امام کے ساتھ نماز تہجد


ترجمہ و تدوین: شاہد رضا

عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أُنَاسٌ فِيْ رَمَضَانَ یُصَلُّوْنَ فِيْ نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: ''مَا ہٰؤُلاَءِ''؟ فَقِیْلَ: ہٰؤُلاَءِ نَاسٌ لَیْسَ مَعَہُمْ قُرْآنٌ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ یُصَلِّيْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ بِصَلٰوتِہِ، فَقَالَ النَّبِيُّ: ''صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''أَصَابُوْا وَنِعْمَ مَا صَنَعُوْا''.(ابو داؤد، رقم ۱۳۷۷)

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ ماہ رمضان میں (ایک رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے (مسجد کے لیے) نکلے اور دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت مسجد کے ایک گوشے میں نماز ادا کر رہی ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دریافت فرمایا: یہ کون لوگ ہیں؟ آپ کو جواب دیا گیا: (یارسول اللہ)، یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن مجید یاد نہیں ہے، اس لیے یہ لوگ حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (توثیق کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: انھوں نے درست کیا اور انھوں نے کیا ہی اچھا کام کیا ہے۔

توضیح روایت

اس واقعے سے متعلق چھ میں سے چار روایات مسلم بن خالد کے واسطے سے روایت کی گئی ہیں جنھیں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ امام ابوداؤد اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں رقم طراز ہیں:

لیس ہذا الحدیث بالقوي، مسلم بن خالد ضعیف.(ابوداؤد، رقم ۱۳۱۷)

''یہ حدیث (ثقاہت کے اعتبار سے) قوی نہیں ہے، (اس لیے کہ) مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔''

جہاں تک باقی دو روایات کا تعلق ہے تو ان میں سے ایک کے تحت امام بیہقی اپنی کتاب ''السنن الکبریٰ'' میں لکھتے ہیں:

ہذا مرسل ... ثعلبۃ بن أبي مالک القرظي من الطبقۃ الأولی من تابعي أہل المدینۃ ... ولیست لہ صحبۃ. وقد روی بإسناد موصول إلا أنہ ضعیف.( رقم۴۳۸۷)

''یہ سند مرسل ہے ... (اس لیے کہ) ثعلبہ بن ابومالک القرظی (جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کر رہے ہیں) تابعین مدینہ کے طبقۂ اولیٰ میں سے ہیں ... اور (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے) صحابی نہیں ہیں۔ وہ اس روایت کو سند متصل کے ساتھ بھی روایت کر چکے ہیں ، مگر یہ سند ضعیف ہے۔''

متون

اپنی اصل کے اعتبار سے یہ روایت ابوداؤد، رقم۱۳۷۷ میں روایت کی گئی ہے۔

اسی طرح کا مضمون بعض اختلافات کے ساتھ ابن خزیمہ، رقم۲۲۰۸؛ بیہقی، رقم ۴۳۸۶۔۴۳۸۸ اور ابن حبان، رقم۲۵۴۱ میں روایت کیا گیا ہے۔

حاصل کلام

درج بالا بحث کی روشنی میں اس روایت کے بارے میں چونکہ محدثین کی آرا منفی ہیں، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس روایت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ سمجھی جائے۔

____________