علمِ حدیث میں درایتی نقد کا تصور (3)


(گزشتہ سے پیوستہ)

تعامل کے خلاف روایات

احناف اور مالکیہ کے نزدیک دین کے ایسے امورمیں جن کی نوعیت عام معمول بہ احکام کی ہے، اصل ماخذ کی حیثیت صحابہ اور تابعین کے تعامل کو حاصل ہے، چنانچہ اگر کوئی روایت تعامل کے خلاف وارد ہو تو وہ اس کو قبول نہیں کرتے۔ ابن رشد اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

واما ابو حنیفۃ فانہ ..... رد اخبار الآحاد التی تعم بہا البلوی اذا لم تنتشر ولا انتشر العمل بہا وذالک ان عدم الانتشار اذا کان خبرا شانہ الانتشار قرینۃ توھن الخبر وتخرجہ عن غلبۃ الظن بصدقہ الی الشک فیہ او الی غلبۃ الظن بکذبہ او نسخہ۔ (بدایۃ المجتہد، ابن رشد ۱/ ۱۷۴)

''امام ابو حنیفہ کے ہاں اصول یہ ہے کہ عام الوقوع امور سے متعلق اخبار آحاد اگر کثرتِ طرق سے مروی نہ ہوں اور نہ ان پر عمل ہی جاری ہو تو ان کو رد کر دینا چاہیے، کیونکہ اگر بات تو ایسی ہو کہ اس کو نقل کرنے والے بہت سے ہونے چاہییں ، لیکن خبر مشہور اور معروف نہ ہو تو یہ ایک ایسا قرینہ ہے جو خبر میں ضعف پیدا کرتا اور اس کے بارے میں سچائی کا گمان پیدا کرنے کے بجائے اسے مشکوک کرتا اور اس کے جھوٹا یا منسوخ ہونے کا گمان پیدا کرتا ہے۔ ''

سرخسی نے اس استدلال کو مزید وضاحت سے بیان کیا ہے:

الغریب فی ما یعم بہ البلوی ویحتاج الخاص والعام الی معرفتہ للعمل بہ فانہ زیف لان صاحب الشرع کان مامورا بان یبین للناس ما یحتاجون الیہ وقد امرھم بان ینقلوا عنہ ما یحتاج الیہ من بعدہم فاذا کانت الحادثۃ مما تعم بہ البلوی فالظاہر ان صاحب الشرع لم یترک بیان ذلک للکافۃ وتعلیمہم وانہم لم یترکوا نقلہ علی وجہ الاستفاضۃ فحین لم ۔ یشتھر النقل عنہم عرفنا انہ سھو او نسخ الا تری ان المتاخرین لما نقلوہ اشتھر فیھم فلو کان ثابتا فی المتقدمین لاشتہر ایضا وما تفرد الواحد بنقلہ مع حاجۃ العامۃ الی معرفتہ ۔ (اصول السرخسی ۱/ ۳۶۸)

''ایسی صورت کا حکم بیان کرنے کے لیے جو عام الوقوع ہے اور جس کو جاننے کی ہر خاص وعام کو ضرورت ہے، اگر خبر واحد وارد ہو تو وہ ناقابل اعتبار ہوگی ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری تھی کہ جن باتوں کے جاننے کی لوگوں کو احتیاج ہے، وہ ان کے سامنے بیان کریں اور آپ نے لوگوں کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ آپ کے ارشادات کو بعد میں آنے والوں تک پہنچائیں۔ چنانچہ اگر کوئی صورت عام الوقوع ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعلیم بھی سب لوگوں کو دی ہوگی اور لوگوں نے بھی اس کو شہرت واستفاضہ کے ساتھ نقل کیا ہوگا۔ اب اگر ایسے کسی مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت بطریق شہرت مروی نہیں تو ہم سمجھ لیں گے کہ یا وہ راوی کی بھول ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔ دیکھتے نہیں کہ اسی روایت کو جب بعد کے لوگ نقل کرتے ہیں تو وہ ان میں مشہور ہو جاتی ہے۔ سو اگر پہلے لوگوں میں بھی وہ ثابت ہوتی تو ان میں بھی اسی طرح مشہور ہوتی اور ایسا نہ ہوتا کہ اس کو اکا دکا راوی نقل کر تے ، حالانکہ سب لوگ اس کو جاننے کے محتاج ہیں۔ ''

