علم کی بنیاد۲


تمام علم و حکمت کی بنیاد اُن الہامات پر ہے جو انسان کی فطرت میں ازل سے ودیعت ہیں۔ یہی مدارک تک پہنچتے اور اُن کے لیے علوم و اعمال اور نظر و استدلال کا منبع بنتے ہیں۔ عقل اِن کے حضور میں محکوم محض ہے، وہ اِن کے احکام سے انحراف نہیں کر سکتی۔ انسان کی زندگی اِنھی پر یقین سے عبارت ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اِس یقین کی حقیقت کو سمجھا جائے۔ امام حمید الدین فراہی نے اِس کے جن مبادی کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ ہر ذی حیات عالم خارجی کا یقین رکھتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِس یقین کا ظہور حسی علم کے بعد ہی ہوتا ہے، لیکن کیا مجرد احساس اِس کا باعث بن جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے، ہم جب کسی جسم کو چھوتے ہیں تو ہمارا احساس محض ایک حالت ہوتی ہے جو حاسۂ انسانی پر طاری ہو جاتی ہے۔ اِس کے ساتھ اگر ایک حاکم نہ ہو جو حکم لگائے کہ اِس اثر کے لیے ایک موثر ہے تو ممکن نہیں کہ اپنے خارج میں ہم کسی چیز کا یقین حاصل کر سکیں۔ یہ حاکم کون ہے، جس کے سامنے انسان کا ارادہ و اختیار محکوم محض ہو کر رہ جاتا ہے؟ یہ، اگر غور کیجیے تو وہی الہام ہے جو نفس انسانی پر حکومت کر رہا ہے۔ چنانچہ کسی چیز کو چھونے کے بعد جو احساس منتقل ہوتا ہے، اُسی کے ساتھ ایک نوعیت کا فطری استدلال بھی وجود میں آتا ہے جو ہمیں اثر سے موثر تک پہنچا دیتا ہے۔ اِس استدلال کے لیے کوئی مقدمات ترتیب نہیں دیے جاتے۔ یہ فکر و ارادہ کے بغیر وجود میں آتا اور ایسا قوی ہوتا ہے کہ ہم اِس سے اختلاف کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ اِس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارا کسی چیز کو جاننا اور اُس کے وجود کا یقین حاصل کر لینا علم و یقین کی اُسی قوت کا ظہور ہے جو ہماری فطرت میں ودیعت ہے۔ انسان کو یہ قوت اُس کے خالق نے بالکل اُسی طرح عطا فرمائی ہے، جس طرح اُس کے حواس اور دوسری قوتیں عطا فرمائی ہیں۔

۲۔ ہمارے نفس کا یہ اذعان کہ ایک خارجی عالم موجود ہے، درحقیقت اُس کے اِس اذعان پر مبنی ہے کہ وہ خارج سے الگ ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ نفس عالم و معلوم کو، یعنی اُس کو جو محسوس کرتا ہے اور جسے محسوس کیا جاتا ہے، الگ الگ پہچانتا ہے۔ یہ ایک قطعی حقیقت ہے، اِس لیے کہ ایسا نہ ہوتا تو وہ محسوس کو اپنے ساتھ متحد ٹھیراتا اور اپنے اندر کبھی یہ اذعان پیدا نہ کر سکتا کہ محسوس اُس کی ذات سے الگ ایک خارجی وجود ہے۔

نفس کا یہ علم اثر سے موثر پر اُس کے استدلال سے متفرع نہیں ہے، بلکہ اُس کے شرائط و مقدمات میں سے ہے۔ چنانچہ نفس جس طرح اپنی ذات میں اور عالم خارجی میں فرق کرتا ہے، بالکل اُسی طرح اپنی ذات اور اُن اثرات میں بھی فرق کرتا ہے جو اُس کے داخلی محسوسات کی حیثیت سے اُس پر وارد ہوتے ہیں۔ یہ فرق و امتیاز، اگر غور کیجیے تو اُس کے لیے صرف اِس لیے ممکن ہوا ہے کہ وہ حامل و محمول اور ذات اور اُس کے عوارض کو الگ الگ دیکھ سکتا ہے۔ نفس نے یہ چیز فکر و تدبر اور ترتیب مقدمات سے حاصل نہیں کی، بلکہ فاطر فطرت کی طرف سے اُس پر الہام کی گئی ہے۔ اِسے خارجی عالم پر ہمارے یقین سے بھی زیادہ راسخ اور اُس پر مقدم سمجھنا چاہیے، اِس لیے کہ یہی وہ اصل ہے جس پر خارج سے متعلق ہمارا یقین مبنی ہے۔

