علمِ حدیث میں درایتی نقد کا تصور (2)


اکابر اہل علم کی آرا میں نقد درایت کی مثالیں

محدثین نے جہاں روایت کی سند کی تحقیق کے سلسلے میں گراں قدر اصول وضع کیے ہیں، وہاں روایت کے متن کی تنقید کے سلسلے میں درایت کی اہمیت بھی تسلیم کی ہے۔ محدث عمر بن بدر الموصلی لکھتے ہیں :

لم یقف العلماء عند نقد الحدیث من حیث سندہ بل تعدوا الی النظر فی متنہ فقضوا علی کثیر من لاحادیث بالوضع وان کان سندا سالما اذا وجدوا فی متونھا عللا تقضی بعدم قبولھا ۔ (تقی امینی، حدیث کا درایتی معیار ۱۷۹)

''علما نے نقد حدیث کے معاملے میں صرف سند پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس دائرے میں متن کو بھی شامل کیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے بہت سی ایسی حدیثوں کو موضوع قرار دیا ہے جن کی سندیں اگرچہ درست ہیں، لیکن ان کے متن میں ایسی خرابیاں پائی جاتی ہیں جو ان کو قبول کرنے سے مانع ہیں۔''

اس مقصد کے لیے جو چیزیں کسوٹی کا کام دے سکتی ہیں، ان کا ذکر کرتے ہوئے جلیل القدر محدث خطیب بغدادی اپنی کتاب'' الفقیہ والمتفقہ'' میں لکھتے ہیں:

واذا روی الثقۃ المامون خبرا متصل الاسناد رد بامور: احدھا ان یخالف موجبات العقول فیعلم بطلانہ لان الشرع انما یرد بمجوزات العقول واما بخلاف العقول فلا۔ والثانی ان یخالف نص الکتاب او السنۃ المتواترۃ فیعلم انہ لا اصل لہ اومنسوخ۔ والثالث ان یخالف الاجماع فیستدل علی انہ منسوخ اولا اصل لہ لانہ لا یجوز ان یکون صحیحا غیر منسوخ وتجمع الامۃ علی خلافہ۔ ...... والرابع ان ینفرد الواحد بروایۃ ما یجب علی کافۃ الخلق علمہ فیدل ذلک علی انہ لا اصل لہ لانہ لا یجوز ان یکون لہ اصل وینفرد ہو بعلمہ من بین الخلق العظیم۔ والخامس ان ینفرد بروایۃ ما جرت العادۃ بان ینقلہ اھل التواتر فلا یقبل لانہ لا یجوز ان ینفرد فی مثل ھذا بالروایۃ۔ (۱/ ۱۳۲)

''جب کوئی ثقہ اور مامون راوی ایسی روایت بیان کرے جس کی سند بھی متصل ہو تو اس کو ان امور کے پیش نظر رد کر دیا جائے گا : ایک یہ کہ وہ تقاضاے عقل کے خلاف ہو ۔ اس سے اس کا باطل ہونا معلوم ہوگا، کیونکہ شریعت عقل کے تقاضوں کے مطابق وارد ہوتی ہے نہ کہ عقل کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ وہ کتاب اللہ کی نص یا سنت متواترہ کے خلاف ہو۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں یا وہ منسوخ ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ اجماع کے خلاف ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ وہ منسوخ ہے یا اس کی کوئی اصل نہیں ، کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ صحیح اور غیر منسوخ ہو اور امت کا اس کے خلاف اجماع ہو جائے۔ چوتھے یہ کہ ایسے واقعہ کو صرف ایک راوی بیان کرے جس کا جاننا تمام لوگوں پر واجب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں ، کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس بات کی کوئی اصل ہو اور تمام لوگوں میں سے صرف ایک راوی اس کو نقل کرے۔ پانچویں یہ کہ ایسی بات کو صرف ایک آدمی نقل کرے جس کو عادتاً لوگ تواتر کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ یہ بھی قبول نہیں ہوگی ، کیونکہ جائز نہیں کہ ایسے واقعہ کو نقل کرنے والا صرف ایک آدمی ہو۔''

اس فہرست میں کئی اور چیزوں کا بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے ، لیکن ہمارے خیال میں امام ابن الجوزی نے اس بحث کو نہایت خوبصورت طریقے سے اپنے مختصر اور جامع الفاظ میں سمیٹ دیا ہے :

ما احسن قول القائل: اذا رایت الحدیث یباین المعقول او یخالف المنقول او یناقض الاصول فاعلم انہ موضوع۔ (تدریب الراوی، السیوطی ۱/ ۲۷۷ )

''کسی کہنے والے نے کتنی اچھی بات کہی ہے کہ جب تم دیکھو کہ ایک حدیث عقل کے خلاف ہے یا ثابت شدہ نص کے مناقض ہے یا کسی اصول سے ٹکراتی ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔''

اب وہ مثالیں ملاحظہ کیجیے ، جن میں مذکورہ اصولوں کو برتتے ہوئے جلیل القدر اہلِ علم نے درایتی معیار پر پورا نہ اترنے والی بہت سی روایات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے ، اگرچہ ان کے راوی نہایت ثقہ اور اسانید بالکل متصل ہیں۔

مسلمات دین کے خلاف روایات

صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے روایت ہے:

کان فی ما انزل من القرآن عشر رضعات معلومات یحرمن ثم نسخن بخمس معلومات فتوفی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھی فی ما یقرا من القرآن۔ ( مسلم ، رقم ۳۵۹۷ )

''قرآن مجید میں پہلے یہ حکم نازل ہوا تھا کہ دس مرتبہ کسی عورت کا دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ پھر اس حکم کو منسوخ کر کے پانچ مرتبہ دودھ پینے کو باعث حرمت قرار دیا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یہ حکم قرآن مجید کی آیات میں شامل تھا۔''

امام ابوبکر الجصاص اس پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

اما حدیث عائشۃ فغیر جائز اعتقاد صحتہ علی ما ورد .... ولیس احد من المسلمین یجیز نسخ القرآن بعد موت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلو کان ثابتا لوجب ان تکون التلاوۃ موجودۃ۔ ( ابوبکر الجصاص، احکام القرآن ۳/ ۱۲۵)

''اس حدیث کو صحیح خیال کرنا درست نہیں، کیونکہ کوئی مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی وفات کے بعد قرآن میں نسخ کو جائز نہیں مانتا ۔ اگر یہ روایت درست ہوتی تومذکورہ حکم کی آیت قرآن میں موجود ہوتی۔''

اس روایت کے بارے میں یہی رائے امام سرخسی اور امام طحاوی کی ہے۔ ۹ ؂

صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ لبید بن اعصم یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا جس کا اثرآپ پر اس طرح ظاہر ہوا کہ آپ نے ایک کام نہیں کیا ہوتا تھا ، لیکن سمجھتے کہ اسے کر چکے ہیں۔ ۱۰؂

امام ابوبکر الجصاص اس روایت کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہیں :

ومثل ھذہ الاخبار من وضع الملحدین ..... والعجب ممن یجمع بین تصدیق الانبیاء علیہم السلام واثبات معجزاتھم وبین التصدیق بمثل ھذا من فعل السحرۃ۔ (احکام القرآن ۱/ ۴۶)

''اس طرح کی روایات ملحدین کی وضع کردہ ہیں۔ ان لوگوں پر تعجب ہے جو انبیا کی تصدیق کرنے اور ان کے معجزات کو ماننے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ جادوگر انبیا کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں۔''

صحیح مسلم میں حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک جھگڑے کے سلسلے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ سے کہا:

اقض بینی وبین ھذا الکاذب الآثم الغادر الخائن۔ (مسلم ، رقم ۴۵۷۷)

'' میرے اور اس جھوٹے، گناہ گار، بد عہد اور خائن کے درمیان فیصلہ کیجیے۔''

امام نووی ، علامہ مازری سے نقل کرتے ہیں:

ھذا اللفظ الذی وقع لا یلیق ظاہرہ بالعباس وحاش لعلی ان یکون فیہ بعض ھذہ الاوصاف فضلا عن کلھا ولسنا نقطع بالعصمۃ الا للنبی ولمن شھد لہ بہا لکنا مامورون بحسن الظن بالصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم اجمعین ونفی کل رذیلۃ عنھم واذا انسدت طرق تاویلھا نسبنا الکذب الی رواتھا۔(النووی، شرح صحیح مسلم ۱۲/ ۷۲ )

''اس روایت میں واقع یہ الفاظ بظاہر حضرت عباس سے صادر نہیں ہو سکتے ، کیونکہ یہ بات ناقابلِ تصور ہے کہ سیدنا علی کی ذات میں ان میں سے کوئی ایک وصف بھی پایا جائے، چہ جائیکہ تمام اوصاف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے علاوہ جن کے بارے میں آپ نے جھوٹ سے محفوظ ہونے کی شہادت دی ہے، ہمارا کسی کے بارے میں بھی معصوم ہونے کا عقیدہ نہیں ہے۔ ہمیں حکم ہے کہ صحابہ کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور ہر بری بات کی ان سے نفی کریں۔ چونکہ روایت میں تاویل کی کوئی گنجایش نہیں ، اس لیے ہم اس روایت کے راویوں کو ہی جھوٹا قرار دیں گے۔ ''

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو دیکھیں گے کہ ان پر ذلت اور سیاہی چھائی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ یا اللہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ قیامت کے دن تمھیں رسوا نہیں کروں گا اور باپ کی رسوائی سے بڑھ کر کیا رسوائی ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر رکھا ہے۔ ۱۱؂

امام اسماعیلی فرماتے ہیں :

ھذا خبر فی صحتہ نظر من جھۃ ان ابراھیم علم ان اللّٰہ لا یخلف المیعاد فکیف یجعل ما صار لابیہ خزیا مع علمہ بذالک۔ ( فتح الباری ۸/ ۵۰۰)

''اس روایت کی صحت میں اشکال ہے، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا تو ان کے والد کا جو انجام ہوا، اس کو وہ کیسے اپنی رسوائی قرار دے سکتے (اور اللہ تعالیٰ سے وعدہ خلافی کی شکایت کر سکتے) ہیں؟ ''

صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اس کے بیٹے کو دی اور فرمایا کہ اس میں اس کی تکفین کی جائے۔ پھر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے اٹھے تو حضرت عمر نے کہا:

تصلی علیہ وھو منافق وقد نھاک اللّٰہ ان تستغفر لھم؟

''کیا آپ اس منافق کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے لیے استغفار کرنے سے منع کیاہے؟ ''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا :

انما خیرنی اللّٰہ فقال استغفر لھم او لا تستغفر لھم ان تستغفر لہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم فقال سازیدہ علی سبعین۔ (بخاری ، رقم ۴۶۷۲)

''اللہ نے مجھے اختیار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کے لیے استغفار کرو چاہے نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو گے تو اللہ ہرگز ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اس لیے میں ستر سے زیادہ مرتبہ اس کے لیے دعا کروں گا۔ ''

اس کے بعد آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔

اس روایت کو متعدد محدثین نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :

واستشکل فھم التخییر من الایۃ حتی اقدم جماعۃ من الاکابر علی الطعن فی صحۃ ھذا الحدیث مع کثرۃ طرقہ واتفاق الشیخین وسائر الذین خرجوا الصحیح علی تصحیحہ ..... انکر القاضی ابوبکر صحۃ ھذا الحدیث وقال: لا یجوز ان یقبل ھذا ولا یصح ان الرسول قالہ انتھی۔ ولفظ القاضی ابی بکر الباقلانی فی التقریب: ھذا الحدیث من اخبار الاحاد التی لا یعلم ثبوتھا۔ وقال امام الحرمین فی مختصرہ: ھذا الحدیث غیر مخرج فی الصحیح۔ وقال فی البرھان: لا یصححہ اھل الحدیث۔ وقال الغزالی فی المستصفی: الاظھر ان ھذا الخبر غیر صحیح۔ وقال الداودی الشارح: ھذا الحدیث غیر محفوظ۔( فتح الباری، ۸/ ۳۳۸)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آیت سے اختیار کا مفہوم اخذ کرنا محل اشکال سمجھا گیا ہے ، اسی لیے اکابر اہل علم کی ایک جماعت نے ، باوجودیکہ اس حدیث کی سندیں بہت سی ہیں اور شیخین اور صحیح احادیث جمع کرنے والے دوسرے محدثین اس کے صحیح ہونے پر متفق ہیں، اس حدیث کی صحت پر اعتراض کیا ہے۔ قاضی ابوبکر نے اس حدیث کو صحیح ماننے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو قبول کرنا جائز نہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرما سکتے ہیں۔ تقریب میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث ان اخبار آحاد میں سے ہے جن کا ثبوت مشکوک ہے۔ امام الحرمین کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح احادیث کے زمرے میں نہیں ہے۔ برہان میں کہتے ہیں کہ اس کو علماء حدیث صحیح تسلیم نہیں کرتے۔ غزالی ''المستصفی'' میں لکھتے ہیں کہ اس کا غیر صحیح ہونابالکل واضح ہے۔ شارح داؤدی کہتے ہیں کہ یہ حدیث محفوظ نہیں۔''

امام طحاوی اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

لان محالا ان یکون اللہ تعالی ینھی نبیہ عن شئی ثم یفعل ذلک الشئی ولا نری ھذا الا وھما من بعض رواۃ الحدیث۔ (مشکل الآثار ۱/ ۱۴)

''یہ بات ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کسی کام سے منع کرے اور پھر نبی وہی کام کرے۔ ہمارے خیال میں یہ سراسر کسی راوی کا وہم ہے۔ ''

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لم یکذب ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام الا ثلاث کذبات۔ (بخاری، رقم ۳۳۵۸)

''ابراہیم علیہ السلام نے (پوری زندگی میں) صرف تین جھوٹ بولے۔ ''

امام رازی اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

لان یضاف الکذب الی رواتہ اولی من ان یضاف الی الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام۔ ( التفسیرالکبیر ۲۲/ ۱۸۵)

''انبیا علیہم السلام کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنےسے بہتر ہے کہ حدیث کے راویوں کو جھوٹا قرار دیا جائے۔''

مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان یاجوج وماجوج لیحفرون السد کل یوم حتی اذا کادوا یرون شعاع الشمس قال الذی علیہم ارجعوا فستحفرونہ غدا فیعودون الیہ کاشد ما کان حتی اذا بلغت مدتہم واراد اللّٰہ عزوجل ان یبعثہم علی الناس حفروا حتی اذا کادوا یرون شعاع الشمس قال الذی علیہم ارجعوا فستحفرونہ غدا ان شاء اللّٰہ فیستثنی فیعودون الیہ وہو کہیئتہ حین ترکوہ فیحفرونہ ویخرجون علی الناس۔ ( مسند احمد بن حنبل، ۲/ ۵۱۰)

''یاجوج وماجوج ذو القرنین کی بنائی ہوئی دیوار کو روزانہ کھودتے ہیں، یہاں تک کہ جب سوراخ میں سے سورج کی کرنیں اندر آنے لگتی ہیں تو ان کا نگران کہتا ہے کہ اب واپس لوٹ چلو، کل ہم اس دیوار کو کھود ڈالیں گے ، لیکن اگلے دن وہ آتے ہیں تو دیوار دوبارہ نہایت مضبوطی سے بند ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا ، یہاں تک کہ جب ان کی قید کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ ان کو لوگوں پر مسلط کرناچاہیں گے تو ایک دن وہ دیوار کو کھودیں گے اور جب سورج کی کرنیں اندر آنے لگیں گی تو نگران کہے گا کہ اب واپس چلو، ان شاء اللہ کل ہم اس کو کھود لیں گے۔ ان شاء اللہ کہنے کی وجہ سے جب وہ اگلے دن آئیں گے تو دیوار اسی حالت پر ہوگی جس پر وہ کل اسے چھوڑ کر گئے تھے، چنانچہ وہ اس کو کھود کر باہر نکل آئیں گے۔''