احناف نے اس اصول پر درج ذیل روایات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے:

سنن ابی داؤد میں عبد اللہ بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا کان الماء قلتین فانہ لا ینجس۔ (ابو داؤد، رقم ۶۵)

''اگر پانی کی مقدار دو گھڑے ہو تو وہ نجاست پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔ ''

امام بدر الدین العینی اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

حدیث القلتین خبر آحاد ورد مخالفا لاجماع الصحابۃ فیرد بیانہ ان ابن عباس وابن الزبیر افتیا فی زنجی وقع فی بئر زمزم بنزح الماء کلہ ولم یظہر اثرہ وکان الماء قلتین وذلک بمحضر من الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم ولم ینکر علیہما احد منہم فکان اجماعا وخبر الواحد اذا ورد مخالفا للاجماع یرد۔ (عبد الرحمن مبارک پوری،تحفۃ الاحوذی ۳/ ۱۴۲)

''یہ روایت خبر واحد ہے جو اجماع صحابہ کے خلاف وارد ہوئی ہے ،لہٰذا اس کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک حبشی زمزم کے کنویں میں گر کر مر گیا تو عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ بن الزبیر نے فتویٰ دیا کہ کنویں کا سارا پانی نکال دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ کنویں کے پانی کی مقدار دو گھڑوں سے زیادہ تھی اور یہ فتویٰ بھی صحابہ کی موجودگی میں دیا گیا اور کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ گویا اس رائے پر ان کا اجماع ہو گیا۔ اور اصول یہ ہے کہ خبر واحد اگر اجماع کے خلاف وارد ہو تو اسے رد کر دیا جاتا ہے۔''

سرخسی نے اس ضمن میں حسبِ ذیل روایتیں بطور مثال پیش کی ہیں:

وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنازہ کی چارپائی اٹھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ کی تلاوت کی۔

وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کیا کرتے تھے۔ ۲۸؂

امام مالک کے ہاں تعامل کے حوالے سے اہل مدینہ کا عمل معیار ہے اور وہ اس کے خلاف خبر واحد کو قبول نہیں کرتے۔ ابن عبد البرلکھتے ہیں :

فجملۃ مذھب مالک فی ذلک ایجاب العمل بمسندہ ومرسلہ ما لم یعترضہ العمل بظاہر بلدہ۔(ابن عبد البر، التمہید ۱/ ۳)

''امام مالک کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ خبر واحد پر، چاہے وہ مسند یا ہو مرسل، عمل کرتے ہیں جب تک کہ وہ اہل مدینہ کے عمل کے خلاف نہ ہو۔ ''

اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے ابن رشد الجد لکھتے ہیں :

ان العمل اقوی عندہ من خبر الواحد لان العمل المتصل بالمدینۃ لا یکون الا عن توقیف فہو یجری مجری ما نقل نقل التواتر من الاخبار فیقدم علی خبر الواحد۔ (ابن رشد، البیان والتحصیل ۱۷/ ۳۳۱)

''امام مالک کے نزدیک اہل مدینہ کا عمل خبر واحد کے مقابلے میں زیادہ قوی ہے ، کیونکہ اس شہر میں جاری ہونے والا عمل بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے خلاف نہیں ہو سکتا۔پس پہ متواتر روایت کے قائم مقام ہے اور اسے خبر واحد پر ترجیح حاصل ہے۔''

اس اصول پر امام مالک نے حسبِ ذیل روایات کو رد کیا ہے:

صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المتبایعان کل واحد منھما بالخیار علی صاحبہ ما لم یتفرقا۔ (بخاری، رقم ۲۱۱۱)

''دو آدمی جب آپس میں بیع کریں تو ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ ''

ابن عبد البر لکھتے ہیں:

ولا یری العمل بحدیث خیار المتبایعین ..... لما اعترضھما عندہ من العمل۔ (التمہید ۱/ ۳)

