اسلام کا منشا جمہوریت یا آمریت


جمہوریت اور آمریت میں سے اسلام کس طرز حکومت کی تائید کرتا ہے؟ یہ سوال ہمارے ہاں اکثر زیر بحث رہتا ہے۔ اِس معاملے میں تبادلۂ خیال کا دائرہ بالعموم یک طرفہ ہوتا ہے۔ یہ گفتگو تو کی جاتی ہے کہ جمہوریت کے فلاں فلاں مظاہر اسلام کے منافی ہیں، مگر اِس پر بحث سے گریز کیا جاتا ہے کہ آمریت کے کون کون سے پہلو اسلام سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ گریز بجاے خود اِس بات کی دلیل ہے کہ قائلین کا ضمیراِس کی اجازت نہیں دیتا کہ آمریت کو اسلام کی نسبت سے بیان کریں یا اُس کے لیے قرآن و سنت سے استدلال پیش کریں۔

مسلمانوں کا نظم سیاسی جمہوری ہے یا غیر جمہوری، اِس معاملے میں قرآن مجید نے اپنا موقف پوری وضاحت کے ساتھ سورۂ شوریٰ میں بیان کیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ.(۴۲: ۳۸)

''اور اُن کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔''

یہ قرآن مجید کی صریح نص ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے تمام معاملات اُن کے آپس کے مشورے سے طے ہوں گے۔ حکومت اُن کی راے سے قائم ہو گی اور اُن کی راے سے ختم ہوگی ۔ نظم و نسق اُن کے مشورے سے تشکیل پائے گا اور مشورے سے تبدیل ہو گا۔ آئین اور قانون سازی میں اُنھی کی راے فیصلہ کن ہو گی۔ آیت کے اسلوب سے واضح ہے کہ یہ مشورے کے اختیار یا لزوم کو بیان نہیں کر رہی، بلکہ اُس کو اساس بنا رہی ہے۔ لہٰذا اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشاورت ایک بہتر حکمت عملی ہے جس کا حکمرانوں کو اہتمام کرنا چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا سیاسی نظام منحصر ہی اُن کی مشاورت پر ہے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اِس آیت کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اسلام کے قانون سیاست میں نظم حکومت کی اساس یہی تین لفظوں کا جملہ ہے جو اپنے اندر جہانِ معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ اِس کا اسلوب آل عمران (۳) کی آیت ۱۵۹سے مختلف ہے جہاں 'شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ' (نظم اجتماعی کے معاملے میں اُن سے مشورہ لیتے رہو) کے الفاظ آئے ہیں۔یہاں اس کے بجاے 'اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ' کا اسلوب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی نظام کی عمارت مشورے ہی کی بنیاد پر قائم ہے۔ اُن کے نزدیک اسلوب بیان کی اِس تبدیلی کا تقاضا ہے کہ:

'' امیر کی امارت مشورے کے ذریعے سے منعقد ہو ۔ نظام مشورے ہی سے وجود میں آئے۔ مشورہ دینے میں سب کے حقوق برابر ہوں ۔ جو کچھ مشورے سے بنے ،وہ مشورے سے توڑا بھی جا سکے ۔جس چیز کو وجود میں لانے کے لیے مشورہ لیا جائے ، ہر شخص کی راے اُس کے وجود کا جز بنے۔ اجماع و اتفاق سے فیصلہ نہ ہو سکے تو فصل نزاعات کے لیے اکثریت کی راے قبول کر لی جائے۔'' (میزان ۴۹۳)

ہمارے مفسرین نے بھی اِس آیت کو سیاستکے بنیادی اصول کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اِس کی بنا پر اُنھوں نے جہاں آمریت کو اسلام کے منافی قرار دیا ہے، وہاںیہ تسلیم کیا ہے کہ دور جدید کی جمہوریت میں اِسی اصول کی روح کار فرما ہے۔ صاحب ''معارف القرآن'' مفتی محمد شفیع عثمانی بیان کرتے ہیں کہ 'اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ' کے اصول نے شخصی بادشاہت اور وراثتی حکومت کے غیر فطری تصورات کی بیخ کنی کی ہے۔ زمانۂ حاضر کی جمہوریت اسلام کے اسی فطری اور عادلانہ نظام کا نتیجہ ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے:

