اسلام اور فنون لطیفہ


وہ فنون جو انسان کے نفسی اور جمالیاتی وجود کے لیے حظ اور تسکین کا سامان فراہم کریں ، فنون لطیفہ کہلاتے ہیں ۔ شعرو ادب ، سازر وسر ود، تصویر و تمثیل اور لہو و لہب سے متعلق تمام فنون ، فنون لطیفہ ہی ہیں۔ ہمارے ہاں ، بالعموم یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اسلام انھیں ناپسند کرتا ہے ۔ ان میں سے بالخصوص تصویر اور موسیقی کے بارے میں حتمی ، طور پر کہا جاتا ہے کہ دین میں یہ چیزیں بالکل ممنوع ہیں ۔ مذہبی حلقے تصویر اور موسیقی سے متعلق تمام فنون کو دین اور فطرت سے انحراف کا نتیجہ قرار دیتے اور ان سے مطلق گریز ہی کی تلقین کرتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس معاملے میں اسلام کی صحیح تعبیر نہیں ہے ۔ یہاں ہم تصویر او رموسیقی کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر مختصر طور پر پیش کر رہے ہیں ۔

تصویر کے حوالے سے اگر قرآن مجید کی طرف رجوع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تصویر کی حرمت کہیں بیان نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، اس میں مثبت طور پر ، تصویر کا ذکر موجود ہے ۔ سورۂ سبا میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے تابع فرمان جنوں کے ذریعے سے تصویریں بنواتے تھے ۔ یہ تصویریں ان کے دربار میں آویزاں ہوتی تھیں ۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر جیسی جلیل القدر ہستی جو فطرت صالحہ کا بہترین مظہر ہوتی ہے ، کوئی ایسا عمل نہیں کر سکتی ، جو دین وشریعت کے خلاف ہو ۔

دوسری طرف کتب حدیث میں ہمیں متعدد ایسی روایات ملتی ہیں ، جو تصویر کی حرمت بیان کرتی ہیں ۔ جب ہم اس موضوع کی تمام روایات جمع کر کے ، ان کے پس منظر پر غور کرتے اور انھیں ان کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھتے ہیں ، تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تصاویر کو درحقیقت بتوں کی سی حیثیت حاصل تھی ۔ وہ اسی طرح پوجی جاتی تھیں جس طرح بت پوجے جاتے تھے ۔ اہل عرب اپنے دیوتاؤں کی شبیہیں بنا کر ان کی پرستش کرتے تھے ۔ وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے انھیں پکارتے ، مشکلات میں ان سے مدد طلب کرتے اور عبادت کے لیے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔کعبۃ اللہ کی دیواروں پر ، اسی نوع کی بہت سی تصویریں کندہ تھیں ۔ بعض دوسری ہستیوں کے علاوہ ، ان دیواروں پر حصرت ابراہیم اور حصرت اسماعیل علیھما السلام کی تصاویر بھی کندہ تھیں۔ اہل کلیسا کا معاملہ بھی مختلف نہ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی روایت کے مطابق ، کلیساؤں کی دیواروں پر حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیھما السلام کی تصویریں آویزاں تھیں اور لوگ ان کے آگے سجدہ ریز ہوتے تھے ۔

ان احادیث کے پس منظر اور سیاق و سباق پر غور کے بعد ، جب ہم ان کے الفاظ پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض روایتوں میں ممنوعہ تصویروں کے لیے 'ھذہ الصور' (یہ تصویریں) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ یہاں 'ھذہ' (یہ) کے استعمال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان سے مراد، کچھ مخصوص نوعیت ہی کی تصویریں ہیں ۔ بلا تخصیص، ہر طرح کی تصویریں ان سے ہرگز مراد نہیں ہیں۔

احادیث پر اس غورو خوض کے نتیجے میں ، دو باتیں ، صاف طو رپر ، معلوم ہوتی ہیں : ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تصاویر مشرکانہ عقاید ہی کا بدترین مظہر تھیں ، اور دوسرے یہ کہ روایات کے الفاظ خاص نوعیت کی مشرکانہ تصاویر ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معاشرے میں توحید کی دعوت لے کر کھڑے ہوئے تھے ۔ آپ کے منصب کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ اپ معاشرے کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے اور توحید کو لوگوں کے عقیدہ و عمل میں راسخ کرنے کے لیے سعی و جہد کریں۔ چنانچہ آپ نے شرک کی بیخ کنی کے لیے ، جہاں بتوں کو توڑنے کا اعلان کیا، وہاں شرک سے آلودہ تصاویر کو بھی ، ہر لحاظ سے ممنوع قرار دیا ۔

