الحادِ جدید اور ہم (1/2)


[یہ مضمون ۲۰۱۳ء میں ایک سمپوزیم میں پڑھا گیا تھا۔ دین کے میدانِ تحقیق میں ہمارے عہد کا سب سے اہم مسئلہ الحاد ہے۔ الحاد کو آج ایک علمی درجہ مل چکاہے، اسے اب تشکیک یا سوفسطائیت کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا۔الحاد کی اسی سنگینی اور سنجیدگی کو اس مقالے میں مسلمان علما و محققین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنے زور تحقیق کو اس میدان میں بھی صرف کریں۔ مصنف]

الحاد کیا ہے؟

کسی ایک خدا یا سب خداؤں کے انکار کو الحاد کہا جاتا ہے۔

جدید الحاد انگریزی زبان میں الحاد کا مترادف atheism ہے۔ اردو میں اسے دہریت بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے معنی خدا کو ماننے کے عقیدے سے انکار کے ہیں ۔ یہ انکار سوچا سمجھا بھی ہو سکتا ہے اور بلاسوچے سمجھے قدرتی طور پر بھی۔لیکن جدید atheism اس انکار خدا سے متعلق نہیں ہے، جو جہالت پر مبنی ہو۔یعنی مذہبی تعلیمات سے نا آشنائی کی بنا پر پیدا ہونے والا الحاد، اصلاً الحاد نہیں ہے۔ محض خدا کے نہ ہونے کا نظریہ کمزور الحاد ہے۔آج کا الحاد یہ ہے کہ آدمی یہ مانے کہ نہ خدا ہے اور نہ خدا ہوسکتا ہے۔ کمزور الحاد محض scepticism یا سو فسطائیت (sophist-ism) ہے۔ جب کہ یہ الحاد دراصل واضح طور پر انکار خدا ہے۔ دیکھیے (mathew 1997)۔

سیکولر ہیومن ازم بھی الحاد ہی پر مبنی naturalistic philosophy ہے، جو تقریبا ۱۹۷۳ء کے بعد شروع ہوئی ہے۔ جس کے مطابق انسان غیر مخلوق ہستی ہے، جو خود بخود ارتقا کے نتیجے میں ظاہر یا پیدا ہوئی ہے، جس میں خود شعوری اور اخلاق کی تمییز کی صلاحیت (moral agency) ہے۔سیکولر ہیومن ازم consequentialist ethics پر یقین رکھتا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اخلاق نتائج کی بنا پر مانے جاتے ہیں۔اسے atheism اور agnosticism سے اگلی سٹیج مانا جارہا ہے۔

اس مقالہ میں ہم الحاد کو واضح معنی میں انکار خدا کے معنی میں لے رہے ہیں۔ اس لیے کہ آج کاالحاد اسی معنی کا حامل ہے۔جیسا ہم نے عرض کیا الحاد کا انگریزی مترادف atheism ہے۔ جو یونانی لفظ atheos سے نکلا ہے، جس کے معنی without god کے ہیں۔ انکارِخدا اسلامی لحاظ سے تو خداے واحد کا انکارہے۔ لیکن تمام مذاہب کا خیال رکھا جائے تو دیوتاؤں اور خداؤں کے انکارکا نام بھی ہے۔ہم اہل اسلام کے لیے ایک اور اصلی خدا کا انکار ہی حقیقی الحاد ہے۔ جھوٹے خداؤں کا انکار اسلام میں توحید کی علامت ہے۔

عصر رواں میں آزادی کے غیر محدود تصورکی وجہ سے پیدا ہونے والی آزاد سوچ ، تشکیک پسند استشکاف (sceptical inquiry) اور مذہب پر پچھلی صدیوں میں بڑھتی ہوئی تنقید کی وجہ سے ملحدین میں اضافہ ہوا ہے۔ الحاد کے حق میں استدلال، سائنس، فلسفہ، عمرانیات، اور تاریخ سے لایا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ خدا کی موجودگی کے بارے میں ہمارے پاس کوئی شاہد (empirical evidence) موجود نہیں ہے، مسئلۂ شر (problem of evil)، اہل مذاہب میں خدا کا مختلف تصور ، اختلافِ شرائع انبیا وغیرہ۔ ۲۰۱۲ء کے سرو ے کے مطابق اس وقت دنیا میں لادین افراد کی تعداد تیرہ سے سولہ فیصد کے درمیان ہے ۔اور اس تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔الحاد، جدید رجحان نہیں زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ بعض مذاہب نما فلسفے قدیم زمانے میں بھی موجود رہے ہیں جو کم از کم خدا کی بات کرتے دکھائی نہیں دیتے، جیسے جین مت اوربدھ مت، وغیرہ کے بعض مسالک الحادپسند رہے ہیں۔

جدید الحاد کی نوعیت

قدیم الحاد ایک نوعیت میں سادہ تھا۔ مگر آج کا الحاد نیچرل ازم، عمرانیات اور فلسفہ کے زیر سایہ بہت زیادہ مدلل ہو چکا ہے۔ہم ان دلائل کو جتنا بھی بودا کہیں، وہ اپنے اپنے نظام العلم میں مضبوط دلیلیں ہیں۔ مثلاً مسئلۂ شر problem) (of evil فلسفے میں، خاص طور سے مارکس کے بعد ، ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اسی طرح سائنس میں نظریۂ ارتقا اور بگ بینگ facts کی طرح مانے جا رہے ہیں۔ ان کی بنیاد پر نئے نظریات وجود پذیر ہورہے ہیں، جیسے کہ یہ کائنات لاشئ سے بنی ہے،اور جس طرح سے بنی ہے، اس میں خدا کی موجودگی ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی خدا کے بغیر اس کی تخلیق اور تدبیر امور کی توجیہ کچھ اس انداز میں کردی گئی ہے کہ اب ہر علت و معلول کا رشتہ مادے سے شروع ہوتا او ر مادے پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ عہد قدیم کا ممکن الوجود مادہ اب واجب الوجودبن چکا ہے، وہی خالق ہے،وہی قدیم ہے۔

