جادو کی حقیقت


مرتب: رانا معظم صفدر

[''سماء'' ٹی وی کے پروگرام '' غامدی کے ساتھ'' میں میزبان کے سوالوں کے جواب میں جناب جاوید احمد غامدی کی گفتگو]

سوال: جادو کی حقیقت کیا ہے؟

جواب: دنیا میں دو طرح کے علوم پائے جاتے ہیں: ایک وہ جو مادی قوانین پر غور کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو نفس سے متعلق ہیں۔ دنیا میں چیزیں بھی دو ہی پائی جاتی ہیں: مادہ اور نفس ۔ ہمارے گردوپیش کی کائنات ایک مادی کائنات ہے۔ اسی طرح میرا اپنا وجود بھی ایک مادی وجود ہے ۔ میں مٹی سے بنا ہوا ہوں، لیکن میرے اندر ایک شخصیت ہے جس کو قرآن مجید اپنی تعبیر میں 'نفس 'کہتا ہے۔قدیم ترین زمانے میں جو علوم نفس سے متعلق ہوتے تھے، اُن کو بھی لوگ اپنی توجہ کا مرکز بناتے تھے۔ موجودہ زمانے میں لوگوں کا زیادہ اشتغال اُس طرف نہیں رہا ۔وہ زیادہ تر مادی علوم میں تحقیق کرتے ہیں۔

مادی علوم میں تحقیق کے نتائج آپ نے دیکھ لیے ہیں۔ یعنی پچھلے کم و بیش سوا سو سال میں دنیا کہا ں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔میں یہاں بیٹھا گفتگو کر رہا ہوں، دنیا اُس کو سن رہی ہے ۔ اِسی طرح سوشل میڈیا کی ایک دنیا وجود پذیر ہو گئی ہے۔ یہ فیس بک کیا ہے، یہ ٹویٹر کیا ہے؟ یہ رابطوں کی نئی دنیائیں کیا ہیں ؟ چشم زدن میں ہمارا پیغام ہزاروں میل دور پہنچ جاتا ہے۔ آج سے سو پچاس سال پہلے کیا کوئی تصور کر سکتا تھاکہ یہاں میں تقریر کر رہا ہوں گا اور پانچ ہزار میل کے فاصلے پر سنی جا رہی ہو گی۔ اِسی طرح میری دل چسپی کا ایک فٹ بال میچ ہو رہا ہو گا اور اُس کو آپ ساری دنیا میں بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ جتنی بھی چیزیں ہیں، یہ کیا ہیں؟ کیا آسمان سے کوئی وحی آئی ہے؟ ہر گز نہیں، بلکہ ہم نے اِس مادی دنیا میں تحقیق کی ہے اور اِس کے قوانین دریافت کیے ہیں ۔ اب اگر آپ کسی بھی ایجاد کا جائزہ لیں تو وہ ایجاد جو کچھ آپ کے سامنے ہے ، محض وہ نہیں ہوتی، بلکہ اُس کے پیچھے کچھ قوانین ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر اُس کو وجود پذیر کیا جاتا ہے ۔

اِسی طرح نفس کے اندر بھی کچھ قوانین ہیں۔ قدیم زمانے میں لوگ اُنھیں اپنی دل چسپی کا موضوع بناتے تھے۔ وہ ریاضتیں کرتے تھے ، چلّے کاٹتے تھے ، اپنے ماہرین کے پاس بیٹھتے تھے اور پھر یہ سیکھتے تھے کہ نفس کی دنیا کو کیسے دریافت کیا جائے ۔یہ بھی ایک بڑی دنیا ہے۔ اگر آپ اِس دنیا کو دیکھنا چاہیں کہ یہ کیسی عجیب و غریب دنیا ہے تو خود بھی اس کا تجربہ کر سکتے ہیں ۔ ہمیں جو خواب آتا ہے، یہ کیا چیز ہے ؟ یہ درحقیقت ہمارے نفس کے اندر جو حقائق موجود ہوتے ہیں، خواب اُن کو ایک تمثیل کی صورت دینا شروع کر دیتا ہے۔ ہمارے جسم پر اگر کوئی واردات گزرے تو خواب وہی واردات ہمیں مفصل کر کے دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ خواب ایک ذریعہ ہے جس کو بعض اوقات اﷲ تعالیٰ نے بھی اپنے پیغمبروں تک پیغام پہنچانے کے لیے اختیارکیا ہے، جیسے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خواب کا ذکر آیا ہے۔ لیکن عام حالات میں جو خواب ہمیں نظر آتے ہیں، وہ ہمارے نفس کی کارفرمائی ہوتی ہے ۔

