اخلاقیات (۴)


ترجمہ و تحقیق: محمد حسن الیاس

ــــــ 1 ــــــ

عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ،1 حَدِيثٌ، فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلَكَ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ لَقِيتَ فَاسْأَلْ. قَالَ: قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ''ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللهُ''، قَالَ: نَعَمْ، فَمَا أخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثًا يَقُولُهَا، قَالَ: قُلْتُ: مَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ مُجَاهِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: (اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا)2، وَرَجُلٌ يَكُونُ مَعَ قَوْمٍ فَيَسِيرُونَ ]فَيَطُولُ سُرَاهُمْ [3حَتَّى يَشُقَّ عَلَيْهِمُ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ، فَيَنْزِلُونَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ ] أَنْ يَمَسُّوا الْأَرْضَ[4فَيَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ ]حَتَّى يُوقِظَهُمْ لِرَحِيلِهِمْ[5، وَرَجُلٌ لَهُ جَارٌ يُؤْذِيهِ، فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ وَيَحْتَسِبُهُ حَتَّى يَكْفِيَهُ اللهُ إِيَّاهُ بِمَوْتٍ أَوْ حَيَاةٍ قَالَ: قُلْتُ: مَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللهُ؟۶ قَالَ: ''الْفَخُورُ الْمُخْتَالُ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ:(اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ)7، وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالتَّاجِرُ أَوِ الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ8'' قَالَ: قُلْتُ: يَاأَبَا ذَرٍّ، مَا الْمَالُ؟ قَالَ: فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ، يَعْنِي بِالْفِرْقِ: غَنَمًا يَسِيرَةً، قَالَ: قُلْتُ: لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُ، إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ؟ قَالَ: مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى، وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ قُرَيْشٍ؟ قَالَ: وَاللهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينِ اللهِ حَتَّى أَلْقَى اللهَ وَرَسُولَهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا.

_______________

مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک حدیث پہنچی تھی۔ سو اُن سے ملاقات کا اشتیاق رہتا تھا۔چنانچہ میں اُن سے ملا اور عرض کیا کہ آپ کی روایت سے میں نے ایک حدیث سنی تھی تو اُس وقت سے ملاقات کی خواہش تھی۔ میں چاہتا تھا کہ اُس کے بارے میں آپ سے پوچھوں۔ اُنھوں نے کہا:آپ کی ملاقات ہوگئی، اب پوچھیے۔کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے بقول، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تین قسم کے لوگ ہیں، جن سے اللہ محبت رکھتا ہے اور تین ہی قسم کے لوگ ہیں، جنھیں وہ سخت ناپسند کرتا ہے1۔ اُنھوں نے کہا: ہاں، آپ یہ تین قسم کے لوگ بتاتے تھے، اور میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اپنے دوست محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے کوئی جھوٹی بات کروں۔ میں نےعرض کیا: وہ تین قسم کےلوگ کون ہیں، جن سے اللہ محبت کرتا ہے؟ اُنھوں نے فرمایا: ایک وہ شخص جو اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے نکلے،پھر سچے مجاہد کی طرح دشمن کے مقابلے میں آئے اور اُس سے قتال کرے، یہاں تک کہ قتل کر دیاجائے ۔ تم اللہ کی کتاب میں دیکھتے ہو کہ فرمایا ہے: ''اللہ تو اُنھی لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف بستہ ہو کر اِس طرح لڑتے ہیں، گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں''۔ دوسرے وہ شخص جو کسی قافلے کے ساتھ سفر میں ہو، اور سفر طویل ہو جائے، یہاں تک کہ لوگ اونگھ اور نیند سے گراں بار ہو رہے ہوں۔ پھر وہ رات کے آخری حصے میں کسی وقت زمین پر آرام کے لیے اتریں تو وہ وضو اور نماز کے لیے اٹھ کھڑا ہو اور کوچ کا وقت آنے پر قافلے والوں کو جگا دے۔ تیسرے وہ شخص جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہوجو اُسے تکلیف پہنچاتا ہو، لیکن وہ اُس کی اذیتوں پر صبر کرے اور اِسی کو کافی سمجھے، یہا ں تک کہ اللہ ہی اُس کے مقابلے میں اُس کے لیے کافی ہو جائے، خواہ یہ زندگی میں ہو یا موت کے ذریعے سے۔میں نے عرض کیا: اور وہ تین کون ہیں، جنھیں اللہ سخت ناپسند کرتا ہے؟ فرمایا: ایک وہ جو اکڑتا اور فخر جتاتا ہے،اور تم خدا کی کتاب میں بھی دیکھتے ہو کہ فرمایا ہے: ''اللہ کسی اکڑنے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا''۔ دوسرے وہ جو بخیل ہے، اور احسان جتاتا ہے۔ اور تیسرے وہ تاجر یا خرید و فروخت کرنے والا جو اِس کے لیے قسمیں کھاتا ہے2۔ میں نے پوچھا: اے ابوذر، آپ کے پاس کیا مال و دولت ہے3؟ فرمایا: تھوڑی سی بکریاں اور چند اونٹ ہیں۔ اُنھوں نے 'فرق' کا لفظ استعمال کیا اور اِس سے اُن کی مراد 'تھوڑی سی بکریاں' ہی تھی۔ میں نے عرض کیا: میں اِس کے متعلق نہیں پوچھ رہا، میں تو اُس مال کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو اِن کی طرح بولتا نہیں ہے4۔اُنھوں نے کہا: جو صبح ہوتا ہے، وہ شام کو نہیں ہوتا اور جو شام کو ہوتا ہے، وہ صبح نہیں ہوتا 5۔میں نے عرض کیا: آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ فرمایا: خدا کی قسم، میں نہ اُن سے دنیا مانگتا ہوں، نہ دین کے بارے میں کچھ پوچھتا ہوں6، اور میں یہی کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ اللہ اور اُس کے رسول سے جاملوں۔ اُنھوں نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔

_______________

1۔اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ جن سے محبت کرتا اور جنھیں ناپسند کرتا ہے، وہ اِنھی تین قسموں میں محصور ہیں۔ اِس طرح کا اسلوب بالعموم اِس لیے اختیار کیا جاتا ہے کہ خیر و شر کے بعض اعمال کو خاص طور پر نمایاں کر کے اُن کی نسبت سے لوگوں کو متنبہ کیا جائے۔

2۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ اِس طرح کی قسمیں بالعموم جھوٹی ہوتی اور لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے کھائی جاتی ہیں۔

3۔ یہ اُنھوں نے غالباً اِس لیے پوچھا ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی شہرت یہی تھی کہ وہ اپنے پاس کوئی مال و دولت رکھنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔

4۔یعنی سونا چاندی وغیرہ۔ اصل میں 'صامت المال' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اِس کے مقابلے میں بھیڑ بکریوں اور اونٹ گاے وغیرہ کو 'ناطق المال' ، یعنی بولنے والا مال کہا جاتا ہے۔

5۔ مال و دولت کے بارے میں سیدنا ابوذر نے یہی صوفیانہ طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیت ۲۹ اور سورۂ اعراف (۷) کی آیات ۳۲ - ۳۳ سے واضح ہے کہ اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ پسند فرمایا ہے، وہ یہ نہیں ہے۔ چنانچہ صحابۂ کرام نے اِس کی تائید نہیں کی۔ اِس کی وضاحت کے لیے دیکھیے: البیان ۲/ ۱۴۸، ۳ / ۸۰۔

6۔ یہ نہایت شایستہ اسلوب میں اُس اختلاف کا اظہار ہے جو وہ اپنے اِس طرز عمل کے معاملے میں صحابۂ کرام سے رکھتے تھے۔

متن کے حواشی

1۔اِس روایت کا متن مسند احمد ،رقم 20997 سےلیا گیاہے ۔اِس کے راوی ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں، اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

مسند طیالسی،رقم465۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 18792 ، 26029 ۔مسند احمد،رقم 20839 ،السنن الکبریٰ، نسائی،رقم 6864 ۔

2۔الصف61: 4 ۔

3۔مسند احمد،رقم 20822۔

4۔مسند احمد،رقم 20822۔

5۔ مسند احمد،رقم 20822۔

6۔ مسند احمد،رقم 20822 ۔

7۔لقمان31: 18۔

8۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی بعض دوسری روایات میں بھی یہی مضمون نقل ہوا ہے، تاہم وہاں 'وَالشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْإِمَامُ الْجَائِرُ 'کا اضافہ ہے،یعنی بوڑھا زانی اور جابر حکمران۔ملاحظہ ہو:السنن الصغریٰ، نسائی ،رقم 2542 ۔

ــــــ 2 ــــــ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ،1 يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ''مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ، أَوْ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ، لَقِيَ اللہَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ''.

