۹ء کو ملا ہے، فرماتے ہیں کہ ''عمار صاحب نے میری ایک دو عبارتوں سے جو نتیجے نکال کر میری طرف منسوب کیے ہیں، ان سے میں اظہار براء ت کرنا چاہتا ہوں۔'' ازراہ کرم آپ ہی بتائیں کہ اگر میرے خط کے جواب میں اپنی ذہنی الجھن اور گومگو کی کیفیت سے نکلنے میں ڈھائی ماہ کا عرصہ آپ کو لگا ہے تو اس پر ''چکر دینے'' کی نسبت میری طرف کرنے کا کیا اخلاقی جواز ہے؟

پھر لطف کی بات یہ ہے کہ آپ اپنے ارشاد ات پر پیدا ہونے والے نہ صرف سابقہ بلکہ آئندہ سوالات کا بھی سامنا کرنے سے بچنے کے لیے ''پیشگی براء ت'' کا اظہار کر کے اپنے آپ کو بری الذمہ تصور فرما رہے ہیں، حالانکہ اپنے موقف کی دوٹوک اور واضح تعیین کی جو ذمہ داری آپ پر شرعاً واخلاقاً عائد ہوتی ہے، یہ اظہار براء ت آپ کو اس سے بری الذمہ نہیں ٹھہراتا۔ اس ضمن میں، میں چند سوالات آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر آپ ان کا جواب دینا مناسب نہ سمجھیں تو پھر میرا یہ حق ہوگا کہ آپ کے خط کے ساتھ میرا خط بھی 'الشریعہ' میں شائع ہو اور قارئین خود فیصلہ کریں کہ کس کی بات میں وزن ہے۔

۱۔ آپ نے میری جن آرا پر تنقید فرمائی تھی، وہ سب کی سب فقہی نوعیت کی نہیں تھیں، بلکہ ان میں سورۂ نساء کی آیت ۱۵، ۱۶ میں 'واللتی یاتین الفاحشۃ' اور 'والذان یاتیانہا' کے مصداق کی تعیین کا مسئلہ سراسر ایک تفسیری مسئلہ تھا۔ آپ نے اعتراض فرمایا کہ میں نے اس کے مصداق کی تعیین کے ضمن میں جس راے کو ترجیح دی ہے، وہ سلف سے منقول آرا سے بالکل مختلف ہے، اس لیے قابل قبول نہیں۔ اس کے جواب میں، میں نے امام رازی اور شاہ ولی اللہ رحمہما اللہ وغیرہ کے حوالے سے یہ واضح کیا کہ کسی نص کی تفسیر میں سلف سے مختلف راے قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ کا موقف اس کے بعد بھی یہی تھا کہ تفسیر وتاویل میں سلف سے اختلاف جائز نہیں تو آپ کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ آپ واضح لفظوں میں یہ بتاتے کہ مذکورہ اکابر کا موقف درست نہیں، لیکن آپ نے اس کے بجاے یہ تحریر فرمایا کہ ''تفسیر کبیر، اصول سرخسی او رالفوز الکبیر کے جو حوالے آپ نے دیے ہیں، وہ تفسیر وتاویل سے متعلق ہیں، کسی حکم شرعی کے اثبات سے متعلق نہیں۔''

اس تناظر میں، میرا یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل بجا تھا کہ آپ احکام شرعیہ کے ضمن میں تو نہیں، لیکن ''نصوص کی تفسیر وتاویل کے ضمن میں سلف سے منقول آرا سے مختلف راے قائم کرنے کی گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں'' لیکن اب آپ فرماتے ہیں کہ ''یہ بات کہ تفسیر وتاویل کیا مطلقاً جائز ہوتی ہے یا اس کی کچھ حدود وقیود اور شرائط ہیں، اس موضوع کو میں نے چھیڑا ہی نہیں تھا، لیکن عمار صاحب اپنے انوکھے اسلوب کے ذریعے بات کو اپنے مطلب کی طرف لے گئے۔'' سوال یہ ہے کہ جب فقہی معاملات سے ہٹ کر ایک مخصوص آیت کی تفسیر وتاویل کا مسئلہ مستقل طور پر زیر بحث ہے جس پر آپ نے اعتراض بھی اٹھایا ہے اور آپ اس ضمن میں مذکورہ اکابر کی آرا سے استدلال کے جواب میں ان کی تردید نہیں کرتے بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ حوالے ''تفسیر وتاویل سے متعلق ہیں، کسی حکم شرعی کے اثبات سے متعلق نہیں'' تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا بنتا ہے کہ تفسیر وتاویل کے دائرے میں آپ ان اکابر کی راے سے اتفاق رکھتے اور سلف کی آرا سے اختلاف کی گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں؟

