اسلام اور مصوری جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر۔ (3)


احادیث اور مصوری کی شناعت

قرآن مجید اور بائیبل کی طرح احادیث میں بھی مصوری کی شناعت شرک ہی کے پہلو سے بیان ہوئی ہے۔ ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکانہ مراسم سے وابستہ مجسموں اور تصویروں کو شنیع قرار دیا، انھیں گھروں میں آویزاں کرنے اور اللہ کی عبادت گاہوں میں رکھنے سے منع فرمایا اور ان کے بنانے والے مصوروں کواخروی عذاب سے خبردار کیا۔حدیث کی کتابوں میں ان موضوعات پر کثرت سے روایتیں نقل ہوئی ہیں۔ ان روایتوں میں تماثیل کی شناعت تو نہایت صراحت سے بیان ہوئی ہے، مگر اس کا مشرکانہ عوارض سے تعلق مذکور نہیں ہے۔ اس وجہ سے بادی النظر میں یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ یہ روایتیں مصوری کو علی الاطلاق شنیع قرار دے رہی ہیں، مگراس موضوع کی تمام روایتوں کو سامنے رکھنے سے یہ حقیقت بادنیٰ تامل واضح ہوجاتی ہے کہ ان میں تماثیل و تصاویرکی نہیں، بلکہ سرتاسر مشرکانہ مراسم کی شناعت بیان ہوئی ہے ۔ شرک کی علت کے ان میں مذکور نہ ہونے کا سبب ہمارے نزدیک تماثیل اور شرک کے باہمی تعلق کا معلوم و معروف ہونا ہے۔تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے زمانے میں شرک اورمصوری بہت حد تک لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر گئے تھے اور تماثیل کا مظاہر شرک سے متعلق ہونا ہر شخص پر آشکار تھا۔

ذیل میں مصوری کی شناعت کے موضوع پر نمائندہ احادیث نقل کی گئی ہیں اور دیگر روایات، عربی لغات اور تاریخی ماخذ کی روشنی میں ان کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان تمام روایتوں میں تماثیل کی شناعت شرک ہی کے پہلو سے بیان ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے ان کی نوعیت ایک ہی سلسلۂ بیان کے متصل اجزا کی ہے،تاہم تفہیم مدعا کے لیے یہ مناسب ہے کہ انھیں الگ الگ عنوانات کے تحت بیان کیا جائے۔

تماثیل اور تصاویر والے گھر سے فرشتوں کی کراہت

۱۔ عن ابی طلحۃ الانصاری قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: لا تدخل الملائکۃ بیتاً فیہ کلب ولا تماثیل .(مسلم ،رقم۲۱۰۶)

۲۔ عن ابی طلحۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا تدخل الملائکۃ بیتاً فیہ کلب ولا تصاویر. (بخاری، رقم۵۶۰۵)

۳۔ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ تماثیل او تصاویر. (مسلم، رقم۲۱۱۲)

۴۔ عن عائشۃ قالت: قال (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم): ان البیت الذی فیہ الصور لا تدخلہ الملائکۃ. (بخاری،رقم۴۸۸۶)

۱۔ ''ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور''تماثیل'' ہوں۔''

۲۔ ''ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور ''تصاویر'' ہوں۔''

۳۔ ''ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں ''تماثیل'' یا'' تصاویر'' ہوں۔''

۴۔ ''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس گھر میں مورتیں ہوں، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔''

ان روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل ہوا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں 'تماثیل' ہوں، ' تصاویر' ہوںیا ' صور' ہوں۔ان روایتوں کا مدعا سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ الفاظ کا مفہوم متعین کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کا اطلاق کن چیزوں پر ہوتا تھا۔

'تماثیل ' 'تمثال 'کی جمع ہے۔اس کے معنی مورت کے ہیں۔یعنی ایسی چیزجوکسی اصل کے مانند بنی ہوئی ہو۔ اس سے مراد وہ اشیا ہیں جو اللہ کی کسی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہوں۔

والتمثال: الصورۃ، والجمع التماثیل.ومثل لہ الشیء: صورہ حتی کانہ ینظر الیہ. وامتثلہ ھو:تصورہ... والتمثال: اسم للشیء المصنوع مشبہابخلق من خلق اللّٰہ، وجمعہ التماثیل، واصلہ من مثلت الشیء بالشیء.(لسان العرب۱۱/ ۶۱۳)

'''تمثال' کے معنی مورت کے ہیں۔ اس کی جمع 'تماثیل' ہے۔ 'ومثل لہ الشیء'کے معنی ہیں: کسی چیز کی اس طرح مورت بنانا کہ گویا کہ خود اسے دیکھا جائے۔ 'امتثلہ ھو' کا معنی ہے: وہ اس کی صورت ذہن میں لایا... 'التمثال' ایسی چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو اللہ کی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے مشابہ بنائی گئی ہو۔اس کی جمع 'تماثیل' ہے۔ اس کی اصل ' مثلت الشیء بالشیء' یعنی کسی چیز کو کسی چیز کے مثل بنانا ہے۔''

'تصاویر''تصویرۃ' کی جمع ہے۔ اس کے معنی تماثیل ہی کے ہیں۔ یعنی وہ اشیا جو اللہ کی کسی مخلوق کے مشابہ بنائی گئی ہوں۔

والتصاویر: التماثیل.(لسان العرب۴/ ۴۷۳)

''تصاویر سے مراد تماثیل ہیں ۔''

'صور، 'صورۃ' کی جمع ہے۔ اس کے معنی شکل اور مورت کے ہیں۔

ان لغات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ'تصاویر' ، ' تماثیل' اور 'صور' ہم معنی الفاظ ہیں اور ان سے مرادوہ اشیا ہیں جو اللہ کی کسی تخلیق کے مشابہ بنائی گئی ہوں۔اس بنا پر ان کا اطلاق حسب ذیل چیزوں پر ہوتا ہے:

۱۔ لکڑی، دھات، مٹی اور پتھر سے تراشے ہوئے مختلف مخلوقات کے مجسمے۔

۲۔ لکڑی، دھات، یا پتھر پر کندہ کی ہوئی مختلف مخلوقات کی شبیہیں۔

۳۔ کپڑے اور چمڑے وغیرہ پر مرتسم مختلف مخلوقات کے نقوش۔

۴۔ دروازوں اور دیواروں پر رنگ و روغن سے بنائی ہوئی مختلف مخلوقات کی تصویریں۔ ۷؂

' تصاویر' ، 'تماثیل'اور ' صور'کے الفاظ کا مفہوم جاننے کے بعد اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کا اطلاق کس نوعیت کی شبیہوں پر ہوتا تھا۔ اس ضمن میں احادیث اور تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان سے مراد کچھ خاص مجسمے اور ان کی شبیہیں اور تصویریں ہیں ۔ یہ مجسمے لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنے ہوئے تھے اورعرب کے مختلف مقامات پر نصب تھے۔مشرکین عرب انھی کی ہیئت پربنے ہوئے بت اپنے صحنوں اور حجروں میں رکھتے، انھی کے نقوش ستونوں پر کندہ کرتے، انھی کی شبیہوں سے دیواروں کو رنگین کرتے اور انھی کے خاکوں اور تصویروں والے پردے طاقوں اور دروازوں پر آویزاں کرتے تھے۔ ۸؂ یہ تماثیل شہر مکہ کے بیش تر گھروں میں موجود تھیں اور اہل بادیہ بھی اپنے گھروں کو ان سے مزین کرتے تھے:

ولم یکن فی قریش رجل بمکۃ الا وفی بیتہ صنم،... فیشتریہا اہل البدو فیخرجون بہا الی بیوتہم.(اخبار مکہ، الازرقی ۱/ ۱۲۲)

''مکہ میں قریش کا کوئی ایسا آدمی نہیں تھا جس کے گھر میں صنم (مجسمہ) موجود نہ ہو... بدو (خانہ بدوش بھی) ان کو خریدتے تھے اور اپنے گھروں میں لے جاتے تھے۔''

گھروں میں موجود یہ تماثیل درحقیقت مختلف دیویوں اور دیوتاؤں سے منسوب اور لات، منات، عزیٰ، ہبل، اساف، نائلہ، یعوق، یغوث،سواع اور نسر وغیرہ کے ناموں سے موسوم تھیں۔ قرآن و حدیث میں ان میں سے بعض کے اسماے علم بھی درج ہیں، مگر من حیث المجموع ان کے لیے 'اوثان'، ۹؂ 'اصنام'، ۱۰؂ 'الدمیٰ' ۱۱؂ اور 'انداد' ۱۲؂ وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

قرآن مجید، احادیث اور تاریخ کی کتابوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عربوں نے ان تماثیل اور ان کے پس منظر کی مزعومہ ذوات اور شخصیات کے ساتھ مشرکانہ تصورات وابستہ کر رکھے تھے۔ وہ اللہ کو الہٰ مانتے تھے، مگر اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں انھیں شریک اور ساجھی سمجھتے تھے۔ ۱۳؂ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ان کے لیے 'مشرکین' کا لفظ اسم علم اور اسم صفت کے طور پر اختیار کیا ہے۔ یعنی یہ مذہب ان کے اندر اس قدر رچا بسا ہوا تھا کہ ان کے لیے نام ہی مشرکین کا اختیار کر لیا گیا۔شرک ان کے ایمانیات کا حصہ تھا اور مشرکانہ مظاہر ملائکہ ، جنات، کواکب اور بزرگوں کی پرستش کی صورت میں نمایاں ہوتے تھے۔ انھی کے تقرب اور عبادت کے لیے انھوں نے تماثیل بنا رکھی تھیں۔لکڑی، پتھر اور دھات سے بنی ہوئی ان تماثیل کی حیثیت اگرچہ فرشتوں، جنوں اور انسانوں کے مسکنوں اور قالبوں ہی کی تصور کی جاتی تھی ،مگر عملاً یہ بے جان مجسمے اور مورتیں ہی معبود اصلی قرار پاتے تھے۔ مشرکین عرب نے ان تماثیل اور ان کے پس منظر کی ذوات کے بارے میں جو مشرکانہ تصورات قائم کر رکھے تھے ،ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:

آخرت میں شفاعت

مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں تصور کرتے تھے اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اپنی پرستش کرنے والوں کی بخشش کا سامان کریں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی ان چہیتیوں کی بات ہر گز رد نہیں فرمائیں گے۔ لات، منات اور عزیٰ کو وہ فرشتوں میں سے بلند مرتبہ دیویاں سمجھ کر ان کی تماثیل کی پرستش کرتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ آخرت میں لازماً ان کی شفاعت کا وسیلہ بنیں گی۔ ۱۴؂

تقرب الٰہی

ان تماثیل کووہ قرب الٰہی کاذریعہ سمجھتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ اللہ کی قربت انھیں کسی واسطے کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ وہ فرشتوں، جنوں اور انسانوں کی تماثیل کی عبادت اس امید پر کرتے تھے کہ وہ انھیں خدا کے تقرب سے بہرہ یاب کر دیں گی۔ ۱۵؂

روزی کا سامان

مشرکین عرب رزق دینے کے معاملے میں بھی تماثیل کو اللہ کی شریک تصور کرتے تھے۔ وہ یہ تو مانتے تھے کہ آسمان سے اللہ ہی پانی اتارتا ہے اور وہی زمین کی زرخیزی اور شادابی کا سامان کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ وہ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ انھیں روزی دینے میں ان تماثیل کا فضل و کرم بھی شامل ہے۔ ۱۶؂

تماثیل سے اللّٰہ جیسی محبت

ان افضال و عنایات کی بنا پر جو مشرکین عرب نے دنیا اور آخرت کے حوالے سے تماثیل سے منسوب کر رکھی تھیں، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے تھے جس کا حق دار صرف اور صرف اللہ ہے۔ ۱۷؂

نفع و ضرر

مشرکین عرب ان تماثیل کو اللہ ہی کی طرح نافع و ضار سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ دنیا اور آخرت، دونوں میں انسانوں کے لیے نفع و نقصان کا اختیار رکھتی ہیں۔ چنانچہ یہ اگر کسی کو جائز و ناجائز فائدہ پہنچانا چاہیں گی تو انھیں کوئی منع نہیں کر سکے گا اور کسی کا نقصان کرنا چاہیں گی تو انھیں کوئی روک نہیں سکے گا۔ ۱۸؂

اللّٰہ کی الوہیت میں شرکت

ان تماثیل کے بارے میں مشرکین عرب کا یہ تصور تھا کہ ان میں موجود فرشتے اور دوسری مخلوقات الوہیت میں اللہ کی شریک ہیں ۔ اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے ارشاد فرمایا :

