علمِ حدیث میں درایتی نقد کا تصور


خبر کی اہمیت اور نقدِ خبر کا معیار

انسانی علم کے عام ذرائع میں خبر بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا دائرۂ کار وہ امور ہیں جن تک انسان کے حواس اور عقل کی رسائی نہیں ہے۔ ہم اپنے حواس کی مدد سے صرف ان چیزوں کے بارے میں جان سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہوں اور ہم ان پر دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہوں۔ اسی طرح ہماری عقل صرف ان معلومات کو ترتیب دے کر مختلف نتائج اخذ کر سکتی ہے جو ہمارے حواس اس تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن باقی امور کے علم کے لیے ہمیں دوسرے انسانوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جو ہمیں ان تجربات کے بارے میں بتا سکیں جو انھیں حاصل ہوئے یا ان واقعات کی خبر دے سکیں جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے۔

انسانی تمدن کی تشکیل اور ارتقا میں خبر نہایت اہم کردار کرتی ہے۔ اسی کے ذریعے سے افراد اور گروہ ان لوگوں کے بارے میں جانتے، تصورات قائم کرتے اور اس کے نتیجے میں مختلف علمی وعملی رویے اختیار کرتے ہیں جن سے ان کا براہ راست واسطہ نہیں یا جو زمانی لحاظ سے ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ۔ اسی کے ذریعے سے نسلِ انسانی مختلف میدانوں میں اپنے تجربات واکتشافات کو محفوظ کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہے۔

تاہم انسان کو حاصل ہونے والی دوسری تمام صلاحیتوں کی طرح، خبر کی صلاحیت بھی نقائص اور خامیوں سے پاک نہیں۔ خبر کی افادیت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اس میں حقیقتِ واقعہ کو بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہو جیسی کہ وہ ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ہر خبر اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر کو روایت کرنے والے،جیسا کہ واضح ہے، انسانوں ہی میں سے کچھ افراد ہوتے ہیں اور اس کے مضمون کی ترتیب میں ان کی طبعی صلاحیتوں، مشاہدہ واستنباط کے طریقوں، ان کے گرد وپیش کے حالات اور ان کے کردار کا نہایت گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل ، بالعموم واقعہ کی حقیقی تصویر کو خراب کرنے اور اس میں سے حقیقت کے عنصر کو کمزور کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

اس نقص کے ازالہ کے لیے نسلِ انسانی کے عقلا نے صدیوں کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں روایت کی جانچ پرکھ کے مختلف اصول وضع کیے ہیں جن کا اطلاق کر کے کسی بھی روایت کی تصدیق یا تکذیب کی جا سکتی اور ماخذِ علم کے طور پر اس کا مقام متعین کیاجا سکتا ہے۔ یہ اصول وضوابط کیا ہیں؟ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے حسبِ ذیل اقتباس میں ان کے بنیادی پہلو نہایت خوبی سے بیان کیے گئے ہیں:

''ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کسی خبر کی تحقیق کا سخت سے سخت قابلِ عمل معیار کیا ہو سکتا ہے۔ فرض کیجیے زید نام کا ایک شخص اب سے سو برس پہلے گزرا ہے جس کے متعلق عمرو ایک روایت آپ تک پہنچاتا ہے۔ آپ کو تحقیق کرنا ہے کہ زید کے متعلق یہ روایت درست ہے یا نہیں؟ اس غرض کے لیے آپ حسبِ ذیل تنقیحات قائم کر سکتے ہیں :

۱۔ یہ روایت عمرو تک کس طریقے سے پہنچی؟ درمیان میں جو واسطے ہیں، ان کا سلسلہ زید تک پہنچتا ہے یا نہیں؟ درمیانی راویوں سے ہر راوی نے جس شخص سے روایت کی ہے، اس سے وہ ملا بھی تھا یا نہیں۔ ہر راوی نے روایت کس عمر اور کس حالت میں سنی؟ روایت کو اس نے لفظ بلفظ نقل کیا یا اس کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کیا؟

۲۔ کیا یہی روایت دوسرے طریقوں سے بھی منقول ہے؟ اگر منقول ہے تو سب بیانات متفق ہیں یا مختلف؟ اور اختلاف ہے تو کس حد تک؟ اگر کھلا ہوا اختلاف ہے تو مختلف طریقوں میں سے کون سا طریق زیادہ معتبر ہے؟

۳۔ جن لوگوں کے واسطے سے یہ خبر پہنچی ہے، وہ خود کیسے ہیں؟ جھوٹے یا بد دیانت تو نہیں؟ اس روایت میں ان کی کوئی ذاتی یا جماعتی غرض تو مخفی نہیں؟ ان میں صحیح یاد رکھنے اور صحیح نقل کرنے کی قابلیت تھی یا نہیں؟

