علم کی بنیاد


علم کا اولین موضوع کیا ہے؟ ایک راے یہ ہو سکتی ہے کہ علم کا اولین موضوع وجود ہے، اِس لیے کہ علم خود من جملہ موجودات ہے اور موجودات پر بحث سے پہلے وجود کی حقیقت زیر بحث آنی چاہیے۔ لیکن اِس میں مشکل یہ ہے کہ موجود کی اِس حیثیت سے قطع نظر کر لیا جائے کہ وہ معلوم ہے تو اُس پر بحث نہیں ہو سکتی۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ بحث سے پہلے اگر حق کو باطل اور صحیح کو غلط سے الگ پہچاننے کا کوئی معیار متعین نہ ہو تو ہم اپنے نتائج علمی پر مطمئن کس طرح ہوں گے؟ دوسری راے یہ ہو سکتی ہے کہ علم کا اولین موضوع نفس ہے، لیکن اِس میں بھی وہی مشکل ہے جو اوپر وجود سے متعلق بیان ہوئی۔ لہٰذا ناگزیر ہے کہ علم کا اولین موضوع خود علم ہی کو قرار دیا جائے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ علم نفس کے احوال میں سے ہے اور ذات ہمیشہ صفات و احوال پر مقدم ہوتی ہے، لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ صفات پر بحث کو ذات کی بحث کے تابع ہونا چاہیے۔ مگر ذات کی بحث کیا ہے؟ یہ اگر غور کیجیے تو صفات ہی کی بحث ہے، خاص طور پر اُس صفت کی جو تمام صفات میں سب سے خاص، سب سے مقدم اور سب سے بڑھ کر اُس کی ماہیت میں داخل ہو۔ نفس کے احوال میں علم کی حیثیت یہی ہے، اِس لیے کوئی چارہ نہیں کہ سب سے پہلے خود علم کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

امام حمید الدین فراہی کے علوم و معارف میں جس چیز کو منطق اعلیٰ یا میزان سے تعبیر کیا گیا ہے، اُس کا موضوع یہی ہے۔ امام نے متنبہ فرمایا ہے کہ یہ وہ منطق نہیں ہے جس کی ابتدا ''اورجانون''(organon)کے مصنف سے ہوئی تھی*۔اِس لیے کہ وہ منطق اُس علم سے بحث کرتی ہے جس کا اکتساب اولیات سے استدلال کے طریقے پر کیا جاتا ہے۔ یہ اولیات اُس کا موضوع نہیں ہیں، اِنھیں اصول موضوعہ کی حیثیت سے مان لیا جاتا ہے۔ ارسطو کا خیال تھا کہ اِن پر بحث کا موقع علم ما بعد الطبیعیات میں ہے، مگر اِس علم کو دیکھا جائے تو اِس کے موضوعات عدد، وجود اور اِس نوعیت کے دوسرے مقولات ہیں جنھیں زیادہ سے زیادہ معلومات عامہ کہا جا سکتا ہے۔ علم کی بنیاد کیا ہے؟ اِس پر اُس میں بھی کوئی بحث نہیں کی گئی۔ چنانچہ تمام عمارت ہوا پر قائم ہے اور تشکیک و جہالت کے جس دروازے کو بند کرنے کے لیے اِس تمام جدوجہد کی ابتدا ہوئی تھی، وہ اُسی طرح کھلا رہ گیا ہے، جس طرح اِس فن کی ترتیب و تدوین سے پہلے کھلا ہوا تھا۔

امام نے لکھا ہے کہ اِس عنوان کے تحت اُس چیز پر بحث ہونی چاہیے جس سے علم اضطراراً اور سب سے پہلے متعلق ہوتا اور اُس کے ضروری قضایا متعین ہو جاتے ہیں۔ یہاں کسی کو غلط فہمی نہ ہو کہ اِس سے اُن کی مراد اولیات ہیں۔ ہرگز نہیں، یہ اُن سے پہلے کی چیز ہے جسے وہ بناے علم کہتے ہیں، جو اگر منہدم ہو جائے تو علوم کی عمارت منہدم ہو جاتی ہے، بلکہ خود علم و یقین کا وجود ہی ختم ہو جاتا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اِس معاملے میں غلطی کھائی ہے، وہ اضطراب و توہمات اور حیرت و استعجاب کی تاریکیوں میں گم ہیں اور اُنھوں نے معلوم کو مجہول اور ثابت کو معدوم بنا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اِن تاریکیوں سے نکلنے کے لیے اولاً، اُس چیز کو سمجھا جائے جو تمام علم و حکمت کی بنیاد ہے اور ہمارا یقین اُس سے فطری اور اضطراری طور پر متعلق ہوتا ہے یا ثانیاً، استدلال کے فطری طریقے کو سمجھا جائے جسے منطق نے ترک کر رکھا ہے۔ تمام علوم کے دروازے اِسی سے کھلیں گے اور ہم ایک ایسی میزان دریافت کر لیں گے جسے میزان حکمت کہنا چاہیے۔

* یعنی ارسطو جس نے جدلی دلائل (Dilectical Arguments)کے نام سے اِس کو ایک باقاعدہ فن کی صورت دی۔ ''اورجانون''کے مباحث کو اُس کے قدیم مترجمین ایساغوجی(Categories)، انولوطیقا (analytics) اورطوبیقا (topics) کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ ابتدا تھی، اِس فن کے جو خط و خال بعد میں متعین ہوئے، اُن کے لیے یہ اسکندر افرودیسی کی اُن کاوشوں کا مرہون منت ہے جو اُس نے ''اورجانون'' کی شرح و وضاحت کے لیے انجام دی ہیں۔