'' کہہ دو اگر کچھ اور الہٰ بھی اس کے شریک ہوتے جیسے یہ دعویٰ کرتے ہیں تو وہ عرش والے پر ضرور چڑھائی کر دیتے۔'' ۱۹ ؂

خدا کی اولاد

مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے صاحب اولاد ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اللہ کے فیصلوں پر ان کے تصرفات کو تسلیم کرتے تھے۔قرآن نے ان کے اسی تصورپر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:''یہ کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔'' ۲۰؂

یہ وہ تصورات ہیں جو مشرکین عرب نے ان تماثیل سے وابستہ کر رکھے تھے۔ ان تصورات کی بنا پر جو مشرکانہ مراسم انھوں نے اختیار کر رکھے تھے، ان میں سے چند نمایاں حسب ذیل ہیں :

تماثیل کے لیے قربانی

مشرکین عرب ان تماثیل کے لیے اسی طرح قربانی پیش کرتے جس طرح اللہ کے لیے پیش کرتے تھے۔اساف اور نائلہ قریش کے بت تھے۔ اساف صفا میں نصب تھا اور نائلہ مروہ میں۔۲۱؂ قریش کعبہ کے سامنے ان کے لیے قربانی کیا کرتے تھے۔ ۲۲؂ عزیٰ بھی ایک بڑا بت تھا۔ یہ طائف میں نصب تھا۔ خالدبن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اونٹ اور بھیڑ بکریاں اس کے پاس لے کر جاتے اور اس کے سامنے انھیں ذبح کرتے تھے اور تین دن تک وہاں قیام کرتے تھے۔ ۲۳؂

تماثیل کے لیے تلبیہ

حج و عمرے کے موقع پر اہل جاہلیت تلبیہ ۲۴؂ کے کلمات میں ان تماثیل کو اللہ کا شریک گردانتے تھے ۔ ۲۵؂ تلبیہ کے الفاظ اس طرح ہوتے تھے :

' لبیک اللہم لبیک، لا شریک لک ، الا شریک ہو لک. تملکہ وما ملک'۔

''اے میرے خدا، میں حاضر ہوں تیرے لیے، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرے اختیار میں ہے تو ان کا بھی مالک ہے اور ان چیزوں کا بھی جو تیرے اختیار میں ہیں ۔ ''(المفصل فی تاریخ العرب ، جواد علی ۶/ ۱۰۵)

قبائل چونکہ اپنے اپنے مختلف بت رکھتے تھے ،اس لیے ان کا تلبیہ بھی الگ الگ ہوتا تھا۔ مختلف قبائل جب حج کے لیے بیت اللہ کا رخ کرتے تو ہر قبیلہ اپنے بت کے پاس ٹھہرتا ، وہاں نماز پڑھتا اور تلبیہ پڑھتا اور پھر مکہ کی طرف بڑھتا۔۲۶؂

تماثیل سے استعانت

لوگ ان تماثیل کے بارے میں یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ ا ن کے قبیلوں کی نگہبان ہیں۔ یہ ان کا دفاع کرتی ہیں اور جب ان سے مدد طلب کی جاتی ہے تو بھر پور مدد کرتی ہیں۔ ۲۷؂ وہ سمجھتے تھے کہ یہ تماثیل ان پر احسان کرتی ہیں۔ صحت، عافیت، مال، اولاد میں سے جو چیز بھی وہ ان سے مانگیں، وہ انھیں عطا کرتی ہیں۔ ۲۸؂ ہبل قریش کی تماثیل میں سے سب سے بلندمرتبہ تھی ۔ وہ اس سے پناہ چاہتے اورالتجا کرتے کہ وہ ان کے لیے خیرو برکت کاسامان کرے اور ہر قسم کی تکلیف اور شر سے ان کو محفوظ رکھے۔۲۹؂

عربوں کا یہ عام طریقہ تھا کہ وہ جنگوں کے موقع پر تماثیل اور ان کی علامتوں اور یاد گاروں کو اپنے ہم راہ رکھتے تھے۔ اس سے ان کا مقصود یہ ہوتا کہ یہ جنگ میں فتح و کامرانی کے لیے ان کی ہر طریقے سے مدد کریں گی۔چنانچہ ان کی یہ معروف رسم تھی کہ جب وہ جنگ کے لیے نکلتے تو مختلف اصنام کے عارضی خیموں اور مکانوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ لات کا ایک خیمہ تھا ۔ لوگ اسے جنگ میں اپنے ساتھ رکھتے اور میدان جنگ میں پہنچ کر اسے لشکر کے سامنے نصب کر دیتے تھے ۔ اس سے لشکریوں کا حوصلہ بڑھانا مقصود ہوتا۔ منادی کرنے والے ان بتوں کے نام لے کر انھیں پکارتے تھے۔ ۳۰؂ جنگ احد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب واپس مڑنے کا اعلان کیا تو ابو سفیان نے بلند آواز میں کہا: ہبل بلند ہوا، ہبل بلند ہوا۔ اس پر آپ نے حضرت عمر سے کہا کہ تم کہو: اللہ بلند ہوا۔ ابو سفیان نے کہا: ہمارے پاس عزیٰ ہے، تمھارے پاس نہیں ہے۔ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سیدنا عمر نے کہا: ہمارا مولا اللہ ہے اور تمھارا مولا کوئی نہیں ہے۔ ۳۱؂

تماثیل کی پرستش

مشرکین عرب نے تمام عبادتوں میں اللہ کے ساتھ ان تماثیل کو بھی شریک کر رکھا تھا۔ وہ ان کے لیے نماز پڑھتے، روزہ رکھتے، ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور حج کے مختلف مراسم عبودیت میں انھیں اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سورج کی پرستش کرنے والوں نے ایک خاص معبد میں سورج کا بت بنا رکھا تھا اور سورج کے طلوع ، نصف النہار، اور غروب کے موقعوں پر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ ۳۲؂ مصیبت زدہ لوگ اس بت کے لیے روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے اور اس سے شفا طلب کرتے۔۳۳؂ اسی طرح اساف، نائلہ اور دیگر بتوں کے گرد طواف کرنے کی رسم عام تھی۔ ۳۴؂

تماثیل کی تعظیم و تقدیس

تماثیل کو چومنا، ان کے آگے جھکنا ، ان کے گرد طواف کرنا، یہ سب اعمال اہل عرب کے دینی شعائر میں سے تھے۔ وہ انھیں برکت کے لیے چھوتے اور ان کی تقدیس کے لیے ان پر چادریں چڑھاتے تھے۔ ۳۵؂ ان تماثیل کی وہ اسی طرح تعظیم و تقدیس کرتے تھے جس طرح بیت اللہ کی کرتے تھے اور بیت اللہ ہی کی طرح انھوں نے ان کے معبدوں پر بھی خدام مقرر کر رکھے تھے۔۳۶؂

تماثیل کے معبدوں پر نذر و نیاز

ان تماثیل کے معبدنذر و نیاز کا مرکز تھے۔یہ سنگ مرمر اور دوسرے قیمتی پتھروں سے بنے ہوتے تھے۔ انھیں نقش و نگار سے مزین کیا جاتا۔ ان معبدوں پر جا کر منتیں مانی جاتیں اورسونا، چاندی، اجناس اور دیگر اشیا کی نذریں پیش کی جاتیں ۔ ۳۷؂ اس نذر و نیاز کو وہ ان تماثیل کی طرف سے اس بنا پراپنے اوپر قرض سمجھتے کہ انھوں نے ان کی نصرت اور شفاعت کی ہے۔۳۸؂

مشرکانہ تصورات اور مراسم کی اس تفصیل سے یہ بات نہایت صراحت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ عربوں کے گھروں میں موجود جن تماثیل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شنیع قرار دیا ہے،وہ کوئی عام تماثیل نہیں تھیں، بلکہ ان اصنام کی تصاویر اور شبیہیں تھیں جنھیں حی و قیوم اور نافع و ضار سمجھ کر پوجا جاتا تھا ۔ یہ اگرچہ لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ جیسے بے جان عناصر سے بنی ہوئی تھیں، مگر مشرکین عرب انھیں فرشتوں اور انسانوں کے قالب تصور کرتے تھے اور ان کے اندر ان کی روحوں کے حلول ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ گویا یہ تماثیل ان کے نزدیک کوئی بے روح او ر مردہ اشیا نہیں تھیں، بلکہ روحوں کی حامل زندہ و بیدار مخلوقات تھیں۔ ایک روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مذکورہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہ ''جس گھر میں کتا ہو اور مورت ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے '' ۔ اس بات کو واضح کیا کہ یہاں 'صورۃ' سے مراد ''صورۃ التماثیل'' یعنی ان خاص تماثیل کی تصویریں ہیں، جن میں روحیں تصور کی جاتی ہیں:

اخبرنی ابو طلحۃ صاحب الرسول وکان قد شھد بدرا معہ انہ قال (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ یرید صورۃ التماثیل التی فیھا الارواح.( بخاری ، رقم ۳۷۸۰)

''مجھے ابو طلحہ نے خبر دی جو نبی کے صحابی اور جنگ بدر میں آپ کے ساتھ شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا مورت ہو، ان کے نزدیک اس سے مراد ان تماثیل کی مورت ہے جن میں روحیں پائی جاتی تھیں۔ ''

مسند احمد کی ایک روایت میں اس مفہوم کو 'صورۃ روح' یعنی ''روح والی تصویر'' کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ الفاظ بھی اسی بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تماثیل اور تصاویر کو گھروں میں رکھنے سے منع فرمایا، وہ عام تصویریں نہیں، بلکہ روحوں کے تصور والی تصویریں تھیں۔ روایت یہ ہے:

عن نجی ... قال علی ... قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ... قال جبریل ... انھا ثلاث لن یلج ملک (دارا) ما دام فیھا ابداً واحد منھا کلب او جنابۃ او صورۃ روح.( رقم ۶۴۸)

''نجی رحمہ اللہ سے روایت ہے ...علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبریل فرماتے ہیں کہ ... تین چیزیں جب تک کسی گھر میں رہتی ہیں تو فرشتہ اُس (گھر ) میں کبھی نہیں جاتا۔ ان تین میں سے ایک کتا ہے ، دوسری چیز جنبی آدمی اور تیسری چیز روح کی تصویر ہے۔''

اللہ کی صفت تخلیق کی نقل کرنے کی شناعت

عن ابی زرعۃ قال دخلت مع ابی ھریرۃ فی دار مروان فرای فیھا تصاویر فقال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول قال اللّٰہ عزوجل ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی. فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ. (مسلم ، رقم ۲۱۱۱)

''ابو زرعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک روز) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر میں داخل ہوا ۔ انھوں نے اس میں تصاویر دیکھیں تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعا لیٰ فرماتے ہیں: اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میرے مخلوق بنانے کی طرح مخلوق بنانے نکل کھڑا ہوا۔ (ایسی جسارت کرنے والوں کو چاہیے کہ) وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیںیا گندم یا جو کا ایک دانہ ہی تخلیق کر کے دکھا دیں۔''

اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد بیان فرمایا ہے۔اس ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ وہ شخص نہایت درجہ ظالم ہے جو اللہ کی طرح وصف تخلیق کا حامل ہونے کے زعم میں مبتلا ہواور اس بنا پر اس کی مخلوقات جیسی مخلوقات بنانے کی کوشش کرے۔ فرشتوں، جنوں اور انسانوں جیسی ارفع و اعلیٰ مخلوقات توکجا، کسی کے لیے مٹی کا معمولی ذرہ بھی تخلیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی اس زعم میں مبتلا ہے تو اس کو چیلنج ہے کہ وہ مٹی کا ایک ذرہ یا اناج کا ایک دانہ مثلاً جو ہی بنا کر دکھا دے۔

اس روایت سے یہ حکم ماخوذ ہوتا ہے کہ 'یخلق خلقا کخلقی ' یعنی ''اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانا'' نہایت شنیع عمل ہے۔ جو شخص یہ کام کرے گا، وہ ایک حرام کا ارتکاب کرے گا۔ ۳۹؂

اس حکم کے اطلاق کو سمجھنے کے لیے دو باتوں کا جاننا ضروری ہے : ایک یہ کہ ''خلق'' کا اطلاق کن چیزوں پر ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ ''اللہ کی مخلوق بنانے'' کے کیا معنی ہیں؟