۴۔ زید کی افتادِ طبع، اس کی سیرت، اس کے خیالات اور اس کے ماحول کے متعلق جو مشہور ومتواتر روایات یا ثابت شدہ معلومات ہمارے پاس موجود ہیں، یہ روایت ان کے خلاف تو نہیں ہے؟

۵۔ روایت کسی غیر معمولی اور بعید از قیاس امر کے متعلق ہے یا معمولی اور قرین قیاس امر کے متعلق؟ اگر پہلی صورت ہے تو کیا طرقِ روایت اتنے کثیر، مسلسل اور معتبر ہیں کہ ایسے امر کو تسلیم کیا جا سکے؟ اور اگر دوسری صورت ہے تو کیا روایت اپنی موجودہ شکل میں اس امر کی صحت کا اطمینان کرنے کے لیے کافی ہے؟

یہی پانچ پہلو ہیں جن سے کسی خبر کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے ۔'' ۱؂

اس اقتباس کا تجزیہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں روایت کی تنقید کے دو مستقل اور جداگانہ معیاروں کا ذکر کیا گیا ہے :

پہلا معیار ''روایتی معیار'' ہے جس میں اصل بحث راوی کی شخصیت، سند کے اتصال، روایت کے طریقوں اور اس کی مختلف سندوں سے ہوتی ہے۔ اقتباس میں مذکورپہلے تین امور اسی معیار سے متعلق ہیں۔

دوسرا معیار ''درایتی معیار'' ہے جس میں مذکورہ امور سے ہٹ کر دیگرعقلی قرائن کی روشنی میں متنِ روایت کی صحت واستناد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ گویا درایت سے مراد ایسے قرائن کا علم اور اطلاق ہے جن کا لحاظ رکھنا ، عقلِ عام اور روز مرہ انسانی تجربات ومشاہدات کی روشنی میں، کسی بھی خبر کا مقام متعین کرنے میں ضروری ہے۔ اقتباس میں مذکور آخر ی دونوں امور اسی معیار کی وضاحت کرتے ہیں۔

زیرِ نظر تحریر میں مسلمانوں کی علمی روایت میں نقدِ خبرکے درایتی معیار اور اس کے عملی اطلاق کے مختلف پہلووں کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات آغاز ہی میں پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مختلف روایات پر تنقید کے سلسلے میں ہم نے اہل علم کی جو آرا نقل کی ہیں، ان سب سے اتفاق نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں ،بلکہ ہماری رائے میں ان میں سے بیشتر روایات کی ایسی معقول اور اطمینان بخش توجیہات پیش کی جا سکتی ہیں جن سے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات ختم ہو جاتے ہیں۔ یہاں ان آرا کو نقل کرنے کے بنیادی مقصد دو ہیں:ایک تو اس حقیقت کی وضاحت کہ جزوی اختلاف کی گنجایش کے باوجود اصولی طور پر روایات پر درایتاً تنقید کرنے کا طریقہ اکابر اہل علم کے ہاں معروف ومسلم رہا ہے اور دوسرا ان مختلف پہلووں کی نشان دہی جو اس سلسلے میں اہل علم کے زیر غور آئے ہیں۔

دین میں نقد درایت کی بنیاد

روایت کی تحقیق کرتے ہوئے حالات وقرائن کی روشنی میں اس کے مختلف پہلووں پر غور کرنے کی تعلیم خود قرآنِ مجید نے دی ہے۔ سورۂ نور میں واقعۂ افک کے ضمن میں ارشاد ہے :

لَوْ لاَ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنْفُسِھِمْ خَیْرًا وَّقَالُوْا ھٰذَا اِفْکٌ مُّبِیْنٌ ۔ (النور ۲۴: ۱۶)

''ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس بات کو سنا تو مومن مردوں اور عورتوں نے ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کیا اور کہا کہ یہ تو صریح بہتان ہے۔ ''

اس آیت سے معلوم ہوا کہ بعض خبریں ایسی ہوتی ہیں جن کے بطلان کے قرائن اس قدر واضح ہوتے ہیں کہ ان کو سنتے ہی ان کی تردید کر دینی چاہیے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں روایت ہے کہ جب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو اپنی اہلیہ سے فرمایا: ''یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب، کیا تم ایسا کر سکتی ہو؟'' انھوں نے کہا :''بخدا نہیں۔'' تو فرمایا: ''اللہ کی قسم، عائشہ رضی اللہ عنھا تم سے بہتر ہیں۔'' ۲ ؂

مسندِ احمد میں حضرت ابو اسید الساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اذا سمعتم الحدیث تعرفہ قلوبکم وتلین لہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم قریب فانا اولاکم بہ واذا سمعتم الحدیث عنی تنکرہ قلوبکم وتنفر منہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم بعید فانا ابعدکم منہ ۔(مسند احمد ابن حنبل، ۴/ ۵)