تصاویر پر غیر مشروط پابندی کی دلیل کے طور پر اکثر صحیح بخاری کی یہ روایت بیان کی جاتی ہے:

''جو لوگ یہ تصاویر بناتے ہیں، وہ قیامت کے دن سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ ان تصویروں میں جان ڈالی۔ (لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں گے)۔'' (بخاری ، کتاب اللباس)

اس حدیث میں ''یہ تصویریں'' کے الفاظ ، جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کی، خاص نوعیت کی ان تصویروں ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی پرستش کی جاتی تھی ۔ آپ نے دراصل یہ فرمایا کہ ایسی مشرکانہ تصویریں بنانے والے ، قیامت کے روز سخت سزا پائیں گے ۔ اس وقت وہ ہستیاں ان کی کوئی مدد نہیں کریں گی ، جن کی یہ تصویریرن بناتے اور انھیں نافع او رضار سمجھ کر ان سے مدد طلب کرتے تھے ۔ اس موقع پر ان سے کہ جائے گا کہ اگر وہ ہمت رکھتے ہیں تو ان تصویروں میں جان ڈال کر بھی دکھائیں ۔ یہ تقاضا ظاہر ہے کہ انھیں رسوا کرنے ہی کے لیے کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تورات نے بھی ایسی ہی تصاویر کو ممنوع قرار دیا ہے جن کے ساتھ مشرکانہ رسوم وابستہ تھیں ۔ کتاب احبار میں ہے:

''تم اپنے لیے بت نہ بنانا اور نہ تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھری کرنا اور نہ اپنے ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو۔'' (۲۶: ۱)

اس بنا پر ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ احادیث میں بیان کی گئی تصویر کی حرمت، دراصل شرک کی علت پر مبنی ہے۔ چنانچہ جن تصویروں میں یہ علت موجود ہے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی میں لازماً حرام ہیں ۔ جن تصویروں میں یہ علت موجود نہیں ہے، ان کے جائز ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ علت اگر کسی انسان کی تصویر میں جوجود ہے ، جیسے کہ مہاتما بدھ کی تصویر ، تو وہ ممنوع ہو گی ۔ یہ علت اگر کسی جانور کی تصویر میں موجود ہے ، جیسے کہ ہندوستان میں گائے کی تصویر، تو وہ ممنوع گی ۔ اور یہ علت اگر کسی بے جان کی تصویر میں موجود ہے ، جیسے کہ ہندوستان میں پیپل کے درخت کی تصویر، تو وہ بھی ممنوع ہو گی ۔

جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو اس موضوع کے حوالے سے ہم جب قرآن مجید سے رجوع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے موسیقی اور اس کے متعلقات کی حرمت بیان نہیں کی ہے۔ یہ بات البتہ قابل ذکر ہے کہ دیگر الہامی کتابوں میں سے ''زبور'' بنیادی طور پر ان حمدیہ گیتوں کا مجموعہ ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام نے بربط (قدیم طرز کا ایک ساز) پر گائے تھے ۔ اسی وجہ سے زبور کے ہر باب کے آغاز میں یہ جملہ درج ہوتا ہے : ''میر مغنی کے لیے داؤد کا مزمور ، جسے اس نے بربط پر گایا۔''

