ایمان و اسلام کے منافی (۲)


تحقیق و تخریج: محمد عامر گزدر

۱۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰی صُبْرَۃٍ مِنْ طَعَامٍ،۲ [فَأَعْجَبَہُ]،۳ فَأَدْخَلَ یَدَہُ فِیہَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُہُ بَلَلاً،۴ فَقَالَ: ''یَاصَاحِبَ الطَّعَامِ، مَا ہٰذَا؟''، قَالَ: أَصَابَتْہُ السَّمَاءُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ''أَفَلاَ جَعَلْتَہُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتّٰی یَرَاہُ النَّاسُ''، ثُمَّ قَالَ: ''مَنْ غَشَّ۵ فَلَیْسَ مِنَّا۶''.۷

۲۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ:۸ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنِ انْتَہَبَ نُہْبَۃً [مَشْہُوْرَۃً]۹ فَلَیْسَ مِنَّا''.

۳۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:۱۰ ''مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیْہِ فَلَیْسَ مِنَّا، وَمَنِ ادَّعٰی مَا لَیْسَ لَہُ فَلَیْسَ مِنَّا، [وَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ]''.۱۱

۴۔عَنْ بُرَیْدَۃَ بْنِ الْحُصَیْبِ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ:۱۲ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَۃِ فَلَیْسَ مِنَّا''.

۵۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:۱۳ ''لَیْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ۱۴ الْخُدُوْدَ،۱۵ وَشَقَّ الْجُیُوْبَ،۱۶ وَدَعَا بِدَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ''.۱۷

۶۔عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ:۱۸ ''لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ، وَلَا خَرَقَ، وَلَا سَلَقَ''.۱۹

۷۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ:۲۰ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی النِّسَاءِ حِینَ بَایَعَہُنَّ أَلاَّ یَنُحْنَ، فَقُلْنَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاہِلِیَّۃِ، أَفَنُسْعِدُہُنَّ فِي الْإِسْلاَمِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ''.

۸۔عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:۲۱ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ''.

۱۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ کو وہ اچھا لگا ۔ آپ نے یہ دیکھ کر اپنا ہاتھ اُس کے اندر ڈالا تو آپ کی انگلیاں گیلی ہوگئیں۔ اِس پر آپ نے فرمایا:اناج بیچنے والے، یہ کیا ہے؟ اُس نے جواب دیا:اِس پر بارش ہوگئی تھی، یا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا:تم نے اِسے ڈھیر کے اوپر کیوں نہیں ڈالا کہ لوگ دیکھ لیتے؟ پھر فرمایا:جس نے دھوکا دیا، وہ ہم سے نہیں ہے۔۱

۲۔عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علانیہ لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۲

۳۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ اُس کا باپ ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے کسی چیز کو اپنی ملکیت بتایا جو اُس کی نہیں تھی ، وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔۳

۴۔ بُریدہ بن حُصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے امانت کی قسم کھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۴

۵۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:جو غم کے موقعوں پرگال پیٹے اور گریبان پھاڑے اور زمانۂ جاہلیت کی طرح پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۵

۶۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے کسی مصیبت کے موقع پر سر منڈایا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے اورنہ وہ جو کپڑے پھاڑے اور روئے چلائے۔۶

۷۔انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تو اُنھیں پابند کیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔اِس پر عورتوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، زمانۂ جاہلیت میں ایسی عورتیں بھی تھیں جنھوں نے غم کے موقعوں پر رونے پیٹنے کے لیے ہماری مددکی تھی۔اسلام لانے کے بعد اب کیا ہم اُن کی مددکر سکتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اِس طرح کی مدد اسلام میں نہیں ہے۔

۸۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسلام میں قبروں پر اونٹ ذبح کرنے کا تصور نہیں ہے۔۷

ترجمے کے حواشی

۱۔ یعنی کہنے کو مسلمان ہے، لیکن اِس کا اہل نہیں ہے کہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی جماعت کا ایک فرد سمجھے ۔ اِس لیے کہ دھوکااور فریب کسی ایسے شخص سے متصور نہیں ہوسکتا جو اُس خدا پر سچے دل کے ساتھ ایمان لایا ہوجو انسان کے ظاہر و باطن کی ہر چیز پر نگران ہے۔