''امام مالک خیار مجلس کی حدیث پر عمل نہیں کرتے ، کیونکہ یہ اہل مدینہ کے عمل کے معارض ہے۔ ''

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہو سکے تو آپ نے تدفین کے بعد اس کی قبر پر نمازِ جنازہ ادا کی ۔ ۲۹ ؂

ابن رشد الحفید لکھتے ہیں:

ان ابن القاسم قال: قلت لمالک فالحدیث الذی جاء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ صلی علی قبر امراۃ۔ قال: قد جاء ہذا الحدیث ولیس علیہ العمل والصلاۃ علی القبر ثابتۃ باتفاق من اصحاب الحدیث۔ (بدایۃ المجتہد۱/ ۱۷۳)

''ابن القاسم کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک سے کہا کہ پھر اس حدیث کا کیا کریں جس میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی؟ تو فرمایا کہ حدیث تو آئی ہے ، لیکن اس پر عمل نہیں۔ (یوں امام مالک نے اس حدیث کو قبول نہیں کیا) ، حالانکہ قبر پر نماز کے رسول اللہ سے ثابت ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔''

روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضر کی حالت میں موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ثابت ہے۔ ۳۰ ؂ لیکن امام مالک اس رخصت کے قائل نہیں۔ ابو الولید ابن رشدالجد لکھتے ہیں:

وسئل عن المسح علی الخفین فی الحضر ایمسح علیہما؟ فقال لا، ما افعل ذلک..... وانما ھی ھذہ الاحادیث قال : ولم یروا یفعلون ذلک وکتاب اللّٰہ احق ان یتبع ویعمل بہ۔ (البیان والتحصیل ۱/ ۸۲)

''امام مالک سے حضر میں مسح علی الخفین کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: میں ایسا نہیں کرتا۔ اس کے حق میں تو بس یہ حدیثیں ہی ہیں۔ جبکہ خلفاے راشدین (اور اہل مدینہ) کا عمل اس پر نہیں ہے۔ (اس صورت میں) کتاب اللہ کے حکم (غسل) پرہی عمل کرنا درست ہے۔''

اصول کلیہ اورقیاس کے خلاف روایات

ابن رشد اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

واما اھل الکوفۃ فردوا ھذا الحدیث بجملتہ لمخالفتہ للاصول المتواترۃ علی طریقتہم فی رد الخبر الواحد اذا خالف الاصول المتواترۃ لکون خبر الواحد مظنونا والاصول یقینیۃ مقطوع بہا کما قال عمر فی حدیث فاطمۃ بنت قیس: ما کنا لندع کتاب اللّٰہ وسنۃ نبینا لحدیث امراۃ۔ (بدایۃ المجتہد ۲/ ۲۱۶)

''اہل کوفہ کا طریقہ یہ ہے کہ خبر واحد اگر متواتر اصولوں کے خلاف ہو تو اسے رد کر دیتے ہیں، کیونکہ خبر واحد ظنی ہے اور اصول قطعی ہیں۔چنانچہ سیدنا عمر نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث کے بارے میں فرمایا تھا کہ کہ ہم کتاب اللہ اور نبی کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ''

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

ویصعب رد الاصول المنتشرۃ التی یقصد بہا التاصیل والبیان عند وقت الحاجۃ بالاحادیث النادرۃ وبخاصۃ التی تکون فی عین ولذالک قال عمر رضی اللّٰہ عنہ فی حدیث فاطمۃ بنت قیس: لا نترک کتاب اللّٰہ لحدیث امراۃ۔ (نفس المصدر ۲/ ۲۹)

''ایسے اصول جو بہت سی جزئیات کی بنیاد بنتے ہیں اور ان سے غرض بھی ایک کلی ضابطہ بیان کرنا ہوتا ہے جن سے بوقت ضرورت استدلال کیا جا سکے، ان کو نادر احادیث اور خاص طور پر کسی مخصوص واقعے میں مروی روایات کی بنیاد پر رد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سیدنا عمر نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث کے بارے میں فرمایا تھا کہ ہم کتاب اللہ کے حکم کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ''

