اسلام اورتبدیلی مذہب کا مسئلہ: بعض نئے مطالعات کی روشنی میں


ڈاکٹر محمد غطریف شہبازندوی*

علما کے عام حلقوں میں بعض مباحث کومفروغ عنہ اورحتمی سمجھا جاتا ہے، اگرچہ تاریخی طورپر ان پر ماضی میں بھی سوال اٹھتے رہے ہیں اوردوسری آرا بھی پائی جاتی رہی ہیں ۱؂ مگراجماع کا حوالہ دے کران کودرخوراعتنانہیں سمجھا گیا۔ موجودہ زمانہ میں نئے مطالعات اورتحقیقات کا سلسلہ ان پر چل نکلاہے اورنئی آرا بھی سامنے آئی ہیں۔ارتدادکی سزا بھی انھی مباحث میں سے ایک ہے، جس پر عصرحاضرمیں نئے انداز میں سوچنے اورلکھنے کا سلسلہ فکراسلامی میں تجدید و اصلاح کے داعیوں میں غالباًسب سے پہلے شیخ رشیدرضامصری نے شروع کیاتھا۔اب اس پر عربی ،انگریزی اور اردو میں شیخ طٰہٰ جابر علوانی ،سلیم العوا،ایس اے رحمان ،عبداللہ سعید،محمودشلتوت ،مولانامحمدعنایت اللہ سبحانی ،محترم جاوید احمد غامدی اور مولانا عمار خان ناصر وغیر ہ اہل علم وتحقیق نے بحث وگفتگوکے دائرہ کوآگے بڑھایاہے۔۲؂ اس مقالہ میں اختصارکے ساتھ نفس موضوع ،اس پر نئے مباحث اورنئے لکھنے والوں کے خیالات پیش کیے جائیں گے تاکہ اس سلسلہ میں بحث ونقدکے مزیدامکانات روشن ہوں۔

قرآن کریم مذہب وعقیدہ اورفکرونظرکی آزادی کا قائل ہے، اور 'لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ' کہہ کراس نے دین و مذہب اور عقیدہ وفکرکے بارے میں کسی بھی طرح کے جبرواکراہ اورزورزبردستی کی نفی کردی ہے۔اس کا صاف اعلان ہے کہ 'فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ'، ''جوچاہے ایمان لائے اورجوچاہے کفرکی راہ اختیارکرے'' (الکہف ۱۸: ۲۹)۔ اس کے علاوہ 'لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ'، ''تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور ہمارے لیے ہمارا'' (الکافرون ۱۰۹: ۶)، 'لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ'، ''اے نبی، تم ان پر داروغہ نہیں ہو'' (الغاشیہ ۸۸: ۲۲) اور 'وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِجَبَّارٍ فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ'، ''اے نبی، تم ان کے اوپر مسلط نہیں کردیے گئے ہو، لہٰذا قرآن کے ذریعہ ان لوگوں کویاددہانی کیے جاؤجومیری وعیدوں سے ڈرتے ہیں'' (ق۵۰: ۴۵)وغیرہ مختلف قرآنی آیات سے عدم اکراہ کو مؤکد کر دیا ہے۔ انسان کوعقل وشعوراورصحیح وغیرصحیح میں فرق و تمیزکی صلاحیت اور حق وباطل کوقبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔اوراسی میں اس کا امتحان بھی ہے ۔کئی آیات میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ اگراللہ چاہتا تو تمام انسانوں کوایمان لانے پر مجبور کردیتا ۔ بالفاظ دیگرمذہبی جبرخدائی اسکیم کے بھی بالکل خلاف ہے۔اس بات پر تمام ائمۂ فقہ اورعلماکا اتفاق ہے کہ کسی انسان کومذہب کے اختیارکرنے پر مجبورنہیں کیاجاسکتا،البتہ اختلاف اس میں ہے کہ کسی شخص کواسلام سے نکل جانے اورکوئی دوسرامذہب اختیارکرلینے کی بھی آزادی ہوگی یا نہیں؟ جمہورعلمااس کا جواب نفی میں دیتے ہیں، اورفقہ اسلامی میں یہ ایک اجماعی مسئلہ سمجھاجاتاہے کہ ایک آدمی نے اگراسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذہب وعقیدہ کواختیارکرلیاتواس کی اجازت نہیں ہوگی اوراس کی سزاموت ہوگی ۔چونکہ بعض روایات میں یہی کہاگیاہے کہ 'من بدل دینہ فاقتلوہ'، ''جو آدمی اپنادین بدل دے، اس کو قتل کر دو''۔۳؂ مولانا عنایت اللہ سبحانی اس حدیث کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:اس وقت جوبھی اپنادین بدلتاہے تو اس کوقتل کر دو (تبدیلئ مذہب اور اسلام ۱۸)۔

جہاں تک آزادی راے کی بات ہے، توفقہاکہتے ہیں کہ اس بات کی آزادی توہے کہ کوئی اسلام کوقبول نہ کرے مگرایک بار جب وہ اس کوقبول کرلیتاہے توپھراس سے نکلنے کی آزادی نہیں ہوگی ۔ظاہرہے کہ یہ کوئی عقل میں آنے والی بات نہیں ہے اورنہ کسی کوعقلاًاس با ت کا قائل کیاجاسکتاہے۔طرفہ یہ ہے کہ اتنی غیرعقلی اور unconvincing بات پر ائمہ وفقہاکا اجماع بتایا جاتا ہے، حالاں کہ خود اجلہ صحابہ میں سیدناعمرفاروق کی اورتابعین وتبع تابعین میں اس موقف کی مخالف راے بھی موجودرہی ہے، لیکن اس کا ذکریاتوبحث میں آتاہی نہیںیابہت سرسری ساآتاہے۔

جواشکالات ارتدادکی اس مزعومہ اجماعی سزاکی وجہ سے پیداہوتے ہیں، ان کی کئی توجیہات فکراسلامی کے ذخیرہ میں ملتی ہیں:

پہلی توجیہ :عام فقہااوراہل علم کی ہے جس کی ترجمانی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فرمائی ہے، اس توجیہ کے مطابق کفروشرک دراصل اللہ تعالیٰ سے بغاوت کا رویہ ہے اوراس بغاوت کوجارحانہ اقدامات سے کچل دینے کا پوراجواز موجودہے ،اس لیے کفرکومٹانے کے لیے اقدامی جنگ کی جائے گی، یعنی اپنی طرف سے اہل کفرپر بغیران کی جارحیت کے حملہ کردینے کا اوران کی قوت کومٹادینے کا جوازموجودہے اوریہ ایک اخلاقی رویہ ہے۔شاہ صاحب اوردوسرے ائمہ وفقہایوں جبرواکراہ کوشریعت کا ایک باضابطہ اصول تصورکرتے ہیں۔ اوراسی کے تحت یہ بھی آتاہے کہ کوئی شخص دین کوقبول کرلینے کے بعداس سے نکلتاہے تواس سے انتہائی سختی سے نمٹاجائے اورزمین کواس کے وجودسے پاک کردیاجائے ۔شاہ صاحب کے نزدیک یہ ایساہی ہوگا، جیسے کہ کوئی آقااپنے بیمارغلاموں کودوادینے کے لیے اپنے کسی آدمی کومامورکردے، دواکڑوی ہو چاہے، وہ بیمارپیناچاہیںیانہ چاہیں، اسے ان کودواپینے پر مجبور کرنے کا حق ہے۔۴؂ یہ توجیہ موجودہ زمانہ میں نظرثانی کی محتاج ہے اوراس کا مفصل ناقدانہ مطالعہ کرناہوگا ،تاہم مختصراً اتنا کہنا ضروری اور غالباً مناسب ہوگاکہ یہ توجیہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے جاری قانون ابتلا و آزمایش کی نفی کردیتی ہے جوکہ اِس پر مبنی ہے کہ ایمان وکفراورہدایت وضلالت کے باب میں اصل یہ ہے کہ انسان کودونوں راستے بتا کر آزاد چھوڑ دیا گیا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ اپنے لیے کون ساراستہ اختیارکرتاہے؟ اس کوعقل کی رہنمائی دی گئی، ساتھ ہی وحی الٰہی کی روشنی بھی۔ یوں ہرطرح اس پر حجت تمام کردی گئی ہے ۔اب قیامت کوانسان کے پاس خداتعالیٰ کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی عذرباقی نہیں رہے گا۔ لہٰذایہ توجیہ آج کے انسان کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔

دوسرے آیت کریمہ 'لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ'، ''دین کے معاملہ میں کوئی زورزبردستی نہیں'' (البقرہ۲: ۲۵۶)کی شان نزول کی روایات بھی اس توجیہ کوقبول کرنے سے مانع ہیں۔ان روایات کے مطابق اسلام سے پہلے بعض انصار کے بچے یہودی اوربعض کے نصرانی ہوگئے تھے۔اسلام کے آنے کے بعدان کے والدین نے اپنے بچوں کواسلام قبول کرنے پر مجبورکرناچاہاتووہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر شاکی ہوئے۔تویہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان کے والدین کوہرقسم کے جبرسے روک دیاگیا۔ ۵؂

دوسری توجیہ :اسلام کے تحفظ وبقااوردفع فساد کے اصول پر مبنی ہے، یعنی اس توجیہ کے حاملین یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام سے پلٹ جانے والااپنی ذات سے ملت اسلام کے لیے خطرہ اورنقصان کا سبب بن رہاہے۔وہ دوسرے مسلمانوں کو بھی فتنہ میں مبتلاکرسکتاہے اوراس لیے حفظ ماتقدم کے طورپر اس کوقتل کردیاجاتاہے ۔اس دوسری توجیہ کی ترجمانی مختلف طورپر کی گئی ہے۔ مثلاًاس بار ے میں امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ مرتدہونے والاگویااپنے وجودسے دوسروں کو ارتداد کی دعوت دے رہاہے، اس لیے اس کے خطرہ کا سدباب اسی طرح ہوسکتاہے کہ اس کے وجود کو مٹادیاجائے اور اس لیے اس کی سزاقتل مقررکی گئی ہے۔ ۶؂ اس میں اشکال یہ ہے کہ جیسے اہل اسلام کواپنے قومی دفاع کا حق حاصل ہے ویساہی حق دوسری قوموں کوبھی اخلاقی طورپر حاصل ہوناچاہیے۔اوران کوبھی یہ اخلاقی حق ملتاہے توپھرتودوسرے مذاہب سے پھرکرکوئی شخص اسلام کے علاوہ کوئی اورمذہب قبول کر لیتا ہے، مثلاًعیسائی یہودی ہوجائے یایہودی عیسائی تواس کا جوازبھی نہیں رہے گا؟چنانچہ بعض سلفی علما اورظواہرکا یہی مسلک ہے۔۷؂ اگرچہ جمہورعلما اس کودرست نہیں سمجھتے۔بلکہ دوسرے مذاہب سے اسلام میں آنے کا جواز بھی نہیں رہے گا۔دوسرے ارتدادکی سزاکے نفاذکے جوواقعات ملتے ہیں،وہ دورنبوی کے اخیرکے ہیں، جب کہ اہل اسلام کوقوت حاصل ہوگئی تھی اورتحفظ وبقاکا بڑاخطرہ باقی نہیں رہ گیا تھا، حالاں کہ اس توجیہ کا تقاضاتویہ تھاکہ یہ سزاابتداہی میں نافذکی جاتی ۔

جب کہ فقہاے احناف نے یہ توجیہ کی ہے کہ دراصل جب کوئی مرتدہوتاہے تووہ اسی وقت محارب بھی ہو جاتا ہے، اس کو جو سزا دی جاتی ہے، وہ دراصل محاربہ کی دی جاتی ہے، نہ کہ محض ارتدادکی ۔اس لیے ان کے ہاں مرتد عورت کی سزا قتل نہیں، بلکہ اس کوقیدکردیناہے۔چونکہ عورت محارب نہیں بن سکتی، اس لیے اس پر حرابہ کی سزاکا اطلاق بھی نہ ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ منطقی اورعقلی طورپر فقہاے احناف کی یہ توجیہ عام فقہاکے بالمقابل زیادہ قرین قیاس اور معقول ہے، تاہم اس میں پھریہ اشکال رہ جاتاہے کہ ہر مرتد کو کس بنیادپر محارب ماناجاسکتاہے ؟زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتاہے کہ وہ امکانی طور پر Potentially محارب ہے تواس کا دفعیہ اس پر جزیہ جیساٹیکس نافذکرکے کیا جا سکتا ہے، اس کی جان لینی ہی کیوں ضروری ہو؟اما م سرخسی اس طر ف گئے ہیں کہ دراصل مرتدمشرکین عرب سے مشابہ ہوگیا جن کواتمام حجت کے بعددوہی آپشن دیے گئے تھے یاتواسلام قبول کریںیاموت کا سامناکریں۔تواس مرتدنے اسلام سے پلٹ کرگویاتوہینِ دین کی اوریوں استخفاف دین کی وجہ سے وہ بھی سزائے موت کا مستحق ہوگیا۔۸؂