۲۔ لوٹ مار اور وہ بھی علانیہ، اِس کی شناعت محتاجِ بیان نہیں ہے۔ چنانچہ اسلام کو ماننے والا کوئی شخص اِس کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔

۳۔ اپنا نسب تبدیل کرنا اور کسی کی ملکیت پر اپنا حق جتانا ، دونوں دھوکے اور فریب کی بد ترین صورتیں ہیں، لہٰذا من جملہ کبائر ہیں اور کبائر کے بارے میں قرآن نے تصریح کردی ہے کہ اُن پر اصرار آدمی کو جہنم کا مستحق بنادیتا ہے۔

۴۔ قسم بالعموم کسی کو اپنی بات پر گواہ ٹھیرانے کے لیے کھائی جاتی ہے، لہٰذا صرف خدا ہی کی ہوسکتی ہے۔خدا کے سوا کسی دوسرے کی قسم کھائی جائے تو یہ شرک ہے جس کا ارتکاب کوئی مسلمان نہیں کرسکتا۔

۵۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہیں، اِس لیے کہ اسلام کے معنی ہی یہ ہیں کہ خدا کے ہر حکم اور فیصلے پر سرِ تسلیم خم کردیا جائے۔

۶۔یہ سب بھی اظہارِ غم اور جزع فزع کی وہ صورتیں ہیں جن کو کوئی ایسا شخص اختیار نہیں کرسکتا جو اسلام لا کر اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر چکاہو۔

۷۔یہ جاہلیت کی رسم تھی جس سے قبر والوں کے لیے کوئی فائدہ متصور ہوتا تھا ۔ اِس طرح کا کام اذنِ الٰہی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اوراگرکیا جائے تو یہ اپنی طرف سے دین بنانا ہوگا جسے قرآن نے افترا علی اللہ، یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اسلام میں اِس کی گنجایش نہیں ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن سنن ترمذی، رقم۱۳۱۵سے لیا گیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اِس باب میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ،عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ،عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات نقل ہوئی ہیں۔ اِن کے مراجع یہ ہیں:مسند حمیدی، رقم ۱۰۶۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۳۱۴۷۔مسند احمد، رقم ۷۲۹۲۔صحیح مسلم، رقم۱۰۱،۱۰۲۔سنن ابن ماجہ، رقم۲۲۲۴۔سنن ابی داؤد، رقم ۳۴۵۲۔ مسند بزار، رقم۸۱۲۵، ۸۳۲۰، ۹۰۹۹۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۵۲۰۔مستخرج ابی عوانہ،رقم۱۵۷۔صحیح ابن حبان، رقم ۵۶۷، ۴۹۰۵، ۵۵۵۹۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۹۹۳۔ المعجم الصغیر،طبرانی، رقم۷۳۸۔المعجم الکبیر،طبرانی، رقم ۱۰۲۳۴، ۱۱۵۵۳۔ مستدرک حاکم، رقم۲۱۵۳، ۲۱۵۴، ۲۱۵۵۔مستخرج ابی نعیم، رقم۲۸۴، ۲۸۵، ۲۸۶۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۰۷۳۳، ۱۰۹۶۱۔معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم۱۱۳۸۵۔ کشف الاستار عن زوائد البزار، ہیثمی، رقم ۱۲۵۶۔

۲۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۱۵۷میں متن کاآغاز ان الفاظ سے ہوا ہے: 'جَاءَ النَّبِيُّ إِلَی السُّوْقِ فَإِذَا حِنْطَۃٌ مُصْبَرَۃٌ' ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر بازار میں تشریف لائے تو آپ کی نظر گندم کے ایک ڈھیر پر پڑی''۔

۳۔ یہ اضافہ مسند حمیدی، رقم ۱۰۶۳سے لیا گیا ہے۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند احمد، رقم۷۲۹۲میں یہاں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے پوچھا:کیسے دے رہے ہو؟جب اُس نے بتایا تو آپ پر وحی آئی کہ آپ اپنا ہاتھ اِس میں ڈال کر دیکھیں، تب آپ نے ایسا کیا۔

۴۔ مسند حمیدی، رقم۱۰۶۳میں یہاں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: 'فَإِذَا ہُوَ طَعَامٌ مَبْلُوْلٌ' ''تو پتا چلا کہ وہ اناج تو اندر سے گیلا ہے''۔ جبکہ سنن ابن ماجہ، رقم۲۲۲۴میں ہے: 'فَإِذَا ہُوَ مَغْشُوْشٌ' ''تو پتا چلا کہ اِس میں تو دھوکا دیا گیا ہے''۔