فقہاے احناف کے نزدیک اگر غیر فقیہ راوی ایسی روایت بیان کرے جو قیاس صحیح کے مخالف ہو تو قیاس کو روایت پر ترجیح ہوگی۔ سرخسی لکھتے ہیں:

نقل الخبر بالمعنی کان مستفیضا فیہم والوقوف علی کل معنی ارادہ رسول اللّٰہ بکلامہ امر عظیم فقد اوتی جوامع الکلم علی ما قال: اوتیت جوامع الکلم واختصر لی اختصارا۔ ومعلوم ان الناقل بالمعنی لاینقل الابقدر ما فہمہ من العبارۃ وعند قصور فہم السامع ربما یذھب علیہ بعض المراد وھذا القصور لا یشکل عند المقابلۃ بما ہو فقہ لفظ رسول اللّٰہ فلتوہم ھذا القصور قلنا: اذا انسد باب الرای فی ما روی وتحققت الضرورۃ بکونہ مخالفا للقیاس الصحیح فلا بد من ترکہ لان کون القیاس الصحیح حجۃ ثابت بالکتاب والسنۃ والاجماع فما خالف القیاس الصحیح من کل وجہ فہو فی المعنی مخالف للکتاب والسنۃ المشہورۃ والاجماع۔ (اصول السرخسی ۱/ ۳۴۱)

''بالمعنیٰ روایت کا طریقہ ان کے ہاں عام تھا اور رسول اللہ کے کلام کے تمام اسرار کو سمجھنا بہرحال کوئی آسان کام نہیں ہے ، کیونکہ آپ کو، خود آپ کے ارشاد کے مطابق، جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے۔ اب یہ معلوم ہے کہ بالمعنیٰ روایت کرنے والا اپنے فہم کے مطابق ہی روایت کرے گا اور اگر وہ صحیح طریقے سے بات کو نہیں سمجھ سکا تو متکلم کا منشا اس سے اوجھل رہ جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ناقل سوے فہم سے جو بات کہے گا، وہ رسول اللہ کے کلام کے درست فہم سے بہت مختلف ہوگی۔ اس بنا پر ہم کہتے ہیں کہ جب کسی روایت کے ماننے سے رائے کا باب بالکل بند ہوتا ہو اور ہر پہلو سے واضح ہو جائے کہ وہ قیاس صحیح کے مخالف ہے تو اس کو چھوڑنا لازم ہے، کیونکہ قیاس صحیح کا حجت ہونا کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ہے تو جو بات ہر پہلو سے قیاس صحیح کے خلاف ہوگی، وہ دراصل کتاب وسنت اور اجماع کے خلاف ہوگی۔ ''

اس اصول پر فقہاے احناف کے ہاں حسبِ ذیل روایات ناقابل قبول قرار پاتی ہیں :

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :

من اشتری غنما مصراۃ فاحتلبھا فان رضیھا امسکھا وان سخطھا ففی حلبتھا صاع من تمر۔(بخاری، رقم۲۱۴۹)

''اگر کوئی شخص ایسی بکری خریدے جس کا دودھ گاہک کو دھوکا دینے کے لیے کئی دنوں سے نہیں دوہا گیا تھا تو دودھ دوہنے کے بعد اگر وہ اس کو رکھنے پر راضی ہو تو درست ورنہ (جانور کو واپس کر دے اور) استعمال شدہ دودھ کے عوض میں ایک صاع کھجوریں دے دے۔''

سرخسی کہتے ہیں کہ یہ روایت ہر لحاظ سے قیاس صحیح کے مخالف ہے ، کیونکہ استعمال شدہ دودھ کے تاوان کے طور پر یا تو اتنی ہی مقدار میں دودھ دینا چاہیے یا اس کی قیمت۔ ہر حالت میں ایک صاع کھجوروں کا تاوان دینے کی کوئی تک نہیں ہے۔ ۳۱؂

سنن ابی داؤد میں حضرت سلمہ بن المحبق سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مباشرت کر لی۔ رسول اللہ کے سامنے مقدمہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