تیسری توجیہ :مولانامودودی کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک نظام زندگی ہے اوراس نظام میں کوئی ایساراستہ کھلانہیں رکھاجاسکتاجواس کے انتشارکا باعث بنے ۔ایسی نظریاتی ریاست کے باشندوں کا سیاسی اورنظریاتی، دونوں معنوں میں اس کا وفادارہوناچاہیے ،اسی لیے ا س میں غیرمسلم شہریوں کوبھی بدرجۂ مجبوری گوارا کیا جاتا ہے ۔اب کوئی شخص جوپہلے اس نظام میں اپنی مرضی اورآزادی سے داخل ہوا، اُس کواِس سے باہرنکلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ ایساکرنے سے ریاست کی نظریاتی بنیادوں کوخطرہ لاحق ہوجاتا ہے ۔۹؂ مولانا کے اس نقطۂ نظر پر یہ سوال پیداہوتاہے کہ اس نظریاتی نظام کے تحفظ کے لیے مرتدکی جان لیناہی کیوں لازم ہو، آپ اس کی شہریت چھین کربھی تویہی مقصدحاصل کرسکتے ہیں؟ دوسرے آپ پوری دنیامیں جوایک بین الاقوامی خلافت کے قیام کے داعی ہیں،بالفرض اس کا قیام ہوجاتاہے تو بہت بڑی تعدادمیں جودنیامیں غیرمسلم اکثریت ہے، اس کا کیاہوگا؟اس ریاست میں اگرکوئی مرتدہوجاتاہے توآپ اس کی شہریت واپس لے لیں گے تووہ جائے گاکہاں؟وغیرہ کئی اشکالات مولاناکے اِس نظریہ پرپیداہوتے ہیں جن کا کوئی Reasonable جواب نہیں ملتاہے ۔بہرحال اس بارے میں مولانانے ایک اجتہادیہ کیاہے کہ تمام فقہاوعلما کے برخلاف وہ مرتدکے لیے یہ گنجایش پیداکرتے ہیں کہ وہ اسلامی ریاست کے حدود کو چھوڑ کر چلا جائے، یوں اس کی جان بچ جائے گی۔ ۱۰؂

ایک توجیہ امام شافعی نے ''کتاب الام'' میں کی ہے اورجناب جاویداحمدغامدی اور مولانا عمار احمد خان ناصر نے اس کی مزید وضاحت کی ہے۔اوروہ یہ ہے:

کہ اس سزاکواللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت سے مربوط کیاجائے ۔یعنی اللہ کے رسول اس زمین میں اللہ کی عدالت بن کرآتے ہیں اوران کے ڈائرکٹ مخاطبین کے لیے دوہی راستے ہوتے ہیں کہ وہ یاتووقت کے رسول کی اطاعت قبول کرلیںیااس سرزمین سے ان کا وجودختم کردیاجائے۔ گذشتہ اقوام کواسی قانون حجت کے تحت دنیاسے ختم کردیاگیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں آپ کے مخاطبین کفارعرب کوآپ کے اورآپ کے ساتھیوں کے ذریعے سے عذاب کا مزہ چکھایاگیااوران کوشکست وذلت سے دوچارکیاگیا۔لیکن یہ اتمام حجت رسول کے ذریعے سے چونکہ کامل معنی میں ہوتاہے اوربعدکے لوگوں کے ذریعے سے اتنے کامل معنی میں اس کا اتمام ممکن نہیں ہے۔ اس لیے رسول اللہ کے بعداب بقیہ کفارومشرکین کے خلاف اسلام کی دعوت قبول نہ کرنے کی صورت میں جارحیت کی اجازت نہیں ہو گی۔ ان سے جنگ صرف دفاعی مقاصدکے لیے لڑی جائے گی ۔اوراسی قانون کا اطلاق مرتدکی سزاپر بھی ہوگا۔ البتہ جناب جاویداحمدغامدی صاحب اس سزاکوصرف مشرکین بنی اسماعیل کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں۱۱؂ ۔ مولانا عمار خان ناصر ان کی راے سے عمومی طورپر اتفاق کرتے ہوئے اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ اس حکم میں اس وقت کے اہل کتاب کوشامل کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔بہرحال غامدی صاحب اور مولانا عمار خان ناصر صاحب، دونوں کے نزدیک ارتدادکی سزاشریعت کا کوئی ابدی حکم نہیں ہے، بلکہ تعزیری ہے، اگرچہ عام فقہااورعلما نے اس کوابدی حکم ہی ماناہے۔۱۲؂