'' اسلامی حکومت ایک شورائی حکومت ہے جس میں امیر کا انتخاب مشورہ سے ہوتا ہے، خاندانی وراثت سے نہیں، آج تو اسلامی تعلیمات کی برکت سے پوری دنیا میں اس اصول کا لوہا ماناجا چکا ہے۔... اسلام نے حکومت میں وراثت کا غیرفطری اصول باطل کر کے امیر مملکت کا عزل و نصب جمہور کے اختیار میں دے دیا، جس کو وہ اپنے نمائندہ اہل حل و عقد کے ذریعہ استعمال کر سکیں، بادشاہ پرستی کی دلدل میں پھنسی ہوئی دنیا اسلامی تعلیمات ہی کے ذریعہ اس عادلانہ اور فطری نظام سے آشنا ہوئی، اور یہی روح ہے اسی طرز حکومت کی، جس کو آج جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔'' ( ۲/ ۲۲۳)

پیر کرم شاہ الازہری نے بھی مشورے کو اسلامی سیاست کا اہم ترین اصول قرار دیا ہے اور اسے اسلام کے اُن کارناموں میں شامل کیاہے جنھوں نے انسانی زندگی پر انقلابی اثرات مرتب کیے ہیں۔ جہاں تک استبدادی نظام کا تعلق ہے تو اُن کے نزدیک یہ زیادتی پر مبنی ہے جس سے گھٹن اور محرومی جنم لیتی ہے۔ لکھتے ہیں:

''اس آیت میں اسلامی سیاست کا ایک اہم ترین اصول بتایا گیا ہے۔ جب ہر طرف ملوکیت اور شخصی آمریت کا بول بالا تھا۔... اسلام نے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں قابل قدر ، دوررس اور انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں کیں، وہاں سیاسی زندگی کو بھی نئے اصولوں سے آشنا کر دیا۔ ان میں ایک شورائی نظام ہے۔ یعنی ہر کام جس کا تعلق عوام سے ہے، اس بارے میں ان لوگوں سے ضرور صلاح مشورہ کیا جائے۔اس سے نہ صرف یہ کہ رعایا کی دل جوئی ہوتی ہے، بلکہ انھیں اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے اور استبدادی طریقۂ کار سے جو مجبوری اور محرومی کی گھٹن قلب و روح کو ڈس رہی ہوتی ہے، اس سے نجات حاصل ہوتی ہے۔نیز قومی معاملات میں کسی اہم معاملہ کے متعلق فر د واحد کا فیصلہ نافذ کرنابہت بڑی زیادتی ہے۔'' (ضیاء القرآن ۴/ ۳۸۴)

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بیان کیا ہے کہ نظم اجتماعی کو مشورے پر قائم نہ کرنا قانون الٰہی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اُن کے نزدیک آیت کا مدعا یہ نہیں ہے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمانوں سے مشورہ کر لینا چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا اجتماعی نظام چلتا ہی مشورے سے ہے۔ ''تفہیم القرآن'' میں ہے:

''مشاورت اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے، اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے، بلکہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ... اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہا ہے کہ : ''اُن کے معاملات میں اُن سے مشورہ لیا جاتا ہے''، بلکہ یہ فرما رہا ہے کہ: ''اُن کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں ۔''اِس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہو جاتی ،بلکہ اِس کے لیے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو ،اُسی کے مطابق معاملات چلیں۔'' (۴/ ۵۰۹)

'اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ' کے معنی و مفہوم اور تشریحات کی روشنی میں اگر ہم اپنے سیاسی نظام کا جائزہ لیں تو درج ذیل نکات ناگزیر قرار پاتے ہیں:

اول، حکومت کے قیام و دوام کا انحصار عوام کی راے پر ہو نا چاہیے۔ وہی شخص یا گروہ حکومت چلائے جسے عوام اس ذمہ داری پر فائز کریں۔کسی کو یہ حق حاصل نہ ہوکہ وہ مذہبی تقدس، علمی تفوق، موروثی نسبت، عوامی خدمت، شخصی صلاحیت یا اس طرح کے کسی اور وصف کو بنیاد بنا کرمسلمانوں پر اپنا تسلط قائم کرے۔