ان کان استکرھھا فھی حرۃ وعلیہ لسیدتھا مثلھاوان کانت طاوعتہ فھی لہ وعلیہ لسیدتھا مثلھا ۔ (ابو داؤد، رقم ۴۴۶۰۔ الکبریٰ للبیہقی ۸/ ۲۴۰)

''اگر خاوند نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو اب وہ آزاد ہے اور اس کے عوض میں خاوند اپنی بیوی کو اس جیسی کوئی اور لونڈی دے دے۔ اور اگر اس میں لونڈی کی رضامندی شامل ہے تو اب وہ لونڈی خاوند کی ملکیت میں آگئی ہے اور اس کے عوض میں وہ اپنی بیوی کو اس جیسی کوئی اور لونڈی دے دے ۔ ''

سرخسی فرماتے ہیں کہ ازروے قیاس یہ حدیث ناقابل فہم ہے، لہٰذا قابل قبول نہیں۔ ۳۲؂

فقہاے مالکیہ کے ہاں بھی خلاف قیاس روایت قابل قبول نہیں اوراحناف کے برخلاف وہ اس ضمن میں فقیہ اور غیر فقیہ راوی کی روایت میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ابن رشد الجد لکھتے ہیں:

والقیاس ایضا مقدم علی خبر الواحد لان خبر الواحد یجوز علیہ النسخ والغلط والسہو والکذب والتخصیص ولا یجوز من الفساد علی القیاس الا وجہ واحد وہو: ہل الاصل معلول بہذہ العلۃ ام لا؟ وما جاز علیہ اوجہ کثیرۃ مما تبطل علیہ الحجۃ بہ اضعف مما لم یجز علیہ الا وجہ واحد۔(البیان والتحصیل ۱۷/ ۳۳۱)

''قیاس کو بھی خبر واحد پر ترجیح حاصل ہے ، کیونکہ خبر واحد میں نسخ،غلطی، بھول، جھوٹ اور تخصیص کے متعدد احتمالات ہیں ، جبکہ قیاس میں کمزوری کا صرف ایک احتمال ہے کہ آیا اصل حکم فی الواقع اسی علت پر مبنی ہے؟ اور جس چیز میں ضعف کے احتمالات زیادہ ہوں، وہ اس چیز کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہے جس میں کمزوری کا صرف ایک احتمال پایا جائے۔''

امام مالک نے حسب ذیل روایات میں اس اصول کا اطلاق کیا ہے:

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعا۔ (بخاری،رقم ۱۷۲)

''جب کتا تم میں کسی کے برتن میں پانی پی جائے تو برتن کو سات مرتبہ دھویا کرو۔ ''

شاطبی امام مالک کی رائے نقل کرتے ہیں کہ:

جاء الحدیث ولا ادری ما حقیقتہ؟ وکان یضعفہ ویقول: یؤکل صیدہ فکیف یکرہ لعابہ؟ (الموافقات ۳/ ۲۱)

'' حدیث تو آئی ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی کمزوری بتاتے ہوئے امام مالک فرماتے تھے کہ اگر کتے کا شکار کیا ہوا جانور کھایا جا سکتا ہے تو اس کا لعاب کیسے مکروہ ہو سکتا ہے؟''

صحیح مسلم میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ :

امرنا رسول اللّٰہ ان نشترک فی الابل والبقر کل سبعۃ منا فی بدنۃ۔ (مسلم، رقم ۳۱۸۶)

''رسول اللہ نے ہمیں اجازت دی کہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔''

چونکہ قیاس یہ ہے کہ ہر آدمی کی طرف سے ایک ہی جانور قربان کیا جائے، اس لیے امام مالک ان روایات پر عمل نہیں کرتے۔ ابن رشد الحفید لکھتے ہیں:

رد الحدیث لمکان مخالفتہ للاصل فی ذلک۔ (بدایۃ المجتہد ۱/ ۳۱۸)

''اصل کی مخالفت کی وجہ سے امام مالک نے اس حدیث کو رد کر دیا ہے۔''

صحیح بخاری میں حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ ایک غزوے میں کچھ صحابہ نے بھوک سے مجبور ہو کر کچھ اونٹوں اور بکریوں کو ذبح کر کے ان کے گوشت کی ہانڈیاں چڑھا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ ان ہانڈیوں کو الٹ دیا جائے۔ ۳۳؂