اور مولانا عمراحمدعثمانی نے سزائے ارتداد کا اطلاق محاربین پر کیاہے۔ان کا نقطۂ نظریہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لے آئے اوراہل کفرسے معرکہ آرائی شروع ہوگئی تواس وقت دو کیمپ واضح طورپر وجودمیں آگئے یا تو اہل ایمان تھے یاان کے دشمن اہل کفرمحاربین ۔اوراس وقت کسی شخص کا مرتدہوجانے کا مطلب ہی یہ ہوتاتھاکہ وہ محاربین میں شامل ہوگیاہے ۔اس کے محارب ہونے کی وجہ سے ہی اس کویہ سزادی جاتی تھی۔ ۱۳؂ مولاناعثمانی کا یہ موقف دراصل حنفی نقطۂ نظرسے ہی مستفادہے۔ تاہم اس سے یہ مسئلہ پھربھی حل نہیں ہوتاکہ آج کے مرتدین کے ساتھ کیامعاملہ کیاجائے گا۔عبداللہ سعیدنے اپنے مقالہ میں اس کی وضاحت یوں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اہل اسلام اوراہل کفر، دونوں ایک دوسرے کے مقابل اورمتحارب تھے، کیونکہ دونوں ہی اپنے اپنے عقیدہ و مذہب کے لیے لڑتے تھے،اس زمانہ میں پیشہ وراورریگولرآرمی کا تصورعرب میں نہ تھا۔چنانچہ کسی مسلمان کے مرتد ہو جانے کا واضح مفہوم یہی تھا کہ وہ مدینہ چھوڑکرچلاجائے اورلشکراعداء کا حصہ بن جائے ۔(دیکھیے عبداللہ سعید ص ۱۸ Textual Challenges to Death Penalty for Apostasy in Islam and the Question of Freedom of Religion)

اس سلسلہ میں عرب عالم ومفکرڈاکٹرطٰہٰ جابرعلوانی ۱۴؂ کا موقف تھوڑاساالگ ہے ۔ارتدادکے موضوع پر طٰہٰ جابر علوانی نے کتاب ''لااکراہ فی الدین: اشکالیۃ الردۃ والمرتدین'' لکھی ہے۔ان کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں ردۂ سیاسی اورردۂ اعتقادی کے درمیان فرق کیاگیاہے ۔چنانچہ انھوں نے ارتداد کی دوقسمیں کی ہیں :پہلی ردۂ اعتقادی یاردۂ فردی اوردوسری ردۂ سیاسی۔ ردۂ اعتقادی کی سزاکا محل دنیانہیں، آخرت ہے اور ردۂ سیاسی کی سزا امام کی صواب دید پر ہوگی۔ علوانی کہتے ہیں کہ قرآن میں ارتدادکی سزاکاذکرکئی جگہ آیاہے، مگرہرجگہ ان کی دنیوی عقوبت کا نہیں، بلکہ اخروی سزا کا ذکرہے۔البتہ احادیث میں اس سزاکا ذکرکیاگیاہے، مثلاً مشہور حدیث ہے: 'من بدل دینہ فاقتلوہ' (حوالہ کے لیے دیکھیے حاشیہ نمبر۳)۔ اس کے علاوہ اوربھی کئی احادیث اس ضمن میںِ ذکرکی جاتی ہیں، جن کی معقول توجیہ یہ کی جاسکتی ہے کہ وہ ان مرتدین کے بارے میں واردہوئی ہیں جوداعی الی الارتداد ہوں ،سازشی ہوں کہ بعض روایات میں وارد الفاظ: 'التارک لدینہ المفارق للجماعۃ' کے الفاظ سے اس موقف کی تائیدہوتی ہے۔سیاسی سطح پر اسلامی اجتماعیت کا سب سے بڑامظہراسلامی ریاست ہوتی ہے تو 'التارک للجماعۃ' وہ ہوگاجواسلامی ریاست کے برخلاف بغاوت کا مرتکب ہویااس کے خلاف سازش کر رہا ہو۔ ۱۔ردۂ سیاسی کی سزاامام اپنی صواب دیدسے مقرر کر سکتاہے ،ایسے مرتدین سے حالات کے تقاضے سے جنگ بھی کی جاسکتی ہے، جیسے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔ ۲۔ مگرردۂ اعتقادی کی کوئی دنیوی سزامقررنہیں ہے، کیونکہ قرآن نے مرتدین کا ذکرمتعددجگہوں پر کیاہے، مگرکہیں تصریحاً یا اشارۃً (اشارۃ النص) بھی کسی دنیوی سزا کا ذکرنہیں کیا۔روایات و آثار کی معقول ومناسب توجیہ کی جاسکتی ہو توان کی تاویل کی جانی چاہیے۔اپنے اس مدعاپر علوانی نے جومقدمہ قائم کیا ہے، اس کی تلخیص یوں کی جاسکتی ہے:

قرآن ہی حاکم ومہیمن ہے، وہی اصل نص شرعی ہے، اس سے کوئی حدیث یاکسی امام کا قول متصادم ہوتاہوتواصل قرآن کوقراردے کرمتصادم چیز کوردکردیاجائے گایااس کی مناسب توجیہ وتاویل کی جائے گی ۔یہی منہجی اوراصولی اساس ہے جس پر علوانی نے پورے مقدمہ کی بنیادرکھی ہے۔اس اصل سے یہ نتیجہ متفرع ہواکہ علوانی اصولی طورپر نہ اس کے قائل ہیں کہ سنت قرآن کومنسوخ کرسکتی ہے اورنہ اس کے کہ وہ اس کے کسی حکم کوخاص کرسکتی ہے۔اس میں انھوں نے حنفی اصول فقہ سے فائدہ اٹھایاہے ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اپنے قرآنی مسلک سے متصادم حدیثوں کو مسترد کرنے میں علوانی کوئی پس وپیش محسوس نہیں کرتے ۔ظاہرہے کہ علوانی کا یہ موقف جمہورعلماکے موقف سے متصادم توہے، مگرہے اپنے آپ میں مدلل اورباوزن ۔

اس اصل کوثابت کرکے علوانی نے قرآن کی متعددآیات نقل کی ہیں جن میں حریت دین واعتقادکوثابت کیاگیا ہے۔ ۱۵؂ کثرت سے حریت دین و عقیدہ کافائدہ دینے والی آیات کونقل کرکے علوانی نے سرسیداحمدخاں اورمعتزلہ کی طرح یہ نتیجہ نکالاہے کہ ان آیات سے متصادم کوئی حدیث یاراے قبول نہیں کی جاسکتی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ حریت اعتقاد مقاصد شرعیہ میں سے ہے اوردین کے طے کردہ ان اعلیٰ اقداراورحتمی اصولوں میں سے ہے جن کو انھوں نے قیم علیا اور مقاصد کلیہ کا نام دیاہے۔یہ قیم علیااورمقاصدکلیہ علوانی کی نظرمیں چھ، یعنی توحید،تزکیہ ،عمران ،حریت ،عدل اورمساوات ہیں۔۱۶؂ یاد رہے کہ امام غزالی ،امام الحرمین الجوینی اورشاطبی نے جومقاصدشریعت کی بات کی ہے، ان میں وہ مقاصدشریعت پانچ (بعض حضرات چھ) ذکرکرتے ہیں اورعقل ،جان، مال، نسل اور مذہب کی حفاظت کومقاصدشرع میں شمار کرتے ہیں۔۱۷؂ یوں علوانی کے ذکرکردہ مقاصدکلیہ ان حضرات کے ذکرکردہ مقاصدشرعیہ سے یک گونہ الگ ہوجاتے ہیں۔

