اسلام اور مصوری جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر۔ (4)


خلاصۂ مباحث

اسلام اور مصوری کے زیر عنوان گزشتہ مباحث میں جو باتیں سامنے آئی ہیں ، نکات کی صورت میں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

۱۔ مصوری مباحات فطرت میں سے ہے۔

۲۔ قرآن مجید سے اس کی فطری اباحت کی تصدیق ہوتی ہے ، کیونکہ اس کتاب میں اللہ کے ایک پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تصویریں بنوانے کا ذکر ہوا ہے۔

۳۔ بائیبل سے بھی اس کی اباحت معلوم ہوتی ہے۔ اس میں مذکور ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی عبادت گاہ میں فرشتوں اور بعض حیوانات کی تصویریں بنوائی تھیں۔

۴۔ احادیث سے بھی مصوری کی اباحت ہی کا حکم مستنبط ہوتا ہے۔ ان میں بیان ہوا ہے کہ:

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنی صاحب زادی کے گھر پر تصویر والا پردہ لٹکانے سے منع کیا، مگر وہی پردہ کسی اور کو استعمال کرنے کے لیے بھجوا دیا۔ اپنے اور اپنی صاحب زادی کے دروازے پر اس پردے کو لٹکانے سے منع کرنے کا سبب روایت میں تصویر کی حرمت نہیں ، بلکہ تزئین و آرایش بیان ہوا ہے۔

o آپ کے سامنے سیدہ عائشہ کی گڑیاں اور کھلونے موجود رہے ، مگر آپ نے ان کی نکیر نہیں فرمائی۔

o آپ نے بیٹھنے کے لیے ایک ایسے تکیے کو استعمال کیا جس پر تصویر بنی ہوئی تھی۔

o ایک موقع پر آپ نے سیدہ کو تصاویر والا پردہ سرکانے کا حکم دیا اور اس کا سبب تصویر کی حرمت نہیں، بلکہ نماز میں توجہ بٹنا بتایا۔

ان نکات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مصوری کو دین و شریعت نے ہر گز ممنوع قرار نہیں دیا۔ چنانچہ اس کی تمام انواع اصلاً جائز ہیں۔البتہ اسلام نے اس فن کے ان تمام مظاہر کو حرام قرار دیا ہے جو شرک سے وابستہ یا مشرکانہ مراسم کی عکاسی کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید، بائیبل اور احادیث میں ایسے مجسموں، شبیہوں اور تصویروں کو شنیع قرار دیا گیا ہے جومشرکانہ عقائد اور مراسم سے کوئی علاقہ رکھتی تھیں۔قرآن ، بائیبل اور احادیث کے حوالے سے اہم نکات یہ ہیں :

۱۔ قرآن مجید میں اس شناعت کے ضمن میں حسب ذیل چیزیں بیان ہوئی ہیں :

o سورۂ انبیا میں نقل ہوا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ یہ کیا مورتیں ہیں جن پر تم دھرنا دیے بیٹھے ہو، کیا اللہ کے سوا تم ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو تم کو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں، تف ہے تم پر بھی اور ان چیزوں پر بھی جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔

o سورۂ نجم میں لات، منات اور عزیٰ کی تماثیل کے حوالے سے عربوں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں ۔ اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔

o سورۂ اعراف میں مشرکین کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو ، نہ وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں، تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمھاری طرف تاک رہے ہیں، لیکن انھیں کچھ بھی سوجھتا نہیں ہے۔

۲۔ بائیبل میں مشرکانہ پہلو سے مصوری کی شناعت کے مقامات حسب ذیل ہیں:

o یرمیاہ میں اہل بابل کو تنبیہ کرتے ہوئے ان کے ملک کو ''تراشی ہوئی مورتوں کی مملکت'' کہا گیا ہے اور ان مورتوں کو باطل قرار دے کر ان کی بربادی کا اعلان کیا گیا ہے۔

o یسیعاہ میں بیان ہوا ہے کہ جو لوگ ان مورتوں اور بتوں پر ایمان رکھتے اور انھیں اپنے معبود کا درجہ دیتے ہیں، انھیں بالآخر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

o احبار اور بعض دوسرے مقامات پر بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کی سلطنت میں بت پرستی پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور عبادت کی غرض سے کوئی مورت اور شبیہ نہ بنائی جائے۔

o تورات کے بعض مقامات پر جہاں مورتیں بنانے اور خداکے ماسوا کسی کو معبود بنانے کا ذکر ہوا ہے، وہاں ان مشرکانہ افعال پر تنبیہ کرتے ہوئے خدا کی صفت غیرت کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ چنانچہ خروج میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوا ہے کہ:

''میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پریا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنااور نہ ان کی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔''

o استثنا میں نقل ہوا ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے لاویوں کو یہ حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے سب لوگوں سے کہیں کہ:

''لعنت اس آدمی پر جوکاری گری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اس کو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے۔''

o زبور میں بتوں کی بے ثباتی اور بے وقعتی کو نہایت دل نواز انداز میں بیان کیا گیا ہے اور انھیں نطق، بصارت اور سماعت کی صلاحیتوں سے محروم قرار دیا گیا ہے۔

۳ ۔ احادیث میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o جس گھر میں (پوجی جانے والی ) تصاویر ہوں ، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

o وہ شخص نہایت درجہ ظالم ہے جو اللہ کی طرح وصف تخلیق کا حامل ہونے کے زعم میں مبتلا ہواور اس بنا پر(پتھر تراش کر) اس کی مخلوقات جیسی مخلوقات بنانے کی کوشش کرے۔

o (پوجی جانے والی تصویریں بنانے والے)مصور ملعون ہیں۔ قیامت میں انھیں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

o (بتوں کی تکریم کے لیے ان کی ) نصب کی ہوئی تماثیل مکروہ ہیں۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس چیز کو توڑ دیتے جس پر (مشرکانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی)صلیب کی تصویر بنی ہوتی۔

o اہل کلیسا میں سے وہ لوگ جو قبروں پر عبادت گاہیں تعمیر کرتے اور ان میں ( پرستش کی غرض سے سیدنا مسیح علیہ السلام اور سیدہ مریم علیہا السلام ) کی تصویریں بناتے ہیں، قیامت میں بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔

o قیامت میں سب لوگ اپنے اپنے معبود کی پیروی میں چلیں گے۔(غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں میں سے)صلیب کے پجاری صلیب کی، تصاویر کے پجاری تصاویر کی اور آگ کے پجاری آگ کی پیروی میں چلیں گے۔

o بیت اللہ میں ۳۶۰ تماثیل اور تصاویر تھیں۔ ان کی پرستش کی جاتی تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تصویروں کو مٹانے اورمجسموں کو نکالنے کا حکم دیا اور آپ اس وقت تک اندر داخل نہیں ہوئے جب تک اللہ کے گھر کو ان سے پاک نہیں کر دیا گیا۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر(پوجی جانے والی) تصویر اور مجسمے کو مٹا دیا جائے اور ہر (پوجی جانے والی) قبر کو سطح زمین کے برابر کر دیا جائے۔

______

مصوری کی حرمت کے استدلال کا جائزہ

مصوری کے حوالے سے ہمارے فقہا کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جان دار مخلوقات کی تصاویر حرام اوربے جان مخلوقات کی جائز ہیں۔ اس نقطۂ نظر کی اساس وہ روایتیں ہیں جن میں اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور ایسی چیزوں کی تصویر بنانے سے منع کیا گیا ہے جن میں روح پائی جاتی ہے۔ اس ضمن میں فقہ کی کتابوں سے چند نمائندہ اقتباسات حسب ذیل ہیں:

قال اصحابنا و غیرہم تصویر صورۃ الحیوان حرام اشد التحریم و ہو من الکبائر وسواء صنعہ لما یمتہن او لغیرہ فحرام بکل حال لأن فیہ مضاہاۃ لخلق اﷲ وسواء کان فی ثوب أو بساط أو دینار أو درہم أو فلس أو إناء أو حائط و اما ما لیس فیہ صورۃ حیوان کالشجر و نحوہ، فلیس بحرام و سواء کان فی ہذا کلہ ما لہ ظل و ما لا ظل لہ و بمعناہ. قال جماعۃ العلماء مالک و الثوری و أبو حنیفۃ و غیرہم و قال القاضی إلا ما ورد فی لعب البنات و کان مالک یکرہ شراء ذلک.( عمدۃ القاری ۲۲/ ۷۰)