لفظ 'خلق' کا اطلاق ملائکہ، انسان، جن اور جمادات و نباتات کی صورت میں کا ئنات کی ہر اس جان دار اور بے جان مخلوق پر ہوتاہے جسے عدم سے وجود میں لایا گیا ہے ۔ ۴۰؂ '' اللہ کے مخلوق بنانے'' سے مراد یہ ہے کہ ان مخلوقات کا خالق اللہ پروردگار عالم ہی ہے۔چنانچہ تخلیق اسی کا وصف ہے اور زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے احاطۂ تخلیق سے باہر نہیں ہے۔

اس بنا پر ''اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے'' کے معنی مخلوقات الٰہی مثلاً جن و ملائک، انسان و حیوان اور شجرو حجر میں سے کسی مخلوق کے مانند مخلوق بنانا ہی قرار پائیں گے۔چنانچہ ان میں سے مثال کے طور پر مخلوق انسان کے مانند مخلوق بنانے سے مراد یہ ہو گا کہ ایک ایسا وجود بنایا جائے:

جس کے خط و خال انسانی ہوں،

جو جذبات و احساسات کا مرقع ہو،

جو صاحب ارادہ و اختیار ہو،

جو دیکھنے ،سننے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا ہو،

جو باشعور اور عاقل و بالغ ہو،

جس کے اندر انسان ہی کی طرح روح موجود ہو۔

اس توضیح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ'' اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے'' سے مراد جن و ملائک، انسان و حیوان اور شجر و حجر میں سے کسی مخلوق کا محض پیکر تراشنا، عکس اتارنا یا شبیہ بنانا نہیں ہے، بلکہ اس کو اس کے تمام خلقی اوصاف سمیت تخلیق کرنا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص کسی انسان کی تصویر بناتا ہے تو محض اس کے تصویر بنانے کی بنا پر یہ نہیں کہا جائے گا کہ ''یخلق خلقا کخلقی'' کے مصداق اس نے اللہ جیسی مخلوق بنانے کی جسارت کی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ''یخلق خلقا کخلقی'' کے الفاظ کا اطلاق محض شبیہ، تصویر یا مجسمہ بنانے پر نہیں ہوتا تو پھر وہ کون سا عمل ہے جسے مذکورہ حدیث میں''اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے'' سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے جب تاریخ سے رجوع کیا جاتا ہے تو یہ بات نہایت صراحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے کہ اہل عرب مختلف تصویروں اور مجسموں کو بے روح وجودکی حیثیت سے نہیں بناتے تھے، بلکہ اپنی دانست میں سرتاسر زندہ وجود کے طور پر تخلیق کرتے تھے۔

تماثیل کے بارے میں عربوں کا یہ تصور تھا کہ ان میں انسانوں ، فرشتوں اور جنوں کی روحیں حلول کی ہوئی ہیں، اس وجہ سے یہ زندہ اور ذی شعور وجود ہیں۔یہ عقل رکھتے، کھاتے پیتے، دیکھتے، بولتے، سنتے اور سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:

کانوا یتصورون أن لہا روحا وأنہا تسمع وتجیب. ومن الجائز حلول الروح فی الجماد.وقد ورد عن (ابن الکلبی) عن (مالک بن حارثۃ) أن والد مالک ہذا کان یعطیہ اللبن، ویکلفہ بأن یذہب بہ الی الصنم ود لیسقیہ...کان یری أن الصنم یعقل ویدرک، یسمع ویری، وانہ وان کان من حجر، الا انہ ذو روح .(المفصل فی تاریخ العرب ، جواد علی ۶/ ۱۴۱)

''ان (عربوں)کے ہاں یہ تصور موجود تھا کہ ان (تماثیل)میں روحیں ہوتی ہیں جو سنتی اور جواب دیتی ہیں اور یہ کہ روح کا پتھر میں حلول کرنا بالکل ممکن ہے۔مالک بن حارثہ کی روایت ہے کہ ان کے والد ان کو دودھ دیا کرتے اور کہتے کہ یہ دودھ '' ود'' صنم کے پاس لے جائیں تاکہ اسے پلا دیں ۔ ...گویا وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صنم عقل و شعور رکھتا ہے ، سنتا اور دیکھتا ہے اور پتھر کا ہونے کے باوجود ذی روح ہے۔''

لات ، منات اور عزیٰ فرشتوں کے مجسمے تھے ۔ انھیں اپنے ہاتھوں سے تراش کر انھوں نے ان کے بارے میں یہ تصور قائم کر لیا تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور زندہ و بیدار ہیں ۔ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر انسانوں کی تماثیل تھیں ، ان کے بارے میں تصور یہ تھا کہ زمانۂ قابیل کے رجال کی روحیں ان میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ ۴۱؂ اسی طرح انھوں نے جنوں کے بت بھی تراش رکھے تھے اور وہ ان میں جنوں کو زندہ اور موجود سمجھتے تھے۔ ۴۲؂ تماثیل میں روحوں کے وجود کا عقیدہ لوگوں کے ہاں اس قدر راسخ تھا کہ فتح مکہ کے بعد جب انھیں توڑا جانے لگا تو اس عمل میں شریک بعض لوگ اس خوف میں مبتلا ہوگئے کہ ان کے اندر سے روحیں اور جن باہر نکل کر انھیں ہلاک کر دیں گے۔ ڈاکٹر جواد علی ''المفصل فی تاریخ العرب قبل الالسلام'' میں لکھتے ہیں:

والخوف من ہذہ الأرواح او الجنۃ التی کانت تقیم فی أجواف الأصنام علی رأی الجاہلین، حمل بعض من عہد الیہم تحطیم تلک الأصنام علی التہیب من الاقدام علی مثل ذلک العمل خشیۃ ظہورہا وفتکہا بمن تجاسر علیہا وہذا الخوف ہو الذی أوحی الیہم .( ۶/ ۶۹)

''عربوں کے اس عقیدے کی بنا پر کہ بتوں کے اندر ارواح اور جنات پائے جاتے ہیں اور اگر ان بتوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو وہ ارواح اور جنات باہر نکل کر توڑنے والے کو ہلاک کر دیں گے (فتح مکہ کے موقع پر) بعض (کمزور ایمان والے) ایسے لوگ جو بت توڑنے والوں میں شامل تھے ، ڈر گئے۔''

یہ معاملہ یہیں تک محدود نہیں تھا کہ چند خاص تماثیل تھیں جو عرب میں مختلف مقامات پر نصب تھیں، بلکہ اس سے بہت آگے بڑھ کرصورت حال یہ تھی کہ ان کے پجاری جب چاہتے انھی کی صورت پرلکڑی، مٹی ،پتھر اوردھات سے تماثیل اور تصاویر بنا کر انھیں انسانوں ، فرشتوں اور جنوں کی روحوں کا مسکن بنا لیتے تھے۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل عرب ان تماثیل اور تصویروں کو تشکیل دے کر درحقیقت انسانوں، فرشتوں اور جنوں جیسی زندہ مخلوقات کو تخلیق کرنے کے زعم میں مبتلا ہو گئے تھے اور اس طرح اپنے تئیں اللہ کی تخلیق جیسی تخلیق کرنے کی جسارت کر رہے تھے ۔ یہ ظاہر ہے کہ نہایت سنگین جرم تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس پر وعید فرمائی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی شناعت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت میں ایسی تخلیق کرنے والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ انھیں زندہ کر کے دکھائیں:

فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اصحاب ھذہ الصور یعذبون ویقال لھم احیوا ما خلقتم. (مسلم ، رقم ۲۱۰۷)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان مورتوں والوں کو (آخرت میں) عذاب دیا جائے گااور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے تخلیق کیا ہے اسے زندہ کرو۔''

قرآن مجید نے ان مشرکین عرب کو مخاطب کر کے نہایت صراحت سے اس بات کو واضح کیا کہ تخلیق صرف اللہ ہی کا کام ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ چنانچہ تخلیق کی صلاحیت تم تو کیا، تمھارے وہ معبود بھی نہیں رکھتے جنھیں تم اپنے لیے کارساز اور نافع و ضار سمجھتے ہو:

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قُلِ اللّٰہُ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآءَ لَایَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِھِمْ نَفْعًا وَّلاَ ضَرًّا قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ خَلَقُوْا کَخَلْقِہٖ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْھِمْ قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ءٍ وَّھُوَ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ.(الرعد ۱۳: ۱۶)

'' ان (مشرکین )سے پوچھو، آسمانوں اور زمین کا مالک کون ہے؟ کہہ دو، اللہ! ان سے پوچھو تو کیا اس کے بعد تم نے اس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع پر کوئی اختیار رکھتے اور نہ کسی ضرر پر۔ ان سے پوچھو ، کیا اندھے اور بینا دونوں یکساں ہو جائیں گے! یا کیا روشنی اور تاریکی دونوں برابر ہو جائیں گی! کیا انھوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنھوں نے اس کی طرح خلق کیا ہے جس کے سبب سے ان کو خلق میں اشتباہ لاحق ہو گیا ہے! بتا دو کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ واحد اور سب پر حاوی ہے۔''

مصوروں پر لعنت اور ان کے لیے عذاب کی وعید

۱۔ عن وھب بن عبد اللّٰہ قال ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعن المصور. (بخاری، رقم ۲۰۸۶)

۲۔ قال عبد اللّٰہ سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ان اشد الناس عذابا یوم القیامۃ المصورون. (مسلم ، رقم ۲۱۰۹)

۳۔عن عبد اللّٰہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال اشد الناس عذابا یوم القیامۃ رجل قتلہ نبی او قتل نبیا وامام ضلالۃ وممثل من الممثلین. (مسنداحمد، رقم ۳۸۶۸)

۱۔ ''وہب بن عبداللہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصور پر لعنت فرمائی ہے۔''

۲۔ ''عبداللہ کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک، قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں گرفتار ہونے والے مصورہوں گے ۔ ''

۳۔ ''عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو دیا جائے گا جس کو نبی نے قتل کیا یا جس نے نبی کو قتل کیا اور گمراہی کے امام کواور 'ممثلین' میں سے کسی 'ممثل' کو۔''

یہ ایک ہی موضوع کی مختلف روایتیں ہیں۔ ان میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصوروں کو ملعون قرار دیا ہے اور قیامت کے روز ان کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔'مصور' اور 'ممثل' 'صور' اور' مثل' سے اسماے فاعل ہیں۔یہ ہم معنی الفاظ ہیں ۴۳؂ اور تصاویر اور تماثیل بنانے والوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان سے مراد وہ صناع ہیں جواپنی کاری گری سے اللہ کی مخلوقات کی مشابہت میں ۴۴؂ مٹی، پتھر، لکڑی، دھات ،اور رنگ و روغن وغیرہ سے مجسمے، شبیہیں،خاکے، نقوش اور تصویریں بناتے ہیں۔ بعثت نبوی کے زمانے میں تصویر کشی اور مجسمہ سازی کوکسب اور پیشے کی حیثیت حاصل تھی۔عرب میں ان فنون کے ماہرین کا ایک خاص طبقہ موجود تھا جو سنگ تراشی، کندہ کاری،نقاشی، خطاطی اور تصویر کشی کی صنعتوں کے ذریعے سے اپنے لیے سامان معیشت فراہم کرتا تھا :

بعض اہل مکۃ وسائر مواضع الحجاز الأخری، کانوا یضعون الصور والتماثیل فی بیوتہم، وان من الناس کانت تصور وتتعیش من بیع الصور، وأن طائفۃ أخری کانت تنحت وتعمل التماثیل، وأن طائفۃ من النساجین والخیاطین کانوا یجعلون صور انسان او حیوان علی الستائر أو الملابس لتزویقہا ... وکان بین اھل مکۃ و غیرھا من القری اناس یتعیشون من بیعھا.(المفصل فی تاریخ العرب ۸ /۸۳، ۹۰)

''بعض اہل مکہ اور حجاز کے دوسرے تمام علاقوں کے لوگ اپنے گھروں میں تصویریں اور مجسمے رکھتے تھے۔ اور اُن لوگوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی تھا جو تصویریں بناتا اور اُن کو بیچ کر اپنی روزی کماتاتھا۔ اور ایک گروہ ایسا تھا جو سنگ تراشی اور مجسمے بنانے کا کام کرتا تھا۔اور ایک گروہ درزیوں اور بافندوں کا تھا جو پردوں اور ملبوسات کو منقش کرنے کے لیے اُن پر انسانوں اور جانوروں کی تصویریں بنایا کرتا تھا۔...اہل مکہ اور اس کے علاوہ دوسری بستیوں کے لوگ ان مجسموں کی فروخت سے روزگار زندگی کماتے تھے ۔ ''