پہلے الحاد کو ماننے والوں کو سوفسطائیت کا طعنہ دے کررد کردیا جاتا تھا، اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہے،اس لیے کہ الحاد کو اب سائنس اور ٹیکنالوجی کا سہارا حاصل ہے۔سائنس نے زندگی کے ہرہر میدان میں کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کی وجہ سے ایک طرف لوگوں کا سائنس اور سائنس دانوں پر اعتماد پیداہوچکا ہے۔ اس قدر کہ ہمارے عہد میں یہ علم کا سب سے معتمد شعبہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف سائنس کے اہل مذہب اور مذہبی کتابوں میں مسلسل غلطیاں ثابت کرنے کی وجہ سے ان پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لہٰذا الحاد ایک مضبوط ترین نظریے کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ اس کو محض برا کہنے یا سو فسطائیت کا نام دے دینے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے، بلکہ یہ ضروری ہے کہ اب علمی میدان میں اتر کر اس کا مقابلہ کیا جائے اور عقل و برہان کے ذریعے سے الحاد کو رد کیا جائے یا مذہب کو ثابت کیا جائے۔ اگر دونوں کام ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔

ملاحدہ کا استدلال

اہل الحاد کا استدلال کئی پہلوؤں سے سامنے آتا ہے۔جن میں نمایاں ترین: مذہبی، تاریخی، عمرانی ، فلسفیانہ اور سائنسی بنیادوں پر کیے جانے والے اعتراض ہیں۔اب ہم ان تمام کو الگ الگ لے کر زیربحث لاتے ہیں:

مذہبی استدلال

مذہبی استدلال کے معنی یہ ہیں کہ الحاد پرستی نے پچھلی ڈیڑھ دو صدی میں تقریباً تمام مذہبی کتابوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ سائنسی بنیادوں پر بہت سے جملوں اور آیات کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ مثلاً بائیبل کا انسانی تاریخ کو زیادہ سے زیادہ چھ ہزار سال میں بند کرنا، جب کہ سائنس ساٹھ ہزار سال پرانے انسان کا ثبوت رکھتی ہے۔ اسی طرح قرآن مجید ہی کے بارے میں دیکھیں تو پوری پوری ویب سائٹس اس کے لیے موجود ہیں جس میں قرآن کی سائنسی، لسانی، جغرافیائی، تاریخی غلطیاں اور قرآن مجید کے داخلی تضادات بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ غرض ملحدین کی طرف سے ہر مذہبی کتاب کو غلط قرار دینے کی کوششیں جاری ہیں۔قرآن مجید شاید ان میں سب سے زیادہ نشانۂ مشق بنایا جارہا ہے۔مثلاً یہ کہ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ فرعون نے جادو گروں سے کہا کہ میں تمھیں صلیب کر دوں گا۔۱؂ اس پر اعتراض یہ ہے کہ مصر میں صلیب کا رواج نہیں تھا۔یا مثلاً یہ کہ قرآن مجید کسی جگہ کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک دن کی لمبائی ایک ہزار سال کے برابر ہے،۲؂ جب کہ دوسری جگہ خود قرآن ہی ایک دن کو پچاس ہزار سال ۳؂ کے برابر قرار دے دیتا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ پانچ چیزیں اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا، اس میں رحم مادرمیں بچہ اور بارش کا وقت شامل تھے۔ اب سائنس دانوں نے کم از کم ان دونوں کو جاننا شروع کردیا تو پہلے مسلمان ان آیتوں کو سادہ معنی میں لیتے تھے اور اب معنی بدل دیے۔ مثلاً رحم مادر میں کیا ہے؟ اس سے مراد وہ یہ لیتے تھے کہ بیٹا یا بیٹی، مگر سائنسی اعتراض کے بعد انھوں نے شقی اور سعید (یعنی خوش بخت اوربد بخت) لینا شروع کردیا۔ وغیرہ۔

اس عمل سے دراصل الحاد پرستوں نے مذہب کی بنیادیں ڈھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا مقصود یہ ہے کہ خدا تو وہ ذات ہے، جس میں غلطی نہیں پائی جاتی، اس کا علم کامل ہوتا ہے۔جب ان کتب میں غلطی پائی گئی ، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ اللہ کی کتابیں نہیں ہیں۔جب تمام کتب جن کے الہامی ہونے کا دعویٰ تھا، غلطیوں سے بھری ہوئی پائی گئیں، تویہ بات ملحدین کی حد تک پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی کہ اللہ موجود نہیں ہے،کیونکہ اگر اللہ ہوتے تو ان کتب میں ایسی واضح غلطیاں نہ ہوتیں۔ (أعوذ باللّٰہ أن أکون من الجاہلین)۔

تمام اہل مذہب اس چیلنج کی شدت کو صحیح طرح سے محسوس نہیں کررہے ہیں، بلکہ سارے معاملے کو محض ایک سادہ روی سے لیا جارہا ہے۔ شایدیہ سب معجزات کا انتظارکررہے ہیں کہ یہ مصیبت خود ہی ٹل جائے گی، جب کہ ایسا ہو نے والا نہیں ہے۔