یہ روایت بظاہر قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے:

فَمَا اسْطَاعُوْآ اَنْ یَّظْھَرُوْہُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَہُ نَقْبًا ۔ (الکہف: ۹۷)

''نہ وہ اس دیوار کو سر کر سکے اور نہ اس میں سوراخ ہی کر سکے۔''

چنانچہ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں:

اسنادہ جید قوی ولکن متنہ فی رفعہ نکارۃ لان ظاہر الآیۃ یقتضی انہم لم یتمکنوا من ارتقاۂ ولا من نقبہ لاحکام بناۂ وصلابتہ وشدتہ ولکن ھذا قد روی عن کعب الاحبار .... ولعل ابا ھریرۃ تلقاہ من کعب فانہ کان کثیرا ما کان یجالسہ ویحدثہ فحدث بہ ابو ھریرۃ فتوھم بعض الرواۃ انہ مرفوع فرفعہ ۔ ( تفسیر القرآن العظیم ۳/ ۱۰۵)

''اس حدیث کی سند بہت عمدہ اور قوی ہے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس بات کی نسبت کرنا محل اعتراض ہے ، کیونکہ قرآن مجید کا ظاہر یہ تقاضا کرتا ہے کہ یاجوج وماجوج سدِ ذو القرنین کی مضبوطی، پختگی اور سختی کی وجہ سے نہ اس پر چڑھ سکے اور نہ اس میں نقب لگا سکے۔ یہ روایت اصل میں کعب الاحبار سے مروی ہے جو ابو ہریرہ کے پاس بکثرت بیٹھتے اور انھیں روایات سنایا کرتے تھے۔ غالباً ابوہریرہ نے یہ روایت ان سے سن کر بیان کی اور راوی نے غلط فہمی سے اس کی نسبت رسول اللہ کی طرف کر دی۔''

صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:

خلق اللّٰہ التربۃ یوم السبت وخلق فیھا الجبال یوم الاحد وخلق الشجر یوم الاثنین وخلق المکروہ یوم الثلاثاء وخلق النور یوم الاربعاء وبث فیھا الدواب یوم الخمیس وخلق آدم علیہ السلام بعد العصر من یوم الجمعۃ فی آخر الخلق۔ ( مسلم،رقم ۷۰۵۴)

''اللہ نے ہفتے کے دن زمین کی سطح کو پیدا کیا، اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو ، پیر کے دن درختوں کو، منگل کے دن بری چیزوں کواور بدھ کے دن روشنی کو پیدا کیا۔ جمعرات کے دن اس میں چوپایوں کو پھیلا دیا اور سب مخلوقات کے آخر میں جمعے کے دن عصر کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔''

امام ابن القیم کہتے ہیں کہ یہ روایت قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن مجید کے مطابق آسمان وزمین کی تخلیق چھ دن میں مکمل ہوئی جبکہ یہ روایت یہ بتاتی ہے کہ مدتِ تخلیق سات دن تھی۔ ۱۲ ؂ نیز قرآن مجید کی رو سے زمین اور اس کے خزانوں کی تخلیق چار دن میں اور آسمان کی تخلیق دو دن میں مکمل ہوئی، جبکہ مذکورہ روایت میں سات دن میں صرف زمین کی تخلیق کا ذکر ہے اور آسمان کی تخلیق کا سرے سے ذکر ہی نہیں۔ اسی وجہ سے جلیل القدر محدثین نے اس روایت کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ مناوی لکھتے ہیں:

قال الزرکشی: اخرجہ مسلم وہو من غرائبہ وقد تکلم فیہ ابن المدینی والبخاری وغیرھما من الحفاظ وجعلوہ من کلام کعب الاحبار وان ابا ھریرۃ انما سمعہ منہ لکن اشتبہ علی بعض الرواۃ فجعلہ مرفوعا ۔(فیض القدیر،مناوی ۳/ ۴۴۸)

''زرکشی کہتے ہیں کہ یہ روایت امام مسلم کی نقل کردہ غریب روایات میں سے ہے۔ اس میں ابن المدینی، بخاری اور دیگر حفاظ حدیث نے کلام کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دراصل کعب احبار کا کلام ہے جو ان سے ابوہریرہ نے سنا ، لیکن کسی راوی کو اشتباہ ہوا اور اس نے اس کی نسبت رسول اللہ کی طرف کر دی۔ ''

صحیح بخاری میں نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا :

کنا فی زمن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا نعدل بابی بکر احدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترک اصحاب النبی لا نفاضل بینہم۔ (بخاری ، رقم ۳۶۹۸)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم فضیلت کے لحاظ سے سب سے اونچا درجہ حضرت ابوبکر کا سمجھتے تھے، پھر حضرت عمر اور پھر حضرت عثمان کا۔ اس کے بعد ہم رسول اللہ کے اصحاب میں کسی کی کسی پر کوئی فضیلت نہیں سمجھتے تھے۔ ''

امام ابن عبد البر اس پر نقدکرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ان ھذا الحدیث خلاف قول اھل السنۃ ان علیا افضل الناس بعد الثلاثۃ فانہم اجمعوا علی ان علیا افضل الخلق بعد الثلاثۃ ودل ھذا الاجماع علی ان حدیث ابن عمر غلط وان کان السند الیہ صحیحا۔( فتح الباری، ۷/ ۱۶)