_______________

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو دل میں بڑا سمجھےیا اپنی چال میں تکبر اختیار کرے ،وہ اللہ سے اِس طرح ملے گا کہ اللہ اُس پر سخت غصے میں ہو گا1۔

_______________

1۔ تکبر کے بارے میں یہ اُسی انجام کی وضاحت ہے جو قرآن میں بھی جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔

متن کے حواشی

1۔اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم 5830 سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت مستدرک حاکم،رقم 187 اور الادب المفرد ،بخاری،رقم 546 میں بھی نقل ہوئی ہے۔

ــــــ 3 ــــــ

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ1، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ''.

_______________

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حیا جس چیز میں بھی ہو، اُس کو خوب صورت بناتی ہے،اور بے حیائی جس چیز میں بھی ہو، اُسے عیب لگا دیتی ہے1۔

_______________

1۔یہ عام حالات کا بیان ہے اور بالکل صحیح ہے۔ اِس طرح کے موقعوں پر مستثنیات کے ذکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اُنھیں ہر عاقل خود سمجھ لیتا ہے۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن الادب المفرد،بخاری ،رقم 598 سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت مسند بزار،رقم 2428 میں بھی نقل ہوئی ہے۔

ــــــ 4 ــــــ

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ1، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ''الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ''،2 فَقَالَ بَشِيْرُ بْنُ كَعْبٍ:مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ: إِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ وَقَارًا وَإِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ سَكِينَةً، [وَمِنْهُ ضَعْفٌ3] فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صَحِيفَتِكَ.

_______________

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے1۔اِس پر بشیر بن کعب نے کہا: ہمارے ہاں حکمت کی کتاب میں لکھا ہے کہ حیا کی ایک قسم وقار اور ایک قسم سکینت ہے، اور اِسی کی ایک قسم طبیعت کی کم زوری بھی ہے2۔ عمران نے اُنھیں ٹوکا اور کہا: میں تمھارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بیان کر رہا ہوں اور تم اُس کے مقابل میں مجھے اپنی کتاب کی باتیں سناتے ہو3۔

_______________

1۔یہ بھی اُسی طرح کا عموم ہے، جس کے مستثنیات کلام کے عقلی مقتضیات کے طور پر خود سمجھ لیے جا سکتے ہیں۔

2۔ یہ، ظاہر ہے کہ اُس صورت کا ذکر ہے، جب حیا حداعتدال سے تجاوز کر جائے۔

3۔بشیر بن کعب کے پیش نظر یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد کی مخالفت نہیں، بلکہ اُسی کے بعض دوسرے پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا تھا۔ تاہم عمران بن حصین نے اِسے سوءادب خیال کیا اور اُنھیں سختی سے ٹوک دیا۔ خدا کے آخری پیغمبر جیسی ہستی کے معاملے میں یہ سختی بھی قابل فہم ہے، اِس لیے کہ نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید ایں جا۔

متن کے حواشی

1۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم 5679 سے لیا گیا ہے ،اِس کے راوی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہیں ۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مسند ابو داؤد طیالسی،رقم 886،885۔مصنف ابن ابی شیبہ،رقم 24759۔مسند احمد،رقم 19373، 19385، 19458، 19467، 19509، 19522، 19526، 19548، 19557 ۔ صحیح مسلم، رقم 56 ،57۔ سنن ابی داؤد، رقم4165۔ مسند بزار، رقم 3014، 3015، 3040، 3057، 3058 ۔ مسند رویانی، رقم ۱۱۱، 132، 137۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم 14819، 14919، 14926، 14927، 14930، 14931، 14975، 14976۔ المسند المستخرج علی صحیح مسلم، ابی نعیم، رقم12۷، 12۸، 129، 130۔ مسند شہاب، رقم 6۷، 6۸۔ شعب الایمان، بیہقی، رقم71۸۹، 7190 ، 719۱۔

عمران بن حصین کے علاوہ یہ روایت مسند بزار،رقم2667 میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔

2۔بعض روایات، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ،رقم میں24759 میں یہی بات اِس اسلوب میں بیان ہوئی ہے: 'الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ' ''حیا تمام تر خیر ہے''۔

3۔صحیح مسلم،رقم57۔

ــــــ 5 ــــــ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،1 أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ، أَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْعَظْمِ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ''.