مذہبی استدلال کا دوسرا حصہ مذہب پرستوں کا اخلاقی اور سماجی زوال ہے۔اس وقت بدقسمتی سے مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقوام اپنے خدا کے ایمان کے باوجودناکام و نامراد دکھائی دیتی ہیں۔خود مغرب کے غلبہ کی وجہ عیسائیت کو نہیں، بلکہ سائنس ، ٹیکنالوجی اور آزادی فکر کو قرار دیا جاتا ہے، جب کہ مذاہب بالعموم ان تینوں سے بیر رکھتے ہیں، یا کم از کم ان میں سے بعض کو پسند نہیں کرتے۔مثلاً اسلام ہی کو دیکھیں تو وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو تو پسند کرتا ہے مگرمادر پدر آزادی فکر کو وہ بھی پسند نہیں کرتا۔لہٰذا ایک پکا مہذب ترین مسلمان بھی ایک ایسے سائنس دان کو تنگ کرسکتا ہے، جو غلط قسم کے نظریات کا حامل ہوگا۔اس تنگ کرنے کے عمل کو وہ مذہب کی طرف سے سکھائی ہوئی بری اخلاقیات قرار دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اگر مذہب یہی کچھ سکھاتا ہے تو اس کو بہتر ہے نہ مانا جائے۔ ہم دیکھو کتنے اچھے ہیں کہ ہر کسی کو سوچنے سمجھنے اور جینے کی پوری آزادی دیتے ہیں۔ وغیرہ۔

ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ معجزات اور کرامات اگر اللہ تعالیٰ کرتے تھے تو اب کیوں نہیں ہوتیں۔ اب تو ہر کام اس طریقے سے ہور ہا ہے، جو سائنس کے مطابق طبعی قوانین کے ماتحت ہونا کہلاتا ہے۔آج بھی اہل مذہب کو چاہیے کہ وہ جب بھوک لگے تو خود کھانے کے پاس جانے کے بجاے، کھانے کو اپنے پاس بلائیں۔

مذہبی استدلال کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ الہامی کتابیں ایک دوسرے سے بہت سے امور میں مختلف ہیں۔ تورات، انجیل اور قرآن ہی کو دیکھ لیجیے کہ شریعت کے بہت سے امور میں مختلف ہیں۔ اس کو بھی مذہب کے خلاف دلیل بنایا جارہا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتابیں اللہ کی نہیں ہیں ۔ اگر اس کی ہوتیں تو ایک ہی خدا کی کتابیں ہونے کی وجہ سے ایک جیسی باتیں ہی کرتیں۔

تاریخی استدلال

تاریخ انسانی کو اس رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ جس سے یہ بات ثابت کی جاتی ہے کہ مذہب کی وجہ سے انسانوں نے انسانوں پر بے انتہا ظلم ڈھائے ہیں۔ عہد عتیق سے لے کر بوسنیا اور چیچنیا کے حالیہ واقعات تک کی تاریخ اس بات پر وہ شاہد بناتے ہیں کہ مذہب ایک خون ریزی کی تحریک ہے، جس نے نسلوں کی نسلیں خداؤں کے بھینٹ چڑھا دی ہیں۔ اگر مذہب حقیقی خدا یا خداؤں کا دیا ہوا ہوتا تو ایسا ہر گز نہ ہوتا، اور مذہب کی اس بے رحمانہ تاریخ کی روشنی میں ہم اسے مان ہی نہیں سکتے۔

وہ کہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ بھی جنگ و جدل سے بھری ہوئی ہے۔ مسلمانوں نے غزوۂ بدر سے لے کرسلطنت عثمانیہ کے آخری دن تک معرکے جاری رکھے ہیں۔اسلام تلوار کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ میں ایک رحم دل اور شریف انسان دکھائی دیتے ہیں، مگر مدینہ میں آکر اپنے ہی بھائیوں کے خلاف نبرد آزما ہوئے،اور ایک سے زیادہ شادیاں کیں ، جو عام بادشاہوں کی طرح کی زندگی لگتی ہے۔ بلکہ مدینہ میں آکر ایک نابالغ بچی سے شادی رچائی اور غلام بنائے اور انسانیت کی تذلیل کی۔(اللہ مجھے اس کفر کے نقل کے گناہ سے معاف کرے)۔ دیکھیے منٹگمری واٹ کی محمد ایٹ مدینہ(صلی اللہ علیہ وسلم) (WATT 1956) صفحہ ۳۲۷ اور اس سے آگے۔

