جہنم سے خروج


خدا کے مقابلے میں سرکشی اوربغاوت کرنااوراس کی ذات سے مطلق بے پرواہوجانا،یہ دونوں اپنی ذات میں بہت بڑے گناہ ہیں۔قرآن نے جس طرح ان کے مستوجب سزاہونے کوبیان کیاہے،اسی طرح یہ بھی بتایاہے کہ ان کی سزاابدی اوردائمی جہنم ہوگی۔ یہاں ایک سوال ذہن میں ابھرتاہے ۔وہ یہ کہ ان کے مقابلے میں جوکم تردرجے کے گناہ ہیں ،اُن کی سزااپنی مدت کے لحاظ سے کتنی ہوگی؟ بعض لوگوں کی راے یہ ہے کہ اس طرح کے گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کوبھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہناہے،اس لیے کہ جوشخص ایک مرتبہ اس میں ڈال دیا جائے گا،وہ کسی صورت باہرنہ نکل سکے گا۔اس کے برخلاف،عام اور متداول راے یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں کو اس میں ڈالاتوضرورجائے گا،مگراپنے اپنے گناہوں کی سزاپالینے کے بعدآخرکاران کوباہرنکال لیاجائے گا۔

ان میں سے پہلی راے پرچنداعتراضات پیداہوتے ہیں:

اول یہ کہ پورے قرآن میں یہ بات کسی جگہ بیان نہیں ہوئی کہ ہرطرح کے گناہ کی سزاہمیشہ کی جہنم ہے۔کچھ خاص قسم کے جرائم ہیں کہ جن کاارتکاب کرنے والوں کویہ سزاسنائی گئی ہے۔لہٰذا،بات اتنی ہی ہے جتنی خدانے بیان کر دی اوراس خاص نوعیت کی سزا کو ہرقسم کے گناہ سے متعلق کردینا،کسی کے لیے بھی روانہیں۔

دوم یہ کہ ہر طرح کے گناہ پرایک جیسی سزادی جائے،یہ بات عدل وانصاف کے بالکل خلاف ہے۔ہوناتویہ چاہیے کہ جس شخص کاگناہ جس قدر کم یازیادہ ہو،اسے اسی نسبت سے سزادی جائے۔ مثال کے طور پر، جس شخص نے تکبر اور بغاوت کاراستہ اختیارکیا،حق بات کے واضح ہوجانے کے بعداس کاانکارکردیا یا زندگی بھروہ گناہ کی دلدل میں پھنسا رہا تو اس طرح کے تمام لوگ سزاوارہیں کہ انھیں ہمیشہ کی سزاسنائی جائے۔مگراس کے مقابلے میں وہ شخص کہ جس نے مثال کے طورپر،کبائرکاارتکاب تو کیا، مگرزندگی بھراس کارویہ کبھی سرکشی اور بغاوت کانہ ہوا یا دوسرے کی اُس نے بس غیبت کر دی یا اسی طرح کے نسبتاًکم تردرجے کے گناہوں میں وہ ملوث ہوا، عدل وانصاف کا تقاضا یہی ہے کہ انھیں بغاوت پرآمادہ مجرموں کی طرح ہمیشہ کے لیے جہنم کی سزا نہ سنادی جائے۔

