اتمام حجت اور عذاب


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

—۱—

۱۔عَنْ أَبِيْ بُرْدَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''إِنَّ ہٰذِہِ الأُمَّۃَ أُمَّۃٌ مَرْحُوْمَۃٌ، عَذَابُہَا بِأَیْدِیْہَا،۲ إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ دُفِعَ إِلٰی کُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمْ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ، أَوْ مِنْ أَہْلِ الشِّرْکِ،۳ فَیُقَالُ: ہٰذَا فِدَاؤُکَ۴ مِنَ النَّارِ''.

ابو بردہ اپنے والد عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ امت(جس میں میری بعثت ہوئی)، ۱ وہ امت ہے کہ اِس پر بڑی رحمت ہوئی ہے۔ اِس پر عذاب اِنھی کے ہاتھوں سے آئے گا۔ ۲(پھر) جب قیامت کا دن ہو گا تو وہاں بھی اِن کے اہل ذمہ ۳یا اہل شرک میں سے ہر شخص کو اِنھی میں سے کسی کے حوالے کیا جائے گا۴ اور کہا جائے گا کہ یہ جہنم سے تمھارا فدیہ ہے۔۵

________

۱۔ یعنی زمانۂ رسالت کے بنی اسمٰعیل اور یہود و نصاریٰ جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اتمام حجت کیا۔

۲۔ یہ وہی بات ہے جوسورۂ توبہ (۹) کی آیت ۱۴ میں 'یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ' (اللہ اُنھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا)کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عاد و ثمود اور اِس طرح کی دوسری قوموں کی طرح اِن پر آسمان سے عذاب نہیں آئے گا، بلکہ اُنھی لوگوں کی تلواروں سے آئے گا جو اِن میں سے ایمان لے آئیں گے۔

۳۔ اِس سے زمانۂ رسالت کے یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنھیں محکومی کی سزا دی گئی اور ذمی بنا کر اُن پر جزیہ عائد کر دیا گیا تھا۔

۴۔ یعنی جس طرح دنیا میں عذاب کے لیے اُن کے حوالے کیے گئے تھے، اُسی طرح قیامت میں بھی اُنھی کے حوالے کیے جائیں گے۔

۵۔ یعنی اِس لحاظ سے فدیہ ہے کہ اِس پر عذاب کا جو حکم تمھیں دیا گیا تھا، اُس کو نافذ کرنے سے انکار کر دیتے تو اِس کی جگہ تم جہنم کا ایندھن بنتے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند عبد بن حمید ،رقم ۵۴۵سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ روایت اِن مصادر میں نقل ہوئی ہے: مسند ابو داؤد طیالسی، رقم۴۹۶۔مسند احمد ۱۹۲۳۱، ۱۹۲۳۶، ۱۹۰۴۹۔ صحیح مسلم، رقم ۴۹۷۴، ۴۹۷۵۔مسند بزار، رقم۲۶۸۶، ۲۷۸۷۔مسند رویانی،رقم۴۶۳، ۴۸۴۔صحیح ابن حبان، رقم ۶۳۶۔ مسند شامیین، طبرانی،رقم۲۵۰۰۔المعجم الاوسط،طبرانی،رقم۶۳۶۔