عمرانی استدلال

اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی معاشرے کے مطالعہ سے یہ ثابت کیا جائے کہ مذہب انسانوں کی اپنی پیدا کردہ چیز ہے۔اس کی تفصیل وہ یوں کرتے ہیں کہ شروع شروع میں انسان کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ کچھ اس طرح کے تھے کہ وہ جنگل میں ہوتا، سورج کی تیز شعائیں اس کو جلا کررکھ دیتیں، آندھیا ں طوفان اس کو ادھر ادھر پٹختے ، زلزلے اس کو دہشت زدہ کردیتے، شیر چیتے اس جیسے آدم زادوں کو نوچ ڈالتے ،بھنبھوڑتے اور بسا اوقات کھا بھی جاتے، آسمانی بجلی گرتی اور سب کچھ جلا کررکھ دیتی،بارش آتی کبھی ساز گاری لاتی اور کبھی تباہی کا سامان بنتی۔ انسان ان چیزوں کے خوف میں مبتلا ہوا، ان کی توجیہ کرتا، بالآخر وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یا یہ تمام چیزیں خود صاحب ارادہ ہیں یا ان کے پیچھے کوئی صاحب ارادہ ہستی ہے جو ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ جن لوگوں نے یہ توجیہ کی کہ یہ تمام چیزیں خود صاحب ارادہ ہیں، انھوں نے ان سب کو خدا مان لیا،اور جن لوگوں نے ان کے ماورا کسی ہستی کو صاحب ارادہ مانا، انھوں نے ان کو تو خدا نہیں مانا، مگر غیر مرئی کسی ذات یا کئی ذاتوں کو خدا مان لیا۔ پھر جیسے جیسے انسانوں کے تجربات سے چیزوں کی حقیقت واضح ہوتی گئی، ویسے ویسے خدا کی تعداد بھی کم ہوتی گئی۔ بعض قوموں نے تین ، بعض نے دو اور بعض نے ایک خدا کا تصور قائم کرلیا۔ گویا جیسے جیسے انسان کا علم بہتر ہوتا گیا، ویسے ویسے چیزوں کی حقیقت واضح ہوتی گئی اور وہ چیزوں کو خدا سے غیر خدا کی فہرست میں ڈالتا گیا۔ اب انسان کا علم جس جگہ پہنچ گیا ہے، اس نے کائنات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ اب اس ارتقا کی اگلی اسٹیج الحاد ہے۔ یعنی یہ ماننا کہ کوئی خدا موجود نہیں ہے۔ مثلاً Diettrich Bonhoeffer (Capitan 1972) کہتا ہے:

We are proceeding towards a time of no religion at all; men as they are now simply cannot be religious any more. (p 194)

''یعنی ہم ایک لادین وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں، آج کا انسان اب مذہبی رہنے والا نہیں ہے۔''

اس استدلال کو یوں بھی بیان کیا جاتا ہے:

پروٹو۔ہیومن سے مکمل انسان بنتے بنتے، انسانوں کے دل میں اپنے بارے میں درج ذیل سوالات ابھرے:

o موسم کو کون کنٹرول کرتا ہے؟ سورج کو کون لاتا ہے، ستارے کس کی وجہ سے حرکت میں ہیں؟

o یہ طوفان کون لاتا ہے؟ بارش کس کے کہنے پر برستی ہے، قحط کون بھیجتا ہے؟سیلاب کس کے حکم کے تابع ہیں؟

o زرخیزی کس کے حکم سے قبیلے کی فصلوں اور بھیڑوں اور گائیوں میں برکت دیتی ہے؟

o قبیلے کے نظام کو چلانے کے لیے کیا اصول و ضوابط ہوں کہ قبیلہ پرامن طریقے سے رہ سکے؟

o سب سے بڑھ کر یہ کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

سائنس سے پہلے کی دنیا میں یہ سوالات جس قدر اہم تھے، اسی قدر ان کے جواب دینے کے لیے کوئی راستہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ وہ موسموں اور طوفانوں کے پیچھے کے اسباب و علل کو جان ہی نہیں سکتے تھے۔ آج بھی سائنس کی اتنی ترقی کے باوجود ہم آخری دو سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا جو ان سوالات کے ساتھ آج ہو رہا ہے ، وہ باقی تمام کے ساتھ ماضی میں ہوا۔ قبیلے کے بعض طبع آزما لوگوں نے خود اپنے خیال و وہم سے ان سوالات کے جواب دینے شروع کیے ۔ یوں پہلا پہلا مذہبی تصور وجود میں آیا ہو گا۔

یہ وہ عمرانی استدلال ہے ، جسے اختیار کرکے مذہب کے بارے میں یہ بات منوانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ مذہب انسانی ذہن کی پیدا وار ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ قدیم انسان کے ذہنی وہم سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، تو جس طرح پرانے انسان کی یہ بات غلط ثابت ہوئی کہ زمین کسی بیل کے سینگ پر نہیں ٹکی ہوئی ہے، بلکہ خلا میں تیر رہی ہے، اسی طرح مذہب بھی غلط تصور ہے، اس لیے کہ اسے انسان ہی نے تراشا ہے، اوراس کے تراشنے کے لیے کوئی حتمی دلیل یا شاہد ان کے پاس نہیں تھا، لہٰذا یہ بھی غلط ہے۔

فلسفیانہ استدلال

اس استدلال کے دو حصے ہیں: ایک ان دلائل کا رد جنھیں اہل مذہب فلسفہ کے طرزواسلوب میں پیش کرتے رہے ہیں۔ مثلاً ڈیزائن سے ڈیزائنر پر استدلال سسٹم سے سسٹم بنانے اور چلانے والے پر استدلال۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں فلسفہ ہی کے کچھ سوالات ہیں جن کا جواب دینا ناممکن سمجھا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم سوال problem of evil ہے۔ اس کو فلسفی یوں بیان کرتے ہیں:

مذہب میں یہ ماناجاتا ہے کہ خدا اچھا ہے۔ خدا کو اچھا ماننا نہایت مشکل ہے، کیونکہ دنیا میں مصیبت ہی مصیبت ہے۔ برائی اپنی دونوں صورتوں(یعنی شر اور مصیبت کی صورت) میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اگر خدا اچھا ہے، اور وہ ہماراخیال رکھتا ہے، وہ لمحہ لمحہ ہمیں دیکھ رہا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے تو ذیل کی سطور پر غور کریں:

o خدا قادر مطلق ہے۔

o خدا ہر چیز کو جانتا ہے، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔

o خدا اچھا ہے۔

لیکن چونکہ دنیا میں برائی اور مصیبت موجود ہے، اس لیے تین میں سے کوئی ایک بات غلط ہوگی۔ مثلاً ایک بڑھیا کو گاؤں کے چودھری نے اس کے مرحوم شوہر کی زمینیں چھین کر گاؤں بدر کردیاہے۔ وہ ایک درخت کی کھو میں رہ رہی ہے۔ بھوک پیاس سے بے حال ہے۔ خدا کو پکارتی ہے، لیکن خدا اس کی نہیں سنتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ

o خدا اس برائی اور مصیبت کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔یا

o اسے پتا ہی نہیں کہ برائی دنیا میں ہو رہی ہے۔یا

o اسے پتا تو چل چکا ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے، لیکن وہ اچھا نہیں ہے ۔اسے بڑھیا جیسی انسانی تکالیف سے کوئی پروا نہیں ہے۔ (نعوذ باللہ)

