جنت کے اعمال (۵)


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ۱ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِيْ عَلٰی طَرِیْقٍ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ [کَانَ یُؤْذِي النَّاسَ]،۲ فَقَالَ: لَأَرْفَعَنَّ ہٰذَا لَعَلَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ لِيْ بِہِ، فَرَفَعَہُ،۳ فَغَفَرَ اللّٰہُ لَہُ بِہِ وَأَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ''.

۱۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک آدمی کہیں چلا جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں ایک کانٹوں بھری ٹہنی دیکھی جو لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بن رہی تھی۔ اُس نے کہا: میں اِس کو ضرور ہٹاؤں گا، شاید اللہ میرے اِس عمل کی بنا پر میری بخشش فرما دے۔ سواُس نے وہ ٹہنی ہٹا دی تو اِس کے صلے میں اللہ نے اُس کی مغفرت فرما ئی اور اُس کو جنت میں داخل کر دیا۔۱

۱۔ یعنی فیصلہ کر دیا کہ وہ جنت میں جائے گا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ خدا پر سچے ایمان اور اُس کے حضور میں مغفرت کی خواہش کے ساتھ چھوٹے سے چھوٹا نیکی اور خیر کا کام بھی آدمی کو جنت میں لے جانے کا باعث بن سکتا ہے۔ چنانچہ اِس طرح کے کسی کام کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ آگے بڑھ کر انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لوگوں کی حق تلفی اور اُن کے خلاف کسی زیادتی کا بار آدمی پر نہ ہوا تو بعید نہیں کہ اِس کے صلے میں ایک سچے صاحب ایمان کے دوسرے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں اور خدا کی رحمت اُس کے حق میں جنت کا فیصلہ کر دے۔ وماذلک علی اللّٰہ بعزیز۔

________

۲۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ۴ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِيْ بِطَرِیْقٍ اشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئۡرًا، فَنَزَلَ فِیہَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ یَلْہَثُ یَأْکُلُ الثَّرٰی۵ مِنَ الْعَطَشِ،۶ فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ ہٰذَا الْکَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِيْ کَانَ بَلَغَ بِيْ،۷ فَنَزَلَ الْبِئۡرَ فَمَلَأَ خُفَّہُ ثُمَّ أَمْسَکَہُ بِفِیْہِ فَسَقَی الْکَلْبَ، فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ [فَأَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ]''۸ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَہَائِمِ أَجْرًا؟ فَقَالَ: ''نَعَمْ، فِيْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ أَجْرٌ''.

۲۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کہیں راستے میں جا رہا تھاکہ اِس دوران میں اُس کو سخت پیاس لگی۔ وہ تلاش میں تھا کہ اُس کو ایک کنواں ملا۔ وہ اُس میں اترا اور اُس سے پانی پیا۔ پھر کنویں سے باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے (کنویں کے گرد) گیلی زمین چاٹ رہا ہے۔ اُس نے یہ دیکھا تو خیال کیا کہ اِس کتے کو بھی اُسی شدت کی پیاس لگی ہے ، جس طرح مجھے لگی تھی۔ چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا، پھر اُس کو منہ سے پکڑکراوپر لایااور اُس سے کتے کو پانی پلا دیا۔ اللہ نے اُس کی یہ نیکی قبول فرمائی، اُس کو بخش دیا اور اُسے جنت میں داخل کردیا۱۔ لوگوں نے عرض کیا :یا رسول اللہ، کیا جانور بھی ہمارے لیے باعث اجر ہو سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:ہرمخلوق جس کا جگر ترہے ،۲اُ س میں تمھارے لیے اجر ہے۔

۱۔ یہ اُسی اصول کے مطابق ہے جس کی وضاحت ہم اوپر کی روایت کے تحت کر چکے ہیں۔

۲۔ یہ جان کی تعبیر ہے، جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ ہر وہ مخلوق جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے یا جس کی رگوں میں خون دوڑتا ہے اور اِس سے اُس کا جان دار ہونا مراد لیتے ہیں۔

________

۳۔عَنْ ثَوْبَانَ،۹ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''مَنْ فَارَقَ الرُّوْحُ الْجَسَدَ۱۰ وَہُوَ بَرِيْءٌ مِنْ ثَلاَثٍ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ: الْکِبْرِ،۱۱ وَالدَّیْنِ، وَالْغُلُوْلِ''.

۳۔ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کی روح اِس حال میں اُس کے جسم سے جدا ہوئی کہ تین چیزوں سے بری تھا، وہ جنت میں داخل ہوگا:ایک تکبر، دوسرے قرض اور تیسرے خیانت ۔۱

۱۔ اِس طرح کی تمام بشارتیں اُن سچے اہل ایمان کے لیے ہیں جو خدا کی جنت میں داخل ہونے کی خواہش اور اُس کی تیاری میں زندگی بسر کرتے ہیں، لیکن کہیں کہیں پھسل جاتے اور گناہوں کا ارتکاب بھی کر بیٹھتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو بشارت دی ہے کہ وہ اگر حق کے مقابلے میں سرکشی سے بچے رہے، دنیا سے رخصت ہوئے تو کسی کا حق گردن پر نہیں تھا اور اُنھوں نے کسی کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی تو امید ہے کہ اللہ اُن کی مغفرت فرمائے گا اور اُن کے لیے جنت کا فیصلہ کر دے گا۔ اِس لیے کہ اِسی طرح کی چیزیں ہیں جو ایمان کے باوجود آدمی کو جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہی بات سورۂ نساء (۴) کی آیت ۳۱ میں بطور اصول بیان فرمائی ہے کہ تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔

________

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد ، رقم ۱۰۰۸۱سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

موطا امام مالک، رقم۲۱۰، ۲۷۵، ۲۹۱۔مسند حمیدی، رقم۱۰۹۰۔مسند احمد، رقم۷۶۴۵،۹۴۵۶،۱۰۵۲۶،۱۰۶۷۴ ۔ صحیح بخاری، رقم۶۱۸، ۲۳۰۴۔صحیح مسلم، رقم۳۵۴۵، ۴۷۴۹۔سنن ترمذی، رقم۱۸۷۷۔سنن ابو داؤد، رقم ۴۵۶۷۔ مسند ابی یعلیٰ،رقم۶۰۰۴،۶۴۴۹ ۔صحیح ابن حبان،رقم۵۴۱، ۵۴۲، ۵۴۳۔

۲۔ صحیح ابن حبان ،رقم۵۴۳۔

۳۔مسند احمد، رقم۱۰۵۲۶میں 'فَرَفَعَہُ' کے بجاے 'فَنَحَّاہُ' ہے۔صحیح بخاری ،رقم ۲۳۰۴میں اِن کے بجاے 'فَأَخَذَہُ' ہے۔اِن کا مدعاکم و بیش ایک ہی ہے۔

مسند احمد ، رقم۹۰۳۷میں یہی روایت اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے: 'دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّۃَ بِغُصْنِ شَوْکٍ عَلٰی ظَہْرِ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ، فَأَمَاطَہُ عَنْہُ'''ایک بندۂ خدا اُس کانٹوں بھری ٹہنی کی بدولت جنت میں داخل ہو گیا جو مسلمانوں کے راستے میں پڑی تھی کہ اُس نے اُس کو ہٹا دیا۔''

۴۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح بخاری، رقم۵۵۷۷ سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کے مصادر درج ذیل ہیں:

مسند ربیع، رقم۶۹۷۔موطا امام مالک،رقم۸۲۴، ۱۰۶۳۔مسند احمد، رقم۸۶۷۵، ۱۰۴۷۲، ۱۰۵۲۵۔صحیح بخاری ۱۷۰، ۲۲۰۱، ۲۲۹۸۔ صحیح مسلم، رقم۴۱۶۹۔سنن ابی داؤد، رقم۲۱۹۰۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم۴۲۶۶۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۴۸، ۵۴۹۔السنن الکبریٰ،بیہقی، رقم۷۲۱۱۔السنن الصغریٰ،بیہقی، رقم۱۳۵۱۔

۵۔مستخرج ابی عوانہ، رقم۴۲۶۶میں'الثَّرٰی' کے بجاے 'التُّرَابَ' نقل ہوا ہے۔

۶۔صحیح ابن حبان، رقم۵۴۸میں اِس جگہ 'فَرَحِمَہُ' کا اضافہ ہے، یعنی اُس نے اُس پر ترس کھایا۔

۷۔بعض روایات، مثلاً مسند ربیع میں 'بَلَغَنِيْ' نقل ہوا ہے۔اِسی طرح بعض روایتوں،مثلاً موطا امام مالک، رقم ۱۶۶۳ میں 'بَلَغَ مِنِّيْ' ہے۔

۸۔مسند احمد، رقم۱۰۵۲۵۔

۹۔اِس روایت کا متن مسند احمد ، رقم۲۱۷۷۸سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ثوبان رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کے مصادر یہ ہیں:

مسند احمد، رقم۲۱۷۹۹،۲۱۸۳۷،۲۱۸۳۸،۲۱۸۴۵۔ سنن دارمی، رقم۲۵۱۲۔سنن ترمذی، رقم۱۴۹۵۔سنن ابن ماجہ، رقم ۲۴۰۵۔ مسند بزار، رقم۷۹۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۸۴۴۳۔مسند رویانی، رقم۶۰۹۔صحیح ابن حبان، رقم ۲۰۰۔ مستدرک حاکم، رقم۲۱۵۵،۲۱۵۶۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۰۱۳۷،۱۶۷۵۱۔

۱۰۔بعض روایات، مثلاً سنن ترمذی ، رقم۱۴۹۵میں 'فَارَقَ الرُّوْحُ الْجَسَدَ' کے بجاے 'مَنْ مَاتَ' کے الفاظ ہیں۔

۱۱۔مسند رویانی، رقم۶۰۹میں 'الکبر'کے بجاے 'الکفر' نقل ہوا ہے۔اِسی طرح السنن الکبریٰ،نسائی، رقم ۸۴۴۳میں لفظ 'الکنز' بمعنی خزانہ منقول ہے۔ یہ غالباً روایت کے کسی مخطوطے کوپڑھنے کی غلطی ہے۔ روایت کا مضمون اور باقی تمام طرق اِن تعبیرات کو قبول نہیں کرتے ۔

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجہ. ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ.

أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح.ط۳.تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت).صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________