یہاں کہاجاسکتاہے کہ عدل کے اصول پرہم ابدی جہنم سے خلاصی کی بات کیوں کریں؟اس میں جومختلف درجات ہیں، وہ اسی لیے توہیں کہ عدل کے سارے تقاضے پورے ہوں اورلوگ اپنے اعمال کے لحاظ سے وہاں مختلف درجوں میں رکھے جائیں۔عرض ہے کہ یہ بات بھی قرآن کے الفاظ سے میل نہیں کھاتی۔ان درجات کے بارے میں قرآن یہ نہیں کہتاکہ ہرطرح کے مجرموں کودوزخ میں ہمیشہ کے لیے جانااوراپنے عمل کے لحاظ سے وہاں مختلف درجوں میں رہنا ہے، بلکہ وہ صرف یہ کہتاہے کہ مجرموں کواپنے اعمال کی شدت اورنرمی کے لحاظ سے وہاں مختلف درجوں میں رہنا ہے۔ چنانچہ اس بنیادپرزیادہ سے زیادہ یہی کہاجاسکتاہے کہ وہاں لوگ دائمی طور پر جائیں یاایک مقرر مدت کے لیے، ان کے درجوں میں بہرکیف،ایک تفاوت رکھاجائے گا۔مثلاً،کھلاکفرکرنے والااوروہ منافق شخص جواپنے دل میں کفر چھپائے ہوئے تھا،یہ دونوں ہمیشہ کے لیے جہنم رسیدہوں گے،مگراس فرق کے ساتھ کہ اول الذکراوپرکے درجے میں اورثانی الذکراس کے سب سے نچلے درجے میں ہوگا۔

اس راے کے اثبات میں قرآن کی یہ دوآیتیں بھی پیش کی جاتی ہیں: 'وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ' ۱؂ اور 'وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْھَا' ۲؂ ۔ یعنی، دوزخ کے لوگ وہاں سے باہر نہ آسکیں گے۔ پہلی آیت کے بارے میں واضح رہے کہ یہ اصل میں وہی بات ہے جوقرآن کے دیگرمقامات پر 'ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ' کے الفاظ میں اداکی جاتی ہے۔ نیز، یہاں تمام مجرمین کانہیں،بلکہ شرک کی دعوت دینے والے پیشواؤں اوران کے پیروکاروں کاذکرہواہے ۔چنانچہ کچھ مخصوص لوگوں سے متعلق اس آیت کو زیرِ بحث عام دعوے سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری آیت کے بارے میں واضح رہے کہ اس میں دوزخ میں سے نکلنے یااس میں دائمی طورپرپڑے رہنے کا کوئی مضمون، سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس میں توفقط اہل دوزخ کی یہ بے بسی بیان ہوئی ہے کہ وہ نکل بھاگناچاہیں گے ،مگرکسی صورت بھی وہاں سے بھاگ نہ سکیں گے۔

جہاں تک اس بحث کے بارے میں دوسری راے کاتعلق ہے کہ بعض لوگ اپنی سزاپاکردوزخ میں سے نکل آئیں گے تواس کے حق میں ذیل کی چندباتیں پیش کی جاسکتی ہیں:

اولاً،اس دنیاکی عدالتوں کوہم دیکھتے ہیں کہ وہ جرم کی نوعیت اورمجرم کے حالات کی خصوصی طورپر رعایت کرتی ہیں اور ہر طرح کے مجرم کو ایک طرح کی سزانہیں سناتیں اورنہ ہرکسی کوہمیشہ کے لیے سزامیں مبتلارکھتی ہیں،اس لیے کہ یہ عقل وفطرت کافیصلہ اورعدل وانصاف کا ایک ناگزیرتقاضا ہے۔قرآن میں بیان ہوئے آخرت کے احوال اور وہاں ہونے والے بے لاگ عدل کی تفصیلات، یہ سب چیزیں بھی اگرسامنے رہیں تواس بات کومانے بغیرچارہ نہیں کہ وہاں ہرمجرم کونہ ایک جیسی سزادی جائے گی اورنہ ہرایک کوہمیشہ کے لیے سزامیں مبتلا ہی رکھا جائے گا۔

ثانیاً، قرآن کے بہت سے مقامات اس بات کی بین دلیل ہیں کہ خداکی رحمت اس کے غضب پرسبقت کرگئی ہے۔ چنانچہ خداکی اس بے پایاں رحمت کابھی تقاضاہے کہ کم تردرجے کے گناہوں میں ملوث لوگوں کواپنی میعاد اور مقدار میں بالکل وہی سزانہ دی جائے جوباغی اورسرکش اوراس سے بے پروا مجرموں کودی گئی ہو،بلکہ کسی نہ کسی طرح ان کی وہاں سے خلاصی اور نجات کی کوئی سبیل پیداکی جائے۔