یہ تینوں باتیں خدا کے بارے میں ہمارے تصور سے ٹکراتی ہیں، جو پہلے تین نکات کی صورت میں ہم نے بیان کیں۔ لہٰذا اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یا ہمارا خدا کے بارے میں تصور غلط ہے یا خدا ہے ہی نہیں۔

ایک جواب اور اس کا رد

مذہب کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ خدا نے یہ سب ہمارے امتحان کے لیے بنایا ہے۔اس دنیا میں برائی کا وجود ہمارے امتحان کے لیے ہے۔ اس پر اعتراض یہ کیا گیا کہ بچے سے کس بات کا امتحان؟ اس کو اتنی اتنی شدید تکالیف سے کیوں گزارا جاتا ہے؟ اس کے جواب میں اہل مذہب کہتے ہیں کہ اس سے ماں باپ کا امتحان ہوتا ہے۔فلسفی یہ کہتے ہیں کہ اللہ کو کوئی اور اچھا طریقہ کیوں نہ مل سکا کہ والدین کو آزمائے؟ اسے اتنے معصوم کو تکلیف دینے ہی کا راستہ ملا، جب کہ وہ علم و حکمت والا مانا جاتا ہے؟

غرض اس طرح سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ دنیا مادے کی غیر شعوری حرکات سے اندھے طریقے پر پیدا ہوئی ہے۔ مصیبت اور برائی کی وجہ یہی ہے کہ یہ کائنات کسی ذاتِ حق کے ارادے سے نہیں، بلکہ مادے کی اندھی حرکات سے پیدا ہوئی ہے ۔ لہٰذااتفاق سے کبھی کام اچھا ہو گیا اور کبھی ناقص رہ گیا۔ اس دنیا کا یہ نقص بتا رہا ہے کہ نہ یہ دنیا خدا نے بنائی ہے نہ خدا موجود ہی ہے۔

سائنسی استدلال

سائنس خود مذہب کی دشمن نہیں ہے، لیکن کچھ فلسفی قسم کے لوگ، اس سے کچھ ایسے نتائج نکال رہے ہیں جو مذہب کو ڈھانے والے ہیں۔

طبعی قوانین کی حاکمیت

سائنس پچھلی ڈیڑھ صدی سے اس بات پر مصر ہے کہ یہ دنیا حکم الٰہی سے نہیں، بلکہ طبعی قوانین سے چل رہی ہے۔ غزالی اور ابن رشد کی لڑائی سے لے کر آج ہیوم اور کانٹ کی لڑائی کے بعد بھی یہ سوال پوری شدت سے موجود ہے ۔ اگر ہم عام فہم زبان میں بات کریں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بگ بینگ کے وقت سے جو خصائص مادے میں پیدا ہوئے، یہ دنیا انھی کی تال میل سے بنی ہے اور انھی کے توافق و مخالفت سے چل بھی رہی ہے۔مثلاً نمک کی خاصیت یہ ہے کہ وہ چیزوں کونمکین کرے گا، اور نمک سوڈے کے ساتھ مل کر جھاگ بنائے گا اور جوش دکھائے گا، جیسے سوڈا واٹر کی بوتل میں نمک ڈالنے سے ہوتا ہے۔جب بھی سوڈا، پانی اور نمک اکٹھے ہوں گے، یہ جوش ان میں آئے گا۔خواہ یہ تینوں چیزیں ہوا سے اڑ کر اکٹھی ہو جائیں یا ایک انسان ایسا کرے۔غرض یہ کہ سوڈے کے جوش مارنے کے لیے ایک عاقل کی مداخلت ہر گزضروری نہیں ہے۔

مادے کے یہ خصائص بگ بینگ کے وقت خود ہی پیدا ہو گئے تھے،کیونکہ جس طرح دھماکا ہوا اور اس میں جس طرح سے ٹھنڈا ہونے پر پہلے مادے کے پارٹیکل بنے اور پھر ان کے بے ترتیب جڑنے پر ایٹم بنے۔اس سے مختلف النوع مادے بنتے چلے گئے۔ان کے اندر خود بخود جڑنے کی وجہ سے پروٹانوں اور نیوٹرانوں اور الیکٹرانوں کی تعداد مختلف تھی، ان کے اختلاف کی وجہ سے مادے کے ذرات کی خصوصیات مختلف ہوتی چلی گئیں ۔ کئی قسم کے مختلف مادے وجود میں آگئے ۔ جنھیں ایلیمنٹس یا عناصر کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد انھی کے باہمی تعامل سے باقی کام ہوتے چلے گئے۔ مادہ ٹھنڈا ہوتا گیا اور اس کے کئی روپ سامنے آتے چلے گئے۔ مختلف درجہ حرارت، مختلف مادوں کی موجودگی، پانی وغیرہ کی موجودگی یہ وہ امور تھے، جن کے مختلف ہونے کی وجہ سے چیزیں بھی مختلف بنتی چلی گئیں۔ غرض Stephen Hawking کے بقول یہ کائنات نہ ہونے سے ہونے میں خودبخود آگئی،اور چل بھی رہی ہے۔ جس طرح اس کے بننے میں مادے کے خصائص کی کارفرمائی ہے، ویسے ہی اس کے چلنے میں مادے ہی کی کارفرمائی ہے۔ مثلاً زمین و سورج اور چاند ستاروں کی باہمی کشش اور ان کی قوتِ حرکت جو بگ بینگ کے دھماکے سے وجود میں آئی تھی، اس نظام کے قیام کا ذریعہ ہے جسے سولر سسٹم اور بڑے پیمانے پر کائنات کہتے ہیں۔