دوم، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے تمام ادارے مسلمانوں کی اجتماعیت کے تابع ہوں۔ ریاست کے لیے کیا دستور ہونا چاہیے اور اُسے کن اصولوں پر استوار کرنا چاہیے ، اِس کی تجاویز تو ماہرین ہی ترتیب دیں، مگر ترک و اختیار اور ترمیم و اضافے کا فیصلہ عوام کریں۔ ہر انفرادی اور اجتماعی معاملے میں قرآن و سنت کی بالا دستی تسلیم کرنا ایمان و اسلام کا لازمی تقاضا ہے،لیکن ان کی تفسیر و تاویل میں کس مفسر، کس محدث،کس فقیہ کی راے کو قانون کا درجہ حاصل ہونا چاہیے، اس کا فیصلہ بھی عامۃ المسلمین کی صواب دید پر منحصر ہو۔

سوم، ریاست کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے بھی عوام الناس کے رجحان کی پیروی کی جائے۔ تعلیم، صحت ، روزگار اور رفاہ عامہ کے معاملے میں ترجیحات کا تعین اُن کے میلانات کے مطابق ہو۔ اِسی طرح دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات اُنھی کی منشا کے مطابق استوار کیے جائیں اور بین الاقوامی معاملات میں اُنھی کے تصورات کو رو بہ عمل کیا جائے۔

چہارم، تمام لوگوں کو مشاورت اور راے دہی کے مساوی حقوق حاصل ہوں۔ مشاورت میں اگر ان کی براہ راست شمولیت ممکن نہ ہو تو وہ اپنے نمایندوں کے ذریعے سے یہ حق استعمال کریں ۔ مزید برآں، اگر کسی معاملے میں اُن کے مابین اتفاق راے قائم نہ ہو تو کثرت راے سے فیصلہ کیا جائے۔

پنجم، مسلمان اپنی قومی حیثیت میں اگر کوئی غلط فیصلہ کریں تو ارباب اقتدار اور اہل دانش پوری دردمندی کے ساتھ اُنھیں سمجھائیں اور ہر طریقے سے اُن کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔ لیکن اِس سے آگے بڑھ کر اُنھیں بزور قوت روکنے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہو نا چاہیے۔

یہی 'اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ' کا تقاضا ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ آمرانہ اور استبدادی نظام اِس کا متضاد ہے ، لہٰذا اسلام کے قانون سیاست میں اُس کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ جناب جاوید احمد غامدی نے بجا طور پر بیان کیا ہے:

'' آمریت کسی خاندان کی ہو یا کسی طبقے، گروہ یا قومی ادارے کی، کسی حال میں بھی قبول نہیں کی جاسکتی، یہاں تک کہ نظم اجتماعی سے متعلق دینی احکام کی تعبیر و تشریح کے لیے دینی علوم کے ماہرین کی بھی نہیں۔ وہ یہ حق یقیناًرکھتے ہیں کہ اپنی تشریحات پیش کریں اور اپنی آرا کا اظہار کریں، مگر اُن کے موقف کو لوگوں کے لیے واجب الاطاعت قانون کی حیثیت اُسی وقت حاصل ہو گی، جب عوام کے منتخب نمایندوں کی اکثریت اُسے قبول کر لے گی۔ جدید ریاست میں پارلیمان کا ادارہ اسی مقصد سے قائم کیا جاتا ہے۔ ریاست کے نظام میں آخری فیصلہ اُسی کا ہے اور اُسی کا ہونا چاہیے۔ لوگوں کا حق ہے کہ پارلیمان کے فیصلوں پر تنقید کریں اور اُن کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کرتے رہیں، لیکن اُن کی خلاف ورزی اور اُن سے بغاوت کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ علما ہوں یا ریاست کی عدلیہ، پارلیمان سے کوئی بالاتر نہیں ہو سکتا۔ 'اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ' کا اصول ہر فرد اور ادارے کو پابند کرتا ہے کہ پارلیمان کے فیصلوں سے اختلاف کے باوجود وہ عملاً اُس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔

اسلام میں حکومت قائم کرنے اور اُس کو چلانے کا یہی ایک جائز طریقہ ہے۔ اِس سے ہٹ کر جو حکومت بھی قائم کی جائے گی، وہ ایک ناجائز حکومت ہو گی، خواہ اُس کے سربراہ کی پیشانی پر سجدوں کے نشان ہوں یا اُسے امیرالمومنین کے لقب سے نواز دیا جائے۔'' (مقامات ۲۰۳)

____________