''ہمارے اصحاب (فقہا ے احناف) اور ان کے علاوہ دوسرے فقہا کہتے ہیں کہ جان دار کی تصویر بالکل حرام ہے ۔ اسے بنانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ یہ حرمت ہر صورت میں ہے ، خواہ تصویر اہانت کے مقام پر رکھنے کے لیے بنائی گئی ہو یا عظمت کے مقام پر رکھنے کے لیے ، کیونکہ اس میں خدا کی تخلیق کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ تصویر خواہ کسی کپڑے ، بچھونے، دینار، درہم ، پیسے، برتن یا دیوار پر بنی ہو،حرمت میں سب برابر ہیں۔ البتہ اگر اس تصویر میں کسی جان دار کی شکل نہ ہو تو پھر یہ حرام نہیں ہے۔ (جو تصاویر حرام ہیں ان میں ) حرمت کا معاملہ یکساں ہو گا، خواہ وہ مجسمہ ہوں جس کا سایہ ہو سکتا ہے یا ایسی تصاویر ہوں جن کا سایہ ہو ہی نہیں سکتا۔تصویر کے معاملے میں یہی رائے علما کی اس جماعت کی بھی ہے جس میں امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور دوسرے علما شامل ہیں۔ البتہ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لڑکیوں کی گڑیاں اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ جب کہ امام مالک رحمہ اللہ ان کی خرید و فروخت کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔''

وقالوا کرہ علیہ السلام ما کان سترا ولم یکرہ ما یداس علیہ ویوطأ بہذا قال سعد بن ابی وقاص وسالم وعروۃ وابن سیرین وعطاء وعکرمۃ قال عکرمۃ یوطأ من الصورۃ ہوذل لہا وہذا اوسط المذاہب وبہ قال مالک والثوری وابوحنیفۃ والشافعی. (عمدۃ القاری ۱۰ /۳۱۳)

''حضرات صحابہ وتابعین نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تصاویر کو ناپسند کیا ہے جو پردہ کی صورت میں (معلق اور کھڑی) ہوں اور ان تصاویر کو ناپسند نہیں کیا جو پامال ہوں اور ان پر بیٹھا یا لیٹا جائے۔ یہی قول حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سالم بن عبد اللہ اور عروہ اور ابن سیرین کا اور حضرت عطاء اور عکرمہ کاہے ۔ عکرمہ نے فرمایا کہ جو تصاویر پاؤں میں روندی جائیں یہ ان کی ذلت ہے۔ یہ رائے سب سے بہتر اور معتدل ہے ۔ یہی مذہب امام مالک ، سفیان ثوری اور ابو حنیفہ وشافعی کا ہے ۔ ''

قال اصحابنا وغیرہم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم وہو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بہذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث وسواء صنعہ بما یمتہن او بغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاہاۃ بخلق اللّٰہ تعالٰی وسواء ما کان فی ثوب او بساط او درہم او دینار او فلس او اناء او حائط او غیرہا واما تصویرصورۃ الشجر ورحال الابل وغیرہ ذلک مما لیس فیہ صورۃ حیوان فلیس بحرام ہذا حکم نفس التصویر واما اتخاذ المصور فیہ صورۃ حیوان فان کان معلقا علی حائط او ثوبا ملبوسا او عمامۃ ونحو ذلک مما لا یعد ممتہنا فہو حرام وان کان فی بساط یداس ومخدۃ ووسادۃ نحوہا مما یمتہن فلیس بحرام ولا فرق فی ہذا کلہ بین مالہ ظل و ما لا ظل لہ ہذا تلخیص مذہبنا فی المسئلۃ وبمعناۃ قال جماہیر العلماء من الصحابۃ والتابعین ومن بعدہم وہو مذہب الثوری ومالک وابی حنیفۃ وغیرہم.(نووی مع مسلم ۲ /۱۹۹)