زندگی کے اسی مادے نے اپنی خاصیتوں کی بنا پر کاربن، نائٹروجن اور بجلی کی قوت سے وہ ابتدائی خلیے بنائے جو پروٹین وغیرہ کے بننے میں کام آتے ہیں۔ یوں سمندر کے کسی گوشے میں اچانک زندگی نے جنم لے لیا ہوگا، اور اربوں سالوں کا سفر کرکے وہ مختلف ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی انسان کے روپ میں ظاہر ہوئی، جو ابھی تک زندگی کی سب سے ترقی یافتہ صورت ہے۔

ان دونوں کے لیے سائنس دانوں کے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں۔وہ ان شواہدکو اس رنگ سے پیش کرتے ہیں، جس سے کائنات کا خودبخود پیدا ہونا، اور چلتے رہنا ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح fossils کی شکل میں موجود زندگی کی باقیات کو وہ اس ترتیب اور تناظر میں پیش کرتے ہیں کہ نظریۂ ارتقا ثابت ہوتا ہے۔

نفسیات سے استدلال

فرائڈ کی نفسیاتی دریافتوں سے لے کر آج تک جو نظریات بھی پیدا ہوئے ہیں، ان میں یہ تصور کافی غلبہ پائے ہوئے ہے کہ انسانوں کے اندر نیکی بدی کا تصور پیدایشی طور پر موجود نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں کی اجتماعی زندگی ہے، جس نے کچھ اصولوں کی شکل اختیار کی اور اخلاقیات وجود پذیر ہوئی۔یہ کوئی خدائی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ سماجی تصور ہے، جسے نسل در نسل انسان اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں، یہ بھی اساطیر الاولین ہیں۔ انسان چونکہ سیکھنے والا جانور ہے، لہٰذا اس نے ماں باپ سے اس سبق کو سیکھ سیکھ کر اپنے مافی الضمیر کا حصہ بنا لیا ہے، حالاں کہ یہ اس کے ضمیر میں نہیں تھا۔ یہ super-ego ہے، جسے ہمارا سماج ہمیں سکھاتا ہے۔ اس تصور کو مانتے ہی تمام اخلاقیات ٹریفک کے قانون کی طرح سے غیر الٰہی، غیر ضروری اور غیر ابدی قانون بن کر رہ جاتی ہے۔ جس کی ضرورت صرف ٹریفک کے چلنے کی صورت میں ہے ویسے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ اس کے لیے دین کو تخلیق کیا جائے۔

اسی غیر اخلاقی قانون کو پرانے وقتوں میں مذہب کا رنگ دے دیا گیا تھا۔اب یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس اخلاق کی حیثیت اب روسو کے معاہدۂ عمرانی سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔اسے نہ دین سمجھو، نہ دین کی طرح خیال کرو کہ یہ کوئی اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ تو محض زندگی گزارنے کا ایک ایسا طریقہ ہے، جس میں انسان باہمی ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مذہب بھی اسی سوپر ایگو کا حصہ ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

ذرائع علم کا مسئلہ

دورِ حاضر میں ذرائع علم کو مادی تجربیت کے تحت محدود کردیا گیا ہے۔ایسے کسی ذریعۂ علم کو نہیں مانا جارہا ، جس میں دوسروں کو منواناناممکن ہو۔ مثلاً وجدان میں ایک شخص اگر ایک چیز محسوس کررہا ہے، تو وہ دوسرے کو کیسے بتائے۔ مثلاً سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے جب ان کے پاس قمیصِ یوسف لے کرآتے ہیں ، تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ گویا یوسف آرہے ہیں، تو اس احساس کے تحت وہ فرماتے ہیں کہ (اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ) * میں یوسف کی مہک کو محسوس کررہا ہوں۔ اس کو بعض علما وجدان کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ اچھی مثال ہے ، مگر اس کو دوسروں کو کیسے منوائیں۔ حضرت یعقوب جیسا بزرگ، نبی اور سچا انسان بھی اپنے گھر والوں کو یہ بات نہ منوا سکا۔ لہٰذا وہ بولے: 'تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِ' ** (باخدا آپ تو وہی پرانی بھٹکی بات میں پڑے ہوئے ہیں)۔ گویا ان کے اہل خانہ نے بھی اس وقت بات مانی ہوگی جب برادران یوسف ان کا کرتہ لے آئے۔