فرض کیجیے کہ آپ کے اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں تھا تو ازراہ کرم اب یہ واضح فرما دیجیے کہ مذکورہ اکابر اور ان کے علاوہ بہت سے دوسرے کبار اہل علم نے سلف کی تفسیری آرا سے جس اختلاف کو نہ صرف عملاً بلکہ اصولاً بھی روا رکھا ہے، اس کے بارے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ نیز یہ بھی واضح فرمائیے کہ اگر آپ اس گنجایش کو تسلیم نہیں کرتے تو کیا مذکورہ سب اکابر کی آرا پر بھی وہی فتویٰ عائد ہوگا جو آپ نے میری آرا پر کیا ہے، یعنی یہ کہ ''اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ محمد عمار صاحب کے نزدیک امت کے اب تک مفسرین کو قرآن کی اس آیت کا مطلب نہیں سوجھا اور وہ ایک عظیم غلطی میں مبتلا رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ امت کے حق میں انتہائی خوفناک ہے، کہ وہ ایک اہم مسئلہ میں گمراہی کا شکار رہی اور ایسے ہی قرآن پاک کے حق میں بھی کہ وہ ایسا چیستان ہے کہ صرف جاوید احمد غامدی اور محمد عمار جیسے صاحب اسلوب لوگ ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں، نہ صحابہ سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی تابعین۔''

۲۔ جمہوری طرز حکومت میں عورت کے منصب حکمرانی پر فائز ہونے کے جواز سے متعلق مولانا اشرف علی تھانویؒ کے فتوے کی توجیہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھاکہ ''مولانا تھانوی رحمہ اللہ کا فتویٰ ان کی اس بنیاد پر ہے کہ اجماع سے جو عورت کی سربراہی ناجائز ہے، وہ اس وقت ہے جب اسے مطلق العنان بادشاہت حاصل ہو۔ اور بات بھی یہ ہے کہ موجودہ دور سے پہلے بادشاہت ہی ہوتی تھی، اس لیے اس کے مطابق حکم لگایا گیا تھا اور اجماع اس پر ہوا تھا۔ مولانا رحمہ اللہ نے ازسرنو غور وفکر کرکے اجماع واتفاق سے اختلاف نہیں کیا۔''

افسوس ہے کہ اس توجیہ کے جواب میں، میں نے اپنے خط میں جو بنیادی گزارش کی تھی، اسے آپ نے توجہ کا مستحق نہیں سمجھا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ''جہاں تک مولانا تھانوی کے ازسرنو غور کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ہے تو آپ کی بات اس صورت میں درست ہو سکتی تھی جب فقہا نے عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے یہ تخصیص بیان کی ہو کہ یہ حکم کسی مخصوص نظام حکومت سے متعلق ہے۔ فقہا اسے ایک مطلق ممانعت کے طورپر بیان کرتے ہیں، اس لیے مولانا تھانوی کا جمہوری طرز حکومت میں عورت کے لیے اس کی گنجایش پیدا کرنا اس کے سوا ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ متعلقہ حدیث پر ازسرنو غور کر کے اس کے محل کومتعین کریں اور اس کی روشنی میں یہ طے کریں کہ آیا جمہوری نظام حکومت میں عورت کا حکمرانی کے منصب پر فائز ہونا اس ممانعت کے تحت آتا ہے یا نہیں۔''

اگر میری مذکورہ گزارش میرا مدعا واضح نہ کر سکی ہو تو دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ مولانا تھانوی نے اپنے فتوے میں اجماع کی بحث سرے سے اٹھائی ہی نہیں اور نہ اس بات کی کوئی توجیہ کی ہے کہ ان کا فتویٰ اجماع کے خلاف ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو اس کی گنجایش ان کے نزدیک کیسے پیدا ہوتی ہے۔ انھوں نے اپنی راے کے لیے براہ راست متعلقہ نصوص کو بنیاد بنایا ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ نصوص کی رو سے چونکہ عورت کی حکمرانی کے عدم جواز کی وجہ اس کی راے کا نقص ہے، اس لیے اس علت کی رو سے عدم جواز کو اسی صورت سے متعلق ہونا چاہیے جب وہ مستبد بالرای یعنی مطلق العنان حاکم ہو۔ گویا مولانا ایک نئی صورت کے سابقہ اجماع کے تحت داخل ہونے یا نہ ہونے کی ذیلی بحث میں پڑے ہی نہیں اور اس کے بجاے انھوں نے نفس نص کی تشریح میں فقہا کے اب تک کے مسلمہ موقف سے اختلاف کیا اور اس سے جمہوری طرز حکومت میں عورت کی حکمرانی کا جواز اخذ کیا ہے۔ اس طرح مولانا کا یہ فتویٰ آپ کے تمام مفروضہ اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ انھوں نے براہ راست نصوص کی تشریح میں سلف سے اختلاف کیا ہے، یہ اختلاف صرف تفسیر وتاویل سے نہیں، بلکہ ایک شرعی حکم سے متعلق ہے اور اس کے نتیجے میں مطلقاً عدم جواز کے مسلمہ اور اجماعی فقہی موقف کے برعکس جمہوری طرز حکومت میں عورت کی حکمرانی کا جواز ثابت ہوتا ہے۔