''یہ حدیث اہل سنت کے اس اجماعی قول کے خلاف ہے کہ خلفاے ثلاثہ کے بعد سیدنا علی سب سے افضل ہیں۔ یہ اجماع اس بات کی دلیل ہے کہ ابن عمر کی یہ حدیث غلط ہے اگرچہ ان تک اس قول کی سند بالکل صحیح ہے۔''

عقل عام، قیاس اور تجربہ کے خلاف روایات

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا :

خلق اللّٰہ آدم وطولہ ستون ذراعا ..... فلم یزل الخلق ینقص حتی الآن۔(بخاری، رقم ۳۳۲۶)

''اللہ نے جب آدم کو پیدا کیا تو ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک مخلوق کا قد برابر چھوٹا ہوتا چلا آرہا ہے۔''

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:

ویشکل علی ھذا ما یوجد الآن من آثار الامم السالفۃ کدیار ثمود فان مساکنہم تدل علی ان قاماتہم لم تکن مفرطۃ الطول علی حسب ما یقتضیہ الترتیب السابق ولا شک ان عہدہم قدیم وان الزمان الذی بینہم وبین آدم دون الزمان الذی بینہم وبین اول ھذہ الامۃ ولم یظھر لی الی الآن ما یزیل ھذا الاشکال۔(فتح الباری، ۶/ ۳۶۷)

''اس پر یہ اشکال ہے کہ گزشتہ اقوام مثلاً قوم ثمود کے آثار اور ان کی بستیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے قد ہمارے قد کے مقابلے میں اتنے لمبے نہیں تھے جتنا کہ حدیث میں بیان کردہ ترتیب تقاضا کرتی ہے۔ ان کا زمانہ بھی بہت قدیم ہے اور ان کے اور آدم علیہ السلام کے مابین زمانی فاصلہ اس سے کم ہے جو ان کے اور اس امت کے دور اول کے مابین ہے۔ تاحال میرے سامنے کوئی ایسی توجیہہ نہیں آئی جس سے یہ اشکال زائل ہو جائے۔ ''

ابن خلدون نے بھی اسی بنیاد پر اس روایت کو رد کیا ہے۔ ۱۳؂

صحیح بخاری میں عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک بندر کو دیکھا جس نے زنا کیا تھا اور دوسرے بندروں نے جمع ہو کر اس کو سنگ سار کیا۔ ۱۴؂

حافظ ابن عبد البر اس حدیث پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

فیھا اضافۃ الزنا الی غیرمکلف واقامۃ الحد علی البھائم وھذا منکر عند اھل العلم قال فان کانت الطریق صحیحۃ فلعل ھولاء کانوا من الجن لانھم من جملۃ المکلفین ۔( فتح الباری ۷/ ۱۶۰)

'' میں زنا کی نسبت غیر مکلف کی طرف کی گئی ہے اور جانوروں پر حد لگانے کا ذکر ہے اور اہل علم کے نزدیک یہ بات بعید از قیاس ہے۔ اگر اس کی سند صحیح ہے تو پھر غالباً یہ جن ہوں گے ، کیونکہ وہ بھی مکلفین میں شامل ہیں۔''

محدث ابن الجوزی نے بھی اسی بنیاد پر اس روایت کو مردود قرار دیا ہے۔ ۱۵؂

سنن نسائی میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

ان الشمس والقمر لا ینکسفان لموت احد ولا لحیاتہ ولکنہما آیتان من آیات اللّٰہ عزوجل ان اللّٰہ عزوجل اذا بدا لشئی من خلقہ خشع لہ۔( نسائی،رقم ۱۴۸۶)

''سورج اور چاند کو کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ گرہن لگنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنی مخلوقات میں سے کسی پر اپنی تجلی ڈالتے ہیں تو وہ خشوع وعجز کا اظہار کرتی ہے ۔''

ابن حجر اس پر امام غزالی کا تبصرہ نقل کرتے ہیں کہ :

انہا لم تثبت فیجب تکذیب ناقلھا قال: ولو صحت لکان تاویلھا اھون من مکابرۃ امور قطعیۃ لا تصادم اصلا من اصول الشریعۃ۔ (فتح الباری ۲/ ۵۳۷)

''یہ بات ثابت نہیں ، لہٰذا اس کے راوی کی تکذیب لازم ہے۔ اگر روایت صحیح بھی ہو تو اس کی تاویل کرنا ان قطعی امور کے بے جا انکار سے بہتر ہے جو شریعت کی کسی اصل سے نہیں ٹکراتے۔''

سنن ابی داؤد میں حضرت علی سے بکریوں کی زکوٰۃ کے نصاب کے بیان میں ایک روایت مروی ہے جس میں ذکر ہے کہ اگر بکریوں کی تعداد پچیس ہو تو ان میں سے پانچ بکریاں زکوٰۃ کے طور پر وصول کی جائیں۔ ۱۶؂

جانوروں کی زکوٰۃ کے معروف نصاب کے حساب سے پچیس بکریوں میں پانچ بکریوں کی زکوٰۃ بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ امام سفیان ثوری اس پر انکار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

کان افقہ من ان یقول ذالک۔(کتاب الاموال، ابو عبید ۳۶۳)