اِسی طرح ہمارا شعور کیا ہے، تحت الشعور کیا ہے؟ اِس میں کس طرح چیزیں اتر جاتی ہیں؟ جب اتر جاتی ہیں تو ہمارا نفس اُن کو کیا شکلیں دیتا ہے؟ کیسی کیسی حسین صورتیں بنا دیتا ہے اور ہمیں کتنے سفر کرا دیتا ہے۔ یہ ہمارے نفس کی دنیا ہے ۔ اِس دنیا کو بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔ اِس کے بھی بہت سے قوانین ہیں ۔ اِن قوانین کا اگر مطالعہ کیا جائے تو لوگوں کو ایسے ہی حیرت میں ڈالا جا سکتا ہے جس طریقے سے سائنس دان حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

سوال: کیا نفس کی ریسرچ کو باقاعدہ علم قرار دیا جا سکتا ہے؟

جواب: اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک علم تھا ،لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اِس پر مادی علوم کی طرح کی تحقیق نہیں ہوئی۔ دور حاضر میں لوگوں کی زیادہ تر توجہ مادی علوم کی طرف رہی ہے اور اُن میں وہ کرشمے بھی دکھا رہے ہیں ۔ اب کچھ کچھ ہمارے سائنس دان بھی اِس طرف توجہ کر رہے ہیں ۔ چنانچہ جدید نفسیات میں جس علم کو پیرا سائیکالوجی کہتے ہیں، اُس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کو اب استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہپناٹزم ہے ۔ اِس سے ہم بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ ایک طرح کی نیند کی کیفیت طاری کر کے آپ بچپن تک کی چیزیں معلوم کر سکتے ہیں۔ اِس کے تجربات لوگوں نے کر کے دیکھ لیے ہیں ۔ یہ درحقیقت نفس کو جاننا ہے، اُس کے اندر اترنا ہے۔ جیسے ہی آپ اُس کے اندر اترتے ہیں تو بہت سی ایسی چیزیں سامنے آجاتی ہیں کہ آدمی بالکل حیران رہ جاتا ہے۔

سوال: اِس صورت میں تو یہ ایک مکمل سائنس ہے، تو پھر اِسے پڑھایا کیوں نہیں جاتا ؟

جواب: کوئی علم اُس وقت سائنس بنتا ہے جب اُس کو علمی طریقے سے ترتیب دیا جائے اور اس کے نتائج کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا جا سکے۔ جہاں تک اِن نفسی علوم کا معاملہ ہے تویہ سائنس بنے ہی نہیں۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کے ماہرین نے اِنھیں سائنس بننے ہی نہیں دیا ۔ اُنھوں نے اِن علوم کو ایک راز کے طور پر اپنے پاس محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔

قدیم زمانے میں بھی اِس کے بڑے بڑے ماہرین رہے ہیں۔ قرآن مجید ایک ماہر کا تعارف کراتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار میں یہ خواہش ظاہر کی کہ اِس سے پہلے کہ سبا کی ملکہ میرے پاس پہنچے میں چاہتا ہوں کہ اُس کا تخت اپنے پاس منگوا لوں ۔ اصل میں وہ اپنے علوم و فنون کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے کہ میرے پاس کتنی غیر معمولی طاقت ہے ۔ جب اُنھوں نے اپنے دربار میں لوگوں سے یہ بات کی تو اُس وقت ایک جن اُن کے دربار میں موجود تھا۔ اُس نے کہا کہ وہ تخت میں لا دیتا ہوں، لیکن مجھے اتنا وقت چاہیے جتنے وقت میں آپ کا دربار برخاست ہوتا ہے ۔گویا کوئی چار پانچ گھنٹے اُس نے اِس کام کے لیے مانگے ۔ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ وہاں ایک شخص تھا جس کے پاس قانون خداوندی کا ایک علم تھا۔ اُس نے اُس علم سے تخت کو چشم زدن میں لا کر سامنے رکھ دیا۔ یہی چیز آج ایک واقعہ بن چکی ہے ۔یعنی آپ ہزاروں میل کے فاصلے سے آواز لے آتے ہیں ،تصویر لے آتے ہیں، حرکات لے آتے ہیں۔ اب صرف ایک مادی چیز کے آنے کا معاملہ رہ گیا اور مادی علوم میں بھی تحقیق کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ ہم اِن ذرات کو منتشر کر کے لا سکتے ہیں۔ یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ناممکن ہو۔

سوال: ایک عام جادو گر جسے ہم شعبدہ باز کہتے ہیں، وہ لوگوں کو entertain کرتا ہے، جبکہ ایک دوسرا جادوگر لوگوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اُنھیں اُن کے مسائل کے حل کا یقین دلاتا ہے ، کیا اِن دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؟

جواب: جب کسی علم کو سائنسی تحقیق کے دائرے میں نہیں لایا جاتا تو ایسے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جو اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یعنی وہ نام تو اُس علم کا استعمال کررہے ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں لوگوں کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں ۔ہمارے ہاں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں، اُنھوں نے چیزوں پر غور بھی نہیں کیا ہوتا اور پھر جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ عام حالات کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہوتا ہے۔ اس کمزوری کے عالم میں اُسے جو دروازہ بھی ملے، وہ کھٹکھٹاتا ہے۔ ایسے حالات سے فائدہ اٹھانے کے لیے لوگ گلی گلی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں ، کوئی استخارے کا کاروبار کر رہا ہے، کوئی جادو ٹونا کر رہا ہے ، کوئی محبت کے مراحل طے کرا رہا ہے ۔ اِس طرح یہ سارے معاملات عطائیوں کے ہاتھ میں آجاتے ہیں ۔ یہ صرف ہمارے معاشرے ہی میں نہیں ، ہر معاشرے میں یہی صورت حال ہے، حتیٰ کہ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسی ہی ضعیف الاعتقادی ہے ۔

سوال: غامدی صاحب آپ نے فرمایا کہ یہ واقعی ایک علم ہے تو کیا حقیقت میں یہ کوئی تبدیلی لا بھی سکتا ہے یا محض نظر کا دھوکا ہے؟

جواب: اِس علم کی کئی نوعتیں ہیں۔

ایک نوعیت یہ ہے کہ آپ کی نظریں دھوکا کھا رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن مجید ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جادو گروں کو لایا گیا تو اُنھوں نے لوگوں کی نگاہوں کو اِس طرح متاثر کر دیا کہ اُنھیں رسیاں سانپ نظر آنے لگیں ۔ قرآن مجید میں اِس کے لیے 'یُخَیَّلُ اِلَیْہِ' * کے الفاظ آئے ہیں۔ گویا دیکھنے والوں کے تخیل پر کچھ لوگ اثر انداز ہو گئے۔ رسیوں کو کچھ نہیں ہوا۔ یعنی وہ سانپ نہیں بن گئیں، لیکن نظر اس طرح آنے لگ گئیں جس طرح سانپ لہراتے ہوئے چل رہے ہیں۔