''ہمارے (مسلک شافعی کے) فقہا اور ان کے علاوہ دوسرے علما فرماتے ہیں کہ جان دار کی تصویر بالکل حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ اس پر وہ وعید شدید وارد ہوئی ہے جو احادیث میں آئی ہے۔یہ حرمت ہر صورت میں ہے ، خواہ تصویر توہین کے مقام پر رکھنے کے لیے بنائی گئی ہو یا شرف کے مقام پر رکھنے کے لیے، کیونکہ اس میں خدا کی تخلیق کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ تصویر خواہ کسی کپڑے ، بچھونے ، درہم ، دینار، پیسے ، برتن ، دیوار یا کسی اور چیز پر بنی ہو،حرمت میں سب برابر ہیں اور جہاں تک درخت کی یا پالان کی یا ایسی ہی دوسری اشیا کی تصاویر کا تعلق ہے ، جن میں روح نہیں ہوتی، تو وہ تصاویر حرام نہیں ہیں۔ یہ حکم تو تصویر بنانے کے بارے میں ہے۔جہاں تک اس چیز کے استعمال کا تعلق ہے ،جس پر کسی جان دار کی تصویر بنی ہو، وہ شے اگر دیوار پر معلق ہے یا وہ پہنا ہوا لباس ہے یا عمامہ ہے یا اس کی مثل کوئی اور ایسی چیز ہے ، جو عموماً ذلیل و حقیر نہیں سمجھی جاتی، تو اس چیز کا استعمال حرام ہے۔ اور اگر جان دار کی یہ تصویر کسی بچھونے پر ہے جسے روندا جاتاہے یا گدے اور تکیے پر یا اس کی مثل کسی ایسی چیز پر ہو جو عموماً پامال ہوتی ہے ،تو اس چیز کا استعمال حرام نہیں اور اِن سب تصاویر میں اس پہلو سے کوئی فرق نہیں کہ وہ مجسم ہوں جن کا سایہ پڑتا ہے یا وہ محض رنگ و نقش ہوں، جن کا سایہ نہیں ہوتا۔ تصویر کے معاملے میںیہ ہمارے مذہب کا خلاصہ ہے۔ اسی کی مثل صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین رحمہم اللہ اور ما بعد کے اکثر علماکی رائے ہے۔ امام ثوری، امام مالک ، امام ابوحنیفہ اور ان کے علاوہ دوسرے علما کا مذہب بھی یہی ہے۔''

فقہا کے درج بالا نقطہ ہاے نظر خلاصہ نکات کی صورت میں حسب ذیل ہے:

o جان دارمخلوقات مثلاً انسان یا حیوان کی تصویر حرام ہے اور اسے بنانا گناہ کبیرہ ہے۔

o یہ حرمت ہر صورت میں ہے ،خواہ تصویر مجسم ہو یاکسی چیز پر نقش ہو۔

o یہ حرمت ہرحال میں ہے ، خواہ تصویرمحل عظمت میں ہو یا محل اہانت میں۔

o بے جان اشیا مثلاً درخت یا پہاڑ کی تصویر جائز ہے اور اسے بنانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

بعض فقہا کے نزدیک جان دار تصویروں کی حرمت سے دو طرح کی تصویریں مستثنیٰ ہیں:

ایک وہ جو محل اہانت میں پامال ہوں۔

دوسری وہ جو کھلونوں اور گڑیوں کی صورت میں بچوں کے کھیلنے کے لیے استعمال ہوں۔

جان دارکی تصویروں کی حرمت کے حوالے سے فقہا کے استدلال کا زیادہ تر انحصار ان روایتوں پر ہے جن میں یہ باتیں بیان ہوئی ہیں: ۵۸؂

۱۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میرے مخلوقات بنانے کی طرح مخلوق بنانے نکل کھڑا ہو۔

۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں ان سے کہا جائے گا کہ انھیں زندہ کر کے دکھاؤ۔

۳۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے تصویر بنائی اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونکو۔ چنانچہ ایک مصور کے استفسار پر حضرت ابن عباس نے اس فرمان نبی کی روشنی میں اس کو نصیحت کی کہ اگر تجھے تصویر بنانی ہی ہے تو درخت کی بنا لے ، ایسی چیز کی تصویر نہ بنا جس میں روح ہوتی ہے۔