۵۔ بعض روایات، مثلاً صحیح مسلم ،رقم ۱۰۱میں 'مَنْ غَشَّ' ''جس نے دھوکا دیا ''کے بجاے 'مَنْ غَشَّنَا' ''جس نے ہمیں دھوکا دیا'' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

۶۔ بعض روایتوں، مثلاً صحیح مسلم، رقم۱۰۲میں یہاں 'لَیْسَ مِنَّا' ''وہ ہم میں سے نہیں ہے ''کے بجاے 'لَیْسَ مِنِّي' ''مجھ سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے'' کے الفاظ مروی ہیں۔

۷۔ بعض روایات، مثلاً مسند حمیدی، رقم۱۰۶۳میں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: 'لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا' ''جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے''۔ مسند احمد، رقم ۷۲۹۲ میں یہ الفاظ ہیں: 'لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ' '' جس نے دھوکا دیا ،وہ ہم میں سے نہیں ہے''۔ مسند ابی یعلیٰ ، رقم۶۵۲۰میں ہے: 'مَنْ غَشَّنِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ' ''جس نے مجھے دھوکا دیا، اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے''۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۱۵۷ کے مطابق آپ نے 'مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّيْ' ''جس نے دھوکا دیا، اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے'' کا جملہ اُس موقع پر دو مرتبہ دہرایا۔ مستدرک حاکم، رقم۲۱۵۴ میں یہ الفاظ منقول ہیں: 'أَلاَ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا' ''آگاہ رہو کہ جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے''۔ بعض روایات، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم ۵۶۷ میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے 'مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا' کے بعد 'وَالْمَکْرُ، وَالْخِدَاعُ فِي النَّارِ' ''اور یہ دھوکا اور فریب آدمی کو جہنم میں لے جا سکتا ہے ''کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں۔

۸۔اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۱۹۹۲۹سے لیا گیا ہے۔ عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ کے علاوہ اِس مضمون کی احادیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہیں۔ اِن کے مراجع یہ ہیں:مصنف عبد الرزاق، رقم۶۶۹۰، ۱۸۸۴۴۔مسند ابن جعد، رقم۲۶۵۵، ۲۶۵۶۔ مسند احمد، رقم ۲۰۰۰۳، ۱۴۳۵۱، ۱۴۴۶۴، ۱۵۰۷۰، ۱۵۲۵۴، ۱۹۹۴۶، ۱۹۹۸۷، ۲۰۶۱۹، ۲۰۶۲۶، ۲۰۶۳۱، ۱۳۰۳۲۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۳۹۳۵، ۳۹۳۷۔ سنن ابی داؤد، رقم۴۳۹۱۔سنن ترمذی، رقم ۱۱۲۳، ۱۶۰۱۔ مسند بزار، رقم ۳۵۳۵، ۶۹۱۸۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۳۳۳۵، ۳۵۹۰۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۴۴۱۵، ۵۴۷۱۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۱۴۶، ۳۲۶۷، ۴۴۵۶، ۵۱۷۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۳۸۲، ۳۸۳۔سنن دار قطنی، رقم۴۸۳۱۔

۹۔ یہ اضافہ سنن ابن ماجہ، رقم۳۹۳۵سے لیا گیا ہے ، جس کے راوی جابر رضی اللہ عنہ ہیں۔

۱۰۔ یہ روایت مستخرج ابی عوانہ، رقم۵۶سے لی گئی ہے۔ اِس کے راوی ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔مستخرج ابی عوانہ کے علاوہ یہ حدیث مسند احمد، رقم ۲۱۴۶۵، صحیح مسلم، رقم۶۱۔سنن ابن ماجہ، رقم۲۳۱۹اور السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۵۳۳۵ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

۱۱۔ یہ اضافہ مسند احمد، رقم۲۱۴۶۵سے لیا گیا ہے۔

۱۲۔ یہ روایت سنن ابی داؤد، رقم۳۲۵۳سے لی گئی ہے۔ اِس کے راوی بُریدہ بن حُصیب اسلمی رضی اللہ عنہ ہیں۔ سنن ابی داؤد کے علاوہ یہ حدیث مسند احمد، رقم۲۲۹۸۰، صحیح ابن حبان، رقم۴۳۶۳اور السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۹۸۳۶میں بھی نقل ہوئی ہے۔