دوسری نوعیت یہ ہے کہ ایک چیز واقعتا رونما ہو جاتی ہے ۔ یہی وہ علم ہے جو ہاروت و ماروت، دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا ۔ یہ علم آج بھی موجود ہے اور اِس کی کرشمہ سازی کا خود میں نے بھی تجربہ کیا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں میرے پاؤں پر بچھو کاٹ گیا ۔ میں اُس وقت تیسری چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ بچھو کے کاٹنے کے بارے میں سنا پڑھا ضرور تھا، لیکن اُس کی تکلیف کا اندازہ نہیں تھا ۔اتنا ہی شدید درد تھا جیسے کسی نے پاؤں میں کیل ٹھونک دی ہے۔ میرے بہنوئی پاس کھڑے تھے، اُنھوں نے مجھے پکڑا اور قریب کے ایک گھر میں لے گئے ۔ وہاں ایک عالم فقیر محمد صاحب رہتے تھے۔ وہ باہر آئے اور اُنھوں نے میرے پاؤں پر اپنی انگلی رکھ دی۔ انگلی جیسے ہی پاؤں پر لگی ،فوراً تکلیف ختم ہو گئی۔ نہ درد تھا، نہ سوجن تھی ۔

علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب ''اپناگریباں چاک '' میں بتایا ہے کہ وہ پیر کرم شاہ صاحب الازہری کے ساتھ کسی جزیرے پر سیر کر رہے تھے کہ اُن کے بازو پر کسی کیڑے نے کاٹ لیا ۔ وہ جگہ بالکل سرخ ہو گئی اور شدید تکلیف اور سوجن کی وجہ سے بازو ہلانا مشکل ہو گیا ۔پیر صاحب نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو اُنھوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ کسی چیز نے کاٹ لیا ہے۔ پیر صاحب نے کہا کہ ذرا بازو دکھائیے ۔پھر اُنھوں نے کچھ پڑھ کے اُس کے اوپر پھونکا تو یک بہ یک درد بھی ختم ہو گیا اور سوجن بھی غائب ہو گئی ۔ درد کا احساس تو الگ بات فزیکل اثرات بھی ختم ہو گئے، یعنی سوجن غائب ہو گئی ۔

قدیم زمانے میں بھی اِس علم کے ماہرین موجود رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اِس کے بارے میں پوچھا گیا ۔ سیدہ صفیہ رضی اﷲ عنہا کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ اُنھوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہمارے ہاں کچھ یہودی خواتین ہیں جوکچھ پڑھ کے پھونک دیتی ہیں تو کیا کسی بیماری یا تکلیف میں ہم اُن سے رجوع کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ بس اِس کی احتیاط کر لو کہ اُس میں کوئی شرک کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بطور علم اِس کی نفی نہیں کی گئی۔

سوال: ایک عام آدمی کو کیا بتانا چاہیے کہ وہ کس حد تک اِن علوم کے ماہرین سے مدد لے سکتا ہے؟

جواب: عام آدمی کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ جو کچھ اُس کو کہا جا رہا ہے یا اُس سے کرایا جا رہا ہے، اُس میں کوئی اخلاقی قباحت تو نہیں ہے؟ کسی مذہبی عقیدے پر تو زد نہیں پڑ رہی؟وہ اﷲ کے سوا کسی اور کی مدد تو نہیں مانگ رہا؟

سوال: آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جو واقعہ بیان کیا اُس کی کچھ مزید وضاحت کر دیں ۔ جادوگر اُن کے مقابلے میں آئے تھے اور بعد میں ایمان لے آئے تھے ، اُس کی کیا وجہ تھی؟

جواب: اُس کی وجہ یہ تھی کہ کسی علم کے ماہرین سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا ہوتا کہ حقیقت کیا ہے۔جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے عصا کو ڈال دیا اور وہ سانپ بن گیاتو اُن سب کو معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں ہے۔ یہ ہمارا فن نہیں ہے، بلکہ اُس سے ماورا کوئی چیز ہے جس کا ہم تصور نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ آج کے زمانے میں اگر کوئی بات سائنس سے ماورا سامنے آئے تو سائنس دانوں کی شہادت بڑی غیر معمولی شہادت بن جائے گی۔