۲۔ بعض روایتوں، مثلاً مسند بزار،رقم۲۶۷۷ میں اِس جگہ یہ الفاظ ہیں:'لَیْسَ عَلَیْہَا فِي الآخِرَۃِ عَذَابٌ، جُعِلَ عَذَابُہَا فِي الدُّنْیَا'، یعنی اِن کے لیے آخرت میں کوئی عذاب نہیں،اِن کا عذاب دنیا ہی میں رکھ دیا گیا ہے''۔عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے منقول اِس مضمون کی روایات کے بعض طرق میں قیامت کا ذکر حذف ہوگیا ہے اور اُس کی جگہ دنیوی عذاب کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔روایت کے الفاظ ہیں: 'أُمَّتِيْ ہٰذِہِ أُمَّۃٌ مَرْحُوْمَۃٌ لَیْسَ عَلَیْہَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَۃِ، عَذَابُہَا فِي الدُّنْیَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ' ''میری یہ امت (جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے) اُس پر رحم کیا گیا ہے۔اِن پر آخرت میں کوئی عذاب نہیں۔ اِن کا عذاب دنیا ہی میں ہے۔یعنی فتنہ،زلزلہ اور قتل''۔اِس مضمون کی تمام روایات پر غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک موقع پرعبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابو بردہ سے سوال کیا گیا تھاکہ جب مسلمانوں کاخدا ،رسول اور اُن کی دعوت سب ایک ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے جنگ کرتے ہیں اورایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں۔اِس کے جواب میں اُنھوں نے اپنے والد سے سنی ہوئی یہی روایت بیان کی کہ 'إنَّ أمتي أمۃٌ مرحومۃ، لیس علیہا في الآخرۃ حساب ولا عذاب'، اِس کے بعد اُنھوں نے سوال کی مناسبت سے آگے فرمایا: 'إنما عذابُہا في القتل والزلازل والفتن'۔ یہ غالباً ابو بردہ کے اپنے الفاظ تھے جسے بعد میں روایت کا حصہ سمجھ کر مختلف کتابوں میں قبول کر لیا گیا ہے۔

۳۔مسند احمد، رقم۱۹۲۳۱میں اِس جگہ 'دُفِعَ إِلٰی کُلِّ مُؤْمِنٍ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمِلَلِ' کے الفاظ ہیں،یعنی بندۂ مومن کو دوسری ملتوں کا ایک ایک آدمی دے دیا جائے گا۔مسند شامیین، طبرانی، رقم۲۵۰۰میں یہی بات ایک دوسرے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔روایت کے الفاظ ہیں:'إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ بَعَثَ اللّٰہُ إِلٰی کُلِّ مُؤْمِنٍ مَلَکًا مَعَہُ کَافِرٌ فَیَقُوْلُ الْمَلَکُ لِلْمُؤْمِنِ: یَا مُؤْمِنُ ہَاکَ، ہٰذَا الْکَافِرُ فَہُوَ فِدَاؤُکَ مِنَ النَّار' ''جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ ہر بندۂ مومن کے پاس ایک فرشتہ بھیجیں گے جس کے ساتھ ایک کافر ہو گا۔ وہ فرشتہ اُس بندۂ مومن سے کہے گا:اے مومن،اِسے لے لو۔یہ کافر جہنم سے تمھارا فدیہ ہے''۔ مسند رویانی،رقم ۴۹۴میں یہاں 'أُعْطِيَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِيْ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الأَدْیَانِ' نقل ہوا ہے،یعنی دوسرے ادیان کے ماننے والوں میں سے ہر شخص کو میری امت کے ایک شخص کے حوالے کر دیا جائے گا۔

۴۔صحیح مسلم ، رقم۴۹۷۴میں 'فِدَاؤُکَ' کے بجاے 'فِکَاکُکَ'نقل ہوا ہے،یعنی یہ تمھارا چھٹکارا ہیں۔ اِس مضمون کی متعد د روایات میں'أہل ذمہ' ، 'أہل شرک'،'أہل ملل'،'أہل أدیان' اور 'کافر'کی جگہ یہودی اور نصرانی کے الفاظ نقل ہوئے ہیں، جب کہ امت کی حیثیت، عذاب کا قانون اور قیامت کا ذکر حذف ہو گیا ہے ۔چنانچہ صحیح مسلم، رقم ۴۹۷۵میں ہے: 'لَا یَمُوْتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللّٰہُ مَکَانَہُ النَّارَ یَہُوْدِیًّا أَوْ نَصْرَانِیًّا' ''ہر مسلمان جو دنیا سے رخصت ہوتا ہے،اللہ اُس کی جگہ ایک یہودی یا نصرانی کو جہنم میں ڈال دیتا ہے''۔