''سیدنا علی فقہ وفہم کے لحاظ سے اس سے کہیں بلند ہیں کہ ایسی کمزور بات فرمائیں۔''

تاریخی قرائن کے خلاف روایات

صحیح بخاری میں حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عبد اللہ بن ابی کے حامیوں اور صحابۂ کرام کے مابین جھگڑا ہو گیا جس پر یہ آیت اتری:

وَاِنْ طَآءِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا۔ (الحجرات ۴۹: ۹)

''اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلح کرا دو۔ '' ۱۷؂

محدث ابن بطال فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس واقعہ کے متعلق نہیں ہو سکتی ، کیونکہ اس میں دو مومن گروہوں میں صلح کرانے کا ذکر ہے ، جبکہ روایات کے مطابق عبد اللہ بن ابی اور اس کا گروہ اس وقت تک علانیہ کافر تھا۔۱۸؂

صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ ابو سفیان کے اسلام قبول کرنے کے باوجود مسلمان نہ ان کی طرف توجہ کرتے تھے اور نہ ان کے پاس بیٹھتے تھے۔ انہوں نے یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ اپنی بیٹی ام حبیبہ کا نکاح آپ کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۹؂

امام ابن حزم فرماتے ہیں کہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ام حبیبہ کے ساتھ نکاح فتح مکہ سے بہت پہلے ہو چکا تھا ، جبکہ ابو سفیان ابھی ایمان نہیں لائے تھے۔ لہٰذا اس روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ۲۰؂

جامع ترمذی میں واقعۂ افک کی روایت میں ذکر ہے کہ سیدہ عائشہ پر الزام لگانے والوں میں حضرت حسان بن ثابت بھی شامل تھے اور ان پر حدِ قذف جاری کی گئی تھی۔ ۲۱؂

علامہ انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ، کیونکہ حضرت حسان نے اپنے اشعار میں سیدہ عائشہ کی عفت وعصمت کا دفاع کیا ہے اور اس الزام سے اپنی برأ ت کا اعلان کیا ہے :

والعبرۃ عندی باخذ قول حسان نفسہ ولا عبرۃ بما یذاع بین الناس ویشاع فان حال الخبط فی الاخبار معلوم وبالجملۃ نسبۃ القذف الیہ عندی خلاف التحقیق وکذا من جعلہ مصداقا لقولہ والذی تولی کبرہ باطل عندی۔ (فیض الباری ۴/ ۱۰۷۔ ۲۱۶)

''میرے نزدیک خود حضرت حسان کے بیان پر اعتماد کرنا چاہیے۔ لوگوں کے مابین جو باتیں مشہور ہو جاتی ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں ، کیونکہ روایات میں واقع ہونے والی گڑبڑ کا حال معلوم ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حسان کی طرف قذف کی نسبت میرے نزدیک خلافِ تحقیق ہے، اسی طرح ان کو والذی تولی کبرہ کا مصداق قرار دینا میرے نزدیک بالکل بے بنیاد ہے۔''

فقہا اور نقد درایت

ہماری علمی روایت میں حدیث کے نقدِ درایت کی بحث خاص طور پر ان روایات کے بارے میں پیدا ہوئی جو فقہی احکام کا ماخذ بن سکتی ہیں۔ اس ضمن میں اہلِ علم کے ہاں معرکہ آرا بحثیں موجود ہیں۔ ایک طرف شوافع اور حنابلہ ہیں جن کے نزدیک، بالعموم، کسی حدیث کو ماخذِ حکم بنانے اور اس پر عمل کرنے کے لیے محض اس کا سنداً صحیح ہونا کافی ہے اور دین کے دیگر اصولوں یعنی قرآن، سنت اور قیاس پر اس کو پرکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ابن السمعانی فرماتے ہیں:

متی ثبت الخبر صار اصلا من الاصول ولا یحتاج الی عرضہ علی اصل آخر لانہ ان وافقہ فذاک وان خالفہ فلا یجوز رد احدہما لانہ رد للخبر بالقیاس وہو مردود باتفاق فان السنۃ مقدمۃ علی القیاس بلا خوف۔(فتح الباری ۴/ ۳۶۶)

''روایت جب (سنداً) ثابت ہوجائے تو وہ بذات خود ایک اصل بن جاتی ہے اور اسے دوسرے اصولوں پر پرکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی، کیونکہ اگر روایت کسی دوسرے اصول کے موافق ہو تو درست، اور اگر خلاف ہو تو اس کی بنا پر روایت کو رد کرنا جائز نہیں ، کیونکہ یہ تو قیاس کے مقابلے میں حدیث کو رد کرنا ہے جو کہ بالاتفاق درست نہیں ، اس لیے کہ سنت بہرحال قیاس پر مقدم ہے۔''

دوسری طرف فقہاے حنفیہ اور مالکیہ ہیں جن کے نزدیک صحت سند کے علاوہ روایت کے درایتی نقد کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے اور اس حوالے سے ان کے ہاں مفصل بحثیں ملتی ہیں۔

امام شاطبی اس ضمن میں ایک اصولی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ھذا القسم علی ضربین : احدھما ان تکون مخالفتہ للاصل قطعیۃ فلا بد من ردہ۔ والآخر ان تکون ظنیۃ اما بان یتطرق الظن من جھۃ الدلیل الظنی واما من جھۃ کون الاصل لم یتحقق کونہ قطعیا وفی ھذا الموضع مجال للمجتھدین ولکن الثابت فی الجملۃ ان مخالفۃ الظنی لاصل قطعی یسقط اعتبار الظنی علی الاطلاق وھو مما لا یختلف فیہ۔

