جنت کے اعمال (۴)


تحقیق و تخریج: محمد حسن الیاس

۱۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۱ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لِلّٰہِ۲ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ إِسْمًا،۳ مِاءَۃٌ إِلاَّ وَاحِدًا.مَنْ أَحْصَاہَ۴ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، إِنَّہُ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْراَ''.

۲۔قَالَ حَارِثَۃَ بْنَ وَہْبٍ الْخُزَاعِيَّ:۵ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ''أَلَا أُخْبِرُکُمْ۶ بِأَہْلِ الْجَنَّۃِ''؟ [قُلْنَا: بَلٰی، قَالَ:]۷ ''کُلُّ ضَعِیْفٍ مُتَضَعِّفٍ،۸ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَأَبَرَّہُ''.

۳۔عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ،۹ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِيْ خُطْبَتِہِ: ''أَہْلُ الْجَنَّۃِ ثَلَاثَۃٌ: ذُوْسُلْطَانٍ۱۰ مُقْسِطٍ،۱۱ مُتَصَدِّقٌ، مُوَفَّقٌ؛ ۱۲ وَرَجُلٌ رَحِیْمٌ، رَقِیْقُ الْقَلْبِ لِکُلِّ ذِيْ قُرْبٰی وَمُسْلِمٍ؛ وَعَفِیْفٌ۱۳ مُتَعَفِّفٌ ذُوْعِیَالٍ''.

۴۔عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ،۱۴ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ یَّضْمَنْ۱۵ لِیْ مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ،۱۶ أَضْمَنْ ۱۷ لَہُ الْجَنَّۃَ''.۱۸

۵۔عَنْ ثَوْبَانَ،۱۹ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ یَّتَقَبَّلْ لِیْ۲۰ بِوَاحِدَۃٍ أَتَقَبَّلْ لَہُ بِالْجَنَّۃِ''، قَالَ: قُلْتُ أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ''لَا تَسْأَلِ النَّاسَ۲۱ شَیْءًا''، قَالَ: فَرُبَّمَا سَقَطَ سَوْطُ ثَوْبَانَ وَہُوَ عَلٰی بَعِیْرِہِ، فَمَا یَسْأَلُ أَحَدًا أَنْ یُنَاوِلَہُ، حَتّٰی یَنْزِلَ إِلَیْہِ فَیَأْخُذَہُ.

۶۔عَنْ ثَوْبَانَ۲۲ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ عَادَ مَرِیْضًا لَمْ یَزَلْ فِيْ خُرْفَۃِ۲۳ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَرْجِعَ''.۲۴

۷۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ،۲۵ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ''الْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَہُمَا [مِنَ الذُّنُوْبِ]،۲۶ وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ۲۷ لَیْسَ لَہُ جَزَاءٌ ۲۸إِلَّا الْجَنَّۃُ''.

۸۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۲۹ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِبِلاَلٍ عِنْدَ صَلٰوۃِ الْغَدَاۃِ:۳۰ ''یَا بِلاَلُ،۳۱ حَدِّثْنِيْ بِأَرْجَيْ عَمَلٍ عَمِلْتَہُ عِنْدَکَ فِي الْإِسْلاَمِ مَنْفَعَۃً، فَإِنِّیْ سَمِعْتُ اللَّیْلَۃَ۳۲ خَشْفَ نَعْلَیْکَ۳۳ بَیْنَ یَدَيَّ فِي الْجَنَّۃِ''.۳۴ قَالَ بِلاَلٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلاً فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَيْ عِنْدِيْ مَنْفَعَۃً مِنْ أَنِّيْ لَا أَتَطَہَّرُ طُہُوْرًا تَامًّا فِيْ سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ وَلَا نَہَارٍ، إِلَّا صَلَّیْتُ بِذٰلِکَ الطُّہُوْرِ مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِيْ أَنْ أُصَلِّيَ.۳۵[فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ''بِہٰذَا''].۳۶

۹۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ،۳۷ قَالَ: قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فُلاَنَۃَ تُصَلِّيْ مِنَ اللَّیْلِ، وَتَصُوْمُ النَّہَارَ، وَتُؤْذِيْ جِیْرَانَہَا سَلِیْطَۃً،۳۸ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''ہِيَ فِي النَّارِ''۔ وَقِیْلَ لَہُ: إِنَّ فُلاَنَۃَ تُصَلِّي الْمَکْتُوْبَۃَ، وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ، وَتَصَدَّقُ بِالأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، لَیْسَ لَہَا شَيْءٌ غَیْرُہِ، وَلاَ تُؤْذِيْ أَحَدًا،۳۹ فَقَالَ: ''ہِيَ فِي الْجَنَّۃِ''.