علوانی کا نقطۂ نظریہ ہے کہ ایمان و کفر، دونوں قلبی معاملے ہیں اوریہ انسان اوراس کے رب کے درمیان کی بات ہے: 'فیما بین العبد وربہ'، اور ان پر جزا وسزاکا معاملہ سراسراخروی ہے اوراللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔آدمی ایمان قبول کرتاہے یاکفر کرتاہے۔یہ تمام ترامرخداوندی ہے، لوگوں کایااسلامی حکومت کا ا س سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اسی طرح مذہبی وعقیدہ کی آزادی مطلق آزادی ہے۔اس پر اللہ ہی حساب لے گا۔کوئی بندہ نہیں لے سکتا۔ لہٰذا مرتد کی شرعاً کوئی حدنہیں ہے۔نہ اس کوقتل کرناجائزہے ۔جن روایات سے قتل مرتدکا اثبات ہوتا ہے، وہ حریت عقیدہ کے منافی ہیں جس کوقرآنی نصوص دین کے مقاصدعلیامیں سے قراردیتے ہیں۔ لہٰذاان روایات کوردکرناچاہیے یاان کی مناسب توجیہ۔

۲۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مدت حیات میں کسی مرتدکوقتل نہیں کیا۔چونکہ علوانی کا موقف یہ ہے کہ قرآن ہی اصل مصدرشریعت ہے (المصدرالمنشئی والکاشف ۵۳)اورسنت اس کی مبین اورشارح ہے (المصدر المبین)، اس لیے کوئی ایسی روایت اس میں نہیں آسکتی ہے، نہ قبول کی جاسکتی ہے جوقرآن کے منافی ومعارض ہواوراس کے کسی حکم کو منسوخ کرتی ہو۔اورچونکہ قرآن میں تقریباً۲۰۰ آیتوں میں حریت عقیدہ وفکرکی بات کہی گئی ہے ۔ساتھ ہی متعدد آیات میں ارتداد (ردہ)کی بات کہیں صریحاً اور کہیں اشارۃً آئی ہے اورہرجگہ کافرومرتدکی اخروی عقوبت کا ہی تذکرہ ہے۔۱۸؂ مثال کے طورپر: 'وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَھُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ'، ''تم میں جوشخص اپنے دین سے پلٹ جائے اور کفرکی حالت میں اس کوموت آجائے تووہ ایسے لوگوں میں شمارہوگاجن کے اعمال دنیاوآخرت میں رایگاں ہو گئے، جو دوزخ والے ہوں گے اوراس میں ہمیشہ رہیں گے'' (البقرہ۲: ۲۱۷) اور 'اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُھُمْ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الضَّآلُّوْنَ'، ''جو لوگ ایمان لانے کے بعدکافرہوگئے، پھر اپنے کفرمیں بڑھتے ہی رہے توان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی اوروہی گم راہ ہوں گے'' (آل عمران ۳: ۹۰)۔ توسنت قرآن کا معارضہ نہیں کر سکتی۔ سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی سلول کوکیوں قتل نہیں کیا،جب کہ اس کا نفاق بالکل ظاہر و باہر تھا؟ سورۂ منافقون میں کھول کھول کراس کے بارے میں اوراس کے قبیل کے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا تھا، اس کے باوجودآپ نے ابن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ سے، جنھوں نے اپنے باپ کے قتل کی اجازت مانگی تھی، فرمایا: 'بل نحن نصحبہ ونترفق بہ ماصحبنا ولا یتحدث الناس أن محمدًا یقتل أصحابہ ولکن براباک واحسن صحبتہ'۔۱۹؂

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کئی واقعات میں ردہ کے بعدقتل کی اوربعض مرتدین کے ہدرِدم کی روایات آئی ہیں۔تواس سلسلہ میں علوانی کہتے ہیں کہ یہ واقعات محض ارتدادکے نہیں تھے، بلکہ یاتومتعلقہ مرتد نے جماعت المسلمین کے خلاف خروج کیا تھا، سازشیں کی تھیں اورلوگوں کوان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے پر اکسایا تھا یا مسلمانوں کے اموال میں خیانت کی تھی یاڈاکا زنی کے مرتکب ہوئے تھے، جیساکہ عرینہ والوں کا قصہ ہے۔ یااسی طرح کے دوسرے جرائم کا ارتکاب کیاتھاجوحرابہ کے ذیل میںآتے ہیں۔۲۰؂ البتہ بعض واقعات وروایا ت کی توجیہ و تعلیل میں دقت پیش آنے پرعلوانی کوبھی اُسی حنفی اصولی موقف کا سہارالیناپڑاکہ جن معاملا ت و مسائل میں عموم بلویٰ پایا جائے اورامت کواس کی شدیدضرورت ہو، اُس میں حدیث آحاداصولی طورپرکافی نہ ہوگی اوراگروہ قیاس صحیح کے معارض ہوگی توردکردی جائے گی ۔اسی کے ضمن میں علوانی یہ کہتے ہیں کہ تبدیلی مذہب کی شرعاًکوئی حد نہیں ہے، کیونکہ اشارۃً بھی کوئی چیزآتی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نفاذمیں ترددکیسے فرماسکتے تھے، جب کہ حدسرقہ ہی کے بارے میں آپ نے صراحت فرمادی تھی کہ اللہ کی حدودمیں کسی حدمیں کسی کی سفارش بھی قبول نہیں ہوگی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھالی کہ 'لو أن فاطمۃ بنت محمد سرقت لقطعت یدھا'، ''خداکی قسم، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرلے تومیں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا'' اورحدکے سلسلہ میں بنومخزوم کی ایک عورت کی سفارش کرنے پرآپ نے اپنے محبوب اورلاڈلے صحابی اسامہ بن زیدتک کو سرزنش فرمائی؟۲۱؂

