اسلام اور فطرت


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ۱، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا، وَعَلٰی جَنْبَتَيْ الصِّرَاطِ سُورَانِ۲، فِیْہِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَۃٌ، وَعَلَی الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاۃٌ، وَعَلٰی بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ یَقُوْلُ: أَیُّہَا النَّاسُ، ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِیعًا، وَلَا تَتَعَرَّجُوا، وَدَاعٍ یَدْعُو مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ یَفْتَحُ شَیْءًا مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ، قَالَ: وَیْحَکَ لَا تَفْتَحْہُ، فَإِنَّکَ إِنْ تَفْتَحْہُ تَلِجْہُ، وَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ، وَالسُّورَانِ: حُدُوْدُ اللّٰہِ، وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَۃُ: مَحَارِمُ اللّٰہِ، وَذٰلِکَ الدَّاعِي عَلَی رَأْسِ الصِّرَاطِ: کِتَابُ اللّٰہِ، وَالدَّاعِي مِنِ فَوْقَ الصِّرَاطِ: وَاعِظُ اللّٰہِ فِي قَلْبِ کُلِّ مُسْلِمٍ''.

نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستے کی مثال دی ہے کہ اُس کے دونوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں۔دونوں میں دروازے کھلے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔راستے کی ابتدا میں ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ لوگو، سب اندر آ جاؤ اور راہ چھوڑ کر کراہ نہ چلو۔ اور راستے کے اوپر بھی ایک منادی ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر دروازوں کا پردہ کچھ بھی اٹھانا چاہتا ہے تو وہ پکار کر کہتا ہے:خبردار،پردہ نہ اٹھانا، اِس لیے کہ اٹھاؤ گے تو اندر چلے جاؤ گے۔ سو یہ راستہ اسلام ہے، دیواریں اللہ کے حدود ہیں، کھلے ہوئے دروازے اُس کی قائم کردہ حرمتیں ہیں، راستے کی ابتدا میں پکارنے والی، وہ خدا کی کتاب ہے،اوراوپر سے پکارنے والا منادی خدا کا وہ واعظ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہے ۔۱

________

۱۔ یہ ٹھیک اُسی حقیقت کا بیان ہے جو قرآن مجید نے 'وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا. فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَ تَقْوٰھَا' (اور نفس اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی) کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح قرآن خدا کا الہام ہے، اُسی طرح کا ایک الہام خدا نے انسان کی فطرت میں بھی کیا ہے۔ چنانچہ دین کی ہدایت وہ اصلاً اپنے خالق کی طرف سے لے کر آتا ہے۔ قرآن اُسی ہدایت کی یاددہانی ہے اور دونوں میں اِس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ فطرت میں جو کچھ بالاجمال ودیعت ہے، قرآن اُس کی تفصیل کر دیتا ہے۔ تاہم فطرت کی یہ ہدایت خدا کی منادی اُسی وقت بنتی ہے، جب انسان اپنے دل و دماغ کو مسلمان بنا لیتا ہے۔ اِس کے لیے اصل میں 'في قلب کل مسلم' کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں 'قلب' کے لیے 'مسلم' کی تخصیص اِسی بات پر دلالت کے لیے ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کو مسند احمد،رقم ۱۷۶۳۴سے لیا گیاہے۔اِس کے راوی نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:سنن ترمذی، رقم۲۸۰۵۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۰۷۱۹۔مشکل الآثار، طحاوی، رقم۱۸۰۰، ۱۸۰۱۔

۲۔سنن تر مذ ی ،رقم،۲۸۰۵ یہاں 'سُورَان' کے بجاے 'دَارَان' نقل ہوا ہے،یعنی دوگھر۔

—۲—

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ،۱ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟ فَقَالَ: ''الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِي صَدْرِکَ۲، وَکَرِہْتَ أَنْ یَّطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ''.

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: نیکی حسن اخلاق کا نا م ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹک پیدا کر دے اور تم یہ پسند نہ کرو کہ دوسرے لوگ اُسے جانیں۔۱

________

۱۔ خیر و شر کے بارے میں یہ فطرت کی گواہی کی طرف اشارہ ہے۔ انسان اگر شب و روز اِس کو خاموش کر دینے میں نہ لگا رہے تو یہ ہر وقت اُس کو میسر ہوتی ہے اور بہت سے معاملات میں بالکل فیصلہ کن ہو جاتی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح مسلم، رقم ۴۶۳۸ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

مصنف ابن ابی شیبہ ۲۴۷۵۱۔مسنداحمد، رقم۱۷۲۹۱، ۱۷۲۹۲، ۱۷۲۹۳۔ سنن دارمی، رقم ۲۷۰۴۔ الادب المفرد، رقم ۲۹۳، ۳۰۰۔ صحیح مسلم، رقم ۴۶۳۹۔ سنن ترمذی، رقم۲۳۲۴۔مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۴۶۳۸۔ صحیح ابن حبان،رقم ۴۰۲۔السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم ۱۹۱۳۹۔

۲۔سنن ترمذی،رقم۲۳۲۴میں 'صَدْرِکَ' کے بجاے 'نَفْسِکَ' نقل ہوا ہے۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر.

أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ.

أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________