'' جب تم کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمھارے دل مانوس ہوں اور تمھارے بال وکھال اس سے متاثر ہوں اور تم اس کو اپنے سے قریب سمجھوتو میں اس کا تم سے زیادہ حق دار ہوں اور جب کوئی ایسی حدیث سنو جس کو تمھارے دل قبول نہ کریں اور تمھارے بال و کھال اس سے متواحش ہوں اور تم اس کو اپنے سے دور سمجھو تو میں تم سے بڑھ کر اس سے دور ہوں ۔''

صحا بۂ کرام کی آرا میں نقد درایت

درایت کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات کو پرکھنے کے طریقے کا آغاز حضرات صحابۂ کرام ہی کے زمانے میں ہو چکا تھا۔ فقہا صحابہ کی آرا کے استقرا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں قبولِ روایت کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور اصولِ شرع کے خلاف نہ ہو۔ چنانچہ اگر کوئی ایسی روایت ان کے سامنے آتی جو ان کے علم وفہم کے مطابق کتاب اللہ یا سنت سے معارض ہوتی تو وہ اسے راوی کی کم فہمی پر محمول کرتے ہوئے حسب ذیل دو طریقوں میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار کرتے تھے:

ایک یہ کہ سرے سے روایت ہی کو رد کر دیتے ۔

دوسرا یہ کہ اپنے فہم کے مطابق روایت کی توجیہہ کرتے ہوئے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مدعا تو یہ تھا ، لیکن راوی نے اسے غلط سمجھا اور اپنی سمجھ کے مطابق اسے روایت کر دیا۔

جلیل القدر صحابۂ کرام کی آرا میں درایتی نقد کے شواہد حسبِ ذیل ہیں:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا

ام المومنین حضرت عائشہ نے متعدد مواقع پر بعض صحابۂ کرام کی بیان کردہ روایتوں کو ان کی ظاہری شکل میں اس بنا پر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ان کے نزدیک کتاب اللہ کے نصوص یا اصولِ شرع کے خلاف تھیں۔ ان میں سے چند مثالیں ہم یہاں نقل کرتے ہیں :

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ: 'ان المیت لیعذب ببکاء اھلہ علیہ'۔ ''بے شک مردے کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے۔''

حضرت عائشہ نے سنا تو فرمایا :

یرحم اللُّہ عمر لا واللّٰہ ما حدث رسول اللّٰہ ان اللّٰہ یعذب المومن ببکاء احد ولکن قال ان اللّٰہ یزید الکافر عذابا ببکاء اھلہ علیہ قال وقالت عائشۃ حسبکم القرآن: وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ (مسلم ، رقم ۲۱۵۰)

''اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے، بخدا رسول اللہ نے یہ نہیں فرمایا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتے ہیں۔ آپ نے کافر کے بارے میں فرمایا ہوگا کہ اس کے پس ماندگان کے رونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمھیں قرآن کی یہ آیت کافی ہے کہ کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ ''

مسند احمد میں روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ' الطیرۃ فی المراۃ والدابۃ والدار' ۔ ''نحوست عورت میں، سواری کے جانور میں اور گھر میں ہوتی ہے۔''

تو حضرت عائشہ نے کہا:

والذی انزل الفرقان علی ابی القاسم ما ھکذا کان یقول ولکن کان یقول کان اھل الجاھلیۃ یقولون الطیرۃ فی المراۃ والدابۃ والدار ثم قرات عائشۃ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا۔ (مسند احمد، ۶/ ۲۴۰)

''اللہ کی قسم، رسول اللہ نے ایسا نہیں فرمایا ۔ آپ نے تو اہلِ جاہلیت کے بارے میں فرمایا ہوگا کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی ''تمھیں زمین میں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی یعنی طے شدہ ہے، اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں'' ۔ ''

مسند ابی داؤد الطیالسی میں روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں داخل کر دیا کیونکہ اس نے اس کو باندھ رکھا تھا۔نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ حضرت عائشہ نے یہ حدیث سن کر کہا :

المومن اکرم عند اللّٰہ من ان یعذبہ فی جرء ھرۃ اما ان المراۃ من ذالک کانت کافرۃ۔ ابا ھریرۃ اذا حدثت عن رسول اللہ فانظر کیف تحدث ۔ ( مسند ابی داؤد الطیالسی: ص ۱۹۹)

''اللہ کے ہاں مومن کا مرتبہ اس سے بلند ترہے کہ وہ اس کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دے۔ یہ عورت، درحقیقت، کافرہوگی۔ ابو ہریرہ، جب رسول اللہ سے کوئی حدیث نقل کرو تو سوچ سمجھ کر نقل کیا کرو۔''