رہا وحی کے بطور ماخذ علم ہونے کا مسئلہ تو انھوں نے، جیسا ہم نے اوپر عرض کیا، الہامی کتب میں اپنے طور پر غلطیاں بتا کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وحی کے نام سے پیش کی جانے والی کتب غلطیوں اور تضادات سے مملو ہیں، چونکہ خدا غلطی نہیں کر سکتا، اس لیے یہ اللہ کی کتب نہیں ہیں۔ چنانچہ نہ خدا ہے، نہ خدانے وحی کبھی نازل کی ہے، اس لیے یہ کوئی ماخذ علم نہیں ہے، اگر یہ کتابیں ماخذ علم ہیں بھی تو ان میں غلطیاں ہیں۔ لہٰذا ان سے یقینی معنی میں سچا علم حاصل نہیں ہوتا۔ مثلاً وہ قرآن مجید فرقان الحمید کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ پرانے انسان کے فہم کے مطابق زمین کے ساکن ہونے اور سورج کے گردش میں ہونے کا قائل ہے۔یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں زمین کے چلنے کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ وغیرہ۔مختصر یہ کہ الحادِ نو اس بات کو پوری قوت کے ساتھ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وحی کے نام سے موجود کتب قابل استناد نہیں ہیں،بلکہ (نعوذ باللہ ) وہ اغلاط و تضادات کا مجموعہ ہیں۔

مذہب کے متبادلات

مذہب کا انکارکرکے ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ الحاد نے اپنے پر پرزے کچھ اس شکل میں نکالے ہیں کہ اس نے یہ خلا پیدا نہیں ہونے دیاہے، بلکہ انسانوں کو غیر شعوری طور پرپچھلے دوسوسال سے ایسے نظریات دیے ہیں جو مذہب کی جگہ پر انسانی فطرت کے خلا کو پر کرتے ہیں۔یوں مذہب کے متبادل کے طور پر انسانی وجود کو سامانِ تشفی فراہم کرتے ہیں۔ ان متبادلات کا فائدہ الحاد کو یہ ہے کہ انسان کی فطرت اگر مذہب کی پیاس محسوس کرے تو اصل پانی پلانے کے بجاے مصنوعی پانی سے اس کی پیاس بجھا دی جائے، تاکہ وہ اصل پانی، یعنی مذہب کا مطالبہ نہ کرے۔ اس اصول پر کہ انسان کوجو پیاس اصل میں صحیح مذہب کی ہے ، لیکن وہ باطل مذاہب سے بھی اپنی یہ پیاس بجھا لیتارہا ہے۔اگر بت پرستی انسان کی دینی پیاس بجھا سکتی ہے تو پھریہ تازہ افکاربھی انسان کی مذہبی پیاس کو بجھا سکتے ہیں۔ لہٰذا اس مقصد کے تحت درج ذیل نظریات کو شمار کیا جاسکتا ہے، جو مذہب کی پیاس کوبجھاتے ہیں، اوران کے ہوتے ہوئے انسان کسی مذہب کی ضرورت محسوس نہیں کرتا:

قومیت یا وطنیت

ملت کا جو شعور ایک مذہب دیتا ہے، اس کی اگر کوئی چیز متبادل ہوسکتی ہے، تو وہ وطنیت یا قومیت ہے۔اس چیز کا احساس علامہ اقبال رحمہ اللہ کو بھی ہوا چنانچہ ان کی زبانِ فصاحت بیان سے یہ شعر صادر ہوا:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے مذہب کا کفن ہے

اقبال کا یہ احساس غلط نہیں ہے، اس لیے کہ اقبال کے ساٹھ ستر سال بعد اب یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ بہت سے افکار نے مل کر مذہب کے متبادلات فراہم کیے ہیں۔جن میں سے ایک یہی وطنیت ہے۔بظاہر حب الوطنی ہر قوم اور ہر نسل کے لیے ایک جذبہ و تحریک کا سامان ہے۔ قومیت کے نام پر حکومتیں اور ملک چلیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ بھی حب الوطنی کی طرح کی ایک فطری اپچ ہے۔ مگر اس کی لے اگر اتنی بڑھا دی جائے کہ وہ مذہب کی جگہ لے لے تو اس کے معنی کچھ اور ہیں۔

معاہدۂ عمرانی اور حقوق انسانی کا چارٹر

دین معاملات میں حقوق و فرائض کی بات کرتا ہے۔اسلام، یہودیت اور عیسائیت چونکہ الہامی مذاہب ہیں، اس لیے ان میں ان حقوق کاتذکرہ سب مذاہب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ روسو کا معاہدۂ عمرانی اور اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر جیسی چیزیں دراصل اس ضمانت کا متبادل ہیں، جو مذہب کی طرف سے حاصل ہوتی تھی۔خدا کی ضمانت کو اقوام متحدہ اور معاہدۂ عمرانی کے تحت عوام کے لیے حکومت کی طرف سے یہ ضمانت دراصل مذہب سے بے نیاز کرتی ہے۔ جس مقصد کے لیے لوگ مذہب اور آیاتِ الٰہی کا حوالہ دیا کرتے تھے، اب اس کی جگہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

قانون

تمام ادیان اپنے ماننے والوں کے لیے شرائع تشکیل کرتے ہیں، تاکہ ان کی روزہ مرہ کی زندگی کو منظم کرے اور ان کو حدود وقیود کا پابند کرکے ان کو پرامن انسان بنایا جائے، تاکہ وہ ایک اچھاباپ، شوہر ، بھائی، ہمسایہ، افسر، اور حکمران وغیرہ بنائے۔اہل مغرب نے ان تمام چیزوں کے حل کے لیے قانون کا سہارا حاصل کیا ہے۔اب باپ اپنے بچوں پر شفقت اس لیے کرے گا فطری محبت کے ساتھ ساتھ کہ کہیں قانون اسے گرفت میں نہ لے اور اس کی اولاد اس سے چھین نہ لی جائے، اور بیٹا اب دین کی تلقین کے مطابق باپ کی ڈانٹ کو نہیں سنے گا، بلکہ وہ اس کے خلاف قانون کا سہارا لے سکے گا۔تمام آداب و شرائع سے حاصل ہونے والے تحفظ کی جگہ اب قانونی تحفظ کو حاصل ہو گی۔