اس وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عرب میں مصور کا لفظ فقط تصویر بنانے والوں کے لیے نہیں بولا جاتا تھا، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بت گروں، مجسمہ سازوں اور نقاشوں کے لیے بھی یکساں طور پر استعمال ہوتا تھا۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 'مصور' اور 'مصورون' کے الفاظ استعمال کر کے جن لوگوں کولعنت اور عذاب کا مستحق قرار دیا، ان سے مراد مصوری،بت گری،کندہ کاری اور عکس بندی کے پیشوں سے وابستہ ہونے والے افراد ہیں۔۴۵؂

اب سوال یہ ہے کہ کیا ان روایتوں میں مصور اور ممثل سے مراد فن مصوری کو اختیارکرنے والاہر فرد ہے یا اس سے کچھ خاص مصور مراد ہیں۔ 'المصور' اور 'المصورون'پر داخل عہدکے 'ال' سے واضح ہے کہ یہاں کچھ خاص مصور ہی مراد ہیں۔ تاریخ اور دیگر روایتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ مصور ہیں جو مشرکانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی تصاویر اور تماثیل بناتے تھے اور اس طرح بت پرستی کے قیام و بقا اور فروغ کا باعث بنتے تھے۔نقاشی، کندہ کاری، سنگ تراشی اور تصویر کشی کے فنون کو استعمال میں لا کر بنائی جانے والی تصویروں کا مقصد درحقیقت بتوں کی پرستش ، ان کی محبت اور ان کی تقدیس ہوتا تھا:

ونعنی ہنا بتقدیس الصور، الصور المقدسۃ التی تمثل أسطورۃ دینیۃ أو رجالا مقدسین کان لہم شان فی تطور العبادۃ... فاحب المومنون بہم حفظ ذکراہم وعدم نسیانہم أو الابتعاد عنہم، وذلک بحفظ شیء یشیر الیہم ویذکرہم بہم،وہذا الشیء قد یکون صورۃ مرسومۃ، وقد یکون صورۃ محفورۃ أو منحوتۃ أو مصنوعۃ علی ہیأۃ تمثال أو رمز یشیر الی ذلک المقدس.( المفصل فی تاریخ العرب ، جواد علی ۶/ ۷۰)

'' تصویروں کی تقدیس سے ہماری مراد ایسی مقدس تصویریں ہیں جو مذہبی داستانوں یاان مقدس اشخاص کو ممثل کرتی تھیں جن کا (بتوں کی)عبادت کو آگے بڑھانے میں کوئی اہم کردار تھا ...چنانچہ ان لوگوں پر ایمان رکھنے والوں نے یہ چاہا کہ ان کی یاد کو محفوظ کریں، ان کو فراموش نہ کریں اور ان سے دور نہ ہوں۔ یہ مقصد انھوں نے ایسی چیزوں کو محفوظ کر کے حاصل کیاجو ان کی طرف اشارہ کرتی یا انھیں ان کی یاد دلاتی ہوں۔ یہ (محفوظ کی گئی) چیز کبھی خاکے کی طرز پر بنی ہوئی تصویر ہوتی، کبھی کندہ کی ہوئی یا کھودی ہوئی تصویر ہوتی یا مجسمے کی ہیئت میں تراشی گئی مورت ہوتی یا ایسی نشانی ہوتی جو اس مقدس ہستی کی طرف اشارہ کرتی۔''

گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب مصور جو مجسمے اور تصویریں بناتے تھے، ان میں سے بیش تر مختلف دیویوں اور دیوتاؤں سے منسوب ہوتی تھیں اور ان کا استعمال مشرکانہ مقاصد کے لیے ہوتا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض منصبی تھا کہ وہ سرزمین عرب سے شرک اور مشرکانہ مظاہر کا بالکلیہ خاتمہ کر دیں۔ چنانچہ جہاں آپ نے پوجی جانے والی تصاویر اور تماثیل کو مذموم قرار دیا، وہاں ان کے بنانے والوں کی مذمت بھی فرمائی۔

بعض روایتوں میں'الذین یصنعون ھذہ الصور' ''جو لوگ اس طرح کی تصویریں بناتے ہیں'' اور 'مصور یصور ھذہ التماثیل' ' 'وہ مصور جو اس طرح کی تماثیل بناتے ہیں'' کے الفاظ سے انھی تصویروں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

عن عبد اللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما ان رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ یقال لھم احیوا ما خلقتم. (بخاری ، رقم ۵۹۵۱)

''عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بے شک، وہ لوگ جو اس قسم کی تصاویر بناتے ہیں ، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گاکہ جو تم نے بنایا ہے اسے زندہ کرو۔''

عن ابی عبیدۃ بن عبد اللّٰہ بن مسعود انہ قال ان من اشد الناس عذاباً یوم القیامۃ امام مضل یضل الناس بغیر علم او رجل قتل نبیا او رجل قتلہ نبی او رجل مصور یصور ھذہ التماثیل.(مصنف عبد الرزاق ،رقم ۱۹۴۸۷)

''ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے: انھوں نے کہا کہ قیامت میں سب سے زیادہ عذاب اس گمراہ امام کو دیا جائے گاجو لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرتا ہے ا ور اس آدمی کو جس نے کسی نبی کو قتل کیا یا جس کو نبی نے قتل کیا اور اس مصور کو جس نے اس قسم کی تماثیل بنائی ہیں۔''

ان مصوروں کی شناعت کا ایک اور پہلو بھی روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ یہ ''یخلق خلقا کخلقی'' کے مصداق عملاً اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے کے گھناؤنے جرم کے مرتکب تھے۔ اس ضمن میں گزشتہ صفحات میں ہم نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ لکڑی، مٹی اور پتھر سے مجسمے تراش کر اور رنگ و روغن وغیرہ سے تصویریں بنا کر یہ گمان رکھتے تھے کہ فرشتوں، انسانوں اور جنوں کی روحیں ان کی بنائی ہوئی تماثیل اور تصاویر میں حلول کرتی ہیں اور لوگوں کے لیے نفع و نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اس طرح وہ اپنے تئیں دانستہ یا نادانستہ اللہ کی مخلوقات جیسی مخلوقات تخلیق کرتے تھے۔ بعض روایتوں میں مصوروں کی مذمت اسی پہلو سے کی گئی ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے روز سزا کے طور پر ان سے کہا جائے گا کہ وہ ان بتوں اور تصویروں میں فی الواقع روح ڈال کر تو دکھائیں:

یحدث قتادۃ قال کنت عند ابن عباس وھم یسالونہ ولا یذکر النبی حتی سئل فقال سمعت محمدا یقول من صور صورۃ فی الدنیا کلف یوم القیامۃ ان ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ.(بخاری، رقم۵۶۱۸)

''قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا جبکہ لوگ ان سے مسئلے پوچھ رہے تھے اوروہ جواب دے رہے تھے ، لیکن انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا،یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا، چنانچہ انھوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : جو کوئی دنیا میں تصویر بنائے گا ،اس کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ اس میں روح ڈال اور وہ روح نہ ڈال سکے گا۔''

درج بالا مباحث سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان مصوروں کو مورد لعنت اور عذاب کا مستحق قرار دیا جو مشرکانہ تصاویر اور تماثیل بناتے تھے اور ان کے اندر روحوں کے حلول کے قائل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی طرح کی تصویریں بنانے والا ایک مصور جب اپنے کسب کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے سیدنا عبداللہ بن عباس کے پاس آیا تو انھوں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنانے کے بعد کہ ہر مصور جہنم میں جائے گا ، یہ نصیحت کی کہ ایسی تصویریں بنا لو جن کے ساتھ روح کا تصور وابستہ نہیں ہوتا، مگر ایسی تصویریں ہر گز نہ بناؤ جن میں روح تصور کی جاتی ہے:

عن سعید بن ابی الحسن قال کنت عند ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما اذا اتاہ رجل فقال یا ابا عباس انی انسان انما معیشتی من صنعۃ یدی وانی اصنع ھذہ التصاویر فقال ابن عباس لا احدثک الا ما سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول سمعتہ یقول من صور صورۃ فان اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ فیھا ابداً فربا الرجل ربوۃ شدیدۃ واصفر وجھہ فقال ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح. (بخاری ،رقم۲۲۲۵)

''سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھاکہ اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہ،میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے اپنے ہاتھ کے ہنر ہی سے روزی کمانی ہے ۔ اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اِس ضمن میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ، جس نے کوئی تصویر بنائی، اللہ تعالیٰ اس کو لازماًعذاب دے گا۔ یہاں تک کہ(سزا کے طور پر) اس سے کہا جائے گا کہ اِس تصویر میں روح پھونکو ، (وہ اس میں روح پھونکنے کی کوشش کرے گا) لیکن وہ اس میں کبھی روح نہ پھونک سکے گا۔ وہ شخص یہ سن کر ششدر رہ گیا اور اس کا چہرہ زرد پڑگیا۔(یہ دیکھ کر) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : تیرا ناس ہو ، اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے تو اِس درخت کی بنا لے، تصویر بس اسی چیز کی بنایا کر جس میں روح نہیں ہوتی۔''

نصب شدہ تماثیل کی ممانعت

عن ابی ہریرۃ رفعہ فی التماثیل انہ رخص فیما کان یوطأ و کرہ ماکان منصوباً. (الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ، رقم ۲۳۸)

''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تماثیل کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (مجسموں اور تصویروں) کی اجازت دی ہے جو بچھی ہوتی تھیں اور انھیں ناپسند فرمایا ہے جو آویزاں ہوتی تھیں۔''

اس روایت میں بیان ہواہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصب کی ہوئی تماثیل کو ناپسند کیا ہے۔ 'نصب' کے معنی کسی چیز کے بلند ہونے، کھڑا ہونے یا زمین میں گاڑنے کے ہیں۔ ۴۶؂ اس اعتبار سے منصوب تماثیل کا اطلاق دو طرح کی تماثیل پر ہوتا ہے : ایک وہ جوکسی ستون یا دیوار پر آویزاں ہوںیا دروازے پر لٹکائی گئی ہوں ۴۷؂ اور دوسرے وہ جو کھڑی ہوئی ہوں یا زمین میں گاڑی گئی ہوں۔ روایتوں میں ان دونوں طرح کی تماثیل کے بارے میں کراہت کا اظہار کیا گیا ہے۔

تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ تماثیل کی یہ تنصیب بالعموم اصنام کی تکریم اور مشرکانہ مراسم انجام دینے کے لیے کی جاتی تھی۔ لوگ اپنے گھروں کی دیواروں، ستونوں، طاقوں اور دروازوں پر ایسے پردے لٹکاتے تھے جن میں ان اصنام کی تصویریں نقش ہوتی تھیں اور ان کے مجسموں اور ان سے منسوب پتھروں کو حجروں ، صحنوں ، چھتوں اور گلی کوچوں میں نصب کرتے تھے۔ وہ ان کا تقرب اورخوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے آگے نذرانے پیش کرتے اور عبودیت کے جذبے کے ساتھ سر نیاز ان کے آگے جھکاتے تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منصوب تماثیل کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ صحابۂ کرام کے حوالے سے بھی روایتوں میں یہی بات بیان ہوئی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں منصوب تماثیل کو ناپسند کرتے تھے:

عن عکرمۃ قال کانوا یکرہون ما نصب من التماثیل نصبا ولا یرون بما وطئتہ الأقدام بأسا.(سنن البیہقی الکبری،رقم ۱۴۳۵۸)

''عکرمہ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام نصب شدہ تماثیل کو ناپسند کرتے تھے اور وہ جو پاؤں تلے روندی جاتیں (اہانت کی جگہ پر ہوتیں ) ان میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے۔''

ثنا لیث قال دخلت علی سالم بن عبد اللّٰہ وہو متکئ علی وسادۃ فیہا تماثیل طیر ووحش فقلت ألیس یکرہ ہذا قال لا انما یکرہ ما نصب نصبا.(مسند احمد ، رقم ۶۳۲۶)

''ہم سے لیث نے بیان کیا :انھوں نے کہا کہ میں سالم بن عبد اللہ کے پاس گیا تو وہ ایک ایسے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے جس میں پرندوں اور جانوروں کی تصاویر تھیں تو میں نے ان سے کہا کہ کیا ان کو ناپسند نہیں کیا گیا ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ صرف ان کو ناپسند کیاگیا ہے جو نصب کی گئی ہوں۔ ''

صلیب کی تصویرکی شناعت

عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یکن یترک فی بیتہ شیئاً فیہ تصالیب الا نقضہ.(بخاری ، رقم ۵۹۵۲)

''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں موجود ہر اس چیز کو توڑ دیتے جس پر صلیب(کی تصویر ) بنی ہوتی۔''