۱۳۔ اِس روایت کا متن مسند طیالسی، رقم ۲۸۸سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ جن کتابوں میں نقل ہوئی ہے، وہ یہ ہیں:مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۱۳۳۸، ۱۱۳۳۹۔ مسند احمد، رقم ۳۶۵۸، ۴۱۱۱، ۴۲۱۵، ۴۳۶۱، ۴۴۳۰۔ صحیح بخاری، رقم ۱۲۹۴، ۱۲۹۷، ۱۲۹۸۔ صحیح مسلم، رقم ۱۰۳۔ سنن ابن ماجہ، رقم۱۵۸۴۔ مسند بزار، رقم۱۹۳۴، ۱۹۵۴۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۱۸۶۰، ۱۸۶۲، ۱۸۶۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۹۹۹، ۲۰۰۱، ۲۰۰۳۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۵۲۰۱، ۵۲۵۲۔ منتقی ابن جارود، رقم ۵۱۶۔ مسند شاشی، رقم۳۸۱، ۳۸۲، ۳۸۴۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۱۴۹۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۲۱۴۳۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۰۲۹۷۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۱۱۴۳۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۷۱۱۵، ۷۱۱۷۔ معرفۃ السنن والآثار، بیہقی، رقم ۷۷۷۰۔

۱۴۔بعض طرق مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۱۳۳۸ میں یہاں 'ضَرَبَ' کے بجاے 'لَطَمَ' کا لفظ روایت ہوا ہے۔ معنی کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

۱۵۔ مسند بزار، رقم۱۹۳۴میں یہاں 'الْخُدُوْدَ' ''گالوں'' کے بجاے 'الْوجُوہَ' ''چہروں''کا لفظ نقل ہوا ہے۔

۱۶۔بعض روایتوں، مثلاً سنن ابن ماجہ، رقم ۱۵۸۴ میں 'مَنْ شَقَّ الْجُیُوْبَ' ''جس نے گریبان پھاڑے'' مقدم بیان ہوا ہے، جبکہ 'وَضَرَبَ الْخُدُوْدَ' ''اور گال پیٹے ''کے الفاظ موخرآئے ہیں۔ مسند احمد، رقم ۴۱۱۱میں موخر الفاظ 'وَلَطَمَ الْخُدُوْدَ' ''اور گال پیٹے'' ہیں۔ بعض طرق، مثلاً مسند احمد، رقم۴۳۶۱میں یہاں دونوں مقامات پر 'وَ' ''اور'' کے بجاے 'أَوْ''' یا'' کا حرف روایت ہوا ہے۔

۱۷۔بعض روایتوں، مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم۱۸۶۰ میں یہاں 'دَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ' کے بجاے 'دُعَاءِ الْجَاہِلِیَّۃِ' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں جس سے معنی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۱۳۳۸ میں 'دُعَاءِ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ' ''اہل جاہلیت کی طرح پکارنا'' کے الفاظ ہیں، جبکہ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۵۲۰۱ میں ہے: 'وَدَعَا بِدَعْوَۃِ أَہْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ'۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۰۲۹۷میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے: 'أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ نَہٰی عَنْ لَطْمِ الْخُدُوْدِ وَشَقِّ الْجُیُوْبِ' ''کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گالوں کو پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت فرمائی ہے''۔