انسان مرکزیت (humanism)

انسان کے اندر نیکی کا جذبہ فاطرِ ارض وسما نے رکھا ہے۔اسی وجہ سے وہ نیکی کو پسند کرتا اور برائی سے اصلاً نفرت کرتا ہے۔ انسان اپنی اس فطری اپچ کی تسکین کئی طریقوں سے کرتا ہے۔اسلام نے اس کے لیے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ایک متوازن نظام دیا ہے۔ لیکن اب تمام نیکی کو ایک ہی نام دیا جارہا ہے ، وہ ہے انسان کا تحفظ و فلاح جس کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر مرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔

سوشل ورک

نیکیوں میں انسانوں کی خدمت ہر مذہب میں موجود رہی ہے۔ بھوکے کو کھلانا، مسافر کی مدد، غریب سے تعاون، بیمار کی تیمارداری وعلاج یہ ہمیشہ سے ادیان میں اور بالخصوص ادیان براہیمی میں پوری آب و تاب سے موجود رہی ہے۔ لیکن انسانوں کے ساتھ اس ہمدردی کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ اور عبادات کا ایک نظام بھی موجود رہا ہے۔اب سوشل ورک کو بین الاقوامی سطح پر بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ اس نیکی کے کرنے کے لحاظ سے ابھی بھی یہ اہمیت کم ہے، لیکن ہم جس پہلو سے بات کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ انسان کے نیکی کے جذبے کی تسکین اب اسی سے کی جائے گی۔ انسانی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ غیر متوازن طریقے سے بھی اپنے جذبہ کی تسکین کرکے مطمئن ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر وہ حقوق العباد پورے کرتا رہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی فطرت اسی پر اتنی مطمئن ہو جائے کہ وہ حقوق اللہ یا عبادتِ خدا کی ضرورت ہی محسوس نہ کرے۔اس کی ایک عام مثال ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے کہ بالعموم نماز روزے کا اہتمام کرنے والے سماجی نیکیوں میں کمزور ہوتے ہیں۔ وہ معاشرتی اصلاحی کاموں میں کم ہی حصہ لیتے ہیں۔بسا اوقات ان کو اخلاقی میدان میں بھی کمزور پایا گیا ہے۔ اس اصول پر سوشل ورک کرنے والے لوگ اپنے جذبۂ عبادت میں کمزور ہوتے ہیں، اس لیے کہ اس نیکی کا احساس ان کی دوسری نیکیوں کی پیاس کے لیے پانی کا کام کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا NGOsدراصل معابد کی جگہ لیتی جارہی ہیں، اور سوشل ورک عبادت کی۔ بلکہ بعضے تو یہ تک کہتے ہیں کہ یہی اصل نیکی ہے۔ عبادت ریاضت تو قدیم انسان کے توہمات نے پیدا کی تھی۔

سیاسی جدوجہد

انسانی حقوق کی جنگ کے میدان میں جو جدو جہد سیاسی میدان میں کی جاتی ہے یا انقلابی نوجوانوں کی جدوجہد بھی سوشل ورک کی طرح عبادت کے جذبے کی تسکین بھی کرتی ہے۔

اصنام پرستی نو( neo-paganism)

انسان کی فطری تشکیل کچھ اس قسم کی ہے کہ وہ غیبی چیزوں کو مانتا ہے ۔ لوگ اسی فطرت کی بنا پر توہمات کا شکار ہو جاتے ہیں۔بھوت پریت ، جادو، اور غیبی قوتوں اور ان پر قابو پانا وغیرہ اسی فطرت سے پیدا ہونے والے باطل امور ہیں۔ اسی سے لوک اور مذہبی داستانیں وجود میں آتی تھیں۔انسان کا یہی وہ رخ ہے جو (mythology) کو وجود پذیر کرتا ہے۔لیکن انسان کی یہی فطرت ہے جس کی وجہ سے وہ عقیدہ کو ماننے کے قابل ہوتا ہے۔انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ انسان کی یہ فطرت بھی باطل امور پر یقین رکھ کر مطمئن ہو جاتی رہی ہے،بلکہ لگتا یہی ہے کہ عجوبہ قسم کی باتوں سے اس کی اس فطرت کی تسکین زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکا اور یورپ میں ایساادب تخلیق کیا جارہا ہے جو ان چیزوں کو mythology بنائے بغیر انسان کی اس عجوبہ پسندی کی تسکین کرے گا۔اس مقصد کے لیے فلمیں ،ناول، ڈرامے وغیرہ تیار کیے جارہے ہیں۔

اس کے علاوہ قدیم زمانے کے باطل خداؤں کو دوبارہ نئی صورتوں میں سامنے لایا جارہا ہے۔

یہ ایک مختصر فہرست ہے، جو ابھی نامکمل ہے۔اس میں بہت سی باتیں یقیناًاور بھی ہوں گی۔جو انھی متبادلات کا کردار ادا کرتی ہوں گی۔لیکن ہم یہاں اسی بات پر اکتفا کریں گے کہ انھیں بطور مثال سمجھا جائے کہ کس طرح کی چیزیں انسان کو مذہب کی ضرورت سے بے نیاز کرتی ہیں۔

______

۱؂ الاعراف ۷: ۱۲۴۔ 'لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ'۔

۲؂ السجدہ ۳۲: ۵۔ 'یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ'۔

۳؂ المعارج ۷۰: ۴۔ 'تَعْرُجُ الْمَآٰءِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ'۔

* یوسف ۱۲: ۹۴۔

** یوسف ۱۲: ۹۵۔

____________

الحادِ جدید اور ہم (2/2)