۱۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ کے ایک کم سو،یعنی ننانوے نام ہیں۱۔ جو شخص اِن کو یاد رکھے ،وہ جنت میں داخل ہوگا ۲۔(ننانوے) اِس لیے کہ اللہ طاق ہے ،اور طاق کو پسند کرتا ہے۔

۲۔حارثہ بن وہب خزاعی کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے فرمایا: میں تمھیں بتاؤں کہ جنت کے لوگ کون ہیں؟ہم نے عرض کیا:کیوں نہیں، (یا رسول اللہ)۔آپ نے فرمایا:سب بے نوا عاجزی کرنے والے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ اُسے پورا کردے۔۳

۳۔عیاض رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبے میں فرمایا:جنت میں تین قسم کے لوگ ہوں گے:ایک وہ عادل حکمران جو صدقہ و خیرات کرتا اور نیکی اور خیر کے لیے خدا کی توفیق سے بہرہ یاب ہے،دوسرا وہ سراپا شفقت آدمی جو ہر قریبی رشتے دار، بلکہ ہر مسلمان کے لیے دل کا نرم ہے،اور تیسرا وہ عیال دار فقیرجو گناہ اور سوال سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔۴

۴۔سہل بن سعد رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے مجھے اُس چیز کی ضمانت دی جو اُس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے، ( یعنی زبان)،اور اُس چیز کی جو اُس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے،(یعنی شرم گاہ)،میں اُس کو جنت کی ضمانت دیتاہوں۔ ۵

۵۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو مجھے ایک بات کی ضمانت دے، میں اُس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، میں ضمانت دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا:لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔۶راوی کا بیان ہے کہ اِس کے بعد ایسا بھی ہوا کہ ثوبان اپنے اونٹ پر سوار ہوتے اور اُن کا کوڑا گر پڑتا تو کسی سے اُس کو بھی اٹھانے کے لیے نہ کہتے، بلکہ خود اتر کر اٹھا لیتے ۔۷

۶۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے توجب تک لوٹ نہیں آتا،وہ جنت کے میووں کے درمیان اُس کی سیر دیکھ رہا ہوتا ہے۔۸

۷۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں۹ کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ اور حج مبرور ۱۰کی جزا تو بس جنت ہی ہے ۔

۸۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے وقت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہا :بلال، مجھے کوئی ایسا عمل بتاؤ جو اسلام لانے کے بعد تم نے کیا ہو اور تمھیں اُس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو، اِس لیے کہ میں نے رات جنت میں اپنے آگے تمھارے جوتوں کی چاپ سنی ہے ۔بلال نے عرض کیا:میں نے اسلام لانے کے بعد اِس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں دن یا رات کے جس حصے میں بھی وضو کرتا ہوں،اُس سے جتنی توفیق اللہ نے مجھے دی ہوتی ہے ،نماز ضرور پڑھتا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہی وجہ ہے (کہ میں نے تمھیں جنت میں دیکھا)۔۱۱

۹۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی اور دن میں روزہ رکھتی ہے۱۲،مگرزبان دراز ہے۔ و ہ اپنی زبان سے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی ہے۔آپ نے فرمایا:دوزخ میں جائے گی۔ اِسی طرح آپ سے کہا گیا کہ ایک دوسری عورت ہے جو فرض نماز پڑھ لیتی اور رمضان میں روزے رکھ لیتی ہے، اِسی طرح پنیر کے چند بڑے ٹکڑے صدقہ بھی کر دیتی ہے، اِس کے علاوہ اُس کے پاس خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، مگر وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتی۔آپ نے فرمایا:جنت میں جائے گی۔۱۳

ترجمے کے حواشی

۱۔اِس سے مراد وہ نام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے لحاظ سے خود اپنے صحیفوں میں بیان فرمائے ہیں۔

۲۔ اصل میں لفظ 'أحصٰی'استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد یہاں صفات الٰہی کا استحضار ہے، یعنی اُن کے مفہوم و مدعاکو سمجھ کر اُن کے مطابق اللہ تعالیٰ کا تصور اپنے دل و دماغ میں قائم کرنا اور اُسے قائم رکھنا۔ اِس کا لازمی نتیجہ اِسی تصور کی روشنی میں خدا سے متعلق ہو کر اپنے شب و روز کی تنظیم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اِسی کا صلہ بیان فرمایا ہے۔

۳۔یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُن کے تعلق کی تعبیر ہے۔مدعا یہ ہے کہ بظاہر بے نوا اور مساکین نظر آتے ہیں،لیکن اپنے پروردگار کے ساتھ اِس درجہ محبت اور اعتماد کے رشتے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