امام مالک اس روایت پر عمل نہیں کرتے۔ شاطبی لکھتے ہیں:

تعویلا علی اصل رفع الحرج الذی یعبر عنہ بالمصالح المرسلۃ فاجاز اکل الطعام قبل القسم لمن احتاج الیہ۔(الموافقات ۳/ ۲۲)

''ان روایتوں کو امام مالک نے رفع حرج یعنی مصالح مرسلہ کے اصول کے منافی ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا ۔ اس لیے وہ ضرورت مند کے لیے مال غنیمت کی تقسیم سے قبل بھی اس میں سے کھانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔''

صحیح بخاری میں حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ ایک موقع پر مال غنیمت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی ، لیکن وہ ہاتھ نہ آیا۔ پھر ایک آدمی نے اس پر ایک تیر پھینکا جس نے اللہ کے حکم سے اس اونٹ کو روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا:

ان لہذہ البھائم اوابد کاوابد الوحش فما غلبکم منھا فاصنعوا بہ ھکذا۔(بخاری،رقم ۲۴۸۸)

''ان چوپایوں میں سے کچھ چوپائے جنگلی جانوروں کی طرح بے قابو بھی ہو جاتے ہیں، ایسی صورت میں تم ان کو اس طریقے سے شکار کر لیا کرو۔''

امام مالک کا مسلک اس روایت کے برخلاف یہ ہے کہ ایسا جانور معروف طریقے سے ذبح کیے بغیر حلال نہیں ہوگا۔ ابن رشد اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وذالک ان الاصل فی ھذا الباب ھو ان الحیوان الانسی لا یوکل الا بالذبح او النحر وان الوحشی یوکل بالعقر واما الخبر المعارض لھذہ الاصول فحدیث رافع بن خدیج۔(بدایۃ المجتہد۱/ ۳۳۲)

''اس باب میں اصول یہ ہے کہ مانوس ہونے والے جانوروں کا گوشت ذبح یانحر کیے بغیر نہیں کھایا جا سکتا اور وہ جانورجو انسان سے مانوس نہیں ہوتے، ان کا گوشت (کسی بھی طریقے سے) ان کا خون بہا کرکھایا جا سکتا ہے، جبکہ رافع بن خدیج کی روایت اس اصول کے منافی ہے۔ ''

نتیجہ بحث

اس تمام تفصیل سے واضح ہے کہ اسلام کی علمی روایت میں درایت ایک نہایت شان دار تاریخ رکھتی ہے۔ مختلف طریقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علما، محدثین اور فقہا نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق روایتوں کو پرکھنے کے مختلف عقلی اصول وضع کیے اور ان کو اپنی تحقیقات میں برتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ ہم روایات پر تنقید کے حوالے سے ان کی تحقیقات سے اختلاف کریں اور کسی معقول تاویل سے یہ واضح کردیں کہ زیر بحث روایت، درحقیقت خلاف اصول نہیں ہے ، لیکن اہل علم کی مجموعی تحقیقات کی روشنی میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ درایت کی روشنی میں روایات کو پرکھنا ایک مسلمہ علمی اصول ہے اور جب کسی روایت کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہ قرآن مجید کی کسی نص، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابتہ، دین کے مسلمات،عقل عام کے تقاضوں یا کسی بھی ثابت شدہ علمی حقیقت کے خلاف ہے تو اس کو یکسر رد کر دینا چاہیے، چاہے اس کی سند کتنی ہی صحیح اور اس کے طرق کتنے ہی کثیر ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

____________

۲۸؂ اصول السرخسی ۱/ ۳۶۸۔

۲۹ ؂ بخاری، رقم ۱۳۳۷۔

۳۰ ؂ ابو داؤد، کتاب الطہارۃ۔

۳۱؂ اصول السرخسی ۱/ ۳۴۱۔

۳۲؂ اصول السرخسی ۱/ ۳۴۲۔

۳۳؂ بخاری،رقم ۲۴۸۸۔