حضرت عمر

سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا نے یہ روایت بیان کی کہ ان کے خاوند نے انھیں تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ عدت کے دوران میں ان کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا :

ما کنا لندع کتاب ربنا وسنۃ نبینا لقول امراۃ لا ندری احفظت ام لا ۔(سنن ابی داؤد:کتاب الطلاق، حدیث ۲۲۹۱)

''ہم کتاب اللہ اور رسول اللہ کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کو پتہ نہیں بات یاد بھی رہی یا نہیں۔''

حضرت علی

سنن ابی داؤد میں معقل بن سنان الاشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبیلے کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں، جس کا خاوند فوت ہو گیا تھا اور نکاح میں اس کے مہر کی مقدار طے نہیں کی گئی تھی، یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کو اتنا ہی مہر دیا جائے جتنا اس کے خاندان کی عورتوں کو عام طور پر دیا جاتا ہے۔ ۳؂

تاہم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس روایت کو قبول نہیں کیا بلکہ فرمایا:

لا ندع کتاب ربنا وسنۃ نبینا بقول اعرابی بوال علی عقبیہ۔ ( الآمدی، الاحکام ، ۳/ ۱۶۰۔ الشافعی، الام ۷/ ۹ ۔ ۳۶۳۔ ابن الہمام، التحریر، ۲/ ۲۷۲۔)

''ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو ایک (اجڈاور) ایڑیوں پر پیشاب کرنے والے دیہاتی کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ''

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ

جامع ترمذی میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ آگ پرپکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو عبد اللہ ابن عباس نے اس کو خلافِ عقل وقیاس ہونے کی بنا پر قبول نہ کیا اور فرمایا : 'انتوضا من الدہن؟ انتوضا من الحمیم؟'۔''کیا ہم چکناہٹ سے وضو کریں؟ کیا ہم گرم پانی کے استعمال سے وضو کریں؟ ''

اس پر حضرت ابو ہریرہ نے کہا : 'اذا سمعت عن رسول اللّٰہ حدیثا فلا تضرب لہ مثلا'۔''جب تم رسول اللہ کی کوئی حدیث سنوتو اس کے مقابلے میں باتیں نہ بنایا کرو۔ ۴؂

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ

صحیح بخاری میں ہے کہ محمود بن الربیع نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'ان اللّٰہ قد حرم علی النار من قال لا الہ الا اللّٰہ یبتغی بذلک وجہ اللّٰہ'۔ ''جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر لا الہ الا اللہ پڑھ لیا، اس پر اللہ نے جنت کو حرام کر دیا۔''

حضرت ابو ایوب انصاری نے یہ سنا تو فرمایا : 'واللّٰہ ما اظن رسول اللّٰہ قال ما قلت قط '۔''بخدا میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ نے کبھی ایسی بات فرمائی ہوگی۔ '' ۵؂

حافظ ابن حجر ان کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ گناہ گار موحدین جہنم میں نہیں جائیں گے ، حالانکہ یہ بات بہت سی آیات اور مشہور احادیث کے خلاف ہے۔ ۶؂

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ

واقعۂ معراج کی روایات میں ذکر ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے تو آپ نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اسے ایک پتھر کے ساتھ باندھ دیا۔ ۷؂

لیکن حضرت حذیفہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:'ویتحدثون انہ ربطہ۔ لما؟ لیفر منہ؟ وانما سخرہ لہ عالم الغیب والشہادۃ' لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے اس جانور کو باندھ دیا۔ کیوں؟ کیا آپ کو یہ خدشہ تھا کہ وہ بھاگ جائے گا؟ اسے تو عالم الغیب والشہادۃ نے آپ کے لیے مسخر کیا تھا۔ ۸؂

(باقی)

___________

۱؂ تفہیمات ، ۱/ ۳۴۵۔

۲؂ تفسیر القرآن العظیم، ۳/ ۲۷۳۔

۳؂ سنن ابی داؤد: کتاب النکاح، باب فی من تزوج ولم یسم صداقا حتی مات، حدیث ۲۱۱۶۔

۴؂ جامع الترمذی:کتاب الطہارۃ، باب الوضوء مما غیرت النار، حدیث نمبر ۷۹۔

۵؂ صحیح البخاری: کتاب التہجد، باب صلاۃ النوافل جماعۃ، حدیث ۱۱۸۶۔

۶؂ ابن حجرالعسقلانی : فتح الباری، ج ۳، ص ۶۲۔

۷؂ صحیح مسلم ومسند احمد عن انس،مسند البزار والترمذی عن بریدہ، دلائل النبوۃ للبیہقی عن ابی سعید۔ بحوالہ تفسیر ابن کثیر، ج ۳، ص ۲ تا ۲۴۔

۸؂ جامع الترمذی: کتاب التفسیر، حدیث ۳۱۴۷۔ مسند احمد، حدیث ۲۲۲۴۳۔