مولانا کی اس راے کی حقیقی نوعیت اور اس کے ان نہایت واضح مضمرات سے آنکھیں چراتے ہوئے آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس کی کوئی ایسی توجیہ کر دی جائے جس سے آپ کا مفروضہ اصول ''اجماع'' ٹوٹنے نہ پائے۔ اس کے لیے آپ نے مطلق العنان طرز حکومت اور جمہوری طرز حکومت کے فرق کا نکتہ نکالا اور فرمایا کہ فقہا کا اجماع پہلی صورت سے متعلق تھا، اس لیے جمہوری طرز حکومت میں جواز کے فتوے کو اجماع کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال اس خاص نکتے سے اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر، چونکہ فقہا اس قسم کے کسی فرق کا ذکر کیے بغیر عدم جواز کا حکم علی الاطلاق بیان کرتے ہیں اور اس کے باوجود آپ ان کے فتوے کو اس دور کے عملی حالات کے تناظر میں کسی مخصوص طرز حکومت کے ساتھ مخصوص کرنے کی گنجایش تسلیم کرتے ہیں، اس لیے میں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آپ کے نزدیک اگر کسی فقہی معاملے میں کوئی نئی صورت سامنے آئے تو اسے فقہا کے اجماع واتفاق کے دائرے سے باہر تصور کرنا اصولی طور پر درست ہے، چاہے فقہا نے حکم کے ساتھ کوئی تخصیص یا تقیید بیان نہ کی ہو، البتہ کوئی مخصوص صورت علمی وفقہی طور پر فی الواقع اس دائرے سے باہر ہے یا نہیں، اس میں بحث ہو سکتی ہے۔

اس کے جواب میں آپ نے اپنے حالیہ مکتوب میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ الجھا ہوا ہے اور اس سے آپ کا نقطہ نظر کھل کر سامنے نہیں آتا۔ پہلے تو یہی بات واضح نہیں کہ آپ کسی نئی صورت واقعہ کی فقہی نوعیت کو متعین کرتے ہوئے اسے ماضی کے اجماع واتفاق کے دائرے سے باہر تصور کرنے کو، جبکہ فقہا کے ہاں کسی تقیید وتخصیص کا اشارۃً بھی ذکر نہ ہو، اصولی طو رپر درست سمجھتے ہیں یا یہ گنجایش محض مولانا تھانوی کے ''احترام'' میں پیدا کی جا رہی ہے؟ اگر دوسری صورت ہے تو کیا علمی معروضیت، غیر جانب داری اور دیانت داری یہی ہے کہ کسی کا احترام پیش نظر ہو تو علمی اصولوں کی تاویل کر کے اس کی راے کے لیے گنجایش پیدا کر لی جائے اور اگر بے احترامی مقصود ہو تو سلف کے اصولوں کے مطابق اختلاف راے کرنے والوں پر بھی کج روی، انحراف اور گمراہی کے فتوے عائد کیے جائیں؟

اور اگر اصولی طور پر آپ اس گنجایش کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ واضح نہیں ہوتا کہ آپ کے موقف اور میرے موقف میں اختلاف کیا ہے۔ اس ضمن میں بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ خلط مبحث کا شکار ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ''کہاں تو میں نے یہ کہا کہ مولانا تھانوی کے نزدیک مطلق العنان حکومت میں عورت کی سربراہی کے عدم جواز کا حکم اجماعی اور ابدی ہے اور کہاں محمد عمار صاحب کا یہ کہنا کہ حکم اجماعی ابدی نہیں ہوتا بلکہ اطلاقی ہوتا ہے''۔ ازراہ کرم اس سوال پر غور فرمائیں کہ فقہا کے عدم جواز کے فتوے کو ''مطلق العنان حکومت'' تک خود فقہا نے محدود کیا ہے یا مولانا تھانوی کی طرف سے فقہا کے موقف کی یہ تعبیر آپ پیش کر رہے ہیں؟ ظاہر ہے کہ پہلی صورت نہ