—۲—

عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ،۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِيْ خُطْبَتِہِ: ''أَلَا إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ یَوْمِيْ ہٰذَا، کُلُّ مَالٍ نَحَلْتُہُ عَبْدًا حَلَالٌ، وَإِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ کُلَّہُمْ ،وَإِنَّہُمْ أَتَتْہُمُ الشَّیَاطِیْنُ فَاجْتَالَتْہُمْ۲ عَنْ دِیْنِہِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَیْہِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَہُمْ، وَأَمَرَتْہُمْ أَنْ یُّشْرِکُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِہِ سُلْطَانًا، [وَأَمَرَتْہُمْ أَنْ یُّغَیِّرُوْا خَلْقيْ]۳ وَإِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ إِلٰی أَہْلِ الْأَرْضِ، فَمَقَتَہُمْ عَرَبَہُمْ وَعَجَمَہُمْ، إِلَّا بَقَایَا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ،۴ وَقَالَ: [یَا مُحَمَّدُ]۵ إِنَّمَا بَعَثْتُکَ لِأَبْتَلِیَکَ وَأَبْتَلِيَ بِکَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَیْکَ کِتَابًا لَا یَغْسِلُہُ الْمَاءُ تَقْرَؤُہُ نَاءِمًا وَیَقْظَانَ، وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَنِيْ أَنْ أُحَرِّقَ۶ قُرَیْشًا، فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا یَثْلَغُوْا رَأْسِيْ فَیَدَعُوْہُ خُبْزَۃً، قَالَ: اسْتَخْرِجْہُمْ کَمَا اسْتَخْرَجُوْکَ، وَاغْزُہُمْ نُغْزِکَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَیْکَ، وَابْعَثْ جَیْشًا۷ نَبْعَثْ۸ خَمْسَۃً مِثْلَہُ،۹ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مَنْ عَصَاکَ''.

عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا :لوگو، سنو، میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ آج جو باتیں اُس نے مجھے سکھائی ہیں اور جن سے تم ناواقف ہو، وہ میں تمھیں سکھا دوں۔میرے رب نے فرمایا ہے کہ ہر وہ مال جو میں نے اپنے کسی بندے کو دے دیا ہے، وہ اُس کے لیے حلال ہے۱ ۔ اور میں نے اپنے سب بندوں کو حق کی طرف رجوع کرنے والا بنا کر پیدا کیا ہے، لیکن پھر شیاطین نے اُن کے پاس آکر اُن کے دین سے اُنھیں پھیردیا ۔ اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا ہے، اُنھوں نے وہ اُن کے لیے حرام کر دیں اور اُن کوترغیب دی کہ میرے ساتھ اُن کو شریک ٹھیرائیں جن کے لیے میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے اور ترغیب دی کہ میری بنائی ہوئی ساخت کو تبدیل کر دیں۲۔ اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین والوں پر نظر ڈالی تو اہل کتاب کے کچھ بچے ہوئے لوگوں کے سوا وہ اُن کے سب عرب و عجم سے ناراض ہوا اور فرمایا:اے محمد،میں نے تمھیں اِس لیے بھیجا ہے کہ تم کو آزماؤں اور تمھارے ذریعے سے دوسروں کو بھی آزماؤں۔ اور میں نے تم پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے کوئی پانی نہیں دھو سکے گا۳اور تم سوتے جاگتے اِس کتاب کو پڑھو گے۴، اور کوئی شبہ نہیں کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں۵۔ اِس پر میں نے عرض کیا کہ پروردگار، میںیہ کر وں تو قریش کے لوگ تو میرا سر پھاڑ کر اُسے کھائی ہوئی روٹی بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تم اُن کو نکلنے کے لیے کہنا، جس طرح اُنھوں نے تمھیں نکلنے کے لیے کہا ہے اور اُن سے جنگ کرنا، ہم بھی تمھارے ساتھ ہو کر جنگ کریں گے اور تم اپنے مجاہدین پر خرچ کرنا، عنقریب ہم بھی تم پر عنایت فرمائیں گے، اور اپنا لشکر روانہ کرنا، ہم اُس کے ساتھ پانچ گنا لشکر مزید روانہ کر دیں گے،اورتم یہ قتال اپنے فرماں برداروں کو لے کر اُن کے ذریعے سے اپنے نافرمانوں کے ساتھ کرنا۶۔

________

۱۔ یعنی دیا ہے اور وہ جائز طریقے سے اُس کو مل گیا ہے۔

۲۔ یعنی فطرت کو مسخ کر لیں۔ چنانچہ توحید کے بجاے شرک کے علم بردار بن جائیں، پھر اِسی کے تحت وہ سب چیزیں اختیار کرلیں جو فطرت کی تبدیلی کے حکم میں ہیں، مثلاً رہبانیت، برہمچرج، عورتوں کا مرد اور مردوں کا عورت بننا اور اِس طرح کی دوسری خرافات۔