سوال: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جادو کیا گیا ، اس موضوع کی روایتوں کی کیا حقیقت ہے ؟

جواب: قرآن مجید میں بھی اِس واقعے کا ذکر ہے ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود بھی تھے۔ اُن کے ہاں اِس علم کا غیرمعمولی اشتغال تھا۔ اِس کے بڑے بڑے ماہرین اُن کے اندر پائے جاتے تھے۔ یہود نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو زک پہنچانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے۔آپ کا راستہ روکنے کی کوشش کی ، لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کی، آپ کو بلا کر یہ چاہا کہ اوپر سے کوئی پتھر گرا دیں۔ اِنھی میں سے ایک کوشش یہ بھی تھی کہ اُنھوں نے آپ پر جادو کرنے کی سعی کی۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر اِس کا صرف اتنا اثر ہوا کہ ذرا سی سرگرانی محسوس ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی پناہ مانگی تو سرگرانی ختم ہو گئی ۔ اِس مقصد کے لیے پہلے ہی معوذتین نازل کر دی گئی تھیں۔تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اتنی سی بات تھی جسے افسانہ بنا لیا گیا۔

پیغمبروں کے بارے میں اس طرح کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کی ضمانت قرآن میں دے رکھی ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا آپ کی حفاظت کرے گا ۔چنانچہ جس طرح اللہ نے ہجرت کے موقع پر قاتلانہ حملے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور آپ کو وہاں سے ایسے نکالا کہ لوگوں کو پتا بھی نہیں چل سکااور جس طرح غار ثور میں آپ کو محفوظ رکھا، اُسی طرح یہود کی اِس کوشش کو بھی ناکام کر دیا۔

سوال: آپ نے معوذتین کا ذکر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم پر کسی نے کچھ عمل کرادیا ہو یا ہماری بندش ہو گئی ہو تو معوذتین سے اُس کا علاج کیوں نہیں ہو پاتا؟

جواب: معوذتین دعائیں ہیں ، کوئی منتر نہیں ہیں۔ دعا آپ کو ہر بیماری میں ، ہر مصیبت میں کرنی ہے۔ دعا اور چیز ہے اور اِس نوعیت کا نفسی علم اور چیز ہے ۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو کوئی نفسی علم نہیں سکھایا، دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔ لہٰذااِس طرح کی صورت پیش آ جائے تو معوذتین پڑھنی چاہییں۔ اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہیے۔ نفسی علوم کا کوئی اچھا ماہر ہو تو اُس سے مدد لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ، جادو ٹونے سے ہر حال میں گریز کرنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اچھا کام کرنے کے لیے ذریعہ بھی اچھا ہونا چاہیے۔ جادو ٹونا اپنی ذات میں اِس لیے برا ہے کہ اِس میں معاملہ ہی شیاطین سے کیا جاتا ہے جو جنوں اور انسانوں، دونوں میں پائے جاتے ہیں۔جادو ٹونے سے علاج معالجے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے جرائم پیشہ لوگوں نے ایک مافیا بنا لیا ہو اور اُس مافیا سے لوگ اچھے کام بھی لینا شروع کر دیں۔ جو علم اﷲ تعالیٰ نے ہاروت و ماروت پر اتارا تھا ،وہ علم بھی اچھا تھا اور اُس کو حاصل کرنے کا ذریعہ بھی اچھا تھا۔ اِس علم کو اب بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، جیسے ابھی میں نے چند مثالیں دیں کہ کچھ لوگوں نے دم کیا ، پھونکا اور آرام آ گیا۔

_____

* طٰہٰ ۲۰: ۶۶۔

____________