حرمت سود: چند نکات


ڈاکٹرمحمد اقبال قریشی

[''نقطۂ نظر'' کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔

اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

سود کا تعلق قرض کے ساتھ ہے قرض کی ادائیگی بالمثل کے بجاے منفعت کے ساتھ ہو تو اس کا نام سود ہے۔

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

کل قرض جر منفعۃ فھو الربا.(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۰۶۹۰)

فقہی اصطلاح میں سود قرض پر اضافہ بلا عوض ہے۔

زمانۂ قدیم سے سونا چاندی مسکوک و غیر مسکوک ہر دو حالتوں میں خرید و فروخت کے لیے استعمال ہو تا تھا۔ درہم اور دینارکی قیمت اس کے وزن کے حساب سے طے ہوتی تھی۔ درہم دینار کے لیے 'ذھب' اور 'فضہ' کے الفاظ کا استعمال مجازاً بہ کثرت تھا۔

قرآن میں کرنسی کے لیے 'ذھب وفضہ' کا استعمال ہوا ہے۔ سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۳۴ میں ہے:

وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ.

سورۂ کہف (۱۸) کی آیت ۱۹ میں ہے:

فَابْعَثُوْٓا اَحَدَکُمْ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہٖٓ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ.

اصحاب کہف نے پرانے دور کا درہم دے کر اپنے ساتھی کو کھانا لانے کے لیے بھیجا تھا۔

قرض کی ادائیگی بالمثل کرنسی میں ہونی چاہیے: 'الذھب بالذھب وزنًا بوزن مثلًا بمثل، والفضۃ بالفضۃ وزنًا بوزن مثلًا بمثل، فمن زاد واستزاد فھو ربًا'(مسلم، رقم ۴۰۶۸)۔

اگر وزن میں کمی بیشی ہو تو یہ سود ٹھیرے گا۔عہد رسالت میں کرنسی کا اجرا حکومتی کنٹرول میں نہ تھا۔ مختلف ممالک کی کرنسی عر ب معاشرے میں رائج تھی ۔ یہ کرنسی ہم وزن نہ تھی ۔ اس لیے اوپر بیان شدہ ہدایت دی گئی۔

قرض کی ادائیگی مختلف کرنسی میں

اگر قرض کی ادائیگی میں کر نسی بدل جائے تو فرمانِ رسول ہے: 'الورق بالذھب ربًا إلا ھاء و ھاء'۔ یہ ربا اس لیے ٹھیرا کہ درہم اور دینار ہم قیمت کرنسی نہیں تھے ۔رسول اللہ نے اس اصول کا اطلاق ہم جنس اشیا پر بھی کیا ہے۔ جو معیار میں فرق ہوں۔ پوری روایت یہ ہے:

الورق بالذھب ربًا إلا ھاء و ھاء، والبر بالبر ربًا إلا ھاء و ھاء والشعیر بالشعیر ربًا إلا ھاء و ھاء والتمر بالتمرربًا إلا ھاء و ھاء.(مسلم، رقم ۴۰۵۹)

یہ روایات قرض کی ادائیگی کے متعلق ہیں۔ انھیں نہ جانے کیوں تبادلۂ اشیا کے متعلق مان لیا گیا ۔ سود کا تعلق قرض کی ادائیگی کے ساتھ ہے۔ فقہا نے اسی روایت سے استدالال کیاہے کہ ربوی اجناس صرف چھ ہیں( سونا چاندی بہ طور کرنسی اور غذائی اجناس ) غامدی صاحب نے انھی چھ اشیا کے لیے (Consumeable Items) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ غذائی اجناس ہی اپنے استعمال میں Consume ہوتی ہیں۔درہم دینار غذائی اشیا کی فراہمی میں Consume ہوتے ہیں۔

میرے فہم کے مطابق حرمت سود سائل و محروم لوگوں کے محل میں ہے۔ربط کلام اور خطاب کا تعین فہم قرآن میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔لازم ہے کہ حرمت سود کے ضمن میں سیاق و سباق کو دیکھا جائے۔

سورۂ بقرہ میں ہے:

'اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ... وَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ' (۲: ۲۶۲۔ ۲۷۴)

ان آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کی تر غیب بیان ہوئی ۔ صدقات سائل و محروم لوگوں کے لیے ہیں۔ پھر سود کو صدقات کے تقابل میں لایا گیا: 'یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ'۔ صدقات کے حق دار محروم لوگ ہی ہوتے ہیں۔

کاروباری لوگ قرضوں کو business Items میں تبدیل کرتے ہیں، جو کہ بالعموم منافع بخش ہوتی ہیں۔ بینک اسی منافع میں سے اپنا حصہ مانگتا ہے۔ سورۂ روم مکی ہے، اس میں ہے:

وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ .... وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ ..... فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ.(۳۰: ۳۹)

ان آیات سے تجارتی سود کی حرمت کا استدلال کیا گیا ہے کہ (لِیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ) کی ترکیب سے واضح ہے کہ مکہ میں تجارتی مقاصد کے لیے قرضوں کا چلن تھا۔

ربط کلام نظر انداز ہو تو آیت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔یہاں بھی سودی قرض کے مقابل زکوٰۃ ہے جو قابل غور ہے۔ اس سے پہلی آیت میں ہے:

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ .... وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.(الروم ۳۰: ۳۸)

سیاق و سباق اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہاں تجارتی سود کی حرمت بیان ہوئی ہے۔ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۸۰ 'وَاِنْ کَانَ ذُوْعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ' میں حرف 'اِنْ' کی تاویل خارج سے حرف 'اذا' کے معنی میں کی گئی۔ یہاں بھی ربط کلام نظرا نداز ہوا ہے ۔سیاق و سباق میں حرف 'اذا' کہیں موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد والی آیت میں ہے: 'وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ'۔

صدقہ سائل و محروم لوگوں پر ہی ہوتا ہے ۔عبارۃ النص کے درجہ میں تجارتی سو دکی حرمت کہیں وجود نہیں رکھتی۔یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔

امام ابو حنیفہ کے نزدیک سونا چاندی کی علت تحریم وزن ہے ۔امام شافعی و امام مالک کے نزدیک علت تحریم قیمت ہے۔ اب کرنسی سونا چاندی کے بجاے کاغذی شکل میں ہے۔ جس کی قیمت ہے، وزن کوئی نہیں ہے۔ اب کرنسی کی علت تحریم قیمت مانی جائے تو قرض کی بالمثل ادائیگی کے لیے لازم ہے کہ کرنسی کی قیمت میں کمی کی تلافی افراط زر کے مطابق کی جائے۔قرض کی واپسی تلافی کے ساتھ ہرگز قرض کا منافع قرار نہیں دی جاسکتی۔

____________