ائمۂ فقہ کے مسالک : علوانی کا موقف یہ ہے کہ اصولی طورپر قرآن اورسنت، (یعنی اسوۂ عملی)نے اس معاملہ کو بالکل صاف کر دیا ہے، اس لیے فقہا کی آرا کے مناقشہ کی کوئی لازمی ضرورت نہیں ۔تاہم پھربھی انھوں نے فقہاکی آرا و مذاہب کا جائزہ لیاہے ۔وہ کہتے ہیں کہ یہ دوبنیادوں پر قائم ہیں:

۱۔سنت قولیہ: یعنی حدیث 'من بدل دینہ فاقتلوہ'، جس کے ذریعے سے انھوں نے قرآن کے عام کوخاص کر دیا ہے اور ۲۔ اس بات پر اجماع کا دعویٰ کہ صحابہ وتابعین اورامت کا اجماع قتل مرتدپر ہوچکاہے۔علوانی نے اپنی تفصیلی بحث میں دکھایاہے کہ یہ دونوں ہی بنیادیں ثابت نہیں ہوتیں۔

جہاں تک حدیث 'من بدل دینہ فاقتلوہ' کی با ت ہے توعلوانی نے اس حدیث پر سنداًیہ تنقیدکی ہے کہ یہ اپنے بعض طرق میں مرسل ہے اوربعض اسانیدمیں خبرواحداوراس کے بعض رجال ورواۃ پر اشکالا ت بھی ہیں۲۲؂ ۔ درایتاً بعض اہل علم یہ اشکال بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر 'من بدل دینہ قاقتلوہ' کوعام معنی میں لیاجائے تواس کا ظاہری مفہوم یہ ہوگاکہ اگرکوئی عیسائی بھی اپنادین تبدیل کرے ،کوئی یہودی بھی اپنادین تبدیل کرے اورکوئی مسلمان بھی توسب کے ساتھ یکساں معاملہ کیاجائے گا،لیکن اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔۲۳؂ عبداللہ سعیدنے یہی استدلال کیاہے (دیکھیں: ص ۱۸)، اس لیے اس کی تخصیص کرنی ہوگی۔ ہماری تخصیص یہ ہے کہ یہ اپنے معنی میں مطلق اورعام نہیں، بلکہ ایسا یہودیوں کے ایک سازشی گروہ کے بارے میں کہاگیاتھاجس نے صبح مسلمان ہونے اورشام کواسلام سے پھر جانے اور یوں لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کی ایک چال چلی تھی، لہٰذااس حدیث میں اس گروہ کے بارے میں حکم دیاگیاہے تاکہ اس کے دام ہمہ رنگ زمین کوناکام کردیاجائے ۔مولاناعنایت اللہ سبحانی اور عبد الحمید احمد ابو سلیمان نے بھی اسی قسم کی راے بیان کی ہے۔بلکہ ابوسلیمان اس راے کوابن القیم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔۲۴؂ ابوسلیمان یہ اضافہ کرتے ہیں کہ یہودی سازش کے ساتھ ہی منافقین کے فتنہ کا مقابلہ قتل مرتدکے اس وقتی حکم سے کیاگیا،مگران کی یہ راے بدیہی طورپر محل نظرمعلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی منافق کویہ سزادیناسیرت وحدیث کے ذخیرہ سے ثابت نہیں ہوتا۔

اسی طرح علوانی کا کہناہے کہ اس مسئلہ پراجماع کا دعوی بھی درست نہیں، کیونکہ مختلف مسالک کے علماکی آرا میں اختلاف موجود ہے، بلکہ ایک ہی مذہب کے اندرکئی رائیں موجود ہیں، جن کی موجودگی میں اجماع کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ بعض علماکے نزدیک ردۂ حدشرعی ہے، جب کہ بعض اُسے تعزیرات کے تحت لاتے ہیں اوربعض علما کہتے ہیں کہ اس بارے میں تمام تراختیارحاکم وامام (حکومت اسلامیہ )کی صواب دیدپر ہے ۔مصلحت عامہ اورمملکت کے تحفظ کے لیے وہ اس کا نفاذکربھی سکتی ہے، نہیں بھی کرسکتی ۔حکومت کی صواب دیدحالات کے لحا ظ سے بدل بھی سکتی ہے۔ بعض علمانے مرتدین کی مختلف اقسام قراردے کربعض کے لیے سزاتجویز کی اوربعض کے لیے نہیں کی، غرض کہ اجماع کا علی الاطلاق دعویٰ درست نہیں ہے۔

ردہ مفہوم شرعی اورسیاسی تصورکے مابین : علوانی یہ سمجھتے ہیں کہ فقہا وائمہ کواس مسئلہ میں جواشتباہ لگا اور انھوں نے ردۂ سیاسی اورردۂ اعتقادی کے درمیان جوفرق نہیں کیاتواس کا سبب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے شروع میں مرتدین نے نوزائیدہ اسلامی مملکت کے خلاف خروج کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے خلاف سخت کارروائی لازمی ہو گئی تھی۔ان میں بعض مرتدین کوصرف زکوٰۃ دینے سے انکارتھا،بعض نئی اورجھوٹی نبوتوں کی خام خیالیاں دل میں پالے ہوئے تھے اوربعض ساسانی اورقیصری بہکاووں اور اکساووں میں آگئے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق کا سخت ایکشن لینا واجب ہوچکاتھا، کیونکہ یہ ایکشن دراصل مملکت کے ان شہریوں کوجوبغاوت پر آمادہ تھے اوراسلامی مملکت کے تئیں اپنے فرائض وواجبات سے دست بردارہورہے تھے،اورقبل اسلام کی طوائف الملوکی اورقبائلی نظام کی طرف لوٹ جاناچاہتے تھے توان سرکشوں کوراہ راست کی طرف لانا،مملکت کی مرکزیت باقی رکھنااوراس کی وحدت و سالمیت کا تحفظ پہلی ترجیح اوراولین مقصدحروب ردہ کا تھا،نہ کہ محض تبدیلی مذہب اورعقیدہ سے انحراف کی سزا دینا۔ حضرت ابوبکر کی ان اولوالعزمانہ کوششوں اورفیصلہ کن موقف کی ماہیت اورکنہ کوسمجھنے میں بعدکے لوگوں کودھوکا لگا۔ انھوں نے اس کوصرف حریت اعتقادیاارتدادکے خلاف جنگ تصورکرکے اس کوایک مطلق حکم قراردے ڈالا۔۲۵؂