۴۔ یعنی اِسی طرح کے لوگ ہوں گے جن سے خدا کی جنت آباد کی جائے گی۔ یہ اسلوب روایتوں میں بہت اختیار کیا گیا ہے۔

۵۔تمام گناہوں میں بنیادی حیثیت تین ہی چیزوں کو حاصل ہے: ایک فواحش، دوسرے حق تلفی اور تیسرے جان،مال اور آبرو کے خلاف زیادتی۔ یہ حقیقت ہے کہ اِن میں سے زیادہ تر کا باعث یہی دو چیزیں بنتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہایت بلیغ اسلوب میں اِسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔مطلب یہ ہے کہ زبان اور شرم گاہ پر پہرا بٹھائے رکھو گے تو بہت سے گناہوں سے بچو گے، جس کے نتیجے میں تمھیں وہ پاکیزگی حاصل ہوجائے گی جس کا صلہ جنت ہے۔

۶۔مطلب یہ ہے کہ ایمان و اسلام کی توفیق تو تمھیں حاصل ہے، اِس کے ساتھ اپنی خودداری کی حفاظت بھی کرتے رہنا۔ یہ ایک ہی چیز تمھارے لیے بہت سے اعمال صالحہ کا باعث بن جائے گی۔انسانی نفسیات کے علما جانتے ہیں کہ یہ کیسی گہری بات ہے اور انسان کے سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے کس قدر موثر ہو سکتی ہے۔

۷۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتاہے کہ جن لوگوں کو اخلاص کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ سے تربیت پانے کا شرف حاصل ہوا، وہ جنت کے کیسے شائق تھے اور اِس کے لیے کس قدر مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔

۸۔اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حقوق العباد کی دین میں کیا اہمیت ہے۔

۹۔اِس سے وہ گناہ مراد ہیں جو حقوق العباد سے متعلق نہیں ہیں کہ اُن کے لیے معافی اور تلافی ضروری ہو۔

۱۰۔ یعنی جو ہر طرح کے گناہوں سے بچتے ہوئے اور اِس اہتمام کے ساتھ کیا جائے کہ خدا کی بارگاہ میں قبول کر لیا جائے۔

۱۱۔یہ، ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رؤیا ہے جس سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ عبادات کے نوافل ایک سچے بندۂ مومن کے لیے کس طرح خدا کے تقرب اور اُس کی جنت میں آگے جگہ حاصل کرنے کا باعث بنیں گے۔ اِس طرح کے رؤیا پیغمبروں کو اِس لیے دکھائے جاتے ہیں کہ بعض چیزوں پر تنبیہ اور بعض کے غیر معمولی نتائج کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ نہایت موثر ہوتے ہیں۔ اِن کا اثر رؤیا دیکھنے والے پر بھی ہوتا ہے اور جن کے سامنے یہ بیان کیے جاتے ہیں، وہ بھی اِن سے لازماً متاثر ہوتے اور جس چیز کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے، اپنے پورے وجود کے ساتھ اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

۱۲۔یعنی عبادات میں بہت اشتغال ہے۔ صرف فرض نماز اور فرض روزوں پر اکتفا نہیں کرتی، اِن کے ساتھ نوافل کا بھی اِس قدر اہتمام ہے کہ ہر رات تہجد پڑھتی اور پورا سال روزے رکھتی ہے۔

۱۳۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں اخلاق کی کیا اہمیت ہے اور اگر کوئی شخص نماز روزے کے غیر معمولی اہتمام کے باوجود کسی کی حق تلفی کرتا یا اُس کے جان و مال اور آبرو کے خلاف کوئی زیادتی کرتا ہے تو قیامت میں کس انجام سے دوچار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہر مسلمان کو متنبہ رہنا چاہیے کہ وہ دوسروں کو اذیت پہنچاکریا ناجائز طریقوں سے اُن کا مال ہتھیاکر یا اُن کو کوئی نقصان پہنچا کر اپنی نمازوں اور روزوں اور ہر سال کے حج و عمرہ سے اِس کی تلافی نہیں کر سکتا۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رویے کی اصلاح کرے، جس سے جو لیا ہے، اُس کو واپس کرے اور اُس سے معافی کا خواست گار ہو۔ اِس سے کم کوئی چیز بھی اُس کو جہنم سے بچا لینے کا باعث نہیں بن سکتی۔یہ، اگر غور کیجیے تو نہایت سنگین صورت حال ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس دوٹوک طریقے سے بیان کر دیا ہے۔ اِس کے بعد بھی کوئی شخص اگر اِس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ دوسروں کی حق تلفی اور اُن کے جان و مال اور آبرو کے خلاف ہر تعدی کے باوجود اُس کی عبادات اُس کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائیں گی تو اُس کے حق میں دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔اِس روایت کا متن صحیفہ ہمام بن منبہ،رقم۳۴سے سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ درج ذیل مصادر میں نقل ہوئی ہے:

الجامع، معمر بن راشد، رقم۲۵۱۔ مسند، حمیدی، رقم۱۰۸۰۔مسند احمد، رقم ۷۳۱۹، ۷۴۳۸، ۷۹۴۷، ۹۳۰۸، ۱۰۲۵۹، ۱۰۳۱۳، ۱۰۴۵۷۔صحیح بخاری، رقم ۲۵۴۴، ۵۹۵۸۔ سنن ترمذی،رقم۳۴۵۲، ۳۴۵۴۔صحیح مسلم، رقم۴۸۴۱، ۴۸۴۲۔ سنن ابن ماجہ،رقم۳۸۵۸، ۳۸۵۹۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۷۳۵۴۔ صحیح ابن حبان، رقم۸۱۴۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم۱۰۰۱، ۲۳۵۳، ۵۰۴۲۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۸۲۴۰۔

۲۔صحیح بخاری،رقم۲۵۴۴میں روایت کا آغازلفظ 'إِنَّ'سے ہوا ہے ۔

۳۔بعض روایتوں میں یہ اسما بیان بھی ہوئے ہیں، لیکن وہ سب سند کے لحاظ سے ناقابل قبول ہیں۔

۴۔صحیح مسلم، رقم۴۸۴۱میں' أَحْصَاہَا' کے بجاے'حَفِظَہَا 'نقل ہوا ہے۔ اِس طرح کے موقعوں پر دونوں الفاظ ایک ہی مدعا کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔مسند احمد ، رقم۹۳۰۸میں یہاں'أَحْصَاہَا' کے بعد 'کُلَّہَا'،یعنی سب کے سب کا اضافہ بھی ہے۔

۵۔اِس روایت کا متن اصلاًصحیح بخاری ، رقم۴۵۶۲سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی حارث بن وہب رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس کے مصادر درج ذیل ہیں:

مسند طیالسی،رقم۱۳۲۲۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۴۷۳۸۔مسند احمد، رقم۱۸۳۵۰، ۱۸۳۵۲۔مسند عبد بن حمید، رقم۴۸۵۔صحیح بخاری، رقم۵۶۳۷، ۶۱۹۳۔سنن ابن ماجہ، رقم۴۱۱۴۔سنن ابو داؤد، رقم۴۱۷۰۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۱۱۰۹۷۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۱۴۶۹، ۱۴۷۰۔ صحیح ابن حبان، ۵۷۹۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۳۱۸۲، ۳۱۸۳، ۳۱۸۴۔ السنن الکبریٰ، بیہقی،رقم۱۹۱۵۹۔

یہی مضمون سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔اُن سے یہ جن مصادر میں نقل ہوا ہے ،وہ یہ ہیں:مستدرک حاکم، رقم۱۸۸، ۶۶۲۸۔مسند شامیین ، رقم۱۸۳۱۔

۶۔بعض روایات، مثلاً مستدرک حاکم میں سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہاں'أُخْبِرُکُمْ' کے بجاے 'أُنَبِّئُکُمْ' کا لفظ ہے۔اِس طرح کے موقعوں پر دونوں ایک ہی مدعا کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

۷۔یہ اضافہ مسند ابی یعلیٰ ،رقم ۳۹۲۹میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۸۔مستدرک حاکم، رقم۱۸۸میں سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے منقول ایک طریق میں یہاں'الْمَغْلُوْبُوْنَ الضُّعَفَاءُ'کی تعبیر ہے،یعنی زیردست مساکین۔

۹۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح مسلم ، رقم۵۱۱۳سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی عیاض رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:مسند طیالسی،رقم۱۱۶۳۔مسند احمد، رقم۱۷۱۴۹، ۱۷۹۶۵، ۱۷۹۶۷۔مسند بزار، رقم ۲۹۷۴۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۷۷۵۶، ۷۷۵۷۔صحیح ابن حبان،رقم۶۵۹، ۶۶۰۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۴۴۱۳، ۱۴۴۱۷، ۱۴۴۱۸، ۱۴۴۱۹۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۳۰۱۹، ۳۰۲۱۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم۱۵۸۱۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۶۳۵۳۔

۱۰۔السنن الکبریٰ، نسائی ،رقم ۷۷۵۶میں یہاں'ذُوْ سلطان'کے بجاے'إِمَام'کا لفظ آیا ہے۔

