انعام یافتہ لوگوں کی خصوصیات


اللہ تعالیٰ کی جو scheme ہے، اس کے مطابق انسانی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: مرنے سے پہلے کی زندگی، یہاں پر ہم نے کچھ کام کر کے اپنے آپ کو منتخب کروانا ہے۔ پھر مرنے کے بعد کی زندگی، جہاں پر ہم نے اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنی ہے ۔ پھر ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی تھی کہ اس ہمیشہ کی زندگی میں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو معیار رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ جن کی زندگی پاکیزہ ہو گی، وہ اس کے لیے منتخب کر دیے جائیں گے۔ [1]

اب وہ زندگی کیسے پاکیزہ ہو گی؟ اس کی پوری تفصیل بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب بھیجی ہے ۔ پھر ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کو تدبر کے ساتھ پڑھو اور یہاں موجود رہنمائی کو اپنی عملی زندگی میں adjust کرو۔[2] یہ کتاب انسانی زندگی کو پاکیزہ بنانے کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ان ساری ہدایات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا وہ تعلق جو اللہ سے ہے اور وہ تعلق جو اس کے بندوں سے ہے، وہ اپنی تمام شکلوں میں ہر طرح پاکیزہ ہو جائے۔ اس میں کسی قسم کی کوئی ایسی چیز شامل نہ ہو جو ہماری پاکیزگی کے خلاف ہو ۔ دوسرے ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو یوں تعبیر کیا ہے کہ یہ موت و حیات اسی لیے پیدا کی گئی تاکہ یہ دیکھا جائے کہ تم میں سے کون میرے پاس اچھا عمل کر کے آتا ہے[3] اور کون ہے جو اچھا کام کیے بغیر ہی میرے پاس چلا آیا ہے۔ جو اچھا عمل کر کے آئے گا، اس کو اس کے بدلے میں جنت مل جائے گی؛ اللہ کا انعام مل جائے گا، اور جو اچھائی اور پاکیزگی سے اپنی زندگی نہیں گزارے گا، وہ ناکام ہو جائے گا۔[4]

آج میں نے غور کے لیے سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات کا انتخاب کیا ہے۔

اس میں اللہ تعالیٰ نے ان پاکیزگی سے جینے والے لوگوں کی کچھ خوبیاں بیان کی ہیں جن کو وہ اپنی جنت اور اپنے انعام کے لیے منتخب کریں گے۔ دیکھنا چاہیے کہ یہ صلاحیتیں اور یہ خوبیاں ہمارے اندر پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں پائی جاتیں تو مرنے سے پہلے یہ موقع ہے کہ ہم اپنے اندریہ اوصاف پیدا کر لیں اور اگر پہلے سے یہ پائی جاتی ہیں تو ان میں مزید بہتری لائی جائے ۔ جتنا فرق رہ جاتا ہے تو اس کو دیکھ کر سیٹ کر لینا چاہیے ۔ یہ اوصاف درحقیقت پاکیزگی سے زندگی گزارنے والوں کے اوصاف ہیں۔ آیات ملاحظہ فرمائیں:

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ.(المومنون ۲۳: ۱) ''یقینی بات ہے کہ مومن کامیا ب ہو جائیں گے۔''

مومن ،یعنی زندگی کے مرنے کے بعد والے حصے سے متعلق تمام غیبی حقائق کو خدا کے بتانے پر مان جانے والے لوگ ہوں گے۔ ان حقائق کو شعور و یقین سے مان لینے کے بعد انسانی زندگی میں جو خصوصیات پیدا ہوں گی، ان میں سے چند اگلی آیات میں بیان کر دی گئی ہیں:

۱۔ 'الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ'،''جو اپنی نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کر رہے ہوں گے ''(المومنون۲۳: ۲)۔

۲۔ 'وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ'،''وہ فضولیات سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں گے'' (المومنون ۲۳ : ۳)۔

یعنی فضول کاموں میں خود بھی مشغول نہیں ہوں گے اور اگر کوئی مشغول ہے تو اس میں بھی یہ دل چسپی نہیں لیں گے ۔

۳۔ 'وَالَّذِيْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ'، ''اور اگر ان کے پاس مال و دولت ہے تو وہ زکوٰۃ کی صورت میں اسے لوگوں پر لازماً خرچ کریں گے''(المومنون۲۳: ۴ )۔

وہ زکوٰۃ کو اپنا مال نہیں، بلکہ غربا کے لیے اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا حصہ یقین کریں گے۔ خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل نہیں کریں گے۔

۴۔'وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ. اِلَّا عَلٰ٘ي اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ. فَمَنِ ابْتَغٰي وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ' (المومنون ۲۳: ۵- ۷)۔