________

* ریسرچ ایسوسی ایٹ، مرکزبرائے فروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند، علی گڑھ، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، انڈیا۔

۱؂ ڈاکٹریوسف القرضاوی تحریرکرتے ہیں: 'فقد صحت الروایات عن سیدناعمرو عن الفقیہ التابعي الجلیل إبراہیم النخعي وعن الإمام سفیان الثوري أنہم لم یروالقتل لازمًا في عقوبۃ الردۃ واکتفوا بحبس المرتد، ودعوتہ إلی التوبۃ والرجوع إلی الجماعۃ (فقہ الجہاد،ص۲۰۱ الجزء الاول مکتبہ وہبہ القاہرہ ۲۰۰۹ء)، رواہ سعید بن منصور في الفتوح ۲/ ۲۲۶، وعبد الرزاق في الکفر بعد الإیمان برقم ۸۶۹۶، وابن أبي شیبہ في السیر ۳۳۴۰۶، والطحاوي في شرح معاني الآثار۳/ ۲۱۰، والبیہقي في السنن الکبرٰی، کتاب المرتد۸/ ۲۰۷)۔ وفي آخرہ: کنت أعرض علیہم أن یدخلوا في الإسلام فإن أبوا استودعتہم السجن. وروی عبد الرزاق في الکفر بعد الإیمان برقم۸۶۹۷، عن إبراہیم النخعي، قال في المرتد: یستتاب أبدًا، قال سفیان الثوري: ہذا الذي نأخذبہ' (فقہ الجہاد، ص۲۰۱) (یعنی سیدناعمر اورابراہیم نخعی اورامام سفیان ثوری تینوں کاصحیح روایات میں یہ موقف نقل کیا گیا ہے کہ مرتد کو لازماً قتل نہیں کیاجائے گا،بلکہ اس کوقیدکرنے پر اکتفاکیا جائے گا اورتوبہ کرنے اورجماعتِ مسلمین کی طرف واپسی کی دعوت دی جائے گی ۔ایک قبیلہ کے کچھ لوگ مرتدہوکردشمن سے جاملے تھے ،مسلمان لشکرنے ان پر قابو پا کر ان کوقتل کردیا،اس پر حضرت عمر نے فرمایا تھا: میں ان پر اسلام کوپیش کرتااوراگروہ انکارکرتے توبس ان کوقید کر دیتا)۔

۲؂ تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: ''حدودوتعزیرات''، مولانا عمار خان ناصر، ''اسلام اورتبدیلئ مذہب'' (علمی مجالس) مولانا عنایت اللہ سبحانی، ایس اے رحمان کی کتاب ''Punishment of Apostacy in Islam''، محمود شلتوت کی ''الاسلام عقیدہ و شریعہ''، طٰہٰ جابر علوانی ''اشکالیۃ الردۃ فی الاسلام'' وغیرہ عبداللہ سعیدکا مقالہ Textual Challenges to'' ''Death Penalty for Apostacy in Islam، نیز غلام احمد پرویز کا کتابچہ ''قتل مرتداوراسلام ''۔

۳؂ بخاری فی الجہاد والسیر، حدیث نمبر: ۳۰۱۷، اور احمد، ابوداؤد، الترمذی، نسائی اورابن ماجہ نے بھی اس حدیث کی روایت کی ہے۔ قتلِ مرتدکی روایات ابن عباس،ابوموسیٰ اشعری،معاذبن جبل، علی بن ابی طالب ،عثمان بن عفان ،ابن مسعود،ام المومنین سیدہ عائشہ ،انس بن مالک اورابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔

۴؂ ''حجۃ اللہ البالغہ'' میں شاہ صاحب نے دین میں اکراہ کی ضرورت کی مثال یوں دی ہے: 'فمثلہ في ذلک کمثل سید مرض عبیدہ فأمر بعض خواصہ أن یکلفہم شربَ دواء أشاؤا ام أبوا، فلوأنہ أکرہہم علی ذلک کان حقًا' (حجۃ اللہ البالغۃ، الجزء الاول القسم الاول، مبحث السیاسات الملیۃ، ۱۵۷، حققہ وراجعہ: السیدالسابق، دارالجیل)۔

۵؂ شیخ محمدرشیدرضا: تفسیرالمنار ۱/ ۱۱۷، دارالمعارف ۱۹۷۳ م، بیروت )۔

۶؂ ابن تیمیہ ،مجموع الفتاویٰ ۷/۸۵،۲۰/۱۰۲، بحوالہ عمار خان ناصر، ''حدود و تعزیرات'' ۲۱۰،طبع اول، المورد،لاہور،۲۰۰۸ء۔

۷؂ تفصیل کے لیے دیکھیے: مجموعہ فتاویٰ شیخ عبدالعزیزالحمدالسلمان موسوم بہ الاسئلۃ والاجوبۃ الفقہیہ ۳/ ۲۳۳۔ ۲۳۴۔

۸؂ سرخسی ،المبسوط ۱۰/۱۱۰، بحوالہ ''حدودوتعزیرات''، عمار خان ناصر ۲۱۱۔

۹؂ مولانا مودودی، مرتدکی سزا، مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی، ۴۹۔۵۰۔

۱۰؂ ایضاً ص ۴۸۔۷۴،۷۶۔

۱۱؂ جاویداحمدغامدی ،برہان، المورد، لاہور، ۱۳۹۔۱۴۳۔

۱۲؂ مولانا عمار خان ناصر ''حدودوتعزیرات: چنداہم مباحث'' ۲۲۸، المورد، طبع اول جولائی ۲۰۰۸ء۔

۱۳؂ عمر احمد عثمانی ،فقہ القرآن ۵۹۵۔ ۵۹۶، اعتقاد پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۔