۱۱۔مسند طیالسی ،رقم ۳۶۱۱ میں اِس جگہ'مُقْسِطْ' کے بجاے'مُقْتَصِد 'کا لفظ ہے، یعنی افراط و تفریط سے بچنے والا۔

۱۲۔مسند احمد، رقم ۱۷۹۶۹میں یہاں'مُوَفَّق' کے بجاے 'مُوْقِن' کا لفظ ہے ،یعنی یقین رکھنے والا۔

۱۳۔ مسند احمد رقم ،۱۷۱۴۹میں اِس جگہ 'وَرَجُلٌ فَقِیْرٌ' ''فقیر آدمی ''کے الفاظ ہیں۔بعض روایات، مثلاً السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۷۷۵۶ میں اِس کے بجاے 'غَنِيٌّ عَفِیْفٌ مُتَصَدِّقٌ' کے الفاظ آئے ہیں ،یعنی صاحب ثروت،جو گناہوں سے بچتا اور خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہو۔

۱۴۔اِس روایت کا متن صحیح بخاری ،رقم ۶۰۲۰سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے: مسند احمد، رقم۲۲۲۳۰۔صحیح بخاری، رقم۶۳۳۷۔سنن ترمذی، رقم ۲۳۴۵۔ مسندابی یعلیٰ،رقم۷۵۰۲۔صحیح ابن حبان،رقم۵۸۱۸۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۵۸۲۱۔ مستدرک حاکم، رقم ۸۱۳۵۔ السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۱۵۳۵۶۔

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو:سنن ترمذی، رقم۲۳۴۶۔مسند ابی یعلیٰ، رقم۶۱۶۳۔

۱۵۔بعض روایات ،مثلاً مسند احمد،رقم۲۲۲۳۰میں'مَنْ یَّضْمَنْ'کے بجاے 'مَنْ تَوَکَّلَ لِيْ' ہے۔ سنن ترمذی، رقم ۲۳۴۵ میں 'مَنْ یَّتَکَفَّلُ' نقل ہوا ہے۔یہ سب ہم معنی ہیں۔المعجم الکبیر،طبرانی،رقم ۵۸۲۱ میں ،البتہ 'مَنْ حَفِظَ' کا لفظ ہے، یعنی جو حفاظت کرے۔ اِسی طرح سنن ترمذی رقم، ۲۳۴۶میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے اِس جگہ 'مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ' کے الفاظ ہیں، یعنی جس کو اللہ بچائے رکھے ۔مسند ابی یعلیٰ،رقم ۶۱۶۳میں اُنھی سے یہ لفظ مبنی للمفعول نقل ہوا ہے۔

۱۶۔المعجم الکبیر،طبرانی،رقم ۵۸۲۱میں 'رِجْلَیْہِ' کے بجاے 'فَخِذَیْہِ'کا لفظ ہے ،یعنی اُس کی دو رانیں۔

۱۷۔ مسند احمد،رقم۲۲۲۳۰میں 'أَضْمَنْ لَہُ' کے بجاے اِسی مفہوم میں 'تَوَکَّلْتُ لَہُ' آیا ہے ۔ سنن ترمذی،رقم ۲۳۴۵میں اِس جگہ' أَتَکَفَّلُ' کا لفظ ہے،یعنی میں ذمہ لیتا ہوں ۔ المعجم الکبیر،طبرانی،رقم ۵۸۲۱میں یہاں صرف 'فَلَہُ الْجَنَّۃَ' ''اُس کے لیے جنت ہے ''کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

۱۸۔سنن ترمذی،رقم۲۳۴۶میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں 'لَہُ الْجَنَّۃَ' کے بجاے 'دَخَلَ الْجَنَّۃَ' ہے، یعنی وہ جنت میں داخل ہوگیا۔

۱۹۔اِس روایت کا متن مسند احمد ،رقم ۲۱۸۳۴سے لیا گیاہے ۔اِس کے راوی ثوبان رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے اِس روایت کے مصادر یہ ہیں:مسند طیالسی،رقم۱۰۷۸۔مسند احمد، رقم ۲۱۷۷۵،۲۱۷۸۳ ،۲۱۸۳۴۔سنن ابن ماجہ رقم، ۱۸۲۷۔ سنن ابو داؤد،رقم۱۴۰۲۔السنن الکبریٰ،نسائی،رقم ۲۳۵۴۔السنن الصغریٰ،نسائی،رقم۲۵۵۶۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۴۱۷، ۱۴۱۸۔ مستدرک حاکم، رقم۱۴۳۱۔السنن الکبریٰ،بیہقی،رقم۷۲۷۶۔