_______________

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں،اُن میں سے سب سے زیادہ فضیلت کی چیز یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں،اور سب سے کم تر یہ ہے کہ راستے میں پڑی ہوئی کوئی ہڈی ہٹا دی جائے1۔ حیا بھی ایمان ہی کی ایک شاخ ہے2۔

_______________

1۔تاکہ گزرنے والوں کو اذیت نہ ہو۔

2۔ یعنی اُسی کا ایک تقاضا ہے، اِس لیے کہ انسان جب خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کر اُس پر ایمان لے آتا ہے تو فواحش و منکرات کے معاملے میں ایک طرح کی جھجک اُس کی طبیعت میں لازماً پیدا ہو جاتی ہے۔ عربی زبان میں اِسی کو 'حيا' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

متن کے حواشی

1۔اِس روایت کا متن سنن ابی داؤد،رقم 4058 سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

جامع معمر بن راشد،رقم710۔مسند ابو داؤد طیالسی،رقم2514۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 24755، 25755، 29826 ۔ مسند احمد، رقم 8726، 9156، 9535 ۔ صحیح بخاری، رقم 8۔ الادب المفرد، بخاری، رقم 595۔صحیح مسلم، رقم 53، 54۔ سنن ترمذی، رقم 2556۔ سنن ابی داؤد، رقم 4058۔ سنن ابن ماجہ، رقم 56۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم 4944، 4945 ۔صحیح ابن حبان، رقم 168، 169، 183، 192، 193۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت المعجم الاوسط، طبرانی،رقم 7140 میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔

ــــــ 6 ــــــ

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ، عَنْ أَبِيهِ1، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ''دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ''.

_______________

سالم بن عبد اللہ اپنے والد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی انصاری کے پاس سے ہوا، وہ اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا:اِسے چھوڑ دو،اِس لیے کہ حیا ایمان ہی کا حصہ ہے2۔

_______________

1۔یعنی یہ نصیحت کر رہا تھا کہ تم میں حیا بہت ہے اور یہ زندگی کے معاملات میں تمھارے آگے بڑھنے میں رکاوٹ بن جائے گی۔

2۔ یہ اِس لیے فرمایا کہ خدا کے ہمہ وقت نگران ہونے کا احساس ہی انسان کے اندر حیا کے پیدا ہونے کا باعث بنتا ہے اور یہی ایمان کی حقیقت ہے۔ مدعا یہ تھا کہ حیا بہت ہے تو اِس پر ملامت کی ضرورت نہیں۔ جس چیز کی اصل ایمان ہے، اُ س سے، خدا نے چاہا تو بھلائی ہی پیدا ہو گی، اور بھلائی اگر دنیا کے کسی معاملے میں آگے بڑھنے سے روکتی بھی ہے تو بندۂ مومن کو اِس کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ جس نے بھلائی کا حکم دیا ہے، وہی یہاں بھی دست گیری فرمائے گا۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم 23 سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن عمر العدوی رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

جامع معمر بن راشد،رقم752۔موطا ،امام مالک،رقم839، 1010، 1613۔ مسند الحمیدی، رقم 607۔ مسند ابن جعد، رقم2524، 2525۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 24756، 29827۔ مسند احمد، رقم 4416، 5037، 6166۔ مسند عبد بن حمید، رقم732۔ الادب المفرد، رقم600۔ صحیح بخاری، رقم23۔ صحیح مسلم، رقم 55۔ سنن ترمذی، رقم 2557۔ سنن ابن ماجہ، رقم۵۷ ۔ سنن ابی داؤد، رقم 4164۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم 4973۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم 5367، 5429 ، 5480 ۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم 132۷، 132۸۔ صحیح ابن حبان، رقم 616۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم 746۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 5074۔ مسند شامیین، طبرانی، رقم 1759۔ المسند المستخرج علی الصحیحین، ابی نعیم، رقم 125، 126۔مسند شہاب، رقم 146۔

ــــــ 7 ــــــ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ1، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ''الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ''.