ثالثاً،ہم جانتے ہیں کہ پروردگارنے انسان کوبنایاتواس کے دل میں ابدی زندگی کی آرزوبھی رکھی۔اس آرزو کو پورا کرنے کے لیے ایک جنت بنائی اورکچھ ہدایات دے کراس کی طرف جانے کی راہ کھول دی۔پھراسے ارادہ اور اختیار دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس راہ پرچلے اورجنت کی ابدی زندگی کامستحق ٹھیرے ۔البتہ ، جوکوئی اس سے منہ موڑے یااس پرصحیح طریقے سے چلنے سے انکارکردے تواس کوجہنم میں ڈال دیاجائے۔اس لحاظ سے دیکھاجائے تو جنت خداکی اس اسکیم میں مرکز اورہدف کی حیثیت رکھتی ہے ، مگر جہنم اس کاکوئی بنیادی اورمطلوب جز نہیں۔ لہٰذا، ہونا یہ نہیں چاہیے کہ جوذراسا بگڑے اس کوبھی اُٹھاکرہمیشہ کے لیے آگ میں جھونک دیاجائے،بلکہ جوٹھیک رہے، اسے بھی جنت سے نوازاجائے اورجس سے کچھ غلطیوں کاارتکاب ہواہو،اسے بھی سزادے دینے کے بعد آخرکارجنت ہی میں بھیج دیاجائے۔

رابعاً، عام طورپرمجرموں کوسزادینے کے پیچھے دووجہیں ہوتی ہیں:ایک یہ کہ مجرم نے جرم کاارتکاب کیاہے،اس لیے وہ مستحق ہوگیا ہے کہ اس کوسزادی جائے۔دوسرایہ کہ اس سے مقصودبعض انفرادی اوراجتماعی نوعیت کے فائدوں کا حصول ہوتاہے۔قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہاں بھی انھی دووجوہات کی بنیادپرسزادی جاتی ہے اور جو فائدے اس کے پیش نظرہوتے ہیں ،ان میں سے ایک بڑا فائدہ مجرم کاتزکیہ بھی ہے۔چنانچہ خداکی طرف سے تزکیے کا یہ عمل جس طرح دنیامیں کیاجاتاہے،اسی طرح آخرت میں بھی کیاجائے گا۔ مثلاً، کتمان حق کے مجرموں کے لیے ارشاد ہوا ہے: 'وَلَا یُزَکِّیْھِمْ' ۳؂ ،یعنی، خدا ان کاتزکیہ نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے ،اس کا مطلب ہے کہ وہاں کچھ لوگوں کاتزکیہ، بہرحال کیاجائے گا،اوریہ تزکیے ہی کی ایک صورت ہے کہ کسی کودوزخ میں ڈال کراس کوگناہوں سے پاک صاف کردیاجائے اورجب وہ طہارت حاصل کرلے تواس کووہاں سے نکال لیاجائے۔

اس راے کے حق میں یہ عقل وفطرت کے مسلمات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات ہی ہیں کہ اسے بہت سی حدیثوں میں بھی بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔جیساکہ ایک مرتبہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخرت میں اللہ جنت والوں کو جنت میں اور دوزخیوں کودوزخ میں داخل کردے گا۔پھرایک وقت آئے گااوروہ حکم دے گا کہ جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابربھی ایمان ہے ، اُسے دوزخ میں سے نکال لیاجائے۔چنانچہ انھیں وہاں سے نکال لیاجائے گا اوروہ جل جل کرکوئلہ ہوچکے ہوں گے۔ اس پر انھیں ایک نہر حیات میں ڈالاجائے گا اور وہ اس طرح اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے پانی کے کنارے کوئی دانہ اُگ آئے۔۴؂

________

۱؂ البقرہ ۲: ۱۶۷۔

۲؂ المائدہ ۵: ۳۷۔

۳؂ البقرہ ۲: ۱۷۴۔

۴؂ صحیح مسلم،کتاب الایمان، رقم ۳۰۴۔

____________