۲۰۔مسند احمد،رقم۲۱۸۱۷میں'مَنْ یَّتَقَبَّلْ لِيْ' کے بجاے 'مَنْ یَّضْمَنْ لِيْ'نقل ہوا ہے۔ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ بعض روایات،مثلاً مسند طیالسی،رقم۱۰۷۸میں اِسی مفہوم کے لیے 'مَنْ یَّتَکَفَّلْ لِيْ'کے الفاظ آئے ہیں۔

۲۱۔مسند طیالسی،رقم۱۰۷۸میں 'النَّاسَ' کے بجاے 'أَحَدًا'نقل ہوا ہے۔

۲۲۔اِس روایت کا متن صحیح مسلم ،رقم۴۶۶۴سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ثوبان رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے: مسند طیالسی، رقم۱۰۷۲۔مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۱۰۶۰۵۔ مسنداحمد، رقم ۲۱۸۵۰، ۲۱۸۵۵۔الادب المفرد، بخاری، رقم ۵۱۹۔صحیح مسلم،رقم ۴۶۶۳، ۴۶۶۵۔سنن ترمذی، رقم ۸۸۸۔مسند بزار، رقم۱۰۴۔ مسند رویانی،رقم۶۲۷۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۰۳۳۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۴۲۹۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم۶۰۷۸، ۶۰۷۹۔

۲۳۔مسند احمد ،رقم ۲۱۷۸۲ میں یہاں'مَخْرَفَۃِ الْجَنَّۃِ' نقل ہوا ہے ،یعنی جنت کی سیرگاہوں میں۔مسند احمد،رقم ۲۱۷۸۴ میں اِس جگہ'فِيْ أَخْرَافِ الْجَنَّۃِ'ہے۔

۲۴۔مسند احمد رقم۲۱۷۹۸میں یہ اضافہ بھی نقل ہوا ہے: 'قِیْلَ: وَمَا خُرْفَۃُ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ:جَنَاہَا'''پوچھا گیا: یہ' خُرْفَۃُ الْجَنَّۃ'کیا ہے ؟فرمایا:اُس کے چنے ہوئے میوے''۔

جابر بن عبداللہ سے اِسی مضمون کی ایک روایت مسند احمد رقم ۱۲۹۷۲میں نقل ہوئی ہے۔روایت یہ ہے:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَنْ عَادَ مَرِیْضًا، لَمْ یَزَلْ یَخُوْضُ الرَّحْمَۃَ حَتّٰی یَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ اغْتَمَسَ فِیہَا''.

''جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو جب تک بیٹھ نہیں جاتا،خدا کی رحمت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔پھر جب بیٹھ جاتا ہے تو گویااُس میں غوطے لے رہا ہوتا ہے''۔

۲۵۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح بخاری،رقم۱۶۵۷سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے یہ درج ذیل کتابوں میں نقل ہوئی ہے:

موطا امام مالک، رقم۶۶۰۔مسند طیالیسی، رقم۲۵۳۵، ۲۵۳۷۔مصنف عبدالرزاق،رقم۸۵۷۴۔مسند حمیدی، رقم۹۷۰۔مصنف ابن ابی شیبہ،رقم۱۵۴۵۰۔مسند احمد،رقم۷۱۸۰، ۹۷۲۹، ۹۷۳۶۔سنن دارمی، رقم۱۷۴۶۔ صحیح مسلم، رقم ۲۴۱۱۔ سنن ترمذی، رقم ۸۵۳۔ سنن ابن ماجہ، رقم ۲۸۸۳۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۳۴۹۳، ۳۴۹۹۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۲۵۸۹، ۲۵۹۵۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۲۲۰، ۶۲۲۳۔ صحیح ابن خزیمہ،رقم۲۸۷۲، ۲۸۷۳۔صحیح ابن حبان، رقم ۳۷۷۸، ۳۷۷۹۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۴۵۶۹، ۴۶۸۵۔السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۹۶۲۱۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہ روایت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل ہوئی ہے۔ملاحظہ ہو:المعجم الاوسط، طبرانی ،رقم۸۶۲۶۔

۲۶۔مسند احمد،رقم۹۷۲۹۔

۲۷۔ مسند طیالسی، رقم۲۵۳۵ میں 'اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ' کے بجاے 'وَالْحَجَّۃُ الْبَرَّۃُ' آیا ہے۔معنی کے لحاظ سے دونوں میں خاص فرق نہیں ہے۔