_______________

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حیا ایمان ہی کا جز ہے،اور ایمان کا صلہ جنت ہے۔اور فحش گوئی نری بداخلاقی ہے اور بداخلاقی دوزخ میں لے جائے گی۱۔

_______________

1۔یعنی اُس صورت میں، جب کہ انسان اِس سے توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح نہیں کرتا۔

متن کے حواشی

1۔اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم 10292 سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 24757، 24761، 29802 ۔ مسند احمد، رقم 9497، 10292۔ سنن ترمذی، رقم 1928۔ السنن الصغریٰ،نسائی، رقم 4946۔ مستدرک حاکم، رقم 159۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت نقیع بن مسروح اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ اِس کے مصادر درج ذیل ہیں:

مسند ابن الجعد، رقم 2526۔ الادب المفرد، بخاری، رقم 1289۔ سنن ابن ماجہ، رقم 4182۔ مشکل الآثار، طحاوی، رقم 2716۔ صحیح ابن حبان، رقم 5821۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 5197، 8831۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم 1088۔ مستدرک حاکم، رقم 158۔

ــــــ 8 ــــــ

أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الْحَارِثِ1 حَدَّثَهُ، أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَهُ بِأَيْمَنَ وَفِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ، فَجَعَلُوهَا مَخَارِيقَ يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ. قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا: إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيسِينَ فَدَعُوهُمْ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، حَتَّى دَخَلَ، وَكُنْتُ أَنَا وَرَاءَ الْحُجْرَةِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ''سُبْحَانَ اللہِ، لَا مِنَ اللہِ اسْتَحْيَوْا، وَلَا مِنْ رَسُولِهِ اسْتَتَرُوا''. وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللہِ. قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَبِلَأْيٍ مَا أَسْتَغْفرَ لَهُمْ. قَالَ عَبْد اللہِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ.

_______________

عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ ایمن1 اور قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنھوں نے اپنے تہ بند اتار کر ان کے گولے بنا لیے تھے اور اُن سے کھیلتے ہوئے ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ چنانچہ بالکل برہنہ تھے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم جب اُن کے پاس سے گزرے تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: اِنھیں چھوڑو ، یہ تو پادری ہیں2۔ اسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی باہر نکل آئے۔ اُن لڑکوں نے آپ کو دیکھا تو فوراً منتشر ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں واپس گھر چلے گئے۔ میں اُس وقت حجرے کے باہر تھا۔ چنانچہ میں نے سنا کہ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ ! اِنھوں نے اللہ سے شرم کی، نہ اُس کے رسول سے ڈرے۔ ام ایمن اِس موقع پر آپ کے پاس کھڑی ہوئی کہہ رہی تھیں: یا رسول اللہ، اِن کے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ عبداللہ کہتے ہیں: لیکن اُن کی طرف سے بہت کوشش کے بعد بھی آپ نے اُن کے لیے یہ دعا نہیں فرمائی3۔

_______________

1۔ ایمن بن عبید الحبشی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی ام ایمن کے بیٹے، جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ وہ اِنھی کی وجہ سے ام ایمن کہلاتی تھیں۔

2۔ مطلب یہ ہے کہ اُسی طرح کے مذہبی لوگ ہیں، جیسے مسیحیوں کے ہاں ہوتے ہیں۔ یہ اُن لوگوں نے صحابۂ کرام کے اندر اُس تبدیلی کی رعایت سے کہا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد رویوں کی سنجیدگی اور لہو و لعب سے گریز کے معاملے میں اُن کے اندر پیدا ہو گئی تھی۔

3۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سرعام اِس طرح کی برہنگی کو آپ نے کس قدر ناپسند فرمایا۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن مسند احمد،رقم17369 سے لیا گیاہے۔اِس کے راوی عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ ہیں۔ مسند احمدکے علاوہ یہ روایت مسند بزار،رقم3224 اورمسند ابی یعلیٰ،رقم1530 میں بھی نقل ہوئی ہے۔

ــــــ 9 ــــــ

عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا1، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ''مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، فَإِنَّ اللہَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ''2، [''إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ''] 3 فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللہِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ''فَقَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ [فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ ]'' 4.