اس روایت میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس چیز کو توڑ دیتے جس پر صلیب کی تصویر بنی ہوتی۔صلیب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیے جانے کی علامت ہے۔ نصاریٰ کے ہاں اس کی حیثیت ایک متبرک اور مقدس شے کی تھی۔ اس وجہ سے انھوں نے اس کے ساتھ بعض مشرکانہ مراسم وابستہ کر رکھے تھے۔ وہ تقدیس اور تبریک کی غرض سے اس کی شبیہیں بناتے اور اس کے نقوش مختلف اشیا پر رقم کرتے تھے:

والصلیب ، من اھم المصطلحات المعروفۃ عند النصاریٰ، لاعتقادھم بصلب المسیح علیہ، حتی صار رمزاً للنصرا نیۃ. وصاروا یعلقونہ علی اعناقھم تبرکاً وتیمناً بہ، وینصبونہ فوق منائر کنائسھم وقبابھا، لیکون علامۃ علی متعبد النصاری. وقد اقسموا بہ. وقد عرف المسلمون تمسک النصاری بہ، واتخاذھم لہ شعاراً، حتی کان بعضھم یرسم علی جبھتہ ،وکانوایلثمونہ ویتمسحون بہ تبرکاً ویزینون صدورھم بہ.(المفصل فی تاریخ العرب ، جواد علی ۶/ ۶۷۷)

''صلیب نصاریٰ کے ہاں، ان کے اس عقیدے کی وجہ سے کہ حضرت مسیح کو اس پر مصلوب کیاگیا تھا ، معروف اور اہم اصطلاحات میں سے ہے ۔ یہاں تک کہ یہ نصرانیت کی علامت بن گئی اور وہ اسے اپنے گلوں میں برکت حاصل کرنے کے لیے لٹکانے لگے۔ اور وہ اسے اپنے گرجوں کے مناروں اور گنبدوں پر نصب کرنے لگے تاکہ یہ نصاریٰ کے معبد کی نشانی بن جائے۔ اور وہ اس کی قسم بھی کھاتے۔ مسلمان نصاریٰ کی اس کے ساتھ وابستگی سے اچھی طرح واقف تھے یہاں تک کہ نصاریٰ میں سے بعض لوگ اس کو اپنی پیشانیوں پر نقش کراتے تھے۔ وہ اس کو چومتے اور برکت کے لیے اس کو چھوتے اور اپنے سینوں کو اس سے مزین کرتے تھے۔''

بعض روایتوں میں ہے کہ ایک موقع پر جب نجران کے دو راہب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے تین ایسی چیزوں کی نشان دہی فرمائی جو ان کے قبول اسلام کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔ انھی میں سے ایک چیز صلیب کی عبادت بھی تھی:

یمنعکما من الاسلام : دعاؤکما للّٰہ عزوجل ولدا ، وعبادتکما الصلیب، واکلکما الخنزیر.(تفسیر طبری۳/ ۱۹۲ )

'' تم دونوں کو اسلام سے تین چیزوں نے

عن عدی بن حاتم قال: اتیت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وفی عنقی صلیب من ذہب فقال : یا عدی اطرح عنک ھذہ الوثن.(ترمذی ، رقم ۳۰۲۰)

''عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا او رمیرے گلے میں سونے کی صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : اے عدی ، اس 'وثن' کو اپنے اوپر سے اتار پھینکو۔''

اس تفصیل سے واضح ہے کہ صلیب کی تصویر بھی درحقیقت مشرکانہ مراسم سے متعلق تھی اور اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس چیز کو توڑ دیتے جس پر صلیب کی تصویر بنی ہوتی۔

اہل کلیسا اور تصویروں کی شناعت

عائشۃ ان ام حبیبۃ و ام سلمۃ ذکرتاکنیسۃ راینھا بالحبشۃ فیھا تصاویر ، فذکرتا لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم . فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ ان اولئک اذا کان فیھم الرجل الصالح ، فمات بنوا علی قبرہ مسجدا وصوروا فیہ تلک الصور فاولئک شرار الخلق عند اللّٰہ یوم القیامۃ. (بخاری ، رقم ۴۱۷ ، مسلم، رقم ۵۲۸)

''عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہمانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ ۴۸؂ کے بارے میں بیان کیا جس میں تصاویر تھیں اور جسے انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا ۔(یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِن (عیسائیوں) میں جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو یہ اُس کی قبر پر مسجد بنادیتے اوراُس مسجد میں یہ خاص تصاویر بناتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔''

اس روایت سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

o ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہعنہمانے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے کنیسہ کا ذکر کیا جس میں تصاویر تھیں۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن کر فرمایا کہ جب اہل کلیسا میں سے کوئی صالح شخص دنیا سے رخصت ہوتا تو وہ اس کی قبر پر اپنی عبادت گاہ تعمیر کرتے اور اس میںیہ خاص تصویریں بناتے تھے۔

o پھر آپ نے فرمایا کہ قبروں پر عبادت گاہیں تعمیر کرنے والے اور ان میں تصویریں بنانے والے یہ لوگ قیامت میں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔

اس روایت میں تصویریں بنانے کی شناعت کو بیان کرنے کے لیے ' تلک الصور' یعنی ''یہ تصویریں''کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ ان سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مخصوص تصویروں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہما السلام کی تصویریں مراد ہیں۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ نصاریٰ ان کی تصویروں اور مجسموں سے اپنے کلیساؤں کو مزین کرتے تھے۔غالباً انھی کے زیر اثر مشرکین عرب نے بھی بیت اللہ کی دیواروں پر ان برگزیدہ ہستیوں کی تصویریں بنائیں۔ ڈاکٹر جواد علی کلیساؤں اور بیت اللہ میں ان کی تصویروں کے حوالے سے لکھتے ہیں:

وقد کانت الکنائس مزینۃ بالتماثیل والصور، تمثل حوادث الکتاب المقدس وحیاۃ المسیح ... وان صور الانبیاء وصورۃ عیسیٰ وامہ مریم التی ذکر الاخباریون انہا کانت مرسومۃ علی جدار الکعبۃ...ھی دلیل علی اثر النصرانیۃ فی مکۃ.(المفصل فی تاریخ العرب ۶/ ۶۵۰، ۶۶۶)

''کلیسا تصویروں اورمجسموں سے مزین ہوتے تھے۔ یہ ( تصویریں اور مجسمے) کتاب مقدس کے واقعات اورسیدنا مسیح علیہ السلام کی زندگی کا منظر پیش کرتے تھے ... انبیا علیہم السلام، حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم کی تصاویر جن کے بارے میں مورخین نے ذکر کیا ہے کہ وہ کعبہ کی دیواروں پر نقش تھیں... یہ چیز مکہ میں نصرانیوں کے اثر کی دلیل ہے۔''

سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہما السلام کے بارے میں نصاریٰ چونکہ الوہیت کے تصورات رکھتے تھے جو ظاہر ہے کہ شرک اور مشرکانہ مراسم کو مستلزم ہیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تماثیل بنانے پر آخرت کے عذاب کا اعلان فرمایا۔ ۴۹؂

تصویر کی پرستش کرنے والوں کے لیے وعید

عن ابی ہریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال یجمع اللّٰہ الناس یوم القیامۃ فی صعید واحد ثم یطلع علیھم رب العالمین فیقول الا یتبع کل انسان ما کانوا یعبدونہ فیمثل لصاحب الصلیب صلیبہ ولصاحب التصاویر تصاویرہ ولصاحب النار نارہ فیتبعون ما کانوا یعبدون.(ترمذی ، رقم ۲۵۵۷)

''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک بڑے میدان میں جمع کریں گے۔ پھر پروردگار عالم ان کی طرف متوجہ ہوں گے اور فرمائیں گے : کیوں نہ ایسا ہو کہ ہر شخص اسی چیز کے پیچھے چلے جس کی وہ پوجا کرتا تھا۔ پھر صلیب کے پجاری کے لیے اس کی صلیب، تصاویر کے پجاری کے لیے اس کی تصاویر اور آگ کے پجاری کے لیے اس کی آگ مجسم کر دی جائے گی ۔ پھر سب لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلیں گے۔''

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام انسان ایک بڑے میدان میں جمع ہوں گے۔

o پھر اللہ تعالیٰ ظاہر ہوں گے اور انسانوں کو اپنے اپنے معبودوں کی پیروی میں چلنے کا حکم دیں گے۔

o اس کے بعد صلیب ، تصویر اور آگ جیسی معبود بنائی جانے والی مادی اشیا کومجسم صورت دے دی جائے گی۔

o پھر سب لوگ اپنے اپنے معبود کی پیروی میں چلیں گے۔

اس روایت میں ان تین مادی اشیا کا ذکر ہوا ہے جن کی اہل جاہلیت پرستش کیا کرتے تھے۔ اہل کلیسا صلیب کو بتوں کی طرح پوجتے تھے، بعض گروہ آگ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے ۵۰؂ اور بعض قبائل تصاویر کی پرستش کرتے تھے۔ ۵۱؂ روایت کے الفاظ 'فیتبعون ما کانوا یعبدون' سے واضح ہے کہ یہاں صلیب، آگ اور تصاویر کی شناعت سرتاسر ان کی عبادت کے پہلو سے ہے۔ اپنی جنس کے لحاظ سے ان کے مباح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ ۵۲؂ چنانچہ یہاں صرف انھی تصاویر کی شناعت بیان ہوئی جنھیں مشرکانہ مقاصد کے تحت بنایا جاتا تھا۔ اسی روایت کے ایک طریق میں تصاویر کے بجائے اوثان اور اصنام کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو مشرکانہ تماثیل کے لیے خاص ہیں۔ ان سے اسی بات کی تصدیق ہوتی ہے:

عن ابی سعید الخدری قال النبی ... یجمع اللّٰہ الناس یوم القیامۃ فی صعید واحد قال فیقال من کان یعبد شیئا فلیتبعہ قال فیتبع الذین کانوا یعبدون الشمس الشمس فیتساقطون فی النار ویتبع الذین کانوا یعبدون القمر القمر فیتساقطون فی النار و یتبع الذین کانوا یعبدون الاوثان الاوثان والذین کانوا یعبدون الاصنام الاصنام فیتساقطون فی النار قال و کل من کان یعبد من دون اللّٰہ حتی یتساقطون فی النار. (مسند احمد ، رقم ۱۰۷۴۳)

''ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ... اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک بڑے میدان میں جمع کرے گا۔آپ نے فرمایا: پھر کہا جائے گا، ہر آدمی اپنے معبود کی پیروی کرے۔ چنانچہ سورج کے پجاری سورج کی پیروی کریں گے ، تو وہ آگ میں پے در پے جا گریں گے اور چاند کے پجاری چاند کی پیروی کریں گے اور آگ میں پے در پے جا گریں گے اور اوثان (تماثیل) کو پوجنے والے اوثان کی اور اصنام (تماثیل) کو پوجنے والے اصنام کی ، پس یہ پے در پے آگ میں جا گریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کے سوا، ہر وہ (چیز) جس کی عبادت کی جاتی تھی (وہ اپنے پیرووں کو لے کر چلے گی) حتیٰ کہ وہ آگ میں جا گریں گے۔''

بیت اللہ سے تصویروں کو مٹانے اور مجسموں کو نکالنے کا حکم

۱۔ عن ابن عباس ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما رأی الصور فی البیت لم یدخل حتی امر بھا فمحیت. (بخاری ، رقم ۳۳۵۲)

۲۔ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما قال ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما قدم ابی ان یدخل البیت و فیہ الالھۃ فامر بھا فاخرجت فاخرجوا صورۃ ابراہیم و اسماعیل. (بخاری ، رقم۱۶۰۱)

۱۔ ''ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فتح مکہ کے موقع پر) جب بیت اللہ میں تصاویر دیکھیں تو آپ اس میں داخل نہیں ہوئے ،یہاں تک کہ وہ آپ کے حکم سے مٹا دی گئیں۔''

۲۔ ''ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ میں) آئے تو آپ نے' آلھۃ'( باطل معبودوں) کی موجودگی میں بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ آپ نے انھیں نکال دینے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ نکال دیے گئے۔ (اس موقع پر) لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام او ر اسمٰعیل علیہ السلام کے مجسمے بھی نکالے ۔''

یہ فتح مکہ کے موقع کی روایتیں ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بیت اللہ سے تصویروں کو مٹانے اورمجسموں کو نکالنے کا حکم دیا۵۳؂ اور آپ اس وقت تک اندر داخل نہیں ہوئے جب تک اللہ کے گھر کو ان سے پاک نہیں کر دیا گیا۔