ان روایتوں کی بنا پر یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جان دار کی تصویر حرام ہے۔ ہمارے نزدیک ان روایتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ روایتوں کا پس منظر اور ان کے متون یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مانع ہیں۔ جہاں تک پس منظر کا تعلق ہے تو اس کے حوالے سے مختلف تفصیلات ہم نے ''احادیث اور مصوری کی شناعت''کے زیر عنوان گزشتہ بحث میں نقل کر دی ہیں۔ ان کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چونکہ عرب مصور بتوں اور ان کی تصویروں کو بے روح قالب کے طور پر نہیں ، بلکہ زندہ وجود کے طور پر بناتے اور ان میں روحوں کے حلول کے قائل تھے، اس لیے انھیں بطور تنبیہ یہ کہا گیا کہ جن جمادات کو تم زندہ اور حامل روح خیال کرتے ہو ، قیامت میں تمھیں سزا کے طور پر ان کوزندہ کرکے دکھانے اور ان کے جسد میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا۔ ۵۹؂

یہاں ہم مختصر طور پر یہ بیان کریں گے کہ مذکورہ روایتوں کے متون کس طرح یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مانع ہیں کہ جان دار کی تصویر حرام ہے۔

ایک روایت یہ ہے:

سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول قال اللّٰہ عزوجل ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی. فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ .(مسلم ، رقم ۲۱۱۱)

''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعا لیٰ فرماتے ہیں: اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا، جو میرے مخلوق بنانے کی طرح مخلوق بنانے نکل کھڑا ہوا۔ (ایسی جسارت کرنے والوں کو چاہیے کہ) وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیںیا گندم یا جو کا ایک دانہ ہی تخلیق کر کے دکھا دیں۔''

ہمارے نزدیک اس روایت سے حسب ذیل پہلووں کی وجہ سے جان دار کی تصویر کی حرمت کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا:

اولاً، اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے کے الفاظ کا مصداق تصویر کو ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔کسی انسان کے مجسمے، شبیہ یا تصویر کو انسان کا عکس یا نقش تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس کے مانند مخلوق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جیسی مخلوق بنانے سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا وجود بنایا جائے جو گوشت پوست سے بنا ہو،متحرک ہو، کھاتا پیتا، جیتا جاگتا، سنتا بولتا ہو اور ارادہ و اختیارکا مالک ہو۔ یہ خصائص چونکہ ادنیٰ درجے میں بھی کسی تصویر یا مجسمے میں نہیں ہوتے، اس لیے اسے کسی طرح بھی اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے سے تعبیر نہیں کیاجا سکتا۔چنانچہ ' یخلق خلقا کخلقی ' کے الفاظ سے جان دار کی تصویر مراد لینا تو دور کی بات ہے ، تصویر مراد لینا بھی مشکل ہے۔

ثانیاً، برسبیل تنزل اگر ان الفاظ سے تصویر کا مفہوم مراد لے بھی لیا جائے تب بھی جان دار کی تخصیص تو کسی حال میں نہیں ہو سکتی ۔ اس کی وجہ یہ بدیہی حقیقت ہے کہ لفظ مخلوق کا اطلاق جس طرح جان دار اشیا پر ہوتا ہے، اسی طرح بے جان اشیا پر بھی ہوتا ہے۔انسان اور حیوان کوبھی اللہ نے تخلیق کیا ہے اور شجر و حجر بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ یعنی جمادات اور نباتات میں سے کسی چیز کو اللہ کی مخلوق کے زمرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔

مزید براں ' یخلق خلقا کخلق' کے دائرے سے جمادات یعنی بے جان چیزوں کو خارج کرنے میں اسی روایت کے یہ الفاظ حارج ہیں: ' فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ' ''وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیںیا ایک دانہ یا ایک جو ہی تخلیق کر کے دکھا دیں''۔ یہاں ذرے ، دانے اور جو کا ذکر اللہ کی تخلیق کے طور پر آیا ہے اور یہ چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر تخلیق کرنے کا دعویٰ رکھتے ہو تو اللہ کی ان نہایت چھوٹی مخلوقات کو تو بنا کر دکھاؤ۔ یعنی اگر تم ' یخلق خلقا کخلقی' کے مصداق انسانوں اور حیوانوں جیسی میری عظیم الشان مخلوقات بنانے کے دعوے دار ہو تومیری ہی بنائی ہوئی چند چھوٹی مخلوقات مثلاً مٹی کا ذرہ اور اناج کا دانہ ہی بنا کر دکھاؤ۔گویا ذرہ ، دانہ اور جو بنانا ' یخلق خلقا کخلقی' کا عین مصداق ہے۔ یہ تینوں اشیا ،ظاہر ہے کہ بے روح ہیں اورمن جملۂ حیوانات نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ روایت کے اپنے الفاظ جان دار کی تخصیص کرنے میں مانع ہیں، بلکہ اگر کوئی شخص اس روایت سے تخصیص کا حکم نکالنا بھی چاہے تو اسے جان دار کی نہیں، بلکہ ان تین مثالوں کی بنا پر بے جان کی تخصیص کرنی ہو گی۔