_______________

زہری کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے بتایا کہ سیدہ عائشہ نے ایک موقع پر بیان کیا کہ یہود کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئے اور کہا: 'السام عليكم' (تم پر موت آئے)۔میں اُن کی بات سمجھ گئی اور میں نے بھی جواب میں کہہ دیا: تم پر موت آئے اور اللہ کی لعنت ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: عائشہ، نرمی سے کام لو، اِس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی ہی کو پسند کرتا ہے۔ یاد رکھو، نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اُس کو زینت بخشتی ہے اور جس سے نکال دی جائے، اُسے عیب لگا دیتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، آپ نے سنا نہیں، وہ کیا کہہ رہے تھے؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر کیا، میں نے بھی تو 'وعلیکم' کہہ کر اُن کی بات اُنھی پر لوٹا دی ہے۔ اب میری بددعا تو اُن کے حق میں قبول ہو جائے گی، مگر اُن کی بددعا میرے حق میں قبول ہی نہیں ہو گی1۔

_______________

1۔ یہ نہایت عمدہ تعلیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کی طرف سے بغض اور نفرت کا اظہار بھی کیا جائے تو جواب میں زیادہ سے زیادہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ شایستگی کے ساتھ اُسی کی بات اُس پر لوٹا دی جائے۔ اِس سے آگے دشنام اور بدگوئی کا طریقہ کسی بندۂ مومن کو اِس طرح کے موقعوں پر بھی زیب نہیں دیتا۔ اِس سے ہر حال میں اجتناب ہی کرنا چاہیے۔

متن کے حواشی

1۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری،رقم 5813 سےلیا ہے ۔اِس کی راوی عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

جامع معمر بن راشد،رقم821۔مسند ابی داؤد طیالسی،رقم1608۔مصنف عبد الرزاق،رقم9611۔مسند الحمیدی، رقم242۔مسند ابن جعد،رقم 3046۔مصنف ابن ابی شیبہ،رقم24721۔ مسند اسحٰق، رقم 704، 1411، 1413، 1503 ۔ مسند احمد، رقم 23539، 23540، 23869، 24246، 24288، 24374، 24817، 25061، 25136، 25289 ۔ مسند عبد بن حمید،رقم1480، 1502۔سنن دارمی،رقم 2708۔ الادب المفرد، بخاری، رقم 458، 471۔صحیح بخاری، رقم 4949، 5943 ۔صحیح مسلم، رقم 4034، 4704 ۔ سنن ابی داؤد، رقم 2122، 4176۔ سنن ترمذی، رقم 2644۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم9787۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم 4358۔صحیح ابن حبان، رقم 552، 6579۔ مسند شامیین، طبرانی، رقم 3008۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم 2236، 3652، 5366 ۔ مسند شہاب، رقم 995، 996 ۔ السنن الکبریٰ، بیہقی ، رقم17219، 19150 ۔

2۔صحیح بخاری ، رقم 5949 میں اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے:'«مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ، أَوِ الْفُحْشَه»'''ٹھیرو، عائشہ، تمھیں چاہیے کہ نرمی اختیار کرو، اور سختی اور بدکلامی سے ہر حال میں بچتی رہو''۔

3۔صحیح مسلم،رقم 4704۔

4۔صحیح بخاری،رقم 5949۔

سنن ا بی داؤد ،رقم2122 میں یہی مضمون ایک دوسرے موقع پر بھی سیدہ عائشہ سے روایت ہوا ہے: شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرا کی زندگی کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان صحرائی ٹیلوں کی طرف جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحرا میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا، جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: "عائشہ، اِس کے ساتھ نرمی کرنا،اِس لیے کہ نرمی جس چیز میں بھی ہو، اُسے خوب صورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے چھین لی جائے، اُسے عیب لگا دیتی ہے۔"

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (1414هـ/1993م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسة الرسالة.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (1379هـ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفة.

ابن قانع. (۱4۸۱هـ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابة. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکة المکرمة: نزار مصطفی الباز.

ابن ماجة، ابن ماجة القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجة. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر.

أبو نعیم ، (د.ت). معرفة الصحابة. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیة.

أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسمٰعیل. (1407هـ/ 1987م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدة القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیهقي، أحمد بن الحسین البیهقي. (1414هـ/1994م). السنن الکبری. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکة المکرمة: مکتبة دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (1416هـ/ 1996م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیة: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الهیثم بن کلیب. (1410هـ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰه. المدینة المنورة: مکتبة العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي. (1400هـ/1980م). تهذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسة الرسالة.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النسائي، أحمد بن شعیب. (1406هـ/1986م). السنن الصغری. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدة. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیة.

النسائي، أحمد بن شعیب. (1411هـ/1991م). السنن الکبری. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیة.

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