''ظنی دلیل اگر قطعی دلیل کے مخالف ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ اس کا اصل کے مخالف ہونا قطعی ہو ، اس صورت میں اس کو رد کرنا لازم ہے۔ دوسری یہ کہ ا س کا اصل کے خلاف ہونا ظنی ہو، یاتو اس لیے کہ اصل کے ساتھ اس کی مخالفت ظنی ہے اور یا اس لیے کہ اصل کا قطعی ہونا متحقق نہیں ہوا۔ اس دوسری صورت میں مجتہدین کے لیے اختلاف کی گنجایش ہے۔ لیکن اصولی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ظنی کا قطعی کے مخالف ہونا ظنی کو ساقط الاعتبار کر دیتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ''

''اصول السرخسی'' میں امام سرخسی نے ان اصولوں پر بالتفصیل بحث کی ہے جو خبر واحد کو پرکھنے کے لیے معیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لکھتے ہیں :

فاما القسم الاول وھو ثبوت الانقطاع بدلیل معارض فعلی اربعۃ اوجہ :اما ان یکون مخالفا لکتاب اللّٰہ تعالی او السنۃ المشھورۃ عن رسول اللہ او یکون حدیثا شاذا لم یشتھر فی ما تعم بہ البلوی ویحتاج الخاص والعام الی معرفتہ او یکون حدیثا قد اعرض عنہ الائمۃ من الصدر الاول بان ظھر منھم الاختلاف فی تلک الحادثۃ ولم تجر بینھم المحاجۃ بذلک الحدیث۔(اصول السرخسی ۱/ ۳۶۴)

'' کسی دوسری دلیل کے ساتھ تعارض کے اعتبار سے روایت کے منقطع ہونے کی چار صورتیں ہیں : پہلی یہ کہ روایت کتاب اللہ کے خلاف ہو۔ دوسری یہ کہ رسول اللہ کی سنت مشہورہ کے خلاف ہو۔ تیسری یہ کہ عموم بلویٰ میں کوئی شاذ اور غیر مشہور حدیث وارد ہو ، حالانکہ اس کی معرفت ہر خاص وعام کو ہونی چاہیے۔ چوتھی یہ کہ کوئی ایسی حدیث ہو جس سے صدر اول کے ائمہ نے اعراض کیا ہو، یعنی ان کے مابین اس مسئلے کے بارے میں بحث ہوئی ہو،لیکن اس حدیث سے انھوں نے استدلال نہ کیا ہو۔''

ایک دوسری بحث میں لکھتے ہیں :

اذا انسد باب الرای فی ما روی وتحققت الضرورۃ بکونہ مخالفا للقیاس الصحیح فلا بد من ترکہ۔(نفس المصدر ۱/ ۳۴۱)

''جب کسی روایت کے ماننے سے رائے کا باب بالکل بند ہوتا ہو اور اور ہر پہلو سے واضح ہو جائے کہ وہ قیاس صحیح کے مخالف ہے تو اس کو چھوڑنا لازم ہے ۔ ''

مخالف قرآن روایات

احناف اور مالکیہ کے نزدیک قرآن مجید کے ساتھ موافقت، حدیث کی قبولیت کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ سرخسی اس اصول کی وضاحت میں فرماتے ہیں:

اذا کان الحدیث مخالفا لکتاب اللّٰہ تعالی فانہ لا یکون مقبولا ولا حجۃ للعمل بہ عاما کانت الآیۃ او خاصا نصا او ظاہرا عندنا علی ما بینا ان تخصیص العام بخبر الواحد لا یجوز ابتداء وکذلک ترک الظاہر فیہ والحمل علی نوع من المجاز لا یجوز بخبر الواحد عندنا۔ (نفس المصدر ۱/ ۳۶۴)

''اگر حدیث کتاب اللہ کے خلاف ہو تو ہمارے نزدیک وہ قابل قبول اور عمل کے لیے حجت نہیں ہو سکتی، چاہے آیت عام ہو یا خاص، ظاہر ہو یا نص۔ہم بتا چکے ہیں کہ کتاب اللہ کے عام حکم کو خبر واحد کی بنا پر خاص کرنا یا اس کے ظاہری مفہوم کو خبر واحد کی وجہ سے کسی مجازی معنی پر محمول کرنا جائز نہیں ہے۔ ''

فقہا احناف نے اس اصول پرجن روایتوں کو رد کیا ہے، وہ حسبِ ذیل ہیں :

جامع ترمذی میں بسرۃ بنت صفوان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من مس ذکرہ فلا یصل حتی یتوضا۔(ترمذی، رقم ۸۲)

''جو آدمی اپنی شرم گاہ کو چھوئے، اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔''

سرخسی فرماتے ہیں کہ یہ روایت قرآن کے خلاف ہے ،کیونکہ قرآن مجید میں مسجد قبا کے نمازیوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :

فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا ۔( التوبہ: ۱۰۸)

''اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ خوب طہارت حاصل کریں (یعنی پانی سے استنجا کریں)۔ ''