موسیقی کے حوالے سے جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس کے جواز اور حرمت، دونوں پہلووں سے روایات ملتی ہیں۔ حرمت کی روایتیں اگرچہ محدثین کے نزدیک لائق جرح و تنقید ہیں، تاہم انھیں قبول بھی کر لیا جائے تب بھی ان سے زیادہ سے زیادہ سد ذریعہ کے اصول کے تحت کسی وقتی حرمت ہی کا قانون اخذ کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موسیقی کی محفلیں اخلاق باختگی کا بدترین مظہر تھیں۔ نوجوان لونڈیاں ، شراب میں مخمور مردوں کے سامنے ناچ گانے کا مظاہرہ کرتی تھیں اور ان کے جذبات برانگیختہ کر دیتی تھیں ۔ ان محفلوں میں جذبات کی شدت کا اندازہ جنگ بدر کے بعد کے ایک واقعے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ امام بخاری کی صحیح میں بیان ہوا ہے کہ حضرت حمزہ چند انصاریوں کے ہمراہ موسیقی کی ایک محفل میں شریک تھے ۔ انھوں نے شراب بھی پی رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ نشے کی کیفیت میں تھے ۔ اس حالت میں گانے والی کے الفاظ کی پیروی کرتے ہوئے ، جذبات کی شدت میں انھوں نے قریب موجود ایک اونٹنی کے کوہان کاٹ ڈالے اور اس کا پیٹ پھاڑ ڈالا۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسانی نفوس کو آلایشوں سے پاک کیا جائے ۔ تزکیۂ نفس کے اس مقصد کے لیے یہ ضروری تھا کہ ان تمام ذرائع کو ممنوع قرار دیا جائے ، جو لوگوں کو جزبات کی برائی پر ابھارتے ہیں ۔ چنانچہ آپ نے آلات موسیقی کے ایسے استعمالات کو ممنوع قرار دیا اور معاشرے کو صحت مند خطوط پر استوار کرنے کے لیے ، ناچ گانے کی محفلوں پر پابندی عائد کر دی۔ موسیقی پر یہ پابندی ظاہر ہے کہ علی الاطلاق نہیں تھی ، بلکہ اس زمانے کے مخصوص حالات میں اور موسیقی کی مخصوص نوعیتوں کے حوالے سے تھی ۔

بعض اوقات کسی چیز کا غلط استعمال اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس پر مطلقا پابندی عائد کرنی پڑتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی موقعے پر ہماری حکومت یہ محسوس کرے کہ کوئی آلہ مثلاً وی سی آر کسی بڑے فتنے کا سبب بن رہا ہے ، تو وہ کسی خاص مدت کے لیے اس کے ہر طرح کے استعمال پر پابندی لگا سکتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے زمانے کے مخصوص حالات میں موسیقی پر پابندی عائد کرنا ، درحقیقت اسی طرح کا معاملہ تھا۔

درج بالا استدلال کی روشنی میں ، تصویر اور موسیقی کی ممانعت کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے اور یہ متعین کیا جا سکتا ہے کہ ان میں وہ کون سے مفاسد تھے جنھوں نے ان کی حلت کو حرمت میں تبدیل کیا۔ تصاویر کا مفسدہ ان سے متعلق مشرکانہ عقائد و مراسم تھے اور موسیقی کا مفسدہ اس کا اخلاق باختہ ہونا تھا۔ پہلی چیز توحید کو متاثر کرتی ہے ، جس پر دین کی اساس ہے اور دوسری چیز اخلاق کو متاثر کرتی ہے جس پر صالح معاشرت کی بنیاد ہے۔

چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ تصویر کی ممانعت مخصوص حالات میں اور بعض مخصوص نوعیتوں کے اعتبار ہی سے ہو سکتی ہے ۔ یہ اگر کوئی غیر اخلاقی رویہ پیدا نہ کریں او رمشرکانہ رجحانات کو تقویت نہ بخشیں تو سراسر جائز ہیں ۔ اسی طرح وہ موسیقی جو فوج کا مورال بلند کرتی یا لوگوں میں اچھے جذبات پیدا کرتی ہے ، ممنوع نہیں ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد ''غبار خاطر'' میں لکھتے ہیں:

''اس بات کی عام طو رپر شہرت ہو گئی ہے کہ اسلام کا دینی مزاج فنون لطیفہ کے خلاف ہے ، اور موسیقی محرمات شرعیہ میں داخل ہے ، حالانکہ اس کی اصلیت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ فقہا نے سدو مسائل کے خیال سے اس بارے میں تشدد کیا ، اور یہ تشدد بھی باب قضا سے تھا نہ کہ تشریع سے ۔ قضا کا میدان نہایت وسیع ہے ، ہر چیز جو سوئے استعمال سے کسی مفسدہ کا وسیلہ بن جائے قضاء رد کی جا سکتی ہے ۔ لیکن اس سے تشریع کا حکم اصلی اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا۔ '' (۳۶۳)

تصویر اور موسیقی کے علاوہ دیگر فنون لطیفہ کے بارے میں بھی اسلام کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ یہ علی الاطلاق ممنوع نہیں ہیں ۔ یہ ان کا غلط استعمال ہے جس کی وجہ سے یہ بعض حالات میں ممنوع قرار دیے جا سکتے ہیں۔

____________