۲۸۔سنن دارمی میں 'جَزَاءٌٌ' کے بجاے' ثَوَابٌ' کا لفظ ہے۔دونوں کا مدعا ایک ہی ہے۔

۲۹۔اِس روایت کا متن اصلاً صحیح مسلم ،رقم۴۵۰۴سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:مسنداسحاق، رقم۱۴۳۔مسنداحمد، رقم۸۲۰۳،۹۴۵۹۔صحیح بخاری، رقم ۱۰۸۷۔ السنن الکبریٰ،نسائی،رقم۷۹۱۷۔مسند ابی یعلیٰ، رقم ۶۰۵۹۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم ۱۱۴۷۔ صحیح ابن حبان،رقم۷۲۴۲۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی مضمون جن دوسرے صحابہ نے روایت کیا ہے، وہ یہ ہیں:بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔

اِن صحابہ سے اِس کے مصادر درج ذیل ہیں:

مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۳۱۶۵۴۔ مسنداحمد، رقم۲۲۳۹۳،۲۲۴۳۷۔ صحیح مسلم، رقم۴۵۰۲۔سنن ترمذی، رقم ۳۶۵۱۔ مسند بزار، رقم۳۰۲،۲۳۲۱۔مسند عبد بن حمید، رقم۱۳۵۳۔ صحیح ابن خزیمہ، رقم۱۱۴۸۔ صحیح ابن حبان، رقم۷۲۴۱، ۷۲۴۴۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم۱۰۰۵۔مستدرک حاکم،رقم۱۱۱۲۔

۳۰۔ بعض روایات، مثلاً مسند احمد،رقم ۸۲۰۳ میں اِس جگہ'صَلٰوۃِ الْغَدَاۃِ' کے بجاے'صَلٰوۃِ الْفَجْرِ'کے الفاظ ہیں۔یہ دونوں ایک ہی نماز کے لیے مستعمل ہیں۔

۳۱۔ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے منقول بعض طرق،مثلاً مسند احمد،رقم۳ ۲۲۳۹میں اِس جگہ یہ اضافہ نقل ہوا ہے: 'بِمَ سَبَقْتَنِيْ إِلَی الْجَنَّۃِ' ''کس چیز کے باعث جنت میں تم مجھ پر سبقت لے گئے؟''۔صحیح ابن حبان ،رقم ۷۲۴۱ میں جابر بن عبداللہ کی روایت میں یہ اضافہ نقل ہوا ہے: 'أُدْخِلْتُ الْجَنَّۃَ، فَسَمِعْتُ خَشْفَۃً أَمَامِيْ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ: ہٰذَا بِلاَلٌ'''مجھے جنت میں لے جایا گیا تو میں نے اپنے آگے کچھ آہٹ سنی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا:یہ بلال ہیں''۔

۳۲۔السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۷۹۱۷میں'اللَّیْلَۃ' کے بجاے'الْبَارِحَۃ' کا لفظ ہے،یعنی گذشتہ رات۔

۳۳۔صحیح بخاری،رقم ۱۰۸۷میں اِس جگہ'خَشْفَ نَعْلَیْکَ'کے بجاے'دَفَّ نَعْلَیَْکَ'کے الفاظ ہیں۔معنی کے لحاظ سے دونوں میں خاص فرق نہیں ہے۔بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے منقول بعض روایات، مثلاً صحیح ابن حبان، رقم ۷۲۴۴میں یہاں'خَشْخَشَتَکَ أَمَامِي' ''اپنے آگے تمھارے چلنے کی جھنکار''کے الفاظ ہیں۔

۳۴۔بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کی روایت میں بلال رضی اللہ عنہ کا جواب اِن الفاظ میں منقول ہے:'قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، وَصَلَّیْتُ رَکْعَتَیْنِ' ''اُنھوں نے کہا: مجھے جب بھی وضو کی ضرورت ہوتی ہے، اُسی وقت وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھ لیتا ہوں''۔ملاحظہ ہو: مسند احمد، رقم ۲۲۳۹۳۔

۳۵۔السنن الکبریٰ ،نسائی ،رقم۷۹۱۷میں 'مَا کَتَبَ اللّٰہُ لِيْ' کے بجاے'مَا قُدِّرَ لِيْ'' ' جو میرے لیے لکھا گیا ہے'' نقل ہوا ہے۔

۳۶۔ یہ اضافہ مسند احمد ،رقم ۲۲۳۹۳ میں بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کی روایت سے لیا گیا ہے۔

۳۷۔اِس روایت کا متن مسند اسحاق ،رقم۲۴۵سے لیا گیا ہے۔اِس کے راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔اُن سے یہ روایت اِن کتابوں میں نقل ہوئی ہے:مسند احمد،رقم۹۴۶۲۔الادب المفرد، بخاری، رقم ۱۱۴ ۔صحیح ابن حبان،رقم ۵۸۸۳۔