۱۸۔اِس روایت کا متن مسند بزار، رقم ۳۰۴۵سے لیا گیا ہے۔یہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاوہ اُن کی اہلیہ ام عبد اللہ بنت ابی دومہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بھی نقل ہوئی ہے۔اِس باب کی روایات جن مراجع میں نقل ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں:مسند طیالسی، رقم۵۰۹۔مسند ابن جعد، رقم۸۹۲۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۱۳۴۱۔مسند اسحاق، رقم ۲۳۱۸، ۲۳۱۹۔ مسند احمد، رقم۱۹۵۳۵، ۱۹۵۳۹، ۱۹۵۴۰، ۱۹۵۴۷، ۱۹۶۱۶، ۱۹۶۱۷، ۱۹۶۲۶، ۱۹۷۲۹۔صحیح بخاری، رقم ۱۲۹۶۔صحیح مسلم، رقم۱۰۴۔سنن ابن ماجہ، رقم ۱۵۸۶۔ سنن ابی داؤد، رقم ۳۱۳۰۔مسند بزار، رقم۳۰۴۶، ۳۱۹۴، ۳۲۰۰۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۱۸۶۱، ۱۸۶۳، ۱۸۶۵، ۱۸۶۶، ۱۸۶۷۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۲۰۰۰، ۲۰۰۲، ۲۰۰۴، ۲۰۰۵، ۲۰۰۶۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۷۲۳۵۔مسند رویانی، رقم۵۸۱، ۵۸۲۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۱۵۳، ۱۵۴، ۱۵۵۔صحیح ابن حبان، رقم۳۱۵۰، ۳۱۵۲، ۳۱۵۴۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۱۳۱۰، ۲۶۲۰۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۲۹، ۴۳۰۔ فوائد تمام، رقم۷۷۹۔السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۱۱۴۴۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۶۶۵۴، ۷۱۱۸، ۷۱۱۹، ۷۱۲۰۔

۱۹۔مسند بزار، رقم۳۲۰۰میں یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: 'لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ'۔ ''وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے کسی مصیبت کے موقع پر سر منڈایا، رویا چلایا اور کپڑے پھاڑے''۔سنن ابی داؤد، رقم ۳۱۳۰ میں یہ الفاظ اِس طرح آئے ہیں: 'لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ' ''وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے کسی مصیبت کے موقع پر سر منڈادیا اور وہ بھی جورویا چلایا اور وہ جس نے اپنے کپڑے پھاڑے''۔ مسند بزار، رقم ۳۱۹۴ میں ہے: 'لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ' ''وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے کسی مصیبت کے موقع پر سر منڈادیا یا اپنے کپڑے پھاڑدیے یا وہ چلا چلا کر رویا''۔

روایت کے متعدد طرق میں بعض تابعین نے آپ کا یہ ارشاد ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے مرض وفات کے واقعہ کے سیاق میں اُن کی اہلیہ، ام عبد اللہ بنت ابی دومہ رضی اللہ عنہا کی زبان سے بھی بیان کیا ہے۔ تاہم اِس میں تعبیر کا کچھ اختلاف ہے۔ مسند اسحاق، رقم ۲۳۱۸میں یہ اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:

عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ أَبُوْ مُوْسٰی بَکَتْ عَلَیْہِ امْرَأَتُہُ فَقَالَ لَہَا: أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟

فَقَالَتْ: بَلٰی، فَلَمَّا مَاتَ قَالَ یَزِیدُ: لَقِیْتُ الْمَرْأَۃَ فَقُلْتُ لَہَا: مَا قَالَ أَبُوْ مُوْسٰی لَکِ: أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتِ: بَلٰی، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَیْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ وَحَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ''۔

''یزید بن اوس کا بیان ہے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جب بیمار ہوئے تو اُن کی حالت دیکھ کر اُن کی اہلیہ رونے لگیں، اِس پر اُنھوں نے اُس سے کہا:کیا تم نے سنا نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا؟ اُن کی اہلیہ نے جواب دیا:کیوں نہیں۔ پھر جب وہ دنیا سے رخصت ہوگئے تو یزید کہتے ہیں کہ میں اُن کی بیوی سے ملا اور اُن سے پوچھا:ابو موسیٰ آپ سے کیا کہنا چاہ رہے تھے،جب اُنھوں نے آپ سے کہا تھاکہ تم نے سنا نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا؟ اور جس کے جواب میں آپ نے کہا تھا:کیوں نہیں۔ اِس پر اُنھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو کسی مصیبت کے موقع پر رویا چلایا، اور جس نے اپنا سر منڈایا اور جس نے اپنے کپڑے پھاڑے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۱۳۴۱میں یہ واقعہ اِس طرح بیان ہوا ہے:

عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ قَال: لَمَّا ثَقُلَ أَبُوْ مُوْسٰی صَاحَتْ عَلَیْہِ امْرَأَتُہُ فَقَالَ لَہَا: مَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلٰی، ثُمَّ سَکَتَتْ، فَقِیلَ لَہَا بَعْدُ: أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ حَلَقَ، وَخَرَقَ، وَسَلَقَ۔