دو مزید روایتیں یہ ہیں:

عن عائشۃ... فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اصحاب ھذہ الصور یعذبون ویقال لھم احیوا ما خلقتم.(مسلم ، رقم ۲۱۰۷)

''سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ان تصاویروالوں کو عذاب دیا جائے گااور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے تخلیق کیا ہے، اسے زندہ کرو۔''

عن سعید بن ابی الحسن قال کنت عند ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما اتاہ رجل فقال یا ابا عباس انی انسان انما معیشتی من صنعۃ یدی وانی اصنع ھذہ التصاویر فقال ابن عباس لا احدثک الا ما سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول سمعتہ یقول من صور صورۃ فان اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیھا الروح و لیس بنافخ فیھا ابداً فربا الرجل ربوۃ شدیدۃ واصفر وجھہ فقال ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح. (بخاری، رقم۲۲۲۵)

''سعید بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھاکہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا اے ابن عباس ،میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بس اپنے ہاتھ کے ہنر ہی سے روزی کمانی ہے۔اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس ضمن میں تم سے وہی بات بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کوئی تصویر بنائی، اللہ اس کو لازماًعذاب دے گا۔ یہاں تک کہ اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکو، لیکن وہ اس میں کبھی روح نہ پھونک سکے گا۔ وہ شخص یہ سن کر ششدر رہ گیا اور اس کا چہرہ زرد پڑگیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (یہ دیکھ کر) کہا ، تیرا ناس ہو، اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے، تو تو اس درخت کی بنا لے، تصویر بس اسی چیز کی بنایا کر، جس میں روح نہیں ہوتی۔''

ہمارے نزدیک ان روایتوں سے بھی جان دار کی تصویر کی حرمت کا مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے وجوہ حسب ذیل ہیں:

اولاً،اگر ان روایتوں کے الفاظ پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان میں جان دار یا بے جان کا مسئلہ سرے سے زیربحث ہی نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہاں حامل روح ہونے یا نہ ہونے یعنی زندہ ہونے یا نہ ہونے کی بات ہو رہی ہے ۔' یقال لھم احیوا ما خلقتم' ''ان سے کہا جائے گاکہ جو تم نے بنایا ہے ،اسے زندہ کرو''، 'حتی ینفخ فیھا الروح و لیس بنافخ فیھا ابدا' ''حتیٰ کہ اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکو،لیکن وہ اس میں کبھی روح نہ پھونک سکے گا '' کے جملے اسی حقیقت کو واضح کر رہے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ بے روح جمادات کو مورتوں میں تشکیل دے کر ان میں فرشتوں، جنوں اور انسانوں کی روحیں ڈالنے کے زعم میں مبتلا ہیں، قیامت میں اللہ انھیں چیلنج کرے گا کہ ان میں فی الواقع روحیں ڈال کر دکھاؤ۔گویاکہ اللہ فرمائے گا کہ میں نے مخلوقات کے اجسام بنائے ، پھر ان میں روح پھونکی، پھر ان پر موت طاری کی اور ان کی روح قبض کی اور اب روز قیامت ان کے مردہ اجسام کو دوبارہ کھڑاکر کے ان میں از سر نو روح ڈالی ہے اور انھیں ایک مرتبہ پھرمردہ سے زندہ میں تبدیل کر دیاہے۔ تم بھی دنیا میں اس امر کا دعویٰ کرتے رہے ہو، اب یہ لکڑی، مٹی، پتھراور سونے چاندی کی مورتیں تمھارے سامنے مردہ پڑی ہیں۔ اگر تمھارے دعوے میں حقیقت ہے تو ان میں روح پھونکو اور انھیں زندہ کر کے دکھاؤ۔