۳۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جس طرح، جن الفاظ میں اور جس نظم و ترتیب کے ساتھ نازل کی گئی ہے، قیامت تک اُسی طرح باقی رہے گی۔

۴۔ یہ اِس بات کی تعبیر ہے کہ اُس کی تلاوت صبح و شام ہوتی رہے گی۔

۵۔ یعنی جب وہ تکذیب کر دیں تو اُسی طرح جلا ڈالوں، جس طرح اُن سے پہلی قومیں اپنے رسولوں کی تکذیب کے جرم میں آسمان کے عذاب سے جلا کر بھسم کر دی گئیں۔

۶۔ مطلب یہ ہے کہ تمھارے قریش کو جلا ڈالنے کی صورت یہ ہو گی کہ اُن پر خدا کا عذاب تمھاری اور تمھارے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے آئے گا۔ یہ ٹھیک اُس قانون کا بیان ہے جو آپ کے بارے میں قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، یعنی'یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ' (التوبہ۹: ۱۴)۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاًصحیح مسلم ، رقم۵۱۱۳ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی عیاض بن مجاشعی رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

الجامع معمر بن راشد، رقم ۶۹۳۔مسند طیالسی، رقم۱۱۶۳۔مسند احمد، رقم ۱۷۱۴۹، ۱۷۹۶۵، ۱۷۹۶۷۔ الآحاد و المثانی، ابو نعیم، رقم۱۰۸۶۔ السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۷۷۵۶ ،۷۷۵۷۔مشکل الآثار، طحاوی، رقم ۳۲۷۹۔ صحیح ابن حبان، رقم ۶۵۹۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۴۴۱۳،۱۴۴۱۷،۱۴۴۱۸۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۳۰۲۱۔ معرفۃ الصحابہ، ابونعیم،رقم۴۹۷۰۔السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم۱۵۸۱،۱۶۳۵۳۔

۲۔ مسند احمد،رقم ۱۷۱۴۹میں یہاں 'فَاجْتَالَتْہُمْ' کے بجاےَ 'فَأَضَلَّتْہُم' کا لفظ آیا ہے۔دونوں کم و بیش ہم معنی ہیں۔

۳۔ السنن الکبریٰ،نسائی،رقم ۷۷۵۷۔

۴۔ ابن کثیر کی جامع المسانید و السنن، رقم۸۵۸۳میں یہاں 'إِلاَّ بَقْیًا مِنْ بَنِيْ إِسْرَائِیْلَ' کے الفاظ ہیں۔ مسند احمد کے محقق شعیب ارنؤوط نے مسند کے ایک قدیم مخطوطے میں بھی اِس اضافے کی نشان دہی کی ہے۔

۵۔ مسند طیالسی ،رقم ۱۱۶۳۔

۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی ،رقم۱۴۴۱۳میں 'أَنْ أُحَرِّقَ' کے بجاے 'أَنْ أَغْزُوَ' نقل ہوا ہے، یعنی میں اُن سے جنگ کروں۔

۷۔ مسند احمد ، رقم۱۷۱۴۹میں یہاں 'جَیْشًا' کے بجاے 'جُنْدًا'کا لفظ ہے۔دونوں کا مدعا ایک ہی ہے۔

۸۔ السنن الکبریٰ، نسائی ،رقم ۷۷۵۶میں یہاں 'نَبْعَثْ' کے بجاے 'نُمِدُّکَ'کا لفظ آیا ہے، یعنی ہم تمھارے لیے بڑھا دیں گے۔

۹۔ المعجم الاوسط، طبرانی ،رقم۳۰۲۱میں یہاں'وَابْعَثْ جَیْشًا أَبْعَثْ خَمْسَۃَ أَمْثَالِہِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ '''اور تم لشکر روانہ کرو،ہم فرشتوں کے اُس جیسے پانچ لشکر روانہ کر دیں گے'' کا اضافہ ہے۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ. ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجۃ، ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ. ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ. أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح. ط۳. تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطاء. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج. ط ۱. تحقیق: أبو إسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي. (۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت). صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النسائي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________