''قرثع ضبی کا بیان ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طبیعت جب بہت ناساز ہوئی تو اُن کی اہلیہ یہ حالت دیکھ کر رونے چلانے لگیں۔ اُس موقع پر اُنھوں نے اُس سے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا تھا، وہ تمھارے علم میں نہیں ہے؟ اُنھوں نے جواب دیا:کیوں نہیں۔ اِس کے بعدوہ خاموش ہوگئیں۔ پھر جب بعد میں اُن سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ارشاد فرمایا تھا؟ کہتے ہیں کہ اُس موقع پر اُنھوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس شخص پر لعنت کی ہے جو مصیبت کے موقع پر اپنا سر منڈائے،کپڑے پھاڑدے اور چلا چلا کر روئے۔''

المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۴۲۹ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: 'لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ' '' اللہ نے لعنت کی ہے ایسے شخص پر جو مصیبت کے موقع پر اپنا سر منڈائے یا اپنے کپڑے پھاڑے یاروئے چلائے''۔ مسند احمد، رقم ۱۹۷۲۹ کے مطابق ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اُس موقع پریہ الفاظ کہے تھے: 'إِنِّيْ بَرِيْءٌ مِمَّنْ بَرِءَ اللّٰہُ مِنْہُ وَرَسُوْلُہُ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِمَّنْ حَلَقَ وسَلَقَ وخَرَقَ' ''میں ہر اُس شخص سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں جس سے اللہ اور اُس کے رسول نے اظہار براء ت کیا ہے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں سے براء ت ظاہر کی تھی جو کسی مصیبت کے موقع پر اپنا سر منڈادیں، روئیں چلائیں اور اپنے کپڑے پھاڑدیں''۔ مسند ابن جعد، رقم۸۹۲کے مطابق انھوں نے اپنی اہلیہ سے کہا: 'أَمَا بَلَغَکِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ بَرِئَ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ' ''کیا تمھارے علم میں نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت کے موقع پر سر منڈانے والوں، چلا چلا کر رونے والوں اور اپنے کپڑے پھاڑنے والوں سے اظہارِ براء ت کیا ہے''۔صحیح بخاری، رقم۱۲۹۶میں اُن کے یہ الفاظ روایت ہوئے ہیں: 'أَنَا بَرِيْءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَۃِ وَالحَالِقَۃِ وَالشَّاقَّۃِ'۔ ''میں ہر اُس شخص سے براء ت کا اعلان کرتا ہوں جس سے اللہ کے رسول نے اعلان براء ت کیا ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن عورتوں سے براء ت ظاہر کی تھی جو چلا چلا کر روئیں، اپنا سر منڈوا لیں اور کپڑے پھاڑ دیں''۔

۲۰۔اِس روایت کا متن مصنف عبد الرزاق، رقم ۹۸۲۹سے لیا گیا ہے۔ حدیث کا یہ مضمون سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے منقول ہے۔ اِس باب کی روایات جن مصادر میں نقل ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں:مصنف عبد الرزاق، رقم ۶۶۹۰، ۱۰۴۳۴، ۱۰۴۳۷۔مسند احمد، رقم ۱۲۶۵۸، ۱۳۰۳۲۔ مسند بزار، رقم ۶۹۱۸۔السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۱۸۵۲۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۱۹۹۱۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۱۴۶۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۷۱۰۸۔

۲۱۔ اِس روایت کا متن سنن ابی داؤد، رقم۳۲۲۲سے لیا گیا ہے۔ اِس مضمون کی روایات سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے نقل ہوئی ہیں۔ اِن کے مراجع یہ ہیں:مصنف عبد الرزاق، رقم۶۶۹۰۔ مسند احمد، رقم ۱۳۰۳۲۔ صحیح ابن حبان، رقم ۳۱۴۶۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۷۰۶۹، ۱۹۳۵۱۔

المصادر والمراجع

ابن أبي شیبۃ، أبو بکر عبد اللّٰہ بن محمد العبسي. (۱۴۰۹ھ). المصنف في الأحادیث والآثار. ط۱. تحقیق: کمال یوسف الحوت. الریاض: مکتبۃ الرشد.

ابن الجارود، أبو محمد عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۰۸ھ/۱۹۸۸م). المنتقی من السنن المسندۃ. ط۱. تحقیق: عبد اللّٰہ عمر البارودي. بیروت: مؤسسۃ الکتاب الثقافیۃ.

