جمہوریت کے خلاف ایک غلط استدلال


جو لوگ جمہوریت کو خلاف اسلام قرار دیتے ہیں، اُن کا استدلال قرآن مجید کی حد تک ان دودلائل پر مبنی ہے:

ایک یہ کہ سورۂ انعام میں متنبہ کیا ہے کہ اگر لوگوں کی اکثریت کی بات مانی جائے تو وہ اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیتے ہیں۔ جمہوریت کا پورا نظام چونکہ اکثریت کی راے پر استوار ہے، اِس لیے یہ اپنی اساس ہی میں اسلام کے منافی ہے۔

دوسرے یہ کہ سورۂ نساء میں اور بعض دوسرے مقامات پر اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسانوں پر انسانوں کی راے کی نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے احکام کی حکومت قائم ہے۔ جمہوریت، اس کے برعکس عوامی راے کی بالادستی کا نام ہے۔چنانچہ اِس طرز حکومت کو اختیارکرنے سے قرآن و سنت کی بالا دستی قائم نہیں رہتی۔

یہ دونوں، بلا شبہ قرآن مجید ہی کے ارشادات ہیں اور ہر لحاظ سے برحق اور واجب التعمیل ہیں، مگر اِن سے جمہوریت کی مخالفت پراستدلال درست نہیں ہے۔ سورۂ انعام میں ارشاد ہے:

وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِّلُوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ.(۶: ۱۱۶)

'' زمین والوں میں زیادہ ایسے ہیں کہ اُن کی بات مانو گے تو تمھیں خدا کے راستے سے بھٹکا کے چھوڑیں گے۔ یہ محض گمان پر چلتے اور اٹکل دوڑاتے ہیں۔''

یہ آیت اصول کا نہیں، امر واقعی کا بیان ہے۔ اِس میں یہ حقیقت نمایاں کی گئی ہے کہ لوگوں کی اکثریت بالعموم گمراہی پر کھڑی ہوتی ہے، لہٰذا اگر اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اُن کی پیروی کی تو وہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ بیش تر لوگ رسوم و رواج کے پابند اور آبائی طور طریقوں کے پیرو ہوتے ہیں۔ وہ محکم دلائل پر کھڑے نہیں ہوتے، بلکہ قیاس آرائیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور علم و استدلال کے بجاے ظن و گمان کو بنیاد بناتے ہیں۔ اُن کے نظریات، اُن کے تصورات، اُن کے افکار، اُن کے اعمال، سب واہموں، اندازوں اور اٹکلوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا حق کے متلاشی کو یہ روش اختیار نہیں کرنی چاہیے کہ چونکہ زیادہ لوگ فلاں بات کہہ رہے ہیں، اِس لیے وہی صحیح اور لائق اتباع ہے۔ اِس کے بجاے اللہ کی ہدایت کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی اِس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:

''یعنی بیش تر لوگ جو دنیا میں بستے ہیں، علم کے بجائے قیاس و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کے عقائد، تخیلات، فلسفے،اصول زندگی اور قوانین عمل، سب کے سب قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، بخلاف اس کے اللہ کا راستہ، یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کا وہ طریقہ جو اللہ کی رضا کے مطابق ہے، لازماًصرف وہی ایک ہے جس کا علم اللہ نے خود دیا ہے نہ کہ وہ جس کولوگوں نے بطور خود اپنے قیاسات سے تجویز کر لیا ہے۔ لہٰذا کسی طالب حق کو یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے بیش تر انسان کس راستہ پر جا رہے ہیں، بلکہ اسے پوری ثابت قدمی کے ساتھ اس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے، چاہے اس راستہ پر چلنے کے لیے وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ جائے۔ '' (تفہیم القرآن ۱/ ۵۷۵)

مدعا یہ ہے کہ کسی راے کی تائید میں لوگوں کی تعداد کی کثرت اُس کے مبنی بر حق ہونے کی دلیل نہیں ہے ، لہٰذا اُن کی اکثریت کو کبھی حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ یعنی کسی بات کے حق یا باطل اورصحیح یاغلط ہونے کا فیصلہ علم و استدلال کی بنیاد پر کرنا چاہیے ، اکثریت یا اقلیت کی بنا پر نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ اگر کوئی انبوہِ کثیر کسی بات کا پرچار کر رہا ہو تو محض اُس کی کثرت کو دیکھتے ہوئے یہ یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ اُس کی بات مبنی بر حق ہے، بلکہ اُسے دین و دانش کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے اور اُسی بات کو قبول کرنا چاہیے جو اللہ کی ہدایت کے مطابق ہو۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

''اکثریت کاغوغا اُس کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اِس بھیڑ کو دیکھ کر کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ یہ پتا اللہ کو ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور کون ہدایت یاب ہیں۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۱۴۵)

اب دوسری آیت کو لیجیے۔ سورۂ نساء میں ارشاد فرمایاہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ.(۴: ۵۹)

''ایمان والو ،اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر تمھارے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف راے ہو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔ ''

اِس آیت میں بجا طور پر اللہ اور رسول کے احکام کی بالادستی کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت دین کی اساس ہے۔ مسلمان جب تک مسلمان ہے، اِس سے انحراف نہیں کر سکتا۔ لہٰذا اِس کا کوئی سوال ہی نہیں ہے کہ انسانوں کا کوئی ادارہ یا اُن کی کوئی جماعت یا اُن کی اکثریت یا تمام بنی نوع انسان اللہ اور رسول کے مقابلے میں اپنی اطاعت کا مطالبہ کریں اور وہ اسلام پر قائم رہتے ہوئے اُن کے اِس مطالبے کو تسلیم کر لے۔ ہر گز نہیں، یہ اُس کے ایمان کے منافی ہے ۔ چنانچہ اُسے اپنی انفرادی زندگی میں بھی اللہ اور رسول کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی اُن کی اطاعت کرنی ہے۔

استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اِس آیت کو اپنی کتاب ''میزان'' میں اسلام کے قانون سیاست کے بنیادی اصول کے طور پر رقم کیا ہے اور اِس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کا حکم قیامت تک کے لیے ہے، لہٰذا مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر اللہ اور رسول کے احکام کی مستقل بالادستی قائم ہے۔ نظم اجتماعی کے تمام اداروں کے اختیارات اِس اطاعت کے ماتحت ہیں ۔ چنانچہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں اِس کی قطعاً گنجایش نہیں ہے کہ اللہ اور رسول کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یا اُنھیں نظر انداز کر کے کوئی قانون وضع کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں:

''یہ حکم اُس وقت دیا گیا جب قرآن نازل ہو رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس مسلمانوں کے درمیان موجود تھے اور وہ اپنے نزاعات کے لیے جب چاہتے ، آپ کی طرف رجوع کر سکتے تھے ۔ لیکن صاف واضح ہے کہ اللہ و رسول کی یہ حیثیت ابدی ہے ، لہٰذا جن معاملات میں بھی کوئی حکم اُنھوں نے ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے ، اُن میں مسلمانوں کے اولی الامر کو، خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان ، اب قیامت تک اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ اولی الامر کے احکام اِس اطاعت کے بعد اور اِس کے تحت ہی مانے جا سکتے ہیں ۔اِس اطاعت سے پہلے یا اِس سے آزاد ہو کر اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ چنانچہ مسلمان اپنی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتے جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں اُن کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو ۔اہل ایمان اپنے اولی الامر سے اختلاف کا حق بے شک رکھتے ہیں، لیکن اللہ اور رسول سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا،بلکہ اِس طرح کا کوئی معاملہ اگر اولی الامر سے بھی پیش آ جائے اور اُس میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت موجود ہو تو اُس کا فیصلہ لازماً اُس ہدایت کی روشنی ہی میں کیا جائے گا۔''(۴۸۲)

یہ اِن آیتوں کا مفہوم و مدعا ہے ۔ چنانچہ یہ کہنا محض خلط مبحث اور سوء فہم ہے کہ جمہوریت کو اپنانے سے گمراہی کا راستہ کھلتا ہے اور قرآن و سنت کی بالادستی کا تصور قائم نہیں رہتا۔ جمہوریت بذاتِ خود 'اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ' (اُن کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے) کے قرآنی اصول پر مبنی ہے جس کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اگر اجماع و اتفاق سے فیصلہ نہ ہو سکے تو اکثریت کی راے کو فیصلہ کن مان لیا جائے۔ چنانچہ اِس اصول کے تحت جمہوری طرزِ حکومت کو اختیار کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ عوام یا اُن کے نمایندوں کی اکثریت کے فیصلوں کو عین حق تسلیم کر لیا گیا ہے،بلکہ یہ ہیں کہ فصل نزاعات کے لیے عملاً اکثریتی راے کو فیصلہ کن مان لیا گیا ہے، اور ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اُس سے اختلاف کا اظہار کرے اور اُس کے خلاف راے عامہ کو ہموار کرے ۔ اِسی طرح اِس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ قرآن وسنت سے بالاتر ہو کر یا اُنھیں نظر انداز کر کے قانون وضع کرے۔ وہ اگر مسلمانوں کی نمایندہ ہے تو اُسے لازماًاپنے اختیارات کو 'اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ' کے تحت استعمال کرنا ہو گا۔

اِس بات کو ایسے سمجھنا چاہیے کہ اگرایک عدالتی بینچ نے کسی مقدمے کا فیصلہ کثرت راے کی بنا پر کیا ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُس نے قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نے اختلاف کی صورت میں فیصلے کو روبہ عمل کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔یہی معاملہ مسلمانوں کی ریاست یا اُن کے نظم اجتماعی کا ہے۔ اِس میں جب شہریوں کی اکثریتی راے کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے تو اِس کے معنی یہ ہرگز نہیں ہوتے کہ اِس کے نتیجے میں اُن کی راے کی برتری علم و استدلال اور قرآن وسنت پر بھی قائم ہوگئی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ قرآن و سنت کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے متنازع اور اختلافی معاملات میں اکثریت کے فیصلے کو نافذ کیا گیا ہے۔استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:

'' 'اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ' کے اصول کا تقاضا صرف یہ ہے کہ فصل نزاعات کے لیے اکثریت کی راے کو عملاً فیصلہ کن مان لیا جائے۔ اِس کا ہرگز یہ تقاضا نہیں ہے کہ اُس راے کو صحیح بھی مانا جائے اور اُس کی غلطی لوگوں پر واضح کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ دنیا کے تمام دساتیر اور آئینی دستاویزات میں ترمیم کا حق اِسی لیے دیا جاتا ہے کہ اِ ن کی کوئی چیز صحیفۂ آسمانی نہیں ہوتی۔ اہل علم کا فرض ہے کہ برابر اِن کا جائزہ لیتے رہیں اور اگر کہیں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اُس کو درست کرانے کی جدوجہد کریں۔'' (مقامات ۲۲۷)

____________