ظاہر ہے کہ پانی سے استنجا شرم گاہ کو ہاتھ لگائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو طہارت حاصل کرنے سے تعبیر کیا ہے جبکہ مذکورہ حدیث میں،اس کے برخلاف، مس ذکر کو نقض طہارت کا سبب قرار دیا گیا ہے ،اس لیے یہ حدیث قابل قبول نہیں ۔۲۲؂

سنن ابی داؤد میں فاطمہ بنت قیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ ایسی عورت کا نفقہ دورانِ عدت میں خاوند کے ذمے واجب نہیں جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں۔ ۲۳؂

سرخسی فرماتے ہیں کہ یہ روایت قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے :

اَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ۔(الطلاق۶۵: ۶)

''تم ان کو اپنی طاقت کے مطابق وہیں ٹھیراؤ جہاں تم خود ٹھیرتے ہو ۔''

آیت میں 'اسکنوھن' سے مراد 'انفقوھن' ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دورانِ عدت میں بیوی کا نفقہ خاوند کے ذمہ ہے، لہٰذا مذکورہ حدیث کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ۲۴؂

صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقدمات میں ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ ۲۵؂

اپنے ظاہر کے لحاظ سے یہ روایت کتاب اللہ کے اس حکم کے منافی ہے :

وَاسْتَشْہِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ۔(البقرہ۲: ۲۸۲)

''اور اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کوگواہ بناؤ ۔''

چنانچہ امام جصاص فرماتے ہیں:

انہا لو وردت من طرق مستقیمۃ تقبل اخبار الآحاد فی مثلھا وعریت من ظہور نکیر السلف علی رواتھا واخبارہم انہا بدعۃ لما جاز الاعتراض بھا علی نص القرآن اذ غیر جائز نسخ القرآن باخبار الآحاد۔(احکام القرآن ۱/ ۷۰۷)

''یہ روایت اگر ایسی صحیح سندوں سے بھی مروی ہوتی جن کے ساتھ اخبار آحاد قابلِ قبول ہوتی ہیں اور اس کے راویوں پر سلف نے اعتراض بھی نہ کیا ہوتا اور نہ یہ کہا ہوتا کہ یہ طریقہ بدعت ہے تب بھی اس کو قرآن کی نص کے مقابلے میں پیش کرنا درست نہیں تھا، کیونکہ اخبار آحاد کی بنیاد پر کتاب اللہ کے حکم کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔ ''

فقہا مالکیہ کے ہاں اس اصول کے استعمال کی مثالیں یہ ہیں:

صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ۔( بخاری، رقم ۱۹۵۲)

''جو آدمی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی ا س کی طرف سے روزے رکھے۔''

امام مالک اس حدیث پر عمل نہیں کرتے۔ شاطبی اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

لمنافاتہ للاصل القرآنی الکلی نحو قولہ تعالی: اَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْریٰ وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاَّ مَا سَعٰی۔(الموافقات ۳/ ۲۲)

''کیونکہ یہ قرآن کے بیان کردہ اس ضابطہ کلیہ کے خلاف ہے کہ کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور یہ کہ انسان کے لیے وہی عمل کارآمد ہیں جو اس نے خود کیے ہوں ۔''

وہ احادیث جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک بچہ پانچ یا دس مرتبہ کسی عورت کا دودھ نہ پی لے، حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی،۲۷؂ امام مالک ان کو قبول نہیں کرتے۔ شاطبی فرماتے ہیں :

ولم یعتبر فی الرضاع خمسا ولا عشرا للاصل القرآنی فی قولہ : وَاُمَّھَاتُکُمُ اللَّاتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوَاتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ۔وفی مذھبہ من ھذا کثیر۔(الموافقات ۳/ ۲۳)

''امام مالک رضاع میں پانچ یا دس مرتبہ کا اعتبار نہیں کرتے ، کیونکہ یہ قرآن کی اس آیت کے (عموم کے) خلاف ہے : وَاُمَّھَاتُکُمُ اللَّاتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوَاتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِاور ان کے مذہب میں اس اصول کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔''

(باقی)

____________

۹؂ السرخسی، اصول السرخسی ۲/ ۷۹، ۸۰۔ الطحاوی، مشکل الآثار ۳/ ۶۔

۱۰؂ مسلم، رقم ۵۷۰۳۔

۱۱؂ بخاری، رقم ۴۷۶۸، ۴۷۶۹۔

۱۲؂ ابن القیم ،المنار المنیف فی الصحیح والضعیف، ص ۸۶۔

۱۳؂ فیض الباری ،انور شاہ کشمیری ۴/ ۱۶۔

۱۴؂ بخاری، رقم ۳۸۴۹۔

۱۵؂ فیض الباری ۴/ ۷۶۔

۱۶؂ابی داؤد، رقم ۱۵۷۲ ۔

۱۷؂ بخاری، رقم ۲۶۹۱ ۔

۱۸؂ فتح الباری ۵/ ۲۹۹ ۔

۱۹؂ مسلم، رقم ۶۴۰۹۔

۲۰؂ الامیر الیمانی، توضیح الافکار ۱/ ۱۲۸، ۱۲۹۔

۲۱؂ ترمذی، رقم ۳۱۸۰۔

۲۲؂ اصول السرخسی ۱/ ۳۶۵۔

۲۳؂ ابی داؤد، رقم ۲۲۹۱۔

۲۴؂ اصول السرخسی ۱/ ۳۶۵۔

۲۵؂ مسلم، رقم ۴۴۷۲۔

۲۷؂ مسلم، رقم ۳۵۹۷۔