ابن الجَعْد، علي بن الجَعْد بن عبید الجَوْہَري البغدادي. (۱۴۱۰ھ/ ۱۹۹۰م). مسند ابن الجعد. ط۱. تحقیق: عامر أحمد حیدر. بیروت: مؤسسۃ نادر.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي.(۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳م). الثقات. ط۱. حیدر آباد الدکن ۔ الہند: دائرۃ المعارف العثمانیۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۴۱۴ھ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حبان، أبو حاتم، محمد بن حبان البُستي. (۱۳۹۶ھ). المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین. ط۱. تحقیق: محمود إبراہیم زاید. حلب: دار الوعي.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۱۵ھ). الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). تقریب التہذیب. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ. سوریا: دار الرشید.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴م). تہذیب التہذیب. ط۱. بیروت: دار الفکر.

ابن حجر، أحمد بن علي، أبو الفضل العسقلاني. (۲۰۰۲م). لسان المیزان. ط۱. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. د.م: دار البشائر الإسلامیۃ.

ابن راہویہ، إسحاق بن إبراہیم بن مخلد بن إبراہیم الحنظلي المروزي. (۱۴۱۲ھ/ ۱۹۹۱م) مسند إسحاق بن راہویہ. ط۱. تحقیق: د. عبد الغفور بن عبد الحق البلوشي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ الإیمان.

ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللّٰہ القرطبي. (۱۴۱۲ھ ؍ ۱۹۹۲م). الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب. ط۱. تحقیق: علي محمد البجاوي. بیروت: دار الجیل.

ابن عدي، عبد اللّٰہ أبو أحمد الجرجاني. (۱۴۱۸ھ؍۱۹۹۷م). الکامل في ضعفاء الرجال. ط۱. تحقیق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض. بیروت۔ لبنان: دار الکتب العلمیۃ.

ابن ماجہ، أبو عبد اللّٰہ محمد القزویني. (د.ت). السنن. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی د.م: دار إحیاء الکتب العربیۃ.

أبو داود، سلیمان بن الأشعث، السِّجِسْتاني. (د.ت). السنن. د.ط.تحقیق: محمد محیي الدین عبد الحمید. بیروت: المکتبۃ العصریۃ.

أبو عوانۃ، الإسفراییني، یعقوب بن إسحاق، النیسابوري. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸م). مستخرج أبي عوانۃ. ط۱. تحقیق: أیمن بن عارف الدمشقي. بیروت: دار المعرفۃ.

أبو نعیم، أحمد بن عبد اللّٰہ، الأصبہاني. (۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶م). المسند المستخرج علی صحیح مسلم. ط۱. تحقیق: محمد حسن محمد حسن إسماعیل الشافعي. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

أبو یعلٰی، أحمد بن علي، التمیمي، الموصلي. المسند. ط۱. (۱۴۰۴ھ/ ۱۹۸۴م). تحقیق: حسین سلیم أسد. دمشق: دار المأمون للتراث.

أحمد بن محمد بن حنبل، أبو عبد اللّٰہ، الشیباني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). المسند. ط۱. تحقیق: شعیب الأرنؤوط، وعادل مرشد، وآخرون. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

البخاري، محمد بن إسماعیل، أبو عبداللّٰہ الجعفي. (۱۴۲۲ھ). الجامع الصحیح. ط۱. تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر. بیروت: دار طوق النجاۃ.

البزار، أبو بکر أحمد بن عمرو العتکي. (۲۰۰۹م). المسند. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ، وعادل بن سعد، وصبري عبد الخالق الشافعي. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۰ھ؍۱۹۸۹م). السنن الصغرٰی. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. کراتشي: جامعۃ الدراسات الإسلامیۃ.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۳م). السنن الکبرٰی. ط۳. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

البیہقي، أبو بکر، أحمد بن الحسین الخراساني. (۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۱م). معرفۃ السنن والآثار. ط۱. تحقیق: عبد المعطي أمین قلعجي. القاہرۃ: دار الوفاء.

الترمذي، أبو عیسٰی، محمد بن عیسٰی. (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵م). السنن. ط۲. تحقیق و تعلیق: أحمد محمد شاکر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراہیم عطوۃ عوض. مصر: شرکۃ مکتبۃ ومطبعۃ مصطفی البابي الحلبي.

