علم کی بنیاد۳


علم کی تقسیم اگر اُس کے درجات کے لحاظ سے کی جائے تو وہ اضطراری ہو گا یا استدلالی۔ پہلے درجے میں ذات باری اور نفس اور اُس کے خارج کا علم ہے۔ دوسرے درجے میں صفات باری اور نفس اور اُس کے خارج کے احوال کا علم ہے۔ اِس دوسری قسم کے لیے بناے استدلال ضروری ہے۔ یہ بناے استدلال الہامات فطرت بھی ہو سکتے ہیں جنھیں ہم اضطراری علم سے تعبیر کرتے ہیں؛ فکر و استنباط کے نتائج بھی ہو سکتے ہیں جو معلوم کے درجے تک پہنچ گئے ہوں اور ماضی کا علم بھی جو تعلیم و تعلم کے ذریعے سے منتقل ہوا ہو۔ یہ سب چیزیں، اگر غور کیجیے تو وہی ہیں جو پہلے سے ہمارا یقین و اذعان بن چکی ہوتی ہیں۔ اِسی طرح بنا اور مبنی میں لازم و ملزوم کی نسبت ضروری ہے، اِس طرح کہ اگر بنا کو مانا جائے تو جو اُس پر مبنی ہے، اُس کو ماننا بھی لازم ہو جائے۔ پھر یہ بناے استدلال کسی اصل کی فرع ہو گی یا فرع کی اصل اور دونوں میں لزوم متحقق ہو گا۔ امام فراہی لکھتے ہیں کہ اِس سے استدلال کی جو اقسام وجود میں آئیں گی، وہ یہ تین ہیں:

اولاً، فرع سے اصل پر استدلال، اِس لیے کہ فرع ہے تو اصل کو بھی لازماً ہونا چاہیے۔

ثانیاً، اصل سے فرع پر استدلال، اِس لیے کہ اصل فرع کو متضمن ہوتی ہے، لہٰذا اصل پر غور کیا جائے تو وہ جن فروع کو متضمن ہے، اُن سب پر دلالت کرے گی۔ اصل کو ہم اِسی بنا پر اصل اور فرع کو فرع کہتے ہیں۔

ثالثاً، فرع سے دوسرے فروع پر استدلال، جس کا ذریعہ اصل کا ثبوت ہو گا۔ چنانچہ فرع پہلے اپنی اصل پر دلالت کرے گی، پھر اصل دوسرے تمام فروع تک پہنچا دے گی۔

انسان اپنے تمام افکار و اعمال میں فطری طور پر استدلال کے یہی طریقے استعمال کرتا ہے۔ اِن میں غلطی اُسی وقت ہوتی ہے، جب وہ اصل اور فرع کے مابین نسبت کے بارے میں فکر و نظر سے اعراض کر لیتا ہے۔