۳۔ اِسی الہام میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ ذات کے بغیر صفات کا کوئی تصور نہیں ہے۔ چنانچہ نفس جس طرح اِس بات کا یقین رکھتا ہے کہ وہ ایک ذات ہے جو صفات کی حامل ہو سکتی ہے، اُسی طرح اِس بات کا بھی یقین رکھتا ہے کہ اُس کی صفات ہیں جو اِسی ذات سے قائم ہیں۔

۴۔ پھر یہی نہیں، وہ کسی چیز کی طرف مائل ہوتا ہے اور کسی سے گریز کرتا ہے۔ اِسی طرح کسی معاملے پر حسن اور کسی پر قبح کا حکم لگاتا ہے۔ یہ کیوں ہے؟ صرف اِس لیے کہ وہ ترک و اختیار اور مرغوبات و مکروہات میں امتیاز کر سکتا اور اختیار و تصرف کا یقین رکھتا ہے۔ اُس کی زندگی اِسی یقین سے ہے۔ وہ اِس سے بہرہ مند نہ ہوتا تو اُس سے نہ کسی چیز کے لیے جدوجہد متصور ہو سکتی تھی اور نہ کسی فعل کا ارادہ۔ یہ حقیقت ہے کہ جس طرح علم و ادراک کے معاملے میں اُس کا یقین الہامی ہے، اُسی طرح اختیار و ارادہ، فعل و تصرف، لذت و الم اور نفرت و محبت کے معاملے میں بھی الہامی ہے۔

۵۔ اِسی کے تحت یہ بات بھی ہے کہ اُسے محسوسات خارجی میں انفعال کا یقین ہے۔ وہ ہمیشہ سے جانتا ہے کہ محسوسات خارجی اُس کے افعال کا تاثر قبول کرتے ہیں۔ وہ جب ہاتھ بڑھاتا ہے یا کسی چیز کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو اپنے اِسی علم و یقین کا اظہار کرتا ہے۔ اُسے یہ یقین نہ ہوتا تو اِن میں سے وہ کوئی اقدام بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اُس کے تمام افعال اِسی پر مبنی ہیں کہ وہ دوسرے کے انفعال و تاثر کا یقین رکھتا ہے۔ اپنے جسمانی آلات اور اپنی فطری اور حسی قوتوں کے استعمال کی ابتدا اُس نے اِسی یقین سے کی ہے۔ چنانچہ اِس سے جو افعال پیدا ہوئے ہیں، یہ اُنھی کی تکرار ہے جو اُس کے اِس اذعان کا باعث بن گئی ہے کہ وہ محسوسات خارجی میں تصرف کر سکتا ہے۔

۶۔ جو چیزیں نفس کے مماثل نہیں ہیں، وہ اُن میں اور اپنی ذات میں فرق کر سکتا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مدرک اور غیر مدرک میں امتیاز کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ اُس کی صفات سے الگ کچھ ایسی صفات بھی ہیں جو اُس کے ادراک میں آتی ہیں، مگر وہ اُن کا حامل نہیں ہے۔ پھر اُن کا حامل کون ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی ایسی ذات جو اُس کے مماثل نہیں ہو سکتی۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ نفس کے الہامات میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ ذات کے بغیر صفات کا کوئی تصور نہیں ہے۔ لہٰذا یہی مقام ہے جہاں سے وہ یقین حاصل کر لیتا ہے کہ اُس کے گردوپیش میں ایسے موجودات ہیں جو اُن صفات سے متصف ہیں جو اُس کی ذات سے الگ ہیں۔

۷۔ خیر و شر کا امتیاز بھی من جملہ الہامات نفس ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ نفس انسانی صرف مرغوبات و مکروہات میں امتیاز نہیں کرتا، اِس کے ساتھ اُن پر خیر و شر اور بر و اثم کا حکم بھی لگاتا ہے۔ چنانچہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ وہ تمام مرغوبات کو خیر اور تمام مکروہات کو شر سمجھ لے۔ یہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ اپنے آپ کو وہ گاہے بلندی اور گاہے پستی کی طرف کھنچتا ہوا دیکھتا اور اپنے میلانات میں بہت کچھ اختلاف پاتا ہے۔ پھر یہی نہیں، وہ یہ بھی جانتا ہے کہ طیب خبیث سے اور بلندی پستی سے کس طرح الگ ہے۔ چنانچہ وہ اتراتا بھی ہے اور جھجکتا بھی، مدح بھی کرتا ہے اور مذمت بھی، اعتراف عظمت بھی کرتا ہے اور ملامت بھی۔ اِسی طرح غیرت و حمیت بھی دکھاتا ہے۔ یہ سب، اگر غور کیجیے تو فجور و تقویٰ کے اُسی الہام کا نتیجہ ہے جو اُس کی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