بخاری کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ بھی اسی بات کی تصدیق کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے : 'الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح' ''اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے، تو تو اس درخت کی بنا لے ، تصویر بس اسی چیز کی بنایا کر، جس میں روح نہیں ہوتی۔'' یعنی انھوں نے مصور کو سمجھایا ہے کہ جمادات میں سے جن اشیا کے ساتھ روح کا تصور وابستہ ہے ، ان کی تصویریں نہ بنایا کر۔ جملے کے دروبست اور انتخاب الفاظ کی بنا پر قرین قیاس یہی ہے کہ سیدنا ابن عباس کے پیش نظر یہاں جان داروں یعنی حیوانات کا تذکرہ پیش نظر ہی نہیں ہے۔ اگر سیدنا ابن عباس کے پیش نظر یہی بات ہوتی تو وہ ' الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح ' کے بجائے 'الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس بحیوان' کے الفاظ استعمال کرتے۔ عربی زبان میں بالعموم جان دار کے لیے حیوان اور بے جان کے لیے غیر حیوان یا جماد کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ فقہا کے درج بالا اقتباسات میں بھی جان دار اور بے جان کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے حیوان اور غیر حیوان کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ مزید براں حیوان یعنی جان دار کا تصور اگر ذہن میں ہو تو اس کے لیے لفظ ' شیء ' بالعموم استعمال نہیں ہوتا۔ درخت کی مثال بھی اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ یعنی انھوں نے کہا کہ اس درخت کی یا جمادات و نباتات میں سے ایسی چیزکی تصویر تو بنا لیا کرو جس میں روح متصور نہیں ہوتی، مگر ایسے جمادات کی تصویر نہ بنایا کرو جس میں روح متصور ہوتی ہے، جیسا کہ لات، منات اور عزیٰ کی پتھروں سے بنی ہوئی مورتیاں ہیں۔

ثانیاً،بخاری کی روایت کے وہ الفاظ جن پر مصور اور سیدنا ابن عباس کا پورا مکالمہ مبنی ہے ، وہ یہ ہیں: 'انی اصنع ھذہ التصاویر' ' 'میں یہ تصاویربناتا ہوں'' ۔ یہاں ' ھذہ' کا اسم اشارہ جن سامنے پڑی ہوئی تصاویر کی طرف ہے ، انھی کے حوالے سے سیدنا ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بیان کیا ہے اور انھی کے بنانے سے مصور کو منع کیا ہے۔ گویا اگر یہ متعین ہو جائے کہ وہ سامنے پڑی ہوئی تصاویر کون سی ہیں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو روایت کے مدعا کو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ہمارے نزدیک ان الفاظ کو اگرروایت کے آخری الفاظ ' الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح' ''اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے تو اس درخت کی بنا لے ، ہر اس چیز کی تصویر بنا لے جس میں روح نہیں ہوتی'' کی روشنی میں سمجھا جائے تو یہ بات بہت حد تک متعین ہو جاتی ہے کہ ' ھذہ التصاویر' سے مراد وہ تصویریں ہیں جو 'لیس فیہ روح 'کے متضاد الفاظ ' کل شی ء فیہ روح'کا مصداق ہیں ۔ یعنی وہ تصویریں مراد ہیں جن میں روح ہوتی ہے۔ مشرکین عرب کے نزدیک روح کی حامل تصاویر وہی تھیں جو لات ، منات ، عزیٰ اور دوسرے ناموں سے موسوم تھیں اور جن کے اندر روحیں تصور کی جاتی تھیں۔

____________

۵۸؂ یہ روایتیں ''مصوری کی شناعت'' کے تحت زیر بحث آچکی ہیں ، یہاں ان کا بیان محض علما کے استدلال کی تنقیح کے حوالے سے ہے۔

۵۹؂ اس نقطۂ نظرپر بحث ''مصوری کی شناعت '' کے زیر عنوان تمہید اور ابتدائی روایتوں کے تحت کی گئی ہے۔