اور وہ خصوصیت کے ساتھ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں ۔نکاح سے پہلے وہ جنسی تعلقات سے ہرطرح اجتناب کرتے ہیں۔ نکاح سے پہلے جو لوگ جنسی روابط قائم کرتے ہیں، ایسے لوگ خدا کے قانون میں سرکش و باغی شمار کیے جائیں گے۔خدا کے سرکش و باغیوں کو ''فاسق و فاجر'' کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی پاکیزہ زندگی گزارنے والے لوگ اپنی بیویوں کے سوا عورتوں میں دل چسپی نہیں رکھتے۔ پہلے زمانے میں آپ کو معلوم ہے کہ باندیاں بھی ہوا کرتی تھیں، دین میں ان سے جنسی مقاربت کو بدکاری شمار نہیں کیا گیا۔ فرمایا کہ اگر باندیوں کے ساتھ بھی وہ اس قسم کا رشتہ رکھنا چاہیں گے تو اس میں بھی ان کے لیے کوئی ملامت نہیں ہو گی۔ خصوصیت سے اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ جو لوگ اس جائز قرار دی گئی راہ کو چھوڑ کر مزید کوئی اور غلط راہ اختیار کرنے کی کوشش کریں گے اور شرم گاہوں کے معاملے میں وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی حدود سے متجاوز ہو جائیں گے، تو یہ لوگ خدا کے باغی و سرکش ہوں گے ۔ اورکل ان کا انجام ٹھیک نہیں ہو گا۔

۵۔'وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ. وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ. اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ' (المومنون ۲۳: ۸- ۱۰)۔

اور اگلی خوبی یہ بتائی گئی کہ وہ عہد و امانتوں کا پاس رکھنے والے ہوں گے۔ اگر کوئی بندہ ان کے پاس امانت رکھ کر چلا جائے تو اسے بے خوف ہو جانا چاہیے، اس لیے کہ وہ اس میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں کریں گے۔ کسی کاقرض دینا ہے یا کسی سے کوئی قول و قرار کر لیا ہے، تو اس میں کبھی بھی جھوٹ و بد دیانتی کی راہ نہیں اپنائیں گے ۔ یہ اپنے قول کے پکے اور امانتوں کا خصوصیت سے خیال رکھنے والے ہوں گے۔ امانت کے وسیع مفہوم میں ہمارا پورا وجود اور اس کی صلاحیتیں خدا کی امانتیں ہی ہیں۔ وہ ان امانتوں کو بھی خیانت کر کے غلط استعمال نہیں کریں گے ۔

سورہ کے شروع میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ یہ کہا گیا کہ ''مومن کامیاب ہوں گے''۔ ساتھ ہی ان کی یہ خوبی بتائی گئی کہ ''وہ نماز میں عاجزی کا اظہار کرنے والے ہوں گے''۔ اب ان اوصاف کے بیان میں آخر میں پھر بتایا گیا کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت بھی کرتے رہیں گے۔ یعنی نماز میں اپنے مالک کے حضور عاجزانہ بندگی کا اظہارایک آدھ بارکا قصہ نہیں ہو گا، بلکہ یہ ان کی زندگی کا مستقل وصف ہو گا۔ نماز، ایمان کی علامت کے طور پر مومن کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہو گا۔وہ عمر بھراپنی زندگی کی طرح نماز کی بھی حفاظت کرتے رہیں گے۔ مومن کی زندگی کو نماز والی زندگی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

اِن آیات کے آخر میں اِن اوصاف کے حامل لوگوں کے انجام کی خبر خدا نے یوں دی کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا کا بڑا انعام، یعنی جنت میراث میں دے دی جائے گی۔وہ اپنی اس میراث کے تنہا مالک ہوں گے۔ وہ اپنی اس میراث سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے۔

ان دس آیات میں پہلی آیت میں بتایا گیا کہ مومن کامیاب ہوں گے اور دسویں آیت میں بتایا گیا کہ اس کامیابی میں انھیں خدا کا بڑا انعام جنت کی صورت میں ملے گا، جہاں ان کی ہر خواہش ان کی خواہشوں میں تول کر پوری کر دی جائے گی۔ درمیان میں یہ جو آٹھ آیات ہیں، ان میں یہ بتایا گیا کہ جنت کے لیے منتخب ہونے والے ان خوش نصیبوں کی بڑی بڑی خوبیاں یہ ہوں گی ۔ہم میں سے جس جس میں یہ اوصاف نہیں ہیں تو یہ سخت تشویش و فکر مندی کی بات ہے۔ مرنے سے پہلے اپنے میں یہ اوصاف پیدا کرنا ہر ذمہ داری سے بڑی ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری کو ادا کیے بغیر جنت کی اہلیت کا موقع ضائع ہو سکتا ہے۔ ان اہم مومنانہ اوصاف پر گہرائی سے تدبر کی ہم سب کو بہت ضرورت ہے۔

_________

[1]۔الاعلیٰ۸۷: ۱۴ ۔ 'قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰي'۔

[2]۔ص۳۸: ۲۹ ۔ 'كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْ٘ا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ'۔

[3]۔الملک ۶۷: ۲۔ 'الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ'۔

[4]۔طہٰ ٰ۲۰: ۷۴- ۷۶ ۔ 'اِنَّهٗ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي. وَمَنْ يَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي. جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰي'۔

____________