۱۴؂ ڈاکٹر طٰہٰ جابر علوانی (پ ۱۹۳۵ء، وفات ۴؍ مارچ ۲۰۱۶ء)۔ علوانی عالمی سطح پر معروف تھنک ٹینک، ''عالمی ادارہ برائے اسلامی واشنگٹن (ڈی سی) کے بانیان میں سے تھے۔وہ شمالی امریکا کی فقہ کونسل کے بانی اورچیئر مین بھی رہے، فکر اسلامی اصول فقہ، قرآنیات اورفقہ الاقلیات علوانی کے دل چسپی کے میدان تھے۔طٰہٰ جابر علوانی نے ۱۹۵۳ء میں جامعہ الازہر قاہرہ مصر سے ہائی اسکول کیا اور ۱۹۵۹ء میں اسی جامعہ کے کلیہ الشریعہ القانون سے بی ۔اے، ۱۹۶۵ء میں ایم اے اور ۱۹۷۳ء میں اصول الفقہ میں پی ایچ ڈی کی۔اصول فقہ میں معروف کتاب ''المصتصفی'' للغزالی پر انھوں نے کام کیاتھا۔اس کے علاوہ انھوں نے امام رازی کے اوپربھی ایک کتاب لکھی جوکافی عرصہ کے بعدشائع ہوئی ۔ڈاکٹر علوانی عربی کے علاوہ انگلش، فارسی اور ترکش جانتے اوربولتے تھے۔ ڈاکٹر طہٰ جابر علوانی نے ۳۰ کتابیں لکھی ہیں، انھوں نے ''ادبِ اختلاف''، ''فقہ الاقلیات''، ''تبدیلی مذہب (ارتداد)کی سزا''، ''علوم کو اسلامیانا''، ''اجتہاد''، ''اصول فقہ'' پر اپنی نگارشات کے علاوہ قرآن پر غور وفکر کا ایک سلسلہ ''التدبر'' کے نام سے شروع کیا۔

علوانی ایک مجتہدعالم دین ہیں، انھوں نے کئی مسائل میں جمہورسے ہٹ کراپنی الگ راے قائم کی۔ مثال کے طورپر وہ کہتے ہیں کہ ارتداد کی سزا کو اطلاقی معنوں میں نہیں لینا چاہیے، بلکہ ان نصوص کے پس منظر کو سامنے رکھنا چاہیے، کیونکہ اس سلسلہ میں بعض تابعین اوربعض ائمہ سے دوسری رائیں بھی منقول ہیں۔ڈاکٹرعلوانی یہ بھی کہتے ہیں کہ نص شرعی کی حیثیت صرف قرآن کریم کوحاصل ہے۔ انھوں نے امام شافعی کی ''کتاب الام'' کا مطالعہ کرکے یہ ثابت کیاہے کہ امام شافعی بھی اسی کے قائل ہیں۔ واضح رہے کہ صحیح وثابت سنت ان کی نظرمیں بہرحال قرآن کریم کی شرح وتفسیرہے،لیکن وہ دین کی مصدراساسی یانص اصلی نہیں۔ یہ بات انھوں نے اپنی ایک مختصرکتاب ''مفاہیم محوریۃ في المنہج والمنہجیۃ'' میں لکھی ہے۔ علوانی اس بات کے بھی قائل ہیں کہ ہمیں قرآن کا ڈائریکٹ مطالعہ کرنا چاہیے اورتفسیری سرمایہ پر انحصار کم کرنا چاہیے کہ بسااوقات انسانی تشریحات قرآن اورطالب قرآن کے درمیان حائل ہوجاتی ہیں۔اسی کو اقبال نے یوں اداکیاہے:

ترے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول کتاب

گِرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

اس کے علاوہ مرحوم علوانی کئی اورباتوں میں فقہاے کرام سے اختلاف کرتے ہیں،وہ مسلم اقلیتوں کے الگ فقہ (فقہ الاقلیات) کے تدوین کے قائل اوراس کے لیے سرگرم رہے ہیں۔

۱۵؂ دیکھیں: لااکراہ فی الدین، اشکالیۃ الردۃ والمرتدین ۹۰، الطبعۃ الثانیہ، نومبر ۲۰۰۶ء، المعہدالعالمی للفکر الاسلامی، ہیرندن امریکہ۔

۱۶؂ دیکھیں وہی کتاب ۹۰۔

۱۷؂ ملاحظہ ہو:احمدالریسونی نظریۃ المقاصدالشرعیہ عندالامام لشاطبی ۱۳۷،المعہدالعالی العالمی للفکرالاسلامی واشنگٹن۔

۱۸؂ کتاب اشکالیۃ الردۃ والمرتدین ۹۵۔

۱۹؂ ص۱۰۰کتاب مذکور۔

۲۰؂ ملاحظہ ہوکتاب کا مبحث اول وقائع الردہ فی عہدالرسول ۱۰۱تا۱۱۷۔

۲۱؂ 'أتشفع في حد من حدود اللّٰہ'، ابن حجر العسقلاني، فتح الباري شرح صحیح البخاري، کتاب الحدود، باب إقامۃ الحدود علی الشریف والوضیع بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۹۹۲م ج ۱۲ ۔

۲۲؂ ملاحظہ ہوکتاب کا صفحہ ۱۲۲۔

۲۳؂ عبداللہ سعیدنے یہی استدلال کیاہے۔ دیکھیں ان کا مقالہ:

Textual Challenges to Death Penalty for Apostacy in Islam p 18 in Ifta and Fatwa in the Muslim world and the West edited by Zulfiqar Ali Shah The International Institute of Islamic Thought London, Washingtion 2014.

۲۴؂ کتاب ''اشکالیۃ الردۃ'' ۱۱۹، اوردیکھیں:ڈاکٹرعنایت اللہ سبحانی، ''تبدیلئ مذہب اوراسلام''، ادارہ احیاء دین بلریاگنج اعظم گڑھ جنوری ۲۰۰۲ء Abu Sulaiman Toward An Islamic Theory of International Relations 111 -

114 The International Institute of Islamic Thought London, Washingtion 1981.

۲۵؂ ملاحظہ ہوکتاب ''اشکالیۃ الردۃ والمرتدین'' کا ص ۱۴۹۔

____________