احادیث اور تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی دیواروں اور ستونوں پر تصویریں بنی ہوئی تھیں اور لکڑی، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنے ہوئے مجسمے اس کے اندر مختلف مقامات پر نصب تھے۔ یہ تماثیل ملائکہ، انبیا اور بعض دوسرے انسانوں سے منسوب تھیں۔ان میں حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت مریم علیھا السلام کی تماثیل بھی موجود تھیں:

وزوقوا سقفہا وجدرانہا من بطنہا ودعایمہا وجعلوا فی دعایمہا صور الأنبیاء، وصور الشجر، وصور الملائکۃ فکان فیہا صورۃ ابراہیم خلیل الرحمٰن شیخ یستقسم بالازلام، وصورۃ عیسی بن مریم وأمہ، وصورۃ الملائکۃ علیہم السلام اجمعین.(اخبار مکہ ۱ / ۱۶۵)

''اور انھوں نے کعبہ کی چھت ، دیواروں ، صحن اور ستونوں میں نقش ونگار کیا اور اس کے ستونوں میں انبیا ، درختوں ، اور فرشتوں کی تصویریں بنائیں۔ ان میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تصویر بھی تھی، اس حال میں کہ وہ تیروں پر فال کھول رہے تھے اور حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم کی تصویر بھی تھی اور فرشتوں کی تصویریں بھی تھیں۔ ''

بیت اللہ میں موجود ان بتوں کی تعداد ۳۶۰ بیان کی جاتی ہے۔ یہ سب کے سب مجسمے نہیں تھے، بلکہ ان میں تصویریں بھی شامل تھیں۔ سید سلیمان ندوی ''تاریخ ارض القرآن'' میں لکھتے ہیں:

''خانہ کعبہ میں ۳۶۰ بت تھے، یہ کل پتھر کی مورتیں نہ تھیں کہ اتنی تعداد تو کعبہ کی وسعت میں سما بھی نہیں سکتی تھی، بلکہ ان میں خاصی تعداد رنگین تصاویر کی تھی، دیواروں پر بزرگوں اور دیوتاؤں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں، معلوم ایسا ہوتاہے کہ چونکہ کعبہ تمام عرب کا مرکز تھا ،اس لیے ہر فرقہ کے معبود اور بزرگان دین کا اس گھر میں مجمع تھا، چنانچہ بتوں کو چھوڑ کر خانہ کعبہ کی دیواروں پر حضرت ابراہیم ،حضرت اسماعیل، حضرت مسیح اور حضرت مریم کی تصویریں تھیں، اس لیے کعبہ کے یہودیوں، اسماعیلی عربوں اور عیسائیوں کے لیے بھی مرجع القلوب بننے کا دعویٰ سمجھا جا سکتا ہے۔'' (۴۷۸)

فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے ان تمام تماثیل کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس مقصد سے آپ نے بعض اصحاب کو زم زم کا پانی لا کر انھیں مٹانے کا حکم دیا، بعض کو یہ ارشاد فرمایا کہ ان پر زعفران مل دیں اور بعض کو انھیں گرانے اور توڑنے کا حکم دیا:

فلما کان یوم فتح مکۃ دخل رسول اللّٰہ (ص) فأرسل الفضل بن العباس بن عبد المطلب فجاء بماء زمزم ثم أمر بثوب وأمر بطمس تلک الصور، فطمست. (اخبار مکہ ۱/ ۱۶۵)

''فتح مکہ کے دن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فضل بن عباس بن عبد المطلب کو بھیجا جو زمزم کا پانی لے کر آئے۔ پھر آپ نے ایک کپڑا منگوایا اور ان تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا ۔چنانچہ ان تصویروں کو مٹا دیا گیا۔''

عن مسافع بن شیبۃ عن ابیہ شیبۃ قال دخل رسول اللّٰہ الکعبۃ فصلی رکعتین فرای فیہا تصاویر فقال یا شیبۃ اکفنی ہذہ فاشتد ذلک علی شیبۃ فقال لہ رجل من اہل فارس ان شئت طلیتہا ولطختہا بزعفران ففعل.(المعجم الکبیر، رقم ۷۱۹۳)

''مسافع اپنے والد شیبہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی ۔پھر آپ نے وہاں کچھ تصاویر دیکھیں تو آپ نے کہا : اے شیبہ ان کو مٹا دو تو شیبہ کو یہ مشکل لگا ۔ ان میں سے فارس کے ایک آدمی نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں ان پر زعفران مل دوں؟ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔''

بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تماثیل کو ختم کرنے کے عمل میں آپ خود بھی شریک ہوئے:

حدثنا علی قال انطلقت مع رسول اللّٰہ لیلا حتی اتینا الکعبۃ فقال لی اجلس فجلست فصعد رسول اللّٰہ علی منکبی ثم نہضت بہ فلما رای ضعفی تحتہ قال اجلس فجلست فنزل رسول اللّٰہ وجلس لی فقال اصعد الی منکبی ثم صعدت علیہ ثم نہض بی حتی انہ لیخیل الی انی لو شئت نلت أفق السماء وصعدت علی البیت فأتیت صنم قریش وہو تمثال رجل من صفر او نحاس فلم ازال أعالجہ یمینا وشمالا وبین یدیہ وخلفہ حتی استمکنت منہ قال ورسول اللّٰہ یقول ہیہ ہیہ وانا اعالجہ فقال لی اقذفہ فقذفتہ فتکسر کما تکسر القواریر. (ابی یعلی ، رقم ۲۹۲)

''حضرت علی نے ہم سے بیان کیا ہے کہ میں ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ ہم خانہ کعبہ پہنچ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ بیٹھ جاؤ ،چنانچہ میں بیٹھ گیا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھے پر چڑھ گئے۔ پھر میں ان کو لے کر کھڑا ہو گیا تو جب انھوں نے اپنے نیچے میری کمزوری کو محسوس کیا تو مجھے بیٹھنے کو کہا تو میں بیٹھ گیااور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے اور میرے لیے بیٹھ گئے اور کہا کہ میرے کندھے پر چڑھ جاؤ پھر میں آپ کے کندھے پر چڑھ گیا اور آپ مجھے لے کر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہوا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کنارے تک پہنچ سکتا ہوں اور میں کعبہ پر چڑھ گیا اور قریش کے بت کے پاس پہنچ گیا جو پیتل یا تانبے سے بنا ہوا ایک انسانی مجسمہ تھا۔ اور میں (اس کو اس کی جگہ سے ہلانے کے لیے ) اس کو دائیں سے بائیں اور آگے سے پیچھے (ہٹانے کی) تگ و دو کرنے لگا۔ یہاں تک کہ میں اس پر قادر ہو گیا ۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ جب میں اس کو ہٹانے کی تگ و دو کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے رہے : چلو ، توڑ دو ، ہاں توڑ دو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کو نیچے پھینک دو تو میں نے اس کو پھینک دیا تو وہ ایسے ٹوٹ گیا جیسے شیشہ ٹوٹتا ہے۔ ''

عن صفیۃ بنت شیبۃ : قالت لما اطمأن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عام الفتح طاف علی بعیر یستلم الرکن بمحجن بیدہ ثم دخل الکعبۃ فوجد فیھا حمامۃ عیدان فکسر ھا ثم قام علی باب الکعبۃ فرمی بھا وانا انظرہ. (ابن ماجہ ، رقم ۲۹۴۷)

''صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب ذرا پُر سکون ہوئے ، تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر حجر اَسود کا اس لکڑی سے استلام کیا، جو آپ کے ہاتھ میں تھی۔ پھر آپ کعبہ میں داخل ہوئے، آپ نے وہاں لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری دیکھی تو آپ نے اسے توڑ دیا اور پھر آپ کعبے کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا اور میں اس وقت آپ (کے اس سارے عمل) کو دیکھ رہی تھی ۔ ' ' ۵۴؂

یہ بات معلوم و معروف ہے کہ ان تماثیل کو مٹانے کا اصل سبب ان کا مشرکانہ عقائد اور مراسم سے وابستہ ہونا ہے۔ ۵۵؂ درج بالا بخاری کی روایت میں ' آلھۃ' کے لفظ سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔ یعنی یہ تصویریں اور مجسمے درحقیقت وہ تماثیل تھیں جو پرستش کے لیے مختص تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں ان تماثیل کے لیے 'صنم' کا لفظ نقل ہوا ہے جس کے معنی ہی پوجے جانے والے مجسمے کے ہیں۔

مسلم کی ایک روایت میں ان کے لیے صنم کالفظ استعمال ہوا ہے اور یہ بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے بت کی آنکھ میں کمان ماری جس کی پرستش کی جاتی تھی۔

قال واقبل رسول اللّٰہ حتی اقبل الی الحجر فاستلمہ ثم طاف بالبیت قال فأتی علی صنم الی جنب البیت کانوا یعبدونہ قال وفی ید رسول اللّٰہ قوس وہو آخذ بسیۃ القوس فلما أتی علی الصنم جعل یطعنہ فی عینہ ویقول جاء الحق وزھق الباطل.(رقم۱۷۸۰)

''انھوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، یہاں تک کہ حجر اسود کے پاس پہنچے اور اس کو چھوا ،پھرخانہ کعبہ کا طواف کیا (اگرچہ آپ احرام سے نہ تھے، کیونکہ آپ کے سر پر خود تھا) پھر ایک بت کے پاس آئے جو کعبہ کے پہلو میں رکھا تھا اور لوگ اس کی پوجا کرتے تھے ۔آپ کے ہاتھ میں کمان تھی ۔آپ اس کا کونا اس کی آنکھ میں کونچنے لگے اور فرمانے لگے حق آیا اور باطل مٹ گیا۔''

ابن حبان کی روایت میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس وقت وہاں پر ۳۶۰ صنم تھے۔ آپ نے انھیں چھڑی ماری:

عن عبداللّٰہ قال دخل النبی المسجد وحولہ ثلاث وستون صنما فجعل یطعنہا بعود کان معہ ویقول جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا. ( رقم۵۸۶۲)

''عبد اللہ سے روایت ہے انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے تو اس وقت اس کے گرد ۳۶۰ بت تھے ۔آپ انھیں اس چھڑی سے مارنے لگے جو آپ کے پاس تھی اور فرمانے لگے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک ، باطل کو مٹنا ہی تھا۔''

مسلم اور ابن حبان کی درج بالا روایتوں میں 'جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا' یعنی ''حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔بے شک باطل کو مٹناہی تھا''کے الفاظ بھی اسی بات کی تصریح کرتے ہیں کہ یہاں باطل خداؤں کا انہدام مقصود ہے ، تماثیل اپنی نوع کے اعتبار سے یہاں زیر بحث ہی نہیں ہیں۔

تماثیل اور قبروں کو مٹانے کا حکم

عن ابی الھیاج الاسدی قال قال لی علی بن ابی طالب الا ابعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللّٰہ ان لا تدع تمثالاً الا طمستہ ولا قبراً مشرفاً الا سویتہ. (مسلم، رقم ۹۶۹)

''ابی الہیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمھیں اس مہم پر نہ بھیجوں جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ یعنی یہ کہ کوئی تمثال نہ چھوڑو، مگریہ کہ اس کو مٹا دو اور کوئی بلند قبر نہ چھوڑو،مگر یہ کہ اس کو زمین کے برابر کر دو۔''

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کودو احکام دے کر روانہ کیا تھا:

ایک یہ کہ ہر تمثال یعنی تصویر اور مجسمے کو مٹا دیا جائے۔

دوسرے یہ کہ ہر بلند قبر کو سطح زمین کے برابر کر دیا جائے۔

اس روایت میں تمثال کو مٹانے اور قبر کو برابر کرنے کے دونوں حکم باہم متصل بیان ہوئے ہیں، اس بنا پر ان میں کسی مشترک علت کا ہونا قرین حقیقت ہے۔ چنانچہ تمثال کو مٹا دینے کے حکم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قبر کو برابر کرنے کے حکم کی علت معلوم کی جائے۔بلند قبروں کو ہموار کر دینے کا سبب ان کے ساتھ مشرکانہ مراسم کا وابستہ ہونا ہے۔ حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے موقع پر عرب اپنے بزرگوں کی قبروں کی پرستش کرتے تھے۔ وہ یہ تصور رکھتے تھے کہ ان کے اندر زندہ روحیں موجود ہیں جو عقل و شعور رکھتی ہیں ،ان کی داد و فریاد کو سنتی ہیں اور انھیں نفع و نقصان پہنچانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:

ان المشرکین کانوا یقدسون قبور اسلافہم، ویتقربون الیہا، لزعمہم أنہم أحیاء، لہم أرواح، تعی وتسمع وتدرک، تفرح وتغضب وتجیب، وتنفع وتضر.(المفصل فی تاریخ العرب ۶/ ۱۴۲)

''مشرکین اپنے اسلاف کی قبروں کو مقدس جانتے تھے اور ان کا تقرب حاصل کرتے تھے۔ اپنے اس گمان کی وجہ سے کہ وہ زندہ ہیں اور ان کی ارواح ہیں جو سنتی ہیں، شعور رکھتی ہیں، خوش ہوتی ہیں، غصہ کرتی ہیں، جواب دیتی ہیں، نفع و نقصان پہنچاتی ہیں۔''

وقد عظم بعض أہل الجاہلیۃ قبور ساداتہم ورؤساۂم واتخذوہا أضرحۃ یزورونہا ویتقربون الیہا ویتبرکون بہا، وقد بلغ من بعضہم ان جعلہا حمی وملاذا من دخل الیہا أمن، ومن لجأ الیہا وکان محتاجا أغیث، ومن طلب العون واستغاث بصاحب القبر أغیث، حتی صارت فی منزلۃ المعابد. ومنہا أضرحۃ السدنۃ والکہان وسادات القبائل.(المفصل فی تاریخ العرب ۶/ ۴۴۸)

''بعض اہل جاہلیت اپنے سرداروں کی قبروں کی بڑی تعظیم کرتے تھے۔انھوں نے ان قبروں کومزار بنا لیا تھا جن کی وہ زیارت کرتے ،اور ان سے تقرب اور برکت حاصل کرتے تھے۔ ان میں سے بعض نے ان کو پناہ گاہیں بنا لیا جو بھی اس میں پناہ چاہنے کے لیے داخل ہوتا تو اس کو پناہ دی جاتی اور جو بھی محتاجی کی حالت میں اس کی پناہ لیتا ،اس کی مدد کی جاتی۔ اور جو بھی صاحب قبر سے مدد طلب کرتا تو اس کی مدد کی جاتی ،یہاں تک کہ یہ قبریں معابد بن گئیں اور ان میں سے بعض خادموں ، کاہنوں اور قبیلوں کے سرداروں کے مزار تھے۔''

قبر پرستی کا یہی وہ پس منظر ہے جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر گنبد بنانے، انھیں مشرکانہ مراسم کی غرض سے پختہ کرنے،انھیں مسجد کا مقام دینے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا:

عن جابر رضی اللّٰہ عنہ قال نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یجصص القبر وان یعقد علیہ وان یبنی علیہ. (مسلم ، رقم ۹۷۰)

''جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ قبروں کو پختہ کیا جائے اور اس سے کہ لوگ ان پر بیٹھیں اور اس سے کہ ان پر گنبد بنائیں۔''

الا من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیاءھم وصالحیھم مساجد انی انھاکم عن ذالک. (مسلم، رقم ۵۳۲)

''(نبی کریم کا ارشادہے ) خبردار رہو، تم سے پہلے لوگ اپنے پیغمبروں اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے۔ (کہیں تم قبروں کو مسجد نہ بنانا) میں تم کو اس بات سے منع کرتا ہوں۔''

عن ابی مرثد الغنوی رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا الیھا.(مسلم،رقم۹۷۲)

''ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں پر نہ بیٹھو اور ان کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو۔''

ان روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بلند قبروں کو ہموار کر دینے کا سبب درحقیقت ان کے ساتھ مشرکانہ مراسم کا وابستہ ہونا ہے۔ تمثال کو مٹانے کے حکم کابھی یہی سبب ہے۔ تماثیل کے حوالے سے گزشتہ مباحث میں درج تاریخی تفصیلات سے یہ بات ہر لحاظ سے متعین ہو گئی ہے کہ مشرکین عرب نے تماثیل کے ساتھ مشرکانہ تصورات قائم کر رکھے تھے اور انھیں بت پرستی کے سب سے بڑے مظہر کی حیثیت حاصل تھی۔ چنانچہ 'تمثال کو مٹانے' کا حکم درحقیقت پوجے جانے والے بتوں اور ان کی شبیہوں اور تصویروں کو مٹانے کا حکم ہے۔ اس بات کی تصدیق اسی روایت کے بعض دوسرے طرق سے بھی ہوتی ہے۔ مسند احمد میں اسی روایت میں تمثال کے بجائے 'صنم' کا لفظ استعمال ہوا ہے جو پوجی جانے والی تماثیل کے ساتھ خاص ہے:

عن جریر بن حیان عن ابیہ ان علیا رضی اللّٰہ عنہ قال ابعثک فیما بعثنی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم امرنی ان اسوی کل قبر واطمس کل صنم. (رقم ۶۸۳)

''جریر بن حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی نے فرمایا : میں تم کو ایسے کام کے لیے بھیجتا ہوں جس کے لیے مجھے رسول اللہ نے بھیجا تھا۔ آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر قبر کو زمین کے برابر کر دوں اور ہر بت کو مٹا دوں۔''

مسند ابی یعلیٰ میں وہ واقعہ نقل ہوا ہے جس کا حوالہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مذکورہ روایت میں دیا ہے۔ اس میں قبر کو ہموار کرنے اور تصویر کو مٹانے کے حکم کے ساتھ ' ولا وثنا الا کسرتہ ' ''کوئی بت نہ چھوڑوں ، مگر اس کو توڑ دوں'' کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں۔ وثن کا لفظ صنم کا ہم معنی ہے اور ان تماثیل کے لیے مخصوص ہے جن کی پرستش کی جاتی تھی:

عن علی قال خرج رسول اللّٰہ فی جنازۃ فقال ألا رجل یذہب الی المدینۃ فلا یدع قبرا الا سواہ ولا صورۃ الا طلخہا ولا وثنا الا کسرہ فقام رجل وہاب أہل المدینۃ فقام علی فقال أنا یارسول اللّٰہ قال فذہب ثم جاء فقال یا رسول اللّٰہ لم آتک حتی لم أدع فیہا قبرا الا سویتہ ولا صورۃ الا لطختہا ولا وثنا الا کسرتہ قال من عاد الی صنعۃ شیء منہ فقد کفر بما انزل علی محمد. ( مسند ابی یعلیٰ ، رقم ۵۰۶)

''حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا کیا کوئی آدمی ایسا نہیں جو مدینہ کی طرف جائے اور وہاں پر کوئی قبر نہ چھوڑے،مگر اسے زمین کے برابر کر دے اور کوئی تصویر نہ چھوڑے ، مگر اسے مٹا دے اور کوئی بت نہ چھوڑے ، مگر اسے توڑ دے ۔ اس پر ایک آدمی اٹھا، لیکن اہل مدینہ کے (متوقع) ردعمل سے خوف زدہ ہو گیا۔ پھر حضرت علی کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں (جاؤں گا)، اے اللہ کے رسول۔ انھوں نے بیان کیا کہ وہ گئے اور پھر (کچھ عرصے بعد) واپس آئے اور کہا کہ اے اللہ کہ رسول ، میں آپ کے پاس نہیں آیا، یہاں تک کہ میں نے ہر قبر کو زمین کے برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مٹا دیا اور ہر بت کو توڑ دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس کسی نے اب ان چیزوں میں سے دوبارہ کوئی چیز بنائی تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد پر نازل ہوئی ہے۔ ''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشرکانہ تماثیل مٹانے کے اس حکم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں بھی نافذ رکھا۔مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے اس مکان کو جلا دیا جس میں تماثیل کی پرستش کی جاتی تھی:

عن ایوب بن نعمان قال شہدت علیا فی الرحبۃ وجاء رجل فقال یا أمیر المومنین أن ہاہنا أہل بیت لہم وثن فی دارہم یعبدونہ فقام علی یمشی حتی انتہی الی الدار فأمرہم فدخلوا فأخرجوا لہ تمثال رخام فألہب علی الدار.(رقم ۲۹۰۰۴)

''ایوب بن نعمان سے روایت ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ میں حضرت علی کے پاس (مسجد کوفہ کے باہر) کھلے میدان میں موجود تھا تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے امیر المومنین ، یہاں ایک گھر میں لوگوں نے بت رکھا ہوا ہے جس کی وہ پرستش کرتے ہیں ۔ حضرت علی اٹھے اور چل پڑے،یہاں تک کہ اس گھر تک پہنچ گئے۔ (وہاں پہنچ کر) آپ نے (ان کو مجسمہ باہر لانے کا) حکم دیا ۔وہ اندر گئے اور آپ کے سامنے سنگ مرمر کا ایک مجسمہ نکال لائے۔ پھر آپ نے اس گھر کو جلا دیا۔''

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تماثیل اور تصاویر کو مٹانے کا حکم دیا وہ درحقیقت اوثان اور اصنام اور ان کی تصویریں تھیں اور یہ وہ خاص تماثیل تھیں جن کی عربوں کے ہاں پرستش کی جاتی تھی۔

[باقی]

__________

۷؂ یہاں یہ واضح رہے کہ تمثال کے مفہوم میں جان دار اور بے جان دونوں طرح کی مخلوقات کے مجسمے اور تصویریں شامل ہیں ۔

۸؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۸ /۸۸۔

۹؂ یہ وثن کی جمع ہے اور اس سے مراد لکڑی ، پتھر اور دھات وغیرہ سے بنی ہوئی تماثیل ہیں۔ یہ عبادت کے لیے بنائی جاتی تھیں۔ (لسان العرب۱۳/ ۴۴۳)

۱۰؂ یہ صنم کی جمع ہے۔ اس کے معنی بھی لکڑی، پتھراور دھات سے بنے ہوئے مجسمے کے ہیں۔ یہ وثن کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد پوجی جانے والی تصویر بھی ہے۔ (لسان العرب ۱۲/ ۳۴۹)

۱۱؂ یہ دمیہ کی جمع ہے۔ اس سے مراداصنام بھی ہیں اور بالخصوص یہ ایسی منقش تصویروں اور بتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو نہایت خوب صورت طریقے سے بنے ہوئے ہوں۔ (لسان العرب ۱۴/ ۲۷۱)

۱۲؂ یہ ند کی جمع ہے۔اس کے معنی کسی کے مانند اور مشابہ ہونے والی چیز کے ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ ان اشیا کے لیے آیا ہے جنھیں اللہ کا شریک ٹھہرایا جاتا تھا۔ (لسان العرب ۳/ ۴۲۰)

۱۳ ؂ ذات و صفات اور حقوق میں شریک کرنے سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پراسے صاحب اولاد مانا جائے ؛ اس کے علاوہ کسی اور سے بھی مدد طلب کی جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے یا اس کے ساتھ کسی اور کو عبادت میں شریک کیا جائے۔

۱۴ ؂ النجم ۵۳:۱۹ ۔۳۰،القلم۶۸: ۳۵۔۴۱۔

۱۵؂ الزمر۳۹: ۳۔

'' اور ایسے بھی تھے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس خدا تک کسی واسطے اور شفاعت کے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا، چنانچہ وہ روحوں، جنوں اور بتوں کی پوجا پر ایمان رکھتے تھے تاکہ ان کے ذریعے سے اللہ کا تقرب حاصل کریں۔''(بلوغ الارب بحوالہ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ۶ / ۱۰۳)

۱۶؂ العنکبوت۲۹: ۶۱۔۶۳۔

۱۷؂ البقرہ۲: ۱۶۵۔

۱۸؂ بنی اسرائیل۱۷: ۵۶۔

۱۹؂ بنی اسرائیل۱۷: ۴۲۔

۲۰؂ یونس ۱۰: ۶۸۔

۲۱؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۲۸۶۔

۲۲؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۶۶۔

۲۳؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۴۰۔

۲۴؂ تلبیہ ایک کلمہ ہے جو حج کے ایام میں ' لبیک اللّٰھم لبیک 'کے الفاظ کی صورت میں حاجیوں کی زبان پر جاری ہوتا ہے ۔ یہ درحقیقت اس صدا کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت الحرام کی تعمیر نو کے موقع پر بلند کی تھی ۔ یہ توحید کا کلمہ تھا ، مگر مشرکین نے اس میں بھی شرک کو داخل کر لیا تھا۔

۲۵ ؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۲۴۶۔

۲۶؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۳۷۵، ۳۷۶۔

۲۷؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۲۶۱۔

۲۸ ؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۳۳۶۔

۲۹؂ اخبار مکہ ، الازرقی ۱/ ۶۶ ۔

۳۰؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۲۳۵۔

۳۱؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۲۵۳۔

۳۲؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔

۳۳؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۳۳۷۔

۳۴؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶/ ۳۸۰۔

۳۵؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶/ ۲۹۳۔

۳۶؂ تفسیر ابن کثیر ۴/ ۲۵۳ ۔

۳۷؂ الا نعام۶: ۱۳۶۔ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۶ /۴۰۴۔

۳۸؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی۶ /۶۱۔

۳۹؂ بعض روایتوں میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے 'یضاھون بخلق اللّٰہ ' اور ' یشبھون بخلق اللّٰہ ' کے الفاظ آئے ہیں:

''قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اس حال میں کہ انھوں نے باریک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تماثیل تھیں۔ آپ نے اس پردے کو پھاڑ ڈالا ۔پھر فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا جو اللہ کے مخلوق بنانے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔'' ( ابن حبان،رقم ۵۸۴۷)(سنن البیہقی الکبری، رقم ۱۴۳۵۰)

۴۰؂ لسان العرب ۱۰/ ۸۵۔

۴۱؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام، جواد علی ۶/ ۲۵۴۔

۴۲؂

عن ابن ابی کعب ان یدعون من دونہ الا اناثا، قال مع کل صنم جنیۃ.