۳۸۔بعض روایات،مثلاًمسند احمد،رقم۹۴۶۲میں یہ بات اِس اسلوب میں بیان ہوئی ہے:'إِنَّ فُلاَنَۃَ یُذْکَرُ مِنْ کَثْرَۃِ صَلَاتِہَا، وَصِیَامِہَا، وَصَدَقَتِہَا، غَیْرَ أَنَّہَا تُؤْذِيْ جِیْرَانَہَا بِلِسَانِہَا'''فلاں عورت کی شہرت ہے کہ بہت نمازیں پڑھتی، روزے رکھتی اور خدا کی راہ میں بہت دیتی ہے، مگر وہ اپنی زبان سے پڑوسیوں کو اذیت پہنچاتی ہے۔''

۳۹۔بعض روایتوں ،مثلاً مسند احمد، رقم۹۴۶۲میں اِسے جن الفاظ میں نقل کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:'فَإِنَّ فُلَانَۃَ یُذْکَرُ مِنْ قِلَّۃِ صِیَامِہَا، وَصَدَقَتِہَا، وَصَلَاتِہَا، وَإِنَّہَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِيْ جِیرَانَہَا بِلِسَانِہَا' ''فلاں عورت کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ نماز،، روزے اور صدقات کا اہتمام تو کچھ زیادہ نہیں کرتی اور خدا کی راہ میں دیتی بھی ہے تو وہ پنیر کے چند بڑے ٹکڑے ہی ہوتے ہیں، لیکن اپنی زبان سے پڑوسیوں کو اذیت نہیں پہنچاتی۔''

المصادر والمراجع

ابن حبان، أبو حاتم بن حبان. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۳م). صحیح ابن حبان. ط۲. تحقیق: شعیب الأرنؤوط. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

ابن حجر، علی بن حجر أبو الفضل العسقلاني. (۱۳۷۹ہ). فتح الباري شرح صحیح البخاري. (د.ط). تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار المعرفۃ.

ابن قانع. (۱۴۸۱ہ/۱۹۹۸م). المعجم الصحابۃ.ط۱. تحقیق:حمدي محمد. مکۃ مکرمۃ: نزار مصطفٰی الباز.

ابن ماجہ. ابن ماجۃ القزویني. (د.ت). سنن ابن ماجۃ. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار الفکر.

ابن منظور، محمد بن مکرم بن الأفریقي. (د.ت). لسان العرب. ط۱. بیروت: دار صادر. أبو نعیم ، (د.ت). معرفۃ الصحابہ.ط۱. تحقیق: مسعد السعدني. بیروت: دارالکتاب العلمیۃ.

أحمد بن محمد بن حنبل الشیباني. (د.ت). مسند أحمد بن حنبل. ط۱. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البخاري، محمد بن إسماعیل. (۱۴۰۷ہ/ ۱۹۸۷م). الجامع الصحیح.ط۳.تحقیق: مصطفٰی دیب البغا. بیروت: دار ابن کثیر.

بدر الدین العیني. عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري. (د.ط). بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

البیہقي، أحمد بن الحسین البیہقي. (۱۴۱۴ہ/۱۹۹۴م). السنن الکبرٰی.ط۱. تحقیق: محمد عبد القادر عطا. مکۃ المکرمۃ: مکتبۃ دار الباز.

السیوطي، جلال الدین السیوطي. (۱۴۱۶ہ/ ۱۹۹۶م). الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج.ط ۱. تحقیق: أبو اسحٰق الحویني الأثري. السعودیۃ: دار ابن عفان للنشر والتوزیع.

الشاشي، الہیثم بن کلیب. (۱۴۱۰ہ). مسند الشاشي. ط۱. تحقیق: محفوظ الرحمٰن زین اللّٰہ. المدینۃ المنورۃ: مکتبۃ العلوم والحکم.

محمد القضاعي الکلبي المزي.(۱۴۰۰ہ/۱۹۸۰م). تہذیب الکمال في أسماء الرجال. ط۱. تحقیق: بشار عواد معروف. بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ.

مسلم، مسلم بن الحجاج. (د.ت).صحیح المسلم. ط۱. تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقي. بیروت: دار إحیاء التراث العربي.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۰۶ہ/۱۹۸۶م). السنن الصغرٰی. ط۲. تحقیق: عبد الفتاح أبو غدۃ.حلب: مکتب المطبوعات الإسلامیۃ.

النساءي، أحمد بن شعیب. (۱۴۱۱ہ/۱۹۹۱م). السنن الکبرٰی. ط۱. تحقیق: عبد الغفار سلیمان البنداري، سید کسروي حسن. بیروت: دار الکتب العلمیۃ.

____________