تمام بن محمد، الرازي، البجلي، أبو القاسم. (۱۴۱۲ھ). الفوائد. ط۱. تحقیق: حمدي عبد المجید السلفي. الریاض: مکتبۃ الرشد.

الحاکم ، أبو عبد اللّٰہ محمد بن عبد اللّٰہ النیسابوري. (۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰م). المستدرک علی الصحیحین. ط۱. تحقیق: مصطفٰی عبد القادر عطا. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

الحمیدي، أبو بکر عبد اللّٰہ بن الزبیر بن عیسٰی القرشي الأسدي. (۱۹۹۶م). مسند الحمیدي. ط۱. تحقیق وتخریج:حسن سلیم أسد الدَّارَانيّ. دمشق: دار السقا.

الدارقطني، أبو الحسن، علي بن عمر بن أحمد البغدادي. (۱۴۲۴ھ/۲۰۰۴م). السنن. ط۱. تحقیق وتعلیق: شعیب الارنؤوط، حسن عبد المنعم شلبي، عبد اللطیف حرز اللّٰہ، أحمد برہوم. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷م). دیوان الضعفاء والمتروکین وخلق من المجہولین وثقات فیہم لین. ط۲. تحقیق: حماد بن محمد الأنصاري. مکۃ: مکتبۃ النہضۃ الحدیثۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). سیر أعلام النبلاء. ط۳. تحقیق: مجموعۃ من المحققین بإشراف الشیخ شعیب الأرناؤوط. د.م: مؤسسۃ الرسالۃ.

الذہبي، شمس الدین، أبو عبد اللّٰہ محمد بن أحمد. (۱۴۱۳ھ؍۱۹۹۲م). الکاشف في معرفۃ من لہ روایۃ في الکتب الستۃ. ط۱. تحقیق: محمد عوامۃ أحمد محمد نمر الخطیب. جدۃ: دار القبلۃ للثقافۃ الإسلامیۃ ۔ مؤسسۃ علوم القرآن.

الرُّویاني، أبو بکر محمد بن ہارون. (۱۴۱۶ھ). المسند. ط۱. تحقیق: أیمن علی أبو یماني. القاہرۃ: مؤسسۃ قرطبۃ.

السیوطي، جلال الدین، عبد الرحمٰن بن أبي بکر. (۱۴۱۶ھ/۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط۱. تحقیق وتعلیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري.الخبر: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، أبو سعید الہیثم بن کلیب البِنْکَثی.(۱۴۱۰ھ) مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: د. محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الأوسط. د.ط. تحقیق: طارق بن عوض اللّٰہ بن محمد، عبد المحسن بن إبراہیم الحسیني. القاہرۃ: دار الحرمین.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵م). المعجم الصغیر. ط۱. تحقیق: محمد شکور محمود الحاج أمریر. بیروت: المکتب الإسلامی.

الطبراني، أبو القاسم، سلیمان بن أحمد الشامي. (د.ت). المعجم الکبیر. ط۲. تحقیق: حمدي بن عبد المجید السلفي. القاہرۃ: مکتبۃ ابن تیمیۃ.

الطیالسی، أبو داود سلیمان بن داؤد البصری. (۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹م). المسند. ط۱. تحقیق: الدکتور محمد بن عبد المحسن الترکي. مصر: دار ہجر.

عبد الرزاق بن ہمام، أبو بکر، الحمیري، الصنعاني. (۱۴۰۳ھ). المصنف. ط۲. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. الہند: المجلس العلمي.

المزي، أبو الحجاج، یوسف بن عبد الرحمٰن القضاعي الکلبي. (۱۴۰۰ھ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: الدکتور بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم بن الحجاج، النیسابوري. (د.ت). الجامع الصحیح. د.ط. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ. حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أبو عبد الرحمٰن أحمد بن شعیب الخراساني. (۱۴۲۱ھ/۲۰۰۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق وتخریج: حسن عبد المنعم شلبي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

نور الدین، الہیثمي، علي بن أبي بکر بن سلیمان. (۱۳۹۹ھ/ ۱۹۷۹م). کشف الأستار عن زوائد البزار. ط۱. تحقیق: حبیب الرحمٰن الأعظمي. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

النووي، یحیٰی بن شرف، أبو زکریا. (۱۳۹۲ھ). المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج. ط۲. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

____________