''ابی بن کعب نے ' ان یدعون من دونہ الا اناثا' کی تفسیر کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اہل جاہلیت کے خیال میں ہر بت کے ساتھ ایک چڑیل ہوتی تھی ۔ '' (احمد بن حنبل ، رقم۲۱۲۶۹)

۴۳؂ لسان العرب ۴/ ۴۷۳۔

۴۴؂ تصاویر اور تماثیل سے مراد وہ اشیا ہیں جو اللہ کی کسی مخلوق کی مشابہت میں بنائی جائیں۔

۴۵؂ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں صور کا فعل اور مصور، مصورون کے اسما تماثیل کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں:

عن مسلم بن صبیح قال کنت مع مسروق فی بیت فیہ تماثیل مریم فقال مسروق ھذا تماثیل کسری فقلت لا ھذا تماثیل مریم فقال مسروق اما انی سمعت عبد اللّٰہ بن مسعود یقول قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اشد الناس عذابا یوم القیامۃ المصورون.(مسلم ، رقم ۲۱۰۹)

''مسلم بن صبیح سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں، میں مسروق کے ساتھ ایک ایسے گھر میں تھا، جس میں مریم علیہا السلام کی تماثیل ( مجسمے یا تصاویر) تھیں۔ مسروق کہنے لگے :یہ کسریٰ کی تماثیل ہیں۔میں نے کہا :نہیں،یہ مریم کی تماثیل ہیں۔مسروق نے کہا :آگاہ رہو، میں نے عبد اللہ بن مسعودسے سنا ہے:وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن ( ان تماثیل بنانے والے ) مصوروں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا۔''

عن ابن مسعود قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اشد الناس عذاباً یوم القیامۃ رجل قتل نبیا او قتلہ نبی او رجل یضل الناس بغیر علم اومصور یصور التماثیل. (المعجم الکبیر،رقم ۱۰۴۹۷)

''عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس امام کو دیا جائے گا جو لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرتاہے، اور اس شخص کو جس کو نبی نے قتل کیا یا جس نے نبی کو قتل کیایا تصویریں بنانے والے مصور کو۔''

۴۶؂ لسان العرب ۱/ ۷۵۸ ۔

۴۷؂ لٹکا ہواکپڑا چونکہ زمین سے بلند ہوتاہے، لہٰذا اس کے لیے بھی منصوب کا لفظ استعمال ہو جاتا ہے۔مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں یہ لفظ انھی معنوں میں استعمال ہوا ہے:

عن محمد بن سیرین قال نبئت حطان بن عبد اللّٰہ قال أتی علی صاحب لی فنادانی فأشرفت علیہ فقال قرئ علینا کتاب أمیر المؤمنین یعزم علی من کان فی بیتہ ستر منصوب فیہ تصاویر لما وضعہ فکرہت أن نبیت عاصیا فقمنا الی قرام لنا فوضعتہ قال محمد کانوا لا یرون ما وطئ وبسط من التصاویر مثال الذی نصب. ( رقم، ۵۲۲۸۹)

''محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ مجھے حطان بن عبد اللہ کے بارے میں بتایا گیا کہ انھوں نے فرمایا : میرے پاس میرے ایک دوست آئے اور انھوں نے مجھے آواز دی ۔میں ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا کہ ہمیں امیر المومنین کا خط پڑھ کر سنایا گیا جس میں انھوں نے حکم دیا ہے کہ جس کے گھر میں کوئی تصویروں والا پردہ لٹکا ہوا ہے ، وہ اسے ضرور اتار دے ۔ لہٰذا میں نے اس کو ناپسند کیا کہ ہم گناہ کی حالت میں رات گزاریں ۔چنانچہ ہم اپنی چادر کی طرف گئے اور میں نے اس کو اتار دیا۔ محمد نے کہا کہ صحابہ ایسی تصویروں کو جو روندی جائیں یا بچھائی گئی ہوں ، نصب کی گئی تصویروں جیسا نہیں سمجھتے تھے۔''

۴۸؂ عیسائیوں کی عبادت گاہ ۔

۴۹؂ اس روایت میں' تلک الصور' کے الفاظ کا مصداق سیدنا عیسیٰ اور سیدہ مریم علیہما السلام کی تصاویر کے بجائے 'الرجل الصالح' کے الفاظ کی روشنی میں''مرنے والے نیک لوگوں کی تصاویر'' کو بھی قرار دیاجا سکتا ہے، مگر اس سے ہمارے اس نقطۂ نظر میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا کہ یہ روایت اصلاًمشرکانہ تماثیل کی شناعت کو بیان کر رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ انسانوں کا عام طریقہ ہے کہ جب ان کا کوئی پارسا آدمی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اکثر اوقات اس کی تکریم اس کی زندگی سے بھی زیادہ ہو جاتی اوراس کی قبر مرجع خلائق بن جاتی ہے۔ یہ چیز، ظاہر ہے کہ مشرکانہ مراسم کی بنیاد بنتی اور غیر اللہ کی عبادت اور پرستش کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔

۵۰؂ بنی تمیم کے بعض لوگ آگ کی پرستش کرتے تھے ۔ (لسان العرب ۶/۶۹۳)

۵۱؂ تصاویر سے مراد یہاں محض رنگ و روغن سے بنی ہوئی تصویریں نہیں ہیں، بلکہ یہ یہاں تماثیل کے مترادف کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔ چنانچہ یہاں اس سے مراد مجسمے، شبیہیں ، نقوش اور تصویریں ہیں۔

۵۲؂ چنانچہ اگر کوئی شخص اس روایت سے تصاویر کی علی الاطلاق حرمت کا حکم اخذ کرتا ہے تو پھر اس کے لیے لازم ہے کہ وہ یہی حکم صلیب اور آگ کے لیے بھی اخذ کرے۔واضح رہے کہ آلۂ سزاے قتل ہونے کے اعتبار سے صلیب کی اباحت قرآن مجید سے بھی منصوص ہے۔

۵۳؂ ان روایتوں کے الفاظ 'الصور' اور 'صورۃ'ہی سے واضح ہے کہ ان سے تصویریں اور مجسمے، دونوں مراد ہیں، تاہم 'محیت' اور 'اخرجت ' کے افعال سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں تصویروں کے ساتھ ساتھ مجسمے بھی مراد ہیں۔

۵۴؂ کبوتری کا مجسمہ توڑنے کے اس واقعے کو اگر درج بالا روایتوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قرین قیاس یہی ہے کہ اس کا تعلق بھی مشرکانہ مظاہرسے ہو گا۔

۵۵؂ بعض روایتوں میں یہ بات نقل ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں موجود تصویروں کو مٹانے کے حکم سے سیدہ مریم اور سیدنا عیسیٰ علیہما السلام کی تصویروں کو مستثنیٰ رکھا اور اس مقصد کے لیے آپ نے اپنے ہاتھ ان تصویروں پر رکھ دیے۔ یہ بات کسی طور پر درست تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ ازرقی نے اپنی کتاب'' اخبار مکہ ''میں اس پر نہایت مفصل تنقید کی ہے اور دوسری روایتوں کی روشنی میں اسے غلط قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

'' یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو تصویروں کو باقی رکھنے کا حکم دیا ہو ، جبکہ جابر کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا جب وہ بطحا میں تھے کہ وہ کعبہ جائیں اور اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا دیں اور اس وقت تک اس میں داخل نہ ہوں، جب تک کہ تمام تصویریں مٹا نہ دیں۔ اور عمر ہی وہ شخص ہیں جنھوں نے ان کو باہر نکالا جیسا کہ فتح الباری میں ہے اور آگے اس کتاب میں بھی آئے گا۔ اور انھوں نے الفتح میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ہی ہیں جنھوں نے oily paintings کو مٹا دیا اور مخروطوں کو باہر نکالا دیا۔ ازرقی علی المواہی اور حدیث جابر میں ہے کہ حضرت عمر نے حضرت ابراہیم کی تصویر کو چھوڑ دیا تو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے تو آپ نے اس تصویر کو دیکھا اور حضرت عمر سے کہا کیا میں نے تم کو یہ حکم نہیں دیا تھا کہ کسی تصویر کو بھی نہیں چھوڑنا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا جنھوں نے ان کی تصویر بنائی ،اس حال میں کہ وہ تیروں پر فال کھول رہے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مریم کی تصویر دیکھی اور فرمایا کہ یہاں پر موجود ہر تصویر کو مٹا دو، اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے جنگ کرے گا جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جن کو انھوں نے پیدا نہیں کیا۔ وہ الفتح میں بیان کرتے ہیں کہ اسامہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کچھ تصویر یں دیکھیں ۔ آپ نے پانی منگوایا اور ان کو مٹانا شروع کر دیا۔ اور یہ اس بات پرمحمول ہے کہ یہ باقی رہ جانے والی وہ تصویریں تھیں جو اس شخص سے پوشیدہ رہ گئی تھیں جس نے سب سے پہلے ان تصویروں کو مٹایا ۔ ابن عائد سعید بن عبد العزیز سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی تصویر بھی باقی رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ ان کی تصویر کو غسان کے بعض نصاریٰ نے دیکھا،جو اسلام لائے تھے ۔ ... پھر جب ابن زبیر نے کعبہ کو ڈھایا تو ان دونوں کو مٹا دیا گیا اور ان کا کوئی نشان تک باقی نہ رہا۔ عمر بن شیبہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابو عاصم نے اور انھوں نے ابن جریج سے بیان کیا کہ سلیمان بن موسی نے عطاسے پوچھا کہ کیا آپ نے کعبہ میں تصویریں دیکھیں تو انھوں نے جواب دیا، ہاں ،میں نے وہاں حضرت مریم کی تصویر دیکھی ،اس حال میں کہ ان کی گود میں ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ تھے۔ اور یہ درمیان والے ستون میں تھی جو کہ دروازے کے ساتھ تھا۔ انھوں نے پوچھا یہ کب مٹائی گئی تو انھوں نے جواب دیا جب کعبہ میں آگ لگی اور اس کے ساتھ ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھ سے ابن دینار نے بیان کیا کہ ان تک یہ بات پہنچی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں موجود تصویروں کو مٹانے کا حکم دیا۔ یہ سند صحیح ہے اور عبد الرحمن بن مہران والی سند سے وہ عمیر مولی بن عباس سے وہ اسامہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے توآپ نے ان کو پانی لانے کا حکم دیا ۔چنانچہ وہ پانی کا ایک ڈول لے آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو پانی سے بھگویا۔ آپ اس کپڑے کو ان تصویروں پر پھیرتے جاتے او رفرماتے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے جنگ کرے گا جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جن کو انھوں نے پیدا نہیں کیا۔ابن ابی شیبہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنی تہبندیں اتار لیں اور ڈول پکڑ لیے اور زم زم کے کنوئیں سے پانی بھر بھر کر کعبہ کو باہر اور اندر سے دھویا اور مشرکین کے کسی نشان کو باقی نہ چھوڑا اور اس کو دھو دیا۔ تو ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم کی تصویر اس دھونے سے نہ مٹی ہو۔ کلام الزرقانی علی المواہب۔ اور تم اس ساری بات سے یہ جان گئے ہو کہ اس اضافے کے بطلان پریہ سب سے مضبوط شہادت ہے۔ اللہ بزرگ وبرتر اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔'' ( اخبار مکہ ۱/ ۱۶۵)